Baaghi TV

Tag: تازہ

  • بعض پالیسیوں پر اختلافات کے باوجود پیپلز پارٹی وفاقی حکومت کےساتھ ہے،بلاول بھٹو

    بعض پالیسیوں پر اختلافات کے باوجود پیپلز پارٹی وفاقی حکومت کےساتھ ہے،بلاول بھٹو

    چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ،بعض پالیسیوں پر اختلافات کے باوجود پیپلز پارٹی وفاقی حکومت کےساتھ ہے۔

    نوڈیرو میں صاف ستھرا لاڑکانہ و روزگار اسکیم پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ 20 لاکھ گھروں پر مشتمل پیپلز ہاؤسنگ اسکیم دنیا کا سب سے بڑا منصوبہ ہے، نوڈیرواور رتوڈیرو میں خواتین کو گھروں کے مالکانہ حقوق دیے ہیں، ان گھروں کے بنانےکیلئے ایک لاکھ تک روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوئے، چاہتا ہوں یہ منصوبہ ایک دو سال تک مکمل ہو جائے۔

    بلاول بھٹو نے کہا کہ ماضی میں سندھ کیساتھ سوتیلی ماں کا سلوک کیا گیا، بعض پالیسیوں پر اختلافات کے باوجود پیپلز پارٹی وفاقی حکومت کےساتھ ہے،بلدیاتی نمائندوں کے درمیان کارکردگی کی بنیاد پر حوصلہ افزا مقابلے ہونے چاہئیں، وزیراعلیٰ اچھی کارکردگی کے حامل بلدیاتی نمائندوں کو مزید فائدہ مند سہولیات فراہم کریں۔

    قبل،ازیں،پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اور پیپلز پارٹی وومن ونگ سندھ کی صدر فریال تالپور کے ہمراہ گوٹھ راہوجا کا دورہ کیا بلاول بھٹو نے نو تعمیر شدہ مکانوں کا دورہ بھی کیا اور سیلاب زدگان کے گھروں کی تعمیر مکمل ہونے کے بعد گوٹھ کی خواتین میں مالکانہ حقوق کی سندیں تقسیم کیں۔ دورے کے موقع پر کمسن طالبعلم سے دلچسپ مکالمہ ہوا۔

    بلاول بھٹو نے طالبعلم حمزہ علی سے سوال کیا کہ آپ بڑے ہوکر کیا بننا چاہتے ہیں، جس پر بچے نے جواب دیا میں بڑے ہوکر پائلٹ بننا چاہتا ہوں۔بلاول بھٹو نے کہا شاباش آپ پائلٹ بن کربھارتی جہاز گرانا دورے کے موقع پر سندھ رورل سپورٹ آرگنائزیشن (سرسو)کے حکام نے بلاول بھٹو زرداری کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ایک لاکھ بیس ہزار مکانات میں سے نوے ہزار مکانات کی تعمیر مکمل ہو چکی ہے جبکہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت مستحقین میں سولر پلیٹیں، پنکھے، انورٹر اور دیگر اشیأ کی تقسیم بھی جاری ہے۔

  • دہلی ہائی کورٹ نے مودی کی تعلیمی  اسناد  عوامی طور پر ظاہر کرنے کا حکمنامہ منسوخ کر دیا

    دہلی ہائی کورٹ نے مودی کی تعلیمی اسناد عوامی طور پر ظاہر کرنے کا حکمنامہ منسوخ کر دیا

    نئی دہلی ہائی کورٹ نے وفاقی انفارمیشن کمیشن (سی آئی سی) کی جانب سے 2016 میں رائٹ ٹو انفارمیشن (آر ٹی آئی) کارکن کو وزیر اعظم نریندر مودی کے گریجویشن (بی اے) کا ریکارڈ دیکھنے کی اجازت دینے کا حکم نامہ منسوخ کر دیا۔

    بھارتی اخبار ’دی ہندو‘ کے مطابق،نئی دہلی ہائی کورٹ نے فیصلہ سنایا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی تعلیمی اسناد عوامی طور پر ظاہر نہیں کی جاسکتیں،ساتھ،ہی،عدالت نے وہ حکم بھی کالعدم قرار دے دیا ہے، جس کے تحت آر ٹی آئی کارکن کو دہلی یونیورسٹی کے 1978 کے بی اے کے ریکارڈ دیکھنے کی اجازت ملنی تھی، یہ وہی سال ہے، جب نریندر مودی نے گریجویشن کیا تھا۔

