Baaghi TV

Tag: تحریک انصاف

  • لاہور ہائیکورٹ، اظہر مشوانی کے بھائیوں کو پیش نہ کیا گیا ،سماعت ملتوی

    لاہور ہائیکورٹ، اظہر مشوانی کے بھائیوں کو پیش نہ کیا گیا ،سماعت ملتوی

    لاہور ہائیکورٹ بانی پی ٹی آئی کے فوکل پرسن اظہر مشوانی کی بھائیوں کی بازیابی کے لیے درخواست کی سماعت ہوئی

    عدالت نے درخواست پر سماعت 11جون تک ملتوی کردی۔ عدالت نے دونوں بھائیوں کا آج پیش کرنے کا حکم دیا ہوا تھا. عدالتی حکم کے باوجود دونوں مغوی افراد کو پیش نہ کیا گیا.عدالت میں ڈی آئی جی سیکورٹی اور سی ٹی ڈی افسران نے مغویوں کے بارے لاعلمی ظاہر کردیا. جسٹس شہباز رضوی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پولیس لکھ کر دے کہ وہ ناکام ہو گئی ہے۔ جسٹس شہباز رضوی نے قاضی حبیب الرحمن کی درخواست پر سماعت کی

    اظہر مشوانی کے 2 بھائیوں کی بازیابی کےلیے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر
    ‏تحریک انصاف سوشل میڈیا انچارج اظہر مشوانی کے 2 بھائیوں کی بازیابی کےلیے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائرکر دی گئی،درخواست والد قاضی حبیب الرحمن کیجانب سے دائر کی گئی ہے،دائر درخواست میں آئی جی پنجاب، سی ٹی ڈی سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے،درخواست سلمان اکرم راجہ،ایڈوکیٹ ابوزر سلمان خان نیازی کی وساطت سے دائر کی گئی ہے،درخواست میں کہا گیا کہ پروفیسر ظہور اور پروفیسر مظہر کو رات گئے گھر سے اغواء کیا گیا، سادہ لباس اور پولیس یونفارم میں ملبوس اہلکاروں نے حراست میں لیا، اغواء کرنے والوں نے نہیں بتایا کہ انہیں کیوں لے کر جا رہے ہیں، اس سے قبل پروفیسر ظہور کو 100 سے زائد غیر قانونی حراست میں رکھا گیا، عدالت پروفیسر ظہور اور پروفیسر مظہر کو بازیاب کروانے کا حکم دے،

    چاہت فتح علی خان سے بڑے بڑے سپر اسٹارز خوفزدہ کیوں ؟

    مخصوص نشستیں، فیصلہ پی ٹی آئی کے حق میں نظر نہیں آ رہا، مبشر لقمان

    مبشر لقمان: ہزاروں چہروں والا اینکر ، دنیا کا پہلا مصنوعی ذہانت سے چلنے والے نیوز اوتار پر ایک نظر

    لندن پلان بارے مبشر لقمان کا انکشاف،نواز شریف نے تصدیق کر دی

    لندن پلان: عمران خان، طاہرالقادری اور چوہدری برادران کو اکٹھا جہانگیر خان ترین نے کیا تھا، مبشر لقمان

  • سپریم کورٹ، قاسم سوری کی طلبی کے اشتہار جاری کرنیکا حکم

    سپریم کورٹ، قاسم سوری کی طلبی کے اشتہار جاری کرنیکا حکم

    سپریم کورٹ: قاسم سوری کی الیکشن ٹربیونل کے فیصلے کیخلاف اپیل پر سماعت ہوئی

    قاسم سوری سپریم کورٹ کے حکم کے باوجود ایک مرتبہ پھر پیش نہ ہوئے،سپریم کورٹ نے قاسم سوری کی طلبی کے اشتہار جاری کرنے کا حکم دے دیا، سپریم کورٹ نے طلبی کا نوٹس قاسم سوری کے گھر کے باہر بھی چسپاں کرنے کا حکم دے دیا.عدالت نے حکم امتناع پر ڈپٹی اسپیکر رہنے اور تحریک عدم اعتماد کیخلاف رولنگ دینے پر قاسم سوری کو طلب کر رکھا ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی

    عدالت نے کہا کہ ریکارڈ کے مطابق قاسم سوری کے بھائی نے نوٹس وصولی سے انکار کیا،قاسم سوری جان بوجھ کر سپریم کورٹ میں پیش نہیں ہو رہے،سابق ڈپٹی اسپیکر کی جانب سے نوٹس وصولی سے اجتناب بدقسمتی ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وکیل نعیم بخاری سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ قاسم سوری سوشل میڈیا پر بہت متحرک ہیں،وکیل نعیم بخاری نے کہا کہ میں ٹی وی نہیں دیکھتا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ خود ٹی وی کی شخصیت ہیں اور نہیں دیکھتے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے نعیم بخاری سے استفسار کیا کہ کیا آپ ٹویٹر سے واقف ہیں؟ وکیل نعیم بخاری نے جواب دیا کہ سوشل میڈیا استعمال نہیں کرتا .چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ خود کو بوڑھا کیوں سمجھ رہے ہیں جوان اور اپ ٹو ڈیٹ رہیں،جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ ایک پروگرام میں آپ نے کہا تھا دوست بوڑھا نہیں ہونے دیتے،وکیل نعیم بخاری نے کہا کہ میرا قاسم سوری سے کوئی رابطہ نہیں ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آئندہ سماعت جولائی میں رکھیں گے،عدالتی حکم میں آئندہ تاریخ مقرر کر دینگے،سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت آئندہ ماہ کیلئے ملتوی کر دی

    قاسم سوری کو دو بار پہلے بھی طلب کیا گیا تھا لیکن وہ پیش نہیں ہوئے تھے، آج بھی عدالت پیش نہ ہوئے نومئی کےو اقعات کے بعد سے قاسم سوری پہلے روپوش تھے اب اطلاعات کے بعد قاسم سوری برطانیہ میں ہیں.

