Baaghi TV

Tag: تحریک انصاف

  • سنی اتحادکونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق اپیل پر سماعت 24 جون تک ملتوی

    سنی اتحادکونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق اپیل پر سماعت 24 جون تک ملتوی

    سپریم کورٹ،سنی اتحادکونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق اپیل پر براہ راست سماعت ہوئی
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے فل کورٹ بینچ نے مخصوص نشستوں سےمتعلق کیس کی سماعت کی، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ سیاسی اور پارلیمانی پارٹی کے درمیان تفریق ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا آئین سیاسی اور پارلیمانی پارٹی کے درمیان تفریق کو تسلیم کرتا ہے؟ وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ آرٹیکل 17اور63اے میں سیاسی اور پارلیمانی پارٹی کاذکر ہے،سلمان اکرم راجہ نے اس حوالے سے درخواست دی تھی جو منظور نہیں ہوئی . چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ سیاسی اور پارلیمانی جماعت کے لیے آئین میں کیاتشریح ہے؟آپ 8 فروری سے پہلے کیا تھے؟ وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ 8فروری سے پہلے ہم سیاسی جماعت تھے،آزاد امیدواروں کی شمولیت کے بعد ہم پارلیمانی جماعت بن گئے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کل سنی اتحاد کونسل اور پی ٹی آئی ایک دوسرے کیخلاف کھڑے ہو سکتے ہیں،وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ اس کا عدالت کے سامنے موجود معاملے سے تعلق نہیں،سیاسی جماعت اور پارلیمانی پارٹی کے درمیان ایک تفریق ہے،

    آپ کو اپنے سربراہ کا نام ہی نہیں معلوم، آپ درخواستگزار ہیں، پارلیمنٹری سربراہ کا کوئی الیکشن ہوتاہے؟چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا آئین اس تفریق کو تسلیم کرتا ہے؟ وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ جی 63 اے آرٹیکل موجود ہے، سنی اتحاد کونسل دونوں سیاسی اور پارلیمنٹری پارٹی ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وکیل سے استفسار کیا کہ آپ کا پارلیمنٹری سربراہ کون ہے؟ وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ میں سربراہ کے حوالے سے ابھی بتا دیتاہوں لیکن عدالت میں یہ بات اہم نہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کو اپنے سربراہ کا نام ہی نہیں معلوم، آپ درخواستگزار ہیں، پارلیمنٹری سربراہ کا کوئی الیکشن ہوتاہے؟ معلوم کیسے ہوتا پارلیمنٹری سربراہ کون ہے؟ وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ پارلیمنٹری سربراہ کا مقدمہ سے تعلق نہیں اس لیے اس حوالے سے تیاری نہیں کی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ میں نے آپ کے سوالات سے پولیٹیکل لفظ ہذف کردیا ہے،

    الیکشن کمیشن کے رولز کیسے پی ٹی آئی امیدواروں کو آزاد قرار دے سکتے ہیں؟جسٹس منیب اختر
    جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ کیا ایسا ممکن ہے کہ سیاسی جماعت ہونے کے بغیر پارلیمانی پارٹی ہو؟ جو بھی پارٹی اسمبلی میں ہوگی تو پارلیمانی پارٹی ہوگی، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ پارلیمان میں فیصلے پارلیمانی پارٹی کرتی ہے اسکے فیصلے ماننے کے سب پابند ہوتے ہیں،پارلیمانی پارٹی قانونی طور پر پارٹی سربراہ کی بات ماننے کی پابند نہیں ہوتی، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ آرٹیکل 51 میں سیاسی جماعت کا ذکر ہے پارلیمانی پارٹی کا نہیں، آرٹیکل 51 اور مخصوص نشستیں حلف اٹھانے سے پہلے کا معاملہ ہے،ارکان حلف لیں گے تو پارلیمانی پارٹی وجود میں آئے گی، پارلیمانی پارٹی کا ذکر اس موقع پر کرنا غیرمتعلقہ ہے، مناسب ہوگا کہ سیاسی جماعت اور کیس پر ہی فوکس کریں، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آزاد امیدوار وہ ہوتا ہے جو کسی سیاسی جماعت سے وابستہ نہ ہو، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ کاغذات نامزدگی میں کوئی خود کو پارٹی امیدوار ظاہر کرے اور ٹکٹ جمع کرائے تو جماعت کا امیدوار تصور ہوگا، آزاد امیدوار وہی ہوگا جو بیان حلفی دے گا کہ کسی سیاسی جماعت سے تعلق نہیں، سنی اتحاد میں شامل ہونے والوں نے خود کو کاغذات نامزدگی میں پی ٹی آئی امیدوار ظاہر کیا، کاغذات بطور پی ٹی آئی امیدوار منظور ہوئے اور لوگ منتخب ہوگئے، الیکشن کمیشن کے رولز کیسے پی ٹی آئی امیدواروں کو آزاد قرار دے سکتے ہیں؟ انتخابی نشان ایک ہو یا نہ ہو وہ الگ بحث ہے لیکن امیدوار پارٹی کے ہی تصور ہونگے، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کل سے میں یہی سمجھانے کی کوشش کر رہا ہوں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اس حساب سے تو سنی اتحاد میں پی ٹی آئی کے کامیاب لوگ شامل ہوئے،پارٹی میں تو صرف آزاد امیدوار ہی شامل ہو سکتے ہیں، جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے کس بنیاد پر امیدواروں کو آزاد قرار دیا تھا؟الیکشن کمیشن نے امیدواروں کو خود آزاد تسلیم کرتے ہوئے الیکشن لڑنے کی اجازت دی، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ سیاسی جماعت کو انتخابی نشان سے محروم کرنا اس سارے تنازع کی وجہ بنا، سپریم کورٹ نے انتخابی نشان واپس لینے کا فیصلہ برقرار رکھا تھا، انتخابی نشان کا مسئلہ خود الیکشن کمیشن کا اپنا کھڑا کیا ہوا تھا،الیکشن کمیشن نے امیدواروں کو آزاد قرار دیکر اپنے کھڑے کیے گئے مسئلے کا حل نکالا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ انٹرا پارٹی انتخابات نہ ہونے پر سیاسی جماعت کو نشان نہیں ملا،کیا کسی امیدوار نے بلے کے نشان کیلئے رجوع کیا تھا؟ وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو درخواست دی گئی مسترد ہونے پر آرڈر چیلنج بھی کیا گیا، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ انتخابی نشان صرف سیاسی جماعت کی سہولت کیلئے ہے، انتخابی نشان کے بغیر بھی سیاسی جماعت بطور پارٹی الیکشن لڑ سکتی ہے،

