Baaghi TV

Tag: تحریک انصاف

  • علی امین گنڈا پور کی صحافیوں کے خلاف نازیبا اور گھٹیا زبان،صحافیوں کی مذمت

    علی امین گنڈا پور کی صحافیوں کے خلاف نازیبا اور گھٹیا زبان،صحافیوں کی مذمت

    راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹ نے وزیر اعلی خیبر پختونخواہ علی امین گنڈا پور کی جانب سے ملک بھر کی صحافی برادری اور بالخصوص خواتین صحافیوں کے خلاف نازیبا اور گھٹیا زبان کے استعمال کی شدید مذمت کی ہے

    راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹ کے صدر طارق ورک، سیکریٹری آصف بشیر چودھری، سیکریٹری فنانس ندیم چودھری اور مجلس عاملہ کے منتخب ارکان سمیت پوری تنظیم نے وزیر اعلی کے پی کے کی جانب سے صحافتی برادری کے خلاف نازیبا اور شرمناک زبان کے استعمال کو ان کی تربیت کی کمی قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے_ آر آئی یو جے کے بیان میں کہا گیا ہے کہ اپنے دور حکومت میں سابق وزیر اعظم عمران خان بھی میڈیا پر بکنے سمیت متعدد بلا جواز الزامات اور تنقید کرتے رہے ہیں تاہم اب جیل میں وہ اسی میڈیا کی تعریف اور میڈیا کے نمائندوں کی رسائی کی دہائیاں دیتے نظر آتے ہیں_ آر آئی یو جے نے کہا ہے کہ علی امین گنڈا پور کی جانب سے پوری صحافتی برادری اور بالخصوص خواتین کے بارے میں گھٹیا زبان کے استعمال سے ثابت ہو گیا ہے کہ سیاسی ناکامیوں کا زمہ دار میڈیا کو ٹھہرانا پی ٹی آئی کی تربیت کا حصہ ہے_ اہل قلم کو دھمکیاں دینے والے بہادر وزیر اعلی کی بہادری کا یہ عالم ہے کہ وہ خود دہشت گردوں کو بھتہ دے کر زندگی گزار رہا ہے_

    آر آئی یو جے واضع کرتی ہے کہ پی ٹی آئی رہنماء کے اس طرز عمل پر جلد ہی آئندہ لائحہ عمل کا اعلان بھی کیا جائے گا اور ملک بھر کی صحافی برادری پر الزام تراشی بالخصوص خواتین کے بارے میں نازیبا بیان بازی کو تمام متعلقہ فورمز پر اٹھایا جائے گا_

    تحریک انصاف چاہتی ہے انصاف کا نظام جلسے اور جتھے چلائیں،شیری رحمان

    تمہارے جیسے کئی بھگتائے ہیں اُس خاتون وزیراعلیٰ نے، عطا تارڑ

    وہی ہوا جس کا ڈر تھا،علی امین گنڈاپور کی ریاست کو دھمکیاں،اگلے دو ہفتے اہم

    غلیظ بیانات کی وجہ سے 9 مئی کا مجرم علی امین گنڈا پور کے ساتھ کھڑا ہے،مریم اورنگزیب

    تنظیم کی کمی ہی انقلاب کی راہ میں رکاوٹ ہوتی ہے، محمود خان اچکزئی کا پی ٹی آئی کارکنان پر تنقید

    پی ٹی آئی کا بیانیہ دفن ہو گیا، عطا تارڑ

    خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کنٹرول کرو یا حلیف ہونے کا اعتراف کرو، خواجہ آصف

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کے صحافیوں پر بے بنیاد الزامات، بیٹ رپورٹرز کی شدید مذمت

    پی ٹی آئی جلسہ،علی امین گنڈا پور کی دھمکیاں،پولیس پر پتھراؤ،شوفلاپ

    عظٰمی بخاری نے پی ٹی آئی جلسے کی فیک پوسٹیں شیئر کردیں

  • رؤف حسن کا ایک اور پاکستان مخالف بھارتی تجزیہ کار  کے ساتھ رابطوں کا انکشاف

    رؤف حسن کا ایک اور پاکستان مخالف بھارتی تجزیہ کار کے ساتھ رابطوں کا انکشاف

    تحریک انصاف کے ترجمان رؤف حسن کی بھارتی راہول رائے چودھری کیساتھ پاکستان مخالف گفتگو منظر عام پرآگئی جبکہ بانی پی ٹی آئی کے ریاست مخالف بیانیے کو پھیلانے میں ایک اور بھارتی سہولت کاری بے نقاب ہو گئی۔

    پی ٹی آئی کے ترجمان رؤف حسن کا امریکی صحافی رائن گرِم، بھارتی صحافی کرن تھاپر، مائیکل کوگل مین کے بعد اب پاکستان مخالف اور را سپانسرڈ بھارتی تجزیہ نگار راہول رائے چودھری کے ساتھ بھی واٹس ایپ کے ذریعے رابطوں کے ہوش ربا انکشافات منظرِ عام پر آگئے۔واٹس ایپ پیغامات سے واضح دکھائی دیتا ہے کہ روف حسن، غیر ملکی اور بھارتی لابی بانی پی ٹی آئی کے ریاست مخالف ایجنڈے کی تکمیل کے لیے پوری طرح متحرک ہیں،بھارتی را اسپانسرڈ تجزیہ نگار راہول رائے چودھری نے روف حسن سے کشمیر کے حوالے سے ایک مضمون کی تصدیق کے لیے رابطہ قائم کیا۔جواب میں رؤف حسن نے فوج کی اعلیٰ قیادت پر الزام دھرتے ہوئے بھارتی تجزیہ نگار سے ملاقات کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ”جزوی طور پر درست ہے، باجوہ مفاہمت کی خواہش مند تھے ہم کل اس پر تفصیل سے بات کر سکتے ہیں اگر آپ کے پاس کچھ وقت ہوگا” ۔راہول رائے چودھری نے جواب دیا کہ ”منگل کو پھر 3.30 تک ملتے ہیں کل میری ایک اور میٹنگ ہے جو 11.30 بجے شروع ہوگی” ۔

    بھارتی راہول رائے چودھری کے ایک اور پیغام سے واضح نظر آرہا ہے کہ وہ رؤف حسن سے پاک فوج مخالف معلومات حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔راہول رائے چودھری رؤف حسن سے کہتا ہے کہ ”ہیلو رؤف مجھے آپ کے بارے میں فکر ہورہی ہے، براہ کرم اپنے آپ کو محفوظ رکھیں اور امید ہے کہ آپ کو گرفتار نہیں کیا جائے گا“،”ایسا لگتا ہے کہ فوج ممکنہ طور پراس موقع کو زیادہ موثر کنٹرول حاصل کرنے کے طور پر استعمال کر رہی ہے“۔راہول رائے چودھری اپنی چال میں کامیاب رہا اور جواب میں رؤف حسن نے کھل کر پاک فوج کیخلاف ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہا کہ ”شکریہ راہول میں کم از کم اس وقت ٹھیک ہوں لیکن ملک تیزی سے افراتفری اور تباہی کی طرف جا رہا ہے““لوگ پولیس کے بجائے اب فوج کے سامنا کھڑے ہیں کیونکہ احتجاج بلاروک ٹوک جاری ہے“۔

    پیغام میں روف حسن نے اپنے اگلے لائحہ عمل کا واضح اشارہ دیتے ہوئے کہا کہ ”میں لندن کے دورے کا منصوبہ بنا رہا ہوں، اگر ایئرپورٹ پر نہ روکا گیا۔ میں آپ کو اپ ڈیٹ کرتا رہوں گا“۔رؤف حسن ایک اور طویل پیغام میں راہول رائے چودھری کو پاکستان کی منفی منظر کشی کرتے ہوئے جبر اور ظلم سے چلائے جانے والا ملک قرار دیتے ہوئے کہتا ہے کہ ”ہیلو راہول مجھے امید ہے کہ آپ اور فیملی سب خیریت سے ہوں گے۔ میں بھی حالات میں بہت کم بہتری کے ساتھ ان پریشان کن ہفتوں اور مہینوں میں زندہ رہنے میں کامیاب ہو گیا ہوں ”۔رؤف حسن نے کہا کہ ”جبر اور فسطائیت کی قوتیں عروج پر ہیں۔ میرا سفر کا منصوبہ ابھی بھی ہے لیکن میں صرف بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کا انتظار کر رہا ہوں جس کی 10 الگ الگ مواقع پر مجھے عدالتی اجازت ناموں کے باوجود ابھی تک اجازت نہیں دی گئی”۔

    ان واٹس ایپ پیغامات سے یہ انکشاف بھی سامنے آیا کہ رؤف حسن نے حیران کن طور پر راہول رائے چودھری کے کہنے پر اپنا پاسپورٹ بھی اس کے ساتھ شیئر کیا، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ رؤف حسن کا بھارتی خفیہ ایجنسیوں کے ساتھ قریبی تعلق ہے جو اسے اپنے مقاصد کیلئے استعمال کرنے کیلئے سپانسرکرتی ہیں۔رؤف حسن کی جانب سے پاسپورٹ شیئر کئے جانے کے بعد راہول رائے چودھری کہتا ہے کہ ”بہت خوب، شکریہ، ہم آپ کے ویزے کیلئے کوشش کر رہے ہیں، راہول رائے چودھری نے رؤف حسن کو فضائی ٹکٹوں کی بھی تفصیلات شیئر کیں“۔جس کے جواب میں رؤف حسن اس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہتا ہے کہ ”بہت مہربانی، آپ کی دعوت کا مشکور ہوں“۔

