Baaghi TV

Tag: تبدیلی

  • پی ٹی آئی کا تبدیلی سے تباہی تک سفر میں "بشریٰ” کا اہم کردار

    پی ٹی آئی کا تبدیلی سے تباہی تک سفر میں "بشریٰ” کا اہم کردار

    پاکستان تحریک انصاف کسی زمانے میں تبدیلی کی علامت سمجھی جاتی تھی، لیکن اب یہ پارٹی ایک نئے بحران سے دوچار ہے اور تبدیلی سے پاکستان کی تباہی کا سفر بڑی کامیابی سے طے کر لیا ہے، عمران خان سے بشریٰ بی بی کی شادی ہونے کے بعد سے ہی تبدیلی کا سفر تباہی کے راستے پر چل پڑا تھا، بشریٰ بی بی، عمران خان کی اہلیہ اور پارٹی کی غیر رسمی حکمران شخصیت ہیں، جن کے اقتدار کا دائرہ اتنا وسیع ہو چکا ہے کہ وہ نہ صرف پارٹی کے اندر، بلکہ عمران خان کی سیاست پر بھی اثر انداز ہو رہی ہیں۔عمران خان کی رہائی کے لئے ڈی چوک جانے کی ضد، اور پھر وہاں سے فرار، اسکے بعد پارٹی اجلاس میں رہنماوں کے ساتھ بدتمیزی، ہر انگلی بشریٰ بی بی کی طرف اٹھ رہی ہے کہ بشریٰ بی بی نے پارٹی کو گھر سمجھ لیا ہے

    پی ٹی آئی سیکرٹری جنرل، معروف وکیل سلمان اکرم راجہ کا پارٹی عہدے سے استعفیٰ دینا ایک بڑے جھٹکے کے طور پر سامنے آیا ہے۔ سلمان اکرم راجہ، جو پی ٹی آئی کے قانونی معاملات میں اہم کردار ادا کر چکے تھے، کو بشریٰ بی بی نے زوم میٹنگ کے دوران انتہائی غلط انداز میں مخاطب کیا جس کا بشریٰ کو حق نہیں تھا کیونکہ بشریٰ کا پی ٹی آئی کورکمیٹی سے کوئی لینا دینا نہیں تھا لیکن وہ زبردستی اجلاس میں آئیں اور نہ صرف سلمان اکرم راجہ بلکہ سب پارٹی رہنماؤں کے ساتھ بدتمیزی کی، پارٹی رہنماؤں کو بے شرم، بے غیرت تک کہا،سب نے سن لیا لیکن سلمان اکرم راجہ بولے اور بشریٰ کو کھری کھری سنائیں، آج سلمان اکرم راجہ نے عمران خان سے جیل میں ملنے کی کوشش کی لیکن ملاقات نہ ہو سکی جس کے بعد وہ پارٹی عہدے سے مستعفی ہو گئے

    عمران خان، جو کبھی اپنی جماعت کے قائد اور محسن سمجھے جاتے تھے، اب پارٹی کے معاملات میں اپنی ناکامی کے ساتھ نظر آتے ہیں۔ ان کی خاموشی، یا شاید ان کی بے بسی، یہ واضح کرتی ہے کہ وہ بشریٰ بی بی کے سامنے بے بس ہیں اور پارٹی کے اندر ان کی مضبوط گرفت کو تسلیم کرتے ہیں۔حکومت میں رہ کر بھی بشریٰ بی بی ہی درحقیقت وزیراعظم تھی، عمران خان تو ڈمی تھے، جس طرح بزدار کو ڈمی وزیراعلیٰ کہا جاتا تھا اسی طرح عمران خان ڈمی وزیراعظم اور انکا کنٹرول بشریٰ بی بی کے پاس تھا، تمام احکامات بشریٰ بی بی صادر کرتیں اور عمران خان من و عن عمل کرتے،

    پارٹی کے اندرونی حلقوں سے یہ شکایات آئی ہیں کہ بشریٰ بی بی نے پارٹی کے فیصلوں میں دخل اندازی کی ہے اور کارکنان کے ساتھ بدسلوکی کی ہے۔ ان کی بڑھتی ہوئی طاقت اور پارٹی پر مکمل کنٹرول نے پی ٹی آئی کی جڑوں کو مزید کمزور کر دیا ہے۔ ان کا یہ طرز عمل تحریک انصاف کے بنیادی اصولوں سے متصادم ہے جو عمران خان نے شروع کیے تھے۔بشریٰ کو تو عمران گھریلو عورت کہتے تھے لیکن دو دن غیر مردوں کے ساتھ ایک کینٹینر پر رہنا، کارکنان سے خطاب اور انہیں پھر ڈی چوک جانے پر ابھارنا کیا یہ کسی گھریلو عورت کا کام ہو سکتا ہے، اصل میں بشریٰ بی بی پی ٹی آئی پر مکمل کنٹرول چاہتی ہیں،حقیقت یہ ہے کہ بشریٰ بی بی نے پارٹی کی اندرونی سیاست کو ایک خاندان کی جاگیر بنا لیا ہے، جس میں صرف چند مخصوص افراد کو ہی اہمیت دی جاتی ہے، باقی سب کو نظرانداز کر دیا گیا ہے۔

    پاکستان تحریک انصاف نے 2018 کے انتخابات میں "انصاف” کا نعرہ لگایا تھا۔ عمران خان نے عوام سے وعدہ کیا تھا کہ وہ پاکستان میں کرپشن اور سیاست میں تبدیلی لائیں گے۔ مگر آج، تحریک انصاف نہ صرف اپنے وعدوں سے منحرف ہو چکی ہے بلکہ یہ ایک ایسی جماعت بن چکی ہے جس میں فیصلہ سازی اور طاقت کا مرکز ایک خاندان کے ہاتھ میں ہے۔ بشریٰ بی بی کی بڑھتی ہوئی مداخلت نے پارٹی کے اندر اس بات کو ثابت کر دیا ہے کہ پی ٹی آئی کا "انصاف” اب صرف ایک خواب بن کر رہ گیا ہے۔

    اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا تحریک انصاف واقعی ایک عوامی تحریک تھی یا صرف ایک خاندان کی جاگیر؟ اگر ہم پارٹی کے حالیہ فیصلوں اور بشریٰ بی بی کے اثرات کو دیکھیں تو یہ سوال جائز لگتا ہے۔ پارٹی کی قیادت میں موجود افراد کو اکثر نظرانداز کیا جاتا ہے، اور ہر اہم فیصلہ بشریٰ بی بی کے مشوروں یا ان کی مرضی کے مطابق لیا جاتا ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف پارٹی کے اندر دھڑے بندی کی وجہ بنی ہے، بلکہ اس سے کارکنان کا اعتماد بھی ٹوٹ رہا ہے۔

    تحریک انصاف کی موجودہ حالت ایک جھوٹے انقلاب کی موت کا اعلان کرتی ہے۔ عمران خان نے تبدیلی کے نعرے کے تحت ایک ایسا وعدہ کیا تھا جس کے بارے میں آج ہر طرف سوالات اٹھ رہے ہیں۔ تحریک انصاف کی تباہی، بشریٰ بی بی کے اقتدار کی تفصیلات اور عمران خان کی خاموشی نہ صرف ایک سیاسی المیہ ہے بلکہ یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ انقلاب کے نام پر ایک طاقتور طبقے نے پارٹی کو اپنے مفاد کے لیے استعمال کیا۔یقیناً، یہ تحریک انصاف کے لیے ایک بہت بڑا دھچکا ہے اور اس کے مستقبل پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا پی ٹی آئی اس بحران سے نکل پائے گی یا یہ پارٹی ایک خاندان کی سلطنت بن کر رہ جائے گی؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کا جواب وقت ہی دے گا۔

    پی ٹی آئی مظاہرین کے تشدد سے متاثرہ پنجاب رینجرز کے جوانوں کے انکشافات

    سروسز بیچنے والیوں سے مجھے یہ فتوی نہیں چاہیے،سلمان اکرم راجہ کا بشریٰ کو جواب

    پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کے حوالے سے جھوٹا پروپیگنڈا بے نقاب