    جو انتخابی نشان سیاسی جماعت کیلئے مختص ہو وہ کسی اور امیدوار کو نہیں مل سکتا، جسٹس عائشہ ملک
    جسٹس منیب اختر نے کہا کہ انتخابی نشان کی الاٹمنٹ سے پہلے سپریم کورٹ کا فیصلہ آیا تھا، قانونی غلطیوں کی پوری سیریز ہے جس کا آغاز یہاں سے ہوا تھا، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ سلمان اکرم راجہ نے خود کو پی ٹی آئی امیدوار قرار دینے کیلئے رجوع کیا تھا، الیکشن کمیشن نے سلمان اکرم راجہ کی درخواست مسترد کر دی تھی، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ ہر امیدوار اگر بیلٹ پیپر پر پی ٹی آئی امیدوار ہوتا تو یہ سپریم کورٹ فیصلے کی خلاف ورزی ہوتی، جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ جو انتخابی نشان سیاسی جماعت کیلئے مختص ہو وہ کسی اور امیدوار کو نہیں مل سکتا، جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ بلے باز بھی کسی سیاسی جماعت کا نشان تھا جو پی ٹی آئی لینا چاہتی تھی،بلے باز والی جماعت کیساتھ کیا ہوا تھا؟ وکیل نے کہا کہ بلے باز والی جماعت کیساتھ انضمام ختم کر دیا تھا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا سپریم کورٹ فیصلے میں لکھا ہے کہ بلے کا نشان کسی اور کو الاٹ نہیں ہوسکتا؟ وکیل نے کہا کہ عدالتی فیصلے میں ایسا کچھ نہیں لکھا، چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کا بہت شکریہ، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ کیا سپریم کورٹ کو ایسا کہنے کی ضرورت تھی؟ وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ سپریم کورٹ کو کہنے کی ضرورت نہیں تھی کیونکہ نشان کسی اور کو نہیں مل سکتا، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ سپریم کورٹ میں کیس انتخابی نشان کا نہیں انٹرا پارٹی انتخابات کا تھا، عدالت نے مخصوص نشستوں کے معاملے پر کہا تھا کوئی ایشو ہوا تو رجوع کر سکتے ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ بہت مضبوط توجیہات ہیش کی جا رہی ہیں، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کیا سپریم کورٹ فیصلے کے بعد بلے کے نشان کو ختم کیا گیا تھا یا نہیں، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ جسٹس منیب کے مطابق بلے کے نشان ختم ہونے کے باجود امیدواروں نے پی ٹی آئی امیدواروں کے طور پر الیکشن لڑا، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ سر یہ ہی ہم کرنا چاہتے تھے لیکن الیکشن کمیشن نے ختم کردیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم کرنا چاہتے تھے کیا مطلب، ؟ وکیل نے کہا کہ میں سنی اتحاد کونسل کے ہر ممبر کی نمائندگی کر رہا ہوں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کل اختلاف آسکتا ہے وہ کہیں ہمارے ممبرز ہیں یہ کہیں ہمارے،

    وکیل فیصل صدیقی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سنی اتحادکونسل نے شیڈول کے مطابق مخصوص نشستوں کی لسٹ دی، الیکشن کمیشن نے درخواست مستردکرتے ہوئےکہا سنی اتحاد کونسل نےانتخابات میں حصہ نہیں لیا۔ اس میں کوئی تنازع نہیں کہ سنی اتحاد کونسل نے انتخابات نہیں لڑے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ تنازع کی بات کیوں کررہے ہیں، بس کہیں الیکشن نہیں لڑا،جو امیدوار ہمارےسامنے نہیں جن کی آپ نمائندگی کررہے ہیں وہ تو سب تحریک انصاف کے ہیں، تحریک انصاف کے امیدوار تو آپ کو چھوڑ رہے ہیں، آپ کی پارٹی میں نہیں آرہے، تحریک انصاف کے امیدوارتوپھرآزاد نہ ہوئے۔

    ہم نے تو نہیں کہا تھا انٹراپارٹی الیکشن نہ کرائیں، انٹرا پارٹی الیکشن کروا لیتے سارے مسئلے حل ہو جاتے،چیف جسٹس
    جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ تحریک انصاف کے امیدوار انتخابی نشان پر الیکشن نہیں لڑسکتے تھے، الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کے امیدواروں کوکس بنیاد پرانتخابی نشان دیا، الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کو انتخابی نشان دیا اور بطور آزاد امیدوار شناخت دی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم نے تو نہیں کہا تھا انٹراپارٹی الیکشن نہ کرائیں، انٹرا پارٹی الیکشن کروا لیتے سارے مسئلے حل ہو جاتے،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ اصل اسٹیک ہولڈر ووٹر ہے جو ہمارے سامنے نہیں، پی ٹی آئی مسلسل شکایت کر رہی تھی لیول پلئنگ فیلڈ نہیں مل رہی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ وہ شکایت ہمارے سامنے نہیں، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ ہم بنیادی حقوق کے محافظ ہیں، ہمیں دیکھنا ہے ووٹرز کے حقوق کا تحفظ کیسے ہو سکتا تھا، ایک جماعت مسلسل شفاف موقع نہ ملنے کا کہہ رہی تھی اور یہ پہلی بار نہیں تھا،

    دلائل آگے بڑھائیں ورنہ آپس میں ہی تنقید ہوتی رہے گی، جسٹس محمد علی مظہر
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا ایوان کو نشستوں کی مقرر کردہ تعداد سے کم رکھا جا سکتا ہے؟ وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ ایوان کی مختص تمام نشستیں پوری ہونا لازمی ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا کہ
    متناسب نمائندگی کے نام پر ڈراماٹائز کرنے کی ضرورت نہیں،مخصوص نشستوں پر تو پارٹی سربراہ کی صوابدید ہے چاہے دوستوں کو نواز دے،مخصوص نشستوں میں ووٹرز کا کوئی کردار نہیں ہوتا یہ پارٹی سربراہ مقرر کرتا ہے، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ قانون کے مطابق لسٹ سیاسی جماعت نے دینی ہوتی سربراہ نے نہیں، جسٹس جمال مندوخیل نے آرٹیکل 63 اے کی تشریح کا حوالہ دیا اور کہا کہ بظاہر پی ٹی آئی امیدواروں نے پارٹی تبدیل کی، پارٹی تبدیل کرنے پر آرٹیکل 63 اے والا فیصلہ موجود ہے، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ آرٹیکل 63 اے کا فیصلہ پارلیمانی پارٹی سے متعلق ہے، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ دلائل آگے بڑھائیں ورنہ آپس میں ہی تنقید ہوتی رہے گی،

