Baaghi TV

Tag: تازہ ترین

  • ٹرمپ اور پاکستان کا نیتن یاہو کے غزہ پر مکمل کنٹرول کے اعلان پر سخت ردعمل

    ٹرمپ اور پاکستان کا نیتن یاہو کے غزہ پر مکمل کنٹرول کے اعلان پر سخت ردعمل

    پاکستان نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی جانب سے غزہ کو مکمل کنٹرول میں لینے کے اعلان کی شدید مذمت کی ہے-

    پاکستان نے غزہ میں اسرائیلی جارحیت کے تسلسل، اسپتالوں اور دیگر اہم انفرااسٹرکچر کو نشانہ بنانے، اور اجتماعی انخلا کے احکامات کے نتیجے میں درجنوں فلسطینیوں کی شہادت پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔

    دفتر خارجہ سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ غزہ میں اسرائیلی زمینی کارروائیوں کی توسیع اور پورے غزہ پر ”مکمل کنٹرول حاصل کرنے“ کے اعلان نے خطے میں امن و استحکام کے قیام کی کوششوں کو سنگین خطرے سے دوچار کر دیا ہےاس کے علاوہ، اسرائیل دانستہ طور پر اہم انسانی امداد کو لاکھوں ضرورت مند افراد تک پہنچنے سے مسلسل روکے ہوئے ہے، جو کہ محصور فلسطینی عوام پر اجتماعی سزا مسلط کرنے کے مترادف ہے۔

    اوکاڑہ: راؤف مارکیٹ کی بیکری میں ممنوعہ اجزاء کا استعمال، دو لاکھ روپے جرمانہ

    ادھر بین الاقوامی خبر رساں ادارے نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو سخت پیغام دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر غزہ میں جنگ بند نہ کی گئی تو اسرائیل کو امریکہ کی حمایت سے ہاتھ دھونا پڑ سکتا ہے۔

    ذرائع کے مطابق یہ سخت موقف خلیجی ممالک کی بھرپور سفارتی کوششوں کے بعد سامنے آیا ہے، اور اطلاعات ہیں کہ اسرائیل ایک حتمی معاہدے کی طرف بڑھ رہا ہے۔ واشنگٹن کی جانب سے اسرائیل پر دباؤ اب واضح اور شدت اختیار کر چکا ہے، جس کے نتیجے میں نیتن یاھو کے دفتر میں شدید اضطراب پایا جا رہا ہے اس وقت واشنگٹن نہ صرف قطر کے دارالحکومت دوحہ میں بالواسطہ بلکہ حماس سے براہ راست بھی بات چیت کر رہا ہے۔

    مودی سرکار کا سفارتی ساکھ کی بحالی کیلئے بنایا گیا وفد اختلافات کا شکار

    واشنگٹن پوسٹ نے پیر کے روز دعویٰ کیا کہ ٹرمپ کے قریبی معاونین نے اسرائیلی حکام کو صاف الفاظ میں پیغام دیا ہے، ’اگر جنگ بند نہ کی گئی تو امریکہ اپنی حمایت واپس لے لے گاذرائع نے یہ بھی بتایا کہ اگرچہ نیتن یاہو کو اسرائیلی پارلیمان (کنیسٹ) اور عوام کی حمایت حاصل ہے، لیکن وہ سیاسی عزم کے فقدان کا شکار ہیں۔

    غزہ پر اسرائیلی فوج کی تازہ بمباری کے نتیجے میں مزید 46 فلسطینی شہید اور متعدد عمارتیں زمین بوس ہو گئیں۔

    اسرائیلی فورسز نے غزہ میں ایک گھنٹے کے اندر 30 فضائی حملے کئے، جس میں سیکڑوں فلسطینی زخمی بھی ہو گئے ، اسرائیلی فوج نے اسرائیلی فوج نے خان یونس کے شہریوں کو جبری نقل مکانی کا حکم بھی دے دیا ہے۔

    ادھر عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل نے غزہ کی پٹی میں قحط کے خطرے سے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ 20 لاکھ افراد بھوک سے مر رہے ہیں،علاوہ ازیں برطانیہ، فرانس اور کینیڈا کے رہنماؤں نے اسرائیل کو غزہ میں حملے بند نہ کرنے پر پابندیاں لگانے کی دھمکی دی ہے جبکہ 22 ممالک نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ کے لوگوں تک امداد پہنچنے دے۔

  • مودی سرکار کا سفارتی ساکھ کی بحالی کیلئے بنایا گیا وفد اختلافات کا شکار

    مودی سرکار کا سفارتی ساکھ کی بحالی کیلئے بنایا گیا وفد اختلافات کا شکار

    نئی دہلی: بھارت آپریشن سیندور میں ناکامی اور اپنے جھوٹے پروپیگنڈے کی وجہ سے دنیا بھر میں ہزیمت اٹھانے کے بعد سفارتی تعلقات بحال کرنے کے لئے سرگرم ہو گیا اس حوالے سے مودی سرکار نے سیاسی رہنماؤں پر مشتمل گروپس تشکیل دے دئیے جو مختلف ممالک کے دورے کریں گے،متعدد سیاسی رہنماؤں نے اس وفد کا حصہ بننے سے انکار کر دیا ہے۔

