Baaghi TV

Tag: تازہ تری

  • حقیقی بھائی نے اپنے ہی دو حقیقی بھائیوں کو دردناک موت کی آغوش میں سلا دیا

    حقیقی بھائی نے اپنے ہی دو حقیقی بھائیوں کو دردناک موت کی آغوش میں سلا دیا

    اٹک :تھانہ باہتر ضلع اٹک تحصیل فتح جنگ دولت کی ہوس حقیقی بھائی نے اپنے ہی دو حقیقی بھائیوں کو دردناک موت کی آغوش میں سلا دیا مصدقہ اطلاعات کے مطابق والدہ نے اپنے بڑے بیٹے کو دس لاکھ روپے نقد کیش وراثت میں کچھ دیگر چیزیں اور زمین کی حصہ داری و کا معاملہ اپنے بڑے بیٹے عبادت کی ذمہ داری لگائی کہ میرے مرنے کے بعد تم اپنے بہن بھائیوں کو ان کو قانونی جو بھی حصہ داری بنتی ہے

    یہ بھی کہا جارہا ہےکہ ان کا کہنا تھاکہ تم نے ان کو دینی ہے مگر بھائی کے روپ میں اور دولت کی ہوس کی وجہ سے اس کے اندر مکمل طور پر درندگی آ چکی تھی جس کے باعث اس نے اپنے ہی رشتوں پر اور اپنے ہی گھر پر قیامت ڈھانے کا منصوبہ بنا لیا اور ظالم درندے نے اپنی بیوی کے ساتھ مل کر اپنے دونوں حقیقی بھائیوں کو بے دردی سے قتل کرنے کے بعد اپنے ہی گھر کے ساتھ بھینسوں کے باڑے میں دفن کر دیا اس شخص کے اندر انسانیت پوری طرح مر چکی تھی

    بھانجے بھتیجے یا دوسرے کوئی بھی فیملی ممبر اس سے دونوں بھائیوں کے بارے میں معلومات لیتے یا پوچھتے تو یہ مختلف حیلے بہانوں سے ٹال مٹول سے کام لیتا اس کا پول کھلنے کے بعد بھی اس ظالم کی درندگی ختم نہ ہوئی اپنی بہنوں اور دیگر فیملی ممبران کو کہنے لگا کہ ایف آئی آر درج نہ کرواو مجھے سب کے سامنے قتل کر دو میں ظالم انسان ہوں اس نے خود کو بچانے کا ناکام ناٹک بھی کیا پولیس نے فوری طور پر ایف آئی آر کا اندراج کر کے پیس دن قبل بے دردی سے قتل ہونے والے مقتولین کی نعشیں جائے وقوعہ سے زمین کھود کر نکالنے کے بعد پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال اٹک پہنچا دی ایسے ملزمان کو معاشرے کے لئے نشان عبرت بنانا چاہیے جو چند روپے اور زمین کے تو کرنے کی خاطر شیطانیت اور انسانیت کو بھول کر درندگی کی انتہا کو پہنچ جاتے ہیں

  • یونیورسٹی آف سینٹرل پنجاب کا کانووکیشن، پہلے روز 1176 طلبہ میں ڈگریاں تقسیم

    یونیورسٹی آف سینٹرل پنجاب کا کانووکیشن، پہلے روز 1176 طلبہ میں ڈگریاں تقسیم

    لاہور:یونیورسٹی آف سینٹرل پنجاب (یو سی پی) کے 25 ویں کانووکیشن کی تقریبات کا آغاز ہو گیا، دو روزہ کانووکیشن کے پہلے روز 1176 طلبہ میں ڈگریاں تقسیم کی گئیں۔

    یو سی پی کے دو روزہ کانووکیشن میں پہلے روز کی مہمان خصوصی جسٹس ریٹائرڈ ناصرہ جاوید اقبال تھیں، تقریب میں ایگزیکٹو ڈائریکٹر پنجاب سہیل افضل نے خصوصی شرکت کی، اس موقع پر پرو ریکٹر پروفیسر نصر اکرام اور ڈینز فیکلٹیز بھی موجود تھے۔

    شہباز شریف سے ملاقات کیلئے آصف زرداری ماڈل ٹاؤن پہنچ گئے

    کانووکیشن میں 2 ہزار 176 طلبا وطالبات کو ڈگریاں دی جائیں گی، پہلے روز 1 ہزار 76 طلبہ و طالبات کو ڈگریاں دی گئیں، کانووکیشن میں انڈر گریجویٹ پروگرامز میں 879 ، پوسٹ گریجویٹ پروگرامز کی 194 ڈگریاں دی جائیں گی۔

    فٹبال ورلڈ کپ فائنل؛ ارجنٹینا نے فرانس کیخلاف 2 گول کردیے

    یونیورسٹی آف سینٹرل پنجاب کے 25 ویں کانووکیشن میں پی ایچ ڈی کی 3 ڈگریاں، انڈر گریجویٹ پروگرامز میں 460 طلبہ اور 419 طالبات کو ڈگریاں دی جائیں گی، پوسٹ گریجویٹ پروگرامز میں 88 میل اور 107 طالبات جبکہ ایک طالب علم اور دو طالبات کو پی ایچ ڈی کی ڈگریاں دی جا رہی ہیں، انڈر گریجویٹ میں 10 طلبہ اور 25 طالبات کو میڈلز دیے جارہے ہیں۔

    مونس الٰہی اچانک عمران خان کے پاس پہنچ گئے

    کانووکیشن کے دوران پوسٹ گریجویٹ پروگرامز میں 7 طلبا اور 22 طالبات کو میڈلز دیے جارہے ہیں، تعلیمی میدان میں اعلیٰ کارکردگی دکھانے پر مجموعی پر 149 طلبا و طالبات کو میڈلز دیے جائیں گے، ایکسپو سینٹر میں ہونے والی تقریب میں اساتذہ طلبہ و طالبات کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔

  • پی ڈی ایم کے لیے خطرے کی گھنٹی، آستین کے سانپ نظر آ گئے

    پی ڈی ایم کے لیے خطرے کی گھنٹی، آستین کے سانپ نظر آ گئے

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ میں آج کے بعد عمران خان کی تعریفیں کروں گا۔ میں ان کی خوبیاں گنواوں گا۔ میں ان کے ہر غلط کام کا دفاع کروں گا تو آپ بالکل غلط سوچ رہے ہیں ۔ عمران خان جب جب جب ٹھیک بات کریں گے ہم ان کی تعریف کریں گے ۔ عمران خان جب اس قوم کے ساتھ مذاق کریں گے ہم عمرا ن خان کو آئنہ دکھائیں گے ۔

    مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پربات کرتے ہوئے مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ کیونکہ بالآخر عمران خان کو وہ سارے آستین کے سانپ نظر آنا شروع ہو گئے ہیں جن کے بارے میں فیصل واوڈا نے بات کی تھی ۔ انھوں نے حالات کے ساتھ سمجھوتا کر لیا ہے ۔ انھوں نے ریاست ۔ معیشت اور عوام کی چولیں ہلانے کے بعد فیصلہ کر لیا ہے کہ سیاست اس طرح نہیں کی جاتی ۔ نا ہی اداروں کے ساتھ ٹکر لی جاتی ہے سانپوں کی آنکھوں سے دیکھنے کی بجائے اب انھوں نے خود اپنی بینائی استعمال کر نا شروع کر دی ہے ۔اب وہ غفلت کی نیند سے بیدا ر ہوتے نظر آ رہی ہیں۔ عمران خان کی ہوا اتنی بدلی بدلی کیسے ہے ؟عمران خان نے جس ٹرک کی بتی کے پیچھے عوام کو لگایا ہوا تھا کیا اس ٹرک نے نیاموڑ لے لیا ہے اور ایک نئی سڑک پر چل نکلا ہے۔یا پھر ایک نئی ٹرک کی بتی تیار ہے ۔اگلے الیکشن کب ہونگے اور ان میں کس کا پلڑا بھاری ہوگا؟

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ آج عمران خان نے جب پارٹی اراکین سے خطاب کیا تو ان کے لہجے میں پہلے سے کافی زیادہ ٹھہراوتھا ان کی زبان میں نرمی تھی ۔ ان کے پاس سیاسی مخالفین کو گالی اور ان کا نام بگاڑنے کی بجائے۔بیان کرنے کو مسائل تھے گوکہ وہ ریاست کے مسائل کو اپنا مسئلہ بنا کر پیش کر رہے تھے لیکن ان کے پاس امریکی سازش سائفر اور رجیم چینچ کے بیانیے کے علاوہ بولنے کےلیے کافی کچھ چیزیں تھیں ۔ کیونکہ عمران خان کو سمجھ آ چکی ہے کہ انسان چاہے جتنا مرضی سازشی تھیوریاں گھڑ لے وہ زیادہ دیر تک عوام کو بے وقوف نہیں بنا سکتا۔انھیں سمجھ آ چکی ہے کہ انسان جتنا مرضی ادروں کے خلاف آواز بلند کر لے ادارے ملک کے دفاع کے پاسبان ہوتے ہیں ۔ ان پر انگلی اٹھانے سے سیاست نہیں چمکائی جا سکتی انھیں سمجھ آ گیا ہے کہ میر جعفر او ر میر صادق کہنے سے ۔ اداروں کے سربراہوں کو غدار کہنے سے اقتدار کی راہ نہیں ہموار کی جا سکتی انھیں سمجھ آ چکی ہے کہ سیاست کرنے کےلیے صرف بیانیہ ہی کافی نہیں ہوتا بلکہ آپ کو عملی طور پر بھی کچھ کر کے دکھانا پڑتا ہے ۔انھیں سمجھ آ چکی ہے کہ لانگ مارچ کرنے سے ۔ لوگوں کو سڑکوں پر نکالنے سے انتخابات کی تاریخ کسی بھی صورت نہیں ملا کرتی ۔انھیں یہ بھی اچھی طر ح سے سمجھ آ چکا ہے کہ انسان فوج کو متنازعہ بنا کر۔ ریاست کو یرغمال بنا کر صرف خود کو تو بیوقوف بنا سکتا ہے ۔ لیکن اپنی مرضی کا آرمی چیف کسی صورت نہیں لگا سکتا۔ انھیں معلوم ہو چکا ہے کہ راستہ چاہے جتنا لمبا ہو آخر اس میں موڑ آنے ہوتے ہیں ۔انھیں یہ بھی معلوم ہو چکا ہے کہ ان کے ارد گرد جو لوگوں کا جمگٹھا لگا ہوا ہے ۔ جو انھیں مشورے دیتے ہیں ۔ وہ سارے عمران خان کے سگے نہیں ہیں ۔لیکن دیر آید درست آیداور کوئی پتا نہیں کل دوائی کوئی اور اثر نہ دیکھا دے۔ لیکن چلو جب تک امید تو کی جا سکتی ہے۔اس لیے عمران خان مزاحمت کی سیاست کی بجائے مفاہمت کی سیاست پر یقین رکھنا شروع ہو گئے ہیں ۔ہلکے ہلکے شرمیلی دلہن کی طرح شرافت کا گھنگٹ اٹھا رہے ہیں،کیونکہ گالی دے کر بھی دیکھ لیا اور منت ترلہ کر کے بھی۔ کوئی ہتھیار نہیں چلا تو کوئی اور راستہ تو لینا ہے۔انھوں نے خود کو یقین دلا دیا ہے کہ اب الیکشن اپنے وقت پر ہی ہونگے ۔انھوں نے خود کو یقین دلا دیا ہے کہ ریاست مدینہ ثانی فرح گوگی اور بشری مانیکا کی کرپشن کے ہوتے ہوئے کبھی نہیں بن سکتی ۔انھوں نے خود کو یقین دلا دیا ہے کہ صرف دعوں کے اونچے مینار دیکھ کر کبھی بھی مغرب سے لوگ یہاں نوکری کرنے نہیں آئیں گے ۔۔انھوں نے خود کو یقین دلا دیا ہے کہ صرف چند سال میں ملک میں دودھ اور شہد کی نہریں نہیں بہائی جا سکتیں ۔انھوں نے خود کو یقین دلا دیا ہے کہ کنٹینر پر اونچی آواز میں دھاڑنے سے اور ایک کروڑ نوکریوں کا صر ف وعدہ کرنے سے اب کام نہیں بنے گا۔انھوں نے خود کو یقین دلا دیا ہے صرف ہوائی فائر کرنے سے پچاس لاکھ گھر تعمیر نہیں کیے جا سکتے ۔انھوں نے خود کو یقین دلا دیا ہے کہ اس وقت اسمبلیاں بھی کسی صورت تحلیل نہیں ہونگی ۔کیونکہ بظاہر یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ پرویزالہی نے عمرا ن خان پر اعتماد کا اظہار کردیا ہے اور انھوں نے اسمبلیاں تحلیل کرنے کا فیصلہ بھی عمران خان پر چھوڑ دیا ہے ۔تحریک انصاف کے لوگ بار بار یہ صفائیاں پیش کر رہے ہیں کہ چوہدر ی پرویزا لہی عمران خان کا ساتھ دینے کے لیے ہر حد تک جائیں گے۔۔عمران خان کہیں گے تو وہ جان بھی حاضر کر دیں گے ۔۔لیکن گل وچ ہور اے

