Baaghi TV

Tag: تحریک انصاف

  • 190 ملین پاؤنڈ کیس،عمران کے گلے کا پھندہ،واضح ثبوت،بچنا ناممکن

    190 ملین پاؤنڈ کیس،عمران کے گلے کا پھندہ،واضح ثبوت،بچنا ناممکن

    تحریک انصاف اور عمران خان کے تابوت میں اگر کوئی کیل ثابت ہوگاتو وہ میری نظرمیں ایک سو نوے ملین پاونڈوالاکیس ہوگا ۔ یہ اتنا بڑا معاملہ کہ اس کے آگے پاناما اورسوئس کیسسز کچھ نہیں ۔بلکہ دونوں بہت چھوٹے ہیں ۔یا یہ کہہ لیں کچھ بھی نہیں ۔پر کیونکہ عمران خان کی میڈیااور سوشل میڈیا مینجمنٹ ہمیشہ سے اعلی رہی ہے ۔ اس لیے یہ معاملہ اتنا ہائی لائٹ نہیں ہوا ۔میں گزشتہ کئی ماہ سے اس کیس کی سماعت کو فالو کر رہاہوں ۔ مگر ہر باراسٹوری جورپورٹ ہوتی ہے کہ عمران خان نے ایک سو نوے ملین پاونڈ کی پیشی پر الیکڑک برش مانگ لیا۔ ڈیمانڈ کر دی جیو کےرپورٹرکوبلائیں ۔کبھی یہ اسٹوری لگی ہوتی ہے کہ ایکسرسائز کے لیے ڈمبل نہیں دیا گیا کبھی کان میں تکلیف تو کبھی قبض کی شکایت ۔ پراس کیس میں کیا ہوچکا ہےاور کیا ہو رہا ہے اس پر میڈیا کچھ نہیں بتا رہا تو میں اور میری ٹیم نے اس پر پوری ورکنگ کر لی ہےاور اس نتیجے پرپہنچ چکےہیں کہ یہ کیس عمران کے گلے کاپھندہ ہے۔اس کیس میں عمران کرپٹ بھی ثابت ہوتا ہےبلکہ میری نظر میں تو یہ ملک ریاض سےصاف صاف کیک بیکس لینے والا معاملہ ہے۔

    ۔اتنی بڑی کرپشن کااسکینڈل شریف خاندان یاپیپلزپارٹی کےساتھ جوڑا ہوتاتواب تک ان پارٹیوں پر پابندی لگ چکی ہوتی ۔ ان کی نسلوں کو تباہ وبربا دکرنےکےاحکامات جاری ہوچکے ہوتے ۔ ان کے تانے بانے امریکہ سمیت اسرائیل کیا خلائی مخلوق تک سے جوڑ دیے گئے ہوتے ۔ چینلز نان اسٹاٹ اس پر ٹرانسمیشن کر رہے ہوتے ۔ جبکہ سب اینکرز کے روز کا ایک ہی ٹاپک ہوتا ایک سو نوےملین پاونڈ ۔ مگر کیونکہ معاملہ عمران خان ہے اس لیے اسکو پہلے دن سے ڈاون پلے کیا گیا ۔ میں اتنا جانتاہوں کہ کوئی جج گھرسےمجبور نہ ہوا تو اس معاملے میں عمران خان لمبےاندر جائیں گے اور بڑی سزا ہوگی ۔ کیونکہ بڑے واضح اور ناقابل تردید ثبوت ہیں۔ میری یہ بات لکھ کر رکھ لیں ۔

    ۔میں اتنا یقین سے جو کہہ رہا ہوں ۔اسی کی وجہ ہے سب سے پہلے اس کیس کا پس منظر بتا دیتا ہوں ۔ نیب کے مطابق بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض نے وزیرِاعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ کو القادر ٹرسٹ یونیورسٹی کے لیے موضع برکالا، تحصیل سوہاوہ ضلع جہلم میں واقع چار سو اٹھاون کینال، چار مرلے اوراٹھاون مربع فٹ زمین عطیہ کی جس کے بدلے میں عمران خان نے ملک ریاض کو پچاس ارب روپے کا فائدہ پہنچایا ۔اور یہ معاملہ بالکل واضح ہے صاف ہے اس میں کوئی ابہام نہیں ہے ۔ اس کی توانکوئری کی بھی ضرورت نہیں ۔ اوپن اینڈ شٹ کیس ہے۔ کیونکہ ادھر زمین ٹرانسفرکی گئی ادھر ریلیف دے دیاگیا ۔ بہرحال اکتوبر دوہزاربائیس میں نیب نے اس معاملے کی تحقیقات شروع کی ۔ نیب دستاویزات کے مطابق تین دسمبر دوہزارانیس کو عمران خان کی زیرِ صدارت کابینہ اجلاس میں ملک ریاض کو برطانیہ سے ملنے والی پچاس ارب روپے کی رقم بالواسطہ طور پر واپس منتقل کرنے کا فیصلہ ہوا تھا۔ رقم برطانوی نیشنل کرائم ایجنسی ۔۔این سی اے۔۔کی جانب سے ملک ریاض سے منی لانڈرنگ کے الزامات پر ضبط کی گئی تھی۔ ۔ جبکہ بطور وزیر اعظم عمران خان نے چھبیس دسمبر دوہزار انیس کو کابینہ کے فیصلے کے چند ہفتوں کے اندر القادر یونیورسٹی پروجیکٹ کے لیے ٹرسٹ رجسٹر کیا ۔ جو بعد میں یونیورسٹی کے لیے ڈونر بن گیا۔ نیب کے مطابق ٹرسٹ کی رجسٹریشن سے صرف تین ہفتے پہلے عمران خان کی کابینہ نے نیشنل کرائم ایجنسی کے ذریعے پاکستان کو ملنے والی رقم واپس ملک ریاض کو بالواسطہ طور پر واپس کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ نیب راولپنڈی نے اس معاملے میں کرپشن اور کرپٹ پریکٹسز کا نوٹس لیتے ہوئے نیب آرڈیننس انیس سو ننانوے کے تحت پرویز خٹک، فواد چوہدری اور شیخ رشید سمیت تین دسمبر دوہزار انیس کے کابینہ اجلاس میں موجود تمام ارکان کو علیحدہ علیحدہ تاریخوں پر طلب کیا تھا۔ نوٹس میں کہا گیا تھا کہ۔اختیارات کے ناجائز استعمال، مالی فائدہ اور مجرمانہ بدیانتی کے الزامات کی انکوائری کے دوران معلوم ہوا ہے کہ بطور کابینہ ممبر آپ نے تین دسمبر دوہزار انیس کو وزیراعظم آفس میں ہونے والے کابینہ اجلاس میں شرکت کی جس میں آئٹم نمبر دوپر فیصلہ کیا۔ آئٹم نمبر دو کا عنوان تھا۔احمد علی ریاض، ان کے خاندان اور میسرز بحریہ ٹاؤن کے اکاؤنٹس کا انجماد اور پاکستان میں فنڈز کی منتقلی کا حکم نامہ۔ ایجنڈا آئٹم شہزاد اکبر نے پیش کیا تھا اور بریفنگ دینے کے ساتھ کابینہ سیکریٹری کو ہدایت کی تھی کہ ریکارڈ کو سیل کردیا جائے۔ نوٹس میں پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض کے بیٹے احمد علی ریاض کو بھی طلب کیا گیا تھا۔آجکل بھی سنا ہے شہزاد اکبر ملک ریاض کے ہی ٹکڑوں پل رہاہے ۔

    ۔ سوال یہ ہےکہ این سی اے کی رقم ملک ریاض کو کیسے واپس ملی؟ دراصل دوہزار انیس میں برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی نے ملک ریاض کے خلاف تحقیقات کیں اور پھر ان تحقیقات کے نتیجے میں ملک ریاض نے ایک تصفیے کے تحت ایک سو نوے ملین پاؤنڈ کی رقم این سی اے کو جمع کروائی۔ این سی اے نے بتایا تھا کہ اس تصفیے کے نتیجے میں حاصل ہونے والی ایک سونوے ملین پاؤنڈز کی رقم ریاستِ پاکستان کی ملکیت ہے جسے پاکستان منتقل کردیا گیا۔ تاہم پاکستان میں پہنچنے پر کابینہ کے ایک فیصلے کے تحت رقم قومی خزانے کے بجائے سپریم کورٹ کے اس اکاؤنٹ تک پہنچی جس میں ملک ریاض بحریہ ٹاؤن کراچی کے مقدمے میں سپریم کورٹ کو چار سو ساٹھ ارب روپے کی ایک تصفیے کے ذریعے قسطوں میں ادائیگی کررہے ہیں۔ اس طرح نیب کے مطابق ایک ملزم سے ضبط شدہ رقم واپس اسی کو مل گئی جبکہ یہ رقم ریاستِ پاکستان کی ملکیت تھی مگر اسے ملک ریاض کے ذاتی قرض کو پورا کرنے میں خرچ کیا گیا۔ اس حوالے سے دوہزارانیس میں سابق وزیرِاعظم عمران خان کی سربراہی میں کابینہ اجلاس میں ور معاملے کو حساس قرار دے کر اس حوالے سے ریکارڈ کو بھی سیل کردیا گیا تھا۔ ملک ریاض سے این سی اے نے جو معاہدہ کیا اس کی تفصیلات بھی رازداری میں رکھی گئی تھیں اور این سی اے کے بعد حکومتِ پاکستان نے بھی عوام یا میڈیا کو یہ تفصیلات نہیں بتائیں کہ ریاستِ پاکستان کا پیسہ دوبارہ کیسے ملک ریاض کے استعمال میں لایا گیا تھا۔

