Baaghi TV

Tag: تحریک انصاف

  • عمرہ کر کے آیا تو میرے گھر چھاپہ پڑگیا،سابق وفاقی وزیر غلام سرور خان

    عمرہ کر کے آیا تو میرے گھر چھاپہ پڑگیا،سابق وفاقی وزیر غلام سرور خان

    تحریک انصاف کی رہنما ڈاکٹر یاسمین راشد کو پی ٹی آئی وسطی پنجاب کی صدر مقرر کر دیا گیاہے ،حماد اظہر پی ٹی آئی سینٹرل پنجاب کے جنرل سیکریٹری ہوں گے،عامر محمود کیا نی کوپی ٹی آئی شمالی پنجاب کا صدر مقرر کر دیا گیا، عون عباس بپی کو پی ٹی آئی جنوبی پنجاب کا صدر بنا دیا گیا ،چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی منظوری سے جنرل سیکریٹری پی ٹی آئی اسد عمر نے نوٹیفکیشن جاری کر دیا

    قبل ازیں ضلعی کچہری میں اسد عمرنے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ وکلا برادری ہمیشہ برے وقت میں ہمارے ساتھ کھڑی رہی ہے قوم وکلا اور ہم تیار ہیں جلد ہی آپ سب کو آزادی ملے گی ،

    اسد عمر کا مزید کہنا تھا کہ ہماری پارٹی دو ماہ سے جتنی متحرک ہے پہلے کبھی نہیں تھی ہم پر لانگ مارچ کے دوران جو بربریت ہوئی اس کے باوجود کھڑے رہے،مسلم لیگ ن میں ایک دھڑا جان چکا ہے کہ ان کی سیاست کو خطرہ لاحق ہے، مسلم لیگ ن والے اب الیکشن روکنے کے لیے درخواستیں لے کر جارہے ہیں،

    دوسری جانب تحریک انصاف کے رہنما فیصل جاوید کا کہنا ہے کہ اگلے آزادی مارچ کے لیے سپریم کورٹ کی پروٹیکشن کے منتظر ہیں پروٹیکشن ملتے ہی مارچ ہوگا،

    دوسری جانب سیکرٹری جنرل پاکستان تحریک انصاف اسد عمر نے تمام پارٹی ونگز کو احکامات جاری کئے ہیں کہ یونین کونسل لیول پر ممبرشپ مہم اور ووٹر رجسٹریشن مہم شروع کی جائے۔

    قبل ازیں سابق وفاقی وزیر غلام سرور خان نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بلاول بھٹو نے بھی مارچ کیا، ہم نے کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی،ایک دیانت دار شخص کو ہٹایا گیا،آج کے وزیراعظم پر کیسسز چل رہے ہیں،دیانت دار کو نکال کر کرپٹ ترین شخص کو لایا گیا،خراج تحسین پیش کرتا ہوں اس افسر کو جس نےشہبازشریف کی گرفتاری کا حکم دیا،مجھ پر اور میرے خاندان پر 17 ایف آئی آرز کی گئیں،میں عمرہ کر کے آیا تو میرے گھر چھاپہ پڑگیا،لوگوں کے گھروں میں ابھی تک چھاپےجاری ہیں، راولپنڈی میں 300 لوگوں کو گرفتا کیا گیا،دیہات میں 18 ،18گھنٹے لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے،

    پاکستان کی سیاسی صورتحال سے فائدہ اٹھانے کیلئے مودی کے دفتر میں خصوصی سیل قائم

    درخواستیں دائر کرکےآپ بھی اپناغصہ ہی نکال رہے ہیں،عدالت کا پی ٹی آئی وکیل سے مکالمہ

    کیا آپ کو علم ہے کہ سپریم کورٹ کے ملازمین بھی نہیں پہنچ سکے،عدالت

    کارکن تپتی دھوپ میں سڑکوں پرخوار،موصوف ہیلی کاپٹر پرسوار،مریم کا عمران خان پر طنز

    لانگ مارچ، عمران خان سمیت تحریک انصاف کے رہنماؤں پر مقدمہ درج

    کابینہ ارکان پر کرپشن کے الزامات ،خود کیسے اپنے حق میں رولز بدل سکتے ہیں؟سپریم کورٹ

  • اقتدار کی جنگ یا عوام سے مخلصی ،تحریر: حنا

    اقتدار کی جنگ یا عوام سے مخلصی ،تحریر: حنا

    تم اقتدار کی ہوس اور انا کی جنگ لڑ لو۔
    عوام کی خیر ہے,گزر ہی جائے گی۔
    کہتے ہیں یہ حکمران عوام کی جنگ لڑتے ہیں بھٹو نے اقتدار کے لیے پھانسی دے دی اقتدار نہ چھوڑا. نواز شریف نے اقتدار نہ چھوڑا نااہل ہو گیا ماں مر گئی جنازے پہ نہ آیا بیوی مر گئی اس کی میت دیکھنے نہ آیا تابوت بھیج دیا ۔عمران خان دعائیں کرتا رہا کہ میرے حریف میرے خلاف عدم اعتماد لیکر آئیں اور جب عدم اعتماد آگئی تو ملکی سلامتی کو اداروں کو داو پر لگا دیا۔عمران خان نے جھوٹ بول کر امریکی خط کا شوشہ چھوڑ کر اپنا سیاسی بیانیہ تو بنا لیا مگر دنیا بھر میں اپنے ملک کو بدنام کر گیا ۔اپنے اداروں کو بدنام کر گیا ۔فرض کریں اگر یہ سچ بھی تھا تو پہلے آپ اپنی خارجہ پالیسی تو مضبوط بناتے اپنے ملک کو مضبوط بناتے ۔اتنا مضبوط کہ آپ جس ملک سے قرضہ لیکر اپنا ملک چلا رہے ہو ۔اس سے پنگا لینے کے بعد آپ کو اس سے قرضہ نہ لینا پڑے آپ نے پوری دنیا میں امریکہ امریکہ کر کہ خود کو ہی بدنام کیا آج عمران خان بھی حاکم ہوتا تو کوئی ملک آپکو قرضہ نہ دیتا۔کیونکہ اقتدار کی ہوس میں آپکی دس گز لمبی زبانیں آپ کی سیاسی ساکھ تو خراب کرتی ہے ساتھ ساتھ دنیا کو آپکا معیار بھی دکھاتی ہے کہ پلے نہی دھیلا تے کردی میلا میلا

    کچھ لوگ کہتے ہیں بھٹو برا ہو سکتا نواز شریف برا ہو سکتا لیکن عمران خان بہت اچھا ہے کیونکہ عمران خان نے اپنی عوام کا بہت خیال رکھا شاید وہ عوام حریم شاہ اور فرح گوگی تھی ۔کیونکہ عمران خان ہی تھا جس نے مہنگائ کی شروعات کی۔پانچ سال جو پہلے جو بجلی کا یونٹ پانچ روپے تھا وہ سترہ روپے کیا عمران خان نے ۔پٹرول جو پچپن روپے تھا ستر روپے کیا عمران خان نے ۔یہ عمران خان ہی تھا جس نے بجلی اور پٹرول کے معاہدے کیے آئ ایم ایف سے۔

    یہ عمران خان ہی تھا جس کا کہنا ہے کرسی مل جاے ورنہ ملک تین ٹکرے ۔کرسی مل جاے ورنہ فوج تباہ ہو جاے گی کرسی مل جاے ورنہ عوام لٹ جاے گی ۔کرسی مل جاے ورنہ اس ملک میں کوی بھی میری طرح مخلص لیڈر نہیں آے گا ۔بس ایک بار کرسی مل جاے لانگ مارچ دھرنوں سے ملکی ساکھ کو نقصان ہونا شروع ہو جاے گا ۔بس کرسی مل جاے پھر میں کسی کو نہیں چھوڑوں گا ۔کرسی مل جاے پھر جنرل باجوہ جیسا نیک ایماندار دنیا میں کوی نہیں اور پاک فوج جیسی عظیم فوج کسی ملک پاس نہیں۔