    ایک بڑے سفارتی حملے کے ایک حصے کے طور پر، مودی حکومت عالمی فورم پر اگلے ہفتے سے مختلف ممالک میں متعدد آل پارٹیز وفود بھیجے گی،اس مشق کا مقصد پہلگام واقعے کا ہندوستان کے موقف کو پیش کرنا ہے لیکن پاکستان کے ہاتھوں ناکامی کے بعد مودی حکومت نے اپنی عالمی ساکھ بحال کرنے کے لیے مختلف ممالک میں وفود بھیجنے کا منصوبہ بنایا، جو آغاز میں ہی اختلافات کی نذر ہو گیا۔

    انڈین میڈیا کاکہنا ہے کہ حکمران اور اپوزیشن دونوں جماعتوں کے ارکان پارلیمنٹ سمیت سینئر قائدین وفود میں شامل ہیں کچھ سابق وزراء مختلف جماعتوں کے اراکین پارلیمنٹ کے وفود کی قیادت دنیا بھر کے ممالک میں کریں گے اگرچہ وفود یا ان کے اراکین کی صحیح تعداد کے بارے میں کوئی وضاحت نہیں تھی، لیکن کچھ رہنماؤں نے کہا کہ 30 سے ​​زیادہ اراکین پارلیمنٹ کو آؤٹ ریچ مشق میں شامل کیا جا سکتا ہے۔

    یہ وفود 10 روز کے لیے مختلف ممالک کا دورہ کریں گے۔ ارکان پارلیمنٹ مختلف ممالک کا دورہ کریں گے، جیسا کہ حکومت نے مختص کیا ہے وزارت خارجہ (ایم ای اے) ارکان پارلیمنٹ کو روانگی سے قبل بریف کرے گی، جن جماعتوں کے ممبران پارلیمنٹ وفد کا حصہ ہوں گے ان میں بی جے پی، کانگریس، ٹی ایم سی، ڈی ایم کے، این سی پی (ایس پی)، جے ڈی یو، بی جے ڈی، شیو سینا (یو بی ٹی)، سی پی آئی (ایم) اور کچھ دیگر شامل ہیں۔

    سابق مرکزی وزیر انوراگ ٹھاکر اور اوڈیشہ سے بی جے پی کی رکن پارلیمنٹ اپراجیتا سارنگی حکمران پارٹی کے ارکان میں شامل ہیں جو وفد کا حصہ بنیں گے سابق مرکزی وزراء روی شنکر پرساد اور راجیو پرتاپ روڈی، بی جے پی کے ممبران پارلیمنٹ سمک بھٹاچاریہ اور برج لال کے بھی وفد میں شامل ہونے کی امید ہے۔

    حکومت کی فہرست میں شامل کانگریس کے ارکان پارلیمنٹ میں ششی تھرور، منیش تیواری، سلمان خورشید اور امر سنگھ شامل ہیں اور پارٹی نے تصدیق کی ہے کہ وہ وفود کا حصہ ہوں گے۔ ٹی ایم سی کے سدیپ بندیوپادھیائے، جے ڈی یو کے سنجے جھا، بی جے ڈی کے سسمیت پاترا، سی پی آئی (ایم) کے جان برٹاس، شیو سینا (یو بی ٹی) کی پرینکا چترویدی، این سی پی (ایس پی) کی سپریا سولے، ڈی ایم کے کے کے کنیموزی، اے آئی ایم آئی ایم کے اسد الدین اویسی اور تائیس جیتنے والے بھی شامل ہیں۔

    جبکہ سابق وزیر خارجہ خورشید سے کہا گیا ہے کہ وہ سات ممبران پارلیمنٹ کے وفد کی قیادت کریں جو جنوبی اور جنوب مشرقی ایشیا میں جنوبی کوریا، جاپان اور سنگاپور جیسے ممالک پر محیط ہے، بارامتی کے رکن پارلیمنٹ سولے مشرق وسطیٰ اور افریقہ بشمول عمان، مصر، کینیا اور جنوبی افریقہ کے وفد کی قیادت کریں گے، کانگریس لیڈر تیواری یورپ یا مشرق وسطیٰ جانے والے وفد کی قیادت کر سکتے ہیں ، تھرور ممکنہ طور پر امریکہ میں ایک وفد کی قیادت کریں گے۔

