Baaghi TV

Tag: تحریک انصاف

  • ہم اپنے باپ سے معافی نہیں مانگتے کسی اور سے کیا مانگیں،اسد قیصر

    ہم اپنے باپ سے معافی نہیں مانگتے کسی اور سے کیا مانگیں،اسد قیصر

    تحریک انصاف کے رہنما اسد قیصر نے نومئی کے واقعات پر معافی مانگنے سے انکار کر دیا

    اسد قیصر نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم اپنے باپ سے معافی نہیں مانگتے کسی اور سے کیا مانگیں گے؟ ہم چاہتے ملک میں آئین اور قانون بالا دست ہو، چاہتے ہیں کہ تمام شہریوں کے برابر کے حقوق ہوں، اس کے لیے تمام اداروں کو آئینی حدود میں رہ کرکام کرنا ہوگا۔

    دوسری جانب تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان کا کہنا ہے کہ ہمارا پہلے دن سے مطالبہ رہا ہے کہ 9 مئی کے واقعات پر جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا جائے،تا کہ سب کچھ سامنے آ سکےکہ نومئی کا ذمہ دار کون ہے،9 مئی کی سی سی ٹی وی فوٹیج کہاں ہے؟ عمران خان کے امریکی مداخلت کے الزام کا مقصد ایسا نہیں تھا کہ امریکا سے تعلق خراب کیے جائیں۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز ترجمان پاک فوج نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان کی فوج قومی فوج ہے،اس کے اندر تمام مکتبہ فکر، قومیت، رنگ ، نسل ، مذاہب کے لوگ ہوتے ہیں، کسی قسم کی کوئی سیاسی سوچ نہیں ہوتی، حکومت وقت سیاسی ہوتی ہے، ہر حکومت کے ساتھ فوج کا غیر سیاسی تعلق ہوتا ہے،ہم کسی خاص سیاسی سوچ کو نہیں دیکھتے، ہمارے لئے تمام سیاسی جماعتیں جو عوام کے نمائندے ہیں قابل احترام ہیں، اگر کوئی سیاسی سوچ یا لیڈر، یا ٹولہ اپنی فوج پر حملہ آور ہو، عوام اور فوج کے مابین نفرت اور خلیج پیدا کرے، شہیدوں کی تضحیک کرے، اسی قوم کی فوج بارے دھمکیاں دے، پراپیگنڈہ کرے اس سے کوئی بات چیت نہیں کرنی، ایسے سیاسی انتشاری ٹولے کے لئے ایک ہی راستہ ہے کہ وہ قوم کے سامنے صدق دل سے معافی مانگے،انتشار اور نفرت کی سیاست سے اور پاکستان میں تعمیری سیاست کرے، بات چیت سیاسی جماعتوں کو زیب دیتی ہے اداروں کو نہیں، میں نے بڑا کلیئر بتایا کہ ایساسیاسی ٹولہ جو سامنے کر رہا ہے ان سے کوئی بات نہیں ہو گی.یہ چاہتے ہیں کسی وجہ سے ملک معاشی طور پر ہر لحاظ سے نیچے جائے، کچھ بھی کرنے اور کہنے کو تیار ہیں، افسوسناک ، انتہائی افسوسناک،

  • شہزاد اکبر تو "وڑ گیا”،تیزاب حملہ،کوئی شواہد نہ ملے، تحقیقات بند

    شہزاد اکبر تو "وڑ گیا”،تیزاب حملہ،کوئی شواہد نہ ملے، تحقیقات بند

    بانی پی ٹی آئی کے سابق مشیر شہزاد اکبر کو دھچکا، خود پر حملے کے حوالے سے لگائے گئے الزامات دھرے رہ گئے

    شواہد نہ ملنے پر پولیس نے شہزاد اکبر پر حملے کی تحقیقات بند کردیں,شہزاد اکبر کے خود پر حملے کے دعووں کے حوالے سے پولیس کو کوئی ثبوت نہ مل سکا ,پولیس نے چھ ماہ تک شہزاد اکبر پر حملے کے حوالے تحقیقات کرنے کے بعد ہاتھ اٹھا لئے,شہزاد اکبر کی رہائش گاہ کی ہر طرف کیمرے موجود ہیں، پولیس کو کئی گھنٹوں کی فوٹج دیکھنے کے باوجود کوئی مشتبہ شخص نظر نہ آیا,ذرائع کے مطابق مقامی پولیس نے شہزاد اکبر کو تین ہفتہ قبل ہی کسی بھی مشتبہ شخص کی عدم موجودگی کے حوالے سے آگاہ کردیا تھا