    یہ عمران خان ہی تو تھا کہ جب کراچی پی آئی اے حادثہ کا شکار ہوا پائلٹ سواریاں اور عملہ جاں بحق ہو گیا تو جناب نے سارا ملبہ پی آئی اے کے افسران پہ ڈال کر بہادری کی رقم قائم کر دی کہ پی آئی اے میں تمام افسران پائلٹ کی جعلی ڈگریاں ہے۔اور ان کو پی آئی اے سے نکال دیا گیا ۔لیکن پھر کیا ہوا کہ تمام ممالک نے پی آئی اے پر پابندی لگا جو اب تک لگی ہوئی ہے اور جب تحقیقات کی تو دو کے سوا کسی کی ڈگری جعلی نہ تھی ۔

    یہ عمران خان ہی تھا جو گراونڈ میں کہتا تھا کہ فوج کے خلاف خلاف نہ بولو فوج ہے تو ملک ہے پھر اپنی سوشل میڈیا ٹیم سے فوج کے خلاف گالی گلوچ کرواتا تھا ۔بعد میں اسی سوشل میڈیا ٹیم کو ملنے کے لیے پشاور بھی بلوا کر شاباش دیتا تھا ۔یہ عمران خان ہی تو تھا جو اپنے لانگ مارچ کو جہاد اور صحابہ انبیاء کرام کی جنگوں سے ملوا کر اپنے انصافین کو گھروں سے نکلنے کا جوش و جزبہ دلواتا رہا اور پھر جب وقت آیا تو مزاکرات کر کے راتوں رات پتلی گلی سے نکل گیا۔

    ۔کیونکہ عمران خان اور اس کے حمایتی سمجھتے ہیں کہ عمران خان سے بڑا گیمر بندہ پاکستان میں کوئی نہیں لیکن یہ سوچ ہے ان کی۔ ملک کرکٹ کی پچ نہیں ہے نہ ہی ملک دس چوکوں چھکوں سے چلتے ہیں کیونکہ یہ ملک ہے کرکٹ نہیں ۔کہ جہاں بلا میرے ہاتھ میں ہے تو بس میرے ہاتھ میں رہے بس میں ہی کھیلوں گا۔ کیونکہ میں کرکٹ کا چیمپئن ہوں دنیا مجھے چاہتی ہے۔۔لیکن یہ بھول جانا اس سے پہلے بھی یہاں تخت نشین کوی اور تھا اس کی بھی یہی سوچ تھی۔۔

    کاش عمران خان وہ لیڈر ثابت ہوتا جو پانچ سال پہلے اوپزیشن میں تھا ۔سچا کھرا سنہرے خواب دکھانے والا۔۔۔چوروں اور ڈاکووں سے پیسہ واپس لانے کے دعوے کرنے والا۔۔
    پر کیا ہے کہ خان بھی تو سیاست دان ہی نکلا ۔۔اور سیاست دان عوام سے کیے اپنے وعدے پورے ایسا بھلا کیسے ممکن تھا۔
    حنا سرور

    درخواستیں دائر کرکےآپ بھی اپناغصہ ہی نکال رہے ہیں،عدالت کا پی ٹی آئی وکیل سے مکالمہ

    کیا آپ کو علم ہے کہ سپریم کورٹ کے ملازمین بھی نہیں پہنچ سکے،عدالت

    پاکستان کی سیاسی صورتحال سے فائدہ اٹھانے کیلئے مودی کے دفتر میں خصوصی سیل قائم

    وہ کون ہے جس نے احسان فراموش عمران خان کیلیے ملک کی بقا کی خاطر سب کچھ کیا؟

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    سپریم کورٹ نے دیا پی ٹی آئی کو جھٹکا،فواد چودھری کو بولنے سے بھی روک دیا

    القادر یونیورسٹی کا زمین پر تاحال کوئی وجود نہیں،خواجہ آصف کا قومی اسمبلی میں انکشاف

  • عمران خان کے کارنامے، قوم کبھی نہیں بھول پائے گی

    عمران خان کے کارنامے، قوم کبھی نہیں بھول پائے گی

    عمران خان اقتدار سے گئے تو واقعی خطرناک ہو گئے پاکستان کے لیے ۔پاکستانی قوم کے لیے ۔اداروں کے لیے

    یو ٹرن خان کے نام سے مشہور عمران نیازی اقتدار میں آنے تو قوم سے کیا گیا ایک وعدہ بھی پورا نہ کیا ۔آئی ایم ایف کے پاس گئے لیکن خود کشی نہ کی. امریکہ جا کر کشمیر فروشی کی اور اسلام آباد میں ایک دن کشمیر کے لیے ایک گھنٹہ دھوپ میں کھڑے رہ کر منافقت کی حد کر دی۔ دوست ممالک کو ناراض کیا .خارجہ پالیسی اتنی کمزور تھی کہ کبھی ترکی ناراض تو کبھی سعودی عرب کبھی ایران کبھی چین اور دعوے اتنے بلند و بالا جو کھوکھلے ہی رہے۔ کرکٹر عمران نیازی نے سمجھا وزیر اعظم بن کر یہاں بھی سب کو فتح کروں گا لیکن انکی اپنی وکٹیں گرتی رہیں کابینہ ایک بار نہیں درجنوں بار بدلی۔ مشیر بدلے وزیر بدلے لیکن عوام کی حالت نہ بدلی ۔بزدار کے حوالے پنجاب کر کے پنجاب کو دہائیوں پیچھے دھکیل دیا بیورو کریسی میں تبادلے ہر ماہ ہوتے رہے جو کام کرتا اسکا تبادلہ کر دیا جاتا فرح کے نام پر کرپشن کا بازار گرم کیا ۔ مشیر ملک لوٹتے رہے لیکن نیازی کا سارا زور عوام کو ریلیف دینے کی بجائے اپوزیشن کو جیلوں میں بھجوانے پر رہا ۔ڈالر مہنگا ہوتا چلا گیا مہنگائی میں کئی گنا اضافہ ہوا پھر حالات نے پلٹا کھایا اور عمران خان آئین شکن بنے ۔عمران نیازی کا نام تاریخ آئین شکن کے طور پر یاد کرے گی ۔کرسی اتنی عزیز کہ اپنوں کی جانب سے ساتھ چھوڑنے کے باوجود بھی وزیراعظم کی کرسی سے چپکے رہے ۔جب کرسی گئی تو عمران خان کا دوہرا معیار سامنے آنے لگا اپنی سوشل میڈیا ٹیمز سے اداروں کے خلاف ٹرینڈ کروائے گئے جس کے ثبوت موجود ہیں ۔ اداروں کو دھمکیاں دی گئیں افواج پاکستان کے افسران کی کردار کشی کی گئی ۔خفیہ خط والا بھانڈا پھوٹا تو جان سے مارے جانے کا انکشاف کیا حکومت نے سیکورٹی دینے کو کہا تو پھر بہادر عمران خان گرفتاری کے ڈر سے بنی گالہ سے پشاور چھپ کر جا بیٹھے ۔اور اداروں کی کردار کشی کے علاوہ ملکی سالمیت کے خلاف بیان دینے لگے۔ ایسے لگتا ہے کہ عمران خان کو اب کسی دماغی ڈاکٹر سے علاج کی ضرورت ہے یا پھر انہیں تین روز کے لئے صرف تین روز کے لیے رانا ثناء اللہ کے حوالہ کیا جائے تو انکا علاج ہو سکتا ہے۔عمران خان کی اداروں کے خلاف مہم سیاست میں شدت پسندی اراکین اسمبلی کو دھمکیاں سب ریکارڈ پر ہیں آئین شکنی کے ساتھ توہین عدالت بھی کرتے رہے اور بہادر اتنے کہ اب لانگ مارچ کے لیے سپریم کورٹ سے ضمانتیں مانگ رہے ہیں ۔