    عدالتی فیصلہ آپ کو پسند ہے یا نہیں وہ الگ بات ہے، سپریم کورٹ آئین کی محافظ ہے،چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پارٹی انتخابات ہوتے تو فائدہ پی ٹی آئی کے لوگوں کا ہوتا،جمہوریت کی بات کرنی ہے تو پوری جمہوریت کی بات کریں، عوام کو جماعت میں شامل کرتے ہیں تو ارکان کا حق ہے کہ وہ الیکشن لڑیں،عدالتی فیصلہ آپ کو پسند ہے یا نہیں وہ الگ بات ہے، سپریم کورٹ آئین کی محافظ ہے،آپ نے اس بات کو چھیڑا ہے تو پوری بات کریں، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ اس کیس پر نظرثانی زیرالتواء ہے کیا سب کچھ یہاں ہی کہنا ہے؟ جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ ہم سب سچ بولنا شروع کریں تو سچ بہت کڑوا ہے، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ سیاسی جماعت کو مخصوص نشستیں حاصل کی گئی سیٹوں پر ملتی ہیں ووٹوں پر نہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا پارٹی میں شمولیت کیلئے جماعت کا اسمبلی میں ہونا لازمی نہیں؟ فیصل صدیقی نے کہا کہ مخصوص نشستیں اسمبلی میں حاصل کی گئی سیٹوں پر الاٹ ہوتی ہیں، قانون میں نشستیں حاصل کرنے کا ذکر ہے جیتنے کا نہیں، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ایوان میں زیادہ آزاد امیدوار ہوں اور دو سیاسی جماعتیں ہوں تو کیا ہو گا؟ کیا ساری مخصوص نشستیں دو سیاسی جماعتوں کو جائیں گی؟ یاان جماعتوں کو صرف اپنی جیتی ہوئی نشستوں کے تناسب سے مخصوص نشستیں ملیں گی؟پہلے اس تنازعے کو حل کریں اس کا کیا جواب ہے؟ جسٹس منیب اختر نے کہا کہ حقیقی آزاد امیدوار ہوں تو ان کے تو مزے ہو جائیں گے، حقیقی آزاد امیدواروں کو تو دیگر سیاسی جماعتیں لے لیتی ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اگر یہ 77 لوگ سنی اتحاد کونسل میں شامل نہ ہوتے پھر مخصوص نشستوں کا کیا ہوتا؟

    کیس کی سماعت 24جون کو ساڑھے 9 بجے تک ملتوی کر دی گئی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ 24اور 25کو پورے دو دن کیس کی سماعت کرینگے، ان دو دنوں میں کوئی اور کیسز نہ لگائے جائیں،

    سپریم کورٹ، سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہ ملنے کیخلاف کیس کی سماعت ملتوی

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    حریم شاہ مبشر لقمان کے جہاز تک کیسے پہنچی؟ حقائق مبشر لقمان سامنے لے آئے

    حریم شاہ کے خلاف کھرا سچ کی تحقیقات میں کس کا نام بار بار سامنے آیا؟ مبشر لقمان کو فیاض الحسن چوہان نے اپروچ کر کے کیا کہا؟

    حریم شاہ..اب میرا ٹائم شروع،کروں گا سب سازشیوں کو بے نقاب، مبشر لقمان نے کیا دبنگ اعلان

    میں آپکی بیویوں کے کرتوت بتاؤں گی، حریم شاہ کی دو سیاستدانوں کو وارننگ

    حریم شاہ کے ہاتھ میں شراب کی بوتلیں اور….ویڈیو وائرل

  • عدالت کا پی ٹی آئی سیکرٹریٹ ڈی سیل کرنے کا حکم

    عدالت کا پی ٹی آئی سیکرٹریٹ ڈی سیل کرنے کا حکم

    اسلام آباد، عدالت نے تحریک انصاف کے سیکرٹریٹ کو ڈی سیل کرنے کا حکم دے دیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا، اسلام آباد ہائیکورٹ کی جسٹس ثمن رفعت امتیازنے گزشتہ روز کیس کی سماعت کے بعد فیصلہ محفوظ کیا تھا جو اب سنا دیا گیا ہے،عدالت نے فیصلے میں کہا کہ "سی ڈی اے نے 2022 اور 2023 میں سابقہ مالک کو نوٹس اور پھر شوکاز جاری کیا تھا، سی ڈی اے وضاحت پیش نہیں کر سکا کہ نوٹس پرانے مالک کو کیوں بھیجے جاتے رہے،سب سے اہم یہ ہے کہ نوٹس یا شوکاز کی سروس کی کوئی رسید ریکارڈ پر نہیں، سی ڈی اے نے پی ٹی آئی کا مرکزی سیکریٹریٹ سیل کرنے کا آرڈر سے پہلے کوئی نوٹس جاری نہیں کیا،سی ڈی اے کا دفتر سیل کرنے کا آرڈر بھی تحریک انصاف کو نہیں لکھا گیا، نہ کاپی بھیجی گئی”۔

    عدالت نے اپنے فیصلے میں حکم دیا کہ عدالت پی ٹی آئی کا سیکریٹریٹ فوری ڈی سیل کرنے کا حکم دیتی ہے یہ وضاحت کی جاتی ہے کہ سی ڈی اے قانون کی خلاف ورزی پر قانون کے مطابق کارروائی کر سکتا ہے