    احتجاج ،ناکامی کا ذمہ دار کون،بشریٰ پر انگلیاں اٹھ گئیں

    پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کا دعویٰ فیک نکلا،24 گھنٹے گزر گئے،ایک بھی ثبوت نہیں

    مظاہرین کی اموات کی خبر پروپیگنڈہ،900 سے زائد گرفتار

    شرپسند اپنی گاڑیاں ، سامان اور کپڑے چھوڑ کر فرار ہوئے ہیں ،عطا تارڑ

    مبشر لقمان کی وزیر داخلہ محسن نقوی پر تنقید،رانا ثناء اللہ کے دور سے موازنہ

  • تبدیلی عوام کے جاگنے سے آئے گی،سراج الحق

    تبدیلی عوام کے جاگنے سے آئے گی،سراج الحق

    امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا کہ الیکشن ریفارمز ہوں باسٹھ ترسیٹھ پر عمل درآمد ہو،سرمایہ کی بنیاد پر الیکشن کو اغوا کیاجاتاہے تو الیکشن عوام کےلئے نہیں ہوتا،ہم چاہتے ہیں کہ الیکشن سے پہلے ملک میں الیکشن ریفارمز ہوں،ہمارے ملک میں چار بینک غیر سودی نظام کے تحت چلتے ہیں،تبدیلی عوام کے جاگنے سے آئے گی دیانت دار لوگوں کا ساتھ دیاجائے،

    سراج الحق نے مصورہ لاہور میں پرہس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ جس نے جھنڈے بدل بدل کر ووٹ لے کر عوام کو لوٹاانکا احتساب اور حساب کتاب ہونا چاہئیے،مسائل کا حل اسلامی نظام ہے جس کی علمبردار جماعت اسلامی ہے، ہم گالی گلوچ سیاست کو مسترد کرتے ہیں چیف جسٹس نے بھی جماعت اسلامی کے بارے کہاکہ وہ ذمہ دارانہ کردار ادا کررہے ہیں.

    سراج الحق کا مزید کہنا تھا کہ اگر سیاست میں دلیل نہ ہو تو گالیاں ہی دی جاتی ہیں، گالی اور لاٹھی کو مسترد کرتے ہیں، پی ٹی آئی اور پی ڈی ایم نے آئی ایم ایف کو راستہ دیا،اسٹیٹ بینک کو آئی ایم ایف کے حوالے کیاگیاہے،قوم سے کہنا چاہتا ہوں سیاسی جماعتوں کے مختلف جھنڈوں اور نعروں پر نہ جائیں ،تمام سیاسی جماعتوں کی وجہ سے مشکلات تینوں بڑی سیاسی جماعتیں ہیں.

    امیر جمارت اسلامی نے کہا کہ ملک میں اسوقت ڈمی حکومت اور ڈمی اپوزیشن ہے،معدنی وسائل ہیں زرخیر مٹی ہے تو اس کے باوجود آئی ایم ایف کے خود کو گروی رکھوا لیا،فیصلے قومی اسمبلی اور کیبنٹ میں نہیں ہو رہے تو ذمہ داری تین پارٹیوں پر آتی ہے،جماعت اسلامی واحد جماعت ہے جو قوم کی نمائندہ جماعت ہے،سندھ پشاور بلوچستان پنجاب میں کرپشن ہی کرپشن ہے کون ذمہ دار ہے، ملک میں کرپشن کے ذمہ دار جنات نہیں بلکہ سیاسی لیڈرز اور وی آئی پی اشرافیہ ہے.

    سراج الحق نے کہا کہ پنڈورا پیپر ، پانامہ پیپر، نیب کے کیسز اسٹیٹ بینک سے قرضہ لینے والے یہی بدنام زمانہ لیڈرز ہیں، آپ کے بچے کو کوئی بینک تین ہزار روپے نہیں دیتا،پی ڈی ایم پی ٹی آئی اور پیپلزپارٹی نے کرپشن کرکے قومی خزانہ ہڑپ کر لیا،قرضے آپ نے لئے آپکی شوگر ملوں اور کارخانوں میں اضافہ ہوا،اس نظام کو مسترد کرتے ہیں فرد کی نہیں نظام کی تبدیلی مسائل کا حل ہے،سود سے پاک کرپشن فری نظام چاہتے ہیں،اس وقت سودی نظام کرپشن ام لمسائل ہیں کرپشن کا نظام تینوں سیاسی جماعتوں نے نافذ کیا،

    انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں آئندہ بجٹ سود فری بجٹ ہو آئی ایم ایف قرضوں نجات کا روڈ میپ بھی ہو،ہم چاہتے ہیں آئندہ بجٹ میں کرپٹ سرمایہ دار پر بوجھ پڑے،ناجائز حرام دولت کو لے کر قومی خزانے میں جمع کروایا جائے،کرپٹ سیاستدان اربوں روپے لےکر بیرونی بینکوں میں جمع کرواتے رہے، نظام کے خلاف عوام کی طرف رجوع کررہاہوں،گیارہ جون کو لاہور سے سودی نظام کرپشن اور مہنگائی کے خلاف احتجاجی عوامی مارچ کااعلان کیاہے،شہبازشریف کہتے ہی کہ عوام کےلئے اپنے کپڑے بیچوں گا لیکن تم نے تو عوام کے ہی کپڑے اتار دئیے،کپڑے بیچنے کے بجائے آئی ایم ایف سے معاہدوں کو قومی اسمبلی میں پیش کیاجائے،اسٹیٹ بینک کو آئی ایم ایف سے نجات دلائی جائے.

    سراج الحق نے کہا کہ شیر کا دور ظلم کا دور تھا بیٹ کا دور بے روزگاری کا دور تھا پیپلزپارٹی کا کرپشن کا دور تھا۔ جماعت اسلامی دس روزہ ترازو مہم شروع کررہی ہے اگر مساوات چاہتے ہیں تو ترازو کو اپنا لیں، آنے والا دور ترازو کا دور ہے شوری اجلاس کے بعد سود مہنگائی اور غلط فیصلوں پر جو تحریک شروع کررہے عوام ان کا ساتھ دے،ملک کے مسائل کا حل دین و شریعت میں ہے.

  • اور تبدیلی الٹی پڑ گئی، سلیم صافی کی کتاب کی بھر پور پذیرائی

    اور تبدیلی الٹی پڑ گئی، سلیم صافی کی کتاب کی بھر پور پذیرائی

    اور تبدیلی الٹی پڑ گئی، سلیم صافی کی کتاب کی بھر پور پذیرائی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و تجزیہ کار سلیم صافی کی نئی کتاب کی بھرپور پذیرائی ہو رہی ہے ، سلیم صافی کی نئی کتاب کا ٹائٹل اور تبدیلی الٹی پڑ گئی ہے،سلیم صافی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنی کتاب کے بارے میں بتایا کہ الحمدللہ میری کتاب "اور تبدیلی الٹی پڑگئی” کو بھرپور پذیرائی مل رہی ہے ۔زندگی رہی تو اگلی کتاب کا ٹائٹل ہوگا۔۔”اور تبدیلی الٹا دی گئی” ۔۔ گندی تبدیلی نے اتنا گند پھیلا دیا ہے کہ اب سب کو احساس ہونے لگا ہے گندی تبدیلی اور پاکستان ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔

    تبدیلی کے تین سال کے جائزے پرمشتمل نئی کتاب”اورتبدیلی الٹی پڑگئی”مارکیٹ میں گزشتہ برس اکتوبر میں آئی تھی، سلیم صافی کا کہنا تھا کہ واضح رہے کہ حالات حاظرہ سےاس کی موافقت اتفاقی ہے ۔پبلشرگواہ ہے کہ میں نےمسودے کواس ٹائٹل ک ےساتھ ۲ماہ قبل اشاعت کے لئے حوالے کیا تھا۔