    یہاں یہ واضح دکھائی دے رہا ہے کہ کیسے بھارتی خفیہ ادارے اور ہندوستانی میڈیا بانی پی ٹی آئی عمران خان کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کی سہولت کاری فراہم کررہے ہیں۔

    اسرائیل نیازی گٹھ جوڑ بے نقاب،صیہونی لابی عمران کو بچانے کیلئے متحرک

    عمران خان اور پی ٹی آئی نے ملک دشمنی میں تمام حدیں پار کر دیں

    امریکی ایوان نمائندگان میں قرارداد،پاکستان کے خلاف آپریشن گولڈ اسمتھ کی ایک کڑی

    آپریشن گولڈ سمتھ کی کمر ٹوٹ گئی،انتشاری ٹولہ ایڑھیاں رگڑے گا

    تحریک انصاف کی ملک دشمنی ایک بار پھر کھل کر سامنے آ گئی

    14 سال سے خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی سرکار،اربوں بجٹ وصول،کارکردگی زیرو

    عمران پر جیل میں تشدد ہوا،مجھے مرد اہلکار نے…بشریٰ بی بی نے سنگین الزام عائد کر دیا

    عمران خان کے ریاست مخالف بیانیے کو پھیلانے میں بھارتی سہولت کاری بے نقاب

    پی ٹی آئی سنٹرل میڈیا سے پروپیگنڈے کے ناقابلِ تردید شواہد منظر عام پر

    فیض حمید کے بارے مبشر لقمان کے پروگرام کھرا سچ میں محسن بیگ کے چشم کشا انکشافات

    جنرل فیض حمید کا 30 سال تک قبضے کا منصوبہ،بغاوت ثابت؟

    فیض نیازی گٹھ جوڑ جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ نے کیسے توڑا تھا؟ اہم انکشافات

    فیض حمید کی گرفتاری پر خلیل قمر،عمر عادل خوش،اڈیالہ جیل سے جاسوس گرفتار

    دفاعی تجزیہ نگار رؤف حسن کے راہول چودھری کے ساتھ پیغامات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ پیغام رسانی دراصل راہول رائے چودھری سمیت دیگر بھارتی صحافیوں کی پشت پر بیٹھے ”را“کے اہلکاروں کے لیے معلومات کا خزانہ ہے.دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کے ترجمان نے ان پیغامات کے ذریعے ملکی حساس معلومات ایک بھارتی تجزیہ نگار کو پہنچائیں جس کے شواہد ان واٹس ایپ پیغامات سے ظاہر ہیں۔یہ واٹس ایپ پیغامات اس بات کی بھی تصدیق کرتے ہیں کہ پی ٹی آئی کے رؤف حسن نے بھارتی تجزیہ نگار راہول رائے چودھری کو آمادہ کیا کہ وہ پاک افواج کے خلاف منفی تاثرات پر مبنی بیانیے کی تشہیر کرے۔دفاعی ماہرین کے مطابق حساس معلومات کو پہنچانے کا مقصد ریاست مخالف بیانیے کو بھارتی میڈیا میں پروپگینڈے کے طور پر استعمال کرنا تھا،راہول رائے پاکستان مخالف جانا پہچانا نام ہے جو بھارتی خفیہ ایجنسی را کی پے رول پر ہے اور کور کے طور پر ایک تھنک ٹینک آئی آئی ایس ایس سے منسلک ہے،یہ پیغامات نہ صرف ریاست کو بدنام کرنے کی سازش تھی بلکہ انقلاب کے نام پر بھارتی میڈیا میں پروپگینڈا کرنا تھا۔دفاعی ماہرین کا کہناہے کہ ان ثبوتوں کے پیش نظر رؤف حسن اور اس کے سہولت کاروں کے خلاف مکمل اور کڑی تحقیقات کی جانی چاہیے۔ رؤف حسن کی جانب سے راہول رائے چودھری کے ساتھ اس ڈیجیٹل گفتگو کے حوالے سے تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ یہ باتیں واضح طور پر غیر ملکی طاقتوں کو پاکستان کے معاملات میں اکسانے کے شواہد ہیں۔

  • امن عامہ بل،جلسہ،پی ٹی آئی قیادت پر مقدمے کی درخواست

    امن عامہ بل،جلسہ،پی ٹی آئی قیادت پر مقدمے کی درخواست

    ‏اسلام آباد پولیس نے تحریک انصاف کی قیادت کیخلاف مقدمہ درج کرنے کی درخواست دے دی،

    تحریک انصاف کے رہنماؤں عمر ایوب، زرتاج گل، عامر مغل سمیت 50 افراد کیخلاف مقدمہ درج کرنے کی درخواست دی گئی ہے۔ پرامن اجتماع اور امن عامہ بل کے تحت پہلا مقدمہ درج کیا جائے گا، درخواست کے مطابق پولیس کا کہنا ہے کہ 26 نمبر پل پر شام 5 بجے موجود تھا کہ سادات کالونی کی طرف سے پچاس ساٹھ مشتعل لوگ آئے جن کو بتلایا گیا کہ ڈی سی کی جانب سے جاری این او سی کے مطابق جلسہ کے لئے کوئی جی ٹی روڈ استعمال نہیں کر سکتا،حکم پر عمل کرنے کا کہا گیا لیکن وہ بضد رہے کہ ہماری سینئر قیادت نے ہدایات دی ہیں کہ آپ نے یہی راستہ اختیار کرنا ہے،میگافون کے ذریعے باربار دوسرا راستہ اختیار کرنے اور پرامن رہنے کا کہا گیالیکن جلوس کے شرکا مشتعل ہو گئے اور پولیس پارٹی پر پتھراؤ کر دیا،ڈنڈوں سے حملہ کیا، مظاہرین کو مشتعل کرنے کے لئے پولیس نے معمولی آنسو گیس کی شیلنگ کی،17 افراد کو قابو کیا گیا جن میں کومیل احمد، محمد عمر ،انور گل،رب نواز، سید ہارون ودیگر شامل ہیں،اس دوران باقی افراد فرار ہونے میں کامیاب ہو گئےان لوگوں نے روٹ کی خلاف ورزی کرتے ہوئےاور باہم مشورہ کرتے ہوئے کارسرکار میں مزاحمت کرتے ہوئے،ریاست کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے پی ٹی آئی کی سینئر اور مقامی قیادت عامر مغل،زرتاج گل، شعیب شاہین،راجہ بشارت،عمر ایوب،سیمابیہ طاہر،تنویر قاضی ،راجہ فیصل،سید فرزند شاہ، جمشید مغل،زبیر خان، ملک رفیق، محمد کامران،مبشر عباسی، میمونہ کمال،سعید خان،سردار نعمان،علی مغل،و دیگر کی ایماپر غیر قانونی راستہ استعمال کر کےاور دفعہ 144 کی خلاف ورزی کی ہے،مقدمہ درج کیا جائے، افسران کی منظوری کے بعد تھانہ نون میں مقدمہ درج ہو گا۔

    وہی ہوا جس کا ڈر تھا،علی امین گنڈاپور کی ریاست کو دھمکیاں،اگلے دو ہفتے اہم

    غلیظ بیانات کی وجہ سے 9 مئی کا مجرم علی امین گنڈا پور کے ساتھ کھڑا ہے،مریم اورنگزیب

    تنظیم کی کمی ہی انقلاب کی راہ میں رکاوٹ ہوتی ہے، محمود خان اچکزئی کا پی ٹی آئی کارکنان پر تنقید

    پی ٹی آئی کا بیانیہ دفن ہو گیا، عطا تارڑ

    خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کنٹرول کرو یا حلیف ہونے کا اعتراف کرو، خواجہ آصف

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کے صحافیوں پر بے بنیاد الزامات، بیٹ رپورٹرز کی شدید مذمت

    پی ٹی آئی جلسہ،علی امین گنڈا پور کی دھمکیاں،پولیس پر پتھراؤ،شوفلاپ

    عظٰمی بخاری نے پی ٹی آئی جلسے کی فیک پوسٹیں شیئر کردیں

    ریاست کے خلاف منصوبہ بندی کرنے کے جرم کی کوئی معافی نہیں،مریم اورنگزیب

    پی ٹی آئی جلسے کیلئے خیبرپختونخوا کے سرکاری وسائل کا استعمال

    حریک انصاف (پی ٹی آئی) میں اختلافات ، جلسے میں اہم رہنماؤں کو مدعو نہیں کیا گیا

     جلسے کے لیے خیبرپختونخوا کے سرکاری وسائل کا بے دریغ استعمال 

  • جلسے میں جو باتیں اور تقریریں ہوئیں وہ صرف جانور ہی کر سکتے ہیں،عظمیٰ بخاری

    جلسے میں جو باتیں اور تقریریں ہوئیں وہ صرف جانور ہی کر سکتے ہیں،عظمیٰ بخاری

    وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ گنڈاپور نے کل پھر لائن کراس کی اسکی خاندانی تربیت ہی یہی ہوئی ہےاس نے اپنی خاندانی تربیت کا مظاہرہ کیا گنڈاپور اور اسکے لیڈرکا اپنی گھر کی عورتوں کیساتھ یہی رویہ ہوگا اسے اپنے گھروں تک ہی محدود رکھےتو بہترہوگا،جلسے میں جو باتیں اور تقریریں ہوئیں وہ صرف جانور ہی کر سکتے ہیں،