    ۔یہ سب کچھ مفت میں نہیں کیا گیا بدلے میں عمران خان اور ان کی اہلیہ بشری بی بی نے پچاس ارب روپے کو قانونی حیثیت دینے کے عوض بحریہ ٹاؤن لمیٹڈ سے اربوں روپے اور سینکڑوں کینال مالیت کی اراضی حاصل کی۔ ۔ ان کی دونمبر ی کا عالم دیکھیں کہ ساری زندگی عمران خان اور انکی جماعت اس چیز کا پرچار کر تی رہی ہے ۔ کہ ہم نے بیرون ملک سے پاکستان کا لوٹا پیسہ واپس لانا ہے اور جب باہرکے ممالک پاکستان کا لوٹا پیسہ خود واپس کرنے لگے تو انھوں نے کہا نہیں رہنےدیں ہمیں نہیں چاہیئے ۔ میں اور میری بیوی نے بدلے میں زمین لے لی ہے۔ ایسی اسکیم تو کبھی کسی اور جماعت کے ذہن میں نہیں آئی ۔ مطلب یہ واردات ڈال کر عمران خان کرپشن کرنے والوں میں سب سے اعلی درجے پر فائز ہوگئے ہیں ۔

    ۔ اسی وجہ سے عمران خان پر یہ بھی الزام ہے کہ انہوں نے اس حوالے سے طے پانے والے معاہدے سے متعلق حقائق چھپا کر کابینہ کو گمراہ کیا، بہرحال جب یہ کیس چلا تو ستائیس فروری دوہزار چوبیس کو احتساب عدالت اسلام آباد نے عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف ایک سو نوے ملین پاؤنڈز ریفرنس میں فردجرم عائد کی ۔ اس سے قبل چھ جنوری دوہزار چوبیس کو اسلام آباد کی احتساب عدالت نے ایک سو نوے ملین پاؤنڈز کے القادر ٹرسٹ ریفرنس میں ملک ریاض سمیت ریفرنس کے چھ شریک ملزمان ان کے بیٹے علی ریاض ملک، فرحت شہزادی(وہی گوگی جس کو کپتان نے سب سے پہلے بھگایا اور کہا تھا کہ یہ معصوم ہے )، ضیاالاسلام، شہزاد اکبر، زلفی بخاری کو اشتہاری اور مفرور قرار دیا گیا۔ ملک ریاض نے حاضری سے استثنیٰ اور وڈیو لنک کے ذریعے حاضری سے متعلق دو الگ الگ درخواستیں بھی دائر کیں لیکن دائر دونوں درخواستوں کو عدالت نے خارج کردیا تھا۔ تئیس جنوری کو عمران خان نےضمانت کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا جس کے بعد چودہ مئی کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ضمانت منظور کی ۔ تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ نیب نے اعتراف کیا کہ تحقیقات مکمل ہیں، ملزم کو مزید قید میں رکھنے سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا، نیب پراسیکیوٹر نے خدشہ ظاہر کیا کہ بانی پی ٹی آئی سیاسی شخصیت ہیں۔فیصلے میں لکھا گیا ہے کہ نیب پراسیکیوٹر کے مطابق بانی پی ٹی آئی ریکارڈ ٹیمپرنگ یا ٹرائل پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر سکتے ہیں، تاہم نیب کے ان تحفظات کے حوالے سے ریکارڈ پر کوئی جواز موجود نہیں ہے، لہٰذا عمران خان کی ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواست منظور کی جاتی ہے۔ اٹھائیس جون کو نیب نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی۔ درخواست میں نیب نے استدعا دی کہ سپریم کورٹ اسلام آبادہائی کورٹ کا چودہ مئی کا فیصلہ کالعدم قرار دے۔پھر سابق وزیر دفاع پرویز خٹک نے عدالت کے سامنے اپنا بیان عمران خان اور بشریٰ بی بی کی موجودگی میں ریکارڈ کروایا ۔جس پر یاد ہو تو علی امین گنڈا پور اور یوتھیوں کو بہت مرچیں لگیں تھیں ۔ بلکہ اس دن جو پرویز خٹک نےبیان دیا وہ کہیں ڈسکس نہیں ہوا ۔ پرپرویز خٹک کی نیگٹوکردارسازی چھائی رہی ۔ پرویز خٹک کا اپنے بیان میں کہنا تھا شہزاد اکبر نے کابینہ کو بتایا تھا کہ پاکستان سے غیر قانونی طور پر باہر بھجوائی گئی بڑی رقم برطانیہ میں پکڑی گئی، شہزاد اکبر نے بتایا کہ پکڑی گئی رقم پاکستان کو واپس کی جائے گی۔ سابق وفاقی وزیر نے عدالت کو بتایا کہ یہ معاملہ کابینہ کے ایجنڈے پر نہیں تھا، میٹنگ میں اضافی ایجنڈے کے طور پر سامنے لایا گیا، اضافی ایجنڈے پر مجھ سمیت دیگر کابینہ اراکین نے اعتراض کیا تھا، کابینہ میں رقم کے حوالے سے کاغذات بند لفافے میں پیش کیے گئے، اضافی ایجنڈے کی منظوری کابینہ سے لی گئی۔ پھر تیرہ جولائی کو عمران خان کے سابق پرنسپل سیکرٹری اعظم خان نے احتساب عدالت کے جج محمد علی وڑائچ کے روبرو اپنا بیان ریکارڈ کروایا تھا سابق پرنسپل سیکرٹری اعظم خان نے احتساب عدالت کے سامنے اپنے بیان میں کہا کہ شہزاد اکبر ایک دستخط شدہ نوٹ لے کر میرے پاس آئے، اس نوٹ پر شہزاد اکبر کے اپنے دستخط موجود تھے، نوٹ پر کابینہ سے منظوری لینے کا لکھا تھا۔ اعظم خان کے مطابق شہزاد اکبر نے بتایا کہ اس کانفیڈینشل ڈیڈ کو کابینہ میں منظوری کے لیے پیش کرنے کی وزیراعظم نے ہدایت کی ہے، شہزاد اکبر کی اس بات پر فائل کیبنٹ سیکرٹری کو بھجوا دی تاکہ معاملہ کابینہ کے سامنے پیش کیا جا سکے، میں نے وہ فائل کیبنٹ سیکرٹری کے حوالے کر دی، میں نے کابینہ میٹنگ میں ان کیمرہ اجلاس ہونے کی وجہ سے شرکت نہیں کی۔سابق پرنسپل سیکرٹری نے نیب کی جانب سے پیش کیے گئے بیان پر اپنے دستخط ہونے کی تصدیق کی ۔ اعظم خان کے بیان میں کہا گیا تھا کہ معاہدے پر ہونے والے دستخط کو میں نے پہچان لیا تھا، معاہدے کے ساتھ ایک خفیہ تحریر موجود تھی جس سے متعلق بتایا نہیں گیا۔ پھر سابق وزیر مملکت زبیدہ جلال نے احتساب عدالت میں دیے گئے بیان میں کہا کہ شہزاد اکبر کی جانب سےایک بند لفافہ اضافی ایجنڈے کے طور پیش کیا گیا، اضافی ایجنڈا کابینہ میں پیش کرنے سے قبل ضروری طریقہ کار نہیں اپنایا گیا، ضروری تھا کہ اضافی ایجنڈا کابینہ میں پیش کرنےسےقبل ممبران کو بریفنگ دی جاتی ۔ شہزاد اکبر نے زور دیا کہ معاملہ حساس ہے اسےفوری طور پر منظور کیا جائے۔ اضافی ایجنڈےکو بغیر بریفنگ پیش کرنے پر مجھ سمیت دیگر ممبران نے اعتراض کیا اور کہا کہ منظوری سے قبل اس پر بحث ہونی چاہیے، اس موقع پر وزیراعظم عمران خان نےبھی کہا تھا کہ اس اضافی ایجنڈے کو منظور کرلیں، صرف اس منطق پر مجھ سمیت کابینہ ممبران نے اس اضافی ایجنڈے کی منظوری دی۔

    ۔ آج تک کی موجودہ صورتحال میں اس ریفرنس میں پینتیس گواہان پر جرح مکمل ہوچکی ہے۔اب چند روز قبل اس ریفرنس میں تفتیشی افسر ڈپٹی ڈائریکٹر نیب میاں عمر ندیم کا بیان سامنے آیا۔میاں عمر ندیم نے بیان دیا ہے کہ نیشنل کرائم ایجنسی کے کنٹری منیجر عثمان احمد کو شہزاد اکبر کی ہدایت پر خفیہ خطوط لکھے گئے، مجرمانہ سرگرمیوں کی آمدنی منجمد کرنے کیلئے نیشنل کرائم ایجنسی نے فریزنگ آرڈر حاصل کیے۔ تفتیشی افسر نے کہا ہے کہ نجی ہاؤسنگ سوسائٹی سے چار سو اٹھاون کینال چار مرلے اٹھاون مربع فٹ زمین خریدی، خریدی گئی زمین ملزم ذلفی بخاری کے ذریعے القادر ٹرسٹ یونیورسٹی کو منتقل کی گئی، اراضی منتقلی کے بعد عمران خان سے ذلفی بخاری، شہزاد اکبر اور پراپرٹی ٹائیکون ملے۔ انہوں نے بیان دیا ہے کہ گیارہ جولائی دو ہزارانیس کو رقم پاکستان کی ملکیت ہونے پر عمران خان کو بدنیتی پر مبنی نوٹ لکھا گیا، بدنیتی پر مبنی نوٹ تین دسمبر دوہزار انیس کو کابینہ اجلاس میں منظوری کے لیے پیش کیا گیا، بدنیتی پر مبنی نوٹ بند لفافے میں کابینہ میں پیش کر کے اس کی منظوری پر اصرار کیا گیا۔ تفتیشی افسر کے مطابق ٹرسٹ ڈیڈ پر ضیاء المصطفیٰ نسیم نے بطور گواہ دستخط کیے، اس پر وزارت خزانہ، وزارت خارجہ اور وزارت قانون کی رائے نہیں لی گئی، ٹرسٹ ڈیڈ میں ترمیم کر کے عمران خان ، بشریٰ بی بی اور ذلفی بخاری کو شامل کیا گیا۔ پھر بشریٰ بی بی نے چوبیس مارچ دوہزار اکیس کو عطیہ اقرار نامہ پر دستخط بھی کیے، القادر ٹرسٹ کی آڑ میں دو سو چالیس کینال اراضی فرح شہزادی کے نام پر منتقل کی گئی، مگرعمران خان اور بشریٰ بی بی اراضی کی فروخت سے متعلق ثبوت دینے میں ناکام رہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کو ثبوت دینے کیلئے متعدد نوٹسز کیے لیکن تعاون نہیں کیا گیا، ملزمان ریاست پاکستان کے لیے فنڈز کی منتقلی کے ثبوت پیش کرنے میں بھی مکمل ناکام رہے۔ جبکہ القادر ٹرسٹ پراپرٹی میں فرح شہزادی نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کے بطور فرنٹ پرسن کام کیا۔ اب سمجھ آیا عمران خان کو یہ گوگی معصوم کیوں لگتی تھی۔