    جہاں ٹھاکر اس وفد کا حصہ ہوں گے جو مشرق وسطیٰ اور افریقہ کا دورہ کرے گا، ان کے ساتھی سارنگی جنوب مشرقی ایشیا کے وفد کا حصہ ہوں گے۔ ساہنی بھی اس وفد کا حصہ ہوں گے شیوسینا (یو بی ٹی) کے رکن پارلیمنٹ چترویدی سعودی عرب، الجزائر، کویت اور بحرین کے وفد کا حصہ ہوں گے۔ اس وفد میں کانگریس کے امر سنگھ بھی شامل ہوں گےسابق مرکزی وزیر غلام نبی آزاد کے ایک وفد میں شامل ہونے کا امکان ہے ہر وفد کے سات سے آٹھ ارکان ہونے کا امکان ہے اور وہ چار سے پانچ ممالک کا دورہ کر سکتا ہے-

    india

    لیکن پاکستان سے سفارتی اور فوجی محاذ پر ذلت آمیز شکست کے بعد بھارت کی سفارتی سطح پر ساکھ بحال کرنے کی کوشش بھی ناکام ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔

    معروف عالمی جریدے ’ٹیلیhttps://www.telegraphindia.com/india/shashi-tharoor-thrust-on-terror-modi-government-pick-triggers-bjp-congress-jousting-prnt/cid/2100422 گراف‘ کی رپورٹ کے مطابق مودی کی جانب سے سفارتی سطح پر ساکھ بحال کرنے کے لیے تشکیل دیے گئے وفد پر بھی بھارت میں اختلافات سامنے آگئے ہیں بھارت میں سفارتی وفد کے سربراہ کے بیانات نے حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور اپوزیشن جماعت کانگریس میں لفظی جنگ چھیڑ دی ہے۔

    وفد کے اراکین خود مودی سرکار پرشدید تنقید کر رہے ہیں، اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے سوال اٹھایا گیا ہے کہ وفد میں تمام جماعتوں کی نمائندگی کیوں نہیں؟متعدد سیاسی رہنماؤں نے اس وفد کا حصہ بننے سے انکار کر دیا ہے۔

    اپوزیشن رہنما سنجے راوت کے مطابق مودی سرکار سفارتی کمیٹی سے بھی سیاسی فائدہ اٹھانا چاہتی ہے، اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی کی جانب سے بھیجے گئے نام بھی مودی سرکار نے مسترد کر دیے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ششی تھرور نے ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ مرکزی حکومت نے مجھ سے وفد کی قیادت کرنے کے لیے میری رضامندی طلب کی تھی، میں نے فخر سے جواب دیا ’ہاں‘، میں پارلیمانی کمیٹی برائے خارجہ امور کا سربراہ بھی ہوں یہ تنازع بی جے پی حکومت اور کانگریس کے درمیان ہے، پارلیمانی امور کے وزیر نے مجھے فون کیا تھا، میں نے اپنی پارٹی کو ان کی دعوت کے بارے میں آگاہ کر دیا ہے۔

    کانگریس کے رہنما جے رام رمیش نے بی جے پی کی جانب سے ششی تھرور کے انتخاب کو ’باڈی لائن‘ سے تشبیہ دی، جو (33-1932 کی ایشز سیریز کے دوران انگلش فاسٹ باؤلرز کا آسٹریلوی بلے بازوں کے جسم کو نشانہ بنانے کا متنازع طریقہ) ہے، تاہم انہوں نے تھرور کے خلاف ممکنہ تادیبی کارروائی سے متعلق سوال کو نظرانداز کر دیا۔

    ششی تھرور نے وزیراعظم نریندر مودی کی آپریشن سندور اور پاکستان کے ساتھ جنگ بندی کی تعریف کرکے اپنی پارٹی کو ناراض کر دیا ہے۔

    جب پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے 7 وفود کے سربراہان کے ناموں کا اعلان کیا تو تھرور کا نام سرفہرست تھا، باقی 6 میں سے 2 (ارکان پارلیمنٹ) حزب اختلاف سے تھے۔

    وفد کے 6 ارکان میں روی شنکر پرساد (بی جے پی)، بایجیانت پانڈے (بی جے پی)، سنجے کمار جھا (جے ڈی یو)، کنی موزی کروناندھی (ڈی ایم کے)، سپریا سولے (این سی پی۔ایس پی) اور شری کانت ایکناتھ شنڈے (شیو سینا) شامل تھے۔

    حکومت نے ابھی دیگر وفود کے اراکین کے ناموں کا اعلان نہیں کیا، لیکن کہا ہے کہ ہر وفد میں مختلف جماعتوں کے اراکین پارلیمنٹ، ممتاز سیاسی شخصیات اور نمایاں سفارت کار شامل ہوں گے تھرور کی تقرری بطور سربراہ اس کے باوجود ہوئی کہ کانگریس نے ان کا نام نامزد نہیں کیا تھا۔

    حکومت نے گزشتہ جمعے کو کانگریس سے کہا تھا کہ وہ اپنے 4 اراکین پارلیمنٹ کو وفود کا حصہ بنانے کے لیے نامزد کرے، کانگریس نے سابق وزیر آنند شرما، لوک سبھا میں ڈپٹی لیڈر گورو گوگوئی، ارکان پارلیمنٹ سید نصیر حسین اور راجا برار کے نام دیے تھے۔