    چاہت فتح علی خان سے بڑے بڑے سپر اسٹارز خوفزدہ کیوں ؟

    مخصوص نشستیں، فیصلہ پی ٹی آئی کے حق میں نظر نہیں آ رہا، مبشر لقمان

    مبشر لقمان: ہزاروں چہروں والا اینکر ، دنیا کا پہلا مصنوعی ذہانت سے چلنے والے نیوز اوتار پر ایک نظر

    لندن پلان بارے مبشر لقمان کا انکشاف،نواز شریف نے تصدیق کر دی

    لندن پلان: عمران خان، طاہرالقادری اور چوہدری برادران کو اکٹھا جہانگیر خان ترین نے کیا تھا، مبشر لقمان

  • نومئی مقدمہ،عالیہ حمزہ رہائی کے بعد پھر گرفتار

    نومئی مقدمہ،عالیہ حمزہ رہائی کے بعد پھر گرفتار

    تحریک انصاف کی رہنما، سابق رکن قومی اسمبلی عالیہ حمزہ کو رہائی کے بعد دوبارہ گرفتار کر لیا گیا ہے

    عالیہ حمزہ نو مئی کے مقدمے میں جیل میں‌تھیں، عدالت نے عالیہ حمزہ اور صنم جاوید کی ضمانت منظور کی تھی، صنم جاوید کو گزشتہ روز رہائی کے بعد گرفتار کر لیا گیا تھا، اب عالیہ حمزہ کو بھی دوبارہ رہائی کے بعد گرفتار کر لیا گیا ہے،عالیہ حمزہ کو گرفتار کرنے پولیس کی بھاری نفری سرگودھا جیل کے باہر تھی، عالیہ حمزہ کو گرفتار کیا گیا تو انہوں نے عمران خان زند ہ باد کے نعرے لگائے،عالیہ حمزہ کو کل گوجرانوالہ کی عدالت میں پیش کیا جائے گا

    عمران خان اور بشریٰ بی بی کو سزا کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ 

     بنی گالہ میں سارے سودے ہوتے تھے کہا گیا میرا تحفہ میری مرضی

    عمران خان جیل میں شاہانہ زندگی گزار رہے ہیں، وفاقی وزیر اطلاعات

    عمران خان سے ملاقات نہ کرانے پر توہین عدالت کی درخواست، نوٹس جاری

    اب بتا رہا ہوں پاکستان میں سری لنکا والا کام ہونے جا رہا ، کوئی ڈیل کی بات نہیں ہو رہی، عمران خان

  • گوجرانوالہ،صنم جاوید عدالت پیش،جسمانی ریمانڈ منظور

    گوجرانوالہ،صنم جاوید عدالت پیش،جسمانی ریمانڈ منظور

    تحریک انصاف کی گرفتار رہنما صنم جاوید کوانسداد دہشت گردی عدالت گوجرانوالہ میں پیش کر دیا گیا

    پولیس نے صنم جاوید کے 30 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی،صنم جاوید کے وکلاء نے مقدمہ سے بری کرنے کے لیے دلائل دیے،دوران سماعت صنم جاوید نے عدالت سے بات کرنے کی اجازت مانگی، عدالت سے اجازت ملنے پر صنم جاوید نے عدالت میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ ” ہائی پروفائل میٹنگ میں سازش کی بات ہو رہی ہے، جب میٹنگ ہوئی اس وقت میں پی ٹی آئی کی نہ کارکن تھی نہ عہدیدار”۔

    دوران سماعت صنم جاوید کے وکلاء کی جانب سے ویڈیو بنانے پر عدالت نے نوٹس لے کر ویڈیو بنانے والے وکلاء کی سخت سرزنش کی،صنم جاوید کے وکلاء نے عدالت سے معافی مانگ لی،پراسیکیوشن نے دلائل دینے کے لیے عدالت سے وقت مانگ لیا۔بعد ازاں عدالت نے صنم جاوید کا چار روزہ جسمانی ریمانڈ دے دیا،

    واضح رہے کہ صنم جاوید کو گزشتہ روز سرگودھا جیل سے رہائی ملنے کے بعد دوبارہ گرفتار کر لیا گیا تھا،،صنم جاوید گوجرانوالا کینٹ پولیس کو 9 مئی کے مقدمے میں مطلوب تھیں، سرگودھا کی انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے 9 مئی کےتین مقدمات میں پی ٹی آئی رہنما صنم جاوید اورعالیہ حمزہ کی ضما نت منظور کر لی تھی، دونوں رہنماوں کے خلاف 9 مئی کے حوالے سے میانوالی میں تین مقدمات درج تھے۔

    قبل ازیں 2 اپریل کو تحریک انصاف کی خاتون رہنما صنم جاوید اورعالیہ حمزہ میانوالی ہنگامہ آرائی کیس میں بھی گرفتارکیا گیا تھا، پولیس کا کہنا ہے کہ 9 اور10 مئی کے چار مقدمات میں تحریکِ انصاف کی دونوں خاتون رہنماؤں کو بھی نامزد کیا گیا۔

    صنم جاوید کی سینیٹ کیلیے نامزدگی،طیبہ راجہ پھٹ پڑیں

    سائفر کیس،یہ کہتے تھے ضمانت کا حق نہیں ، سپریم کورٹ نے ضمانت بھی دی،سلمان صفدر

    عمران خان اور بشریٰ بی بی کو سزا کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ 

     بنی گالہ میں سارے سودے ہوتے تھے کہا گیا میرا تحفہ میری مرضی

    عمران خان جیل میں شاہانہ زندگی گزار رہے ہیں، وفاقی وزیر اطلاعات

    عمران خان سے ملاقات نہ کرانے پر توہین عدالت کی درخواست، نوٹس جاری

    اب بتا رہا ہوں پاکستان میں سری لنکا والا کام ہونے جا رہا ، کوئی ڈیل کی بات نہیں ہو رہی، عمران خان