    گزشتہ روز کیس کی سماعت ہوئی تھی تو تحریک انصاف کے رہنماعمر ایوب کی جانب سے وکلا شعیب شاہین اور عمیر بلوچ عدالت میں پیش ہوئے ،سی ڈی اےکے وکیل حافظ عرفات اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اسٹیٹ کونسل نے دلائل دیئے،دوران سماعت تحریک انصاف کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سی ڈی اے نے اپنے ریکارڈ میں نوٹسز لگائے مگر موجودہ نوٹس کاذکر نہیں، سی ڈی اے نے فراڈکیا، اگر دیکھا جائے تو 2 نوٹسز کا ایک ہی نمبر ہے اور جو نوٹسز بھیجے گئے وہ پی ٹی آئی کو نہیں بلکہ سرتاج علی کوبھیجےگئے ہیں۔ شعیب شاہین نے کہا کہ میڈیا میں بیان دیاگیا کہ ہم سرتاج علی سے زمین واگزار کرارہے ہیں، آپریشن کے وقت میڈیاکویہ بھی بتایاکہ تحریک انصاف کو ہم نےنوٹس ہی نہیں کیا۔

    واضح رہے کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں تحریک انصاف کے مرکزی سیکرٹریٹ پر سی ڈی اے نے انسداد تجاوزات آپریشن کرتے ہوئے سیکرٹریٹ کا ایک حصہ گرا دیا اور دفتر سیل کردیا،آپریشن سے قبل پولیس نے پی ٹی آئی سیکرٹریٹ جانے والے راستوں کو بند کر دیا تھا، سی ڈی اے نے تحریک انصاف کے دفتر کو سیل کرنے کا حکم نامہ بھی چسپاں کردیا،سی ڈی اے کا مؤقف ہےکہ اسلام آباد کے سیکٹر جی ایٹ فور میں واقع پلاٹ سرتاج علی نامی شخص کو الاٹ ہے، آپریشن بلڈنگ قوانین کی خلاف ورزی، غیر قانونی تعمیرات اور تجاوزات کے خاتمے کیلئےکیا گیا،

    بلوچستان انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن ،میجر بابر خان شہید ، 3 دہشت گرد جہنم واصل

    خیبرپختونخوا، سیکورٹی فورسز کی کاروائی، 11 دہشتگرد جہنم واصل

    کراچی ،غیر ملکیوں کی گاڑی پر خود کش حملہ،دو جاں بحق،حملہ آور ساتھی سمیت جہنم واصل

    بونیر،سیکورٹی فورسز کا آپریشن،دہشتگردوں کا سرغنہ جہنم واصل،دو جوان شہید

    ڈی آئی خان، سیکورٹی فورسز کا آپریشن، 8 دہشتگرد جہنم واصل

    ڈی آئی خان ،دھماکے میں دو جوان شہید،پنجگور،ایک دہشتگرد جہنم واصل

    شمالی وزیرستان، دہشتگردوں کیخلاف آپریشن،کمانڈر سمیت 8 جہنم واصل

    شمالی وزیرستان ، چوکی پر حملہ، لیفٹیننٹ کرنل اور کیپٹن سمیت 7 جوان شہید

  • پی ٹی آئی سیکرٹریٹ سیل کرنے کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ

    پی ٹی آئی سیکرٹریٹ سیل کرنے کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ

    اسلام آباد ہائیکورٹ، تحریک انصاف کا مرکزی سیکرٹریٹ سیل کرنے اور سی ڈی اے کے آپریشن کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا گیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ کی جسٹس ثمن رفعت امتیاز نے درخواست پر سماعت کی،تحریک انصاف کے رہنماعمر ایوب کی جانب سے وکلا شعیب شاہین اور عمیر بلوچ عدالت میں پیش ہوئے ،سی ڈی اےکے وکیل حافظ عرفات اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اسٹیٹ کونسل نے دلائل دیئے،دوران سماعت تحریک انصاف کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سی ڈی اے نے اپنے ریکارڈ میں نوٹسز لگائے مگر موجودہ نوٹس کاذکر نہیں، سی ڈی اے نے فراڈکیا، اگر دیکھا جائے تو 2 نوٹسز کا ایک ہی نمبر ہے اور جو نوٹسز بھیجے گئے وہ پی ٹی آئی کو نہیں بلکہ سرتاج علی کوبھیجےگئے ہیں۔ شعیب شاہین نے کہا کہ میڈیا میں بیان دیاگیا کہ ہم سرتاج علی سے زمین واگزار کرارہے ہیں، آپریشن کے وقت میڈیاکویہ بھی بتایاکہ تحریک انصاف کو ہم نےنوٹس ہی نہیں کیا۔

    سی ڈی اے وکیل نے عدالت میں کہا کہ انہوں نے خود مانا انہوں نےکمرشل پلاٹ خریدا اور اس کا استعمال ہی تبدیل کردیا،کمرشل پلاٹ کو پارٹی کے لیے استعمال کیاگیا جس سے وہاں کے لوگ متاثر ہورہے ہیں، جتنی اجازت دی گئی انہوں نےاس کے اوپرمزید تعمیرات کیں، عدالت نے سی ڈی اے وکیل سے استفسار کیا کہ کون سےنوٹس میں کہا ہےکہ اس پلاٹ کو کسی اور مقصد کے لیے استعمال نہیں کیاجاسکتا ؟ اگر کسی نے پلاٹ کرائے پر دیا ہوا ہو تو نوٹس کس کو جائےگا؟ہم نےکئی کیسز دیکھے جن میں سی ڈی اے والےکبھی ایک کو نوٹس کرتے ہیں کبھی دوسرے کو، آپ ایسے معاملات پرمالک اور کرایہ دارکو نوٹسزکیوں نہیں کرتے تاکہ معاملہ ایک ہی بارمیں ختم ہو۔ عدالت نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔

    واضح رہے کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں تحریک انصاف کے مرکزی سیکرٹریٹ پر سی ڈی اے نے انسداد تجاوزات آپریشن کرتے ہوئے سیکرٹریٹ کا ایک حصہ گرا دیا اور دفتر سیل کردیا،آپریشن سے قبل پولیس نے پی ٹی آئی سیکرٹریٹ جانے والے راستوں کو بند کر دیا تھا، سی ڈی اے نے تحریک انصاف کے دفتر کو سیل کرنے کا حکم نامہ بھی چسپاں کردیا،سی ڈی اے کا مؤقف ہےکہ اسلام آباد کے سیکٹر جی ایٹ فور میں واقع پلاٹ سرتاج علی نامی شخص کو الاٹ ہے، آپریشن بلڈنگ قوانین کی خلاف ورزی، غیر قانونی تعمیرات اور تجاوزات کے خاتمے کیلئےکیا گیا،

