Baaghi TV

Tag: تبدیلی

  • قصور میں تبدیلی شروع

    قصور میں تبدیلی شروع

    قصور میں موسم کی تبدیلی شروع
    تفصیلات کے مطابق آج صبح سے قصور اور گردونواح میں گہرے بادل چھائے ہوئے ہیں اور ساتھ میں تیز ترین آندھی بھی ہے جس کی بدولت یکدم موسم بہت ٹھنڈا اور خوش گوار ہو گیا ہے بزرگوں اور مریضوں نے جرسیاں پہن لیں امکان ہے کہ بارش ہو گی نیز دھان کی فصل کی کٹائی بھی جاری ہے بارش کی بدولت دھان کی کٹائی میں تاخیر ہو سکتی ہے

  • س سیٹھ ص صحافی …

    س سیٹھ ص صحافی …

    کچھ دنوں سے ایک مشہور اینکر پرسن کی وڈیوز گردش میں ہیں جس میں وہ چیلنج کرتے نظر آتے ہیں کہ ‘آئو مجھے گرفتار کرو۔ میں پرویز مشرف نہیں کہ بھاگ جائوں گا وغیر ہ وغیرہ’ ۔۔۔ وہ اینکر سے سیاست دان زیادہ نظرآتے ہیں۔ورنہ اُنکا پرویز مشرف سے کیا لینا دینا. شائد سیاست دانوں کے ساتھ بیٹھ بیٹھ کر اُن پر بھی سیاست دانوں کا رنگ چڑھ گیاہے۔
    مجھے حیرانی اس بات کی ہوئی کہ اتنے کھڑپینچ اینکر کو بھی اپنی بات کرنے کے لیے سوشل میڈیا کا سہارہ کیوں لینا پڑ رہاہے جبکہ وہ روز سیاست دانوں کے ساتھ ایک پرائیویٹ چینل پر ٹاک شو میں محفل سجاتاہے ۔ کیاوجہ ہے کہ وہ اپنے مسائل کے لیے ٹاک شو کا پلیٹ فارم استعمال نہیں کرسکتے آخر وہ بھی تو بڑے صحافی ہیں اور کوئی اوراینکر بھی انہیں‌ بطور گیسٹ نہیں بلاتا ورنہ تو سوشل میڈیا کی کسی بھی ویڈیو پرٹاک شوز ہورہے ہوتے ہیں ۔۔۔ یہ آداب صحافت کے خلاف ہے یا سیٹھ اس کی اجازت نہیں دیتا۔ ۔۔؟؟؟
    وجہ کوئی بھی ہوچھوٹے موٹے صحافی یا میڈیا ورکرز سوچتے ہیں کہ جب اتنا تگڑا اینکر اپنی بات ٹی وی چینل پر بات نہیں کرسکتا تو اُنکی بات کون کرے گا جو ‘تبدیلی’ آنے کے بعد سب سے زیادہ سیٹھوں کے زیر عتاب ہیں ۔ وہ سیٹھ جنہوں نے انہی میڈیاورکرزکے خون پسینے سے بڑی بڑی ایمپائرز کھڑی کی ہیں ۔ایک چینل سے کئی چینل بنائے اور کئی کاروبار کھڑے کیے ۔جب اُنکا زرہ سا منافع کم ہوا تو سارا بوجھ میڈیا ورکرز پر ڈال دیاگیا۔ اخبار ہوں یا نیوز چینلز، سب نے بڑی تعداد میں میڈیا ورکرز کو نکال باہرکیا۔ تنخواہیں تیس فیصد سے لیکر پچاس فیصد تک کم کردی گئیں.
    حد تو یہ ہے کہ حالات کا رونا روتے ہوئے میڈیا کے سیٹھوں نے دو دو تینن تین تنخواہیں نیچے لگادیں ۔۔۔ کوئی چھوڑ کر جانا چاہے تو کہاجاتا ہے شوق سے جائوگزشتہ تنخواہیں نہیں ملے گی… مگر یہ تو اینکرز کا مسئلہ ہی نہیں !
    یہی ویڈیو والے اینکر صاحب مزدور ڈے پر ٹائ کوٹ چڑھا کر ایک بھٹے پر مزدوروں سے سوال کرتے نظرآئے کہ اُن کی زندگی کیسے گزرتی ہے اور پھر کسی مزدور کی داد رسی کروا کر ٹوئیٹر پر خود داد بھی سمیٹے نظر آئے ۔۔لیکن کیا ان اینکر صاب کو شائد یہ پتہ نہیں کہ میڈیا ورکرز کی حالت بھٹہ مزدوروں جیسی ہے ۔ میڈیا ورکرز بھی سیٹھوں کے ہاتھوں یرغمال بنے ہوئے ہیں ۔ سیٹھ ڈٹھائی سے ورکرز کی کئی تنخواہیں نیچے لگا رکھتے ہیں . حد تویہ ہے ہمارے جوڈیشیل سسٹم سے ورکرز کی بجائے سیٹھوں کو زیادہ ریلیف ملتے دیکھاہے۔ ۔۔
    اینکرز سارا دن چینلوں پر بیٹھ کر سیاسی دنگل کرواتے ہیں لیکن کتنی بار ایساہوا کہ کبھی میڈیا ورکرز کے استحصال پر کوئی پروگرام کیا گیاہو۔
    اگرکبھی کوئی چینل بند ہوتاہے تو یہی ورکررز ہوتے ہیں جو سڑکوں پر نظر آتے ہیں۔ اور سیٹھوں کے لیے آزادی اظہار کی جنگ لڑتے نظر آتے ہیں۔ لیکن جب یہی سیٹھ ورکرز کے چولھے بند کردیتے ہیں تو اور ورکرز سراپا احتجاج ہوتے ہیں تو کوئی بھی ٹی وی چینل ان کی آواز نہیں بنتا کوئی بھی اینکر ورکرز کا مقدمہ نہیں لڑتا۔کیونکہ سیٹھ اجازت نہیں دیتا۔ کئی میڈیا ورکرز جو کئی کئ سالوں سے سیٹھوں کے پاس کام کررہےتھے جھٹ میں فارغ کر دیے گئے۔ ان میں سے کچھ چھوٹے موٹے کام ڈھونڈ رہے ہیں۔ اور کچھ یوٹیوب پر طبع آزمائی کررہے ہیں ۔۔۔