    آئین شکنوں کو گرفتار کر کے سلاخوں کے پیچھے ڈال دینا چاہئے،مریم نواز

    شیریں مزاری کے خود کش حملے،کرتوت بے نقاب، اصل چہرہ سامنے آ گیا

    اداروں کے خلاف بیانات سے گریز کرنا چاہیے۔جلیل احمد شرقپوری

    عمران خان نے کل اداروں کے خلاف زہر اگلا ہے،وزیراعظم

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

    خدارا ملک کا سوچیں،مجھے فخر ہے میں ایک شہید کا باپ ہوں،ظفر حسین شاہ

    موجودہ سیاسی صورتحال میں فوج پر بلا وجہ الزامات،بلاوجہ منفی پروپیگنڈہ

    پاک فوج کے ریٹائرڈ افسران کے نام سے جعلی ٹویٹر اکاؤنٹس سیاسی جماعت استعمال کرنے لگی

    عمران خان کے دور حکومت میں جو ہوا اسے پاکستانی قوم کبھی نہیں بھول پائے گی ۔ڈالر کا مہنگا ہونا۔ آٹے کا بحران چینی کا فقدان پٹرول کے لیے لمبی لائنیں ادویات کی قلت خود ساختہ مہنگائی سیاسی قائدین کو جیلوں میں ڈالنے کو عوام کبھی نہیں بھول پائے گی۔ پچاس لاکھ گھر جو عمران خان نے بنائے وہ بھی قوم نہیں بھول پائے گی ۔عمران خان کے دور میں کرائم میں اضافہ عثمان مرزا کیس نور مقدم قتل کیس وہ بھی قوم کبھی نہیں بھول پائے گی۔ سعودی عرب کا عمران خان سے قرض واپس مانگنا ترکی کا ناراض ہونا قوم نہیں بھول پائے گی۔ سارا دن سخت دھوپ میں مزدوری کرنے والے مزدور کو شام کے وقت اسی روپے کلو آتا اور ایک سو ستر والا گھی ساڑھے چار سو روپے میں خریدنے کو بھی قوم کبھی نہیں بھول پائے گی۔ عمران خان کے کتوں کے ساتھ کھیلنے والی فرح کے کارناموں کو بھی قوم کبھی نہیں بھول پائے گی۔ عمران خان کے مشیروں کی کارستانیاں بھی قوم نہیں بھول پائے گی۔ شہزاد اکبر کے دعوے بھی قوم نہیں بھول پائے گی۔ عمران خان کے وزیروں کی جانب سے ایک روٹی کھانے کے مشورے کو قوم نہیں بھول پائے گی . عمران خان کے لانگ مارچ میں پولیس اہلکاروں پر تشدد کو قوم نہیں بھول پائے گی ۔مسلح افراد کی لانگ مارچ میں شرکت اور عمران خان کی اعتراف کو قوم نہیں بھول پائے گی۔ عمران خان کے ملکی سلامتی اداروں کے خلاف بیانات قوم نہیں بھول پائے گی۔ بلکہ اب تو عمران خان کو نظر آ گیا ہو گا جو بلدیاتی الیکشن میں تحریک انصاف کے ساتھ ہوا. فارن فنڈنگ کیس میں تحریک انصاف کے تاخیری حربوں کو قوم کبھی نہیں بھول پائے گی۔ ملک ٹوٹنے کے بیان کو قوم کبھی نہیں بھول پائے گی ۔عمران خان کی جانب سے اپنے محسنون کی کردار کشی اپنے دوستوں کو بلاوجہ گرفتار کروانے مقدمہ بنانے کو قوم کبھی نہیں بھول پائے گی۔غرضیکہ عمران خان کا ایک ایک کارنامہ قوم یاد رکھے گی اور جب بھی الیکشن ہوئے قوم عمران خان کے ساتھ حساب برابر کرے گی.عمران خان جس کو اللہ نے عزت دی تھی اس عزت کو خاک میں ملانے کا ہاتھ بھی عمران خان کا ہی ہے۔ کرسی کے لالچ میں اتنے اندھے ہو گئے کہ ملک دشمنی پراتر آئے اور شاید اس وقت عمران خان کے ہوتے ہوئے کسی اور ملک دشمن کی ضرورت نہیں .قوم اب عمران خان کے دعوے یوٹرن ۔جھوٹ سب جان چکی اور قوم کو بھی اب انتظار ہے اگلے الیکشن کا جس میں قوم عمران خان کا ڈٹ کر محاسبہ کرے گی۔ پاکستانی قوم ایک خود دار قوم ہے عمران خان اگر قوم کے ساتھ سچ بولتے تو قوم انکے ساتھ تھی لیکن انہوں نے وہ کام شروع کر دیئے جو ملک دشمنوں کے تھے ایسے میں قوم کسی بھی ایسے شخص کو آگے نہیں آنے دے گی جو پاکستان میں رہتے ہوئے ملک دشمنی پر اتر آئےگا نہیں یقین تو الطاف حسین کو دیکھ لو جس کے ایک اشارے پر پورا کراچی بند ہوتا تھا آج کوئی کراچی میں اسکا نام لینے کو تیار نہیں عمران خان سوچ سمجھ لیں مکافات عمل ہوتا ہے اور اب وہی دن عمران خان پر آنے والے ہیں پھر عمران خان اکیلے ہی ہوں گے مشیر وزیر کوئی نہیں ہو گا کچھ پہلے ساتھ چھوڑ گئے مزید بھی چھوڑ جائیں گے اور عمران خان تنہا رہ جائیں گے پھر ایک ہی راستہ بچے گا کہ عمران خان کر کٹ اکیڈمی کھولیں اور قوم کے بچوں کو کرکٹ سکھا کر ثواب دارین کمائیں اور اب وزیر اعظم کی کرسی کو بھول جائیں

    درخواستیں دائر کرکےآپ بھی اپناغصہ ہی نکال رہے ہیں،عدالت کا پی ٹی آئی وکیل سے مکالمہ

    کیا آپ کو علم ہے کہ سپریم کورٹ کے ملازمین بھی نہیں پہنچ سکے،عدالت

    پاکستان کی سیاسی صورتحال سے فائدہ اٹھانے کیلئے مودی کے دفتر میں خصوصی سیل قائم

    وہ کون ہے جس نے احسان فراموش عمران خان کیلیے ملک کی بقا کی خاطر سب کچھ کیا؟

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    سپریم کورٹ نے دیا پی ٹی آئی کو جھٹکا،فواد چودھری کو بولنے سے بھی روک دیا

    القادر یونیورسٹی کا زمین پر تاحال کوئی وجود نہیں،خواجہ آصف کا قومی اسمبلی میں انکشاف

  • لانگ مارچ سے ایک روز قبل چار کروڑ کا چیک پشاور بار کو دینے پر سوال کھڑے ہو گئے

    لانگ مارچ سے ایک روز قبل چار کروڑ کا چیک پشاور بار کو دینے پر سوال کھڑے ہو گئے

    لانگ مارچ سے ایک روز قبل چار کروڑ کا چیک پشاور بار کو دینے پر سوال کھڑے ہو گئے

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی حکومت جانے کے بعد عمران خان نے پشاور سے اسلام آباد کی جانب گزشتہ ماہ لانگ مارچ کیا

    عمران خان پشاور سے اسلام آباد آئے اور خطاب کر کے واپس چلے گئے، عمران خان نے بنی گالہ کو چھوڑ دیا ہے اور پشاور میں ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں، اب انکشاف ہوا ہے کہ لانگ مارچ سے ایک روز قبل خیبر پختونخواہ حکومت کی جانب سے پشاور بار کو چار کروڑ روپے کا چیک دیا گیا ہے،یہ چیک 25 مئی کو دیا گیا ہے اور عمران خان 26 مئی کو لانگ مارچ کے لئے نکلے تھے، خیبر پختونخواہ میں تحریک انصاف کی حکومت ہے اور لانگ مارچ سے ایک روز قبل ہی پشاور بار کو چار کروڑ کا چیک دینے پر سوالیہ نشان اٹھ رہے ہیں، اسلام آباد سے صحافی عون شیرازی چیک کی تصویر شیئر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ حلال ہے کیونکہ کپتان کی جانب سے دیا گیا ہے،اس سے کون کیا ،کتنا فائدہ چاہتا ہے،کتنا فائدہ ملا رہنے دیں