    ۔ یہ سب کچھ شہزاد اکبر اپنے ایماء پر تو کر نہیں سکتےتھے ۔ یقینا عمران خان کی آشیر آباد انکو حاصل تھی ۔ اسی لیے تو ان کو ، زلفی بخاری اورفرح گوگی کو ملک سے ایسے فرار کروایا جیسے مکھن سے بال ۔ کیونکہ پتہ تھا کہ یہ دونوں ان کی حکومت جانےکےبعد روکے تو ضرور گرفت میں آئیں گے اور یہ گرفت میں آئےتو پھر قانون کا ہاتھ عمران خان سمیت بشری بی بی کی گردن تک ضرور پہنچے گا ۔

  • وکلاء سیاسی رہنما اور فیملی کو مجھ سے ملنے نہیں دیا جارہا، عمران خان

    وکلاء سیاسی رہنما اور فیملی کو مجھ سے ملنے نہیں دیا جارہا، عمران خان

    190 ملین پاؤنڈ اسکینڈل ریفرنس کی سماعت 30 اگست تک ملتوی کر دی گئی

    اڈیالہ جیل میں کیس کی سماعت ہوئی،بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کمرہ عدالت میں پیش ہوئے،سماعت کے دوران عمران خان نے جج سے مکالمہ کرتے ہوئے کہ میرے لیڈنگ وکلاء سیاسی رہنما اور فیملی کو مجھ سے ملنے نہیں دیا جارہا، ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ جیل نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی بیٹوں سے بات کروانے کے لیے کل فون ملایا لیکن وہ موجود نہیں تھے،جب بھی ان کے بیٹوں کو فون ملاتے ہیں وہ دستیاب نہیں ہوتے،

    بانی پی ٹی آئی نے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ جیل کو جج کے سامنے ڈانٹ پلا دی،عمران خان نے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ جیل کو جواب دیا کہ تم پڑھے لکھے آدمی ہو عقل کی بات کرو، بانی پی ٹی آئی نے بیٹوں سے بات کرنے کے لیے باقاعدہ درخواست دے دی،عدالت نے جیل انتظامیہ کو بانی پی ٹی آئی کی بیٹوں سے بات کرانے کی ہدایت کر دی،ریفرنس پر سماعت احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے کی.

    پاکستان میں ہر قسم کی دہشت گردی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہوں،عمران خان
    پلان بی بن گیا تو عہدے سے اترتے ہی شہباز شریف بھی مسنگ پرسن ہو جائے گا،عمران خان
    عمران خان نے اڈیالہ جیل میں صحافیوں سے غیر رسمی بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ کہا جا رہا ہے کہ جو دہشتگردی ہو رہی ہے یہ پی ٹی آئی کی وجہ سے ہے کیا بلوچستان میں دہشت گردی ہماری وجہ سے ہے؟ بارڈر دہشتگردی ہماری وجہ سے ہے کچے کے علاقے میں ڈاکوؤں کی دہشتگردی ہماری وجہ سے ہے ؟ملک بھر میں سٹریٹ کرائم میں اضافہ لوٹ مار کیا ہماری وجہ سے ہو رہی ہے ،‏میں پاکستان میں ہر قسم کی دہشت گردی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہوں،‏جو کچھ ہو رہا ہے بہت برا ہو رہا ہے اس کا نزلہ بھی اسٹیبلشمنٹ پر گر رہا ہے،یہ دہشت گردی پاکستان کو تباہ کر رہی ہے ،‏میرے بیٹوں سے فون پر بات ہی نہیں کروائی جا رہی، عدالت کو درخواست دی ہے عدالت کی جانب سے حکم صادر کر دیا گیا ،‏

    ‏پولیس کہتی ہے کہ اڈیالہ جیل سے ڈپٹی سپریڈنٹ کو اغوا نہیں کیا گیا بلکہ وہ کسی لڑکی کے ساتھ فرار ہو گیا،عمران خان
    چُھپے ہوئے پی ٹی آئی کے کسی بندے کو باہر آنے کا نہیں کہا،عمران خان
    عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ حیرت ہے عون چوہدری ایک لاکھ ووٹوں سے جیت گیا، ‏آٹھ فروری کو ہمارا مینڈیٹ چوری کیا گیا ،‏میں ساری قوم کو کہتا ہوں 8 ستمبر کو باہر نکلیں جلسے میں شرکت کریں ،فائز عیسی کے جاتے ہی 4حلقے کھلنے ہیں اور یہ حکومت گر جائے گی،‏اگر ان کا پلان بی بن گیا تو عہدے سے اترتے ہی شہباز شریف بھی مسنگ پرسن ہو جائے گا، ‏پولیس کہتی ہے کہ اڈیالہ جیل سے ڈپٹی سپریڈنٹ کو اغوا نہیں کیا گیا بلکہ وہ کسی لڑکی کے ساتھ فرار ہو گیا، یہ کیا ہو رہا ہے،چُھپے ہوئے پی ٹی آئی کے کسی بندے کو باہر آنے کا نہیں کہا،اس خبر کی سختی سے تردید کرتا ہوں، ہمیں جیلوں سے ڈر نہیں لگتا،ہمارے بندے اغواء کرلئے جاتے ہیں،میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین لانا چاہتا تھا لیکن باجوہ،الیکشن کمیشن اور پیپلز پارٹی نے نہیں لانے دی،

    اڈیالہ جیل میں الیکشن کرائے جائیں، وہاں بھی عمران کو شکست ہو گی،بیرسٹر عقیل ملک

    عمران خان آکسفورڈ یونیورسٹی کے چانسلر کے لیے نامناسب ترین امیدوار قرار

    آکسفورڈ یونیورسٹی کے وی سی کا الیکشن ،پی ٹی آئی کا ایک اور جھوٹ بے نقاب

    عمران خان جیل سے آکسفورڈ یونیورسٹی کے چانسلر کے لیے الیکشن لڑیں گے

    عمران خان کو آکسفورڈ کا نہیں اڈیالہ جیل کے قیدیوں کا الیکشن لڑنا چاہیے،عظمیٰ بخاری

    جیل میں سختیاں بڑھ گئیں،عمران خان نے چار مطالبات کر دیئے،علیمہ خان کا انکشاف
    دوسری جانب عمران خان کی بہن علیمہ خان نے اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان جب میڈیا سے گفتگو کررہے تھے تو ڈی ایس پی طاہر شاہ نے اُن سے بدتمیزی کی، ہمیں یہ بات پسند نہ آئی، تکلیف ہوئی، بدتمیزی نہ کریں، عمران خان عاجزی سے پیش آتے ہیں، سختیاں بڑھا دی گئی ہیں،ہم دیکھ رہے ہیں کہ عمران خان کو میڈیا سے بات کرنے سے روکا گیا، پچھلے کئی دنوں سے سختی ہوتی جا رہی ہے،یہ اوپن کورٹ ہے جس میں میڈیا کو ہونا بہت ضروری ہے، عمران خان نے جج سے آج 4 چیزیں مانگی ہیں کہ بچوں سے بات کروائی جائے، جو نہیں کروائی جارہی یہ اسکا حق ہے، دوسراعمران خان کتابیں مانگ رہے ہیں، ہم کتابیں لے کر جاتے ہیں جیل رول کے مطابق کتابیں انکا حق بنتا ہے لیکن کتابیں نہیں پہنچائی جارہیں،تیسرا عمران خان نے کہا کہ ایکسرسائز کیلئے ڈمبل چاہئیں، پولیس والا کھڑا کردیں، میں ورزش کروں گا، 15 منٹ بعد واپس لے جائے،عمران خان نے چوتھی ڈیمانڈ میں کہا کہ ملاقات کی لسٹ دیتا ہوں وہ ملاقاتیں کروائی جائیں، 6 لوگوں کو کہتا ہوں، 2 اندر ہوتے ہیں 3 باہر روک لیتے ہیں،ایسا نہیں ہونا چاہئے، قانون او ر عدالتی احکامات کے مطابق ملاقات ہونی چاہئے، جمعرات کو جن چھ لوگوں کا کہتا ہوں ان کو نہیں بھیجا جاتا،ہم نے خان صاحب کو کہا آپ مانگیں ہی نہ، یہ آپ کو تنگ کرنا شروع کردیتے ہیں،

    علیمہ خان کا مزید کہنا تھا کہ 8 ستمبر کا جلسہ شروعات ہو گی قوم اپنے حق کیلئے، اپنے مینڈیٹ کی واپسی کیلئے اور آئین و قانون کی حکمرانی کیلئے ہر صورت نکلے،پہلے میں کہہ دوں گھبرانا نہیں، سیاست میں نہیں آرہی، عمران خان کا پیغام دے رہی ہوں کہ 8 ستمبر کو ہماری شروعات ہے، سب اپنے حق کیلئے نکلیں،چھینا ہوا مینڈیٹ واپس لینا ہے یہ آپکے ووٹ ہیں، اسکے لئے نکلنا ہے، اور آئین کے مطابق حق ہے کہ نکلیں اوراحتجاج کریں، حق نہیں دیا جا رہا، ناانصافی ہو رہی ہے تو حق مانگ سکتے ہیں،