    واضح رہے کہ صنم جاوید بھی جیل میں ہیں، صنم جاوید کی ضمانت ہوتی ہے تو کبھی انہیں نظر بندتو کبھی دوبارہ کسی اور مقدمے میں گرفتار کر لیا جاتا ہے، صنم جاوید کی کئی مقدمات میں ضمانت منظور ہو چکی ہے تا ہم عدالت سے رہائی کے بعد صنم جاوید کو دوبارہ نئے مقدمے میں گرفتار کر لیا جاتا ہے,آٹھ نومبر کو پی ٹی آئی کارکن صنم جاوید کو جیل سے رہا ہوتے ہی دوبارہ گرفتار کرلیا گیا تھا،20 اکتوبر کو بھی تحریک انصاف کی رکن صنم جاوید خان اور ان کی ساتھی خواتین کو کوٹ لکھپت جیل سے رہائی ملنے کے بعد ان کے جیل سے باہر نکلتے ساتھ ہی پولیس نے دوبارہ گرفتار کر لیا تھا،25 ستمبر کو بھی جناح ہاؤس حملہ کیس میں رہائی پانے والی پی ٹی آئی کارکن صنم جاوید اور دیگر خواتین کو پھر سے گرفتار کرلیا تھا،

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    غیر ملکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کر دی 

    جناح ہاؤس لاہور میں ہونیوالے شرپسندوں کے حملے کے بارے میں اہم انکشافات

    جی ایچ کیو حملے میں پی ٹی آئی خواتین رہنماوں کا کردار,تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے آئی ہے،

    جناح ہاؤس میں سب سے پہلے داخل ہونے والا دہشتگرد عمران محبوب اسلام آباد سے گرفتار 

  • الیکشن کمیشن،پی ٹی آئی کی استدعا مسترد،سٹے آرڈر نہ ملا

    الیکشن کمیشن،پی ٹی آئی کی استدعا مسترد،سٹے آرڈر نہ ملا

    الیکشن کمیشن،اسلام آباد الیکشن ٹربیونل کی تبدیلی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

    چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں 4 رکنی کمیشن نےکیس کی سماعت کی،طارق فضل چودھری اور راجہ خرم نواز الیکشن کمیشن میں موجود تھے،شعیب شاہین نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا آرڈر چیلنج کیا ہے،پیر تک سماعت ملتوی کردیں،چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ اگر کوئی سٹے آرڈر آجائے تو ہمیں دیدیں ہم سماعت روک دینگے،آپ کا اعتراض آگیا اسے ہم ریکارڈ پر لے آئیں گے، وکیل ن لیگی امیدوار نے کہا کہ الیکشن ٹربیونل نے اپنا رجسٹرار نہیں بنایا ،ہائیکورٹ رجسٹرار یہ کام نہیں کرسکتے،ممبر خیبر پختونخوا نے کہا کہ مطلب الیکشن ٹربیونل میں درخواستیں دائر ہی نہیں ہوئیں؟وکیل ن لیگی امیدوار نے کہا کہ الیکشن ٹربیونل میں درخواست دائر ہی نہیں ہوئی،الیکشن ٹربیونل میں درخواستیں درست کرکے 10 اپریل کو جمع ہونا تھیں،الیکشن ٹربیونل جانبدرانہ کام کررہا ہے،سی پی سی کیس میں اپلائی ہوسکتا ہے، اگر کسی ایک پارٹی کو نہیں سنا جاتا تو یہ قانون کی خلاف ورزی ہے، انکی درخواست میں لکھا ہے کہ انکے پاس ثبوت ہیں، ممبر خیبر پختونخوا نے کہا کہ انکی جانب سے کہا گیا کہ بیگ لائے گئے پھر کھولے گئے، آپ یہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ عدالتی طریقے کار کو دیکھا نہیں گیا، وکیل ن لیگی امیدوار نے کہا کہ جی معاملے میں عدالتی طریقے کار کو دیکھا نہیں گیا ،چارج ہونے سے پہلے بحث ہوتی، پھر ثبوت پیش کیے جاتے ہیں پھر کراس چیک ہوتے ہیں،چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ آپ اتنی دیر سے یہ نہیں کہہ پا رہے کہ ثبوت نہیں پیش کیے گئے،وکیل ن لیگ نے کہا کہ الیکشن ٹربیونل میں درخواستیں درست کرکے 10 اپریل کو جمع ہونا تھیں مگر 15 کو کرائی گئیں،الیکشن ٹربیونلز میں پٹیشنز دائر کرنے سے لیکر اب تک غیر قانونی کام اور سنگین میٹریل غلطیاں کئےگئے،وقت کے بعد دائر کرنے پر پٹیشنز کو رد کردینا چاہیے تھا، الیکشن ٹربیونل میں درخواست گزٹ نوٹیفکیشن کے 45 دن میں درخواست دائر لازم ہے،الیکشن ٹربیونل نے فارم 45 کا موازنہ بھی کیا،ممبر بلوچستان نے استفسار کیا کہ کیا الیکشن ٹربیونل کے سامنے فارم 45 سیل بند تھے؟وکیل ن لیگ نے کہا کہ جی سیل بند لفافےتھے جج صاحب نے خود کھولےیہ کیس جوڈیشل فریم ورک میں نہیں چلایا گیا، الیکشن کمیشن میں وکیل ن لیگی امیدوار کے دلائل مکمل ہو گئے

    پی ٹی آئی وکیل نے اسلام آبادہائیکورٹ کےفیصلےتک الیکشن کمیشن کوسماعت روکنے کی استدعا کی جو الیکشن کمیشن نے مستردکردی،الیکشن کمیشن نے کہا کہ سٹےآرڈرنہیں،ن لیگ وکیل دلائل جاری رکھیں،