    حکومت نے کانگریس کے الزامات کا کوئی جواب نہیں دیا، لیکن بی جے پی کے سوشل میڈیا سربراہ امیت مالویا نے راہول گاندھی پر تنقید کرتے ہوئے مداخلت کی، انہوں نے ’ایکس‘ پر ششی تھرور کی فصاحت کی تعریف کی اور سوال اٹھایا کہ ان کی پارٹی نے انہیں نامزد کیوں نہیں کیا؟

    انہوں نے کہا کہ کوئی بھی ششی تھرور کی فصاحت، اقوام متحدہ کے عہدیدار کے طور پر ان کے طویل تجربے، اور خارجہ پالیسی پر ان کی گہری بصیرت سے انکار نہیں کر سکتاتو پھر کانگریس پارٹی خاص طور پر راہول گاندھی نے انہیں کثیر الجماعتی وفود کے لیے نامزد کیوں نہیں کیا؟کیا یہ عدمِ تحفظ ہے؟ حسد ہے؟ یا پھر ’ہائی کمانڈ‘ سے بہتر نظر آنے والوں کے لیے عدم برداشت؟

    مالویا نے کانگریس کے دو نامزد اراکین راجیہ سبھا کے ایم پی حسین اور لوک سبھا کے ایم پی گوگوئی کی اہلیت پر بھی سوال اٹھایا کہ کیا وہ پاکستان سے متعلق معاملات پر بھارت کی نمائندگی کرنے کے قابل ہیں؟

    انہوں نے دعویٰ کیا کہ سید نصیر حسین کے حامیوں نے ان کی راجیا سبھا میں جیت کے موقع پر کرناٹک اسمبلی کے اندر ’پاکستان زندہ باد‘ کے نعرے لگائے تھے انہوں نے آسام کے وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما کے اس الزام کا بھی حوالہ دیا کہ گوگوئی نے اپنی بیوی کے ساتھ پاکستان میں 15 دن گزارے تھے ہیمنت سرما نے بھی اس معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے راہول گاندھی سے مطالبہ کیا کہ وہ گوگوئی کا نام فہرست سے نکال دیں۔

  • معیشت میں درپیش چیلنجز ،حکومت جی ڈی پی گروتھ کا ہدف حاصل کرنے میں ناکام

    معیشت میں درپیش چیلنجز ،حکومت جی ڈی پی گروتھ کا ہدف حاصل کرنے میں ناکام

    حکومت رواں مالی سال کے دوران مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو کا مقررہ ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے۔

    ذرائع کے مطابق نیشنل اکاؤنٹس کمیٹی نے رواں مالی سال کے لیے عبوری جی ڈی پی گروتھ کی منظوری دے دی ہے رواں مالی سال کے دوران جی ڈی پی گروتھ 2.68 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے، جبکہ حکومت نے مالی سال کے آغاز میں 3 فیصد گروتھ کا ہدف مقرر کیا تھا یوں ہدف اور حاصل کردہ گروتھ کے درمیان واضح فرق سامنے آیا ہے، جو معیشت میں درپیش چیلنجز کی نشاندہی کرتا ہے۔

    نیشنل اکاؤنٹس کمیٹی نے رواں مالی سال کے عبوری معاشی اشارئیے جاری کر دیئے ہیں، جن کے مطابق رواں مالی سال معیشت میں بتدریج بہتری کا رجحان دیکھا گیا ہےاعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025 کی پہلی سہ ماہی (جولائی تا ستمبر) میں معاشی ترقی کی شرح 1.37 فیصد رہی، جب کہ دوسری سہ ماہی (اکتوبر تا دسمبر) میں یہ شرح بڑھ کر 1.53 فیصد ہو گئی تیسرے سہ ماہی یعنی جنوری سے مارچ 2025 کے دوران معاشی ترقی کی شرح 2.40 فیصد ریکارڈ کی گئی۔

    ٹیکس چوری کرنے والے افراد اور کاروبار کسی قسم کی رعایت کے مستحق نہیں،وزیرِ اعظم

    ذرائع کے مطابق رواں مالی سال 2024 کے لیے مجموعی عبوری معاشی ترقی کی شرح 2.68 فیصد رہی، جو کہ گزشتہ مالی سال 2023 کی منفی 0.21 فیصد شرح کے مقابلے میں نمایاں بہتری ہے مالی سال 2024 میں مکمل سال کے دوران معاشی ترقی کی شرح 2.51 فیصد رہی۔

    pak

    نیشنل اکاؤنٹس کمیٹی کے مطابق رواں مالی سال کے اختتام تک ملک کی مجموعی معیشت کا حجم 411 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے، جب کہ فی کس آمدنی 1824 ڈالر ریکارڈ کی گئی ہے یہ اعداد و شمار ملک کی اقتصادی پالیسیوں میں بہتری کی عکاسی کرتے ہیں۔

    نور مقدم قتل کیس:سپریم کورٹ نے ظاہر جعفر کی اپیل پر فیصلہ سنا دیا،سزائے موت برقرار