    175 صفحات پر مشتمل مشترکہ فیصلے میں جسٹس سچن،دتہ نے یہ قرار دیا کہ سی آئی سی کا سی بی ایس ای کو بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی لیڈر سمرتی ایرانی کی دسویں اور بارہویں جماعت کے ریکارڈ فراہم کرنے کی ہدایت درست نہیں، اور درخواست کے مطابق مطلوبہ معلومات کے بارے میں کوئی پوشیدہ عوامی مفاد نہیں ہے، ہر وہ چیز جو عوامی دلچسپی کا باعث ہو، وہ ’عوامی مفاد‘ کے مترادف نہیں ہے، اور 21 دسمبر 2016 کے سی آئی سی کے حکم کو کالعدم قرار دے دیا،عدالت نے کہا کہ مودی نے اپنی تعلیمی قابلیت کے بارے میں مختلف بیانات دیے، لیکن یہ حیران کن ہے کہ اگر انہوں نے گریجویٹ ہونے کا دعویٰ کیا تو عوامی تجسس کی خاطر اس کی تصدیق کیوں کی جائے؟۔

    آسٹریلیا کا ایران پر یہودی مخالف حملوں میں ملوث ہونے کا الزام، ایرانی سفیر کی ملک بدری کا حکم

    آر ٹی آئی کارکن نیرج کی درخواست پر سی آئی سی نے دہلی یونیورسٹی کو حکم دیا تھا کہ 1978 کے بی اے امتحان کے رجسٹر کا معائنہ کرایا جائے، جس میں تمام طلبہ کے رول نمبر، نام، والد کا نام اور نمبر درج ہوں، اور متعلقہ صفحات کی مصدقہ نقول فراہم کی جائیں۔

    سی آئی سی کے حکم کو دہلی یونیورسٹی نے عدالت میں چیلنج کیا، اور عدالت نے پہلی ہی سماعت (24 جنوری 2017) میں اس حکم پر عمل درآمد روک دیا،یونیورسٹی نے کہا کہ وہ 1978 میں بی اے کے امتحان دینے والے تمام طلبہ کی ذاتی معلومات ظاہر نہیں کر سکتی، کیوں کہ یہ معلومات ’رازداری‘ میں رکھی گئی ہیں، اور آر ٹی آئی ایکٹ کے تحت ان کا انکشاف مستثنیٰ ہے، سی آئی سی کا حکم تمام یونیورسٹیوں کے لیے دور رس منفی نتائج کا باعث بن سکتا ہے، جن کے پاس کروڑوں طلبہ کے ڈگری ریکارڈ محفوظ ہیں۔

    جسٹس دتہ نے یونیورسٹی کے مؤقف سے اتفاق کیا اور کہا کہ عدالت اس حقیقت سے آنکھیں بند نہیں کر سکتی کہ جو چیز بظاہر ایک بے ضرر یا الگ تھلگ انکشاف لگے، وہ اندھا دھند مطالبات کے دروازے کھول سکتا ہے، جو کسی حقیقی عوامی مفاد کے بجائے غیر سنجیدہ تجسس یا سنسنی پھیلانے کے جذبے پر مبنی ہوں،یہ حقیقت کہ معلومات کسی عوامی شخصیت سے متعلق ہیں، اس بات کو ختم نہیں کرتی کہ ذاتی معلومات پر نجی حیثیت یا رازداری کا حق قائم ہے، خاص طور پر جب یہ عوامی ذمہ داریوں سے متعلق نہ ہوں،یہ ڈیٹا، جو کسی طالب علم کی تعلیمی زندگی کے مختلف پہلوؤں سے متعلق ہے، یونیورسٹی اعتماد اور بھروسے کے ساتھ رکھتی ہے، اور طلبہ کو یہ جائز توقع ہوتی ہے کہ ان کے ریکارڈ کی رازداری قائم رکھی جائے گی۔

    ڈیرہ غازی خان: ممکنہ سیلاب، ضلعی انتظامیہ نے این جی اوز سے تعاون طلب کر لیا

    دہلی یونیورسٹی کی نمائندگی کرنے والے سولیسیٹر جنرل تشار مہتا نے کہا کہ آر ٹی آئی کا مقصد کسی تیسرے فریق کی تجسس کی تسکین نہیں ہے، آر ٹی آئی ایکٹ کی دفعہ 6 اس بات کی ضمانت دیتی ہے کہ معلومات فراہم کی جائیں گی، یہی اس کا مقصد ہے، لیکن آر ٹی آئی کسی کا تجسس مٹانے کے لیے نہیں ہے۔

    سی آئی سی نے اپنے حکم میں دہلی یونیورسٹی کو معائنہ کرانے کو کہا تھا اور اس دلیل کو مسترد کر دیا تھا کہ یہ کسی تیسرے فریق کی ذاتی معلومات ہیں، اور کہا کہ اس دلیل میں ’کوئی وزن ہے نہ ہی کوئی قانونی حیثیت۔