    پرانے چینلوں سے جو لوگ نکالے گئے انہوں نے نئے آنے والے چینلوں کا رُخ کیا مگر وہاں بھی حالات ورکرز کے حق میں اچھے نہیں۔ یونیورسٹی سےڈگریاں لینے کے بعد جب سٹوڈنٹس نیوز چینلزکا رُخ کرتے ہیں توانہیں انٹرنشپ کے نام پر چھ چھ مہینے مفت کام کروایا جاتاہے ۔ اور پھر 15 ، 20 ہزار پر نوکری دے دی جاتی ہے ۔جو کئی کئی سال تک نہینں بڑھتی ۔ کئی ٹی وی چینل ایسے بھی ہیں جو اس سے بھی کم تنخواہ پر لوگوں کو رکتھے ہیں ۔مگر وہ بھی چھ چھ مہینے نہیں دیتے ۔ نہ میڈیکل نہ فیول اورنہ گریجوئٹی وغیرہ ۔
    اُن کے بارے میں کہا جاتا ہے ‘تُھوک سے پکوڑے تلتے ہیں’ اورمیڈیا ورکرز اکلوتی سیلری پر لگے رہتے ہیں اور وہ بھی وقت پر نہیں ملتی۔

    جو حال ہمارے ملک کے میڈیا ہائوسز کاہے میرے خیال میں میڈیا کی تعلیم میں یہ سبق بھی ڈالاجائےکہ میڈیاکی چھوٹی موٹی نوکری وہ کرے جواس کے ساتھ کوئی دوسرا کاروبار بھی کررہاہو۔۔۔یاپھر شادی بیاہ ، بیوی بچوں کے جھنجھٹ میں نہ پڑے کیونکہ یہ نوکری کسی بھی وقت جاسکتی ہے ۔۔۔