    دوسری جانب اسلام آباد ہائیکورٹ میں الیکشن ایکٹ ترمیمی آرڈیننس اور الیکشن کمیشن کی کاروائی کے خلاف پی ٹی آئی کی درخواستوں پر سماعت ہوئی، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کیس کی سماعت کی،اسلام آبادسے پی ٹی آئی کے تینوں امیدوارعامر مغل،شعیب شاہین اور علی بخاری نے الیکشن کمیشن کی کارروائی کو چیلنج کر رکھا ہے،عدالت نے درخواستوں پر اعترضات دور کر دیے درخواستوں کو ڈائری نمبر لگانے کی ہدایت کر دی،وکیل نے کہا کہ دو اعتراضات ہیں ،عدالت نے استفسار کیا کہ آپ نے کیا چیلنج کیا ہے، وکیل نے کہا کہ ہم نے الیکشن ایکٹ 2017 سیکشن 151 چیلنج کیا ہے، عدالت نے درخواست پر اعتراض دور کر کے ڈائری نمبر لگانے کی ہدایت کر دی.

  • اظہر مشوانی کے بھائی کو رات گئے گرفتار کیا گیا، عمر ایوب

    اظہر مشوانی کے بھائی کو رات گئے گرفتار کیا گیا، عمر ایوب

    تحریک انصاف کے رہنما عمر ایوب نے کہا ہے کہ رات پونے تین بجے اظہر مشوانی کے گھر پر ریڈ کیا گیا، ان کے پروفیسر بھائی کو سی ٹی ڈی اور سادہ لباس میں ملبوس افراد نے گرفتار کیا،

    عمر ایوب کا کہنا تھا کہ اس کی ہم مذمت کرتے ہیں پاکستان میں اظہار رائے کی آزادی ہے،آئین میں کوئی ہائیبرڈ سسٹم نہیں ہے جمہوریت میں آزادی اظہار رائے پر پابندی نہیں لگا سکتے،ہماری سوشل میڈیا کی ٹیم کے لوگوں کو 2021 میں آئی ایس پی آر سے ایوارڈ ملے ہیں،تحریک انصاف کے کارکنان کا صرف یہ قصور ہے کہ وہ اپنے قائد کے پیچھے کھڑے ہیں، عالیہ حمزہ،صنم جاوید،اظہر مشوانی کے بھائی کو فورا رہا کیا جائے،

    دوسری جانب پی ٹی آئی سوشل میڈیا ایکٹوسٹ اظہر مشوانی نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ” انکے دونوں بڑے بھائیوں پروفیسر مظہر اور پروفیسر ظہور مشوانی کو رات 2:50 بجے ہمارے گھر ٹاؤن شپ لاہور سے درجنوں سی ٹی ڈی کے یونیفارم اور سادہ کپڑوں میں ملبوس افراد اٹھا کر لے گئے ہیں میرے کسی فیملی ممبر کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں اور تمام افراد درس و تدریس کے شعبے سے تعلق رکھتے ہیں”۔

    تحریک انصاف کے رہنما شبلی فراز کاکہنا ہے کہ پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا ٹیم ہماری پارٹی کا ہراول دستہ ہے، ہم ان کے ساتھ کھڑے ہیں، اظہر مشوانی کے گھر رات کو جو کچھ ہوا قابل مذمت ہے، اظہر مشوانی کے بھائی کو رہا کیا جائے، سوشل میڈیا کی آواز کو چپ نہیں کروایا جا سکتا.سچ کو روک نہیں سکتے وہ سامنے آ کر ہی رہے گا.

    عدالت نے کہا کہ میں کیوں ایسا حکم جاری کروں جو سسٹم ہے اسی کے مطابق کیس فکس ہوگا،

    عمران خان نے باربار قانون کی خلاف ورزی کی جس پر انہیں جواب دینا ہوگا

    چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ آپ کا اپنا کیا دھرا ہے 

     بنی گالہ میں سارے سودے ہوتے تھے کہا گیا میرا تحفہ میری مرضی

    عمران خان جیل میں شاہانہ زندگی گزار رہے ہیں، وفاقی وزیر اطلاعات

    عمران خان سے ملاقات نہ کرانے پر توہین عدالت کی درخواست، نوٹس جاری

    اب بتا رہا ہوں پاکستان میں سری لنکا والا کام ہونے جا رہا ، کوئی ڈیل کی بات نہیں ہو رہی، عمران خان

    اظہر مشوانی کے بھائیوں کو کل تک عدالت پیش کرنے کا حکم
    بانی پی ٹی آئی کے فوکل پرسن اظہر مشوانی کے بھائیوں کے اغواء کیخلاف دائر درخواست پر سماعت ہوئی،جسٹس سید شہباز رضوی نے آئی جی پنجاب اور سی ٹی ڈی کو مغویوں کو بازیاب کر کے پیش کرنے کا حکم دے دیا، عدالت نے کل تک پروفیسر ظہور اور پروفیسر مظہر کو پیش کرنے کا حکم دے دیا، درخواست گزاروں کی طرف سے سکمان اکرم راجہ، چوہدری اشتیاق اے خان اور ابوزر سلمان نیازی پیش ہوئے. جسٹس سید شہباز رضوری نے کہا کہ آپ نے پہلے پولیس کو کیوں درخواست نہیں دی، وکیل نے کہا کہ اس سے پہلے بھی 100 دن تک گرفتار رکھاانکے والد کو بھی اٹھا کر لے گئے،انکے والد کی طرف سے درخواست دائر کی ہے، سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، اظہر مشوانی عمران خان کے فوکل پرسن تھے ،جسٹس شہباز رضوری نے کہا کہ آپ کے پاس دوسرا فورم تھا اس سے کیوں رجوع نہیں کیا، وکیل نے کہا کہ انکے خلاف کوئی چارج نہیں، سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، اس سے پہلے بھی 100 دن رکھا گیا،پھر چھوڑ دیا، عدالت نے استفسار کیا کہ 100 دن کس کے پاس رہے، وکیل نے کہا کہ وہ ڈسکلوز نہیں کرتے، خود ہی چھوڑ دیا تھا، عدالت نے کہا کہ وہ نہیں کرتے تو آپ کو تو پتہ ہے، وکیل نے کہا کہ لے کر سی ٹی ڈی والے گئے تھے لیکن بعد میں نہیں پتہ چلا کہاں رکھا ،عدالت نے آئی جی پنجاب کو سی ٹی ڈی کو کل تک پیش کرنے کا حکم دے دیا