    پریس کانفرنس کرتے ہوئے عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ ڈی سی اسلام آباد نے مویشی منڈی کی جگہ پی ٹی آئی کو کیوں دی، مجھے بعد میں پتہ چلا کہ وہ جگہ کیوں دی گئی، کیونکہ وہاں جو باتیں ہوئی وہ انسانوں کی نہیں تھی،جو خدشات تھے وہی ہوا ان سے انسانوں والی بات کی امید نہیں کر سکتے، کل علی امین گنڈا نے پھر سے لائن کراس کی ، اس نے اپنی خاندانی لائن دیکھائی خواتین کے خلاف گندی زبان استعمال کی ، علی امین گنڈا پور اپنی زبان اپنے گھر تک رکھے ،جب اس نے پہلی بار گندگی زبان عورتوں کے بارے میں استعمال کی تو اس کے گھر کی خواتین کو روکنا چاہیئے تھا ، میں صوبوں میں لڑائی نہیں کروانا چاہتی کیا صرف پی ٹی آئی والوں کے بنیادی حقوق ہیں؟، میں عدالتی نظام سے پوچھنا چاہتی ہوں کہ آپ نے جو کل این او سی دی اس کا انجام دیکھ لیا آپ نے،جو کچھ ہوا آپ سب کے سامنے ہیں آپ نے کیوں آنکھیں کان بند کیے ہوئے ہیں،15 دن میں علی امین گنڈاپور نے اپنا لیڈر رہا کروانا ہے میں 20 دن دیتی ہوں کروائیں رہا، ،پورے جلسہ گاہ کے اندر تین ہزار بندہ نہیں تھا ،کل آپ نے سرکاری پیسہ استعمال کیا ،اربوں روپے کا فنڈ استعمال ہوا ،سرکاری پیسہ کا استعمال جو عوام پر استعمال ہونا تھا وہ جلسہ میں خرچ ہوا ، نو مئی کے ملزمان کو جب آپ چھوڑیں گے تو یہ سب کچھ ہوگا ،جو فارمولہ گنڈا پور نے اینٹی پی ٹی آئی خواتین صحافیوں کےلئے ترتیب دیا ہے، وہ اپنی حمایتی صحافیوں کےلئے بھی پھر یہی فارمولہ ہو گا، وہ بھی لفافہ لیتی ہوں گی.اوئے! عمران خان کیا کوئی نماز قضا ہونے کےلئے جیل میں ہے، کسی بکری چوری کے کیس میں جیل میں ہے، اُس پر کیسز تو دیکھو کیا ہیں،

    غلیظ بیانات کی وجہ سے 9 مئی کا مجرم علی امین گنڈا پور کے ساتھ کھڑا ہے،مریم اورنگزیب

    تنظیم کی کمی ہی انقلاب کی راہ میں رکاوٹ ہوتی ہے، محمود خان اچکزئی کا پی ٹی آئی کارکنان پر تنقید

    پی ٹی آئی کا بیانیہ دفن ہو گیا، عطا تارڑ

    خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کنٹرول کرو یا حلیف ہونے کا اعتراف کرو، خواجہ آصف

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کے صحافیوں پر بے بنیاد الزامات، بیٹ رپورٹرز کی شدید مذمت

    پی ٹی آئی جلسہ،علی امین گنڈا پور کی دھمکیاں،پولیس پر پتھراؤ،شوفلاپ

    عظٰمی بخاری نے پی ٹی آئی جلسے کی فیک پوسٹیں شیئر کردیں

    ریاست کے خلاف منصوبہ بندی کرنے کے جرم کی کوئی معافی نہیں،مریم اورنگزیب

    پی ٹی آئی جلسے کیلئے خیبرپختونخوا کے سرکاری وسائل کا استعمال

    حریک انصاف (پی ٹی آئی) میں اختلافات ، جلسے میں اہم رہنماؤں کو مدعو نہیں کیا گیا

     جلسے کے لیے خیبرپختونخوا کے سرکاری وسائل کا بے دریغ استعمال 

  • تحریک انصاف انتشار کا دوسرا نام

    تحریک انصاف انتشار کا دوسرا نام

    پاکستان میں سب سے زیادہ پرتشدد احتجاج کی تاریخ رکھتی ہے۔ پی ٹی آئی کو جب جب جلسے کی اجازت ملی، تب تب اس نے انتشار کو فروغ دیا۔
    پی ٹی آئی کو 2014 میں احتجاج کی اجازت دی گئی، انہوں نے پارلیمنٹ پر حملہ کیا، پی ٹی وی کے ہیڈکوارٹر پر قبضہ کیا۔ ڈی چوک کا آدھا حصہ جلا دیا، کئی عمارتوں پر حملہ کیا جن میں جیو کا دفتر اور علاقے کا اسپتال شامل تھے۔

    2016 میں انہیں احتجاج کی اجازت دی گئی، انہوں نے خیبر پختونخوا حکومت کے وسائل کو استعمال کرتے ہوئے اسلام آباد کو بند کرنے کے لیے خیبر پختونخوا پولیس کو اسلام آباد اور پنجاب پولیس پر حملہ کرنے کے لیے بھیجا۔ انہوں نے صوبائی حکومت کی فورس کو وفاقی حکومت کی سیکیورٹی فورسز پر حملہ کروایا۔ انہوں نے پولیس افسران پر حملے کیے، ان کی وینز کو جلایا، جبکہ عمران خان نے خود اعتراف کیا کہ انہوں نے ان پر پٹرول بم بھی پھینکے۔

    25 مئی 2022 کو انہیں اسلام آباد کے باہر احتجاج کی اجازت دی گئی لیکن انہوں نے سپریم کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے شہر کی سڑکوں کو جلایا۔ اس کی توہین عدالت کا کیس ابھی تک سپریم کورٹ میں زیر التوا ہے۔
    9 مئی کو انہیں عمران خان کی گرفتاری پر پرامن احتجاج کی اجازت دی گئی، لیکن انہوں نے کور کمانڈر ہاؤس اور 200 سے زیادہ دیگر مقامات کو جلا دیا۔
    ان کے وزیر اعلیٰ جلسے سے پہلے اس بات پر ریکارڈ پر ہیں کہ وہ اسلام آباد آ کر بیٹھیں گے اور عمران خان کو جیل سے نکالیں گے۔

    ایسی پارٹی پر بھروسہ کیسے کیا جا سکتا ہے؟ کیا ہمارے پولیس افسران کی جانیں اور عوامی انفراسٹرکچر اتنے سستے ہیں کہ ہم پی ٹی آئی کو اس پر ناچنے دیں اور عوام اس کی قیمت ادا کرے؟

    https://twitter.com/AmjadHBokhari/status/1832827929723646257

    تجزیہ:سید امجد حسین بخاری

  • پی ٹی آئی جلسہ،علی امین گنڈا پور کی دھمکیاں،پولیس پر پتھراؤ،شوفلاپ

    پی ٹی آئی جلسہ،علی امین گنڈا پور کی دھمکیاں،پولیس پر پتھراؤ،شوفلاپ

    تحریک انصاف کا اسلام آباد جلسہ، این او سی کی خلاف ورزی، وقت ختم ہونے کے باوجود جلسہ جاری ہے

    تحریک انصاف آج اسلام آباد میں پاور شو کر رہی ہے،جلسے کے لئے این او سی میں کہا گیاتھا کہ چار بجے سے سات بجے تک جلسے کا وقت ہے، سات بجے جلسہ ختم کرنا ہو گا تاہم پی ٹی آئی نے مقررہ وقت پر جلسہ ختم نہ کیاجس کے بعد انتظامیہ نے وارننگ دی کہ جلسے کو ختم کریں لیکن پی ٹی آئی کی جانب سے جلسہ ختم نہ کیا گیا ، اب انتظامیہ کی جانب سے پی ٹی آئی کے خلاف کاروائی کی توقع ہے، این او سی کی خلاف ورزی پر پی ٹی آئی رہنماؤں پر مقدمے ، گرفتاریاں متوقع ہیں.