    لیکن یہ مسائل چھوٹے موٹے صحافیوں اورمیڈیا ورکرز کے ہیں ۔ بڑے اینکروں کے نہیں۔ کیونکہ یہ لوگ تو چینلوں سے لاکھوں روپے تنخواہ اور مراعات لیتے ہیں اور سیٹھ بھی انہیں تنخواہیں وقت سے بھی پہلےدے دیتے ہیں۔ کچھ اینکرز ایسے بھی ہیں جنہیں نوکری سے نکالا نہیں جاتا بلکہ یہ خود نئی نوکری پر چلے جاتےہیں ۔ تو پھروہ اینکرز ان ایشوز پر بات کر کہ سیٹھ کو ناراض کیوں کریں گے ۔
    رہی بات صحافتی تنظیموں کی تویہ تنظیمیں سال کے آخرمیں الیکشن کے دنوں میں جاگتی ہیں ۔صحافیوں کے حقوق کے خوب نعرے لگائے جاتے ہیں اورپھر آپس میں لڑ بھڑ کر ہار جیت کر سب سال بھر کے لیے ٹھنڈے پڑے جاتے ہیں ۔ پیمرا کی نظر بھی صرف مواد پر ہوتی ہے ۔میڈیا ہاوءسز میں صحافیوں کے  ہونے والے استحصال پر نہیں

    لیکن ایک بات ہے ۔۔جبسے ‘تبدیلی’ کی گرم ہوا چلی ہے ۔۔اس کی تپش کچھ اینکرز کوبھی لپیٹ میں لے رہی ہے ۔۔ کچھ فارغ کردیے گئے اور وہ اب یوٹیوب پر اپنا منجن بیچ رہے ہیں اور کچھ خاموشی سے تنخواہ کٹوا کر کام کررہے ہیں ۔ لیکن سیٹھ کو کوئی فرق نہیں پڑاکیونکہ اُس کے ٹی وی چینلز کے علاوہ بھی کئی کاروبار ہیں ۔ اور تبدیلی کےاثرات صرف میڈیا ورکرز ہی جھیل رہے ہیں ۔
    آئے روز چینلوں سے لوگ نکالے جارہے ہیں ۔۔اوروہ کبوتر کی طرح آنکھیں بند کیے بیٹھے رہتے ہیں ۔۔۔جو فارغ ہوجاتے ہیں اپنی قسمت پر آنسو بہاتے ہیں اور بچ جانے والے شکر بجا لاتے ہیں ۔۔سیٹھ کے آگے سب بے بس ہیں
    آزادی اظہار کا ڈھنڈورا پیٹنے والوں کو میں اُس دن مانوں گا جب رپورٹر، کیمرہ مین ، ڈرائیور ، او بی وین آپریٹر، پی سی آر اور ایم سی آر سٹاف، نیوز روم ورکرز، رائٹرز، پروڈیوسرز، نان لینئر ایڈیٹرز اور دیگر ورکرز کے مسائل کے بارے میں بھی بولیں گے ! وہاں آزادی اظہار کے بھاشن اچھے نہیں لگتے جہا ں میڈیا ورکر یہ سوچ کر دفتر جائے کہ پتہ نہیں آج نوکری رہتی ہے یا پھر خدا حافظ کا پروانہ ملتا ہے ۔ یہاں سیٹھ کی چلتی ہے صحافی کی نہیں اور سیٹھ صرف کاروبار کرتا ہے اور اُسکی نظر صرف منافع پر ہوتی ہے صحافت جائے بھاڑ میں .

     

