Baaghi TV

Tag: تاز ترین

  • پاکستانی حکام پر براہمی بارے سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ سے منسوب ٹوئیٹ فیک نکلی

    پاکستانی حکام پر براہمی بارے سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ سے منسوب ٹوئیٹ فیک نکلی

    پاکستان کو بدنام کرنے کی ایک اور کوشش سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ انتونیو گوتریس سے منسوب فیک ٹوئیٹ وائرل کردی گئی ہے.

    حالیہ دنوں ایک فیک ٹوئیٹ وائرل ہے جسے سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ انتونیو گوتریس کے نام سے منسوب کیا گیا ہے اس ٹوئیٹ میں لکھا ہوا یے کہ "مجھے پاکستان کے دورہ پر حیرانی ہوئی کہ پاکستان کے وزیراعظم مجھ سے اپنی مرضی کی پریس ٹاک چاہتے تھے۔” اس فیک ٹوئیٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ: "میں نے دیکھا کہ پاکستانی حکام اور انتظامیہ کو لوگوں کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔”

    دراصل یہ ایک سافٹویئر کے ذریعے جے پی جی فائل میں ایک ایسے انداز میں یہ جھوٹی ٹوئیٹ بنائی گئی کہ دیکھنے والوں کو یہ پوسٹ حقیقی لگے لیکن بنانے والے نالائقوں نے جو ٹوئیٹر اکاونٹ کا ویری فیکیشن والا بلیو ٹیک اس میں دیا تاکہ دیکھنے والے کو انتونیو گوتریس کا اکاؤنٹ حقیقی لگے لیکن دیا گیا نشان واضح طور پر ایک غلط نشان تھا کیونکہ ٹوئئٹر کے بلیو ٹیک کا ڈیزائن اور رنگ ایسا نہیں ہے، ٹوئیٹر کے بلیو ٹیک کا نشان گول اور ڈیزائیندار ہے جبکہ اس نشان کو مستطیل شکل میں بنایا گیا ہے. تاہم مزید تصدیق کیلئے باغی ٹی وی نے سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ انتونیو گوتریس کے آفیشل ٹوئیٹر ہیڈل @antonioguterres پر جاکر چیک کیا تو وہاں ایسی کوئی ٹوئیٹ نہیں ملی جبکہ پاکستان بارے موسمیاتی تبدیلی، سیلاب کی تباہ کاری اور وزیر اعظم پاکستان کے ساتھ دورہ سیلاب متاثرین بارے کچھ ٹوئیٹ کی گئی تھیں.

    واضح رہے کہ حالیہ دنوں سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ انتونیو گوتریس نے سیلاب کی تباہ کاری سے متعلق پاکستان کا دورہ کیا ہے اور متعدد متاثرہ علاقوں کا دورہ بھی کیا. جیو نیوز کے مطابق: گزشتہ 9 ستمبر کو پاکستان کے دورے پر آئے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے وزیر اعظم شہباز شریف سے ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ: پاکستان کوبہت زیادہ مالی امداد کی ضرورت ہے، بین الاقوامی کمیونٹی پاکستان کی بڑھ چڑھ کر مدد کرے، اقوام متحدہ اس مشکل وقت میں ضرور مدد کرے گا۔


    تاہم اس سے قبل سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے وزیرخارجہ بلاول بھٹو زرداری سے بھی ملاقات کی تھی جس میں انہیں ملک میں سیلاب سے ہونے والی تباہی کے بارے آگاہ کیا تھا. انتونیو گوتریس نے اس موقع پر کہا تھا کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے متاثر ہو رہا ہے، لوگ قحط اور سیلاب کے باعث مررہے ہیں ،پاکستان کے عوام کو مشکل میں دیکھ کر انتہائی دکھ ہوا۔

  • نیشنل فلڈ ڈیش بورڈ کا مقصد سیلاب سے متعلق آگاہ کرنا ہے. وفاقی وزیر احسن اقبال

    نیشنل فلڈ ڈیش بورڈ کا مقصد سیلاب سے متعلق آگاہ کرنا ہے. وفاقی وزیر احسن اقبال

    نیشنل فلڈ ڈیش بورڈ کا اصل مقصد ملک جاری سیلابی صورتحال سے متعلق تفصیلات سے آگاہ کرنا ہے. وفاقی
    وزیر احسن اقبال

    وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کا نیشنل فلڈ ریلیف کورڈینیشن سنٹر میں فلڈ ڈیش بورڈ کے اجراء کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا نیشنل فلڈ ڈیش اور بورڈ کا اصل مقصد ملک جاری سیلابی صورتحال سے متعلق تفصیلات سے آگاہ کرنا ہے. تاکہ جو لوگ موبائل پر سیلابی صورتحال بارے جاننا ہیں انہیں مکمل معلومات فراہم کی جاسکے.