  • ٹیکس چوری کرنے والے افراد اور کاروبار کسی قسم کی رعایت کے مستحق نہیں،وزیرِ اعظم

    ٹیکس چوری کرنے والے افراد اور کاروبار کسی قسم کی رعایت کے مستحق نہیں،وزیرِ اعظم

    اسلام آباد:وزیرِ اعظم محمد شہبازشریف کا کہنا ہےکہ ٹیکس چوری کرنےوالے افراد اور کاروبار کےخلاف مؤثر قانونی کاروائی کی جائےگی-

    وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت ایف بی آر کے امور اور جاری اصلاحات پر جائزہ اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوا جس میں وفاقی وزراء اعظم نذیر تارڑ، احد خان چیمہ، محمد اورنگزیب، عطاء اللہ تارڑ، چیئرمین ایف بی آر اور متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی۔

    اجلاس کو بتایا گیا کہ ملک میں سیلز ٹیکس کی چوری کی روک تھام کے لیے ’’نیشنل ٹارگٹنگ سسٹم‘‘ متعارف کروایا جا رہا ہے اس نظام
    کے تحت مصنوعات کی نقل و حمل میں شامل گاڑیوں کو ای ٹیگ اور ڈیجیٹل ڈیوائس کے ذریعے براہ راست ٹریک کیا جائے گا۔

    ای بلٹی کا نظام بھی متعارف کروایا جا رہا ہے جو کہ ایف بی آر کے سسٹم پر جاری کی جائے گی ملک کی تمام بڑی شاہراہوں اور شہروں میں داخلے کی جگہوں پر ڈیجیٹل مانیٹرنگ سسٹم نصب کیا جائے گا اس اقدام سے اسمگلنگ و سیلز ٹیکس چوری کا خاتمہ ہوگا اور عام شہریو ں کو رکنے کی دقت سے نجات اور وقت کی بچت ہوگی مذکورہ نظام سے معیشت کی ڈیجیٹائیزیشن ممکن ہوگی اور محصولات میں خاطر خواہ اضافہ ہوگا۔

    نور مقدم قتل کیس:سپریم کورٹ نے ظاہر جعفر کی اپیل پر فیصلہ سنا دیا،سزائے موت برقرار

    اجلاس کو بتایا گیا کہ بندرگاہوں اور ہوائی اڈوں پر درآمدات و برآمدات کی ڈیجیٹل و خودکار نگرانی کے لیے کسٹم ٹارگٹنگ سسٹم متعارف کرایا جا رہا ہے۔ اس نظام کو مقامی و بین الاقوامی ڈیٹا بیس سے منسلک کیا جائے گا اور مصنوعی ذہانت کو بروئے کار لاتے ہوئے ٹیکس چوری و اسمگلنگ کی روک تھام کی جائے گی۔

    اجلاس کو بتایا گیا کہ ایف بی آر اور متعلقہ اداروں کی افرادی قوت کو نئے نظام سے روشناس کروانے کے لیے انکی تربیت کا مؤثر انتظام بھی کیا جا رہا ہے۔ اس نظام کو دو مرحلوں میں نافذ کیا جائے گا، پہلے مرحلے میں کسی ایک بڑے شہر سے اس کے پائلٹ پروجیکٹ کا آغاز کیا جائے گا اور بعد ازاں اسے ملک بھر میں نافذ کیا جائے گا۔

    اجلاس کو سیمنٹ، ہیچریز، پولٹری فیڈ، تمباکو اور مشروبات کے شعبے میں سیلز ٹیکس کی نگرانی کے حوالے سے بھی بریفنگ دی گئی بتایا گیا کہ چینی کی صنعت پر نافذ کر دہ نگرانی کے نظام کی طرح تمباکو، مشروبات، اسٹیل و سیمنٹ کے شعبوں میں پیداوار کی نگرانی کے لیے ایف بی آر اور معاون اداروں کے افسران و اہلکار تعینات کر دیئے گئے ہیں۔

    پاکستان کی ’جاسوس‘ قرار دی گئی یوٹیوبر بی جے پی کی رکن نکلی

    وزیرِ اعظم نے تمام اقدامات کو جلد، مؤثر اور پائیدار طریقے سے نافذ کرنے کی ہدایت کی،ایف بی آر کے امور اور جاری اصلاحات پر جائزہ اجلاس سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ٹیکس دینے والے افراد اور کاروبار کو زیادہ سے زیادہ سہولیات دیں گے لیکن ٹیکس چوری کرنے والے افراد اور کاروبار کسی قسم کی رعایت کے مستحق نہیں ٹیکس چوری کر نے والے افراد اور کاروبار کے خلاف مؤثر قانونی کاروائی کی جائے گی ایف بی آر اور اس کے معاون قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ٹیکس آمدن میں اضافے کے لیے کوششیں قابل ستائش ہیں ایف بی آر کی ڈیجیٹائزیشن اور نظام کو خود کار بنانے کیلئے اقدامات تیزی سے جاری ہیں، 70 برس کے بگاڑ کو ٹھیک کرنے کے لیے سخت اقدامات ضروری ہیں۔