    سلیم صافی نے اپنی یہ کتاب تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر خان ترین کو بھی دی تھی اور ٹویٹ کرتے ہوئے کہا تھا کہ لندن روانگی سے قبل جہانگیرترین سےملاقات ہوئی۔انہیں اپنی نئی کتاب”اورتبدیلی الٹی پڑگئی” پیش کی۔جب انہیں سونامی سرکارسے متعلق اپنی پہلی کتاب”اور تبدیلی لائی گئی”پیش کی تھی توتب نہایت ناگواری کے ساتھ وصول کیا تھا لیکن اب کے بارٹائٹل کی تعریف کے ساتھ خوشی خوشی وصول کی ۔گویا تبدیلی آگئی ہے۔

    سلیم صافی نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ چیرمین سینیٹ صادق سنجرانی جنہیں میں شہد کی دلدل کہتا ہوں، سے تفصیلی گپ شپ ہوئی باقی "باپ” پارٹی کے برعکس وہ ڈٹ کےعمران خان کےساتھ کھڑے ہیں لیکن محسوس ہوتاہےکہ اب کے بارشہد کی دلدل بھی عمران خان کودلدل سے نہیں نکال سکتے کیونکہ ایمپائر نیوٹرل ہوگیا ہے جبکہ اسد قیصر، صادق سنجرانی نہیں۔

    ایک اور ٹویٹ میں سلیم صافی کا کہنا تھا کہ سونامی سرکار کے خلاف عدم اعتماد کے عمل کے اہم کردار ، باکمال سیاستدان اور مستقبل کے (شاید) سپیکر سید خورشید شاہ کے ساتھ عشائیہ پر گپ شپ۔۔ان کی گفتگو کا خلاصہ یہ تھا کہ عمران خان کا مزید اقتدار میں رہنا اس قدر ناممکن ہے جس قدر عمران خان صاحب کا شائستہ گفتگو کرنا ناممکن ہے۔

    ایک اور ٹویٹ میں سلیم صافی کا کہنا تھا کہ آج میاں شہباز شریف سے ایک گھنٹے بالمشافہ ملاقات میں اور مولانا فضل الرحمان سے بذریعہ فون گپ شپ ہوئی۔ اندازہ ہوا کہ نہ صرف اپوزیشن کا معاملہ صحیح ٹریک پر چل رہا ہے بلکہ اگلے 48 گھنٹوں میں عمران خان کو ایسا سرپرائز ملنے والا ہے کہ جس کے بعد شاید ووٹنگ کی ضرورت ہی نہ پڑے۔