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ایک صارف کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے پشاور بار کو 25 مئی کو چندے کا چیک حوالے کر کے احتجاج میں شرکت کی دعوت دی۔ پشاور کے وکلاء نے PTI کے اس اقدام کی شدید مذمت کی۔

    اینکر سلیم صافی نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ پشاور بار ایسوسی ایشن کو عمران خان کی حکومت نے چار کروڑ روپے کا چیک خونی مارچ والی صبح ہی کیوں جاری کیا؟ کیا یہ خونی مارچ کے لئے وکلا کے ضمیروں کو دبانے کی کوشش تو نہیں؟۔ گذشتہ 9 سال سے پختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت ہے۔ اتنے عرصے میں ایسی مہربانی کیوں نہیں کی؟

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کی جانب سے لانگ مارچ سے قبل بار کو چار کروڑ کے چیک کی ادائیگی پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں ،

    پاکستان کی سیاسی صورتحال سے فائدہ اٹھانے کیلئے مودی کے دفتر میں خصوصی سیل قائم

    درخواستیں دائر کرکےآپ بھی اپناغصہ ہی نکال رہے ہیں،عدالت کا پی ٹی آئی وکیل سے مکالمہ

    کیا آپ کو علم ہے کہ سپریم کورٹ کے ملازمین بھی نہیں پہنچ سکے،عدالت

    کارکن تپتی دھوپ میں سڑکوں پرخوار،موصوف ہیلی کاپٹر پرسوار،مریم کا عمران خان پر طنز

    لانگ مارچ، عمران خان سمیت تحریک انصاف کے رہنماؤں پر مقدمہ درج

    کابینہ ارکان پر کرپشن کے الزامات ،خود کیسے اپنے حق میں رولز بدل سکتے ہیں؟سپریم کورٹ

  • باادب، باملاحظہ،ہوشیار،عدالت نے بڑا کھڑاک کر دیا

    باادب، باملاحظہ،ہوشیار،عدالت نے بڑا کھڑاک کر دیا

    باادب، باملاحظہ،ہوشیار،عدالت نے بڑا کھڑاک کر دیا
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ آج کی اس ویڈیو میں دو اچھی خبریں ہیں لیکن اس سے پہلے سیاسی معاملات پر نظر ڈالی جائے تو وہاں بھی بڑی خبریں سامنے آ رہی ہیں۔

    مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر بات کرتے ہوئے سینئر صحافی مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ لانگ مارچ کا مستقبل کیا ہے، عمران خان نے اس حوالے سے بڑا اعلان کر دیا ہے، جبکہ سابقہ لانگ مارچ میں عدالتی حکم کی خلاف ورزی کرنے پر رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے عدالت نے چودہ صفحوں کا فیصلہ سنا دیا ہے اور حساس اداروں سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔ جبکہ لاہور کی عدالت نے رانا ثناء اللہ کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دے دیا ہے۔الیکشن کمیشن نے واضح طور پر کہہ دیا ہے کہ فارن فنڈنگ کیس کے فیصلے میں مزید تاخیر نہیں کر سکتے۔ جبکہ حکومت اشارے دے رہی ہے کہ عمران خان، اسد عمر، شیریں مزاری سمیت تیرہ لوگوں کے استعفوں کی تصدیق ہو چکی ہے وہ کیسے اس پر بھی تفصیل سے روشنی ڈالیں گے۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اس وقت عمران خان پوری قوم کو بتا رہے ہیں کہ کون میر جعفر اور کون میر صادق ہے۔ لیکن خدا کی قدرت دیکھیں کہ خود ان کی جماعت میں میر صادق اور میر جعفروں کی لائنیں لگ گئی ہیں، وہ لوگ جو عمران خان کی ہر غلط اور صحیح بات پر عش عش کر اٹھتے ہین عمران خان کو کنواں میں دھکا دے چکے ہیں، سوشل میڈیا اور جلسوں میں مقبولیت کے جھنڈے گاڑنے والے عمران خان پر اس وقت پہاڑ گر گیا جب انہیں اٹک پل پہنچنے سے پہلے ہی لانگ مارچ کے ناکام ہونے کی خبر ملی، حکومتی اقدامات کو بہانہ بنا کر واپسی کی پلاننگ ہو رہی تھی کہ سپریم کورٹ کا حکم اور تمام رکاوٹیں ہٹانے کے احکامات نے تمام ارمانوں پر پانی پھیر دیا۔ چاہے جنوبی پنجاب ہو یا سینٹرل پنجاب، پوٹو ہار ریجن ہو یا لاہور۔ آدھی درجن سے کم لیڈروں کے علاوہ کوئی نظر نہ آیا۔ لاہور کے عہدے دار شہر میں ہی پولیس سے چھپن چھپائی کھیلتے رہے، اوپر سے ظلم دیکھیں کہ جس کو بھی گرفتار کیا جاتا اسے فورا چھوڑ دیا جاتا اور ان کے لیے حیلے بہانوں کا جواز ہی ختم کر دیا جاتا۔ یہی وجہ ہے کہ عمران خان اپنی آدھی کابینہ سے ا سوقت ملنے کے لیے بھی تیارنہیں ہیں۔ عمران خان پر ساری صورتحال عیاں ہو چکی ہے لیکن اب وہ اتنا آگے جا چکے ہیں کہ ان کے آگے کنواں اور پیچھے کھائی ہے۔اب دھمکیوں سے کام لیا جا رہا ہے اور امید لگائی جا رہی ہے کہ کہیں سے غیبی مدد یا کندھا فراہم ہو جائے ۔ لیکن خفیہ مدد کا دور اب گزر چکا ، جو بھی کر نا ہے اپنے ہی بل بوتے پر کرنا پڑے گا۔لیکن اس سارے کھیل کے بیچ میں سیاست گندی گالی بن چکی ہے، سیاست کے اجزائے ترکیبی میں جھوٹ اہم حثیت حاصل کر چکا ہے۔ اختلاف رائے دشمنی میں بدل چکا ہے اور اخلاقیات کا جنازہ نکل چکا ہے۔ آنکھوں میں خون اور دل میں نفرت بسیرا کر چکی ہے جبکہ نئی نسل کو تباہ کرنے کا بیڑا پار لگایا جا رہا ہے۔
    آپ عمران خان کی اپوزیشن کے کمالات دیکھ رہے ہیں
    جہاں لاقانونیت، گھیراو جلاو، توڑ پھوڑ اور دھرنے ۔۔
    سیاست کا حسن بن چکے ہیں
    جبکہ تحریک انصاف کی حکومت کے کارناموں پر نظر ڈالی جائے تو
    نہ صرف معشت برباد ہوئی، بلکہ
    خارجہ پالیسی برباد،احتساب برباد، معاشرہ برباد
    ملک میں قرضے ڈبل
    کرپشن انڈکس میں آضافہ، آئین سے پنگا، اداروں سے پنگا،نیوٹرل سے پنگا، الیکشن کمیشن سے پنگا۔قصہ مختصر تباہی ان کا انتخابی نشان بن چکی ہے۔ اوپر سے شہباز گل جیسے لوگ قومیتوں میں انتشار پھیلا رہے ہیں۔ محمود خان جیسے لوگ صوبوں میں انتشار پھیلا رہے ہیں۔ ہر طرف انتشار کا دور دورہ ہے جسے جہاد کا لبادہ پہنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے اسلام آباد میں احتجاج کیلئے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کردی ہے جس میں التجا کی گئی ہے کہ پر امن دھرنے اور مارچ کی اجازت دی جائے۔ تحریک انصاف کے اس مطالبے پر میرا پہلے دن سے موقف ہے کہ اگر انہیں سپریم کورٹ اجازت دے کر حکومت کے ہاتھ پاوں باندھ دے گی تو کل کو اور حکومتیں بھی آنی ہیں، پھر مذہبی، سیاسی اور سماجی گروپوں کو وفاقی دارالحکومت پر چڑھائی سے روکنے کے لیے کیا اخلاقی جواز پیش کیا جائے گا۔عمران خان کا چھ دن کا الٹی میٹم ختم ہو چکا ہے جبکہ نئی لانگ مارچ کے لیے عمران خان نے فیصلہ عدالت کے فیصلہ سے منسوب کر دیا ہے، عمران خان کا کہنا ہے کہ پہلے ہم چاہتے ہیں کہ عدالت کا دھرنے اور مارچ کرنے پر فیصلہ آ جائے اس کے بعد لانگ مارچ کی تاریخ دی جائے گی۔ اس حوالے سے میں کئی دن سے دعوی کر رہا ہوں کہ لانگ مارچ کا اعلان ابھی نہیں ہوگا۔جبکہ عدالت نے سابقہ لانگ مارچ پر اسلام آباد بار کی درخواست کو نمٹا دیا ہے۔تحریری فیصلے کے مطابق عدالت عظمیٰ کو مایوسی ہوئی کہ عدالتی کوشش کا احترام نہیں کیا گیا، عدالت کی کارروائی کا مقصد دونوں فریقوں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنا تھا، عدالتی حکم نامہ موجود فریقوں کی موجودگی میں جاری کیا گیا، اس کیس میں سیاسی جماعتوں کی جانب سے اعلیٰ اخلاقی اقدار میں کمی واقع ہوئی، سیاسی جماعتوں کےاقدام سے عوامی حقوق اور املاک کو نقصان پہنچا۔
    اکثریتی فیصلہ میں متعدد سوالات اٹھائے گئے ہیں اور ڈی جی آئی ایس آئی، ڈی جی آئی بی، سیکرٹری داخلہ، آئی جی اور چیف کمشنر اسلام آباد سے جواب طلب کیا گیا ہے۔عدالت نے سوالات میں پوچھا کہ عمران خان نے کتنے بجے پارٹی ورکرز کو ڈی چوک پہنچنے کا کہا؟ کب،کہاں اورکس طرح مظاہرین نے ممنوعہ جگہ پر داخلے کیلئے بیرئیرپارکیا؟ ریڈ زون میں گھسنے والامجمع منظم تھا؟ کسی کی نگرانی میں تھا یا اچانک داخل ہوا؟عدالت نے پوچھا کہ کیا کوئی اشتعال انگیزی ہوئی یا حکومت کی یقین دہانی کی خلاف ورزی ہوئی؟ کیا پولیس نے مظاہرین کے خلاف غیرمتوازن کارروائی کی ؟ کتنے مظاہرین ریڈزون میں داخل ہونے میں کامیاب ہوئے؟ اگر ریڈزون کی سکیورٹی کے انتظامات تھے تو کیا حکام نے نرمی کی ؟ کیا مظاہرین نے سکیورٹی بیریئر کو توڑا یا خلاف ورزی کی؟عدالت نے استفسار کیا کہ کیا مظاہرین میں سے کوئی یا پارٹی ورکر جی نائن یا ایچ نائن گراؤنڈ پہنچا؟ کتنے سویلین زخمی یا ہلاک ہوئے، اسپتال پہنچے یا گرفتار کیے گئے؟عدالت نے حکم دیا کہ سوالات کے جوابات پر مبنی رپورٹ ایک ہفتے میں جمع کرائی جائے اور ان تمام ثبوتوں کا جائزہ لےکر فیصلہ کیا جائےگا عدالتی حکم کی تعمیل ہوئی یا نہیں؟عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ حقائق کی بنیادپر تصدیق کی ضرورت ہےکہ عدالت کی دی گئی یقین دہانیوں کی خلاف ورزی کی گئی، عدالت کو دیکھناہوگا کہ خلاف ورزیوں پرکس کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جاسکتی ہے۔تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ایگزیکٹو، پی ٹی آئی قیادت اوردیگرسیاسی جماعتیں پرامن سیاسی سرگرمیوں کاضابطہ اخلاق بنائیں گی۔اکثریتی فیصلے میں قرار دیا گیا ہے کہ پرامن احتجاج آئینی حق ہے مگر یہ ریاست کی اجازت کے ساتھ ہوسکتا ہے، ایسے احتجاج کی اجازت ہونی چاہیے جب تک آرٹیکل 15 اور16 کے تحت پابندیاں لگانا ناگزیر ہوجائے، احتجاج کا حق قانونی، معقول بنیادوں کے بغیر نہیں روکا جاسکتا۔عدالت کی طرف سے نیک نیتی سے کی گئی کوششوں کی توہین کی گئی اور عدالت کو 25 مئی کے حکم کی خلاف ورزی پر رنج ہے جبکہوزیرداخلہ راناثنااللہ نے کہاہےکہ عمران خان سمیت13پی ٹی آئی ارکان کےاستعفوں کی تصدیق ہوچکی،کچھ لوگوں نےایک بار نہیں دس بارمختلف فورمزپرآن ریکارڈ استعفے دینے کی بات کی ہےجن کی ویڈیوزبھی موجودہیں اور ان کےاستعفوں کی تصدیق کی ضرورت نہیں، ان میں عمران خان،فوادچوہدری،شاہ محمود قریشی، اسدعمر،شیریں مزاری سمیت تیرہ کےقریب ارکان شامل ہیں،باقی لوگ گم صم اورخاموش ہیں سپیکرقومی اسمبلی سےرابطہ بھی کررہےہیں کہ ہم آئیں گےنہیں لیکن مارےاستعفےقبول نہ کی جائیں،کچھ ارکان اس لیےنہیں آئیں گےکہ نہ آنےسےانکےاستعفےمنظورنہیں ہوں گے جبکہ الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہاراکین قومی اسمبلی کے استعفوں کا کیس سابق ڈپٹی سپیکر نے الیکشن کمیشن کو نہیں بھجوایا۔چیف الیکشن کمشنر نے پی ٹی آئی ممنوعہ فنڈنگ کیس کی سماعت ملتوی کرنے کی درخواست پر کہا ہےکہ ایسا تاثر جارہا ہے کہ دانستہ معاملہ لٹکایا جارہا ہے، معاملے کو مزید التواء کا شکار نہیں بننے دینگے۔ جبکہایڈیشنل سیشن جج لاہورنے آزادی مارچ میں پولیس کی جانب سے وکلا پر تشدد اور لاٹھی چارج کے معاملے پر وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کیخلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دے دیا۔

    سیشن عدالت میں آزادی مارچ میں پولیس کی جانب سے وکلا پر تشدد اور لاٹھی چارج کے معاملے پر سماعت ہوئی ، 100سے زائد وکلا عدالت میں پیش ہوئے۔دوسری طرف آئی ایم ایف نے پاکستان کے ساتھ دوہزار انیس کے قرض پروگرام کی بحالی کا عندیہ دے دیا ہے۔ جس سے ہم دیکھ رہے ہیں کہ ڈالر کی قیمت میں روزانہ کی بنیاد پر کمی ہو رہی ہے اور ڈالر دو سو دو روپے سے 197تک پہنچ گیا ہے۔ امید ہے آئی ایم ایف کی قسط اور دوسط ممالک کی امداد کے بعد یہ مزید نیچے جائے گا۔جبکہ ایک اوراچھی خبر ہے کہماڑی پیٹرولیم نے شمالی وزیرستان کے بنوں ویسٹ بلاک میں تیل و گیس کےذخائر دریافت کرلیے ہیں۔شمالی وزیرستان میں یہ تیل و گیس کی پہلی دریافت ہے جس میں 25 MMCFD گیس اور 300 بیرل یومیہ تیل کی بڑی دریافت کی گئی ہے۔آپ کو بتا دوں کہ پاکستان دنیا میں تیل کے ذخائر کے حوالے سے 52جبکہ تیل استعمال کرنے کے حوالے سے32ویں نمبر پر آتا ہے، پاکستان روزانہ83ہزار بیرل تیل پیدا کرتا ہے جبکہ ساڑھے پانچ لاکھ بیرل تیل استعمال کرتا ہے یہی وجہ ہے کہ پاکستان کا وسیع زرمبادلہ انرجی کی امپورٹ میں خرچ ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے معیشت پر بہت بوجھ پڑھتا ہے۔