  • نور مقدم قتل کیس:سپریم کورٹ نے ظاہر جعفر کی اپیل پر فیصلہ سنا دیا،سزائے موت برقرار

    نور مقدم قتل کیس:سپریم کورٹ نے ظاہر جعفر کی اپیل پر فیصلہ سنا دیا،سزائے موت برقرار

    سپریم کورٹ نے نور مقدم قتل کیس میں مجرم کی سزائے موت کی اپیل پر فیصلہ سنادیا، عدالت نے مجرم ظاہر جعفر کے خلاف قتل کی دفعات میں سزائے موت برقرار رکھی ہے۔

    جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بنچ نے مجرم کی سزا کے خلاف اپیل پر فیصلہ سنا دیا۔

    سپریم کورٹ کے جسٹس ہاشم کاکڑ نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ عدالت ظاہر جعفر کی سزائے موت برقرار رکھتی ہےسپریم کورٹ نے ریپ میں مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کردی، جبکہ اغوا کے مقدمہ میں 10 سال قید کی سزا کم کرکے ایک سال کردی گئی، اس کے علاوہ نور مقدم کے اہل خانہ کو معاوضے کی ادائیگی کا حکم بھی برقرار رکھا گیا۔

    عدالت نے ظاہر جعفر کے مالی اور چوکیدارکی سزاؤں میں بھی کمی کردی فیصلے میں کہا گیا کہ مالی جان محمد اور چوکیدار افتخار جتنے سال کاٹ چکے کافی ہے،عدالت نے کہا کہ فیصلے کی تفصیلی وجوہات بعد میں جاری کی جائے گی۔

    نورمقدم کیس، جس فوٹیج پر آپ اعتراض اٹھا رہے ہیں اسکو آپ تسلیم کر چکے ہیں،عدالت

    وفاقی وزیر صحت کی چینی ہم منصب سے ملاقات

    بیٹی کے اغوا اور زیادتی کا جھوٹا کیس درج کروانے والا باپ گرفتار

  • بھارت کو سفارتی محاذ پر  ناکامی کا سامنا ،عالمی جریدے  کا انکشاف

    بھارت کو سفارتی محاذ پر ناکامی کا سامنا ،عالمی جریدے کا انکشاف

    عالمی جریدے "ٹیلی گراف”نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان سے آپریشن سندور میں عبرتناک شکست کے بعد بھارت کو سفارتی محاذ پر بھی ناکامی کا سامنا ہے۔

    "ٹیلی گراف” کی رپورٹ کے مطابق بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے بین الاقوامی سطح پر بھارت کی ساکھ بحال کرنے کے لیے جو سفارتی وفد تشکیل دیا، وہ اندرونی اختلافات کا شکار ہو چکا ہے اپوزیشن جماعتوں نے سوال اٹھایا ہے کہ وفد میں تمام سیاسی جماعتوں کی نمائندگی کیوں نہیں رکھی گئی کئی سرکردہ سیاسی رہنماؤں نے اس وفد کا حصہ بننے سے صاف انکار کر دیا ہے۔

    اپوزیشن لیڈر سنجے راوت کا کہنا ہے کہ مودی سرکار سفارتی کمیٹی کو بھی سیاسی فائدے کے لیے استعمال کرنا چاہتی ہےرپورٹ میں مزید انکشاف کیا گیا کہ راہول گاندھی کی طرف سے دیئے گئے سفارتی ناموں کو مودی حکومت نے مسترد کر دیا، جس سے اپوزیشن میں مزید نارا ضگی پیدا ہوئی۔

    پاکستان کی ’جاسوس‘ قرار دی گئی یوٹیوبر بی جے پی کی رکن نکلی

    دفاعی ماہرین کے مطابق آپریشن سندور میں ہزیمت کے بعد مودی حکومت عالمی سطح پر اپنی گرتی ہوئی ساکھ کو بحال کرنے کی کوشش کر رہی ہے، لیکن داخلی خلفشار اور سیاسی مفادات نے اس سفارتی اقدام کو آغاز سے ہی ناکام بنا دیا ہے۔

    حکومتِ سندھ کے سیلاب متاثرین کیلئے اقدامات دنیا بھر کیلئے مثال ہیں،شرجیل میمن

  • پاکستان کی ’جاسوس‘ قرار دی گئی یوٹیوبر بی جے پی کی رکن نکلی

    پاکستان کی ’جاسوس‘ قرار دی گئی یوٹیوبر بی جے پی کی رکن نکلی

    نئی دہلی: پاکستان کے لیے جاسوسی کے الزام میں گرفتار کی گئی ہریانہ کی سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ اور یوٹیوبر جیوتی ملہوترا کا تعلق بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سے نکل آیا ہے-