    انہوں نے مزید کہا کہ جو لوگ متاثرین بارے امدادی کاروائیوں سے متعلق اگاہ رہنا چاہتے ہیں انہیں اس پورٹل پر جاکر مکمل معلومات دیکھ سکتے ہیں، انہوں نے کہا ایک تہائی پاکستان اس سیلاب سے متاثر ہوا ہے اور دو تہائی محفوظ ہے لہذا جو لوگ محفوظ ہیں انہیں متاثرین کی مدد کرنی چاہئے اور اللہ کا شکر ادا کرنا چاہئے. اور ان لوگوں کے بارے ضرور سوچیں جو لوگ کھلے آسمان تلے ہیں اور مختلف مسائل کا شکار ہیں.

    وفاقی وزیر نے پاکستان آرمی کے نوجوانوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ افواج پاکستان کے نوجوان کی تعریف کروں گا جو اس مشکل گھڑی میں‌ دل اور لگن کے ساتھ سیلاب کے دوران امدادی کاروائیوں میں مصروف عمل ہیں، اور انہوںنے کہا کہ عوام کو بھی چاہئے جو محفوظ ہیں‌ آگے بڑھیں اور متاثرین کی مدد کرنے کی کوشش کریں.

    دوسری جانب نیشنل فلڈ ریسپانس کورڈینیشن سنٹر کے مطابق: گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران انفراسٹرکچر کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ تام کل نقصان شدہ میں 6674.7 کلومیٹر سڑکیں اور 269 پلیں جن پر کام جارہی ہے، اعلامیہ کے مطابق: سب سے زیادہ متاثرہ اضلاع میں سندھ کے سب سے زیادہ متاثرہ اضلاع ہیں جن میں قمبر شہداد کوٹ، جیکب آباد، لاڑکانہ، خیرپور، دادو، نوشہرو فیروز، ٹھٹھہ اور بدین شامل ہیں۔ جبکہ بلوچستان کے اضلاع میں کوئٹہ، نصیر آباد، جعفرآباد، جھلماگسی، بولان، صحبت پور اور لسبیلہ شامل ہیں۔ اور
    کے پی کے دیر، سوات، چارسدہ، کوہستان، ٹانک اور ڈی آئی خان اور پنجاب میں ڈی جی خان اور راجن پور شامل ہیں۔

    این ایف آر سی سی کے مطابق: اب تک 489 آرمی ایوی ایشن ہیلی کاپٹر مختلف علاقوں میں پھنسے ہوئے لوگوں کو نکالنے کے لیے روانہ کیے جا چکے ہیں۔ گزشتہ 24 گھنٹوں میں 4 طیاروں نے اڑان بھری اور 36 پھنسے ہوئے افراد کو نکالا اور 6.35 ٹن امدادی سامان سیلاب متاثرین تک پہنچایا۔ مزید یہ کہ اب تک ہیلی کاپٹر کے ذریعے 4460 پھنسے ہوئے افراد کو نکالا جا چکا ہے۔

    ان ایف آر سی سی کے اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ پاک فضائیہ نے سیلاب متاثرین کے لیے 4800 خیمے، 265306 فوڈ پیکجز، 2594 ٹن راشن فراہم کیا ہے۔ مزید یہ کہ پی اے ایف نے 41 میڈیکل کیمپس قائم کیے ہوئے ہیں جہاں اب تک 50029 مریضوں کا علاج کیا جا چکا ہے۔ علاوہ ازیں 19 ٹینٹ سٹی اور 53 ریلیف کیمپ بھی قائم کیے گئے ہیں۔ پی اے ایف نے بھی 246 پروازیں کیں اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں سے 1521 افراد کو نکالا۔