    اظہر مشوانی کے 2 بھائیوں کی بازیابی کےلیے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر
    ‏تحریک انصاف سوشل میڈیا انچارج اظہر مشوانی کے 2 بھائیوں کی بازیابی کےلیے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائرکر دی گئی،درخواست والد قاضی حبیب الرحمن کیجانب سے دائر کی گئی ہے،دائر درخواست میں آئی جی پنجاب، سی ٹی ڈی سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے،درخواست سلمان اکرم راجہ،ایڈوکیٹ ابوزر سلمان خان نیازی کی وساطت سے دائر کی گئی ہے،درخواست میں کہا گیا کہ پروفیسر ظہور اور پروفیسر مظہر کو رات گئے گھر سے اغواء کیا گیا، سادہ لباس اور پولیس یونفارم میں ملبوس اہلکاروں نے حراست میں لیا، اغواء کرنے والوں نے نہیں بتایا کہ انہیں کیوں لے کر جا رہے ہیں، اس سے قبل پروفیسر ظہور کو 100 سے زائد غیر قانونی حراست میں رکھا گیا، عدالت پروفیسر ظہور اور پروفیسر مظہر کو بازیاب کروانے کا حکم دے،

  • حسان نیازی کی عدالت پروڈکشن کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

    حسان نیازی کی عدالت پروڈکشن کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

    ‏حسان نیازی کے خلاف اقدام قتل کیس کی سماعت ہوئی

    جوڈیشل مجسٹریٹ عباس شاہ نے کیس کی سماعت کی ،حسان نیازی کے وکیل نعیم حیدر پنجھوتھا عدالت پیش ہوئے ،وکیل نے کہا کہ حسان نیازی ملٹری کسٹڈی میں ہیں عدالت پروڈکشن آڈر جاری کرے ۔حسان نیازی کو ایبٹ آباد سے اٹھایا گیا فیملی اور وکلا سے ملنے کی اجازت نہیں دی گئی ۔ کورٹ آڈر کے بعد ملاقات ہوئی تو پتہ چلا کہ حسان نیازی پر تشدد کیا گیا ۔ حسان نیازی کا آج تک میڈیکل بھی نہیں ہوا ۔پراسیکیوٹر نے کہا کہ حسان نیازی کی میڈیکل رپورٹ ریکارڈ کے ساتھ لگائی ہے۔ وکیل نعیم حیدر پنجھوتھا نے کہا کہ میڈیکل رپورٹ چھ ماہ پہلے کی لگائی گئی ہے ۔رپورٹ کے مصدقہ ہونے کا کیا ثبوت ہے ۔حسان نیازی کو عدالت میں پیش کیا جانا چاہیئے۔ پراسکیوٹر نے کہا کہ حسان نیازی کو عدالت پیش کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ ابھی فرد جرم عائد نہیں ہوئی ۔ نعیم حیدر پنجوتھا نے کہا کہ ملزم کے بنیادی حقوق کا تحفظ عدالت نے کرنا ہے ۔پراسکیوٹر نے کہا کہ ہمیں معلوم نہیں ہے کہ حسان نیازی کہاں ہے ۔ نعیم حیدر پنجوتھہ نے کہا کہ حکومت کا کیا یہی کام ہے کہ وہ غائب کردے اور کہے کہ ہمیں پتہ نہیں ۔سپریم میں اٹارنی جنرل نے لسٹ جمع کروائی تھی کہ حسان نیازی سمیت 104 ملزمان ملٹری کسٹڈی میں ہیں ۔جج نے حکم دیا کہ ملٹری کسٹڈی میں جو ملزمان ہیں ان کی فہرست عدالت میں پیش کریں ۔

    حسان نیازی کے وکیل نے کہا کہ حسان نیازی نے بانی پی ٹی آئی کے خلاف بیان نہیں دیا اس لئے حراست میں رکھا گیا ہے ۔جج عباس شاہ نے کہا کہ ملزمان کی فہرست فراہم کردیں ہفتے کو حسان نیازی کی عدالت پروڈکشن پر فیصلہ کریں گے ۔ عدالت نے حسان نیازی کی عدالت پروڈکشن کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا ،حسان نیازی کے خلاف اقدام قتل کیس کی سماعت 8 جون تک ملتوی کر دی گئی

    حسان نیازی کو ایبٹ آباد سے گرفتار کیا گیا تھا، نو مئی کے واقعہ کے بعد حسان نیازی روپوش ہو گئے تھے، انہیں دوست کے گھر سے پولیس نے گرفتار کیا تھا،حسان نیازی کے والد حفیظ اللہ نیازی، تحریک انصاف کے خلاف ہیں،انہوں نے ٹویٹر پر تصدیق کی کہ حسان نیازی کو گرفتار کر لیا گیا ہے،