    دوسری جانب 26 نمبر چونگی کے مقام پر پولیس اور پی ٹی آئی کارکنان آمنے سامنے ہوئے پی ٹی آئی کارکنان کے پتھراؤ سے ایس ایس پی سیف سٹی شعیب خان زخمی ہوگئے۔ پی ٹی آئی کارکنان کے پتھراؤ سے کئی پولیس والوں کی حالت غیر ہوگئی۔وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے فوری نوٹس لیتے ہوئے آئی جی اسلام آباد پولیس سے رپورٹ طلب کرلی ہے۔ وزیرداخلہ محسن نقوینے زخمی ایس ایس پی شعیب خان سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے خیریت دریافت کی،محسن نقوی نے کہا کہ زخمی پولیس اہلکاروں کو علاج معالجے کی بہترین سہولتیں فراہم کی جائیں۔

    دوسری جانب تحریک انصاف کے جلسے کی وجہ سے کئی شہروں میں انٹرنیٹ سروس بھی ڈاؤن ہو گئی، واٹس ایپ بھی بند کر دیا گیا ہے، ویڈیو، تصاویر ڈاون لوڈ نہیں ہو رہی، فیس بک، ٹویٹر بھی بند ہے، صارفین کو سوشل میڈیا ایپس استعمال کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے

    اشتہاری مراد سعید کا ویڈیو خطاب،حماد اظہر بھی خطاب کے بعد غائب
    سنگجانی کی مویشی منڈی میں پاکستان تحریک انصاف کے جلسہ میں خٰیبر پختونخوا سے سرکاری وسائل پر عوام کو لایا گیا، پی ٹی آئی کے اشتہاری رہنما حماد اظہر بھی جلسہ گاہ آئے، خطاب کیا اور پھر غائب ہو گئے، پی ٹی آئی رہنماؤں شیر افضل مروت، ، جمشید دستی، عون عباس پبی اور دیگر نے بھی خطاب کیا،عمران خان کی بہنیں بھی جلسہ گاہ میں موجود تھیں،تحریک انصاف کے جلسے میں اشتہاری اور مفرور پی ٹی آئی رہنما مرادسعید کا ویڈیو پیٍغام بھی چلایا گیا،جلسے سے محمود اچکزئی، خالد خورشید و دیگر نے خطاب کیا، بیرسٹر گوہر نے بھی جلسے سے خطاب کیا،خالد خورشید نے یکم اکتوبر کو اڈیالہ جیل جانےکا اعلان کردیا، کہا، ہمارے مطالبات نہ مانے تو ہم اڈیالہ جیل کا رخ کریں گے، سڑکوں پر آئیں گے پھر واپس نہیں جائیں گے .بیرسٹر گوہر نے بھی جلسے سے خطاب کیا اور کہا کہ این آر او کا وقت گزر گیا، اب ماننا پڑے گا عمران خان ایک حقیقت ہیں، وہ لیڈر تھے، لیڈر ہیں اور لیڈر رہیں گے،زین قریشی نے کہا کہ شاہ محمود قریشی کا پیغام ہے متحد رہیں، جیسے 8 فروری کو عمران خان کو مینڈیٹ دیا ویسے متحد ہوکر اب عمران خان کو رہا کروانا ہے،

    پنگا مت لینا وہ حال کریں گے کہ بنگلہ دیش بھول جاؤ گے، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا
    علی امین گنڈا پور نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کے غلام ہیں، واضح پیغام دے رہے ہیں ہم عمران خان کیساتھ ہیں وہ حق کیساتھ ہے، سب کو پتہ چل گیا نہ جب زور دکھاتے ہیں تو یہ پاؤں پکڑتے ہیں، اعظم سواتی کیلئے 7 بجے گیٹ کھولے اور کہا عمران خان اللہ کا واسطہ ہے عوام کو روک لے، علی امین گنڈا پور نے وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف کو دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ خواجہ آصف تمہارا باپ بھی عمران خان کا ملٹری ٹرائل نہیں کرسکتا، جس کو تم باپ سمجھتے ہو وہ بھی نہیں کر سکتے، جنرل فیض کیا ہمیں جہیز میں ملا تھا؟ اپنا ادارہ ٹھیک کرو،اگلا جلسہ لاہور میں ہوگا، مریم میں آرہا ہوں، مینار پاکستان میں اجازت ہو گی تو ٹھیک ہو گی،پنگا مت لینا وہ حال کریں گے کہ بنگلہ دیش بھول جاؤ گے، ہمارے پٹھانوں کا اصول ہے ڈھول بھی لاتے ہیں اور بارات بھی،ایک سے دو ہفتہ میں عمران خان قانونی طور پر رہا نہ ہوا تو ہم خود عمران خان کو رہا کروائیں گے، میں لیڈ کروں گا، پہلی گولی کھاؤں گا، پیچھے نہیں ہٹنا،

    وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے ایکس پر کہا کہ جلسے کے شرپسند شرکاء نے پولیس پر پتھراؤ کیا۔ جس سے پولیس اہلکاروں کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے، اِسی لیے ہم کہتے ہیں کہ پی ٹی آئی انتشار پسند جماعت ہے اور پرامن احتجاج یا جلسہ پر یقین ہی نہیں رکھتی۔ یہ واقعہ ایک جگہ پر ہوا اور اب امن بحال ہو چکا ہے۔

    ایک اور پوسٹ میں عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ نوبت اب یہاں تک آ چُکی ہے کہ کشمیر ریلی اور چودہ اگست کی ریلیوں کی تصاویر اور ویڈیوز شئیر کر کے جلسے کی کامیابی کا تاثر دیا جا رہا ہے، تحریک انتشار کے جلسے کے یہ مناظر دیکھ کر بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کے پاکستان کی باشعور عوام انتشار اور بدامنی کی سیاست کو مسترد کر چکے ہیں۔

    صحافی حسن ایوب نے ایکس پر لکھا کہ توقعات کے عین مطابق کہ یہ 9 مئی والے تشدد اور بد امنی کا راستہ اختیار کرینگے ٹھیک ویسا ہی انہوں نے آج بھی کیا ہے ۔۔ پی ٹی آئی کارکنان کے پتھراؤ سے اس وقت تک ایس ایس پی سیف سٹی اور متعدد پولیس اہلکار زخمی ہوچکے ہیں ۔ ان حالات کی مکمل ذمہ داری تحریک انصاف کو سہولتکاری فراہم کرنے والے ججز پر عائد ہوتی ہے۔

    صحافی و اینکر غریدہ فاروقی نے ایکس پر لکھا کہ وزیراعلی خیبرپختونخوا کے قریبی سیاسی ذرائع سے میری بات ہوئی؛ بتایا گیا کہ وزیراعلی جلسے میں شرکت کرنا ہی نہیں چاہتے تھے اور اسی وجہ سے روانگی بھی تاخیر سے کی گئی اور دانستہ وہ روٹ استعمال کیا گیا جو بند تھا۔ بجائے اس روٹ کے جو انتظامیہ کیساتھ طے پایا تھا اور کھلا ہوا تھا۔

    ایک اور ٹویٹ میں غریدہ فاروقی کا کہنا تھا کہ اسلام آباد انتظامیہ نے پی ٹی آئی کیساتھ بڑا باریک کام بڑی مہارت کیساتھ کیا۔ جلسے کا مقررہ وقت دن کے اوقات میں شام 4 سے 7 بجے تک کا دیا تاکہ دن کے اُجالے میں دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو جائے۔ PTI کا تو مشہور کارہائے نمایاں ہی یہی ہے کہ رات کے اندھیرے میں بڑی بڑی فلڈ لائٹس سے عوام کے جَمِّ غفیر ہونے کا illusion تشکیل دیا جا سکے۔ پہلی بار PTI نے دن کے اُجالے میں جلسہ کیا اور مکمل ناکام ہو گیا۔ عوام نے مسترد کر دیا۔ پنجاب نے مسترد کر دیا۔ KP کی عدم دلچسپی۔ اسلام آباد/راولپنڈی sunday mode اور mood میں۔ کسی نے جلسے کیلئے نکلنا گوارا نہ کیا۔ اس سے تو بہتر تھا ایک بار پھر NOC کینسل کروا لیا جاتا؛ بڑا بھرم رہ جاتا۔ اب پتہ چلا کہ 22 اگست کا جلسہ بھی کینسل کروانے کیلئے انتہائی آسانی سے کیوں تسلیم کر لیا گیا ۔۔۔!!!! کیونکہ بندے 22 اگست کو بھی نہیں نکلنے تھے ۔۔۔ یہ جلسہ عمران خان کی رہائی کیلئے تھا ۔۔۔ اسٹیبلشمنٹ کو “انقلابی” جواب کیلئے تھا ۔۔۔۔ جلسہ تو ختم شُد ہو گیا ۔۔۔ عمران خان پہلے ہی ختم شُد ہیں ۔۔۔ صرف سوشل میڈیا پر رہے سہے انقلاب سے کام چلا لیا جائے ۔۔

    عظٰمی بخاری نے پی ٹی آئی جلسے کی فیک پوسٹیں شیئر کردیں

    ریاست کے خلاف منصوبہ بندی کرنے کے جرم کی کوئی معافی نہیں،مریم اورنگزیب

    پی ٹی آئی جلسے کیلئے خیبرپختونخوا کے سرکاری وسائل کا استعمال

    حریک انصاف (پی ٹی آئی) میں اختلافات ، جلسے میں اہم رہنماؤں کو مدعو نہیں کیا گیا

     جلسے کے لیے خیبرپختونخوا کے سرکاری وسائل کا بے دریغ استعمال 

  • اسرائیل نیازی گٹھ جوڑ بے نقاب،صیہونی لابی عمران کو بچانے کیلئے متحرک

    اسرائیل نیازی گٹھ جوڑ بے نقاب،صیہونی لابی عمران کو بچانے کیلئے متحرک

    سابق وزیراعظم عمران خان اڈیالہ جیل میں،عمران خان کو گزشتہ برس توشہ خانہ کیس میں سزا ہونے کے بعد گرفتار کیا گیا تھا ،عمران خان کو بعد ازاں دیگر مقدمات میں بھی سزائیں ہوئیں تا ہم عدالت نے سزا ختم کر دی، عمران خان اب توشہ خانہ ٹو اور نومئی کیس سمیت 190ملین پاؤنڈ کیس میں گرفتار ہیں، عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی بھی جیل میں ہیں