  • کیا تبدیلی واقعی ہار چکی، سال 2021،ڈیل،ڈھیل، واپسی،اقتدار

    کیا تبدیلی واقعی ہار چکی، سال 2021،ڈیل،ڈھیل، واپسی،اقتدار

    کیا تبدیلی واقعی ہار چکی، سال 2021،ڈیل،ڈھیل، واپسی،اقتدار

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ ملکی سیاست میں اکیسویں صدی کا اکیسیواں سال بہت سے حوالوں سے سرد و گرم رہا ہے ۔ حکومت اور اپوزیشن کی جنگ کے ساتھ مہنگائی نے عوام کو خون کے آنسو رلائے۔ پھر کورونا کی عالمی وباء نے پاکستانیوں کو بھی عذاب میں مبتلاء کئے رکھا ہے ۔ پر لگتا ہے کہ نئے سال میں بھی سیاست کی گرم بازاری کا سلسلہ یوں ہی جاری رہے گا جیسے پہلے تھا بلکہ اس کی شدت میں اضافہ ہی ہوگا۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ کیونکہ کوئی چاہتا ہے کہ موجودہ حکومت کو ختم کر کے اُس کے لیے رستہ بنایا جائے تو کسی دوسرے کی یہ خواہش ہے کہ اُس کے لیے ملک اور سیاست میں واپسی کا راستہ ہموار کر کے آئندہ الیکشن کو آزادانہ کروایاجائے تو وہ راضی ہو گا۔ جبکہ جو اقتدار کے مزہ لے رہے ہیں ۔ وہ چاہتے ہیں کہ ڈیل والے اُن کے ساتھ ہی کھڑے رہیں ۔ چاہے اُن کی کارکردگی جیسی بھی ہو اُن کی حمایت جاری رکھیں اور اُن کے مخالفین کو کوئی رعایت نہ دیں۔ ۔ اس وقت جہاں ہر خاص وعام کی زبان پر اپوزیشن سے ڈیل کی باتیں جاری ہیں توعمران خان کی گفتگو بھی معنی خیز ہے ۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ دراصل جس دن عمران خان نے اپنے وزیروں اور ترجمان کے خصوصی اجلاس میں یہ راز فاش کیا کہ نواز شریف کو چوتھی بار وزیر اعظم بنانے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔ اس دن اس بحث کو مزید تقویت مل گئی جو ملک میں کئی دن سے جاری تھی۔ حقیقت میں عمران خان نے اعتراف کر لیا ہے کہ یہ سب کچھ ہو رہا ہے۔ ان کا بیان یہ بتاتا ہے کہ وہ یہ کہنا چاہتے ہیں وہ اس سے باخبر ہیں۔ وہ جواب میں کیا کریں گے۔ اس کا اندازہ ان کے ردعمل سے لگایا جائے گا۔ میرے خیال میں یہ کپتان کا بہت بڑا امتحان ہے۔ فی الحال اس امتحان میں وہ کامیاب نہیں جا رہے۔ ان کا ردعمل یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ محسوس کر رہے ہیں وہ جنگ ہار رہے ہیں۔ اور جوابی لڑائی کے لئے ان کی حکمت عملی بھی کوئی ایسی نہیں جس پر کسی کو پریشانی ہو۔ حقیقت میں پاکستان میں تبدیلی ہار چکی ہے ۔ جس کی واضح مثال کے پی کے بلدیاتی انتخابات میں شکست اور پے درپے ضمنی انتخابات میں حکومتی شکست ہے ۔ یوں صحیح معنوں میں عوام نے تحریک انصاف کے چھکے چھڑا دیے ہیں۔ دراصل اپوزیشن وہ کام نہ کر پائی ہے جو تحریک انصاف نے بذات خود انجام دے ڈالا ہے ۔ آپ دیکھیں ۔ خیبر پختونخوا کے بلدیاتی انتخابات میں شکست کا اثر یہ ہوا ہے کہ پی ٹی آئی کے اپنے ہی آپس میں لڑ لڑ پاگل ہونے کو ہیں ۔ جس نے اس شکست کو مزید بڑا کر دیا ہے ۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ایک جانب وزیراعظم کے معاون خصوصی ارباب شہزاد کے بھتیجے ارباب محمد علی نے گورنر کے پی شاہ فرمان کے احتساب کا مطالبہ کر دیا ہے۔ ۔ تو دوسری جانب یہ خبریں کہ گورنرخیبر پختونخوا اور صوبائی وزیر نے میئر پشاور کا ٹکٹ سات کروڑ میں بیچا۔ تاہم میئر پشاور کی نشست کیلئے تحریک انصاف کے امیدوار رضوان بنگش نے ٹکٹ کے عوض پارٹی قائدین کو رقوم دینے کی تردید کرتے ہوئے ارباب خاندان کو پارٹی کی ناکامی کا ذمہ دار قرار دیا۔۔ اس سب کا پنجاب کے مقامی انتخابات میں جو اثر پڑنے جا رہا ہے اُس کی خبر شاید تحریک انصاف کو لانے والے کو بھی نہیں ہے۔ پی ٹی آئی اس طرح منتشر ہوتی دکھائی دے رہی ہے جس طرح کسی تباہ شدہ جہاز کا ملبہ اور شاید اگلا انتخاب اس کا آخری انتخاب ہو۔ جس سے قبل اس پارٹی کے جہاز پر چڑھائے گئے مسافر ایسے جان چھڑانے کی تیاری میں ہیں ۔ جیسے ہمیں کابل کے ایئر پورٹ پر نظر آیا تھا۔ دیکھا جائے تو عمران خان کی سیاست کارکردگی کی نہیں۔ بلکہ صرف الزامات کی سیاست ہے اور لوگوں کے کان اتنے سالوں سے وہی الزامات سن سن کر پک چکے ہیں۔ عمران خان نے پی ٹی آئی کی تمام تنظیمیں توڑ کر نئے عہدیدار لگائے ہیں۔ لیکن یہ وقت ٹیم کا نہیں۔ بلکہ کپتان کی تبدیلی کا آ چکا ہے۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ عوام اب مزید اس ناکام تجربہ کو برداشت کرنے کے لئے تیار ہیں اور نہ ہی اس قابل رہے ہیں کیونکہ ان کی برداشت کی سکت تیزی سے ختم ہو رہی ہے۔ پھر جو لوگ ڈیل کے دعوے کر رہے ہیں وہ یہ بتانے سے گریزاں ہیں کہ ڈیل کس کیساتھ اور کیا ہو رہی ہے؟ ن لیگ سے ، مولانا سے یا پھر پیپلزپارٹی سے ؟؟۔ جہاں بعض حلقوں کا خیال ہے کہ نواز شریف کی واپسی کے بعد ن لیگ کا وزارتِ عظمیٰ کا امیدوار دوسرا کوئی نہیں ہو سکتا جبکہ بہت سے سرگرم ن لیگی شہباز شریف کے امیدوار ہونے پر امید لگائے بیٹھے ہیں ۔ جبکہ کچھ کا ماننا ہے کہ وقت آنے پر مریم نواز، شہباز شریف کی تجویز کنندہ ہوں گی۔ فرض کریں اگر نواز شریف واپس آتے ہیں تو انہیں عدالت میں پیش ہونے کے لئے گرفتاری دینا ہو گی ۔ ضمانت کرانا ہو گی۔ سزا پر نظرثانی کے لئے دائر درخواستوں پر عدالتی فیصلہ کا انتظار کرنا ہوگا۔نا اہلی ختم کرانا ہو گی۔ اس کے بعد الیکشن میں حصہ لے سکیں گے۔ اور یہ سب کچھ پاکستان میں ممکن ہے ۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ہماری ستر سالہ تاریخ ایسی چیزوں سے بھری پڑی ہے ۔ یوں جوں جوں نواز شریف کی یقینی وطن واپسی کا وقت قریب آ رہا ہے۔ حکومتی ترجما نوں کی فوج کی آوازیں بلند ہونا شروع ہوگئی ہیں ۔ ویسے ان ترجمانوں کی تعداد کتنی ہے شاید خود حکومت کو بھی معلوم نہیں ۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ حکومتی کیمپوں میں تھرتھلی مچی ہوئی ہے ۔ کہ کچھ ہونا والا ہے ۔ اس سب کے باوجود خبریں یہ ہیں کہ خود حکومتی پارٹی کے ممبران اسمبلی اپنا اپنا بائیوڈیٹا نواز شریف کے پاس پہنچانے کے لئے ہاتھوں میں لئے پھر رہے ہیں اور نواز شریف کی ہلکی سی نظر کرم کے منتظر ہیں۔ کیونکہ ان پی ٹی آئی ممبران اسمبلی کو بھی معلوم ہے کہ اگلے الیکشن میں پی ٹی آئی کا ٹکٹ یقینی شکست اور ضمانت ضبط کروانے کا ٹکٹ ہے۔ پھر جہاں مسلم لیگ ن کا حوصلہ مزید بلند ہوا ہے۔ تو زرداری صاحب بھی دو دو ہاتھ کرنے کے لیے بے چین ہو رہے ہیں۔ ان کی نظریں بھی جنوبی پنجاب سمیت بلوچستان پر ٹکی ہوئی ہیں۔ اور ان کی بھی خواہش ہے کہ کسی طرح کوئی بات بنے ۔ اور ایک بار پھر پیپلز پارٹی وفاق میں ابھر کر سامنے آجائے ۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اس حوالے سے کہا تو بہت جا چکا ہے ۔ پھر ابھی گزشتہ ہفتہ ہی سابق صدر آصف علی زرداری نے کہا تھا کہ فارمولے والے اُن کی مدد لینے آئے تھے کہ کس طرح ملک کو اس موجودہ بھنور سے نکالا جائے۔ جس پر اُنہوں نے فارمولے والوں کو کہا کہ پہلے عمران خان کو نکالو۔ یعنی ہر طرف ڈیل ہی ڈیل کی کہانیاں چل رہی ہیں۔ ڈیل ہو چکی۔ یا ڈیل ہو رہی ہے۔ اسکرپٹ فائنل ہو چکا یا ابھی اُس پر کام ہو رہا ہے، ان سب سوالات پر ہر طرف بحث و مباحثہ جاری ہے۔ نام کوئی نہیں لے رہا۔ نام عمران خان نے بھی نہیں لیا کہ کون نواز شریف کی نااہلی کے خاتمہ کا رستہ نکال رہا ہے۔ ایاز صادق بھی کھل کر نہیں بتا رہے کہ کون غیر سیاسی لوگ نواز شریف سے لندن میں ملاقاتیں کر رہے ہیں۔ صحافی حضرات بھی نہیں بتا رہے ہیں کہ وہ اسکرپٹ کس کا ہے جس سے نواز شریف مطمئن ہیں۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ یہاں یاد کروادوں کہ کہا جاتا تھا کہ عمران خان کا خیال تھا کہ اس نے ملک کی مقتدر قوتوں کے لئے کوئی آپشن ہی نہیں چھوڑا۔ ن لیگ نہ پیپلز پارٹی اور یہ بھی کہ یہ تبدیلی ن لیگ کو آن بورڈ لئے بغیر نہیں آسکتی۔ اس لئے حکومت کا سارا زور ن لیگ کو ملیا میٹ کرنے پر رہا۔ جس میں وہ ہر دوسرے کام طرح مکمل ناکام رہے ۔ دراصل اس تمام صورت حال کی بڑی اور بنیادی وجہ خراب حکومتی کار کردگی ہے۔ عوام کو فوری ریلیف دینے میں حکومت اب تک ناکام ہے۔ ایسی بے چینی اور غیر یقینی کیفیت سے فائدہ اٹھانا اپوزیشن کا حق تھا اور اس نے اندرونی اختلافات کے باوجود اس سے سیاسی فوائد حاصل کر لیے ہیں ۔ پر ایک چیز طے ہے کہ اسٹیبلشمنٹ نے سب کو کچھ نہ کچھ دانا ڈالا ہوا ہے ۔ اور وہ شاید اس بار safe play کررہے ہیں کہ کوئی اگر آنکھیں دیکھائے تو ان کے پاس اس بار دوسرا آپشن موجود ہو ۔ مگر اپوزیشن کو بھی قدم پھونک پھونک کر رکھنے کی ضرورت ہے کیونکہ جہاں اس وقت واضح طور پر اِن ہاؤس تبدیلی کیلئے حالات خاصے تیار ہیں ۔ تو اپوزیشن نے اگر کسی فوری تبدیلی کیلئے مقتدرہ کا دروازہ کھٹکھٹایا توعمران خان سے بھی زیادہ مصیبت میں پھنس جائے گی۔ اس تمام شور شرابے میں مارچ بہت اہم ہے ۔ اور آپ دیکھیں گے عنقریب بہت تیزی سے تبدیلیاں رونما ہوں گی ۔ ایسے ایسے معجزے بھی ہوں گے جن کا کبھی کسی نے خواب وخیال بھی نہ سوچا ہوگا ۔ کیونکہ پاکستانی سیاست سب چلتا ہے اور سب کچھ ممکن ہے ۔ کیونکہ یہاں ڈیل اور ڈھیل کے بغیر کچھ ممکن نہیں ۔ ۔ یوں اب سیاسی گیند میاں نواز شریف اور مولانا فضل الرحمن کیساتھ ساتھ آصف زرداری کے کورٹس میں ہے۔