    واضح رہے کہ عمران خان کی گرفتاری کے بعد تحریک انصاف کے شرپسندوں نے ملک بھر میں جلاؤ گھیراؤ کیا تھا، لاہور میں جناح ہاؤس سمیت دیگر عسکری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا وہیں ن لیگ کے دفتر کو بھی آگ لگائی گئی تھی، شرپسند عناصر کے‌ خلاف کاروائیاں جاری ہیں، کئی افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے، کئی روپوش ہیں، تحریک انصاف کے رہنما پارٹی چھوڑ رہے ہیں تو دوسری جانب کارکنان اظہار لاتعلقی کر رہے ہیں

    حسان خان نیازی کو 18 اگست کو عدالت پیش کرنے کا حکم

    حسان نیازی کیس، عدالت کی متعلقہ اتھارٹی سے رابطہ کرنے کی ہدایت

    حسان نیازی کی فوجی عدالت میں ٹرائل کیخلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر

    حسان نیازی کیس،پولیس نے رپورٹ عدالت جمع کروا دی

    حسان نیازی کا کیس فوجی عدالت منتقل

  • متنازعہ ٹویٹ ،پی ٹی آئی رہنماؤں کو ایف آئی اے کے سامنے پیش ہونےکا حکم

    متنازعہ ٹویٹ ،پی ٹی آئی رہنماؤں کو ایف آئی اے کے سامنے پیش ہونےکا حکم

    بانی پی ٹی کے ایکس ہینڈل سے شیخ مجیب الرحمٰن متعلق پوسٹ کا کیس .پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر اور رؤف حسن کو عدالت سے بڑا ریلیف مل گیا
    اسلام آباد ہائی کورٹ نے بیرسٹر گوہر اور رؤف حسن کے خلاف ایف آئی اے کو تادیبی کاروائی سے روک دیا , عدالت نے کہا کہ رؤف حسن اور بیرسٹر گوہر ایف آئی اے کے سامنے پیش ہوں ،ایف آئی اے دونوں کو نہ ہراساں کرے نہ تادیبی کاروائی کرے ،جسٹس محسن اختر کیانی نے ایف آئی اے طلبی نوٹسز کے خلاف تحریری حکم جاری کر دیا, عدالت نے ایف آئی اے کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 25 جون تک جواب طلب کر لیا

    متنازعہ ٹویٹ،بیرسٹر گوہر،رؤف حسن کا ایف آئی اے میں بیان قلمبند
    بانی پی ٹی آئی کے اکاونٹ دے متنازعہ ٹوئیٹ کا معاملہ ،ایف آئی اے نے ترجمان تحریک انصاف روف حسن اور بیرسٹر گوہر کا بیان قلمبند کر لیا،ایف آئی اے سائبر کرائم نے رؤف حسن سے چار گھنٹے تک تفتیش کی ،رؤف حسن انکوائری کے بعد میڈیا سے بات کیے بغیر روانہ ہوگئے ،بیرسٹر گوہر سے ایف آئی اے نے دو گھنٹے تک سوالات کیے ، ایف آئی اے پیشی کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ کل سپریم کورٹ میں نیب کیس میں عمران خان آن لائن پیش ہوں گے، سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کا کہا، ابھی تک اجازت نہیں دی گئی، کل بانی پاکستان تحریک انصاف سے ملاقات کے بعد تفصیل سے آگاہ کیا جائے گا، آج ایف آئی اے نوٹس پر مجھے، عمر ایوب اور رؤف حسن کو انکوائری کیلئے طلب کیا گیا تھا، میں ایف آئی اے میں پیش ہوگیا، ایک گھنٹہ ایف آئی اے کے سوالات کے جوابات دیے . رؤف حسن سے بھی تفتیش کی گئی ہے جبکہ عمر ایوب کی جانب سے بذریعہ وکیل تحریری جواب دیا گیا، ایف آئی اے نے دوبارہ بلایا تو آئیں گے،عوام کا مینڈیٹ چوری نہیں ہونا چاہیے، بانی پاکستان تحریک انصاف سے ملاقات کی کوشش کریں گے۔ہم ہمیشہ کہتے ہیں کہ جو پارٹی جیتی ہے اس کو اس کا مینڈیٹ واپس دینا چاہیے اور مخصوص نشستیں بھی ہم اس تناظر میں مانگ رہے ہیں، اور ٹویٹ بھی اسی لیے تھا،

    عمر ایوب نے ایف آئی اے سے حمودالرحمٰن کمیشن رپورٹ کی نقل مانگ لی

    واضح رہے کہ چند روز قبل اڈیالہ جیل میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس کے آفیشل اکاؤنٹ سے سقوط ڈھاکا سے متعلق ایک ویڈیو شیئر کی گئی تھی، اس ویڈیو کے ساتھ کیپشن میں لکھا گیا تھا کہ ’ہر پاکستانی کو حمود الرحمان کمیشن رپورٹ کا مطالعہ کرنا اور یہ جاننا چاہئیے کہ اصل غدار تھا کون جنرل یحیٰ خان یا شیخ مجیب الرحمان‘۔اس ویڈیو اور ٹوئٹ کے بعد وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے سائبر کرائم ونگ نے عمران خان کے خلاف انکوائری کا فیصلہ کیا تھا اور اس ضمن میں عمران خان کو مؤقف لینے کی کوشش کی تھی لیکن بانی پی ٹی آئی نے ایف آئی اے ٹیم سے ملنے سے انکار کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ صرف وکلا کی موجودگی میں اپنا بیان ریکارڈ کرائیں گے۔

    دوسری جانب تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹرگوہر کا کہنا ہےکہ عمران خان کا اپنے اکاؤنٹ سے 1971 سے متعلق پوسٹ ہونے والی ویڈیو سے کوئی تعلق نہیں ہے۔سوشل میڈیا پر دیے گے ایک انٹرویو میں بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ فوج کے موازنے سے متعلق عمران خان کا اپنے ایکس اکاؤنٹ پر پوسٹ ویڈیو سے کوئی تعلق نہیں۔بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ عمران خان نے نہ اس پوسٹ کا مواد دیکھا، نہ باقی چیزیں دیکھیں۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ جو موازنہ کرنا تھا وہ سیاسی تناظر میں تھا، یہ فوج کے بارے میں نہيں تھا۔