  • مزدور کو خودکشی کی اجازت دے دیں … شاہ زین

    مزدور کو خودکشی کی اجازت دے دیں … شاہ زین

    ایک مزدور جو پاکستان کی نوے فیصد غریب آبادی کا نمائندہ ہے اسے اس بات سے بالکل بھی کوئی سروکار نہیں کہ پاکستان پہ قرضہ ہے یا نہیں، وہ نہیں جانتا کہ فائلر و نان فائلر ہونا کیا ہے، اسے نہیں معلوم کہ نواشریف کیا کھاتا ہے کیا نہیں، زرداری نے کتنی منی لانڈرنگ کی، ایان کو ٹی وی پہ دیکھ کر وہ صرف آنکھیں ٹھنڈی کرتا ہے باقی اسے کچھ علم نہیں ،
    اس نے کبھی معشیت کو نقصان نہیں پہنچایا ، اس نے ایک دھیلے کی کرپشن نہیں کی، اس نے کوئی پلاٹ بنگلے نہیں بنائے، وہ نہیں جانتا کہ اے سی میں سونا کیسا ہوتا ہے، لینڈ کروزر میں بیٹھنا کیا ہوتا ہے، شام کو لان پہ چائے پینا کیسا ہے، کے ایف سی، میکڈونلڈ، برگر کنگ کیا بلا ہے، اسکی زندگی صبح پھاؤڑے، ریڑھی، چھوٹی سی دکان یا چھوٹی سی نوکری سے شروع ہوتی ہے، اور شام کو بیوی بچوں کے ساتھ ختم، وہ عیاشیاں نہیں کرتا وہ زندگی گزارتا نہیں ہے وہ وقت کاٹ رہا ہوتا ہے، وہ اتنا جانتا ہے کہ ایک ٹافی و ماچس سے لیکر پیٹرول وہ بجلی گیس کے بلوں پہ ٹیکس تک وہ حکومت کو روزانہ اپنی سات آٹھ سو کی دھیاڑی سے کم از کم بھی ایک سو روپے ادا کررہا ہے، یہ ایک سو روپیہ کماتے ہوے اسکا بے تحاشہ پسینہ بہتا ہے، پچاس کلو کی بیس بوریاں کاندھے پہ لاد کر ٹرک پہ گرائیں تو ایک سو بنتا ہے، ڈیڑھ گھنٹہ مزدوریاں کریں تو ایک سو بنتا ہے
    اس سب کے بعد جب آپ گھی، چینی، آٹا اس کے پہنچ سے دور کردیں گے، وہ جو دو لقمے لگا رہا ہے اس میں سے بھی اسکا اور اسکے بچوں کا ایک لقمہ چھین لیں گے، تو بتائیں وہ کیا کرے؟
    روزانہ سو روپے اس سے لینے کے باوجود، آپ اس کا کھانا پینا اجیرن کردیتے ہیں، آپ اس پہ مہنگائی کا ایٹم بم گرا دیتے ہیں اور تو اور اس کی ادویات پچاس فیصد اضافہ کرکے اس سے زندہ رہنے کا بھی حق چھین لیتے ہیں تو حضور وہ کیسے حوصلہ کرے؟
    آپ دو فیصد چوروں کی سزا اٹھانوے فیصد معصوموں کو دے کر ان کی زندگی تباہ کر کے فرماتے ہیں کہ
    حوصلہ کرو گھبرانا نہیں
    نہیں مطلب وہ کیسے نا گھبرائے؟
    اچھا وہ نہیں گھبرائے گا اسے اپنے بچے مار کر خودکشی کی اجازت دے دیں
    مہربانی ہوگی.