  • بابائے قوم کا یوم پیدائش:مزار پر گارڈز کی تبدیلی کی پُروقار تقریب

    بابائے قوم کا یوم پیدائش:مزار پر گارڈز کی تبدیلی کی پُروقار تقریب

    بانیٔ پاکستان قائدِ اعظم محمد علی جناح ؒ کے یومِ پیدائش کے موقع پر کراچی میں واقع ان کے مزار پر گارڈز کی تبدیلی کی تقریب منعقد ہوئی۔

    باغی ٹی وی :بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کا یومِ پیدائش آج عقیدت و احترام سے منایا جارہا ہے، پاکستان کے حصول کیلئے لازوال کردار پر قوم ہمیشہ محمد علی جناح کی احسان مند رہے گی۔

    کراچی میں مزار قائد پر گارڈز کی تبدیلی کی پُروقار تقریب ہوئی، پاکستان ملٹری اکیڈمی کے کیڈٹس نے مزار قائد پر سیکیورٹی کے فرائض سنبھال لیے، کمانڈنٹ پاکستان ملٹری اکیڈمی میجر جنرل عمر احمد بخاری تقریب کے مہمان خصوصی تھے۔

    بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح‌ کا 146واں‌ یومِ پیدائش

    تقریب میں بابائے قوم کو قومی سلام پیش کیا گیا اور قومی ترانہ بھی بجایا گیا مہمانِ خصوصی نے اس موقع پر پریڈ کا معائنہ بھی کیا۔

    تقریب کے اختتام پر مہمانِ خصوصی کمانڈنٹ پی ایم اے میجر جنرل عمر احمد بخاری نے بانیٔ پاکستان کے مزار پر پھولوں کی چادر چڑھائی اور فاتحہ خوانی کی مہمانوں کی کتاب میں اپنے تاثرات بھی درج کیے۔


    بانیٔ پاکستان کے یومِ پیدائش پر پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے سربراہ میجر جنرل بابر افتخار نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام دیا ہے کہ قائدِ اعظم کے اتحاد، ایمان اور نظم و ضبط کے اصولوں پر چلنے والے پر امن اور ترقی پسند پاکستان کا وژن بحیثیت قوم ہماری کامیابی کے لیے ناگزیر ہے۔

    بانی پاکستان کی ولادت پر مزار کی تزئین و آرائش کا کام جاری

    مزارِ قائد پر گارڈز کی تبدیلی کی تقریب سال میں 3 بار، 14 اگست، 6 ستمبر اور آج یعنی 25 دسمبر کو منعقد کی جاتی ہے، اس تقریب میں نیوی، ایئر فورس اور پی ایم اے کاکول کے کیڈٹس بالترتیب ذمے داریاں سنبھالتے ہیں۔