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ مونس الہی کے اس بیان کے بعد کہ ہم جنرل باجوہ کے کہنے پر عمران خان کے ساتھ شریک ہوئے اب یہ واضح ہو چکا ہے کہ چوہدریوں کو نا تو عمران خان سے کوئی لگاو ہے۔۔ اور نا ہی عمران خان کی سیاست سے کوئی لگاو ہے انہوں نے اپنے مفادات دیکھنے ہیں اور اپنی سیاست کی بقا دیکھنی ہے، جس دن سے عمران خان کے ساتھ آئے ہیں ان کی زندگیوں میں طوفان برپا ہے، لیکن وہ طوفان صرف کرسی کے نشے میں ہیں برداشت کیا جا سکتا ہے، گھر بیٹھ کر نہیں۔اور اگر آپ اوچھی سیاست میں کرسی بھی گنوا دیں گے تو آپ خود ہی یہ خود کشی کریں ہمیں مرنے کا کوئی شوق نہیں۔مونس الہی کے اس بیان کے بعد تحریک انصاف کے لوگوں نے ایک بار پھر سے سوشل میڈیا پر مٹی پلیت کرنے کی کوشش کی لیکن اس بار عمران خان کو اچھے طریقے سے پتا چل گیا کہ اگر عمران خان کے کرسی کے ساتھ مفادات جڑ سکتے ہیں تو کسی کے بھی مفادات جڑ سکتے ہیں ۔اس لیےانھوں نے خود کو یقین دلا دیا ہے کہ اگر میں کل کو چوہدری پرویزا لہی کو اسمبلی توڑنے کا کہتا بھی ہوں تو آگے سے صاف انکار آنا ہے ۔اس لیے ایک بار پھر عوام کے سامنے زلالت کاٹنے اور ایک اور یوٹرن لینے سے بہتر ہے کہ ابھی سے عام انتخابات کی تیار ی کر لو۔ورنہ کیا کسی نے کبھی سوچا تھا کہ وہ عمران خان جو کہتا تھا میں مر جاوں گا لیکن ان چوروں کے ساتھ نہیں بیٹھوں گا۔ جو کہتا تھا کہ ملک ان ڈاکوں کے ساتھ مزاکرات کرنے سے ٹھیک نہیں ہوتے جس کے دل میں اپنے سیاسی مخالفین کےلیے اتنی نفرت تھی کہ وہ اداروں کو مجبور کرتا تھا کہ میرے سیاسی مخالفین کے خلاف کیس بناو۔ انھیں بغیر تحقیقات کے جیل میں ڈالو۔وہ عمران خان انھی لوگوں کے ساتھ ۔۔ انھی سیاستدانوں کے ساتھ کبھی مزاکرات کےلیے بیٹھے گا۔سیاسی پنڈت سمجھتے تھے کہ اگر کبھی ایسا ہوا تو وہ کسی چمکتار سے کم نہیں ہوگا۔وہ چمکتار آج ہو گیا۔۔ اور عمران خان محض ایک انتخابات کے اعلان پر ساتھ بیٹھنے کو تیار ہیں۔ واہ عمران خان کیا خوب قیمت لگوائی۔عمران خان نے حکومت کو الیکشن پر مزاکرات کی بھی پیش کش کر دی ۔۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ ایسا کہہ کر ایک طرح سے عمران خان نے سیاسی دانش کا ثبوت تو پیش کیا ہی ہے لیکن اس کے ساتھ ہی اپنے سیاسی مخالفین کےلیے بھی خطرے کی ایک گھنٹی بجائی ہے عمران خان نے الیکشن کا نعرہ لگا کر الیکشن سے ایک سال پہلے ہی ا پنی عام انتخابات کی مہم کو تیز کر دیا ہے اب عمران خان نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ وہ ہر ڈویژن ۔۔ ہر ضلعے کے تحریک انصاف کے رہنماوں سے ملاقاتیں کریں گے ۔۔ اس کا مطلب یہی ہے کہ عمران خان نے یہ طے کر لیا ہے کہ انتخابات اگلے سا ل اکتوبر میں ہی ہونگے اس لیے اگر انتخابات جیتنے ہیں تو کھوکھلے وعدے کرنے کی بجائے زمینی حقائق کو جاننا ہوگا۔۔ حالات و واقعات کو پرکھنا ہوگا۔شروع سے پارٹی کی تنظیم سازی کرنی ہوگی ۔جلسوں کی بجائے تحریک انصاف کیStreet Powerکو مزید آگے لے جانا ہوگا کیونکہ عمران خان اب خوابوں کے سراب سے نکلتے نظر آ رہے ہیں سازشی محلات کے بند ہونے اور خوابوں کے ٹوٹنے کے بعد شائد عمران خان اب آسمان سے زمین پر آ چکے ہیں۔اور حقیقی منظر نامہ ان کے سامنے ہے انھیں یہ اندازہ ہو گیا ہے کہ اب چور دروازے کے خواب کبھی سچ نہیں ثابت ہونگے اب کوئی Electableان کی جھولی میں نہیں ڈالے گا۔اب راتوں رات لوگوں کی وفاداریاں نہیں تبدیل ہونگی اب قانون پاس کرنے کےلیے کسی بھی رکن قومی اسمبلی کو نا معلوم نمبر سے کال نہیں جائے گی اب ان کے پاس اے ٹی ایمز کی کوئی لمبی فہرست نہیں ہوگی انھیں اپنی کشتی کو سہارا دینے کےلیے خود چپو چلانا سیکھنا ہوگا۔۔ اب کوئی ان کی کشتی کا چپو نہیں چلائے گا اور نا ہی کوئی ملاح انھیں دریا کے بھنور سے نکالے گا۔اب عشق کے امتحاں پہلے سے زیادہ گہرے ہونگے ۔اور اب میدان میں اصل مقابلہ ہوگاکوئی آر ٹی ایس سسٹم بٹھانے والا نہیں ہوگا کوئی کیسز ختم کروانے وا لا نہیں ہوگا اور اس بار عمران خان کا مقابلہ کرنے کےلیے نواز شریف جیل کی بجائے خود گراونڈ میں اتریں گے ۔زرداری بھی میدان میں ہونگے اور جو فیصلہ عوام کریں گے وہی حقیقی فیصلہ ہوگا وہی حقیقی جمہوریت ہوگی اور یہی جمہوریت کا حسن ہے ۔۔اس ملک کے بارے میں سوچیں، ا سکی عوام کے بارے میں سوچین، سیاست کریں لیکن اتنی کہ نہ قوم برباد ہو اور نہ ہی ملک۔ سوچنے کی بات ہے۔