    نارنگ منڈی میں مہنگائی کا طوفان، انتظامیہ کی طوطاچشمی

  • سپریم کورٹ نے بہن کے وراثتی حصہ کے خلاف بھائی کی درخواست خارج کر دی

    سپریم کورٹ نے بہن کے وراثتی حصہ کے خلاف بھائی کی درخواست خارج کر دی

    سپریم کورٹ نے بہن کے وراثتی حصہ کے خلاف بھائی کی درخواست خارج کر دی۔

    سپریم کورٹ میں جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے درخواست کی سماعت کی،جسٹس نعیم اختر افغان نے ریمارکس دیے کہ بھائی نے بہنوں سے خدمت کروانی ہے جائیداد میں حصہ نہیں دینا،بہنیں کھانا بنا کر دیتی ہیں گھر کی صفائی کرتی ہیں،جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ قرآن میں بہن کا حصہ لکھ دیا گیا ہے،قرآن کے حکم سے کیسے انکاری ہو سکتے ہیں، جائیداد کی تقسیم نامہ پر بہن کے دستخط نہیں ہیں۔

    بھائی شہاب کے وکیل نے کہاکہ بہن مریم کو حصہ دیا ہے وہ کہتی ہے حصہ کم ملا ہے، عدالت نے بہن کے حصے کے خلاف بھائی کی اپیل خارج کردی،کیس کی سماعت جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کی۔

    کوئٹہ اور پشاور کے درمیان ٹرین سروس دو روز کے لیے معطل

    محسن نقوی کا پاکستان ریلویز ہیڈ کوارٹرز کا دورہ

    محسن نقوی کا پاکستان ریلویز ہیڈ کوارٹرز کا دورہ

  • یوکرینی ڈرون حملہ:روسی جوہری بجلی گھر میں آگ بھڑک اُٹھی

    یوکرینی ڈرون حملہ:روسی جوہری بجلی گھر میں آگ بھڑک اُٹھی

    روس کے مغربی علاقے میں واقع کرسک جوہری بجلی گھر میں اس وقت آگ بھڑک اُٹھی جب روسی فوج نے اتوار کو ایک یوکرینی ڈرون مار گرایا-

    پلانٹ انتظامیہ کے مطابق ڈرون گرنے کے بعد دھماکہ ہوا جس سے آگ لگی لیکن عملے نے بروقت کارروائی کرکے شعلوں کو بجھا دیا،کرسک نیوکلیئر پاور پلانٹ اور ارد گرد کے علاقے میں تابکاری کی سطح معمول کے مطابق ہے اور کسی قسم کا خطرہ نہیں ہے،ڈرون حملے کے نتیجے میں پلانٹ کی پیداواری صلاحیت جزوی طور پر کم ہوئی تاہم صورتحال قابو میں ہے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی نے بارہا خبردار کیا ہے کہ جنگ زدہ علاقوں میں جوہری تنصیبات کے قریب لڑائی شدید خطرات کو جنم دے سکتی ہے۔

    کرسک کا یہ پلانٹ روس-یوکرین سرحد کے قریب واقع ہے اور شہر کی آبادی لگ بھگ 4 لاکھ 40 ہزار ہے،روس فروری 2022 میں یوکرین پر حملے کے بعد اب تک ملک کے تقریباً پانچویں حصے پر قابض ہے، جن میں 2014 میں ضم کیا گیا کرائمیا بھی شامل ہے، جبکہ جنگ کے نتیجے میں لاکھوں افراد بے گھر، ہزاروں ہلاک اور کئی شہر و دیہات تباہ ہو چکے ہیں۔

    پی آئی اے کی نجکاری لاہور ہائیکورٹ میں بھی چیلنج

    وزیراعظم نے غذر کے چرواہوں کو مدعو کرلیا

    پاکستانی کوہ پیماوں نے ہندوکش کی بلند ترین چوٹی سر کر لی

  • پاکستانی کوہ پیماوں  نے ہندوکش کی بلند ترین چوٹی  سر کر لی

    پاکستانی کوہ پیماوں نے ہندوکش کی بلند ترین چوٹی سر کر لی

    دو پاکستانی کوہ پیماؤں نے چترال میں واقع سلسلہ ہندوکش کی بلند ترین چوٹی تریچ میر سر کر لی ہے۔

    محکمہ سیاحت کے مطابق گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے کوہ پیماؤں سرباز خان اور عابد بیگ نے تریچ میر چوٹی سر کی ، ٹیم میں دیگر 5 کوہ پیما سخت موسمی صورتحال کے باعث 7 ہزار 300 میٹر تک ہی پہنچ سکے،ملکی اور مقامی کوہ پیماؤں پر مشتمل ٹیم تریچ میر بھیجنے کا فیصلہ خیبر پختونخوا کلچر اینڈ ٹورزم اتھارٹی نے کیا تھا، اس مہم کو ’ تریچمیر ایکسپیڈیشن 2025‘ کا نام دیا گیا۔

    واضح رہےکہ7 ہزار 708 میٹر بلند تریچ میر کی چوٹی کو پہلی بار 1950 میں ناروے کی ٹیم نے کامیابی کے ساتھ سر کیا تھا۔