    بلوچستان انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن ،میجر بابر خان شہید ، 3 دہشت گرد جہنم واصل

    خیبرپختونخوا، سیکورٹی فورسز کی کاروائی، 11 دہشتگرد جہنم واصل

    کراچی ،غیر ملکیوں کی گاڑی پر خود کش حملہ،دو جاں بحق،حملہ آور ساتھی سمیت جہنم واصل

    بونیر،سیکورٹی فورسز کا آپریشن،دہشتگردوں کا سرغنہ جہنم واصل،دو جوان شہید

    ڈی آئی خان، سیکورٹی فورسز کا آپریشن، 8 دہشتگرد جہنم واصل

    ڈی آئی خان ،دھماکے میں دو جوان شہید،پنجگور،ایک دہشتگرد جہنم واصل

    شمالی وزیرستان، دہشتگردوں کیخلاف آپریشن،کمانڈر سمیت 8 جہنم واصل

    شمالی وزیرستان ، چوکی پر حملہ، لیفٹیننٹ کرنل اور کیپٹن سمیت 7 جوان شہید

  • سابق گورنر سندھ کی محمود مولوی سے ملاقات

    سابق گورنر سندھ کی محمود مولوی سے ملاقات

    سابق گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد سیاسی طور پر متحرک ہو چکے ہیں

    تحریک انصاف کے رہنما شیر افضل مروت کے بعدعشرت العباد کی استحکام پاکستا ن پارٹی سندھ کے صدر محمود مولوی سے ملاقات ہوئی ہے، دونوں رہنماؤں کے مابین ملاقات دبئی میں ہوئی، ملاقات میں ملکی، سیاسی و معاشی صورت حال اور کراچی میں امن و امان سمیت باہمی دلچسپی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا،ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے شہر قائد کراچی میں بڑھتی ہوئی ڈکیتی کی وارداتوں اور نوجوانوں کے قتل عام پر تشویش کا اظہار کیا اور ملک کو مشکلات سے نکالنے کے لیے مل کر چلنے اور مستقبل میں رابطے بڑھانے پر اتفاق کیا۔

    اس موقع پر سابق گورنر سندھ عشرت العباد کا کہنا تھا کہ تمام اسٹیک ہولڈرز کو ملک کی خاطر ایک پیج پر آکر کام کرنا ہو گا۔محمود مولوی کا کہنا تھا کہ” ملک کو درپیش بحرانوں سے نکالنے اور سیاسی و معاشی استحکام کے لیے سنجیدہ اور معتبر شخصیات کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا،ڈاکٹر عشرت العباد کا ملکی عملی سیاست میں کردار ادا کرنے کے فیصلے کا خیرمقدم کرتا ہوں”.

    واضح رہے کہ سابق گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد متحرک ہو گئے ہیں، انہوں نے پاکستان آکر سیاست میں دوبارہ فعال ہونے کا فیصلہ کر لیا ہے

    سفاک شوہر نے حاملہ بیوی اور کمسن بیٹی کو جان سے مار دیا

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    چلڈرن ہسپتال کا کوکلیئر امپلانٹ کے تمام اخراجات برداشت کرنے کافیصلہ،ڈاکٹر جاوید اکرم

    سوتیلے باپ نے لڑکی کے ساتھ کی زیادتی، ماں‌نے جرم چھپانے کیلیے کیا تشدد

    کم عمر لڑکیوں کے ساتھ زیادتی کے شوقین جعلی عامل کو عدالت نے سنائی سزا

    کاروبار کے لئے پیسے نہ لانے پر بہو کو کیا گیا قتل

  • اڈیالہ جیل میں ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر دیسی مرغ کھانے سے انقلاب نہیں آتے،عظمیٰ بخاری

    اڈیالہ جیل میں ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر دیسی مرغ کھانے سے انقلاب نہیں آتے،عظمیٰ بخاری

    وزیراطلاعات و ثقافت پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف سازش کے پیچھے بانی پی ٹی آئی کا ہاتھ ہوتا ہے۔اڈیالہ جیل میں ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر دیسی مرغ کھانے سے انقلاب نہیں آتے اپنے بچوں کو لندن سے بلاﺅ۔عدلیہ میں فیورٹ ازم موجود ہے جس سے عدلیہ بری طرح متاثر ہوئی ہے۔عمران خان دوبارہ گود میں بیٹھنا اور این آر او چاہتے ہیں۔پاکستان کو توڑنے میں بھارت کا کردار کسی سے ڈھکا چھپا نہیں آج پاکستان میں بیٹھ کر پھر ملک دو لخت کرنے کی بات کی جا رہی ہے۔پراسکیویشن کو جو کالے بھونڈ کاٹتے ہیں اس کا علاج کررہے ہیں۔عمران خان بزدل نہ بنیں دلیر بنیں ،شیخ مجیب کی جو متنازعہ ویڈیو شیئر کی اسکا اعتراف کریں۔مریم نواز کی ترجیح عام آدمی ہے اور مہنگائی کا خاتمہ ہے۔

    ان خیالات کا اظہار انہوں نے ڈی جی پی آر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر پی ایس سیف اعوان بھی ہمراہ تھے۔عظمیٰ بخاری نے مزید کہامسلم لیگ (ن) کی حکومت وفاق میں ہے اور پنجاب میں دونوں جگہ قیمتوں میں نمایاں کمی ہورہی ہے۔پیٹرول،ایل پی جی ہوں یا روٹی،آٹا،ڈبل روٹی سمیت سبزیوں کی قیمتوں میں بڑے کمی ہوئی ہے۔وزیر اعظم پاکستان بیرونی سرمایہ کاری لانے کی کوشش کررہے ہیں۔وزیراعلی پنجاب دن رات عوام کےلئے کام کررہی ہیں ۔ون ڈش، صاف ستھرا پنجاب سے لے کر دیگر کاموں کیلئے ڈپٹی کمشنر کو ٹاسک دیدیا گیا ہے اب پوسٹنگ کا فارمولہ کام ہے۔ڈپٹی کمشنرز کی کام کی بنیاد پر اے سی آرز بنیں گی بہتری کی بنیاد پر ہی ترقی ملے گی۔فتنہ فساد پارٹی جس کاکام دہشت گردی ہے جسے جب پیٹرول ، کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتیں کم ہونے پر سوگ ہو جاتا ہے۔ملک کی فوج ہو یا چیف جسٹس انکے خلاف ڈیجیٹل دہشت گردی کی جاتی ہے۔دل دکھتا ہے جب اکہتر کو ملک دو لخت ہوا تو اس پر سیاست چمکانے کی کوشش کی جاتی ہے۔حمود الرحمٰن کمیشن اب نہیں اکہتر میں آئی جب بانی پی ٹی آئی کندھوں پر بیٹھ کر آئے تو اس وقت حمود الرحمن کمیشن کا ذکر نہیں کیا۔اب حمود الرحمن کمیشن لاکر نئی نسل کے ذہن میں فوج کے خلاف نفرت بھرنی ہے اور اپنی مرضی کی کہانی دماغ میں ڈالنا ہے۔اب کمیشن بنے کہ بانی پی ٹی آئی اب حمود الرحمٰن کمیشن جیسے کام کیوں کررہا ہے۔تم لوگوں کے بچوں کو ماریں پڑوانے کےلیے تو بلاتے ہو اپنے بچے باہر ہیں۔انقلاب اتنا ہی ہے کہ عمران خان کو گود میں بٹھاکر این آر او دیدیا جائے،