    عمران خان کو آرمی چیف سے کیا چاہئے؟ مبشر لقمان نے بھانڈا پھوڑ دیا

    عمران ریاض کو واقعی خطرہ ہے ؟ عارف علوی شہباز شریف پر بم گرانے والے ہیں

    الیکشن کیلیے تیار،تحریک انصاف کا مستقبل تاریک،حافظ سعد رضوی کا مبشر لقمان کوتہلکہ خیز انٹرویو

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

    عمران خان، تمہارے لئے میں اکیلا ہی کافی ہوں، مبشر لقمان

    عمران خان کو آرمی چیف سے کیا چاہئے؟ مبشر لقمان نے بھانڈا پھوڑ دیا

    عمران خان سے ڈیل کی حقیقت سامنے آ گئی

    وہ کون تھا..؟ راز کھل گئے، بھانڈا پھوٹ گیا

  • نہ چھیڑاے نکہت بادبہاری راہ لگ اپنی تجھےاٹکھیلیاں سوجھی ہیں ہم بےزاربیٹھے ہیں:انشااللہ خان انشاء کی زندگی کےروش پہلو

    نہ چھیڑاے نکہت بادبہاری راہ لگ اپنی تجھےاٹکھیلیاں سوجھی ہیں ہم بےزاربیٹھے ہیں:انشااللہ خان انشاء کی زندگی کےروش پہلو

    نہ چھیڑ اے نکہت باد بہاری راہ لگ اپنی
    تجھے اٹکھیلیاں سوجھی ہیں ہم بے زار بیٹھے ہیں

    انشا اللہ خان انشاء
    یکم دسمبر 1257 یوم پیدائش
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    میر تقی میر کے ہم عصر ، مصحفی کے ساتھ چشمک کے لئے مشہور انشا نے نثر میں ’رانی کیتکی کی کہانی‘ بھی لکھی.جس میں عربی فارسی کا ایک بھی لفظ استعمال نہیں ہوا
    وہ کہتے تھے’’ہرلفظ جو اردو میں مشہور ہو گیا، عربی ہو یا فارسی، ترکی ہو یا سریانی، پنجابی ہو یا پوربی ازروئے اصل غلط ہو یا صحیح وہ لفظ اردوکا لفظ ہے۔ اگراصل کے مطابق مستعمل ہے تو بھی صحیح ہے اور خلاف اصل مستعمل ہے تو بھی صحیح ہے ۔‘‘

    محمد حسین آزاد نے انشا کو اردو کا امیر خسرو کہا ۔ انکا سب سے بڑا کارنامہ کسی ہندوستانی کی لکھی ہوئی اردو گرامر کی اولین کتاب "دریائے لطافت” ہے جو قواعد کی عام کتابوں کی طرح خشک اور بے مزا نہیں کسی ناول کی طرح پر لطف ہے جس میں مختلف کردار اپنی اپنی بولیاں بولتے سنائی دیتے ہیں۔

    انھوں نے اردو میں "سلک گوہر” لکھی جس میں ایک بھی نقطہ نہیں ہے۔ انھوں نے ایسا قصیدہ لکھا جس میں پورے کے پورے مصرعے عربی، فارسی، ترکی، پشتو، پنجابی، انگریزی، فرانسیسی، پوربی اور اس زمانہ کی تمام قابل ذکر زبانوں میں ہیں۔ ایسی سنگلاخ زمینوں میں غزلیں لکھیں کہ حریف منہ چھپاتے پھرے۔ ایسے شعر کہے جن کو معنی کے اختلاف کے بغیر، اردو کے علاوہ، محض نقطوں کی تبدیلی کے بعد عربی فارسی اور ہندی میں پڑھا جا سکتا ہے یا ایسے شعر جن کا ایک مصرع غیر منقوط اور دوسرے مصرعے کے تمام الفاظ منقوط ہیں۔ اپنے اشعار میں صنعتوں کے انبار لگا دینا انشاء کے بائیں ہاتھ کا کھیل تھا۔

    انشاء یکم دسمبر 1752ء کو مرشدآباد میں پیدا ہوئے۔ خاندان نجف اشرف سے اور بعض دوسری روایات کے مطابق سمرقند سے ہجرت کرکے دہلی میں آباد ہوا تھا اور طبابت میں اپنی غیرمعمولی صلاحیت کی بنا پر دربار شاہی سے منسلک تھا۔ انشاء کے والد سید ماشاءللہ دہلی کی زبوں حالی کو دیکھتے ہوے مرشدآباد چلے گئے تھے. بنگال کے حالات بھی خراب ہوئے تو انشا فیض آباد جاکر کم عمری کے باوجود شجاع الدولہ کے مصاحب ہوگئے۔ شجاع الدولہ کی وفات کےبعد وہ نجف خان کے لشکر میں شامل ہوکر بندیل کھنڈ میں جاٹوں کے خلاف لڑے بھی۔ اس کے بعد وہ نجف خان کے ساتھ دہلی آ گئے۔