    شہزاد اکبر نے پولیس کی طرف سے ٹکا سا جواب ملنے پر الزام حکومت پاکستان پر دھر دیا، ذرائع کے مطابق محض مبینہ حملے کے حوالے شہزاد اکبر حکومت پاکستان کے خلاف برطانیہ میں کارروائی نہیں کرسکتے، شہزاد اکبر نے مقدمہ دائر کرنے کی بجائے پاکستان کو بدنام کرنے کیلئے خط کا ڈرامہ رچایا ,پولیس بھی شہزاد اکبر پر حملے کے حوالے سے پریشان ہے کہ وہ کون سا تیزاب ہے جو چہرے پر پھینکنے پر صرف عینک کے شیشہ کو لگا،فرانزک رپورٹ کے مطابق بھی تیزاب ہوتا تو چہرہ جھلس سکتا تھا،

    برطانیہ کی پولیس نے شہزاد اکبر پر تیزاب حملے کی تحقیقات تقریباً نصف سال تک جاری رہنے کے بعد کوئی مشتبہ شخص نہ ملنے کے بعد بند کر دی ہیں۔انسداد دہشت گردی کی پولیسنگ سے منسلک ایک پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ "ہم نے انکوائری کی،اور اس دوران کسی مشتبہ شخص کی شناخت نہیں کر سکے۔”

    ہرٹ فورڈ شائر کانسٹیبلری، علاقائی پولیس فورس جو انگلینڈ میں ہرٹ فورڈ شائر کی کاؤنٹی کی پولیسنگ کے لیے ذمہ دار ہے جہاں شہزاد اکبر رہتا ہے، اور تحقیقات سے واقف ایک انٹیلی جنس ذریعہ نے اس معاملے پر جیو اور دی نیوز سے بات کی۔ہرٹ فورڈ شائر کانسٹیبلری نے کہا کہ یہ (شہزاد اکبر کی شکایت) ایک انتہائی پیچیدہ تفتیش تھی۔ "نومبر کے بعد سے، افسران ملوث افراد کا سراغ لگانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس موقع پر، ہم کسی مشتبہ شخص کی شناخت نہیں کر سکے۔ اس نوعیت کے واقعات شکر ہے کہ ہرٹ فورڈ شائر میں بہت کم ہوتے ہیں۔ اگر کوئی نئی معلومات سامنے آئیں تو ہم اس کے مطابق کارروائی کریں گے۔

    انٹیلی جنس ذرائع نے اس رپورٹر کو بتایا کہ تحقیقات کے دوران کوئی مشتبہ شخص نہ ملنے کے بعد تفتیش بند کر دی گئی ہے۔ کئی گھنٹوں کی فوٹیج کا جائزہ لیا گیا جس میں رائسٹن کے مقامی علاقے کے داخلی اور خارجی راستوں کا بھی جائزہ لیا گیا لیکن کسی مشتبہ شخص کی شناخت نہیں ہوئی۔ فرانزک نے کوئی پیش رفت نہیں کی اور کوئی سراغ نہیں ملا، اس لیے بغیر کسی کارروائی کے تفتیش کو بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

    گزشتہ ہفتے شہزاد اکبر نے اعلان کیا کہ وہ تیزاب گردی کے حوالے سے حکومت پاکستان کے خلاف قانونی کارروائی کر رہے ہیں۔ انہوں نے اپنی قانونی کارروائی کی کاپی لندن میں پاکستانی ہائی کمیشن کو پیش کی ہے۔ اس نے کئی پاکستانی سرکاری اہلکاروں کو اس حملے کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔ شہزاد نے خط میں دعویٰ کیا ہے کہ اس حملے کے پیچھے حکومت پاکستان کا ہاتھ تھا۔برطانیہ کی پولیس کی جانب سے بغیر کسی مشتبہ شخص کے ملنے والی انکوائری کو بند کرنے پر تبصرہ کرنے کے لیے شہزاد اکبر نے کہا: "میں پہلے ہی یہ بتا چکا ہوں کہ مجھ پر حملے کا ذمہ دار کون ہے، جو پاکستانی حکومت کے کہنے پر کیا گیا۔