    عمران خان نے جیل سے رہائی کے لئے ہرممکن کوشش کی لیکن انہیں کسی صورت کامیابی نہ ملی،عمران خان کی رہائی کے لئے تحریک انصاف نے جہاں بھارتی لابی کے ساتھ ملکر بیرون ممالک میں قراردادیں لائیں، احتجاج کیا ، اداروں کے خلاف پروپیگنڈہ کیا وہیں سوشل میڈیا پر بھی مہم چلائی گئی، عمران خان کے ہامی،پاکستان مخالف ،اسرائیلیوں کے قریبی سمجھنے جانے والے رہنماؤں نے بھی عمران خان کی رہائی کے لئے آواز اٹھائی، لیکن عمران خان کو تمام تر کوششوں کے باوجود رہائی نہ مل سکی، اب اسرائیلی اخبار نے انکشاف کیا ہے کہ عمران خان نے رہائی کے لیے اسرائیل سے مدد مانگی ہے،اسرائیلی اخبار ٹائمز آف اسرائیل کے ایک مضمون کے مطابق عمران خان نے گولڈ سمتھ فیملی کے ذریعے اسرائیلی انتظامیہ سے رابطہ کیا اور کہا کہ وہ اسرائیل اور پاکستان کے درمیان تعلقات قائم کریں گے بشرطیکہ اسرائیل ان کی رہائی میں مدد کرے۔

    سوال یہ ہے کہ عمران خان کو رہائی کے لئے اسرائیل سے کیوں مدد مانگنا پڑی؟ عمران خان کہتے تھے کہ وہ پاکستان کو ریاست مدینہ کی طرز پر بنائیں گے لیکن انکے اسرائیلی حکام کے ساتھ رابطے ڈھکے چھپے نہیں تھے، اب اسرائیلی اخبار نے بھانڈا پھوڑ دیا ہے، عمران خان کو بچانے کے لیے اب اسرائیلی لابی میدان میں آ گئی ہے، سب سے پہلے عمران خان پکڑا گیا،پھر عادل راجہ بے نقاب ہوا،پھر سوشل میڈیا ٹیم کے راز کھل گئے، پھر فیض نیازی اتحاد کا پردہ فاش ہوا ، آپریشن گولڈ اسمتھ کا انکشاف ہوا۔جب سب کچھ بکھر گیا تو سہولت کاروں کو آخر کار خود ہی آگے آنا پڑا۔اسرائیل عمران خان کا سہولت کار ہے یہی وجہ ہے کہ اب اسرائیل عمران خان کی رہائی کی کوشش کرے گا لیکن پھر بھی عمران خان کو رہائی نصیب نہیں ہو گی جب تک پاکستان کی عدالتیں کوئی ایسا فیصلہ نہیں کرتیں

    اسرائیلی اخبار کی سٹوری پر سوشل میڈیا ایکٹوسٹ آر اے شہزاد کہتے ہیں کہ اسرائیل نے 75سال میں پہلی بار اقوام متحدہ میں نیازی کی رہائی کے لیے پاکستان کے خلاف آواز اٹھائی اب اسرائیل کے سب سے بڑے اخبار میں یہ لکھا کہ عمران نے اپنے یہودی سسرال کے ذریعے پیغام بھیجا کہ اسرائیل سے نارمل تعلقات کرے گا اور اسرائیل تسلیم کر کے مڈل ایسٹ کے حالات بدل جائیں گے ،اب آپ سمجھ جائیں اسرائیلی اثاثے بھلے وہ ہمارے ملک کے ڈالر خور ہوں یا بیرون ملک وہ کیوں نیازی کے ساتھ کھڑے ہو گے ہیں گیم اس سے زیادہ کلئیر نہی ہو سکتی ہے

    مسلم لیگ ن کے رہنما طلال چوہدری کہتے ہیں کہ عمران خان کا اسرائیل کے ساتھ بہت گہرا تعلق ھے،ان کی جمائما گولڈ اسمتھ سے شادی سوچیں سمجھی پلان کے تحت تھی،ان کو ہمارے خطے میں ایک ایسا شخص چاہیے تھا جو فلسطین کے خلاف اسرائیل کے مفادات کا تحفظ کرسکے، گولڈ سمتھ خاندان عمران خان کے پیچھے کھڑا ہے، اس رشتے کا مقصد ہی یہی تھا کہ اسرائیل کے مفادات کا اس خطےمیں تحفظ کیا جائے، پاکستان جو اسرائیل کے خلاف ہے اس میں ایسا ماحول بنایا جائے کہ اسرائیلی مفادات کا تحفظ ہوا،رشتے داری ختم ہو تو یہ نہیں ہوتا کہ آپ کے بچے ان کے پاس پل رہے ہوں، جمائما رشتےمیں نہیں ہے لیکن اب بھی وہ عمران کے ساتھ کھڑی ہے کیوں؟

    صحافی امجد بخاری ایکس پر کہتے ہیں کہ ٹائمز آف اسرائیل میں لگے اس مضمون کے اہم نکات
    1۔۔۔عمران خان باقی سیاستدانوں کی نسبت اسرائیل کے معاملے میں لچک رکھتا ہے۔
    2۔۔۔اطلاعات ہیں کہ عمران خان نے گولڈ اسمتھ خاندان کے ذریعے اسرائیلی حکام کو پیغامات بھیجے، جس میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے پر غور کرنے اور پاکستان میں مذہبی گفتگو کو معتدل کرنے کے لیے آمادگی کا اشارہ دیا گیا۔
    3۔۔۔اس نے مئیر لندن کے انتخاب میں یہودی امیدوار کا ساتھ دیکر یہی پیغام بھیجا
    4۔۔عمران خان کی منفرد پوزیشن، تعلقات اور اسٹریٹجک سوچ اسرائیل-پاکستان تعلقات کو بہتر کر سکتی ہے،
    5…اسرائیل اور اس کے اتحادیوں کو ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے کہ عمران خان دوبارہ پاکستانی سیاست میں حصہ لینے کے لیے آزاد ہوں اور وہ آواز بن سکیں جو ان کی ترجمانی کرے۔

    https://x.com/AmjadHBokhari/status/1832175611965829487?t=ZVVahh-CSDzL4NH9IaUC3A&s=08

    واضح رہے کہ اسرائیلی اخبار نے کہا ہے کہ ایسی اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ عمران خان نے گولڈ اسمتھ فیملی کے ذریعے اسرائیلی حکام کو پیغامات بھیجے، جس میں پاکستان اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے اور پاکستان میں مذہبی گفتگو کو اعتدال پر لانے کے لیے ان کی رضامندی کا اشارہ ملتا ہے۔ اگر یہ رپورٹس درست ہیں تو وہ اسرائیل کے بارے میں عمران خان کے نقطہ نظر میں لچک کی ایک سطح تجویز کرتی ہیں جو روایتی پاکستانی موقف سے بالاتر ہے۔ اسرائیل کے ساتھ روابط کی اس ممکنہ رضامندی کو پاکستان کی خارجہ پالیسی کو مشرق وسطیٰ کی بدلتی ہوئی حرکیات کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کے لیے ایک اسٹریٹجک اقدام کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔

    عمران خان بطور وزیراعظم اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے کیلئے تیار تھے،دعویٰ آ گیا

    یو اے ای اسرائیل معاہدہ،ترکی کے بعد پاکستان کا رد عمل بھی آ گیا

    فیصلہ ہو چکا،جنرل باجوہ محمد بن سلمان سے کیا بات کریں گے؟ جنرل (ر) غلام مصطفیٰ کے اہم انکشافات

    پاکستان اسرائیل کو اگر تسلیم کر بھی لے تو….جنرل (ر) غلام مصطفیٰ نے بڑا دعویٰ کر دیا

    اسرائیل، عرب امارات ڈیل ،غلط کیا ہوا، مبشر لقمان نے حقائق سے پردہ اٹھا دیا

    خطے میں قیام امن کیلئے اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے مابین ڈیل ہو گئی

    متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے مابین معاہدے پر ترکی بھی میدان میں آ گیا

    حالات گرم،فیصلہ کا وقت آ گیا،سعودی عرب اسرائیل کے ہاتھ کیسے مضبوط کر رہا ہے؟ اہم انکشافات مبشر لقمان کی زبانی

    اسرائیل کوتسلیم کرنےکی مہم میں عمران خان ٹرمپ کےساتھ تھا:فضل الرحمان

    اسرائیلی اخبار کی یہ رپورٹ اس حقیقت کو مزید عیاں کرتی ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کے لی ےصیہونی لابیز کسی حد تک بھی جا سکتی ہیں،اسرائیلی اخبار میں بانی پی ٹی آئی کے حق میں مضمون آپریشن گولڈ سمتھ سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ دی ٹائمز آف اسرائیل وہ اسرائیلی اخبار ہے جس کی ایڈیٹوریل پالیسی ہے کہ یہ اسرائیلی حکومت کی اجازت کے بغیر کچھ نہیں چھاپتا۔