    انشاء کو دربار تک رسائی ملی اور وہ اپنی طراری، اور بھانڈ پن کی حد تک پہنچی ہوئی مسخرگی کی بدولت شاہ عالم کی آنکھ کا تارہ بن گئے ۔ ان کو اپنی بقاء کے لئے ایک مسخرے مصاحب کا کردار ادا کرنا پڑا جس نے بعد میں، ضرورت کی جگہ، عادت کی شکل اختیار کرلی۔ جب انشاء دہلی پہنچے، بڑے بڑے شاعر، سودا، میر، جرات، سوز وغیرہ دہلی کو چھوڑ کر عیش و نشاط کے نو دریافت جزیرے لکھنؤ کا رخ کر چکے تھے اور چھٹ بھیّے بزعم خود خاتم الشعراء بنے ہوئے تھے۔ یہ لوگ انشاء کو خاطر میں نہیں لاتے تھے ایسے میں لازم تھا کہ انشاء ان کو ان کی اوقات بتائیں۔ اور یہیں سے انشاء کی ادبی معرکہ آرائیوں کا وہ سلسلہ شروع ہوا کہ انشاء کو اپنے سامنے سر اٹھانے والے کسی بھی شخص کو دو چار زور دار پٹخنیاں دئیے بغیر چین نہیں آیا۔

    دہلی میں انشاء کا پہلا معرکہ مرزا عظیم بیگ سے ہوا۔ ان کی علمی لیاقت بہت معمولی تھی سودا کے شاگرد ہونے کے مدعی اور خود کو صائب کا ہم مرتبہ سمجھتے تھے۔ انشاء کی روش عام سے ہٹی ہوئی شاعری کے نکتہ چینوں میں یہ پیش پیش تھے اور اپنے مقطعوں میں سودا پر چوٹیں کرتے تھے۔ ایک دن وہ انشاء سے ملنے آئے اور اپنی ایک غزل سنائی جو بحر رجز میں تھی لیکن کم علمی کے سبب اس کے کچھ شعر بحر رمل میں چلے گئے تھے۔ انشاء بھی موجود تھے۔ انھوں نے طے کیا کہ حضرت کو مزا چکھانا چاہئے۔ غزل کی بہت تعریف کی مکرر پڑھوایا اور اصرار کیا کہ اس غزل کو وہ مشاعرہ میں ضرور پڑھیں۔ عظیم بیگ ان کے پھندے میں آ گئے۔ اور جب انھوں نے مشاعرہ میں غزل پڑھی تو انشاء نے بھرے مشاعرہ میں ان سے غزل کی تقطیع کی فرمائش کر دی۔ مشاعرہ میں سب کو سانپ سونگھ گیا۔ انشاء یہیں نہیں رکے بلکہ دوسروں کی عبرت کے لئے اک مخمس بھی سنا دیا۔

    گر تو مشاعرہ میں صبا آج کل چلے
    کہیو عظیم سے کہ ذرا وہ سنبھل چلے
    اتنا بھی اپنی حد سے نہ باہر نکل چلے
    پڑھنے کو شب جو یار غزل در غزل چلے
    بحر رجز میں ڈال کے بحر رمل چلے

    عظیم بیگ اپنے زخم چاٹتے ہوئے مشاعرہ سے رخصت ہوئے اور اپنی جھینپ مٹانے کے لئے جوابی مخمس لکھا جس میں انشاء کو جی بھر کے برا بھلا کہا اور دعویٰ کیا کہ بحر کی تبدیلی نادانستہ نہیں تھی بلکہ شعوری تھی جس کا رمز ان کے مطابق کل کے چھوکرے نہیں سمجھ سکتے۔
    موزونی و معانی میں پایا نہ تم نے فرق
    تبدیل بحر سے ہوئے بحر خوشی میں غرق
    روشن ہے مثل مہر یہ از غرب تا بہ شرق
    شہ زور اپنے زور میں گرتا ہے مثل برق
    وہ طفل کیا گرے گا جو گھٹنوں کے بل چلے
    ( آخری مصرع ماقبل کے مصرع میں تحریف کے ساتھ شعر "گرتے ہیں شہسوار ہی میدان جنگ میں۔ وہ طفل کیا گرے گا جو گھٹنوں کے بل چلے” کی شکل میں مشہور ہو گیا)

    اگلی بار جو مشاعرہ ہوا وہ ایک خطرناک معرکہ تھا ۔ انشاء اپنی فخریہ غزل
    اک طفل دبستاں ہے فلاطوں مرے آگے
    کیا منہ ہے ارسطوجو کرے چوں مرے آگے
    لے کر گئے۔ اس معرکہ میں جیت انشاء کی ضرور ہوئی لیکن ان کی مخالفت بہت بڑھ گئی۔ دہلی کے حالات بد سے بدتر ہوتے جا رہے تھے ۔ دربار سے بھی ان کا دل اچاٹ ہو گیا۔ قسمت آزمائی کےلئے لکھنؤ کی راہ لی۔ آتے ہی وہاں کے مشاعروں میں دھوم مچائی. کچھ دن میں شاہ عالم کے بیٹے سلیمان شکوہ کے ملازم ہو گئے۔ سلیمان شکوہ، انشاء سے اصلاح لینے لگے۔ ان دنوں لکھنؤ میں شاعری کی اک نئی بساط بچھ رہی تھی جسے بعد میں دبستان لکھنؤ کا نام دیا گیا۔ انشاءکے علاوہ، جرات، رنگین، راغب وغیرہ ایک سےبڑھ کر ایک تماشے دکھا رہے تھے۔ سنگلاخ زمینوں میں استادی دکھانے اور چوما چاٹی کے مضامین کو ابتذال کے دہانے تک لے جانے کی اک ہوڑ لگی تھی۔

    آصف الدولہ کے بعد جب سعادت علی خان نے حکومت سنبھالی تو انشاء للہ بہت دنوں بعد کسی طرح ان کے دربار میں پہنچ تو گئے لیکن ان کا رول بس دل بہلانے والے اک مسخرے کا سا تھا۔ نواب کو جب کسی کی پگڑی اچھالنی ہوتی انشاء کو اس کے پیچھے لگا دیتے۔ انشاء کی آخری عمر بڑی بیکسی میں گزری ہنسی ہنسی میں کہی گئی انشاء کی کچھ باتوں سے نواب کے دل میں گرہ پڑ گئی اور وہ معتوب ہو گئے۔ اور زندگی کے باقی دن مفلسی کسمپرسی اور بیچارگی میں گزارے۔
    انشاء کی تمام شاعری میں جو صفت مشترک ہے وہ یہ کہ ان کا کلام متوجہ اور محظوظ کرتا ہے۔