  • تحریک انصاف کا نقاب اتر گیا، حکومت کو گھر بھیجنے کا فارمولا تیار

    تحریک انصاف کا نقاب اتر گیا، حکومت کو گھر بھیجنے کا فارمولا تیار

    تحریک انصاف کا نقاب اتر گیا، حکومت کو گھر بھیجنے کا فارمولا تیار
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ حکومت نے فیصلہ کر لیا ہے ۔ کہ ایک تو عوام کو کوئی ریلیف نہیں دینا دوسرا روزانہ کوئی نہ کوئی ایسا بیان ضرور دینا ہے جو عوام کے زخمی پر نمک پاشی کے مترادف ہو ۔ جہاں وزیر اطلاعات فواد چوہدری مہنگائی پر اپنی ماہرانہ رائے دینے سے باز نہیں آرہے ہیں تو شہریار آفریدی بیرون ملک جا کر صحافیوں کو تڑیاں لگا رہے ہیں تو شبلی فراز قومی بھنگ پالیسی کا اعلان کررہے ہیں ۔ رہی بات علی امین گنڈا پور کی ۔ تو وہ ہر کسی کے ساتھ ہی چھیڑ چھاڑ کر رہے ہیں ۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اب جب ایسی کارکردگی ٹی وی سکرینوں کی زینت بنی ہوتو پھر وہ ہوتا ہے ہے جو آج لاہورکالج فارویمن یونیورسٹی کے کانووکیشن میں شہبازگِل کے ساتھ ہوا ہے ۔ جہاں خاتون پروفیسرنے شہبازگِل سے ڈگری لینے سے انکار کردیا اور خاتون پروفیسر کا نام باربار پکارنے پر بھی وہ اسٹیج پرنہ آئیں۔ اس حوالے سے جب صحافی نے شہباز گل سے سوال کیا گیا کہ خاتون پروفیسر نے ٹوئٹ کے ذریعے آپ سے ڈگری لینے سے انکار کیا ہے؟ اس پر ان کا کہنا تھاکہ ملک میں جمہوریت ہے اور ہر ایک کو حق حاصل ہے۔ ویسے یہ جس طرح کے بیانات دے رہے ہیں مجھ تو ڈر ہے کہ کہیں جب یہ ووٹ مانگنے جائیں گےتو بات کہیں برابھلا کہنے سے جوتیاں اور گندے انڈے پڑنے تک نہ پہنچ جائے ویسے اس کا ایک مظاہرہ ہم آزاد کشمیر کے الیکشن میں دیکھ چکے ہیں جب علی امین گنڈاپور پر ایسی ہی کاروائی کی گئی تھی جب وہ سنجے دت کے طرح فائرنگ کرتے ہوئے ایک جگہ سے گزرے تھے ۔ اب تازہ تازہ جو علی امین گنڈا پور نے فضل الرحمان کو ٹارگٹ کیا ہے اس ہر جے یو آئی ف کے حافظ حمد اللّٰہ نے علی امین گنڈا پور کوتسلی بخش جواب دینے کی کوشش کی ہے۔ جس میں انھوں نے علی امین گنڈا پور کو سیاست کے بجائے فلم انڈسٹری میں سلطان راہی کا کردار ادا کرنا چاہیے۔ پھر وہ کہتے ہیں کہ علی امین گنڈا پور آج کل اس لیے خوش ہیں کہ ان کے لیڈر نے بھنگ کی کاشت شروع کر دی ہے۔ بھنگ کے بعد آپ کو بلیک لیبل شہد استعمال کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ بات تو ہے رسوائی کی ۔ پر مجھے امید ہے کہ جلد علی امین گنڈا درعمل میں مزید کوئی نئی بونگی ماریں گے ۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ فی الحال تحریک انصاف کے لیے اچھی خبر نہیں آرہی ہے ۔ کے پی کے میں جو بلدیاتی الیکشن ہورہا ہے اس میں پی ٹی آئی کی حالت کافی پتلی ہے ۔ اسکی وجہ ہے ۔ جب فواد چوہدری کبھی کہیں گے کہ دواؤں کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف فضول مہم بنا دی جاتی ہے کہ جی قیمت میں اضافہ ہو گیا، اگر تین روپے قیمت ہے سات روپے ہو گئی تو کیا قیامت آگئی؟تو کبھی کہتے ہیں کہ گیس ختم ہوگی اب سستی گیس نہیں ملے گی۔ ان بیانات اور حرکتوں کے بعد کیا یہ اندازہ لگانا مشکل ہے کہ عوام کیوں پی ٹی آئی سے متنفر ہوچکے ہیں ۔ وزیراعظم کی طرح حکومتی وزراء جو مرضی دعوے کرتے رہیں۔ عالمی ادارے پاکستان کو مہنگائی کے لحاظ سے دنیا کا تیسرا ملک قرار دے چکے ہیں۔ یوں پاکستان دنیا کے کرپٹ ترین ممالک شام، صومالیہ اور جنوبی سوڈان کی صف میں آکھڑا ہوا ہے۔ سچ یہ ہے کہ حکومتی صفوں میں شامل مٹھی بھر اشرافیہ نے ملک کے وسائل پر قبضہ کر رکھا ہے جن کی دولت میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے جبکہ ملک کی نصف آبادی غربت اور افلاس کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ پھر اپوزیشن کے حوالے سے بات کی جائے تو خبر یہ ہے کہ جہانگیر ترین بھی پاکستان سے لندن پہنچ گئے ہیں ۔ وہ دو ہفتے لندن میں رہیں گے۔ جہاں وہ اہم ملاقاتیں کریں گے۔ ان سے پہلے ایاز صادق بھی لندن میں ہی موجود ہیں ۔ اور پچیس لوگوں کے حوالے سے خبر بھی زیر گردش ہے کہ جنرل الیکشن میں ٹکٹ کا وعدہ کیا جائے تو وہ پانسہ پلٹ دیں گے ۔ میں تصدیق سے تو نہیں کہہ سکتا مگر کہنے والے تو کہہ رہے ہیں جہانگیر ترین شاید اسی سلسلے میں لندن پہنچے ہیں ۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ویسے اس وقت جہانگیر ترین نے بھی ساری ہی آپشنز رکھی ہوئی ہیں ۔ گزشتہ دنوں انکی یوسف رضا گیلانی سے ملاقات کی تصویر بھی وائرل تھی جس کے بعد چہ مگویاں شروع ہوگئی تھیں ۔ میں آپکو یہ بتادوں کہ اس وقت ترین گروپ میں لگ بھگ 25 سے 30 قومی اور صوبائی اسمبلی کے اراکین ہیں ۔ اور ان میں زیادہ تر electables ہیں ۔ ویسے چند ہفتے قبل ہی جہانگیر ترین یہ دعوی کر چکے ہیں ۔ کہ میری تاحیات انتخابی نااہلی ٹیکنیکل بنیادوں پر ہے۔ یہ جلد ختم ہو جائے گی۔ میں یہ جانتا ہوں کہ آنے والے الیکشن میں پنجاب میں جہانگیر ترین گروپ ایک بڑا گروپ ہوگا ۔ دیکھنا یہ ہے کہ پی ٹی آئی کے ساتھ نتھی رہے گا یا پرواز کرکے کس اور جگہ چلا جائے گا ۔ اچھا صرف جہانگیرترین ہی نہیں اپنی نااہلی کے حوالے سے دعوے کر رہے ہیں بلکہ محمد زبیر بھی مریم نواز کے حوالے سے دعوی کر رہے ہیں کہ اگلا الیکشن وہ لڑیں گی اور تمام کیس بھی ختم ہونگے ۔ اچھا مجھے غیب کا علم تو نہیں پر اگر زبیرعمر کہہ رہے ہیں تو یقینی طور پر وہ کسی انفارمیشن کی بنیاد پر ہی کہہ رہے ہوں گے ۔ اور یہ سب جانتے ہیں کہ ان کے تعلقات پنڈی اور اسلام آباد دنوں جگہ کافی اچھے ہیں ۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ پھر اسی حوالے سے خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ ایاز صادق اگر لندن جاکر اپنی رائے نوازشریف کو دینا چاہتے ہیں تو ان کا حق بنتا ہے، میرا خیال ہے عام انتخابا ت2022ء کے اوائل یا درمیان میں ہوں گے۔ ۔ فارمولہ بھی خواجہ آصف نے بتا دیا ہے کہ کیسے اس حکومت کو گھر بھیجا جائے گا ۔۔۔۔ کہ ۔۔۔۔موجود حکومت کو نکالنا ہے تو تحریک عدم اعتماد سے نکالیں، کسی غیر آئینی طریقے سے ان کو نہیں نکالنا چاہیے۔ ان کی اس بات کا تجزیہ کیا جائے تو یہ اسی صورت ممکن ہے جب اتحادی تحریک انصاف کا ساتھ چھوڑ دیں یا پھر پی ٹی آئی کے اپنے عمران خان سے داغا کریں اور تحریک عدم اعتماد میں ان کے خلاف ووٹ ڈالیں ۔ جو حالات بنتے دیکھائی دے رہے ہیں اس میں ممکن دیکھائی دیتا ہے ۔ کیونکہ حکومت کی کسی بھی قسم کی کوئی کارکردگی نہ ہونے کہ وجہ سے پی ٹی آئی کی popularityمیں روز بروز کمی ہوتی جارہی ہے اور اگلے جنرل الیکشن میں تحریک انصاف کے ٹکٹ پر الیکشن لڑنا بڑے جگرے والا کام ہے ۔ اس کی مثال میں آپکو دے دیتا ہوں جیسے لاہور این اے 133کے الیکشن میں جمشید اقبال چیمہ نے راہ فرار اختیار کی وہ بھی سب کے سامنے ہے اور جیسے کے پی کے میں بلدیاتی الیکشن میں پی ٹی آئی کو ٹکٹیں دیتے ہوئے جو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا وہ بھی آپکے سامنے ہے کہ لوگ تحریک انصاف کا ٹکٹ نہیں لے رہے تھے یہاں تک پی ٹی آئی کے بہت سے لوگ آزاد حیثیت میں الیکشن لڑرہے ہیں ۔ اب جو بلدیاتی الیکشن اور خانیوال میں ہونے والے ضمنی انتخابات کا رزلٹ سامنے آئے گا اس سے چیزیں مزید واضح ہوجائیں گی ۔ کہ حکومت وقت پورا کرے گی یا وقت سے پہلے انتخابات ہون گے ۔ دوسرا خانیوال میں ضمنی الیکشن کی بڑی وجہ شہرت یہ بھی بنی ہوئی ہے کہ پی ٹی آئی نے مسلم لیگ نون جبکہ مسلم لیگ نے پی ٹی آئی کے سابق ٹکٹ ہولڈر کو اپنا امیدوار بنا لیا ہے۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ پھر خانیوال میں ضمنی الیکشن کے رزلٹ سے ٹی ایل پی کی پرواز کیا ہوگی یہ بھی معلوم ہوجائے گا کیونکہ علامہ سعد رضوی وہاں ایک تگڑا جلسہ بھی کر آئے ہیں ساتھ ہی انھوں نے اہلسنت کی تمام جماعتوں سے رابطے بھی شروع کر دیے ہیں کہ ہر جگہ مشترکہ امیدوار لائے جائیں ۔ اب یہ ٹی ایل پی فیکڑ ن لیگ کو زیادہ نقصان پہنچاتا ہے یا پی ٹی آئی کو ۔۔۔ اس خانیوال کے ضمنی الیکشن کے رزلٹ سے واضح ہوجائے گا ۔ اس لیے یہ الیکشن مستقبل کا سیاسی منظر نامہ ہوگا اس لیے یہ کافی اہم مانا جا رہا ہے ۔ ۔ میں آپکو بتاوں جب اس دور کی تاریخ لکھی جائے گی تو کہا جائے گا کہ ۔۔۔ سیاسی شعبدہ بازیوں ۔۔۔ نے ہمیں کہیں کا نہ چھوڑا۔ ہم نے اپنی معیشت تو کیا سنبھالنی تھی۔ مقروض ہی ہوتے چلے گئے۔ قرضے اتارنے کے لیے مزید نئے قرضے لیے اور قرضوں کے اس جال سے کبھی نہ نکل سکنے کی بنیاد ڈال دی گئی ہے ۔ ۔ لب لباب یہ ہے کہ ایک طرف حکمرانوں کے رنگین و سنگین بیانات ہیں اور دوسری طرف عام آدمی کی حالت زار دیدنی ہے۔ ۔ اب تو یہ محسوس ہونے لگا ہے کہ ہمارے ہاں مہنگائی پر قابو پانا مریخ پر آکسیجن کی تلاش کی طرح ناممکن ہوچکا ہے ۔ سادہ سی بات ہے کہ اگر کوئی منتخب جمہوری حکومت آٹا ، چینی ،دودھ ، گھی ، سبزی،گوشت اور دالوں جیسی کچن آئٹمز کی قیمتوں میں کمی لانے میں کامیاب ہوجائے تو عوام اسے دوسرا آئینی دورانیہ انعام کے طور پر بخش دیتے ہیں ورنہ اسکے خلاف ووٹ ڈال کر اسکو تاریخ بنا دیتے ہیں