  • عالیہ حمزہ   کیخلاف اسلام آباد میں ایک اور مقدمہ درج

    عالیہ حمزہ کیخلاف اسلام آباد میں ایک اور مقدمہ درج

    تحریک انصاف کی رہنما عالیہ حمزہ نے کہا ہے کہ کچے کے ڈاکو تب ختم ہوں گے جب پکے کے ڈاکوﺅں سے نجات ملے گی،
    لاہور ہائیکورٹ پیشی کے موقع پر عالیہ حمزہ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ میری اور میرے لیڈر کی کوشش پاکستان کی فلاح کے لیے ہے، آج کی خواتین مردوں سے زیادہ مضبوط ہیں، 16 مہینے سے میں گھر نہیں رہی، گھر سے باہر یا عدالتوں میں رہی ہوں، میرے لیڈر نے سکھایا ہے کہ مشکل سے مشکل حالات میں بھی گھبرانا نہیں،س طرح ہمارے لیڈر کے ساتھ سلوک کیا جا رہا ہے وہ قابل مذمت ہے، سابق وزیرِ اعظم کو ان کی سہولتوں سے محروم کیا جا رہا ہے،عمران خان انڈر ٹرائل ہیں ایسے میں ان کو جیل میں نہیں رکھا جا سکتا،جیل کے دوران میں کسی ایک لمحے بھی نہیں گھبرائی، اب ایک ہی مقصد ہے کہ کس طرح اس ملک کو خوش حال پاکستان بنا سکتے ہیں، ایسا پاکستان جہاں احتجاج ہڑتالیں نہ ہوں، لوگوں کو ان کا حق ملے،میں این اے 118 کی مقروض ہوں، میرے حلقے کے لوگوں نے مجھے جتوایا، میں جلد اپنے حلقے میں جاؤں گی اور سب کا شکریہ ادا کروں گی لاہور میں جلسہ ہونے والا ہے، جب لاہور بدلتا ہے تو پورا پاکستان بدلتا ہے، جب مینار پاکستان پر جلسہ ہو گا تب یہ لوگ پہلے ہی اپنے گھر میں جا چکے ہوں گے۔

    لاہور ہائیکورٹ،عالیہ حمزہ کی دس روزہ عبوری حفاظتی ضمانت منظور
    دوسری جانب آج لاہور ہائی کورٹ میں عالیہ حمزہ پر درج مقدمات کی تفصیلات لینے کے لیے دائر درخواست پر سماعت ہو ئی،جسٹس علی باقر نجفی نےعالیہ حمزہ کے شوہر کی درخواست پر سماعت کی،عالیہ حمزہ ملک کیخلاف اسلام آباد میں ایک اور مقدمہ درج کر لیا گیا، وفاقی حکومت نے رپورٹ لاہور ہائیکورٹ میں جمع کروا دی،‏لاہور ہائیکورٹ نے عالیہ حمزہ کی دس روزہ عبوری حفاظتی ضمانت منظور کرتے ہوئے کسی مقدمہ میں گرفتاری روک دی.عدالت نے درخواست گزار کو ضمانت کے کیے متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی.لاہور ہائیکورٹ میں عالیہ حمزہ کے شوہر نے درخواست میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ اہلیہ پر پنجاب میں درج مقدمات کی تفصیلات فراہم نہیں کی جا رہیں، عدالت عالیہ حمزہ پر درج مقدمات کی تفصیلات فراہم کرنے کا حکم دے

    اسلام آباد ہائیکورٹ ، عالیہ حمزہ کی 15 دن کی حفاظتی ضمانت منظور

    عمران خان اور بشریٰ بی بی کو سزا کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ 

     بنی گالہ میں سارے سودے ہوتے تھے کہا گیا میرا تحفہ میری مرضی

    عمران خان جیل میں شاہانہ زندگی گزار رہے ہیں، وفاقی وزیر اطلاعات

    عمران خان سے ملاقات نہ کرانے پر توہین عدالت کی درخواست، نوٹس جاری

    اب بتا رہا ہوں پاکستان میں سری لنکا والا کام ہونے جا رہا ، کوئی ڈیل کی بات نہیں ہو رہی، عمران خان

  • عمران خان  آکسفورڈ یونیورسٹی کے چانسلر کے لیے نامناسب ترین امیدوار قرار

    عمران خان آکسفورڈ یونیورسٹی کے چانسلر کے لیے نامناسب ترین امیدوار قرار

    آکسفورڈ یونیورسٹی میں سابق وزیر اعظم پاکستان عمران خان کی جانب سے جیل سے چانسلر کے عہدے کے لیے الیکشن لڑنے کے اعلان پر شدید احتجاج شروع ہوگیا ہے۔
    عمران خان، جو ایک سال سے زائد عرصے سے بدعنوانی کے الزامات پر جیل میں ہیں، نے کنزرویٹو پارٹی کے لارڈ پیٹن کی جگہ لینے کا اعلان کیا ہے۔ تاہم، یونیورسٹی کو عمران خان کی امیدواری پر متعدد تحفظات موصول ہوئے ہیں ، جن میں ان کی طالبان کی حمایت اور ان کی سزا کا حوالہ دیا گیا ہے۔ اس سے قبل عمران خان نے کہا، "بطور چانسلر، میں آکسفورڈ کے اصولوں، تنوع، مساوات اور شمولیت کی حمایت کرنے کا پُر جوش وکیل بنوں گا، نہ صرف برطانیہ میں بلکہ دنیا بھر میں۔”یونیورسٹی کو اس معاملے پر ای میلز اور ایک پٹیشن موصول ہوئی ہے جس میں سابق وزیر اعظم عمران خان کی امیدوار ہونے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔ پٹیشن میں کہا گیا ہے، "اگرچہ عمران خان ایک ممتاز شخصیت ہیں، لیکن ان کے عوامی اور ذاتی ریکارڈ کے بعض پہلو انتہائی تشویشناک ہیں اور ان پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔پٹیشن میں مزید کہا گیا ہے کہ عمران خان نے طالبان کے ساتھ میل جول بڑھانے کی کوشش کی اور انہیں پاکستان میں دفتر قائم کرنے کی تجویز دی تھی، جس پر شدید ردعمل سامنے آیا تھا۔پٹیشن میں مزید کہا گیا ہے کہ عمران خان نے اسامہ بن لادن کو ‘شہید’ کہا، جو کہ ایک متنازعہ بیان تھا اور اس پر عالمی سطح پر تنقید کی گئی تھی۔عمران خان کے امیدوار بننے کے خلاف لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ ان کے حامیوں نے سوشل میڈیا پر ناقدین کو ہراساں کیا اور انہیں بدنام کیا۔یونیورسٹی نے تصدیق کی ہے کہ چانسلر کے عہدے کے امیدواروں کی فہرست اکتوبر کے اوائل میں جاری کی جائے گی، جبکہ الیکشن 28 اکتوبر کو ہوں گے۔

    ڈیلی میل نے عمران خان کے حوالہ سے سٹوری شائع کی ہے،ڈیلی میل کے مطابق عمران خان کے الیکشن لڑنے کے فیصلے کے خلاف آکسفورڈ یونیورسٹی میں سخت اشتعال اور مظاہرے ہوئے ہیں،ڈیلی میل نے اپنی سرخی میں عمران خان کو Disgraced وزیراعظم کا خطاب دے دیا ،آکسفورڈ یونیورسٹی کو عمران خان کے چانسلر کا الیکشن لڑنے کیخلاف غم و غصّے سے بھری ای میلز اور احتجاجی پٹیشن موصول ہونا شروع ہو گئیں ،ڈیلی میل کے مطابق ان ای میلز میں بانی پی ٹی آئی کو آکسفورڈ یونیورسٹی کے چانسلر کے لیے نامناسب ترین امیدوار قرار دیا گیا ہے- پٹیشن میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ کرپشن کیسز میں سزا یافتہ شخص کا آکسفورڈ یونیورسٹی جیسے بڑے تعلیمی ادارے کے چانسلر کا الیکشن لڑنا قابل قبول نہیں ،

    طالبان اور اسامہ بن لادن کی پرجوش حمایت پر مبنی عمران خان کا شدت پسند موقف چانسلر کا امیدوار بننے کی راہ میں بڑی رکاوٹ بن گیا،ڈیلی میل کے مطابق بانی پی ٹی آئی نے کئی مواقعوں پر طالبان کی حمایت اور ان کے شدت پسند ایجنڈے کا پرچار کیاہے – بانی پی ٹی آئی کے خلاف یونیورسٹی کو موصول پٹیشن میں اس طرح کے مزید ذاتی اور پبلک مفادات سے متصادم باتوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے ،بانی پی ٹی آئی کی نجی زندگی پر بھی کئی داغ موجود ہیں،خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی کے الزام اُنہی خواتین کے لباس کو ٹھہرانا بھی عوام نقطہ احتجاج بن گیا،خواتین کا مختصر لباس ان کی آبرو ریزی کے واقعات کی بڑی وجہ ہے، ایسے لباس کے اثرات صرف روبوٹس پر نہیں ہوتے، لوگوں نے عمران خان کا پرانا موقف آکسفورڈ یونیورسٹی کو یاد کرا دیا

    تحریک انصاف کے سپورٹرز پر عمران خان کے مخالفین کو ہراساں کرنے کا بھی الزام ہے،عمران خان کے حامی اس پر تنقید کو روکنے کیلئے سوشل میڈیا ٹرولنگ سے کام لے رہے ہیں، برطانوی اخبار کے مطابق آکسفورڈ یونیورسٹی کی انسانیت کے احترام ، اخلاقی اقدار اور لیڈر شپ کے اعلیٰ معیار کے حوالے سے قابل قدر تاریخ ہے، عمران خان کا چانسلر کا الیکشن لڑنا اسے داغدار کر دے گا، عمران خان دہشت گردوں کا حامی ہے قومی اسمبلی سے خطاب میں اس نے اسامہ بن لادن کو شہید کہا