    منتخب اشعار :

    کمر باندھے ہوئے چلنے کو یاں سب یار بیٹھے ہیں
    بہت آگے گئے باقی جو ہیں تیار بیٹھے ہیں

    نہ چھیڑ اے نکہت باد بہاری راہ لگ اپنی
    تجھے اٹکھیلیاں سوجھی ہیں ہم بے زار بیٹھے ہیں

    کہاں گردش فلک کی چین دیتی ہے سنا انشاؔ
    غنیمت ہے کہ ہم صورت یہاں دو چار بیٹھے ہیں
    کہانی ایک سنائی جو ہیر رانجھا کی
    تو اہل درد کو پنجابیوں نے لوٹ لیا
    یہ جو مہنت بیٹھے ہیں رادھا کے کنڈ پر
    اوتار بن کے گرتے ہیں پریوں کے جھنڈ پر
    کیا ہنسی آتی ہے مجھ کو حضرت انسان پر
    فعل بد تو ان سے ہولعنت کریں شیطان پر
    لے کے میں اوڑوں، بچھاؤں یا لپیٹوں کیا کروں
    روکھی پھیکی ایسی سوکھی مہربانی آپ کی

    تب سے عاشق ہیں ہم اے طفل پری وش تیرے
    جب سے مکتب میں تو کہتا تھا الف بے تے ثے
    یاد آتا ہے وہ حرفوں کا اٹھانا اب تک
    جیم کے پیٹ میں ایک نکتہ ہے اور خالی حے
    گالیاں تیری ہی سنتا ہے اب انشاؔ ورنہ
    کس کی طاقت ہے الف سے جو کہے اس کو بے
    میاں چشمِ جادو پہ اتنا گھمنڈ
    خدوخال و گیسو پہ اتنا گھمنڈ
    دیوار پھاندنے میں دیکھوگے کام میرا
    جب دھم سے آکہوں گاصاحب سلام میرا
    ( ریختہ سے استفادہ)

  • مقابلے کے امتحان میں ناکامی پر30 سالہ نوجوان نے خود کُشی کرلی

    مقابلے کے امتحان میں ناکامی پر30 سالہ نوجوان نے خود کُشی کرلی

    پونے: پونے کے نوی پیٹھ پڑوس میں ایک 30 سالہ شخص کو اس کے کرائے کے اپارٹمنٹ میں مردہ پایا گیا،کہا جاتا ہے کہ اس نوجوان نے مقابلے کے امتحان میں فیل ہونے پر خودکُشی کی ہے ، پولیس نے بھی اس واقعہ کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ہے جہاں اس نوجوان نے خودکشی کی ہے وہاں سے ایک تحریر بھی ملی ہے ،

    پونے پولیس کے سربراہ کا کہناتھا کہ اس شخص کی موت کا تعلق ریاستی اور مسابقتی سول سروسز کے امتحانات پاس کرنے میں ناکامی سے تھا۔

    مہاراشٹر کے جالنا ضلع کے رہنے والے تریگن کاولے کی شناخت وشرامباگ پولیس اسٹیشن کے افسران نے متوفی کے طور پر کی ہے۔مبینہ طور پر کاوالے نے پڑوس میں دوسرے امتحان دینے والوں کے ساتھ منگل کے روز اپنے معمول کے مطالعہ کے سیشن کو چھوڑ دیا۔ جب شام کے وقت اس کے کچھ ہم جماعت اسے چیک کرنے گئے تو انہیں معلوم ہوا کہ اس کا دروازہ بند تھا اور وہ ان کی کال کا جواب نہیں دے رہا تھا۔ انہوں نے پولیس کو بلایا، جنہوں نے بعد میں زبردستی دروازہ کھولا تو اسے مردہ پایا

    وشرامباگ پولیس اسٹیشن کے انچارج سینئر انسپکٹر سنیل مانے کا کہنا تھا کہ "وہ مردہ پایا گیا تھا۔ ابتدائی تفتیش خودکشی کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ ہمیں ایک نوٹ ملا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس نے مسابقتی اور سول سروسز میں ناکام ہونے کے بعد یہ سخت قدم اٹھایا۔ ہم نے ان واقعات کے سلسلے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں جن کی وجہ سے اس کی موت واقع ہوئی۔”

    حکام کے مطابق، کاوالے چند سال قبل پونے چلے گئے تھے اور حال ہی میں ریاستی حکومت کی ملازمت کی بھرتی کے لیے ابتدائی امتحان میں شرکت کی تھی۔

    صحافیوں کے خلاف مقدمات، شیریں مزاری میدان میں آ گئیں، بڑا اعلان کر دیا

    سرکاری زمین پر ذاتی سڑکیں، کلب اور سوئمنگ پول بن رہا ہے،ملک کو امراء لوٹ کر کھا گئے،عدالت برہم

    جتنی ناانصافی اسلام آباد میں ہے اتنی شاید ہی کسی اور جگہ ہو،عدالت

    اسلام آباد میں ریاست کا کہیں وجود ہی نہیں،ایلیٹ پر قانون نافذ نہیں ہوتا ،عدالت کے ریمارکس

  • حساس علاقوں سےجہازوں کےحساس پرزوں کاچوری ہونا    لمحہ فکریہ:چیف جسٹس صاحب قومی اثاثوں کوبچالیں

    حساس علاقوں سےجہازوں کےحساس پرزوں کاچوری ہونا لمحہ فکریہ:چیف جسٹس صاحب قومی اثاثوں کوبچالیں