  • سعید غنی کے بھائی فرحان غنی سمیت متعدد افراد کے خلاف مقدمہ درج

    سعید غنی کے بھائی فرحان غنی سمیت متعدد افراد کے خلاف مقدمہ درج

    وزیربلدیات سندھ سعید غنی کے بھائی اور چیئرمین چنیسر ٹاؤن فرحان غنی اور دیگر ملزمان کے خلاف پولیس نے انسداد دہشت گردی اور دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج کرلیا۔

    مدعی مقدمہ حافظ سہیل احمد نے تھانہ فیروز آباد میں درخواست دی کہ وہ سرکاری ملازم ہے، اور 22 اگست کو شارع فیصل پر فائبر کیبل بچھانے کے کام کی نگرانی کررہا تھا کہ 3 گاڑیوں میں 20 سے 25 افراد آئے اور اس پر تشدد کیا، جان سے مارنے کی بھی دھمکیاں دیں۔

    یف آئی آر میں اقدام قتل، جان سے مارنے کی دھمکی اور دیگر دفعات شامل کی گئی ہیں، اور کہا گیا ہے کہ تشدد کرنے والوں کے نام فرحان غنی، قمرالدین، شکیل چانڈیو، سکندر اور روحان معلوم ہوئے ہیں، تشدد کرنے والے دیگر افراد کو سامنے آنے پر شناخت کرسکتا ہوں،بعد ازاں فرحان غنی اور دیگر ساتھیوں نے تھانہ فیروز آباد پہنچ کر خود کو پولیس کے حوالے کر دیا۔

    صوبائی وزیر بلدیات سعید غنی نے ’ایکس‘ پر ایک پیغام میں کہا کہ میرے بھائی فرحان غنی (ٹاؤن چیئرمین) اور کچھ ساتھیوں کا گزشتہ روز کسی سہیل نامی شخص سے جھگڑا ہوا تھا اور آج اس نے مقدمہ درج کروایا ہے، جو اس کا قانونی حق تھا فرحان غنی سمیت تمام افراد خود گرفتاری پیش کرکے قانون کا سامنا کرتے ہوئے عدالت میں اپنی بے گناہی ثابت کریں گے۔

    https://x.com/SaeedGhani1/status/1959363847531192454

  • مختلف شہروں میں موسلادھار بارش ، ندی ، نالوں میں طغیانی ، نشیبی علاقے زیر آب

    مختلف شہروں میں موسلادھار بارش ، ندی ، نالوں میں طغیانی ، نشیبی علاقے زیر آب

    مختلف شہروں میں موسلا دھار بارش کے نتیجے میں نشیبی علاقے زیر آب آ گئے۔

    اسلام آباد اور راولپنڈی میں موسلا دھار بارش کے بعد ندی نالوں میں طغیانی آ گئی، شدید بارش سے اسلام آباد کا علاقہ بہارہ کہو اٹھال چوک پانی میں ڈوب گیا، بارش کا پانی گھروں اور دکانوں میں داخل ہو گیااسلام آباد میں موسلادھار بارش کے بعد راول ڈیم کے اسپل وے کھول دیئے گئے، شدید بارش کے باعث مارگلہ ہلز پر ٹریل 2-3-4 اور 5 کو آج بند رکھنے کا اعلان کیا گیا ہےعلاوہ ازیں خیبر پختونخوا اور پنجاب موسلادھار بارش سے نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہو گیا ، چھتیں گرنے اور دیگر واقعات میں کئی افراد جاں بحق ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔

    دوسری جانب نیشنل ڈیزاسٹرمینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے مطابق بارشوں کے سسٹمز کی موجودگی سے پنجاب، خیبر پختونخوا، بلوچستان اور کشمیر میں تیز بارشوں، آندھی اورژالہ باری کا امکان ہےاین ڈی ایم اے نے نشیبی علاقوں میں پانی بھرنے اور ندی نالوں میں طغیانی کے خدشے کے پیش نظرمتعلقہ اداروں کو الرٹ کر دیا ہے۔

    پنجاب میں شدید بارشیں اور سیلاب کی وجہ سے تربیلاڈیم 99 فیصد تک بھر گیافلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن لاہور کے مطابق تربیلاڈیم میں پانی کا لیول1549.20 فٹ ریکارڈ کیا ہے جو 99 فیصد جبکہ منگلاڈیم میں پانی کا لیول 1219.40 فٹ ہونے کے بعد 76فیصد تک بھر گیا ہےاسی طرح راول ڈیم کا لیول 1751.70 فٹ، خانپور ڈیم 1979 فٹ، سملی ڈیم کا لیول 2313.90 فٹ ہے۔

    ادھر دریائے سندھ میں گڈو بیراج پر اونچے درجے کا سیلاب ہے جہاں پانی کی آمد 5 لاکھ 43 ہزار 184 اور اخراج 5 لاکھ 7 ہزار853 کیوسک ریکارڈ کی گئی ہے، دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا کے مقام پر اونچے درجے اور ہیڈ سلیمانکی پر درمیانے درجے کا سیلاب ہے جبکہ تربیلا کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب ہے۔