    خلیل الرحمان قمر پر تشدد کرنیوالے ریکارڈ یافتہ ملزم نکلے

    خلیل الرحمان قمر کی نازیبا ویڈیو لیک ہو گئیں

    خلیل الرحمان قمر کیس،مرکزی ملزم حسن شاہ گرفتار

    خلیل الرحمان قمر کے اغوا کی کہانی،مکمل حقائق،ڈرامہ نگاری سے ڈرامائی بیان

    خلیل الرحمان قمر کے اغوا کے پیچھے کون؟

    خلیل الرحمان قمر پر تشدد میں ملوث خاتون سمیت 12 ملزمان گرفتار

    خلیل الرحمان قمر کی برابری کی خواہش آمنہ نے پوری کر دی

  • اسلام آباد میں ایسا کیا ہوتا کہ ہر مرتبہ رات کو جلسہ  کی این او سی کینسل ہو جاتی ہے؟عدالت

    اسلام آباد میں ایسا کیا ہوتا کہ ہر مرتبہ رات کو جلسہ کی این او سی کینسل ہو جاتی ہے؟عدالت

    اسلام آباد میں جلسے کا این او سی کینسل ہونے پر توہین عدالت کی درخواست پر سماعت ہوئی

    چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس عامر فاروق نے کیس کی سماعت کی،شعیب شاہین پی ٹی آئی کی جانب سے عدالت میں پیش ہوئے،ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد عدالت میں پیش ہوئے، شعیب شاہین نے کہا کہ اسلام آباد انتظامیہ پہلے بھی ایسا کر چکی ہے، اسی عدالت کے بنیچ نمبر 3 نے 22 اگست کو جلسہ کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اس وقت حالت جنگ میں ہے، لیکن اسلام آباد میں ایسا کیا ہوتا کہ ہر مرتبہ رات کو این او سی کینسل ہو جاتی ہے، میرا راستہ محدود ہے اپنے گھر جاتا ہوں یہ بتائیں اسلام آباد کو ہر جگہ کنٹینرز لگا کر بند کیوں کیا ہوا ہے،کیا اسلام آباد میں دفعہ 144 لگا ہوا ہے؟

    ایڈوکیٹ جنرل اسلام آباد نے کہا کہ پہلے بنگلہ دیش کی ٹیم تھی لیکن ہم مینج کر رہے تھے،پھر مذہبی جماعت نے سپریم کورٹ جانے کا اعلان کر دیا، ہم نے مشاورت سے 8 ستمبر کو جلسے کی تاریخ دی ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ اگر 8 کو کسی اور جماعت نے آنا ہے تو ابھی بتا دیں ، عدالت نے شعیب شاہین سے استفسار کیا کہ کیا آپ کو کوئی انٹیلیجنس رپورٹ بھی دکھاتے ہیں ،شعیب شاہین نے کہا کہ ہمیں کبھی انہوں نے کوئی رپورٹ نہیں دیکھائی ، ہم نے جلسے ملتوی کر دیا پھر بھی پولیس نے وہاں آپریشن کر کے لوگوں کو گرفتار کیا، رات کے اندھیرے میں پنجاب پولیس بھی آ گئی،جلسہ کرانے کے لیے سکیورٹی نہیں مگر گرفتاریوں کے لیے سب کچھ ہے،

    ہم اس وقت حالت جنگ میں ہیں، بلوچستان میں جو ہو رہا ہے سب کے سامنے ہے،چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ
    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ ہم اس وقت حالت جنگ میں ہیں، بلوچستان میں جو ہو رہا ہے سب کے سامنے ہے،یہ لوگ ایک پارٹی کے سپورٹر ہیں لیکن اس سے پہلے انسان اور پاکستان کے شہری ہیں، انتظامیہ آخری وقت پر جا کر جلسے کا این او سی کیوں معطل کرتی ہے؟ لوگ دور دراز علاقوں سے چل چکے ہوتے ہیں بعد میں پتہ چلتا ہے جلسہ معطل ہو گیا، آپ پہلے بتا دیا کریں کہ سیکیورٹی خدشات ہیں اجازت نہیں دے سکتے، یہ پہلے بتائیں جو بھی بیس پچیس ہزار لوگ آنے ہوتے ہیں اُن کی جان کو خطرہ ہے، وہ کوئی بےحس لوگ تو نہیں کہ انہوں نے پھر بھی اپنے لوگوں کو خطرے میں ڈالنا ہے، میں نے پریس میں دیکھا کہ صبح صبح اڈیالہ جیل جا کر ملاقات کی گئی،گاڑیوں کی آدھے پونے گھنٹے کی لمبی لائن ہوتی ہے، محرم ہو گیا، ختم نبوت والے آ گئے، اب آگے کیا ہونا ہے وہ بھی بتا دیں ،کیا اچھا لگے گا کہ میں کمشنر کو بلا کر شوکاز نوٹس جاری کروں،

    ایڈوکیٹ جنرل نے 8 ستمبر کو جلسے کی اجازت کی یقین دہانی کروادی،اور کہا کہ پچھلی بار لفظ انشاء اللہ کہا تھا تو اِنہوں نے اعتراض کیا تھا ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ 8 کو جلسہ ہے تو ہم یہ درخواست نمٹا نہیں رہے، ہم اس درخواست کو دس ستمبر تک ملتوی کرتے ہیں ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کیس کی سماعت کی،کیس کی سماعت دس ستمبر تک ملتوی کر دی گئی

    بشریٰ بی بی ڈس انفارمیشن سیل چلا رہی، علیمہ خان کا اعتراف

    جلسہ ملتوی ہونے پر علیمہ خان اعظم سواتی پر برس پڑیں

    لگ رہا عمران خان کو اگلے ہفتے سزا سنا دی جائے گی،علیمہ خان

    عمران خان کا برطانوی دوست علیمہ خان کے ہمراہ اڈیالہ پہنچ گیا

    تفتیشی افسر نے علیمہ خان سے فون نمبر مانگ لیا

    ہمیں علیمہ خان نہیں بلکہ عمران خان کو فالو کرنا ہے،علی امین گنڈا پور

    جو مرضی کر لیں، لوگ نکل کر پی ٹی آئی کوووٹ دیں گے،عمران خان کا پیغام علیمہ کی زبانی

    عمران خان پر لگی دفعات پر سزائے موت ہو سکتی ہے،علیمہ خان کا پھر بیان

    جج کے پیچھے پولیس کھڑی ہوتی تا کہ جج کو ڈرایا جائے،علیمہ خان

    جس کیس سے متعلق کوئی بات نہ کر سکیں اس پر کیا کہیں،علیمہ خان

    شیر افضل مروت کی لاٹری نکل آئی، نواز کا دکھڑا،علیمہ کی پنکی سے چھیڑچھاڑ

    پی ٹی آئی چیئرمین کیسا ہو، بشریٰ بی بی جیسا ہو،علیمہ باجی کا پارٹی پر قبضہ نامنظور ،نعرے لگ گئے

  • پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات،کیس کو زیر التوا رکھنے کی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ

    پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات،کیس کو زیر التوا رکھنے کی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ

    الیکشن کمیشن،پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات کیس کی سماعت ہوئی

    الیکشن کمیشن نے دائرہ اختیار اور سپریم کورٹ کی وضاحت آنے تک کیس کو زیر التوا رکھنے کی تحریک انصاف کی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کر لیا،چیف الیکشن کمشنرسکندرسلطان راجہ کی سربراہی میں چاررکنی بنچ نے سماعت کی،تحریک انصاف کی جانب سے وکیل عذیر بھنڈاری پیش ہوئے، اور کہا کہ ہم نے چار درخواستیں دائر کروائی ہیں، ایف آئی اے نے چھاپا مار کر ہمارا تمام ریکارڈ ضبط کر لیا تھا۔ ہمارے پاس اصل دستاویزات اور الیکٹرانک ریکارڈ بھی موجود نہیں۔ بیرسٹر گوہر علی نے کہا کہ آپ نے ویڈیو دیکھی ہے ہمارا واٹر ڈسپینسر بھی لے گئے۔ الیکشن کمیشن ہدایت دے تو ریکارڈ ایف آئی اے سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ الیکشن کمیشن نے ایک سوالنامہ بھیجا تھا۔پہلا سوال تھا کہ تحریک انصاف کی اب کیا حیثیت ہے۔ اس سوال کا جواب سپریم کورٹ کے مخصوص نشستوں سے متعلق شارٹ آرڈر میں آ گیا ہے۔

    ممبر سندھ نے استفسار کیا کہ آپ اب چاہتے کیا ہیں۔ عذیر بھنڈاری نے کہا کہ ہم یہ چاہتے ہیں کہ مخصوص نشستوں سے متعلق سپریم کورٹ کی وضاحت یا تفصیلی فیصلہ آنے تک الیکشن کمیشن اس کیس کی سماعت نہ کرے۔

    تحریک انصاف نے انٹرا پارٹی الیکشن سے متعلق الیکشن کمیشن کے دائرہ اختیار کو چیلنج کر دیا، عذیر بھنڈاری نے کہا کہ انٹرا پارٹی الیکشن کی جانچ پڑتال الیکشن کمیشن کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا۔ الیکشن کمیشن صرف یہ دیکھ سکتا ہے کہ انٹرا پارٹی انتخابات ہوئے تھے یا نہیں۔ الیکشن کمیشن پہلے دائرہ اختیار کا فیصلہ کرے۔ ڈی جی لا الیکشن کمیشن نے کہا کہ سپریم کورٹ نے اپنے شارٹ آرڈر میں کہا تھا کہ صرف 41 آزاد ارکان کے پارٹی سرٹیفکیٹ جمع کروائے جائیں۔سپریم کورٹ نے کسی مخصوص جماعت کا ذکر نہیں کیا تھا۔آزاد رکن کسی بھی سیاسی جماعت میں شامل ہو سکتا ہے۔الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ سے یہ وضاحت مانگی ہے کہ 41 ارکان کی پی ٹی آئی میں شمولیت کیلئے کس کا سرٹیفکیٹ تسلیم کیا جائے۔