    عمران خان کے ہی دور حکومت میں یہ خبریں سامنے آئی تھیں کہ بطور وزیراعظم عمران خان اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کے لئے تیار تھے، اور اس ضمن میں عمران خان نے خاندانی رابطوں کو بھی استعمال کیا، عمران خان کی حکومت کی حالت جب غیر مستحکم ہوئی تو پھر وہ پیچھے ہٹے، عمران خان کے دور حکومت میں خبریں آئی تھیں کہ زلفی بخاری نے اسرائیل کا دورہ کیا ہے تا ہم بعد میں انہوں نے تردید کی ،اسرائیلی اخبار نے دعویٰ کیا تھا جس میں کہا ہے کہ پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کے سینئر مشیر ، سید زلفی بخاری نے نومبر کے آخری ہفتے میں اسرائیل کا مختصر دورہ کیا ،اخبار کے مطابق وزیراعظم عمران خان کے مشیر برطانوی شہری ہیں اور انہوں نے برطانوی پاسپورٹ پر اسرائیل کا دورہ کیا اور تل ابیب پہنچے، اور موساد کے سربراہ سے ملاقات کی،اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ زلفی بخاری نے وزارت خارجہ میں سینئر حکام سے ملاقات کی اور پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کا خصوصی پیغام پہنچایا،زلفی بخاری کا یہ دورہ متحدہ عرب امارات کی کوششوں سے ہوا ، عرب امارات نے اسرائیل کو تسلیم کر رکھا ہے

    بلاول زرداری نے بھی زلفی بخاری کی اسرائیل کے دورے کی خبروں پر وضاحت مانگی تھی ،بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ حکومت پاکستان زلفی بخاری اور اسرائیل حکام کے درمیان کی ملاقات کے حقائق عوام کے سامنے لائے۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ زلفی بخاری کے دورہ اسرائیل کے حوالہ سے حقائق لے کر آئے اگر وہ نہیں گیا تو جو جہاز جو اسرائیل پہنچا تھا جو جہاز کی ڈیٹیل ہے وہ قوم کے سامنے لائے، سب پتہ چل جائے گا، دوسرا بتایا جائے کہ اگر جہاز کا یہی روٹ تھا تو کس نے اجازت دی، زلفی بخاری کو جہاز نے نہیں اٹھایا تو کس نے اٹھایا یہ خبر اسرائیل کے اخبار نے اسرائیل کے سنسر بورڈ سے اجازت لے کر شائع کی، پی پی مطالبہ کرتی ہے کہ اس جہاز کی تفصیل سامنے لائی جائے،

    جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمان نے بھی انکشاف کیا تھا کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سفارتی سطح پر اسرائیل کو تسلیم کرانے کے لیے عرب ممالک کو آمادہ کیا، اس مہم میں عمران خان ساتھ تھا۔جب ڈونلڈ ٹرمپ الیکشن لڑ رہا تھا واشنگٹن میں پاکستانی سفارتخانے کو ٹرمپ کی انتخابی مہم کا مرکز بنا دیا تھا اور آج بھی خبریں زیر گردش ہیں کہ کچھ اینکرز اسرائیل میں نظر آئے انہوں نے بھی واضح کردیا کہ اسرائیل جانے کے لیے منظوری عمران خان نے دی۔

    تحریک انصاف کی سوشل میڈیا ٹیم کو ملکی سیاست میں ایک مضبوط ترین قوت کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ یہ ٹیم نہ صرف ملکی بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی اپنی اثر پذیری اور تیزی سے سوشل میڈیا پر ٹرینڈز بنانے کی صلاحیت کے لیے مشہور ہے۔ تاہم، پی ٹی آئی کی اس قدر مضبوط سوشل میڈیا موجودگی کے باوجود، ایک اہم سوال اُٹھ رہا ہے کہ اس ٹیم نے کبھی اسرائیل کے فلسطینیوں پر ہونے والے مظالم کے خلاف یا کشمیر میں بھارتی مظالم کے خلاف واضح مؤقف کیوں نہیں اپنایا؟پاکستان تحریک انصاف نے اپنی سیاسی جدوجہد کے دوران سوشل میڈیا کو بھرپور انداز میں استعمال کیا ہے۔ ان کی سوشل میڈیا ٹیم نے کئی بار قومی اور بین الاقوامی سطح پر ٹرینڈز بنائے، جو مخالفین کے خلاف مہمات سے لے کر اپنی جماعت کے بیانیے کو آگے بڑھانے تک شامل ہیں۔ عمران خان کی قیادت میں پی ٹی آئی نے سوشل میڈیا کو عوامی رائے عامہ کے تشکیل میں ایک مؤثر ہتھیار کے طور پر استعمال کیا ہے، جو کہ دیگر سیاسی جماعتوں کے مقابلے میں ایک منفرد خصوصیت سمجھی جاتی ہے۔یہ بات حیران کن ہے کہ پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا ٹیم، جو ایک معمولی مسئلے کو بھی بڑا بنا کر پیش کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، نے اسرائیل کے غزہ میں فلسطینیوں پر جاری مظالم اور کشمیر میں بھارتی فوج کی بربریت پر کبھی کوئی ٹھوس اور واضح مؤقف نہیں اپنایا۔ دونوں مسائل عالمی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے ضمن میں آتے ہیں، مگر پی ٹی آئی کی جانب سے ان پر خاموشی یا غیر مؤثر بیانات پر سوالات اُٹھنے لگے ہیں۔سیاسی مبصرین کے مطابق، پی ٹی آئی کی خاموشی کے پیچھے بین الاقوامی مالی معاونین اور اثر و رسوخ رکھنے والے حلقے ہوسکتے ہیں۔ یہ حلقے اسرائیل کی حمایت یا بھارت کے ساتھ تعلقات میں بہتری کے خواہاں ہوسکتے ہیں، اور پی ٹی آئی کی جانب سے ان مسائل پر بات کرنا ان کے مفادات کے خلاف جا سکتا ہے۔ اس پس منظر میں، پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا ٹیم کی خاموشی مالی مفادات سے جڑی ہوئی ہے۔پی ٹی آئی کی اس خاموشی پر عوامی سطح پر بھی سوالات اُٹھائے جا رہے ہیں۔ سوشل میڈیا صارفین اور سیاسی ناقدین اس بات پر حیران ہیں کہ ایک جماعت جو ہر مسئلے پر بولتی ہے اور اپنے حریفوں پر تنقید کرتی ہے، وہ فلسطین اور کشمیر جیسے حساس معاملات پر کیوں خاموش ہے؟

    عمران خان اور پی ٹی آئی نے ملک دشمنی میں تمام حدیں پار کر دیں

    امریکی ایوان نمائندگان میں قرارداد،پاکستان کے خلاف آپریشن گولڈ اسمتھ کی ایک کڑی

    آپریشن گولڈ سمتھ کی کمر ٹوٹ گئی،انتشاری ٹولہ ایڑھیاں رگڑے گا

    تحریک انصاف کی ملک دشمنی ایک بار پھر کھل کر سامنے آ گئی

    14 سال سے خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی سرکار،اربوں بجٹ وصول،کارکردگی زیرو

    عمران پر جیل میں تشدد ہوا،مجھے مرد اہلکار نے…بشریٰ بی بی نے سنگین الزام عائد کر دیا

    ہر نئے ریلیف کے بعد اک نیا کیس،عمران خان کی رہائی ناممکن

    عمران خان نے آخری کارڈ کھیل دیا،نواز شریف بھی سرگرم

    پی ٹی آئی کی ڈیجیٹل دہشت گردی کا سیاہ جال،بیرون ملک سے مالی معاونت

    اگلے دو مہینے بہت اہم،کچھ بڑا ہونیوالا؟عمران خان کی پہنچ بہت دور تک

    اڈیالہ جیل میں قید عمران خان نے بالآخر گھٹنے ٹیک دیئے

  • سو جلسے کریں مگر 9 مئی دوبارہ نہیں ہونے دیں گے،طلال چوہدری

    سو جلسے کریں مگر 9 مئی دوبارہ نہیں ہونے دیں گے،طلال چوہدری

    مسلم لیگ ن کے رہنما طلال چوہدری نے کہا ہے کہ جلسے میں آ کر، بڑھکے مار کر آپ اپنی ناقص کارکردگی نہیں چھپا سکتے

    پریس کانفرنس کرتےہوئے طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ اسمبلی نے نیا قانون پاس کر دیا ہے، اسکے مطابق پرامن جلسے کو انتظامیہ مدد کرے گی، شرط صرف اتنی ہے کہ وہ آئیں ، قانون کے مطابق جلسہ ہو، اگر کوئی خلاف ورزی ہو گی تو سزا بھی ہو گی، جلسہ ضرور کریں لیکن انتشار نہیں، انتظامیہ، حکومت کلیئر ہے، ایک نہیں سو جلسے کریں، اپنی من مانی نہیں ہو سکتی، پہلے اسلام آباد کو آگ لگائی گئی، دھرنے دیئے گئے، جلسہ ضرور کریں لیکن اس وقت یہ جلسہ کرنے کی بجائے رنگ بازی کر رہے ہیں، کے پی کا وزیراعلیٰ کہتا ہے کہ کینٹینر،کرین لے کر آؤں گا، بھئی آپ اپنی کارکردگی لے کر آئیں اور بتائیں قوم کو کیا کیا، جس وزیر نے کرپشن کی شکایت کی اس کو ہٹا دیا گیا، اسلام آباد پر چڑھائی کی بجائے کرپشن کا پیسہ واپس کر کے سڑکیں بنائیں، جلسے میں دوسروں پر سوال اٹھانے کی بجائے پہلے 13 سال کی کارکردگی بتائیں، کے پی میں بدامنی، دہشت گردی آج بھی زیادہ ہے، کیا بتائیں گے لوگوں کو، کارکردگی نہیں چھپائی جا سکتی