    ذرائع کے مطابق 17 مئی کو جیوتی ملہوترا کو پاکستانی انٹیلی جنس ایجنسیوں سے رابطے اور حساس معلومات فراہم کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ تاہم، بعد میں سامنے آنے والی معلومات سے پتا چلا کہ وہ بی جے پی کی فعال کارکن ہیں اور متعدد بی جے پی ایونٹس میں شرکت کر چکی ہیں۔

    بی ایس ایف ذرائع کے مطابق، جب وہ سرحد پر مشکوک سرگرمیوں میں دیکھی گئیں اور شناخت پوچھی گئی تو انہوں نے خود کو "بی جے پی ہریانہ” سے متعارف کروایا اس پر بی ایس ایف اہلکار نے ان سے مزید تفتیش کیے بغیر انہیں جانے دیا اور مبینہ طور پر کہا، "بی جے پی ہی چاہیے”۔

    وفاقی وزیر صحت کی چینی ہم منصب سے ملاقات

    سوشل میڈیا پر عوام نے جیوتی ملہوترا کی گرفتاری کو مودی سرکار کی پاکستان کو بدنام کرنے کی ایک اور ناکام کوشش قرار دیا ہے عوام کا کہنا ہے کہ یہ مودی کا ایک نیا "فالس فلیگ” ڈرامہ تھا جسے جیوتی ملہوترا کے انسٹاگرام اور وی لاگ میں ان کی بی جے پی سے وابستگی نے پوری طرح بے نقاب کر دیا ہے،جیوتی کے یوٹیوب ویلاگز اس بات کا ثبوت ہیں کہ وہ بی جے پی کی قریبی اور متحرک کارکن رہی ہیں، اور ان کی گرفتاری محض ایک سیاسی ڈرامہ تھا جس کا مقصد بین الاقوامی سطح پر پاکستان کو بدنام کرنا تھا۔

    دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ بی ایس ایف کی تفتیش میں غفلت، تضاد اور بی جے پی کے مفادات کی ممکنہ حفاظت نے اس سازش کو مزید مشکوک بنا دیا ہے۔

    حکومتِ سندھ کے سیلاب متاثرین کیلئے اقدامات دنیا بھر کیلئے مثال ہیں،شرجیل میمن

  • وفاقی وزیر صحت کی چینی ہم منصب سے ملاقات

    وفاقی وزیر صحت کی چینی ہم منصب سے ملاقات

    وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال نے چین کے وزیر صحت سے ملاقات کی-

    تفصیلات کے مطابق ملاقات میں شعبے سے متعلق کئی اہم پیش رفتوں پر تبادلہ خیال کیا گیامصطفی کمال نے کہا کہ پاکستان میں ویکسینز، میڈیکل ڈیوائسز اور تشخیصی آلات کی مقامی تیاری کی بھرپور صلاحیت موجود ہےاور اس کیلئے حکومت چین کی سرمایہ کاری کومکمل سہو لت فراہم کرے گی، روایتی چینی طب میں بھی چینی ماہرین کو ہر ممکن تعاون دیا جائے گا جبکہ قومی ادارہ صحت میں چینی کمپنیوں کے لیے خصوصی ڈیسک قائم کرنے کا جلد نوٹیفکیشن جاری ہوگا۔

    دوسری جانب چینی وزیر نے بھی پاکستان کے ساتھ رابطہ کاری کے لیے اپنے فوکل پرسن نامزد کرنے پر اتفاق کیا کہا کہ پاکستان میں جن اے پی آئیز اور ویکسینز کی قلت ہے، ان کی فراہمی کے لیے مکمل تعاون کیا جائے گا۔

    حکومتِ سندھ کے سیلاب متاثرین کیلئے اقدامات دنیا بھر کیلئے مثال ہیں،شرجیل میمن

    اسحاق ڈار کی چینی وزیر سے ملاقات، اسٹریٹجک تعاون مضبوط بنانے پر اتفاق

    آئی ایم ایف مذاکرات: پیٹرولیم مصنوعات پر لیوی مزید بڑھانے پر اتفاق

  • حکومتِ سندھ کے سیلاب متاثرین کیلئے اقدامات  دنیا بھر کیلئے مثال ہیں،شرجیل میمن

    حکومتِ سندھ کے سیلاب متاثرین کیلئے اقدامات دنیا بھر کیلئے مثال ہیں،شرجیل میمن

    سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ سیلاب متاثرہ لاکھوں خاندانوں کے لیے 21 لاکھ گھروں کی تعمیر کا ہدف ایک خواب تھا، جسے سندھ حکومت نے عزم، مسلسل محنت اور عوامی خدمت کے جذبے سے حقیقت کا روپ دیا-

    سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ سیلاب متاثرین کے لئے گھروں کی تعمیر کا کام ملکی تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جائے گا، یہ سب کچھ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے ویژن اور قیادت کا ثمر ہے، چیئرمین بلاول بھٹو واضح طور پر کہا تھا کہ سیلاب متاثرین کو صرف امداد نہیں، بلکہ باعزت زندگی گزارنے کے لیے مکمل گھر دیے جائیں گے۔