    شاہ زین

  • تبدیلی کیسے آتی ہے؟؟؟ محمد نعیم شہزاد

    تبدیلی کیسے آتی ہے؟؟؟ محمد نعیم شہزاد

    تبدیلی کیسے آتی ہےتبدیلی زندگی کی علامت ہے۔ تبدیلی ایک مستقل عمل ہے جو جاری رہتا ہے۔ وقت، موسم انسان، معاشرہ اور اقوام سب تبدیلی کا مظہر ہیں۔ عمرانی لحاظ سے تبدیلی سوچ و فکر کے زاویہ اور طرز عمل کے تبدیل ہونے کا نام ہے۔ تبدیلی مثبت اور منفی دونوں پہلوؤں میں وقوع پذیر ہو سکتی ہے۔ بعض تبدیلیاں عارضی اور وقتی ہوتی ہیں اور کچھ تبدیلیاں مستقل ہوتی ہیں۔ بہت سے مواقع پر ہم تبدیلی کا محرک ہوتے ہیں اور کسی موقع پر ہمیں تبدیلی کے زیرِ اثر خود کو تبدیلی کے مطابق ڈھالنا پڑتا ہے۔ بعض تبدیلیاں اس قدر مستقل اور باقاعدہ ہوتی ہیں کہ ہم انہیں تبدیلیوں کو محسوس ہی نہیں کرتے۔ پھر یہ تبدیلیاں لوگوں کی زندگی پر مختلف طرح اثر انداز ہوتی ہیں اور ہر ایک کی حساسیت بھی مختلف ہوتی ہے۔ بعض افراد اس قدر ذکی الحس ہوتے ہیں کہ وہ آئندہ ہونے والی تبدیلیوں کا پیشگی اندازہ کر لیتے ہیں اور کچھ اس قدر غیر حساس ہوتے ہیں کہ بڑی سے بڑی تبدیلی کو محسوس نہیں کر پاتے۔
    اقوام اور معاشرے افراد سے وجود میں آتے ہیں اور افراد میں انفرادی و اجتماعی تبدیلیاں ہی قوم میں تبدیلی لاتی ہیں۔ اس حوالے سے قرآن مجید میں بیان کردہ اللہ تعالیٰ کا اصول بھی یاد رہنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ اس وقت تک کسی قوم کی حالت نہیں بدلتے جب تک افراد تبدیلی کے لیے کوشش نہیں کرتے۔ ساتھ ہی ساتھ یہ بھی مد نظر رہے کہ تبدیلی محض ہمارے منصوبہ، عمل اور فکر سے نہیں آنی بلکہ اس کے پیچھے ایک سوچ کارفرما ہوتی ہے۔ اگر حاکم وقت یا کسی ادارے کا سربراہ اپنے ملک یا ادارے میں اصطلاحات چاہتا ہے تو اس کے لیے جہاں اس کی منصوبہ بندی اور اس کے مطابق لیے گئے اقدامات اہم ہیں وہیں اس کی اور قوم کی انفرادی و مجموعی سوچ بھی اس پر اثر انداز ہوتی ہے۔
    تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو خیر القرون میں ہم ایک ایسا فکر انگیز واقعہ دیکھتے ہیں کہ جب حکمران قوم کی فلاح و بہبود اور انتظامی امور کی بہتری کے لیے رات کی تاریکی میں شہر کی گلیوں میں گشت کرتا ہے اور ایک گھر کے باہر سے گزرتے ہوئے اس کی سماعت سے پر فکر الفاظ ٹکراتے ہیں۔ یہ الفاظ ایک لڑکی کے ہیں جو اپنی والدہ کا دودھ میں پانی ملانے کا حکم بجا نہیں لاتی اور بتاتی ہے کہ خلیفہ نے اس کام سے منع کیا ہوا ہے۔ اس لڑکی کا اگلا جملہ ہماری عقل کے بند دریچوں کو وا کرنے کے لیے کافی ہے۔ جب ماں نے بیٹی سے کہا کہ خلیفہ کب ہمیں دیکھ رہا ہے تو دانا و زیرک اور خوفِ خدا رکھنے والی لڑکی نے جواب دیا کہ اللہ تو ہمیں دیکھ رہا ہے۔
    بس اس ایک جملے سے تبدیلی کا اصل محرک معلوم ہو جاتا ہے۔ ذرا غور تو کریں وہ کیا چیز تھی جس نے اس لڑکی کو ملاوٹ کے اس عمل سے روکا اور وہ کون سی قوت تھی جس نے لڑکی کو انکار کرنے کی اخلاقی جرأت دی؟
    جواب واضح ہے، خوفِ خدا اور بلا تفریق و تمیز احتساب کا احساس۔
    اب ہم دیکھتے ہیں وطن عزیز میں تبدیلی کے خواب کو۔ یقیناً حاکمِ وقت تبدیلی کے لیے پر عزم ہے اور اس کے لیے ضروری اقدامات بھی لیے جا رہے ہیں۔ مگر گزارش ہے کہ آپ جس قدر بھی احتساب اور قانون کے عمل کو سخت، شفاف اور مستعد کر لیں، چیک اینڈ بیلنس پر سو فیصد عملدرآمد مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہے۔ جتنے بھی ادارے اور ضابطے بنا لیں جب تک احساس ذمہ داری بیدار نہیں ہوتا حقیقی معنوں میں تبدیلی ناپید رہے گی۔ انفرادی اور مجموعی طور پر خوفِ خدا، تقویٰ اور احتساب کا احساس پیدا کیے بغیر تبدیلی کے اس خواب کی تعبیر ممکن نہیں ہے۔
    حکمران سے لے کر وطن کے ہر شہری کو یہ احساس بیدار کرنا ہو گا کہ اللہ دیکھ رہا ہے۔ بے شک اللہ کا خوف ہی حکمت و دانائی کے اعلیٰ مقام پر ہونے کی علامت ہے۔