    الیکشن کمیشن نے دائرہ اختیار اور سپریم کورٹ کی وضاحت آنے تک کیس کو زیر التوا رکھنے کی تحریک انصاف کی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کر لیا ،کیس کی سماعت 18 ستمبر تک ملتوی کر دی گئی

    تحریک انصاف کے فیڈرل الیکشن کمشنر رؤف حسن کی جانب سے تفصیلات الیکشن کمیشن میں جمع کروائی گئیں ،فارم 65 پر مشتمل پارٹی سربراہ کا سرٹیفیکیٹ بھی الیکشن کمیشن میں جمع کروا دیا گیا ،مرکزی اور صوبائی سطح پر نو منتخب پارٹی عہدے داروں کی تفصیلات شامل ہیں،مرکزی کور کمیٹی کے ارکان کے نام اور تفصیلات بھی شامل ہیں،فیڈرل الیکشن کمشنر کے نوٹیفکیشن کے علاوہ دیگر دستاویزات بھی الیکشن کمیشن میں جمع کروائی گئیں

    علاوہ ازیں،اکبر ایس بابر نے بھی پی ٹی آئی انٹراپارٹی انتخابات کو الیکشن کمیشن میں چیلنج کردیا ، اکبر ایس بابر نے الیکشن کمیشن میں مؤقف اختیار کیا کہ پی ٹی آئی انٹراپارٹی انتخابات کو کالعدم قرار دیا جائے۔اکبر ایس بابر نے الیکشن کمیشن میں باضابطہ درخواست دائر کردی، درخواست میں کہا گیا کہ ساڑھے 8 لاکھ میں سے 960 ووٹ پڑے ،سنی تحریک میں شامل ہونے والوں کو تحریک انصاف سے خارج کرنے کا حکم دیا جائے،پی ٹی آئی کے فنڈز منجمند کئے جائیں۔

    تحریک انصاف کے چیف الیکشن کمشنر رؤف حسن نے انٹرا پارٹی الیکشن کے نتائج کا اعلان کیا تھااور کہا تھا کہ انٹرا پارٹی الیکشن میں بیرسٹر گوہر چیئرمین اور عمر ایوب سیکریٹری جنرل منتخب ہوئے ہیں، اس بار الیکشن کمیشن پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی انتخابات تسلیم کرے گا اور ہمیں انتخابی نشان واپس ملے گا

    واضح رہے کہ پہلے اکبر ایس بابر کی درخواست پر ہی انٹرا پارٹی انتخابات کالعدم ہوئے تھے، تحریک انصاف نے سپریم کورٹ میں بھی انتخابی نشان کے لئے درخواست دائر کی تھی تا ہم درخواست مسترد کر دی گئی تھی، تحریک انصاف نے انتخابی نشان بلے کے بغیر الیکشن میں حصہ لیا ، آزاد امیدوار جیتے تو وہ سنی اتحاد کونسل میں شامل ہو گئے،

    خلیل الرحمان قمر کے اغوا کے پیچھے کون؟

    خلیل الرحمان قمر پر تشدد میں ملوث خاتون سمیت 12 ملزمان گرفتار

    خلیل الرحمان قمر کی برابری کی خواہش آمنہ نے پوری کر دی

    خلیل الرحمان قمر کی نازیبا ویڈیو،تصاویر بھی خاتون کے پاس موجود ہیں،دعویٰ

    خلیل الرحمان قمر سے فون پر چیٹ،تصاویر کا تبادلہ،پھر اس نے ملنے کا کہا،ملزمہ کا بیان

    خواتین آدھے کپڑے پہن کر مردوں‌کو ہراساں کررہی ہیں خلیل الرحمان قمر

    سونیا کی جرائت کیسے ہوئی وہ کہے کہ اس نے میرے پاس تم ہو رد کیا خلیل الرحمان قمر

    اچھی بیوی کون ہوتی ہے خلیل الرحمان قمر نے بتا دیا

    خلیل الرحمان قمر نے پہلا لو لیٹر کس کو اور کس عمر میں لکھا

  • وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی کرپشن کیخلاف بولنا جرم،عاطف خان،شیر علی ارباب پارٹی عہدوں سے فارغ

    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی کرپشن کیخلاف بولنا جرم،عاطف خان،شیر علی ارباب پارٹی عہدوں سے فارغ

    تحریک انصاف میں اختلافات، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی کرپشن کے خلاف بولنا جرم بن گیا،عاطف خان اور شیر علی ارباب کو عہدوں سے ہٹا دیا گیا

    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور اپنے خلاف اٹھنے والی آوازوں کو دبانے لگے، کرپشن کی آوازیں آئیں تو پہلے شکیل خان نے استعفیٰ دیا، کرپشن الزامات کی عاطف خان نے تصدیق کی تو انہیں پارٹی عہدے سے ہٹا دیا گیا،وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور نے اراکین اسمبلی عاطف خان اور شیر علی ارباب کو پارٹی عہدوں سے ہٹا دیا ہے،عاطف خان پی ٹی آئی پشاور ریجن کے صدر اور شیرعلی ارباب ضلع پشاور کے صدر تھے، عاطف خان کی جگہ ارباب عاصم کو پی ٹی آئی پشاور ریجن کا صدر مقرر کیا گیا ہے جب کہ عرفان سلیم کو پی ٹی آئی ضلع پشاور کا صدر اور شہاب ایڈووکیٹ کو جنرل سیکرٹری مقرر کیا گیا ہے

    عاطف خان نے خیبر پختونخوا کے برطرف وزیر شکیل خان کے حق میں بیان دیا تھا جب کہ شیرعلی ارباب نے وزیراعلیٰ پر اعتماد سے متعلق اقرار نامے پر دستخط کرنے سے انکار کیا تھا، اس سے قبل شکیل خان کے حق میں بیان دینے پر علی امین گنڈاپور نے رکن قومی اسمبلی جنید اکبر کو فوکل پرسن برائے اراکین قومی اسمبلی کے عہدے سے ہٹا دیا تھا۔

    واضح رہے کہ خیبر پختونخوا کے سابق وزیر برائے کمیونیکیشن اینڈ ورکس شکیل خان نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دیا تھا تاہم وزیر اعلیٰ کے پی علی امین گنڈا پور نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی منظوری سے بنائی گئی گڈ گورننس کمیٹی نے شکیل خان کی کارکردگی پر انہیں ہٹانے کی منظوری دی تھی۔

    خیبر پختونخوا کے سابق وزیر شکیل خان نے ایک اہم بیان دیتے ہوئے صوبے میں موجودہ سیاسی حالات اور حکومت کے طرز عمل پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اپنی وزارت سے نکالے جانے کے پس منظر میں پرویز خٹک اور محمود خان کے مبینہ کارناموں کو بھی بے نقاب کرنے کا دعویٰ کیا.شکیل خان نے پشاور سے جاری اپنے بیان میں کہا کہ وقت نے ثابت کر دیا کہ کون سچا تھا اور کون جھوٹا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات ایسے ہیں کہ ایسا لگتا ہی نہیں کہ یہ حکومت ہماری ہے بلکہ کوئی اور اس نظام کو چلا رہا ہے۔ ان کے مطابق، صوبے کے حالات میں ایسا تاثر پیدا ہو چکا ہے کہ وہ حکومت میں رہ کر بھی بے اختیار ہیں اور اہم فیصلوں میں ان کا کوئی کردار نہیں ہے۔

    شکیل خان کے اس بیان نے خیبر پختونخوا کی سیاست میں ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے اور اس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ صوبے میں اندرونی کشیدگی اور تقسیم کی کیفیت موجود ہے۔ ان کے الزامات اور تحفظات پر یقیناً پی ٹی آئی کی قیادت اور حکومت کو وضاحت دینا ہوگی تاکہ عوام کے سامنے حقائق واضح ہو سکیں۔

    جنرل عاصم منیرنے ڈنڈا اٹھا لیا، فیض حمید گواہ،اب باری خان کی

    شکریہ جنرل باجوہ،اہم معلومات ہاتھ لگ گئی،فیض ،عمران ،بشریٰ کا گٹھ جوڑ

    فیض حمید کو میرے خلاف وعدہ معاف گواہ بنائیں گے،عمران خان

    فیض حمید عبرت کا نشان،عمران کا نشہ بند، بشریٰ پر فیض کا فیض

    فیض حمید کے بارے مبشر لقمان کے پروگرام کھرا سچ میں محسن بیگ کے چشم کشا انکشافات

    فیض حمید کی گرفتاری پر نہ ڈرا ہوں نہ گھبرایا ہوں،عمران خان

    جنرل فیض حمید کا 30 سال تک قبضے کا منصوبہ،بغاوت ثابت؟

    فیض نیازی گٹھ جوڑ جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ نے کیسے توڑا تھا؟ اہم انکشافات

  • کیا ہم پاگل ہیں کہ سیاست میں آئیں،جلسہ تو ہو کر رہے گا،علیمہ خان

    کیا ہم پاگل ہیں کہ سیاست میں آئیں،جلسہ تو ہو کر رہے گا،علیمہ خان

    سابق وزیراعظم عمران خان کی بہن علیمہ خان نے کہا ہے کہ ا س وقت حکومت کو یہ فکر ہے کہ کہیں ہم سیاست میں نہ آجائیں، ہم سے کوئی کیوں نہیں پوچھ لیتا ہم آنا بھی چاہتے ہیں یا نہیں, کیا ہم پاگل ہیں کہ ہم سیاست میں آئیں