    ہم جنس پرستی کلب کے قیام کی درخواست پر ڈاکٹر فرید احمد پراچہ کا ردعمل

    بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    ایبٹ آباد میں "ہم جنس پرستی کلب” کے قیام کے لیے درخواست

  • عمر ایوب نے ایف آئی اے سے حمودالرحمٰن کمیشن رپورٹ کی نقل مانگ لی

    عمر ایوب نے ایف آئی اے سے حمودالرحمٰن کمیشن رپورٹ کی نقل مانگ لی

    بانی چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کے ایکس اکاؤنٹ پر حمود الرحمٰن کمیشن رپورٹ کے مندرجات پر مبنی ویڈیو کے پوسٹ کئے جانے پر ایف آئی اے کے نوٹس کا معاملہ ،مرکزی سیکرٹری جنرل تحریک انصاف اور قائدِ حزبِ اختلاف عمر ایوب خان نے ایف آئی اے سے حمودالرحمٰن کمیشن رپورٹ کی نقل مانگ لی

    ایف آئی اے کے نوٹس کے معاملے کو پارلیمان میں اٹھانے اور عدالت کے روبرو چیلنج کرنے کا بھی اعلان کر دیا،عمر ایوب خان نے ایف آئی اے کو نوٹس کا جواب تحریری طور پر بھجوا دیا ،جواب ممتاز ماہرِ قانون ڈاکٹر بابر اعوان کی وساطت سے بھجوایا گیا ،جواب میں کہا گیا کہ ایف آئی اے نے ہمارے مؤکل عمر ایوب خان کو ایک ہتک آمیز نوٹس بھجوایا جس میں مبہم، مشکوک اور غیرقانونی سوالات پوچھے گئے،نوٹس سقوطِ ڈھاکہ سے جڑے واقعات سے متعلق ہے جس پر حکومتِ پاکستان نے کمیشن قائم کیا، اس کمیشن نے 1972 میں عبوری جبکہ 1974 میں مکمل رپورٹ ریاست کو جمع کروائی جسے نہ تو مسترد کیا گیا نہ ہی اس کے مندرجات کی تردید کی گئی، کمیشن نے اپنی حتمی رپورٹ میں جنرل یحییٰ خان اور ہتھیار ڈالنے والے جنرل امیر عبداللہ خان نیازی کے بیانات بھی قلمبند کئے اور انہیں رپورٹ کا حصہ بنایا، حمود الرحمٰن کمیشن رپورٹ کابینہ ڈویژن میں موجود ہے، ایف آئی اے نہ تو تاریخ دانوں پر مشتمل ایک محکمہ ہے نہ ہی سپریم کورٹ اور 2 ہائیکورٹس سے بالا کوئی ادارہ ہے، ایف آئی اے کے اس نوٹس کا واحد مقصد ملک کے مقبول ترین سیاسی قائد عمران خان اور ان کی جماعت کے سیکرٹری جنرل عمر ایوب کو نشانۂ انتقام بنانا ہے، ایف آئی اے جواب کی تیاری کیلئے حمود الرحمٰن کمیشن رپورٹ کی نقل فراہم کرے، عمر ایوب اپنے خلاف ایف آئی اے کی جانب سے اس نوٹس کے ذریعے کئے جانے والے پراپیگنڈے کا معاملہ پارلیمان میں اٹھانے اور اسے عدالت کے روبرو چیلینج کرنے کا حق بھی استعمال کریں گے،

    واضح رہے کہ چند روز قبل اڈیالہ جیل میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس کے آفیشل اکاؤنٹ سے سقوط ڈھاکا سے متعلق ایک ویڈیو شیئر کی گئی تھی، اس ویڈیو کے ساتھ کیپشن میں لکھا گیا تھا کہ ’ہر پاکستانی کو حمود الرحمان کمیشن رپورٹ کا مطالعہ کرنا اور یہ جاننا چاہئیے کہ اصل غدار تھا کون جنرل یحیٰ خان یا شیخ مجیب الرحمان‘۔اس ویڈیو اور ٹوئٹ کے بعد وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے سائبر کرائم ونگ نے عمران خان کے خلاف انکوائری کا فیصلہ کیا تھا اور اس ضمن میں عمران خان کو مؤقف لینے کی کوشش کی تھی لیکن بانی پی ٹی آئی نے ایف آئی اے ٹیم سے ملنے سے انکار کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ صرف وکلا کی موجودگی میں اپنا بیان ریکارڈ کرائیں گے۔

    دوسری جانب تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹرگوہر کا کہنا ہےکہ عمران خان کا اپنے اکاؤنٹ سے 1971 سے متعلق پوسٹ ہونے والی ویڈیو سے کوئی تعلق نہیں ہے۔سوشل میڈیا پر دیے گے ایک انٹرویو میں بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ فوج کے موازنے سے متعلق عمران خان کا اپنے ایکس اکاؤنٹ پر پوسٹ ویڈیو سے کوئی تعلق نہیں۔بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ عمران خان نے نہ اس پوسٹ کا مواد دیکھا، نہ باقی چیزیں دیکھیں۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ جو موازنہ کرنا تھا وہ سیاسی تناظر میں تھا، یہ فوج کے بارے میں نہيں تھا۔

    ہم جنس پرستی کلب کے قیام کی درخواست پر ڈاکٹر فرید احمد پراچہ کا ردعمل

    بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    ایبٹ آباد میں "ہم جنس پرستی کلب” کے قیام کے لیے درخواست