    سعودی عرب میں سخت ترین کرفیو،وجہ کرونا نہیں کچھ اور،مبشر لقمان نے کئے اہم انکشافات

    جنات کے 11 گروہ کون سے ہیں؟ حیرت انگیز اور دلچسپ معلومات سنیے مبشر لقمان کی زبانی

    سابق وزیراعلیٰ سندھ کی بیٹی پروفیسر ڈاکٹر بھی کرونا کا شکار

    مسجد نبوی میں نازیبا نعرے، مولانا طارق جمیل بھی خاموش نہ رہ سکے

    مسجد نبوی واقعہ توہین رسالت کے زمرے میں‌ آتا ہے، مبشر لقمان کے فین کی قوم سے اپیل

    الیکشن کیلیے تیار،تحریک انصاف کا مستقبل تاریک،حافظ سعد رضوی کا مبشر لقمان کوتہلکہ خیز انٹرویو

  • خیبر پختونخوا میں آزادی کی تحریک  کی تیاری  کررہا ہوں،عمران خان

    خیبر پختونخوا میں آزادی کی تحریک کی تیاری کررہا ہوں،عمران خان

    خیبر پختونخوا میں آزادی کی تحریک کی تیاری کررہا ہوں،عمران خان
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان 75سال پہلے ایک نعرے کے اوپر بنا تھا ہمارے دین کا راز کلمے میں ہے ہمارے دین میں شرک کی گنجائش نہیں ،

    عمران خان کا کہنا تھا کہ میں پاکستان کی حقیقی آزادی کے لیے نکلا ہوں آزادی قوم کے مفاد میں فیصلے کرنے کا نام ہے، پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ ہواہے ،بھارت نے کچھ روز پہلے پیٹرول کی قیمت کم کی ،غلام ذہن ملک اور عوام کو نقصان پہنچاتے ہیں ،سازش سے ہماری حکومت ختم کردی گئی،ہماری حکومت بھی روس سے 30 فیصدکم قیمت پرتیل خریدناچاہتی تھی،بھارت نےچندروزقبل 25 روپےفی لٹرقیمت کم کی،جب سے حکومت آئی ہے ہر شے مہنگی ہوئی ہے،پاکستان امریکی اجازت کے بغیر روس سے سستا تیل نہیں خریدسکتا،ہم کسی سپر پاور کو نہیں مانتے، خیبر پختونخوا میں آزادی کی تحریک کی تیاری کررہاہوں ،ہم نے بھرپور تحریک چلانی ہے جب تک صاف اور شفاف الیکشن نہیں کرائیں گے ہم انکو تسلیم نہیں کریں گے ہم امپورٹڈ حکومت کو مانتے ہیں اور نہ ہی ہماری قوم مانتی ہے،ہمارے لوگ ڈرون حملوں میں مررہے تھے ، کسی نے مذمت نہیں کی،امریکہ کی خوشنودی سے آنے والوں کو کبھی نہیں مانیں گے،پچھلی حکومتوں کے مقابلے میں ہم نے سب سے زیادہ روزگار فراہم کیا،جب پٹرول اور ڈیزل مہنگا ہو تو سب کچھ مہنگا ہو جاتا ہے

    عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ لوگ آپ کی طرف دیکھ رہے ہیں،یہ لوگ پولیس کا غلط استعمال کررہے ہیں،پرامن احتجاجی مظاہرین پر انہوں نے ظلم کیا،پرامن مظاہرین پر تشدد کوئی جمہوریت اجازت نہیں دیتا،یہ الیکشن کمیشن سے مل کر دھاندلی کی تیاری کررہے ہیں،جمہوریت میں اس طرح میڈیا پر پابندی نہیں لگتی،یہ لوگ محب وطن پاکستانیوں پر مقدمہ درج کررہے ہیں قوم تیاری کرے دیر جلسے میں اپنا اگلا لائحہ عمل دوں گا،اسلام آباد میں بچے،عورتوں اور نوجوانوں پر شیلنگ کی گئی،ایمان والے اللہ کے سوا کسی کے آگے نہیں جھکتا

    جنات کے 11 گروہ کون سے ہیں؟ حیرت انگیز اور دلچسپ معلومات سنیے مبشر لقمان کی زبانی

    سابق وزیراعلیٰ سندھ کی بیٹی پروفیسر ڈاکٹر بھی کرونا کا شکار

    مسجد نبوی میں نازیبا نعرے، مولانا طارق جمیل بھی خاموش نہ رہ سکے

    مسجد نبوی واقعہ توہین رسالت کے زمرے میں‌ آتا ہے، مبشر لقمان کے فین کی قوم سے اپیل

    الیکشن کیلیے تیار،تحریک انصاف کا مستقبل تاریک،حافظ سعد رضوی کا مبشر لقمان کوتہلکہ خیز انٹرویو

  • وہ کون ہے جس نے احسان فراموش عمران خان کیلیے ملک کی بقا کی خاطر سب کچھ کیا؟

    وہ کون ہے جس نے احسان فراموش عمران خان کیلیے ملک کی بقا کی خاطر سب کچھ کیا؟

    وہ کون ہے جس نے احسان فراموش عمران خان کیلیے ملک کی بقا کی خاطر سب کچھ کیا؟

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اداروں پر تنقید کرتے نظر آتے ہیں، کبھی ملک ٹوٹنے کی بات کرتے ہیں کبھی کہتے ہیں وہ کون تھا کہ جس نے میرے وزیراعظم ہوتے ہوئے حکم دیئے

    آج ہم بتاتے ہیں کہ وہ کون تھا اور کون ہے، کچھ سوال عمران خان سے بھی ہیں جو ان سے پوچھے جانے ہیں، عمران خان اور اسکے چاہنے والے بتائیں کہ وہ کون ہے جس کے کاندھوں پر عمران خان سوار ہوکر اقتدار میں آیا ،وہ کون ہے جس نے عمران خان کی ناکامیوں اور نالائقیوں کا بوجھ اٹھائے رکھا ،وہ کون ہے جس نے عمران خان کے مخالفین کی تنقید کو بیجا برداشت کیا ،وہ کون ہے جس نے تمام چیلنجز ، تنقید اورمشکلات کے باوجود ملک کی خاطر عمران خان کی حکومت کا ساتھ دیا ،وہ کون ہے جس نے کووڈ کے خلاف جنگ کو کامیاب بنایا اور کریڈٹ عمران خان دیا ،وہ کون ہے جس نے ایف اے ٹی ایف میں پاکستان کو بلیک لسٹ ہونے سے بچایا لیکن اس کو عمران خان نے سیاسی طور پراستعمال کیا ،وہ کون ہے جس نے ریکوڈیک کا مسئلہ حل کیا اور پاکستان کو 11 بلین ڈالرز سے بچایا اور اس کا کریڈٹ عمران خان کو دیا ،وہ کون ہے جس نے کارکے میں پاکستان کو ایک ارب ڈالرز کے جرمانے سے بچایااور کریڈٹ عمران خان نے لیا