    علیمہ خان نے میڈیا سے بات کرتے ہوئےکہا کہ میں حیران ہوں کہ آپ تین چار عورتوں سے ڈر رہے ہیں،ہم ہی میڈیا سیل ہیں، ہم ہی عمران خان کی فیملی ہیں، ہم ہی نے کیسز دیکھنے ہیں،جلسے کی بات آئے تو پاؤں پڑ جاتے ہیں، اس بار چاہے 400 دھمکیاں دیں، چاہے کہیں کہ بم پھٹنے لگا جلسہ ہوگا، ہم نہیں رکیں گے،8 ستمبر کو عمران خان کے حکم پر ہم سب جلسہ میں شرکت کریں گے، عمران خان نے کہا ہے کہ چاہے یہ 400 دھمکیاں دیں یا کہیں کہ راستے میں راکٹ لانچر یا بمب ہے، ہم نے نہیں رکنا،ہم تو آرہے ہیں اور جلسہ ضرور ہوگا۔

    علیمہ خان کا مزید کہنا تھا کہ8 ستمبر کو کچھ بھی ہو جائے جلسہ ضرور کریں گے، تیسری بار اڈیالہ کا عملہ تبدیل کیا گیا، آپ جب ٹی وی پر ہمارا تماشہ بناتے ہیں تو کیا گھر کی خواتین آپ سے نہیں پوچھتیں؟ میں حیران ہوں کہ تین چار عورتوں سے ڈر رہے ہیں،ہم تو آ رہے ہیں، ہم ڈر نہیں رہے، ہم پارٹی ٹیک اوور نہیں کر رہے،نہ ہی سیاست میں آ رہے، کئی بار بتا چکی ہیں کہ ہم سیاست میں نہیں آئیں گے،

    بشریٰ بی بی ڈس انفارمیشن سیل چلا رہی، علیمہ خان کا اعتراف

    جلسہ ملتوی ہونے پر علیمہ خان اعظم سواتی پر برس پڑیں

    لگ رہا عمران خان کو اگلے ہفتے سزا سنا دی جائے گی،علیمہ خان

    عمران خان کا برطانوی دوست علیمہ خان کے ہمراہ اڈیالہ پہنچ گیا

    تفتیشی افسر نے علیمہ خان سے فون نمبر مانگ لیا

    ہمیں علیمہ خان نہیں بلکہ عمران خان کو فالو کرنا ہے،علی امین گنڈا پور

    جو مرضی کر لیں، لوگ نکل کر پی ٹی آئی کوووٹ دیں گے،عمران خان کا پیغام علیمہ کی زبانی

    عمران خان پر لگی دفعات پر سزائے موت ہو سکتی ہے،علیمہ خان کا پھر بیان

    جج کے پیچھے پولیس کھڑی ہوتی تا کہ جج کو ڈرایا جائے،علیمہ خان

    جس کیس سے متعلق کوئی بات نہ کر سکیں اس پر کیا کہیں،علیمہ خان

    شیر افضل مروت کی لاٹری نکل آئی، نواز کا دکھڑا،علیمہ کی پنکی سے چھیڑچھاڑ

    پی ٹی آئی چیئرمین کیسا ہو، بشریٰ بی بی جیسا ہو،علیمہ باجی کا پارٹی پر قبضہ نامنظور ،نعرے لگ گئے

  • جیل میں کچھ زیادہ ہی سختیاں ، لگتا ہے اِن کی کانپیں ٹانگ رہی ہیں، عمران خان

    جیل میں کچھ زیادہ ہی سختیاں ، لگتا ہے اِن کی کانپیں ٹانگ رہی ہیں، عمران خان

    سابق وزیراعظم عمران خان نے اڈیالہ جیل میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ جیل میں کچھ زیادہ ہی سختیاں ہو رہی ہیں، لگتا ہے اِن کی کانپیں ٹانگ رہی ہیں،

    عمران خان کا کہنا تھا کہ مجھے اوون نما میں کمرے میں رکھا گیا ہے، بشریٰ بی بی کے کمرے میں چوہے آ چکے پیں، وہ نماز پڑھتی ہے اور چوہے چھت سے گرتے ہیں، آج عدالت کو آگاہ کیا ہے تا کہ چوہے ختم ہوسکیں،میرا اسٹیبلشمنٹ سے کوئی رابطہ نہیں، اسٹیبلشمنٹ سے جب بھی بات ہو گی ملک اور قانون کے لئے ہو گی، عوام فوج سے پیار کرتے ہیں کیونکہ وہ ہمارا تحفظ کرتی ہے، بنگلہ دیش میں دیکھیں عوام باہر نکلی تو اپنا حق لیا، صرف بھیڑ بکریاں ڈنڈوں سے کنٹرول ہوتی ہیں، انسان نہیں، اپیل ہے فوج سب کی ہے ،ملک کو مضبوط دارے کی ضرورت ہے، یہ جو کر رہے ہیں یہ خودکشی ہے،نو مئی کا بیانیہ اٹھ فروری کو قوم نے مسترد کر دیا سب نے دیکھ لیا،8 ستمبر والا جلسہ ہر صورت ہو گا اور آپ سب نے اسکو کامیاب کرنا ہے بلکل ایسے جیسے لوہے پر لکیر ۔

    محسن نقوی کی 5ملین ڈالر مالیت پراپرٹی دبئی میں بیوی کے نام،یہ گندم اسکینڈل میں ملوث ،عمران خان
    عمران خان کا کہنا تھا کہ چیئرمین پی سی بی نے کہا کرکٹ ٹیم کو سرجری کی ضرورت ہے اور اب ہم بنگلا دیش سے ہار گئے، یہ سارا ملبہ ایک ادارے پر گر رہا ہے، محسن نقوی کی کیا کوالیفیکئشن ہے اسے وزیر داخلہ اور چیئرمین پی سی بی بنا دیا، یہ 2008کا نیب زدہ ہے،کرکٹ واحد سپورٹس ہے جو پاکستان میں ٹی وی پر دیکھی جاتی ہے، یہ ایک سفارشی کو لے کر آئے اس نے کرکٹ تباہ کردی، اس کے پیچھے طاقتور ہیں،ورلڈ کپ میں ہم پہلی 4 اور ٹی 20 کی 8 ٹیموں میں نہ آئے،کل بنگلہ دیش سے ہار کر نئی تاریخ رقم کردی، محسن نقوی کی 5ملین ڈالر مالیت پراپرٹی دبئی میں بیوی کے نام پر ہے،یہ گندم اسکینڈل میں ملوث ہے، ملک کا سب سے بڑا فراڈ الیکشن اس نے کروایا، اس کی قابلیت کیا ہے، کرکٹ تباہ کرچکا،

    عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ بلوچستان اور ملک میں امن و امان کی صورتحال سب کے سامنے ہیں، ہر روز کے پی اور بلوچستان میں شہادتیں ہو رہی ہیں،پنجاب میں چوری، ڈکیتی اور پولیس ملازموں کو شہید کردیا گیا، یہ اصلاحات نہیں کرسکے، نہ خرچ کم کیے نہ آمدن بڑھائی،یہ کام مینڈیٹ والی حکومت کرسکتی ہے جو ان کے پاس نہیں، ان سب کے پیسے اور پراپرٹیز باہر ہیں یہ صرف قرض لے رہے ہیں،قرض لینے سے مہنگائی بڑھ رہی ہے،بڑی ملٹی نیشنل کمپنیاں اور پروفیشنلز ملک چھوڑ کر جارہے ہیں،مزید مہنگائی کا دور آرہا ہے ان کے پاس کوئی پلان نہیں ہے،اگر عوام تنقید کرے تو یہ ڈیجیٹل دہشتگردی بنا دیتے ہیں، مجھے ملک کی فکر ہے میرا جینا مرنا پاکستان ہے، میرا ملک سے باہر کوئی پیسہ نہیں،میں زرداری نواز شریف کی طرح ڈیل نہیں کرسکتا،

    آپ کہہ رہے ہیں کہ میں فراڈ الیکشن کو بھول جاوں؟ امن انصاف سے آتا ہے،عمران خان
    صحافی نے عمران خان سے سوال کیا کہ ملک میں حالات خراب ہیں، آپ لیڈرشپ کا مظاہرہ کریں، قومی مفاہمت کریں وہ آپ کو اور آپ اُن کو معاف کردیں؟جس پر عمران خان نے کہا کہ جیسے اسرائیل فلسطین کو کہہ رہا ہے کہ ماضی میں جو ہوا اس کو بھول جائیں،آپ کہہ رہے ہیں کہ میں فراڈ الیکشن کو بھول جاوں؟ امن انصاف سے آتا ہے، مشرقی پاکستان والے انصاف مانگ رہے تھے، ہمارے خلاف نہیں تھے،آپ جس قومی مفاہمت کی بات کررہے ہیں اس سے قبل انصاف تو کریں،صرف بھیڑ بکریاں ڈنڈوں سے کنٹرول ہوتی ہیں انسان نہیں،بنگلہ دیش میں کیا ہوا، آرمی چیف، چیف جسٹس اور پولیس چیف سب وزیراعظم کے تھے،عوام نکلی تو اپنا حق لے کر گئی، یورپ کو یکھیں اس نے کتنے فوجی آپریشن کیے، مجھے 2 مرتبہ قتل کرنے کی کوشش ہوئی، سی سی ٹی وی فوٹیج چوری کی گئی،جہاں مجھ پر حملہ ہوا، وہاں کا کنٹرول رات کو ایجنسی نے سنبھال لیا تھا، آپ جو مرضی کرلیں، 8 فروری کو آپ کا بیانیہ قوم نے مسترد کردیا،لوگ آرمی سے پیار کرتے ہیں، کیونکہ وہ ہمیں تحفظ دیتے ہیں،8 فروری کے آپریشن میں ہم پر تشدد کیا گیا ہماری پارٹی پر پابندی لگائی گئی،میرے ساتھ تعینات عملے کو چوتھی مرتبہ تبدیل کردیا گیا، یہ مجھے فراہم کیے جانے والے کھانے کو چیک کرتے تھے کہ اس میں زہر تو نہیں ملا،