    اب ایک اور نو مئی جیسا پلان ان کے ذہن میں ہے،عظمیٰ بخاری کا دعویٰ
    عظمی بخاری کا مزید کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کی متشدد سوچ سے ملک کو نقصان ہو رہا ہے اب ایک اور نو مئی جیسا پلان ان کے ذہن میں ہے۔رﺅف حسن نے خود پاکستان کے ٹکڑے کی بات کی ہے بلوچستان اور کے پی تو پی ٹی آئی کے پاس ہونے کی بات کی پنجاب اور سندھ حکومت کے پاس کی بات کی۔زین قریشی نے بھانڈا پھوڑ دیا ہر کام بانی پی ٹی آئی کی مرضی سے ہوتا ہے انہوں نے خود سوشل میڈیا ٹیم کو شاباش دی ہے۔نعیم پنجوتھہ اور زرتاج عزیز پاکستان کو دو ٹکڑے کرنے کی ٹوئٹ کررہے ہیں۔پاکستان کو توڑنے میں بھارت کا کردار کسی سے ڈھکا چھپا نہیں آج پاکستان میں بیٹھ کر پھر ملک دو لخت کرنے کی بات کی جا رہی ہے۔حمود الرحمٰن رپورٹ تو نوجوان نسل کو پڑھا دی ہے تو پھر ایک سو نوے ملین پاﺅنڈ کرپشن ،توشہ خانہ رپورٹ بھی پڑھا دیں۔ورلڈ کپ میں بانی پی ٹی آئی نہیں باقی ٹیم اور قوم کی دعائیں بھی تھیں لیکن آپ کبھی پاکستان کو سری لنکا بنانے تو کبھی ایٹمی پروگرام رول بیک کی بات کرتے ہیں۔قوم کے والدین کو ہاتھ جوڑ کر کہتی ہوں اس شخص کی انتشار والی سیاست سے بچوں کو ہٹائیں۔جب ریاست کام کرنے لگ جاتی ہے تو اسے بھونڈ لڑنے لگ جاتے ہیں۔آئی جی پنجاب نے نو مئی میں پولیس والوں کے سر پھڈوائے ہیں۔زرتاج گل عینک لگاکر خراماں خراماں عدالت میں پیش ہوئی لگتا تھا وہ کیٹ واک کررہی ہیں۔ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر مٹن پکوانے والے لیڈر کی طرح ہمارے لیڈر کو ریلیف نہیں ملتا رہا۔ہمارے اوپر کیسز پر تو عبوری ضمانت پر ڈیڑھ سال کے بعد بنچ ٹوٹ جایا کرتے تھے۔عدلیہ میں فیورٹ ازم موجود ہے جس سے عدلیہ بری طرح متاثر ہوئی ہے، ۔طالبان بانی پی ٹی آئی سے اخلاقیات سے زیادہ بھرے لوگ ہیں کم از کم جو کہتے ہیں اس پر قائم رہتے ہیں۔

    والدین نوجوانوں کو تمباکو کے مضر اثرات سے بچانے کیلئے اقدامات کریں:مریم نواز

    وزارت تعلیم پنجاب اور کرومیٹک کے زیر اہتمام تمباکونوشی کیخلاف خصوصی تقریب

    پاکستان میں سگریٹ انڈسٹری نے تباہی مچا دی، قومی خزانے کو اربوں کا نقصان

    تمباکو پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی شرح میں 30 فیصد اضافہ کیا جائے، ملک عمران

    حکومت بچوں کو سگریٹ نوشی سے بچانے کیلئے ٹھوس اقدامات کرے، شارق خان

    تمباکو جیسی مصنوعات صحت کی خرابی اور پیداواری نقصان کا سبب بنتی ہیں

    تمباکو سے پاک پاکستان…اک امید

    تمباکو سے پاک پاکستان، آئیے،سگریٹ نوشی ترک کریں

    تمباکو نشہ نہیں موت کی گولی، بس میں ہوتا تو پابندی لگا دیتا، مرتضیٰ سولنگی

    ماہرین صحت اور سماجی کارکنوں کا ماڈرن تمباکو مصنوعات پر پابندی کا مطالبہ

    تمباکو نوشی کے خلاف مہم کا دائرہ وسیع کریں گے،شارق خان

  • ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا کی چیف جسٹس  پر اعتراض سے متعلق خبر کی تردید

    ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا کی چیف جسٹس پر اعتراض سے متعلق خبر کی تردید

    ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا شاہ فیصل اتمان خیل نے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر اعتراض سے متعلق خبر کی تردید کر دی ہے

    ایک بیان میں ایڈووکیٹ جنرل کے پی شاہ فیصل اتمان خیل کا کہنا ہے کہ میرے دفتر میں مخصوص نشستوں سے متعلق بینچ پر اجلاس نہیں ہوا، اس بارے میں وزیرِ اعلیٰ کو خط لکھنے کی خبر بھی من گھڑت ہے، عدلیہ اور پی ٹی آئی کے درمیان کشیدگی پیدا کرنے کے لیے پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے تمام ججز پر پورا اعتماد ہے مخصوص نشستوں سے متعلق کیس خراب کرنے کے لیے جھوٹی خبریں چلائی جا رہی ہیں۔ جھوٹی خبروں کا مقصد مخصوص نشستوں کے کیس کو نقصان پہنچانا ہے، خلیج پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے

    واضح رہے میڈیا میں کہا گیا تھا کہ ذرائع کے مطابق گزشتہ روز ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا کے آفس میں اجلاس ہوا جس میں خیبر پختونخواحکومت نے مخصوص نشستوں سے متعلق بینچ میں چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی شمولیت پر اعتراض اٹھایا گیا اور بینچ میں چیف جسٹس کی شمولیت پر اعتراض سے متعلق منظوری کے لیے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کو خط بھی لکھا گیا جس میں کہا گیا کہ پی ٹی آئی سے متعلق کوئی بھی کیس چیف جسٹس نہ سنیں۔

  • وزیراعلیٰ کو دعوت دیتا ہوں آئیں صوبے میں امن کیلئے ملکر کام کریں،گورنر خیبر پختونخوا

    وزیراعلیٰ کو دعوت دیتا ہوں آئیں صوبے میں امن کیلئے ملکر کام کریں،گورنر خیبر پختونخوا

    گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ سیاسی لوگوں کو مل کر بیٹھنا ہوگا اور بات چیت کرنا ہوگی۔آج اگر الیکشن پر اعتراض ہے تو پارلیمنٹ میں بیٹھ کر چور دروازے قانون سازی سے بند کریں،

    میڈیا سے بات کرتے ہوئے گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف ماضی کی غلطیوں پر معافی مانگے تو ہم بات کرنے کیلئے تیار ہیں 9 مئی کے تمام ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے، سانحہ 9 مئی کے ماسٹر مائنڈ کو سب سے پہلے انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے، وزیراعظم کا مشکور ہوں کہ انہوں نے کے پی کے میں لوڈشیڈنگ کم کی، مستقبل میں ایسا ہی رویہ رہا تو وفاق کی جانب سے مسئلہ حل ہو جائے گا، وزیراعلیٰ سے کہا تھا دلائل کے ساتھ وفاق سے بات کریں، تحریک انصاف پارلیمنٹ میں اپنا کردار ادا کرے، شور شرابے سے کچھ حاصل نہیں ہونا، عوام کو ریلیف ملنا چاہیے، امیروں کو ٹیکس نیٹ میں لایا جانا چاہیے پُرامید ہیں وفاقی حکومت خیبرپختونخوا کے مسائل حل کرے گی، میں نہیں چاہتا صوبائی حکومت اور گورنر ہاؤس کے درمیان ٹینشن ہو، وزیراعلیٰ کے پی ایسی زبان استعمال کرتے تھے جس سے مسئلے کا حل نہیں نکلتا تھا وزیراعلیٰ کو کہتا تھا وفاق کے پاس جائیں اپنے مسائل بتائیں، حل نکلے گا، مل کر صوبے کی ترقی کے لیے اقدامات کریں گے، خیبرپختونخوا کا گورنر ہاؤس کسی سازش کا حصہ نہیں بنے گا۔

    گورنر فیصل کریم کنڈی کا مزید کہنا تھا کہ بلاول بہت جلد خیبرپختونخوا آئیں گے، جتنی سیاسی جماعتیں ہیں ان کے پاس جارہا ہوں، خیبرپختونخوا کی ترقی،امن اور خوشحالی کے لیے سب کے پاس جانے کو تیار ہوں، تمام سیاسی جماعتوں کو ساتھ لیکر چلیں گے سیاسی لوگوں کو سیاسی جماعتوں کے ساتھ بیٹھ کر مسائل حل کرنے چاہئیں، وزیراعلیٰ کو دعوت دیتا ہوں آئیں صوبے میں امن کیلئے ملکر کام کریں، مرکز اور صوبے کے درمیان پل کا کردار ادا کروں گا۔

    وزارت تعلیم پنجاب اور کرومیٹک کے زیر اہتمام تمباکونوشی کیخلاف خصوصی تقریب

    پاکستان میں سگریٹ انڈسٹری نے تباہی مچا دی، قومی خزانے کو اربوں کا نقصان

    انسداد تمباکو نوشی مہم کے سلسلے میں چوتھے سالانہ پوسٹ کارڈ مقابلوں کا آغاز

    تمباکو پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی شرح میں 30 فیصد اضافہ کیا جائے، ملک عمران

    حکومت بچوں کو سگریٹ نوشی سے بچانے کیلئے ٹھوس اقدامات کرے، شارق خان

    تمباکو جیسی مصنوعات صحت کی خرابی اور پیداواری نقصان کا سبب بنتی ہیں

    تمباکو سے پاک پاکستان…اک امید

    تمباکو سے پاک پاکستان، آئیے،سگریٹ نوشی ترک کریں

    تمباکو نشہ نہیں موت کی گولی، بس میں ہوتا تو پابندی لگا دیتا، مرتضیٰ سولنگی

    ماہرین صحت اور سماجی کارکنوں کا ماڈرن تمباکو مصنوعات پر پابندی کا مطالبہ

    تمباکو نوشی کے خلاف مہم کا دائرہ وسیع کریں گے،شارق خان

  • عمران خان کو اے سی نہیں دیا گیا، علیمہ خان کا شکوہ

    عمران خان کو اے سی نہیں دیا گیا، علیمہ خان کا شکوہ

    سابق وزیراعظم عمران خان کی بین ہمشیرہ علیمہ خان نے کہاہے کہ ہماری برداشت اب ختم ہوتی جارہی ہے،ہمارا مطالبہ ہے 9مئی پر جوڈیشل کمیشن بنایاجائے

    میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے علیمہ خان کا کہنا تھا کہ جب عمران خان کو جب گرفتار کیا گیا اس کی فوٹیجز نکالی جائیں،عمران خان کو کوئی اے سی فراہم نہیں کیا گیا،عمران خان نے کوئی ڈیل نہیں کرنی،اگر ہمارے کیسز کا فیصلہ نہیں ہوتا تو سوالات اٹھیں گے۔اب ہم خود نکلیں گے اور آگر کوئی ہمارے ساتھ نکلنا چاہتا ہے وہ ضرور نکلے گا۔آج عمران خان نے کہا کون کہہ رہا ہے جیل میں میرے پاس ائیر کنڈیشنر والا بڑا کمرہ ہے، مجھے تنہا ڈیتھ سیل میں رکھا گیا ہے، نہ وکلاء سے ملنے دیا جاتا ہے۔ عمران خان کی بلڈ ٹیسٹ رپورٹ تک نہیں دی جا رہی لیکن یہ جو مرضی کر لیں عمران خان نے ڈیل نہیں کرنی،ہماری برداشت اب ختم ہوتی جا رہی ہے، چیف جسٹس آف پاکستان سے مطالبہ ہے 9 مئی پر جوڈیشل کمیشن بنائیں۔کوئی ہمارا ساتھ دے یا نہ دے ہم اڈیالہ جیل کے سامنے دھرنا دینے جا رہے ہیں،عمران خان کیساتھ انتہائی غیر انسانی سلوک کیا جا رہا ہے،ہمیں بھی پکڑ کر بے شک اندر کر دیں بس اب بہت ہو گیا، اب جیل بھر دیں، ہم سب تیار ہیں.جو زیادتیاں ہو رہی ہیں ، عمران خان اور دیگر رہنماؤں و کارکنان کیخلاف ان پر اب خاموش نہیں رہ سکتے.

    جو مرضی کر لیں، لوگ نکل کر پی ٹی آئی کوووٹ دیں گے،عمران خان کا پیغام علیمہ کی زبانی

    عمران خان پر لگی دفعات پر سزائے موت ہو سکتی ہے،علیمہ خان کا پھر بیان

    جج کے پیچھے پولیس کھڑی ہوتی تا کہ جج کو ڈرایا جائے،علیمہ خان

    جس کیس سے متعلق کوئی بات نہ کر سکیں اس پر کیا کہیں،علیمہ خان

    شیر افضل مروت کی لاٹری نکل آئی، نواز کا دکھڑا،علیمہ کی پنکی سے چھیڑچھاڑ

    پی ٹی آئی چیئرمین کیسا ہو، بشریٰ بی بی جیسا ہو،علیمہ باجی کا پارٹی پر قبضہ نامنظور ،نعرے لگ گئے

  • پی ٹی آئی کو جلسے کی مشروط اجازت

    پی ٹی آئی کو جلسے کی مشروط اجازت

    اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے تحریک انصاف کو جلسے کی مشروط اجازت دے دی ہے

    ڈپٹی کمشنر اسلام آباد نے عدالتی حکم پر تحریک انصاف کو 39 شرائط کے ساتھ جلسے کی اجازت دی جس کیلئے باقاعدہ این او سی بھی جاری کردیا گیا ہے,این او سی کی شرائط کے مطابق تحریک انصاف کو اپنا جلسہ مقررہ وقت پر ختم کرنا ہوگا اور جلسے میں ریاست کے خلاف نعرے یا تقریر کی اجازت نہیں ہوگی کسی قسم کی ہلڑ بازی اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں ہوگی جب کہ سکیورٹی کی ذمہ داری تحریک انصاف پر عائد ہوگی۔

    تحریک انصاف کی جانب سے 8 جون کو اسلام آباد میں جلسے کی اجازت مانگی گئی تھی جس پر ڈپٹی کمشنر نے پی ٹی آئی کی درخواست پر فیصلہ کرکے ہائیکورٹ کو آگاہ کردیا، تحریک انصاف اسلام آباد میں جلسہ کرنا چاہتی ہے اس ضمن میں درخواست دی گئی تھی

    تحریک انصاف کے رہنما عامر مغل کا کہنا ہے کہ تحریکِ انصاف کو بدنیتی کی بنیاد پر ایف نائن پارک اسلام آباد میں جلسہ کرنے کی اجازت نہیں دی گئی،حکومت جمہوری حق دینے سے ڈرتی ہے اسلام آباد میں جلسہ تحریک انصاف کا بنیادی آئینی جمہوری حق ہے اسلام آباد کی عوام نے تینوں سیٹوں پر PTIکو 8فروری کو تاریخی مینڈیٹ دیا .اسلام آباد کی عوام کے دل عمران خان کے ساتھ دھڑکتے ہیں

    ہم ڈی سی کے روات میں جلسے کی اجازت کے حکم کو چیلنج کرینگے ،شعیب شاہین
    شعیب شاہین کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف نے ایف 9 پارک میں جلسے کی اجازت مانگی انہوان نے راوات جی ٹی روڈ پر خود سے اجازت دے دی ہے۔ہم تو چاہتے ہیں ایف نائن پارک میں جلسے کی اجازت دی جائے ،ہم ڈی سی کے روات میں جلسے کی اجازت کے حکم کو چیلنج کرینگے ، ہم ایف نائن پارک میں جلسہ کرنا چاہتے ہیں

  • نومئی کے مقدمات میں  جس کو سزا دینی ہے دے دیں،زرتاج گل

    نومئی کے مقدمات میں جس کو سزا دینی ہے دے دیں،زرتاج گل

    تحریک انصاف کی رہنما زرتاج گل نے کہا ہے کہ چاہتی ہوں 9 مئی کے واقعے کو ختم کردیا جائے

    زرتاج گل گوجرانوالہ میں انسداد دہشت گردی عدالت میں پیش ہوئیں، اس موقع پر زرتاج گل نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ نومئی کے مقدمات میں جس کو سزا دینی ہے دے دیں لیکن پاکستان کے عوام کو آزاد کردیں،میں چاہتی ہوں ملک آگے بڑھے آپس میں بیٹھیں اور اس کا حل نکالیں، امید تھی مستقل ضمانت ملے گی، عدالت کا دروازہ کھٹکھٹاتے رہیں گے ایک دن یہیں پر ضمانت بھی ملے گی اور کیس بھی ختم ہوگا،میری سیاست میرا جینا مرنا پاکستان میں ہے مجھے سب سے زیادہ تکلیف ہوتی اپنے اداروں کے نقصان پر اور تکلیف ہوتی ہے لیڈر عمران خان پر جسے ناحق قید میں رکھا ہے.پاکستان میں بہت بڑی تعداد میں یوتھ سوشل میڈیا استعمال کرتی ہے اگر آپ انہیں ڈیجیٹل دہشتگرد کہیں گئے تو اس سے یوتھ اور اداروں کے درمیان مزید فاصلے بڑھیں گے