    طلال چوہدری کا مزید کہنا تھاکہ پی ٹی آئی ایک نہیں 100 جلسے کرے لیکن دوبارہ 9 مئی نہیں ہونے دیں گے،ان جلسوں سے آئی ایم ایف کا معاہدہ نہیں رکے گا نہ معیشت کو کوئی دھچکا لگے گا، جلسے کا واحد مقصد این آر او ہے، یہ این آر او چاہتے ہیں، ان کی سیاست کا مقصد ایک ہی ہے کہ اڈیالہ کے مجرم کو معافی دلوائی جائے،آپ کی شہداء سے کیا لڑائی ہے؟ کیا ناراضگی ہے؟ جب شہداء کو خراج تحسین پیش کرنے کا دن آتا ہے آپ تب بھی شہداء کے گھر نہیں جاتے، سیدھی بات کریں کہ آپ جلسہ کے ذریعے ملک میں عدم استحکام چاہتے ہیں، 190 ملین پاؤنڈ کا فیصلہ جیسےقریب آتا ہے تو آپکو جلسہ، جلوس یاد آ جاتا ہے

    اسرائیل کی عمران خان سے امیدیں ،گولڈسمتھ خاندان کااہم کردار

    عمران خان بطور وزیراعظم اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے کیلئے تیار تھے،دعویٰ آ گیا

    حالات گرم،فیصلہ کا وقت آ گیا،سعودی عرب اسرائیل کے ہاتھ کیسے مضبوط کر رہا ہے؟ اہم انکشافات مبشر لقمان کی زبانی

    اسرائیل کوتسلیم کرنےکی مہم میں عمران خان ٹرمپ کےساتھ تھا:فضل الرحمان

  • نومئی، اگر ہم گنہگار ہیں تو ہمیں سزا دیں،شاہ محمود قریشی

    نومئی، اگر ہم گنہگار ہیں تو ہمیں سزا دیں،شاہ محمود قریشی

    نو مئی واقعات میں پی ٹی آئی رہنماؤں کو آج جیل سے عدالت میں پیش کیا گیا

    اعجاز چوہدری ,میاں محموالرشید اور عمر سرفراز,چیمہ کو عدالت میں جیل حکام نے پیش کیا ،شاہ محمود قریشی کو بھی جیل حکام نے عدالت میں پیش کیا،کیس کی سماعت ہوئی تو شاہ محمود قریشی روسٹرم پر آگئے اور کہا کہ میرے خلاف جب مقدمات درج کیے گئے میں لاہور بلکہ پنجاب میں بھی نہیں تھا،مجھے ایک سال دو ماہ بعد گرفتار کیا گیا، یہ لوگ ثابت کر دیں میں کس طرح میں اس میں شامل ہوا ہوں، جب میں رہا ہوا تو مجھے9 مئی مقدمات میں گرفتار کر لیا، میں نے پاکستان کو ہر ملک میں پرزنٹ کیا، کیا میں کہیں بھاگ جاؤ گا میں پیش ہوتا رہا ہوں ہر پیشی میں، میں بھاگنے کا سوچ بھی نہیں سکتا ، عمران خان کا میں نائب کپتان ہوں، یہ لوگ ڈرتے ہیں اگر میں باہر آگیا تو لوگ اکٹھے ہونگے، 40 سال سے سیاست میں ہوں آج تک کوئی مقدمہ نہ ہوا یوں اچانک اب 55 مقدمات درج کر لیے، میرا کئریر دیکھا جاسکتا ہے یہ سیاسی بنیاوں پر کیسز میں ملوث کیا جارہا ہے ، یہ لوگ کیوں دلائل نہیں دے رہے یہ جان بوجھ کر کیسز کو التوء کروا رہے ہیں، حکومت کے لوگ کہتے ہیں کہ 9 مئی کے کیسز التو امیں ہیں، اگر ہم گنہگار ہیں تو ہمیں سزا دیں، قرآن پر ہاتھ رکھ کر اپنی صفائی بیان کر سکتا ہوں سرکاری وکیل بھی رکھیں، یہ قوم کا وقت ضائع کر رہے ہیں ہمارا حق انہوں نے مارا،

    بشریٰ بی بی کو نومئی مقدمےمیں بری کرنیوالے جج سمیت دیگر کے تبادلے

    اگر 9 مئی میں فیض حمید ملوث تھا تو اوپن ٹرائل کریں،عمران خان

    نو مئی کے وعدہ معاف گواہ منحرف ہو گئے

     سانحہ نو مئی کے چھے مقدمات میں اہم پیشرفت

    9 مئی کے بعد زمان پارک کی کیا حالت ہے؟؟

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    سانحہ نو مئی نائن زیرو، بلاول ہاؤس یا رائے ونڈ سے پلان ہوتا تو پھر ردعمل کیا ہوتا؟ بلاول بھٹوزرداری

    یہ لوگ منصوبہ کرچکے ہیں نو مئی کا واقعہ دوبارہ کروایا جائے

    گنڈا پور وزیراعلی ہے یا غنڈہ، پی ٹی آئی کا ایک اور نومئی طرز کا منصوبہ

    نومئی واقعہ، بشریٰ بی بی 12 مقدمات میں نامزد

    نومئی مقدمے، عمران خان کا پنجاب فارنزک ٹیم کو ٹیسٹ دینے سے انکار

    نو مئی واقعات کی چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے سامنے مذمت کی تھی،عمران خان

    9 مئی پاکستان کیخلاف بہت بڑی سازش جس کا ماسٹر مائنڈ بانی پی ٹی آئی،عظمیٰ بخاری

    9 مئی کی آڑ میں چادرو چار دیواری کی عزت کو پامال کرنیوالے معافی مانگیں،یاسمین راشد

    عوام نے نومئی کے بیانیے کو مستر د کر دیا ،مولانا فضل الرحمان

    اسد قیصر نے نومئی کے واقعات پر معافی مانگنے سے انکار کر دیا

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    نومئی کے واقعات کی فوٹیجز سامنے آ گئیں،حساس عمارتوں کی جانب پیش قدمی،توڑ پھوڑ

    عمران خان کا بیان اور سانحہ 9 مئی کے ناقابل تردید شواہد

  • اسرائیل کی عمران خان سے امیدیں ،گولڈسمتھ خاندان کااہم کردار

    اسرائیل کی عمران خان سے امیدیں ،گولڈسمتھ خاندان کااہم کردار

    پاکستان طویل عرصے سے فلسطینی کاز کے سخت ترین حامیوں میں سے ایک رہا ہے، جو کہ دیگر مسلم اکثریتی ممالک کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ اس پوزیشن کی جڑیں ایک اسلامی جمہوریہ کے طور پر پاکستان کی شناخت اور امت یا عالمی مسلم کمیونٹی کے ساتھ اس کی وسیع تر وابستگی میں پیوست ہیں۔ اسرائیل کو تسلیم کرنے کے تصور کو تاریخی طور پر اس شناخت کے متضاد کے طور پر دیکھا جاتا رہا ہے،

    فلسطین نواز موقف نہ صرف سیاسی ہے بلکہ پاکستانی معاشرے اور رائے عامہ میں بھی گہرا سرایت کر چکا ہے۔ اس کی جھلک یکے بعد دیگرے پاکستانی حکومتوں کی مسلسل پالیسیوں سے ہوتی ہے، جن میں فلسطینی علاقوں میں اسرائیل کے اقدامات کی کھلی مذمت، سفارتی تعلقات سے انکار اور اقوام متحدہ جیسے بین الاقوامی فورمز پر فلسطینی ریاست کی حمایت شامل ہے۔پاکستان کے اسرائیل مخالف جذبات کی شدت کا اندازہ 1947 میں اس کے قیام سے لگایا جا سکتا ہے، جس کے دوران اس نے اسرائیل کے قیام کی مخالفت کرنے والی دیگر مسلم اقوام کے ساتھ اتحاد کرتے ہوئے خود کو مسلم دنیا کے رہنما کے طور پر قائم کرنے کی کوشش کی۔ اس اتحاد کو اسلامی تعاون تنظیم (OIC) اور دیگر اسلامی بلاکس میں پاکستان کی رکنیت کے ذریعے مزید مضبوط کیا گیا، جہاں فلسطین کاز ایک مرکزی مسئلہ رہا ہے۔

    وزیر اعظم کے طور پر اپنے دور میں، عمران خان نے عوامی طور پر فلسطینی کاز کے لیے پاکستان کی روایتی حمایت کو برقرار رکھا۔ انہوں نے غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کی مذمت کی، فلسطینیوں کے حقوق کی حمایت کا اظہار کیا اور جب تک فلسطین کا مسئلہ حل نہیں ہوتا اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے خیال کو مسترد کردیا۔ یہ پوزیشنیں ملکی توقعات اور پاکستان کی دیرینہ خارجہ پالیسی دونوں سے ہم آہنگ تھیں۔تاہم، عمران خان کے دور میں خارجہ تعلقات کے لیے ایک عملی نقطہ نظر کی نشاندہی کی گئی تھی، جس میں اکثر عوامی بیان بازی اور پس پردہ سفارت کاری کے درمیان توازن برقرار رکھا جاتا تھا۔ عمران خان کی عملیت پسندی ان کی خارجہ پالیسی کے وسیع تر تدبیروں سے عیاں ہے، جہاں انہوں نے چین اور سعودی عرب جیسے روایتی اتحادیوں کے ساتھ تعلقات کو مضبوط کرنے کی کوشش کی اور پاکستان کے مفادات کے مطابق مخالفین کے ساتھ راستے کھولنے کی کوشش کی۔ اس نقطہ نظر سے پتہ چلتا ہے کہ عمران خان اسرائیل کے بارے میں پاکستان کے موقف کا از سر نو جائزہ لینے کے لیے اپنے عوامی بیانات سے کہیں زیادہ کھلے ہیں۔