    انہوں نے کہا کہ چیئرمین بلاول بھٹو کی ہدایات پر حکومت سندھ نے دن رات ایک کر کے متاثرہ علاقوں میں شفاف، پائیدار اور ماحول دوست گھروں کی تعمیر ممکن بنائی، یہ گھر صرف اینٹ اور سیمنٹ کا مجموعہ نہیں، بلکہ ہر خاندان کے لیے نئی زندگی کی امید ہیں، گھروں میں صاف پانی، بیت الخلا، بجلی اور دیگر بنیادی سہولیات کو بھی شامل کیا جا رہا ہے تاکہ لوگ محفوظ اور باوقار زندگی گزار سکیں، سندھ کے دیہی اور پسماندہ علاقوں میں خواتین، بچوں، بزرگوں اور معذور افراد کی ضروریات کو خاص طور پر مدنظر رکھا گیا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ محکمہ توانائی کی جانب سے ہزاروں غریب اور متوسط خاندانوں کو سولر پینل فراہم کیے جا رہے ہیں، غریب خاندانوں کو سولر پینلز کی فراہمی کا مقصد بجلی کے مہنگے بلوں سے نجات دلانا اور اپنی ضرورت کے تحت بجلی پیدا کرنا ہے، سولر پینلز آج کے دور میں صرف متبادل توانائی کا ذریعہ نہیں، بلکہ ایک نئی معاشی آزادی کا راستہ ہیں۔

    شرجیل میمن نے کہا کہ ان گھروں کے مالکانہ حقوق خواتین کو دیئے جار ہے ہیں تاکہ ان میں تحفظ کا احساس پیدا ہو اور خواتین کو بااختیار بنایا جا سکے، یہ سب کچھ صرف حکومت سندھ کی کامیابی نہیں بلکہ سندھ کے عوام کی استقامت، اجتماعی سوچ اور عوام دوست پالیسیوں کی کامیابی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ سیلاب متاثرہ لاکھوں خاندانوں کے لیے 21 لاکھ گھروں کی تعمیر کا ہدف ایک خواب تھا، جسے سندھ حکومت نے عزم، مسلسل محنت اور عوامی خدمت کے جذبے سے حقیقت کا روپ دیا، سندھ میں 8 لاکھ سے زائد گھر مکمل طور پر تعمیر ہو چکے ہیں، یہ کارنامہ گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں درج کرنے جیسا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ پرعزم ہے کہ باقی تمام متاثرین کو بھی جلد از جلد گھر فراہم کیے جائیں، اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ کوئی بھی خاندان بے گھر نہ رہے، ہم یہ یقین سے کہتے ہیں کہ سندھ حکومت کا یہ اقدام عالمی سطح پر بھی تسلیم کیا جائے گا اور گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں شامل ہونا ہمارے اس عزم کی بین الاقوامی تصدیق ہو گی۔

  • اسحاق ڈار کی چینی وزیر سے ملاقات، اسٹریٹجک تعاون مضبوط بنانے پر اتفاق

    اسحاق ڈار کی چینی وزیر سے ملاقات، اسٹریٹجک تعاون مضبوط بنانے پر اتفاق

    بیجنگ: نائب وزیراعظم اور وزیرخارجہ اسحاق ڈار سے چینی کمیونسٹ پارٹی کے وزیر یو جیان چاؤ (Liu Jianchao) کی وفد سمیت ملاقات ہوئی۔

    بیجنگ میں ہونے والی ملاقات میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور کمیونسٹ پارٹی کے وزیر یو جیان چاؤ نے سیاسی جماعتوں کے درمیان روابط مزید مضبوط بنانے پراتفاق کیا،چینی وزیر سے ملاقات میں اسحاق ڈار نے پاکستان کی خودمختاری اور بنیادی مفادات پر چین کی حمایت کو سراہا،اس موقع پر یو جیان چاؤ نے کہا کہ چین پاکستان کا آئرن برادر ہے اور پاکستان سے تعلقات کو ترجیح دیں گے۔

    خطے میں پاکستان کا مقام بڑھ چکا، تاجر کمیونٹی موقع سے فائدہ اٹھائے،پینل ڈسکشن سے مقررین کا خطاب

    اس موقع پر اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ پاکستان چین کے ساتھ آہنی دوستی کو مزید فروغ دینے کا خواہاں ہے جبکہ چینی وزیر یو جیان چاؤ نے کہا کہ چین پاکستان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی حمایت جاری رکھے گا۔

    حکام کے مطابق اسحاق ڈار کی آج چینی ہم منصب سے ملاقات ہوگی جس میں حالیہ پاک بھارت کشیدگی سمیت علاقائی اور عالمی امور پر بات ہوگی جب کہ پاکستان، چین اور افغانستان کے وزرائے خارجہ سہ فریقی ملاقات بھی کریں گے۔

    آئی ایم ایف مذاکرات: پیٹرولیم مصنوعات پر لیوی مزید بڑھانے پر اتفاق