    سیاسی پناہ لینے والے بیشتر پاکستانی حکومت اور اداروں کو بے جا تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں،ترجمان دفتر خارجہ
    شہزاد اکبر نے جب خود پر تیزاب پھینکنے کا دعویٰ کیا تھا اسوقت ترجمان دفتر خارجہ کا ردعمل بھی سامنے آیا تھا، ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ شہزاد اکبر مبینہ حملہ، لندن کی مقامی پولیس نے مقدمہ درج کر لیا، ہائی کمیشن سے کوئی مدد نہیں مانگی گئی، شہزاد اکبر مبینہ حملے میں پاکستان اور پاکستانی اداروں پر الزامات کو مسترد کرتے ہیں،پاکستان بیرون ملک اپنے شہریوں کی حفاظت اور سہولیات کے لیے کوشاں رہتا ہے، بہت سے سیاسی مخالفین نے برطانیہ میں سیاسی پناہ لی اور کئی دہائیوں سے بیرون مالک مقیم ہیں، سیاسی پناہ لینے والے بیشتر پاکستانی حکومت اور اداروں کو بے جا تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں،بیرون ملک سیاسی پناہ لینے والے بہت سے لوگوں کے پاکستان میں دہشت گرد گروہوں سے تعلقات تھے،پاکستان مخالف بیانات دینے والوں کے خلاف کسی انتقامی کاروائی پر یقین نہیں رکھتے، ہمیں برطانیہ کے قانون نافذ کرنے والے اداروں پر مکمل اعتماد ہے،امید ہے مبینہ حملے میں مجرموں کی شناخت اور برطانیہ کے قانون کے مطابق ان کے ساتھ برتاؤ کیا جائے گا، پاکستان تحقیقات پر گہری نظر رکھے گا

    شہزاد اکبر پاکستان میں اشتہاری
    عمران خان دور حکومت میں معاون خصوصی رہنے والے شہزاد اکبر کو پاکستا ن میں اشتہاری قرار دیا جا چکا ہے، شہزاد اکبر کو تھانہ سیکرٹریٹ کے مقدمہ میں دو دسمبر کو اشتہاری قرار دیا گیا تھا،مرزا شہزاد اکبر کو سول جج احمد شہزاد گوندل کی عدالت سے اشتہاری قرار دیا گیا ،شہزاد اکبر کے خلاف اسلام آباد کے تھانہ سیکرٹریٹ میں 8 دفعات کے تحت مقدمہ درج ہے۔شہزاد اکبر کے خلاف مقدمہ نمبر 156 فراڈ اور دیگر سنگین دفعات کے تحت درج کیا گیا تھا۔

    ہوشیار، آپکی جمع پونجی پر بڑا ڈاکہ تیار،الرحمان ڈیویلپرز ،اربن سٹی کی دو نمبریاں پکڑی گئیں

    بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    تجوری ہائٹس کا پلاٹ گورنر سندھ کی اہلیہ کے نام پر تھا،سپریم کورٹ میں انکشاف

    چیف جسٹس کا نسلہ ٹاور کی زمین بیچ کر الاٹیز کو معاوضے کی ادائیگی کا حکم

    امجد بخاری کی "شادی شدہ” افراد کی صف میں شمولیت

    ضمنی انتخابات میں مریم نواز کا جادو کیسے چلا؟ اہم انکشافات

    مریم نواز نے پولیس وردی پہنی،عثمان انور نے ساڑھی کیوں نہیں پہنی؟ مبشر لقمان کا تجزیہ

  • مخصوص نشستوں کے کیس میں سپریم کورٹ نے پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ معطل کر دیا

    مخصوص نشستوں کے کیس میں سپریم کورٹ نے پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ معطل کر دیا

    سپریم کورٹ ، سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کیس کی سماعت ہوئی،

    دائر اپیل پر سماعت جسٹس منصور علی شاہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی،جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس اطہر من اللہ بینچ میں شامل ہیں،وکیل فیصل صدیقی روسٹرم پر آگئے، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ہمیں قومی اسمبلی کے اعدادو شمار دیں، اُن میں سے کتنے آزاد امیدوار ہیں،جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ چارٹ کے مطابق ٹوٹل قومی اسمبلی میں 82 سیٹس ہیں آپکی مخصوص سیٹیں نیشنل اسمبلی میں کتنی بنتی ہیں تو سنی اتحاد کونسل کے وکیل فیصل صدیقی نے بتایا 23 ہماری مخصوص بنتی ہیں۔ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا وہ فارمولا بتائیں جس کے تحت 23 بنتی ہیں،بیرسٹر گوہر نے کہا آرٹیکل 51 ،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا 51 فارمولا نہیں ہے۔ سات امیدوار تاحال آزاد حیثیت میں قومی اسمبلی کا حصہ ہیں؟ وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ پی ٹی آئی کے آزاد جیتے ہوئے اراکین اسمبلی نے سنی اتحاد کونسل میں شمولیت اختیار کی،