    اس کے علاوہ دریائے راوی کے اہم مقامات پربہاؤ معمول کے مطابق ہے، دریائے راوی کے ملحقہ نالہ بسنتر میں بہاؤ میں کمی کے ساتھ نچلے درجے کا سیلاب ہے، دریائے جہلم، چناب، کابل اور ناری کے اہم مقامات پر بہاؤ معمول کے مطابق ہےڈی جی خان ریجن کے پہاڑی برساتی نالے سنگھڑ، وہواء اور کوڑا میں بھی بہاؤ معمول کے مطابق ہے جبکہ راجن پور ریجن کے پہاڑی برساتی نالوں میں کوئی بہاؤ نہیں ہے۔

    دوسری جانب بھارت کی جانب سے پانی چھوڑنے کے بعد دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب ہے جس کے باعث مزید کئی نشیبی علاقے ڈوب گئے اور ہزاروں ایکڑ پرکھڑی فصلیں تباہ ہوگئیں۔

    ڈیرہ اسماعیل خان میں طوفان سے تباہی کے نتیجے میں اب تک 8 افراد جاں بحق اور 47 زخمی ہوگئے جبکہ تیز ہواؤں، آندھی اور بارش کے باعث متعدد دیواریں اور چھتیں گر گئیں، طوفان کی رفتار 100 کلومیٹر فی گھنٹہ تک ریکارڈ کی گئی۔

    ڈپٹی کمشنر ڈیرہ اسماعیل خان عبدالناصر خان نے ضلع میں طوفان سے ہونے والے نقصانات اور جانی نقصان کے سرکاری اعداد و شمار جاری کر دیے،رپورٹ کے مطابق طوفان کے نتیجے میں 8 افراد جاں بحق ہوئے، جن میں سے 5 تحصیل ڈیرہ اسماعیل خان اور 3 تحصیل پہاڑپور سے ہیں جبکہ 47 زخمیوں میں سے 41 کا علاج ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر اسپتال اور 6 کا میاں محمد ٹیچنگ اسپتال میں جاری ہے۔

    زخمیوں میں 3 افراد کی حالت تشویشناک ہے، جو ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر اسپتال میں زیر علاج ہیں جبکہ 18 زخمیوں کو مشاہدے کے لیے مختلف اسپتالوں میں داخل کیا گیا ہے، حادثات میں معمولی زخمی ہونے والے 26 افراد کو اسپتال سے ڈسچارج کر دیا گیا۔ اب تک تحصیل کلاچی، درازندہ، پاروہ اور درابن سے کوئی ہلاکت یا زخمی کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

    ڈپٹی کمشنر ڈیرہ اسماعیل خان عبدالناصر خان، ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) ڈیرہ اور اسسٹنٹ کمشنر سید ارسلان نے دیر رات تک اسپتالوں کا دورہ کیا اور ریسکیو آپریشنز کی نگرانی کے ساتھ ساتھ زخمیوں کی عیادت کی۔ انہوں نے متاثرین کے لیے فوری طبی امداد اور سہولیات کو یقینی بنانے کے لیے اسپتال انتظامیہ کے ساتھ مل کر کام کیا۔

    ضلعی انتظامیہ صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں ریسکیو آپریشنز کو مزید تیز کر دیا گیا ہے، اور زخمیوں کو بروقت طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ عوام سے گزارش کی گئی ہے کہ وہ احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں متعلقہ حکام سے فوری رابطہ کریں ۔

    طوفان کے باعث درخت جڑوں سے اکھڑ کر سڑکوں پر گر گئے، جس سے ٹریفک متاثر ہوگئی جبکہ گھروں اور عمارتوں پر نصب سولر پینلز بھی ٹوٹ کر گر گئے۔ شدید ہواؤں کے باعث بجلی کی فراہمی متاثر ہونے سے ضلع تاریکی میں ڈوب گیا۔

    وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے مختلف حادثات میں آٹھ افراد کے جاں بحق ہونے پر دلی رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے جاں بحق افراد کے لواحقین سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا۔

    انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ متاثرہ خاندانوں کو فوری ریلیف اور امداد کی فراہمی کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں، ان حادثات کے زخمیوں کو بہترین طبی امداد کی فراہمی یقینی بنائی جائے متاثرین کے نقصانات کے ازالے اور ان کی بحالی کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں، صوبائی حکومت متاثرہ خاندانوں کو تنہا نہیں چھوڑے گی اور ان کی بھر پور معاونت کرے گی، مصیبت کی اس گھڑی میں متاثرہ خاندانوں کے دکھ درد میں برابر کے شریک ہیں، متاثرین کی امداد کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔

    خیبر پختونخوا میں ہونے والی بارشوں اور فلش فلڈ کے باعث مختلف حادثات میں اب تک جاں بحق افراد کی تعداد 406 ہوگئی جبکہ 247 افراد زخمی ہیں۔

    پی ڈی ایم اے کی جانب سے 15 اگست سے اب تک ہونے والی بارشوں اور فلش فلڈ کے باعث صوبے کے مختلف اضلاع میں جانی و مالی نقصانات کی رپورٹ جاری کر دی گئی،جاں بحق افراد میں 305 مرد، 55 خواتین اور 46 بچے جبکہ زخمیوں میں 179 مرد، 38 خواتین اور 30 بچے شامل ہیں۔

    بارشوں اور فلش فلڈ کے باعث اب تک کی رپورٹ کے مطابق مجموعی طور پر 3526 گھروں کو نقصان پہنچا، جس میں 2945 گھروں کو جزوی اور 577 گھر مکمل منہدم ہوئےسیلاب سے زیادہ متاثرہ ضلع بونیر میں اب تک مجموعی طور پر جاں حق افراد کی تعداد 337 اور صوابی میں 46 ہوگئی۔ حادثات صوبہ کے مختلف اضلاع سوات، بونیر، باجوڑ، مانسہرہ، شانگلہ، دیر لویر، بٹگرام، ڈی آئی خان اور صوابی میں پیش آئے۔

    متاثرہ اضلاع کی انتظامیہ کو امدادی سرگرمیاں تیز کرنے اور متاثرین کو فوری معاونت فراہم کرنے کی ہدایت کر دی گئی ہے پی ڈی ایم اے اور تمام متعلقہ ادارے آپس میں رابطے میں ہیں اور صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیںپی ڈی ایم اے کا ایمرجنسی آپریشن سینٹر مکمل طور پر فعال ہے عوام کسی بھی نا خوشگوار واقعے کی اطلاع، موسمی صورتحال سے آگائی اور معلومات کے لیے فری ہیلپ لائن 1700 پر رابطہ کریں۔

  • ربیع الاول کا چاند دیکھنے کے لیے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس آج ہوگا

    ربیع الاول کا چاند دیکھنے کے لیے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس آج ہوگا

    ملک میں ربیع الاول 1447 ہجری کا چاند دیکھنے کے لیے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس آج منعقد ہوگا۔

    اجلاس اسلام آباد میں ہوگا اجلاس کی صدارت کمیٹی کے چیئرمین مولانا عبدالخبیر آزاد کریں گے،جبکہ زونل کمیٹیوں کے اجلاس اپنے اپنے مقامات پر بیک وقت ہوں گے محکمہ موسمیات اور سپارکو کے ماہرین بھی اجلاس کو تکنیکی معاونت فراہم کریں گےکمیٹی ملک بھر سے موصول ہونے والی چاند کی شہادتوں کی جانچ کے بعد ربیع الاول کے آغاز کا باضابطہ اعلان کرے گی۔

    پاکستان کے قومی خلائی ادارے اسپیس اینڈ اپر ایٹماسفیئر ریسرچ کمیشن (اسپارکو) کے ترجمان کا کہنا ہے کہ 23 اگست کو دن 11 بجکر 6 منٹ پر نیا چاند پیدا ہونے کی توقع ہے، جبکہ 24 اگست کی شام تک اس کی عمر 32 گھنٹے اور 13 منٹ ہوگی، ملک کے ساحلی خطوں میں سورج غروب ہونے اور چاند ڈوبنے کے درمیانی وقت کا فرق قریباً 45 منٹ کا ہوگا، جس کے باعث 24 اگست کو چاند دیکھنے کے امکانات کافی زیادہ ہیں۔

    سپارکو کے مطابق اگر یہ پیشگوئی درست ثابت ہوئی تو ربیع الاول کا آغاز 25 اگست 2025 کو ہوگا اور 12 ربیع الاول جمعہ، 5 ستمبر کو ہونے کا امکان ہےتاہم سپارکو نے وضاحت کی ہے کہ چاند کی رویت کا حتمی اعلان صرف مرکزی رویت ہلال کمیٹی کرےگی۔

  • خیبرپختونخوا: سیلاب متاثرہ اضلاع میں وبائی امراض پھیلنے لگے

    خیبرپختونخوا: سیلاب متاثرہ اضلاع میں وبائی امراض پھیلنے لگے

    خیبرپختونخوا کے سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں وبائی اور موسمی امراض تیزی سے پھیلنے لگے ہیں۔

    محکمہ صحت کی رپورٹ کے مطابق متاثرہ علاقوں میں پیٹ و آنتوں کی بیماریوں، ہیضہ، ملیریا، ڈینگی، جلدی امراض اور سانس کی بیماریوں کے ہزاروں کیسز رپورٹ ہوئے ہیں،خیبرپختونخوا میں مختلف انفیکشنز کے مزید 5 ہزار 111 نئے کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔

    محکمہ صحت خیبرپختونخوا کے مطابق سیلاب کے بعد اب تک مختلف انفیکشنز کے 12 ہزار 313 کیس رپورٹ ہوئے ہیں، جن میں سانس کی بیماریوں کے کیسز کی تعداد 3 ہزار 668 ہو گئی ہے،گزشتہ 24 گھنٹے میں اسکیبیز کے 381 نئے کیس رپورٹ ہوئے، اسکیبیز کے کیسز کی مجموعی تعداد 1200 ہو گئی ہےپشاور میں مجموعی طور پر آنکھوں کے انفیکشنز سے متاثرہ افراد کی تعداد 1 ہزار 224 ہو گئی ہے، سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں لشمینیا کے بھی 7 کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔

    باجوڑ آپریشن، فتنتہ الخوارج کا ایک اور عوام مخالف پروپیگنڈا بے نقاب

    دستاویز کے مطابق صرف ڈائریا کے 11 اضلاع سے 2 ہزار 506 کیسز رپورٹ ہوئے جن میں دیر لوئر سے سب سے زیادہ 823، سوات سے 591، بونیر سے 319 اور باجوڑ سے 262 کیسز شامل ہیں دیگر اضلاع میں بھی درجنوں کیسز سامنے آئے ہیں رپورٹ کے مطابق متاثرہ علاقوں میں خونی پیچش کے 116 مریض جبکہ ملیریا کے 123 کیسز رپورٹ ہوئے۔

    محکمہ صحت کے مطابق ڈینگی کے بھی 15 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جن میں صوابی میں 8، دیر لوئر میں 6 اور باجوڑ میں ایک کیس شامل ہے متاثرہ علاقوں میں خارش اور دیگر جلدی امراض کے سینکڑوں مریض بھی سامنے آئے ہیں دستاویز کے مطابق تورغر میں 172، دیر لوئر میں 125 اور شانگلہ میں 128 جلدی امراض کے مریض رجسٹرڈ ہوئے۔

    سوشل میڈیا پر ٹرانس جینڈرز کمیونٹی کیخلاف گفتگو ،ماریہ بی سائبر کرائم ایجنسی میں طلب

    سیکریٹری صحت شاہد اللہ کے مطابق سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں محکمہ صحت کی ٹیمیں اور موبائل اسپتال موجود ہیں اور ایک لاکھ 64 ہزار سے زیادہ مریضوں کو طبی امداد فراہم کی جا چکی ہے،سانپ اور کتوں کے کاٹنے کی ویکسین متاثرہ اضلاع میں بھیج دی گئی ہیں جبکہ نفسیاتی امراض میں اضافے کے باعث ماہرینِ نفسیات پر مشتمل ٹیمیں بھی متاثرہ علاقوں میں تعینات ہیں-

  • کالعدم بی ایل اے کے کارندے ڈاکٹر عثمان قاضی کا قریبی ساتھی گرفتار، وکالت کی ڈگری ہولڈر نکلا

    کالعدم بی ایل اے کے کارندے ڈاکٹر عثمان قاضی کا قریبی ساتھی گرفتار، وکالت کی ڈگری ہولڈر نکلا

    کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے فتنہ الہندوستان کے خلاف بڑی کارروائی کرتے ہوئے علیحدگی پسند تنظیم کالعدم (بی ایل اے) کے کارندے ڈاکٹر عثمان قاضی کے قریبی ساتھی میر خان محمد کو گرفتار کرلیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق ملزم میر خان محمد لہری،نے انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی سے وکالت کی ڈگری حاصل کی جس کے بعد وہ بلوچستان میں پراسیکیوٹر انسپکٹر بنے،تاہم دورانِ ملازمت وہ مبینہ طور پر کالعدم تنظیم کے لیے سہولت کاری کرتا رہاابتدائی تفتیش میں میر خان لہڑی کے روابط اور سرگرمیوں کے حوالے سے اہم انکشافات سامنے آئے ہیں، جس کی بنیاد پر مزید متعدد افراد کو بھی حراست میں لے لیا گیا ہے۔

    سی ٹی ڈی نے کہا ہے کہ گرفتار ملزم سے مزید تفتیش جاری ہے اور امکان ہے کہ تنظیم کے نیٹ ورک کے مزید سہولت کاروں کو بھی قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا، سی ٹی ڈی نے ملزم سے تفتیش شروع کردی ہے جس نے ملزم کی درجن سے زائد وارداتوں میں ملوث ہونے کا انکشاف کیا ہے۔

    بل ازیں کوئٹہ کی بیوٹمز یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر عثمان قاضی کو بھی گرفتار کیا گیا تھا، وہ بھی کالعدم تنظیم کے نیٹ ورک کا اہم ترین حصہ تھا۔ اس نے اپنے ویڈیو بیان میں انکشاف کیا ہے کہ وہ کالعدم بی ایل اے سے منسلک رہا اور متعدد دہشتگردانہ کارروائیوں میں سہولت کاری فراہم کرتا رہا ہے۔

    وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے پریس کانفرنس کے آغاز میں دہشتگردوں کے ایک سہولت کار پروفیسر ڈاکٹر عثمان قاضی کا ویڈیو بیان دکھایا جس میں ملزم نے انکشاف کیا کہ وہ تربت کا رہائشی ہے وہیں پلا بڑھا اور ملک کے اچھے اداروں سے تعلیم حاصل کی قائد اعظم یونیورسٹی سے ماسٹر اور پھر ایم فل کیا پشاور یونیورسٹی سے اسکالرشپ کے ساتھ پی ایچ ڈی کی کوئٹہ کی بیوٹمز یونیورسٹی میں ملازمت کر رہا تھا 18 گریڈ کا لیکچرر تھا میری اہلیہ بھی سرکاری ملازم ہیں،جب میں پشاور یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کر رہا تھا تو میں قائد اعظم یونیورسٹی کے وزٹ پر گیا تھا، وہاں 3 دوستوں کے ساتھ ملاقات ہوئی وہ تنظیم کے ساتھ منسلک تھےبعد میں ان میں سے 2 مارے گئے پھر ڈاکٹر ہیبتان عرف کالک نے مجھ سے رابطہ کیا بعد میں مجھے بھی تنظیم میں شامل کیا گیا۔

    پروفیسر ڈاکٹر عثمان قاضی نے انکشاف کیا کہ اس کے بعد میری ملاقات بشیر زیب سے کروائی گئی بشیر زیب سے میرا رابطہ ٹیلی گرام کے ذریعے ہوتا تھا ملزم نے انکشاف کیا کہ وہ دہشگردانہ کاررائیوں کے لیے ٹیلی گرام ایپلی کیشن کا استعمال کرتے تھے تنظیم نے کوئٹہ میں مجھ سے 3 کاموں میں سہولت کاری لی تھی تنظیم میں میرا نام امیرتھا وہ مجھے اسی نام سے جانتے تھے مجھے پہلا کام ایک ریجنل کمانڈر کے علاج اور تیمار داری کا دیا گیا تھا اس کا نام شیر دل تھا وہ ایک لڑائی میں زخمی ہوا تھا میں نے اسے جگہ دی، بعد ازاں وہ صحت یاب ہوکر چلا گیا تھا پھر گزشتہ سال نومبر میں نے رفیق بزنجو کو اپنے ہاں رہنے کو جگہ دی وہ میرے پاس 2 دن رہا اور پھر میں نے اسے کسی اور کے حوالے کیا اس سے اگلے دن وہ یہاں ریلوے اسٹیشن میں ایک خود کش کارروائی میں پھٹ گیا تھا۔

    واضح رہے کہ نومبر 2024 مییں کوئٹہ ریلوے اسٹیشن پر خودکش حملہ ریلوے اسٹیشن پر ہوا تھا، اس میں 32 جانیں ضائع ہوئی تھیں، 50 سے زائد لوگ زخمی ہوئے تھے۔ 10 سویلینز شہید ہوئے تھے، باقی سیکیورٹی فورسز کے جوان تھےملزم نے بتایا کہ حال ہی میں مجھے ایک ٹارگٹ ملا تھا ایک شخص چند دن میرے پاس رہا اس کے بعد میں نے اسے جمیل عرف نجیب کے حوالے کیاتنظیم والے اسے 14 اگست کے کسی ایونٹ میں استعمال کرنے والے تھے۔

    ڈاکٹر عثمان قاضی نے بتایا کہ یہ سارے کام میں نے کیے اس کے علاوہ میں نے ایک پسٹل بھی لیا تھا وہ میں نے ایک خاتون کے حوالے کیا خاتون نے پسٹل آگے تنظیم کے اسکواڈ کو دیا پھر وہ پسٹل سیکورٹی اہلکاروں اور سرکاری ملازمین کو ٹارگٹ کرنے میں استعمال ہوا تھا ملزم نے اعتراف کیا کہ یہ سارے کام میں نے کیے، تنظیم کے ساتھ منسلک رہا ہوں میں نے سہولت کاری کی ہے۔

    ملزم نے اعتراف کیا کہ ریاست نے مجھے سب کچھ دیا عزت اور وقار دیا مجھے بھی نوکری دی اور میری اہلیہ کو بھی نوکری دی اس کے باوجود میں نے قانون کی خلاف ورزی کی اور ریاست کے ساتھ غداری کی ہے میں اس پر تہہ دل سے شرمندہ ہوں مجھے اس پر افسوس ہے میرے اس ویڈیو بیان کو ریکارڈ کرانے کا مقصد نوجوان نسل سے کہنا ہے کہ وہ اس طرح کی انتشار پھیلانے والی تنظیموں سے دور رہیں۔