  • کسان لائنوں میں لگ کر ذلیل و خوار ہو رہے ہیں، حمزہ شہباز

    کسان لائنوں میں لگ کر ذلیل و خوار ہو رہے ہیں، حمزہ شہباز

    پاکستان دنیا میں تیسرا سب سے مہنگا ترین ملک بن گیا، کیا یہ تبدیلی ہے ؟ شہباز

    پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قائد حزب اختلاف شہبازشریف نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی حکومت تین سال میں ملک کو مہنگائی، غربت اور بے روزگاری کے سمندر میں ڈبو چکی ہے

    شہباز شریف کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت عوام سے انتقام لے رہی ہے جنہیں امنگیں تھیں، وہ اس ناقص کاکردگی پر مایوس ہو چکے ہیں تین سال میں کوئی مثبت نہیں لائی جاسکی سوئی سدرن گیس نجی صنعت اور مقامی پیداوار ی یونٹس کو آج سے گیس بند کردی ہے ، کیا یہ تبدیلی ہے؟ گیس کی اس بندشن کے نتیجے میں لاکھوں لوگ بے روزگار ہوجائیں گے، کیا یہ تبدیلی لانی تھی ؟سوئی ناردرن گیس سے خیبرپختونخوا کے ایکسپورٹرز کو 9 ڈالر ایم ایم بی ٹی یو گیس ملے ، یہ تبدیلی لانی تھی؟ ملک میں گھی ساڑھے 400 روپے کلو مل رہا ہے، کیا اسے تبدیلی کہا جائے ؟ مہنگائی کا طوفان ہے اور غریب عوام ہیں، کیا اسے تبدیلی کہتے ہیں؟ سٹیٹ بنک ایک مرتبہ پھر شرح سود بڑھا نے جارہا ہے، کیا یہ تبدیلی ہے؟ دانستہ 10.2 فیصد سود پر ملنے والے قرض کو ساڑھے11 فیصد میں لیاجائے اور قومی خزانے کو 70 کروڑکا نقصان پہنچایا جائے، کیا یہ تبدیلی ہے؟ پنجاب میں سیمنٹ کے لائیسنس کھلے عام بیچے جارہے ہیں، یہ ہے وہ تبدیلی؟ پاکستان دنیا میں تیسرا سب سے مہنگا ترین ملک بن گیا، کیا یہ تبدیلی ہےَ پاکستان میں بھارت سے دوگنا مہنگائی زیادہ ہے، جنوبی ایشیا میں سب سے زیادہ مہنگائی یہاں ہے ، اسے تبدیلی کہیں؟ پاکستان سے مچھلی کی برآمد کم ہوگئی ، اسے تبدیلی کہتے ہیں؟ گوادر کے عوام حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں، ان کے حقوق چھیننے جار ہے ہوں، یہ تبدیلی ہے ؟پاکستان کا سٹیٹ بنک حکومت پاکستان کو قرض نہ دے ، یہ تبدیلی ہے؟ بنک دولت پاکستان آئی ایم ایف کے قابو میں آجائے ، اسے تبدیلی کہتے ہیں ؟ تین سال میں 20 ہزار ارب روپے کا قرض ملک پر چڑھا دیاگیا، یہ ہے تبدیلی ؟ 71 سال میں جو مجموعی قرض لیاگیا، پی ٹی آئی نے 49 مہینوں میں اس کا 69 فیصد لے لیا، یہ ہے تبدیلی؟

    دوسری جانب گندم کی کاشت کے موقع پر کھاد بحران پر اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز شریف نے اظہار تشویش کرتے ہوئے کہا کہ اقتدار کے نشے میں دھت حکمرانوں کو کسانوں کے مسائل کا ادراک ہی نہیں ہے۔ کھاد کی ایک ایک بوری کے لئے کسان لائنوں میں لگ کر ذلیل و خوار ہو رہے ہیں۔ پورے پنجاب میں گندم کی کاشت کے موقع پر کھاد غائب کرنے کے پیچھے کون سا مافیا سرگرم ہے سب کو پتا ہے۔ رحیم یار خان ، صادق آباد اور خان پور سمیت جنوبی پنجاب میں کھاد سرے سے غائب ہے۔ کسان پورٹل، کسان کارڈ اور کھاد کی قیمتیں کم کرنے کے دعوے عمران خان حکومت کا ایک اور سبز باغ نکلا۔ ڈی اے پی کی ایک بوری کی قیمت 10 ہزار روپے سے بھی زیادہ ہے جبکہ یوریا کھاد کی بوری کی قیمت دو ہزار پانچ سو روپے ہو گئی ہے۔ یہ حکومت ملکی معیشت کو ٹھکانے لگانے کے بعد پاکستان کو غذائی بحران میں بھی دھکیل چکی ہے۔

    قبل ازیں نئے چئیرمین نیب کی تقرری کا معاملہ اپوزیشن جماعتوں کی اسٹیئرنگ کمیٹی آج سر جوڑ کر بیٹھے گی،اسٹیئرنگ کمیٹی کے ورچول اجلاس میں اپوزیشن جماعتیں نئے چئیرمین نیب کے نام پر مشاورت کرے گی،اپوزیشن جماعتیں مشاورت کے بعد مختلف ناموں کو فہرست مرتب کرے گی اسٹیئرنگ کمیٹی کی جانب سے تیار کی جانے والی فہرست کی حتمی منظوری اپوزیشن لیڈر دیں گے، اپوزیشن لیڈر ناموں کی نظرثانی کے بعد نام ایوان صدر کو بھیجیں گے، ایوان صدر نئے چئیرمین نیب کے نام پر اتفاق رائے قائم کرنے کیلئے مشاورت شروع کرے گی

    @MumtaazAwan

    شہباز شریف عدالت پہنچ گئے،نیب کی شہباز شریف کی ضمانت کی درخواست مسترد کرنے کی استدعا

    کن گراونڈز پر گرفتاری درکار ہے بتایا جائے؟ شہباز شریف کے وکیل کی عدالت سے استدعا

    عدالت میں شہباز شریف کے وارنٹ گرفتاری پیش،شہباز شریف کے وکیل نے کی سیاسی گفتگو

    شہباز شریف کی ممکنہ گرفتاری، سی سی پی او لاہور ہائیکورٹ پہنچ گئے، اہم حکم دے دیا

    شہبازشریف خاندان کے خلاف منی لانڈرنگ ریفرنس،تحریری حکم نامہ جاری

    اگلا سال الیکشن کا ہے،مریم نواز نے عدالت سے کس کو دیا پیغام؟

    منی لانڈرنگ کیس،شہباز شریف پر فرد جرم کب عائد ہو گی؟ عدالت نے طلب کر لیا

    جج صاحب، جیل میں کون میرے پاس آیا اور میری ڈیمانڈ کیا تھی؟ شہباز شریف عدالت میں روپڑے

    شہباز شریف کی اہلیہ نصرت شہباز کو ملی خوشخبری

    شہباز شریف کی اہلیہ نے 13 ماہ بعد ایسا کام کیا کہ سب دیکھتے رہ گئے

    دوران تفتیش ایف آئی اے ایک آدمی پر چلاتا رہا مجھ سے بات نہیں کی،شہباز شریف

    عمران خان کو بھاگنے نہیں دینا ،حمزہ شہباز کا اعلان

    حمزہ شہباز نے بریت کی درخواست کیوں دی؟ ن لیگ کا بڑا دعویٰ

  • ان ہاؤس تبدیلی، اہم شخصیت حکومتی اراکین کی فہرست لے کر نواز شریف سے ملنے پہنچ گئی

    ان ہاؤس تبدیلی، اہم شخصیت حکومتی اراکین کی فہرست لے کر نواز شریف سے ملنے پہنچ گئی