    وہ کون ہے جس نے ملک کے معاشی استحکام کی خاطر ملک کے دفاعی بجٹ کو دو سال تک نہ بڑھایا اور کریڈٹ عمران خان نے لیا ،وہ کون ہے جس نے افغانستان کے مسئلے کو بہترین طریقے سے حل کیا اورپاکستان کو اس کی تباہ کاریوں سے بچایا لیکن کریڈٹ عمران خان نے لیا ،وہ کون ہے جس نے ملک کی خاطراپنے ذاتی اثرورسوخ کواستعمال کرکے سعودی عرب سے سے امدادی پیکج کو یقینی بنایا اور جس کا کریڈٹ عمران خان نے لیا ،وہ کون ہے جس نے ایم بی ایس کے دورہ پاکستان کو کامیاب بنایا اور کریڈٹ عمران خان کو دیا ،وہ کون ہے جس کی درخواست پر عرب امارات کے حکمران عمران خان سے ملاقات کے لیے تیار ہوئے لیکن کریڈٹ عمران خان کو دیا ،وہ کون ہے جس نے سی پیک کی سیکورٹی کو انتہائی مضبوط کیا اورچین کے ساتھ تعلقات کو مستحکم کیا اور جس کا کریڈٹ عمران خان نے لیا ،وہ کون ہے جس نے عمران خان کے دورہ امریکہ کو کامیاب بنانے میں کردار ادا کیا لیکن جشن عمران خان نے منایا وہ کون ہے جس نے فروری 2019 میں ہندوستان کا غرور خاک میں ملایا اور اس کا کریڈٹ عمران خان دلوایا وہ کون نے جس نے کرتارپورراہداری کو 8 مہینے کی قلیل مدت میں مکمل کرکے مودی کو ناک آؤٹ کیاوہ کون ہے جس نے مارچ 2021 میں عمران خان کی حکومت کو گرنے سے بچایا وہ کون ہے جس نے ایک محسن کُش ، احسان فراموش اور گرگٹ کی طرح رنگ بدلنے والے عمران خان کے لیے ملک کی بقا کی خاطر سب کچھ کیا

    پاکستان کی سیاسی صورتحال سے فائدہ اٹھانے کیلئے مودی کے دفتر میں خصوصی سیل قائم

    درخواستیں دائر کرکےآپ بھی اپناغصہ ہی نکال رہے ہیں،عدالت کا پی ٹی آئی وکیل سے مکالمہ

    کیا آپ کو علم ہے کہ سپریم کورٹ کے ملازمین بھی نہیں پہنچ سکے،عدالت

     

  • لانگ مارچ کے دوران تشدد، عدالت کا وزیر داخلہ پر مقدمہ درج کر کے کاروائی کا حکم

    لانگ مارچ کے دوران تشدد، عدالت کا وزیر داخلہ پر مقدمہ درج کر کے کاروائی کا حکم

    لانگ مارچ کے دوران وکلا اور کارکنوں پر تشدد کا معاملہ سیشن کورٹ نے وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ اور پولیس افسران کے خلاف کاروائی کا حکم دے دیا

    عدالت نے حکم دیا کہ متعلقہ ایس ایچ او مقدمہ درج کرکے قانون کے مطابق سخت کارروائی کریں ایڈیشنل سیشن جج ملک مدثر عمر بودلہ نے پی ٹی آئی وکلا کی درخواست پر فیصلہ سنایا سیشن کورٹ نے وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ اور پولیس افسران کے خلاف کارروائی کا حکم بھی دیا

    درخواست گزار کا کہنا تھا کہ وفاقی وزیر قانون رانا ثناءاللّه کے حکم پر پولیس نے معصوم شہریوں پر شدید تشدد کیا۔ وزیر داخلہ کے خلاف قانونی کاروائی کا حکم دیا جائے، عدالت نے کیس کی سماعت کے بعد قانونی کاروائی کا حکم دے دیا،

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کے لانگ مارچ کے دوران لاہور سمیت کئی شہروں میں گرفتاریاں ہوئی تھیں، اس دوران پی ٹی آئی کارکنان پر تشدد بھی کیا گیا تھا، عمران خان اسلام آباد پہنچ گئے تھے لیکن اسلام آباد پہنچنے کے بعد فوری واپس چلے گئے اور کہا کہ ایک ہفتے بعد دوبارہ لانگ مارچ کروں گا، اور اہم اعلان کروں گا،

    قبل ازیں پی ٹی آئی لانگ مارچ کے دوران توڑ پھوڑ کا معاملہ، سابق وزیر داخلہ شیخ رشید کی درخواست ضمانت پر سماعت ہوئی، سیشن جج نے 5،5 ہزار کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کی، عدالت نے 2 مقدمات میں شیخ رشید کی ضمانت منظورکی۔ عدالت نے پولیس کو ریکارڈ سمیت 13 جون کو طلب کرلیا۔

    دوسری جانب پیپلز پارٹی کے رہنما حسن مرتضیٰ کہتے ہیں کہ ھماری پولیس کے جوانوں کو جس طرح لانگ مارچ کے دوران تشدد اور گولی کے زریعے اپنے فرائض ادا کرنے سے روکنے کی کوشش کی گئی ہم اس کی بھی بھر پور مزمت کرتے ہیں جو جوان ملکی سلامتی تحفظ کے لیے جانیں قربان کرتے ہیں انکے لواحقین کے لیے ریلیف کے لیے اقدامات کرنے پر بھی مشاورت ہوئی

    کیا آپ کو علم ہے کہ سپریم کورٹ کے ملازمین بھی نہیں پہنچ سکے،عدالت

    اللہ تعالیٰ اس ملک کے سیاست دانوں کو ہدایت دے،لاہور ہائیکورٹ کے ریمارکس

    لانگ مارچ، راستے بند، بتی چوک میں رکاوٹیں ہٹانے پر پولیس کی شیلنگ،کئی گرفتار

    پی ٹی آئی عہدیدار کے گھر سے برآمد اسلحہ کی تصاویر سامنے آ گئیں

  • اسکروٹنی کمیٹی رپورٹ اور پی ٹی آئی کے نقطہ نظر کا موازنہ کر رہے ہیں،چیف الیکشن کمشنر

    اسکروٹنی کمیٹی رپورٹ اور پی ٹی آئی کے نقطہ نظر کا موازنہ کر رہے ہیں،چیف الیکشن کمشنر

    اسکروٹنی کمیٹی رپورٹ اور پی ٹی آئی کے نقطہ نظر کا موازنہ کر رہے ہیں،چیف الیکشن کمشنر

    الیکشن کمیشن میں پی ٹی آئی پارٹی فنڈنگ کیس کی سماعت ہوئی

    پی ٹی آئی کے فنانشل ایکسپرٹ نجم شاہ نے بریفنگ دی، فنانشل ایکسپرٹ نجم شاہ کا کہنا تھا کہ2011-12میں پی ٹی آئی کو 26 کروڑ 50 سے زائد فنڈز موصول ہوئے ،2011-12میں پی ٹی آئی کے 5 سینٹرل آڈیٹڈ اکاونٹس تھے ،اسٹیٹ بینک کی جانب سے بتائےگئے 11 اکا ونٹس کا پی ٹی آئی سے کوئی تعلق نہیں،ممبر نثار درانی نے کہا کہ کیا ا سکروٹنی کمیٹی نے پی ٹی آئی کے اکا ونٹس کم دیکھے؟ نجم شاہ نے کہا کہ اسکروٹنی کمیٹی نے کچھ اکا ونٹس کو دو بار لکھا ہوا ہے، کچھ اکاونٹس ایسے ہیں جن میں کوئی فنڈنگ بھیجی یا وصول نہیں ہوئی، ممبر نثار درانی نے کہا کہ آپ مان رہے ہیں کہ اکا ونٹس پی ٹی آئی کے ہی ہیں، نجم شاہ نے کہا کہ ہم نے اپنے اعتراضات ا سکروٹنی کمیٹی میں جمع کرائے ہیں، ممبر نثار درانی نے کہا کہ کیا رقم بھیجنے اور وصول کرنے والے اکاونٹس پی ٹی آئی کے ہی ہیں؟

    انور منصور نے کہا کہ کچھ اکاونٹس ایسے تھے چو چل رہے تھے لیکن پی ٹی آئی کو پتہ نہیں تھا،وکیل نے کہا کہ جب ان اکاونٹس کا پتہ چلا تو پی ٹی آئی سینٹرل فنانس نے ان کو بند کرادیا، نجم شاہ نے کہا کہ اسٹیٹ بینک نے اپنی رپورٹ میں بند کرائے اکاونٹس کو بھی شامل کردیا، ممبر نثار درانی نے کہا کہ کیا سالانہ گوشواروں کی رپورٹ میں یہ رقوم الیکشن کمیشن میں بتائی گئیں؟ وکیل انور منصور نے کہا کہ تمام رقوم الیکشن کمیشن میں بتائی ہوئی ہیں،