  • تبدیلی کی ابتدا، مگر کہاں سے؟؟؟  اسامہ چوہدری

    تبدیلی کی ابتدا، مگر کہاں سے؟؟؟ اسامہ چوہدری

    شوارموں میں مُردہ مرغی کا گوشت، ہوٹلوں میں گدھوں کا گوشت، گدھے نہ بھی ہوں تو بیمار مریل جانوروں کا سستا گوشت، گاڑی دیکھتے ہی سبزی کا، فروٹس کا ریٹ اچانک سے بڑھا دینا، مرچوں میں اینٹیں, پیس کر ملانا، چائے کی پتی میں اصل پتی کی جگہ چنوں کا رنگ کیا ہوا چھلکا استعمال کرنا،ٹائروں میں ایک پنکچر کی جگہ زیادہ پنکچر کرنا،کالی مرچ کی جگہ اونٹوں کی ایک خاص غذا کو کالی مرچ بنا کر فروخت کرنا، استادوں کا صرف اخبار پڑھنےکے لئے اسکول جانا اور پھر حکومت سے گلے شکوے کرنا کہ حکومت نے تعلیم کا بیڑا غرق کردیا ،سرکاری ڈاکٹرز کا ہسپتال میں آئے مریضوں کو دھکے دے کر ہسپتال میں سے باہر نکالنا،پولیس والوں کا بغیر رشوت کے کام نہ کرنا اور کام کرنے کے عوض سائل سے مٹھائی ،پولیس موبائل کے لئے ڈیزل کے پیسے اور چائے کےلئے پیسے وصول کرنا،ایک الیکٹریشن کا چند ٹکوں کی خاطرالیکٹرک چیزوں کو خود سے خراب کر دینا ،ہمارا صفائی کے بعد گھروں اور دکانوں کا کوڑا باہر سڑک پر پھینک دینا اور اپنا کاروبار چمکانے کی خاطر وال چاکنگ کر کر کے اس ملک کی دیواروں کو گندا کرنا یہ سب کام ہم خود کرتے ہیں اور گلے شکوے کرتے ہیں حکومتوں سے کہ ہماری حکومت ٹھیک نہیں ہے ،حکومت کام نہیں کررہی۔حکومت کام تب ہی کرے گی جب ہمیں اس ملک کا احساس ہوگا جب ہم اس ملک کو اپنا گھر سمجھیں گے اور اس کی حفاطت اسی طرح کریں گے جیسے اپنے گھروں کی اور اپنے ذاتی سامان کی حفاظت کرتے ہیں ،جی ہاں یہ ملک تب ہی ترقی کرے گا جب ہم اپنے رویوں میں تبدیلی لائیں گے جب ہم اپنے وطن کے لئے کچھ کرنے کا جذبہ رکھتے ہوں گے اور اس کی عملی تصویر بھی پیش کریں گے تب آئے گی تبدیلی ،تب بنے گا ہمارا ملک ایشین ٹائیگر ،تب سنورے گی یہ پاک دھرتی اور تب ہم اس قابل ہوں گے کہ دنیا کہ کسی بھی کونے میں جائیں ہم وہاں فخر سے رہ سکیں ،جب ہم کسی غیر ملکی ائیرپورٹ پہ اتریں تو ہمیں بغیر تلاشی کے آزادانہ گھومنے پھرنے کی اجازت ہو اور ہمارا چہرہ دنیا کے سامنے ایک مہذب، پرامن اور ایک اچھی قوم کے طور پہ سامنے آئے تو ہمیں سب سے پہلے خود کو بدلنا ہوگا، ہمیں سب سے پہلے اپنی ذات میں انقلاب لانا ہوگا۔