  • متنازع ٹویٹ، پی ٹی آئی نے ایف آئی اے طلبی نوٹس چیلنج کر دیا

    متنازع ٹویٹ، پی ٹی آئی نے ایف آئی اے طلبی نوٹس چیلنج کر دیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ،پی ٹی آئی کی قیادت نے متنازع ٹویٹ کے حوالے سے کمپلینٹ اور ایف آئی اے کے طلبی کے نوٹسز کو چیلنج کر دیا

    چیئرمین پی ٹی آئی گوہر خان، سیکرٹری اطلاعات روف حسن نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کر دی،درخواست میں کہا گیا کہ بانی پی ٹی آئی کے ٹویٹر اکاؤنٹس سے ہونے والے ٹویٹ کا مقصد پاکستان کیلئے یکجا ہونے کا درس دینا تھا،ٹویٹ کا مقصد ملک کو بحران سے نکالنے کیلئے نیشنل ڈائیلاگ کے اہتمام کی ترغیب دینا تھا، بانی پی ٹی آئی کے ٹویٹر اکاؤنٹ سے ہونے والے ٹویٹ کو سیاسی مخالفین نے توڑ مروڑ کر پیش کیا، سرکاری مشینری حرکت میں آتی ہے، ایف آئی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر کی جانب سے کمپلینٹ فائل کر دی جاتی ہے،کمپلینٹ میں کہا جاتا ہے کہ ٹویٹ سے مسلح افواج کے جوانوں کو بغاوت پر اکسایا گیا ہے،ڈپٹی ڈائریکٹر کی کمپلینٹ ایک کمپلینٹ نہیں، بلکہ ٹرائل کے بغیر فیصلہ معلوم ہوتا ہے، تفتیشی افسر کی جانب سے 31 مئی کو درخواست گزاران کو طلبی کے نوٹس جاری کیے گئے، اس کمپلینٹ اور طلبی کے نوٹسز کا مقصد درخواست گزران کو ہراساں کرنا ہے، عدالت کمپلینٹ اور طلبی کے نوٹسز کو کالعدم قرار دے،درخواست کے زیر سماعت ہونے تک فریقین کو درخواست گزاران کو گرفتار کرنے یا ہراساں کرنے سے روکے، درخواست میں سیکٹری داخلہ، شکایت کنندہ ڈپٹی ڈائریکٹر ایف آئی اے اور تفتیشی افسر کو فریق بنایا گیا ہے

    ایسے گراؤنڈز موجود نہیں جس سے پی ٹی آئی کو بین کیا جائے،بیرسٹر گوہر
    دوسری جانب تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ ہم نے آج سپریم کورٹ میں کہا کہ مخصوص نشستیں سنی اتحاد کونسل کی ہیں،سنی اتحاد کونسل بھی پی ٹی آئی کے کارکنان کی وجہ سے جیتی ہیں،سپریم کورٹ انصاف مہیا کرے گی، عوام کا حق ان کو ملے گا،ہماری 77 مخصوص نشستیں ہیں جو ہمیں ملنی چاہئے،انشاءاللہ ہماری مخصوص نشستیں ہمیں ملیں گی،یہ سیٹیں ہماری بہنوں، اور اقلیتوں کا حق ہیں،ایسے گراؤنڈز موجود نہیں جس سے پی ٹی آئی کو بین کیا جائے،تحریک انصاف محب وطن لوگوں کی جماعت ہے،اللہ کرے پاکستان کے تمام مسائل حل ہوں، جیسے سائفر میں ہوا ویسے ہی باقی کیسز میں بھی فیصلے آئیں گے،انصاف ہوتا ہوا نظر آ رہا ہے اور ہونا بھی چاہیے،بانی پی ٹی آئی کے اکاؤنٹ سے ٹویٹ کرنے کے معاملے کو دیکھ رہے ہیں،

    واضح رہے کہ چند روز قبل اڈیالہ جیل میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس کے آفیشل اکاؤنٹ سے سقوط ڈھاکا سے متعلق ایک ویڈیو شیئر کی گئی تھی، اس ویڈیو کے ساتھ کیپشن میں لکھا گیا تھا کہ ’ہر پاکستانی کو حمود الرحمان کمیشن رپورٹ کا مطالعہ کرنا اور یہ جاننا چاہئیے کہ اصل غدار تھا کون جنرل یحیٰ خان یا شیخ مجیب الرحمان‘۔اس ویڈیو اور ٹوئٹ کے بعد وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے سائبر کرائم ونگ نے عمران خان کے خلاف انکوائری کا فیصلہ کیا تھا اور اس ضمن میں عمران خان کو مؤقف لینے کی کوشش کی تھی لیکن بانی پی ٹی آئی نے ایف آئی اے ٹیم سے ملنے سے انکار کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ صرف وکلا کی موجودگی میں اپنا بیان ریکارڈ کرائیں گے۔

    دوسری جانب تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹرگوہر کا کہنا ہےکہ عمران خان کا اپنے اکاؤنٹ سے 1971 سے متعلق پوسٹ ہونے والی ویڈیو سے کوئی تعلق نہیں ہے۔سوشل میڈیا پر دیے گے ایک انٹرویو میں بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ فوج کے موازنے سے متعلق عمران خان کا اپنے ایکس اکاؤنٹ پر پوسٹ ویڈیو سے کوئی تعلق نہیں۔بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ عمران خان نے نہ اس پوسٹ کا مواد دیکھا، نہ باقی چیزیں دیکھیں۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ جو موازنہ کرنا تھا وہ سیاسی تناظر میں تھا، یہ فوج کے بارے میں نہيں تھا۔

    ہم جنس پرستی کلب کے قیام کی درخواست پر ڈاکٹر فرید احمد پراچہ کا ردعمل

    بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    ایبٹ آباد میں "ہم جنس پرستی کلب” کے قیام کے لیے درخواست