    چیف الیکشن کمشنر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کچھ اکاونٹس پی ٹی آئی کے علم میں نہیں تھے جو انہوں نے تسلیم کیا، فنڈنگ میں کچھ بد نظمی اور بد انتظامی کو بھی پی ٹی آئی کی جانب سے تسلیم کیا گیا، اسکروٹنی کمیٹی رپورٹ اور پی ٹی آئی کے نقطہ نظر کا موازنہ کر رہے ہیں،نجم شاہ نے کہا کہ پی ٹی آئی نے 2012-13 میں 1 ارب 5 کروڑ روپے فنڈنگ وصول کی،اسکروٹنی کمیٹی کی غلط کیلکولیشن کے باعث 2012-13 میں 14 کروڑ 64 لاکھ روپے زائد شامل کیے ،اسکروٹنی کمیٹی کے پاس اسٹیٹ بینک سے ریکارڈ مانگنے کا اختیار نہیں تھا، اسکروٹنی کمیٹی پی ٹی آئی آڈٹ ریکارڈ کا ا سٹیٹ بینک رپورٹ سے موازنہ کر رہی تھی، ممبر نثار درانی نے کہا کہ کیا آپ کہنا چاہتے ہیں کہ اسکروٹنی کمیٹی کا ا سٹیٹ بینک کو لکھنے کا اختیار نہیں تھا؟ وکیل انور منصور نے کہا کہ اسکروٹنی کمیٹی نے اختیار استعمال کرتے ہوئے ا سٹیٹ بینک کو خط لکھا، اسٹیٹ بینک نے کئی ایسے بینک اکا ونٹس ریکارڈ میں شامل کیے جن کا پی ٹی آئی کو پتہ نہیں تھا،انفرادی طور پر کھلوائے اکاونٹس کا پی ٹی آئی سینٹرل فنانس ونگ کو معلوم نہیں تھا،پی ٹی آئی وکیل نے کہا کہ انفرادی اکاونٹس میں جو رقوم اکٹھی کی گئی وہ پی ٹی آئی آڈٹ میں شامل نہیں کی گئیں، آڈٹ رپورٹ میں پی ٹی آئی سینٹرل فنانس ونگ کے اکاونٹس کی تفصیلات ہی شامل تھیں

    ممنوعہ فارن فنڈنگ کیس نومبر 2014 سے الیکشن کمیشن میں زیر سماعت ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیصلہ دیا تھا کہ ایک ماہ میں فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ سنایا جائے تا ہم پی ٹی آئی دوبارہ عدالت پہنچی گئی اور اس فیصلے کو چیلنج کر دیا جس پر عدالت نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کو معطل کر دیا، اور پی ٹی آئی کو اسلام آباد ہائیکورٹ سے ریلیف ملا

    اداروں کیخلاف ہرزہ سرائی کے پیچھے کرپشن اور فارن فنڈنگ کیس کا خوف ہے،آصف زرداری

    صدر مملکت نے وزیراعظم کو خط کا "جواب” دے دیا

    فارن فنڈنگ کیس،باہر سے پیسہ آیا ہے لیکن وہ ممنوعہ ذرائع سے نہیں آیا،پی ٹی آئی وکیل

    فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ 30 روزمیں کرنے کا حکم اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج

    فارن فنڈنگ کیس، فیصلہ 30 روز میں کرنے کے فیصلے کیخلاف اپیل سماعت کیلئے مقرر

    فارن فنڈنگ کیس میں بھی عمران خان کو اب سازش نظر آ گئی، اکبر ایس بابر

    عمران خان اگلے سال الیکشن کا انتظار کریں،وفاقی وزیر اطلاعات

    فارن فنڈنگ کیس،اسکروٹنی کمیٹی رپورٹ میں معلومات قابل تصدیق نہیں ،وکیل

  • انتخابات کے لیے ہمیشہ تیار،فیصلہ حکومت نے کرنا ہے،چیف الیکشن کمشنر

    انتخابات کے لیے ہمیشہ تیار،فیصلہ حکومت نے کرنا ہے،چیف الیکشن کمشنر

    انتخابات کے لیے ہمیشہ تیار،فیصلہ حکومت نے کرنا ہے،چیف الیکشن کمشنر

    چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن بغیرکسی خوف اپنا کام جاری رکھے گا

    چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کا کہنا تھا کہ جب کہا جائے گا ہم الیکشن کرا دیں گے حلقہ بندیوں سے متعلق ابتدائی فہرستیں جاری کی جا چکی ہے الیکشن کمیشن آئین کے مطابق ذمہ داریاں ادا کرتا رہے گا، ام انتخابات کیلئے اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہیں الیکشن کمیشن اپنے فیصلے بلا خوف کرتا ہے اور کرتا رہے گا،فیصلوں سے کوئی ناراض یا راضی ہوتا ہے یہ ہمارا مسئلہ نہیں ،ان کا ہے،سب ہمارے دوست ہیں الیکشن کمیشن آئین اور قانون کے مطابق فیصلے کرتا ہے انتخابات کے لیے ہمیشہ تیار ہیں،الیکشن کا فیصلہ حکومت نے کرنا ہے الیکشن کمیشن کا کام صاف شفاف اور غیر جانبدار انتخابات کا انعقاد ہے مردم شماری کے حوالے سے الیکشن کمیشن کا موقف واضح تھا مردم شماری سرکاری طور پر شائع ہونے سے قبل حلقہ بندیاں نہیں کی جاسکتیں مئی 2021 میں 2017 کی مردم شماری کے نتائج شائع ہوئے نئی حلقہ بندیوں پر کام مردم شماری کے نتائج شائع ہونے کے بعد شروع کیا، 2018الیکشن اور حلقہ بندیوں کے حوالے سے آئینی ترمیم لائی گئی تھی حکومت ڈیجیٹل مردم شماری کرانا چاہتی ہے ،ڈیجیٹل مردم شماری کے نتائج دسمبر تک ملے تو بروقت حلقہ بندیاں ہوسکتی ہیں ،نتائج تاخیر کا شکار ہوئے تو 2017 کی مردم شماری کی بنیاد پر حلقہ بندیوں پر انتخاب ہوگا ،سابق ڈپٹی ا سپیکر نےاراکین قومی اسمبلی کے استعفوں کا کیس الیکشن کمیشن کو نہیں بھجوایا،فارن فنڈنگ کی سماعت جاری ہے ،فریقین کو صفائی کا موقع دینا ضروری ہے

    قبل ازیں الیکشن کمیشن میں 2 نئے ممبران نے حلف اٹھا لیا ہے چیف الیکشن کمیشن نے پنجاب اور خیبر پختونخوا کے ممبران سے حلف لیا، پنجاب سے بابر حسن بھروانہ اور خیبر پختونخوا سے جسٹس (ر)اکرام اللہ نے بطور ممبر الیکشن کمیشن حلف اٹھایا ،نئے ممبران کی تقرری کے بعد الیکشن کمیشن کی تشکیل مکمل ہو گئی ہے

    فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ 30 روزمیں کرنے کا حکم اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج

    فارن فنڈنگ کیس، فیصلہ 30 روز میں کرنے کے فیصلے کیخلاف اپیل سماعت کیلئے مقرر

    فارن فنڈنگ کیس میں بھی عمران خان کو اب سازش نظر آ گئی، اکبر ایس بابر

    عمران خان اگلے سال الیکشن کا انتظار کریں،وفاقی وزیر اطلاعات

    فارن فنڈنگ کیس،اسکروٹنی کمیٹی رپورٹ میں معلومات قابل تصدیق نہیں ،وکیل