    کراچی :چیف جسٹس صاحب جب حساس علاقوں سے جہازوں کے حساس پرزے چوری ہونے لگیں‌ توپھرملک کااللہ ہی حافظ ہے:جہازوں کے مالکان ، ماہرین اور فضائی عملے نے چیف جسٹس آف پاکستان سے اس اہم مسئلے پرتحقیقات کا مطالبہ کردیا ہے ، ایئرکرافٹ اونرز اینڈ آپریٹرز ایسوسی ایشن نے چیف جسٹس آف پاکستان سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایئرپورٹ جوکہ ہماری سیکورٹی اورسلامتی کے حوالے سے بہت زیادہ اہمیت رکھتے ہیں جہاں فوجی اورسویلین جہازوں کوبطور امانت روکا جاتا ہےاگریہاں یہ قومی تنصیبات اور یہاں موجود ہوائی جہاز ہی محفوظ نہیں تو باقی کیا بچے گا

     

    ایئرکرافٹ اونرز اینڈ آپریٹرز ایسوسی ایشن نے چیف جسٹس آف پاکستان اور دیگرسیکورٹی اداروں کے سربراہان سے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ کس قدر چوری ،کرپشن اور سینہ زوری بڑھ گئی ہے کہ سی اے اے کی تحویل میں جہازوں کے پرزے اگرچوری ہونے لگے ہیں تو یہ واقعی ایک لمحہ فکریہ ہے،جس کی فکراس ملک کے ذمہ داران کو کرنی چاہیے ، آج اگرجہازوں کے قیمتی اور حساس پرزے چوری ہونے لگے ہیں تو کل کو تو کوئی بڑا حادثہ ہوسکتا ہے ، پاکستان سول ایوی ایشن جیسے ادارے کی کریڈبلٹی ہی مشکوک ہوگئی جس نے حفاظت کرنی تھی وہ ہی اس باغ کو اجاڑنے لگے ہیں‌،

     

    پاکستان ایئر کرافٹ اونرز اینڈ آپریٹرز ایسوسی ایشن نے اس قومی نقصان پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جہازوں کے پرزے چوری ہونے کے حوالے سے پاکستان کے مستند میڈیا ذرائع بھی دعویٰ کرچکے ہیں کہ سی اے اے کے ملازمین خود ہی اس باغ کو اجاڑ رہے ہیں تو وہ کیسے یہ گناہ اور غلطی تسلیم کریں گے ،ایسویسی ایشن نے دکھ کا اظہارکرتے ہوئے کہا ہے کہ کراچی میں ایرپورٹ ایریا سے کے کے ایوی ایشن کے جہازوں سے پرزے چوری ہونا سی اے اے کی نا اہلی ہے،

    ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کراچی ایئرپورٹ کے حساس علاقے سے جہازوں کے قیمتی اور حساس پورزے چوری ہونے کے واقعات کی سخت مذمت کرتے ہیں، پاکستان ایئر کرافٹ اونرز اینڈ آپریٹرز ایسوسی ایشن کا کے کے ایوی ایشن کے جہازوں کے پرزے چوری ہونے پر ذمہ داروں کے خلاف ایف آئی آر درج کرائیں گے ،اگرآج اس ملک کے قیمتی اداروں کو تباہ کرنے والوں کا راستہ نہ روکا گیا تو کل کو یہ سب کچھ تباہ کردیں گے

    پاکستان ایئر کرافٹ اونرز اینڈ آپریٹرز ایسوسی ایشن کے ماہرین ، فضائی عملے کے اراکین کا کہنا ہے کہ کے کے ایوی ایشن کے جہازوں کے پرزے چوری ہونے کا معاملہ افسوسناک عمل ہے، کے کے ایوی ایشن نے سیکڑوں پائلٹس اور انجینئرز کو تربیت دی، ایوی ایشن صنعت میں کے کے ایوی ایشن کا الگ مقام تھا، جسے سی اے اے جان بوجھ کر تباہ کردیا، کراچی ایرپورٹ کے جنرل ایوی ایشن کے تمام ایریا کی سیکورٹی سی اے اے کے ذمہ داری ہے، سی اے اے کے سیکورٹی کمپنی کے گارڈز 24 گھٹنے تعینات ہوتے ہیں،

    پاکستان ایئرکرافٹ اونرز اینڈ آپریٹرز ایسوسی ایشن نے افسوس کااظہارکرتے ہوئے کہا ہے کہ جہازوں کے پرزے اور دیگر سامان چوری ہونا سی اے اے کی سیکورٹی پر سوالیہ نشان ہے، سی اے اے حکام نے غلط بلنگ کرکے کے کے ایوی ایشن کو بند کیا، اسکی ذمہ دار سی اے اے ہے، سی اے اے کا ملک میں ایوی ایشن کمپنیوں کو بند کرنے کا طریقہ واردات پرانا ہے، ماضی میں بھی اسی طرح کے غلط چارجر لگا کر کئی ایوی ایشن کمپنیز کو بند کیا جاچکا،سیل کی گئی ایوی ایشن کمپنی کے جہازوں کی سیکورٹی اور حفاظت کا ذمہ دار سی اے اے ہے،کے کے ایوی ایشن کے جہازوں کے پرزے چوری ہونے کی زمہ داری سی اے اے سیکورٹی ہے،کے کے ایوی ایشن سے جہازوں کے پرزے چوری ہونا سیکورٹی کے ناقص انتظامات کا واضح ثبوت ہے،

    پاکستان ایئرکرافٹ اونرز اینڈ آپریٹرز ایسوسی ایشن کے ماہرین ، فضائے عملے کے اراکین نے چیف جسٹس آف پاکستان کواس معاملے کی حساسیت کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیکورٹی کے ناقص انتظامات سے ایرپورٹ ایریا میں بڑا واقعہ رونما ہوسکا یے،ایسوسی ایشن سی اے اے کے خلاف قانونی چارہ جوئی مین کے کے ایوی ایشن کی مکمل طور مالی معاونت کرے کرے گی،پاکستان ایئرکرافٹ اونرز اینڈ آپریٹرز ایسوسی معاملے پر تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ رابطے میں ہے، ایسوسی ایشن کی قانونی ٹیم اس معاملے کو دیکھ رہی ہے،