    عمران خان کے گولڈ اسمتھ فیملی کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں، خاص طور پر ان کی سابقہ ​​اہلیہ جمائما گولڈ اسمتھ سے جو اسرائیل کی جانب ان کے ممکنہ تبدیلی کو سمجھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ گولڈ اسمتھ خاندان برطانوی اشرافیہ کا حصہ ہے، جس میں جمائما کے بھائی زیک گولڈسمتھ برطانوی سیاست میں شامل رہے ہیں، برطانیہ میں یہودی اور اسرائیل نواز حلقوں سے زیک گولڈ اسمتھ کے روابط، مغربی اشرافیہ کے حلقوں میں خاندان کے وسیع تر اثر و رسوخ کے ساتھ، عمران خان کو اسرائیل کے بارے میں ایک مختلف نقطہ نظر فراہم کر سکتے تھے۔ لندن کے میئر کے انتخاب میں زیک گولڈ اسمتھ کے لیےعمران خان کی حمایت، یہاں تک کہ ایک مسلم امیدوار، صادق خان کے خلاف عمران خان چلے گئے اورگولڈ سمتھ خاندان اور ان کے وسیع نیٹ ورک کے لیے ان کی وفاداری کو واضح کیا

    ایسی اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ عمران خان نے گولڈ اسمتھ فیملی کے ذریعے اسرائیلی حکام کو پیغامات بھیجے، جس میں پاکستان اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے اور پاکستان میں مذہبی گفتگو کو اعتدال پر لانے کے لیے ان کی رضامندی کا اشارہ ملتا ہے۔ اگر یہ رپورٹس درست ہیں تو وہ اسرائیل کے بارے میں عمران خان کے نقطہ نظر میں لچک کی ایک سطح تجویز کرتی ہیں جو روایتی پاکستانی موقف سے بالاتر ہے۔ اسرائیل کے ساتھ روابط کی اس ممکنہ رضامندی کو پاکستان کی خارجہ پالیسی کو مشرق وسطیٰ کی بدلتی ہوئی حرکیات کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کے لیے ایک اسٹریٹجک اقدام کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔

    imran

    عمران خان کی مغربی تعلیم اور مختلف ثقافتی اور سیاسی شعبوں کے درمیان جانے کی صلاحیت انہیں اسرائیل اور مسلم ریاستوں کے درمیان ایک ممکنہ ثالث کے طور پر منفرد حیثیت دیتی ہے۔ وزیر اعظم کے طور پر ان کے دور میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات جیسے اہم مشرق وسطی کے کھلاڑیوں کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کی کوششوں سے نشان زد کیا گیا تھا – دونوں نے ابراہیم معاہدے اور دیگر معمول پر لانے کی کوششوں کے ذریعے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو گرمانے کے آثار ظاہر کیے ہیں۔مغرب اور اسلامی دنیا کے درمیان خلیج کو ختم کرنے کی عمران خان کی صلاحیت نظریاتی طور پر انہیں اسرائیل اور پاکستان کے تعلقات میں اسی طرح کا کردار ادا کرنے کی اجازت دے سکتی ہے، اگر وہ اقتدار میں واپس آتے ہیں۔ ان کے ذاتی تعلقات اور اسٹریٹجک نقطہ نظر کو اسرائیل اور دیگر مسلم اکثریتی ممالک کے درمیان ثالثی کرنے کے لیے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے، جس سے ایک وسیع تر علاقائی تنظیم سازی میں مدد مل سکتی ہے۔

    تاہم، عمران خان کی طرف سے اسرائیل کے بارے میں پاکستان کے موقف کو تبدیل کرنے کی کوئی بھی کوشش چیلنجوں سے بھرپور ہوگی۔ پاکستان کا سیاسی منظر نامہ مذہبی تنظیموں سے بہت زیادہ متاثر ہے، جن میں سے بہت سے اسرائیل مخالف جذبات رکھتے ہیں۔ رائے عامہ بھی بہت زیادہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کے خلاف ہے، اور معمول پر آنے کی طرف کسی بھی اقدام کو عوامی اور مذہبی رہنماؤں دونوں کی جانب سے شدید ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ان چیلنجوں کے باوجود، عمران خان نے پہلے ہی جمود کو چیلنج کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے، خاص طور پر تعلیمی اصلاحات اور خواتین کے حقوق جیسے شعبوں میں، جہاں انہوں نے طاقتور مذہبی تنظیموں کا مقابلہ کیا ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ اگر وہ سمجھتے ہیں کہ اس سے پاکستان کے وسیع تر تزویراتی مفادات کی خدمت ہو سکتی ہے تو وہ اسرائیل کے لیے زیادہ سنجیدہ رویہ اپنانے کے لیے تیار ہو سکتا ہے۔

    اگرچہ عمران خان کا اسرائیل اور پاکستان کے تعلقات کو تشکیل دینے کا خیال قیاس آرائی پر مبنی ہے، لیکن مشرق وسطیٰ میں تیزی سے بدلتی ہوئی جغرافیائی سیاسی حرکیات کے پیش نظر یہ قابلیت کے بغیر نہیں ہے۔ اسرائیل اور کئی عرب ریاستوں کے درمیان تعلقات کے معمول پر آنے سے ظاہر ہوا ہے کہ عملی سفارت کاری کے ذریعے دیرینہ دشمنی پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ یہ پیش رفت بتاتی ہے کہ پاکستان سمیت دیگر مسلم اکثریتی ممالک مستقبل میں اسرائیل کے بارے میں اپنے موقف کا ممکنہ طور پر دوبارہ جائزہ لے سکتے ہیں۔

    مشرق وسطیٰ ایک اہم تبدیلی کے درمیان ہے، جو اتحاد، اقتصادی مفادات، اور انتہا پسندی کے مشترکہ خطرے کی وجہ سے کارفرما ہے۔ اس تناظر میں، پاکستان اسرائیل تعلقات کی تشکیل میں عمران خان کا ممکنہ کردار ایک یاد دہانی کا کام کرتا ہے کہ سفارت کاری میں اکثر غیر روایتی سوچ اور غیر متوقع اتحاد شامل ہوتے ہیں۔ جیسے جیسے خطہ ترقی کرتا جا رہا ہے، پاکستان کی خارجہ پالیسی ایسے طریقوں سے بھی ڈھل سکتی ہے جن کا پہلے تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا، ممکنہ طور پر اسرائیل اور وسیع تر اسلامی دنیا کے درمیان تعلقات کے ایک نئے دور کا دروازہ کھل سکتا ہے۔

    اسرائیل اور اس کے اتحادیوں کو یہ یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے کہ عمران خان دوبارہ پاکستانی سیاست میں حصہ لینے کے لیے آزاد ہوں اور وہ آواز بنیں جو اعتدال پسندی کا راستہ اختیار کرتی ہے۔ عمران خان کی منفرد پوزیشن، تعلقات اور تزویراتی سوچ اسرائیل اور پاکستان کے تعلقات پر اثرانداز ہو سکتی ہے، ان اہم چیلنجوں اور مخالفت کے باوجود ممکنہ طور پر انہیں ایسی تبدیلی کی کوشش میں سامنا کرنا پڑے گا۔

    بلاگ ٹائمز آف اسرائیل میں شائع ہوا ہے،بلاگر خاتون صحافی عینور بشیروفا ہیں، جو برسلز میں مقیم ہیں،

    عمران خان بطور وزیراعظم اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے کیلئے تیار تھے،دعویٰ آ گیا

    یو اے ای اسرائیل معاہدہ،ترکی کے بعد پاکستان کا رد عمل بھی آ گیا

    فیصلہ ہو چکا،جنرل باجوہ محمد بن سلمان سے کیا بات کریں گے؟ جنرل (ر) غلام مصطفیٰ کے اہم انکشافات

    پاکستان اسرائیل کو اگر تسلیم کر بھی لے تو….جنرل (ر) غلام مصطفیٰ نے بڑا دعویٰ کر دیا

    اسرائیل، عرب امارات ڈیل ،غلط کیا ہوا، مبشر لقمان نے حقائق سے پردہ اٹھا دیا

    خطے میں قیام امن کیلئے اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے مابین ڈیل ہو گئی

    متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے مابین معاہدے پر ترکی بھی میدان میں آ گیا

    حالات گرم،فیصلہ کا وقت آ گیا،سعودی عرب اسرائیل کے ہاتھ کیسے مضبوط کر رہا ہے؟ اہم انکشافات مبشر لقمان کی زبانی

    اسرائیل کوتسلیم کرنےکی مہم میں عمران خان ٹرمپ کےساتھ تھا:فضل الرحمان