    ان ہاؤس تبدیلی، اہم شخصیت حکومتی اراکین کی فہرست لے کر نواز شریف سے ملنے پہنچ گئی
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وفاق اور پنجاب میں ان ہاؤس تبدیلی سے متعلق دوبارہ کوششیں شروع کر دی گئی ہیں

    مسلم لیگ ن کے رہنما ایاز صادق مشن لندن میں موجود ہیں ایازصادق لندن میں ن لیگی قائد سے ملاقات کریں گے، نجی ٹی وی کے مطابق ن لیگی رہنما، سابق سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق ان ہاؤس تبدیلی کے لیے نواز شریف کو قائل کریں گے،لیگی رہنما خورشید شاہ فارمولے کے خدوخال سے آگاہ کریں گے،ان ہاؤس تبدیلی کی بابت پیپلز پارٹی سے رابطوں کا ذکر کریں گے نواز شریف کی ’ہاں‘ کی صورت میں ان ہاؤس تبدیلی کی تیاری ہو گی،ن لیگی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ 25 سے زائد حکومتی ارکان مشروط حمایت پر تیار ہیں،ایاز صادق ناراض ارکان کی ایک فہرست بھی ن لیگی قائد کو دیں گے،ن لیگ کے قائد کا گرین سگنل ملنے پر ناراض ارکان کو ملایا جائے گا،ناراض حکومتی ارکان اگلا الیکشن ن لیگ کے پلیٹ فارم پر لڑیں گے،ایاز صادق کی چند روز قبل حکومتی اتحادی جماعتوں کے اراکین سے بھی ملاقات ہوئی تھی،

    شہباز شریف بھی کہہ چکے ہیں کہ اپوزیشن تمام ہتھیار آ زمائے گی، ان ہاﺅس تبدیلی کا بھی آپشن ہے،دوسری جانب اپوزیشن نے ان ہاؤس تبدیلی کے آپشن پر غور شروع کر دیا، پیپلز پارٹی نے تجویز دی کہ ان ہاؤس تبدیلی مرحلہ وار لائی جائے،چیئرمین سینیٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد سے آغاز کیا جائے، سینیٹ میں اپوزیشن کی اکثریت ہے وہاں سے آغاز کیا جائے،سینیٹ میں کامیابی کے بعد اسد قیصرکے خلاف تحریک عدم اعتماد لائی جائے گی،

    سوشل میڈیا چیٹ سے روکنے پر بیوی نے کیا خلع کا دعویٰ دائر، شوہر نے بھی لگایا گھناؤنا الزام

    میں نے صدر عارف علوی کا انٹرویو کیا، ان سے میرا جھوٹا افیئر بنا دیا گیا،غریدہ فاروقی

    صحافیوں کے خلاف مقدمات، شیریں مزاری میدان میں آ گئیں، بڑا اعلان کر دیا

    دوران تفتیش ایف آئی اے ایک آدمی پر چلاتا رہا مجھ سے بات نہیں کی،شہباز شریف

    متحدہ اپوزیشن، بلاول نے آج سب کو بلا لیا

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سیاسی سرگرمیاں عروج پر

    چاہتے ہیں اگلے الیکشن میں دھاندلی کا رونا نہ ہو،وزیراعظم

    گیلانی کے ایک ہی چھکے نے ن لیگ کی چیخیں نکلوا دیں

    بلاول میرا بھائی کہنے کے باوجود مریم بلاول سے ناراض ہو گئیں،وجہ کیا؟

    ندیم بابر کو ہٹانا نہیں بلکہ عمران خان کے ساتھ جیل میں ڈالنا چاہئے، مریم اورنگزیب

    ن لیگ بڑی سیاسی جماعت لیکن بچوں کے حوالہ، دھینگا مشتی چھوڑیں اور آگے بڑھیں، وفاقی وزیر کا مشورہ

     سوشل میڈیا پر وزیر اعظم کے خلاف غصے کا اظہار کرنے پر بزرگ شہری گرفتار

    سب مان گئے، اب ہو گی ان ہاؤس تبدیلی، پہلے جائے گا کون؟ فیصلہ ہو گیا

    اور حکومت شہباز شریف کے آگے جھک گئی،مدد مانگ لی

    ان ہاؤس تبدیلی نہیں بلکہ نئے انتخابات، مولانا فضل الرحمان کا بلاول کو مشورہ

  • موجودہ حکومت میں غریب کے ساتھ بے جان بھی نشان عبرت

    موجودہ حکومت میں غریب کے ساتھ بے جان بھی نشان عبرت

    قصور
    موجودہ گورنمنٹ سے جہاں غریب کی ہڈیاں ٹوٹی اور دو وقت کے کھانے سے محرومی ہوئی ہے وہیں سڑکیں بھی شدید ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں،سرکار دعوے کرنے کیساتھ کام سے اجتناب بھی کرتی ہے،اربوں روپیہ کی لاگت سے بننے والا قصور بائی پاس عدم توجہی کے باعث ناکارہ

    تفصیلات کے مطابق موجودہ دور حکومت میں جہاں چلتے پھرتے زندہ انسان دو وقت کی روٹی سے محروم ہوئے ہیں وہیں ضلع قصور کی سڑکیں بھی اپنی زبوں حالی کی تصویر بنی ہوئی ہیں قصور کی سب سے اہم سڑک باٸی پاس مکمل خستہ حال ہو چکا ہے جس کی وجہ موجودہ گورنمنٹ میں ایک بار بھی مرمت نا کرنا ہے اس بائی پاس پر قصور روڈ پر واقع روہی نالہ کا پل شدید ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے اور اپنی زبوں حالی کی تصویر بنا ہوا ہے اس روڈ پر آئے روز حادثات معمول بن گئے ہیں جس سے کتنے ہی لوگ موت کا شکار ہو گئے ہیں جبکہ اس روڈ پر کڑورں روپیہ کی لاگت سے لائٹیں لگ تو گئی لیکن چل نہ سکی ہیں جس کے باعث ابتک سینکڑوں وارداتیں ہو چکی ہیں
    شہریوں نے سرکار سے فریاد کی ہے کہ خدارا اب تو کچھ کیجئے تاکہ آپ کا فوٹو شوٹ کچھ تو حقیقت پر مبنی ہو

  • تبدیلی کا سفر روانی سے جاری،10 کلو آٹا 630 روپیہ

    تبدیلی کا سفر روانی سے جاری،10 کلو آٹا 630 روپیہ

    قصور
    تبدیلی کا کامیاب سفر جاری،10 کلو آٹے کا تھیلا 630 روپیہ میں فروخت،شہری گراں فروشوں کے ہاتھوں تنگ،گورنمنٹ نشہ کرکے دعوے کرنے میں مصروف

    تفصیلات کے مطابق ملک بھر کی طرح قصور میں بھی تبدیلی سرکار کی تبدیلی کا سفر بڑی روانی سے جاری ہے
    سرکار نشہ کرکے دعوے کرنے میں مصروف ہے جبکہ عوام بیچاری گراں فروشوں کے ہاتھوں لٹنے پر مجبور ہے
    قصور اور گردونواح میں آٹے کا 10 کلو والا تھیلا 630 روپیہ میں مل رہا ہے جبکہ دکانداروں نے قسمیں کھا کر بتایا کہ مل مالکان 600 روپیہ کا تھیلا دے رہے ہیں جس کے باعث ہم 10 سے 20 روپیہ نفع لیتے ہیں اور جب کوئی فوٹو سیشن کرنا ہو تو ضلعی انتظامیہ بجائے فلور ملوں کا رخ کرنے کے ہم چھوٹے دکانداروں کو جرمانے کرکے اپنا غصہ ٹھنڈا کرتی ہے کیونکہ ان کی جرآت نہیں کہ فلور ملوں کو پرائس کنٹرول کے تابع کر سکیں اور ان کو سرکاری نرخ پر آٹا فروخت کرنے کے پابند کر سکیں

    شہریوں کا کہنا ہے کہ روزی اللہ نے دینی ہے ورنہ موجودہ گورنمنٹ تو سانس بھی نا لینے دے