    پاکستان ایئرکرافٹ اونرز اینڈ آپریٹرز ایسوسی ایشن نے قومی چوری اور نقصان کےسدباب کے حوالے سے کہا ہے کہ وفاقی حکومت اور چیف جسٹس سے فوری نوٹس لینے کی اپیل کرتے ہیں، سی اے اے کے کے ایوی ایشن کمپنی کے چوری ہونے والے پرزوں اور دیگر اثاثوں کو ہونے والے نقصان کا ازالہ کرے، سی اے اے پر ذمہ داری عاید ہوتی ہے، دنیا بھر میں ریگولیٹر کی زمہ داری ایوی ایشن صنعت کو فروغ دینا ہے،لیکن پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی ملک میں ایوی ایشن کے صنعت کو تباہ کر رہی ہے،پاکستان سی اے اے کرپشن، بد انتظامی اور نااہلی کے طور جانا جاتا ہے،

    پاکستان ایئر کرافٹ اونرز اینڈ آپریٹرز ایسوسی ایشن نے اداروں کی ناقص کارکردگی کی مثال پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہی وجہ ہے پاکستان سی اے اے کئی آفیشلز اینٹی کرپشن کورٹس میں مقدمات کا سامنا کررہے ہیں،چند برسوں میں سی اے اے نے ملک کی 20 ایوی ایشن کمپنیز کو تباہ کرکے بند کردیا، پاکستان سی اے اے کی وجہ ملکی ایوی ایشن انڈسٹری تاریکی میں ڈوب چکی ہے،

     

    یہ بھی یاد رہے کہ اس اسکینڈل کے منظرعام پرآنے کے بعد سول ایوی ایشن کی طرف سے چوری کی وارداتوں کی تردید کی گئی ہے لیکن اس بات کی وضاحت نہیں کی گئی کہ وہ جو سامان غائب ہوا ہے کیوں ہوا، کس نے کیا اور کیوں کیا، یہ بھی اطلاعات ہیں کہ سول ایوی ایشن کا عملہ اس بڑی واردات سے بچنے کے لیے اب کئی دلائل اورتاویلیں پیش کرکے جان چھڑانے کی کوشش کرے گا

  • کوئٹہ میں فائرنگ، بلوچستان یونیورسٹی کا پروفیسر جاں بحق

    کوئٹہ میں فائرنگ، بلوچستان یونیورسٹی کا پروفیسر جاں بحق

    کوئٹہ:بلوچستان یونیورسٹی کا پروفیسر جاں بحق ،اطلاعات کے مطابق کوئٹہ کے علاقے نواں کلی میں نامعلوم موٹر سائیکل سواروں کی فائرنگ سے بلوچستان یونیورسٹی کا پروفیسر جاں بحق ہوگیا۔

    پولیس حکام کے مطابق نواں کلی پہلا اسٹاپ پر نامعلوم موٹرسائیکل سوار مسلح افراد کی فائرنگ سے ایک شخص جاں بحق ہوگیا جس کی شناخت علی محمد کے نام سے ہوئی، مقتول جامعہ بوچستان میں پروفیسر تھے۔

    فائرنگ کے واقعے کے بعد پولیس نے موقع پر پہنچ کر لاش ضروری کارروائی کیلئے سول اسپتال منتقل کردی۔ابتدائی تحقیقات کے مطابق جاں بحق شخص کے جسم پر گولیوں کے 9 نشانات موجود ہیں۔

    پولیس نے جائے وقوعہ سے شواہد اکھٹے کر لئے گئے ہیں، واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔

    اپ ڈیٹ جاری ہے

  • سعودی حکومت نے پاکستان  کے حج کوٹے کا اعلان کردیا

    سعودی حکومت نے پاکستان کے حج کوٹے کا اعلان کردیا

    ریاض: سعودی حکومت نے پاکستان کے حج کوٹے کا اعلان کردیا اطلاعات کے مطابق سعودی حکومت نے 2022 کے لیے پاکستان سمیت دیگر ممالک کے حج کوٹے کا اعلان کردیا۔

    میڈیا رپورٹ کے مطابق کورونا کی عالمی وبا کے خاتمے کے بعد سعودی حکومت نے سب سے زیادہ کوٹہ انڈونیشیا اور پاکستان کے لیے جاری کیا ہے، جس کے تحت رواں سال دونوں ممالک سے علیحدہ علیحدہ 81 ہزار 132 عازمین فریضہ مقدسہ کی ادائیگی کے لیے جائیں گے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب نے رواں سال 10 لاکھ عازمینِ حج کی میزبانی کررہا ہے، جس میں ملکی اور غیر ملکی حج کی سعادت حاصل کریں گے۔

    سعودی حکومت نے 2 سالہ کرونا پابندیوں کے بعد سال 2022 میں عازمین حج کے کوٹے میں اضافہ کر دیا ہے۔ حکومت نے تمام مسلمان ممالک کے حج درخواستوں کا کوٹہ جا ری کیا ہے جس میں بنگلہ دیش کا حج کوٹہ 57 ہزار 585، نائجیریا کا 43 ہزار 8، افغانستان کا 13ہزار 582 اور ترکی کا 37 ہزار 770 ہے۔

    اسی طرح برطانیہ 12 ہزار 348، امریکا 9 ہزار 504 اور فرانس کو 9 ہزار 268 افراد کا کوٹہ الاٹ کیا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ سعودی عرب ہر ملک کو مسلمانوں کی آبادی کی بنیاد پر حج کوٹہ مختص کرتا ہے جبکہ رواں سال سعودی حکومت کے قوانین کے مطابق 65 سال سے زائد عمر کے افراد حج ادا نہیں کرسکیں گے۔

    یاد رہے کہ حج کمیٹی آف پاکستان اس کوٹے کو مختلف صوبوں میں تقسیم کرتی ہے جس کا کچھ حصہ پرائیویٹ ٹور آپریٹرز کے لیے بھی محفوظ رکھا جاتا ہے۔

    زبانی نکاح،پھر حق زوجیت ادا،پھر شادی سے انکار،خاتون پولیس اہلکار بھی ہوئی زیادتی کا شکار

    10 سالہ بچے کے ساتھ مسجد کے حجرے میں برہنہ حالت میں امام مسجد گرفتار

    بنی گالہ کے کتوں سے کھیلنے والی "فرح”رات کے اندھیرے میں برقع پہن کر ہوئی فرار

    ڈیجیٹل میڈیا ونگ ختم،ملک میں جاری انتشار اب بند ہونا چاہیے،وفاقی وزیر اطلاعات

    پارلیمنٹ لاجز میں صفائی کرنے والے لڑکے کو مؤذن بنا دیا گیا تھا،شگفتہ جمانی