    میری بیرک میں چوہے ہیں، میں نماز پڑھتی ہوں چوہے چھت سے گرتے ہیں،بشریٰ بی بی
    اڈیالہ جیل میں 190 ملین پائونڈ ریفرنس کی سماعت کے دوران بشری بی بی نے جج کو بتایا کہ میری بیرک میں چوہے ہیں، میں نماز پڑھتی ہوں چوہے چھت سے گرتے ہیں، بشریٰ بی بی نے جج سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ 3 ماہ سے چوہوں کا مسئلہ چل رہا ہے،ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ نے جج کو یقین دہانی کروائی کہ ہمیں آج ہی اس مسئلے کا پتہ چلا، حل کر لیتے ہیں،

    190 ملین پاونڈ ریفرنس،وکلاء صفائی کی عدم حاضری ،تفتیشی گواہ پر 10ویں مرتبہ بھی جرح نہ ہو سکی
    اڈیالہ جیل میں 190 ملین پاونڈ ریفرنس کی سماعت 29اگست تک ملتوی کر دی گئی،وکلاء صفائی کی عدم حاضری پر تفتیشی گواہ پر 10ویں مرتبہ بھی جرح نہ ہو سکی، عدالت نے 10ویں مرتبہ نیب گواہ پر جرح نہ کرنے پر برہمی کا اظہار کیا اور ریمارکس دیتےہوئے کہا کہ، عدالت میں ہر تاریخ پر میڈیا ٹاک ہوتی ہے،سیاسی قیادت ملاقات کرتی ہے،اگر وکلاء صفائی حاضر نہیں ہوں گے تو ہمارے پاس قانونی پراسس ہے علاوہ کوئی آپشن نہیں۔

    جنرل عاصم منیرنے ڈنڈا اٹھا لیا، فیض حمید گواہ،اب باری خان کی

    شکریہ جنرل باجوہ،اہم معلومات ہاتھ لگ گئی،فیض ،عمران ،بشریٰ کا گٹھ جوڑ

    فیض حمید کو میرے خلاف وعدہ معاف گواہ بنائیں گے،عمران خان

    فیض حمید عبرت کا نشان،عمران کا نشہ بند، بشریٰ پر فیض کا فیض

    فیض حمید کے بارے مبشر لقمان کے پروگرام کھرا سچ میں محسن بیگ کے چشم کشا انکشافات

    فیض حمید کی گرفتاری پر نہ ڈرا ہوں نہ گھبرایا ہوں،عمران خان

    جنرل فیض حمید کا 30 سال تک قبضے کا منصوبہ،بغاوت ثابت؟

    فیض نیازی گٹھ جوڑ جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ نے کیسے توڑا تھا؟ اہم انکشافات

    فیض حمید کی گرفتاری پر خلیل قمر،عمر عادل خوش،اڈیالہ جیل سے جاسوس گرفتار

    گرفتاری کا خوف،سابق چیف جسٹس ثاقب نثار بیرون ملک فرار

    فیض حمید کا نواز،شہباز کو پیغام،مزید گرفتاریاں متوقع

    فیض حمید پر ڈی ایچ اے پشاور کو 72 کروڑ کا نقصان کا الزام،تحقیقات

    قوم کا پاک فوج پر غیر متزلزل اعتماد ہمارا سب سے قیمتی اثاثہ ہے،آرمی چیف

    فیض حمید "تو توگیا”،ایک ایک پائی کا حساب دینا پڑے گا، مبشر لقمان

    فیض حمید کی گرفتاری،مبشر لقمان نے کیا کئے تھے تہلکہ خیز انکشافات

    بریکنگ،فیض حمید گرفتار،کورٹ مارشل کی کاروائی شروع

    فیض حمید ہمارا اثاثہ تھا جسے ضائع کر دیا گیا ،عمران خان

    فیض حمید کے مسئلے پر بات نہیں کرنا چاہتا یہ فوج کا اندورنی معاملہ ہے ، حافظ نعیم

  • اڈیالہ جیل میں افسران کے تبادلے،عمران خان کا کھانا چیک کرنیوالے تبدیل

    اڈیالہ جیل میں افسران کے تبادلے،عمران خان کا کھانا چیک کرنیوالے تبدیل

    سابق وزیراعظم عمران خان کی جیل میں سہولت کاری کے انکشاف کے بعد جیل افسران سے جہاں تحقیقات جاری ہیں وہیں اب جیل افسران کا تبادلہ بھی کر دیا گیا ہے

    اڈیالہ جیل کے 3 افسران کو تبادلہ کر دیا گیا ،ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل آفتاب احمد کا تبادلہ کردیا گیا، انہیں پنجاب اسٹاف ٹریننگ کالج بھیج دیاگیا،آفتاب احمدکوسابق ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ محمداکرم کی جگہ تعینات کیاگیاتھا۔ آفتاب احمد کوبانی پی ٹی آئی کو بیرک سے لانے اور لے جانے کی ڈیوٹی دی گئی تھی، لیڈی ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ سمرہ جبین کا بہاولپور اور ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ مظہراقبال اسلم کا ڈی جی خان تبادلہ کردیاگیا۔

    اڈیالہ جیل کے 7 وارڈرز سمیت مختلف جیلوں کے 10 وارڈرز کے تبادلے کر دیئے گئے ہیں، جن افسران کے تبادلے کیے گئے ہیں ان میں ابرار قیصر، محمد جمیل، سجاد صدیق، یاسر ریاض، محمد ظہیر بھی شامل ہیں۔ وارڈرز کو منڈی بہاءالدین، چکوال، گجرات اور اٹک جیل تبدیل کیا گیا ہے،

    عمران خان کے وکیل نعیم حیدر پنجھوتہ کا کہنا تھا کہ اڈیالہ جیل کے تین افسران کا اچانک تبادلہ ہو گیا جس پر ہم گہری تشویش کا اظہار کرتے ہیں ،یہ وہ لوگ تھے جو خان صاحب کا کھانہ پراپر چیک کر کے آگے لے جاتے تھے ،خان صاحب پر دو قاتلانہ حملے ہو چکے ہیں ہم ان تبادلوں پر گہری تشویش رکھتے ہیں .

    واضح رہے کہ اڈیالہ جیل میں‌ تعینات افسران عمران خان کے سہولت کار نکلے،جس پر کاروائی کا آغاز کیا گیا ہے اور گرفتاریاں شروع کی گئی ہیں،عمران خان کی سہولت کاری کے الزام میں ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ محمد اکرم کے بعد جیل کے ایک اور افسر کے خلاف تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں، سیکورٹی اداروں نے اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ بلال سے تحقیقات کی ہے ، اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ بلال کا موبائل فون ریکارڈ حاصل کر لیا گیا ہے،میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ محمد اکرم اوراسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ بلال عمران خان کے سیل تک رسائی رکھتے تھے، ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ کوکمرہ عدالت میں دوران سماعت عمران خان سے سرگوشیاں کرتے بھی دیکھا گیا ہے، دونوں افسران پر عمران خان کو موبائل تک رسائی دینے کا الزام بھی ہے

    باخبر ذرائع کے مطابق بشریٰ بی بی اور عمران خان کے دوران پیغام رسانی بھی جیل میں یہی افسران کرتے تھے، بشریٰ بی بی اسے لیے بنی گالہ سے اڈیالہ منتقل ہوئی تھیں تا کہ کوئی نئی سازش تیار کی جائے تا ہم سیکورٹی اداروں نے پیغام رسانی کے کام کو پکڑ لیا، افسران کے خلاف کاروائی شروع کر دی گئی ہے،

    اس واقعے نے ایک بار پھر جیلوں میں سیکیورٹی کے مسائل کو اجاگر کیا ہے۔ حکومتی حلقوں میں اس بات پر زور دیا جا رہا ہے کہ جیلوں کے نظام میں بنیادی اصلاحات کی ضرورت ہے تاکہ ایسے واقعات کو روکا جا سکے۔یہ خبر ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے اور مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔

    عمران خان کے سیل کے باہر تعینات اہلکاروں کی کڑی نگرانی کا فیصلہ
    اڈیالہ جیل میں افسران کی جانب سے عمران خان کی سہولت کاری کی خبریں سامنے آنے کے بعد جیل میں عمران خان کی سیکورٹی پر تعینات اہلکاروں کی کڑی نگرانی کا فیصلہ کر لیا گیا ،میڈیا رپورٹس کے مطابق عمران خان کے سیل کے باہر سیکورٹی ادارے کے اہلکار ہوں گے اور ان اہلکاروں کو ہر ہفتے بدلا جائے گا، اڈیالہ جیل میں سماعت کے دوران جیل عملے کو صحافیوں، وکلا اور پارٹی رہنماؤں سے دور رہنے کی ہدایت کی گئی ہے،جیل کے اندر رہائش پذیر اہلکاروں کی بھی مکمل تلاشی لی جائے گی۔

    فیض حمید کی گرفتاری پر خلیل قمر،عمر عادل خوش،اڈیالہ جیل سے جاسوس گرفتار

    گرفتاری کا خوف،سابق چیف جسٹس ثاقب نثار بیرون ملک فرار

    فیض حمید کا نواز،شہباز کو پیغام،مزید گرفتاریاں متوقع

    فیض حمید پر ڈی ایچ اے پشاور کو 72 کروڑ کا نقصان کا الزام،تحقیقات

    قوم کا پاک فوج پر غیر متزلزل اعتماد ہمارا سب سے قیمتی اثاثہ ہے،آرمی چیف

    فیض حمید "تو توگیا”،ایک ایک پائی کا حساب دینا پڑے گا، مبشر لقمان

    فیض حمید کی گرفتاری،مبشر لقمان نے کیا کئے تھے تہلکہ خیز انکشافات

    بریکنگ،فیض حمید گرفتار،کورٹ مارشل کی کاروائی شروع

    فیض حمید ہمارا اثاثہ تھا جسے ضائع کر دیا گیا ،عمران خان

    فیض حمید کے مسئلے پر بات نہیں کرنا چاہتا یہ فوج کا اندورنی معاملہ ہے ، حافظ نعیم