    مخصوص نشستوں پر نامزد خواتین ارکان اسمبلی کی جانب سے بنچ پر اعتراض کیا گیا، وکیل خواتین اراکین اسمبلی نے کہا کہ یہ آئین کے آرٹیکل 51 کی تشریح کا مقدمہ ہے، پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کے تحت کیس پانچ رکنی بنچ سن سکتا، وفاقی حکومت کی جانب سے بھی تین رکنی بنچ پر اعتراض کر دیا گیا، ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان بے کہا کہ اپیلیں لارجر بنچ ہی سن سکتا ہے، عدالت نے بنچ پر اعتراض مسترد کر دیا

    انتخابی نشان نہیں ہے تو کیا اس کے امیدوار نمائندگی کے حق سے محروم ہو جائیں گے؟جسٹس اطہرمن اللہ
    جسٹس اطہرمن اللہ نے استفسار کیا کہ کیا پی ٹی آئی ایک رجسٹرڈ سیاسی جماعت ہے؟ وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ پی ٹی آئی ایک رجسٹرڈ سیاسی جماعت ہے، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ رجسٹرڈ سیاسی جماعت ہے صرف الیکشن میں حصہ نہیں لیا، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ آزاد اراکین کو کتنے دنوں میں کسی جماعت میں شمولیت اختیار کرنا ہوتی ہے؟ وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ آزاد اراکین قومی اسمبلی کو تین روز میں کسی سیاسی جماعت میں شمولیت اختیار کرنا ہوتی ہے، جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر کسی سیاسی جماعت کے پاس انتخابی نشان نہیں ہے تو کیا اس کے امیدوار نمائندگی کے حق سے محروم ہو جائیں گے؟ وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ کوئی سیاسی جماعت انتخابات میں حصہ لے کر پارلیمانی جماعت بن سکتی ہے،دوسری صورت یہ ہے کہ کوئی سیاسی جماعت انتخابات میں حصہ نہ لے اور آزاد جیتے ہوئے اراکین اس جماعت میں شمولیت اختیار کر لیں،جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ سیاسی جماعتوں کے درمیان مخصوص نشستوں کی تقسیم کس فارمولے کے تحت ہوتی ہے، سیاسی جماعت کیا اپنی جیتی ہوئی سیٹوں کے مطابق مخصوص نشستیں لے گی یا زیادہ بھی لے سکتی ہے؟ فیصل صدیقی نے کہا کہ کوئی سیاسی جماعت اپنے تناسب سے زیادہ کسی صورت مخصوص نشستیں نہیں لے سکتی،

    قانون میں کہاں لکھا بچی ہوئی نشستیں دوبارہ انہی سیاسی جماعتوں میں بانٹی جائیں گی؟جسٹس منصور علی شاہ
    جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ ایک بات تو طے ہے جس جماعت کی جتنی نمائندگی ہے اتنی ہی مخصوص نشستیں ملیں گی،جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ ، کیا جس پارٹی سنی اتحاد کونسل کی بات کی جا رہی ہے، وہ رجسٹرڈ ہے؟کیا اُسے انتخابی نشان الاٹ کیا گیا تھا؟ وکیل پی ٹی آئی نے کہا کہ جی بالکل سنی اتحاد کونسل رجسٹرڈ ہے اور اسے انتخابی نشان الاٹ کیا گیا تھا۔جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ قانون میں کہاں لکھا ہے بچی ہوئی نشستیں دوبارہ انہی سیاسی جماعتوں میں بانٹی جائیں گی؟ عوامی مینڈیٹ کی حفاظت کریں گے،

    سپریم کورٹ نے مخصوص نشستوں کے کیس میں اٹارنی جنرل اور الیکشن کمیشن حکام کو ساڑھے گیارہ بجے طلب کرلیا،سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت اور الیکشن کمیشن کو باضابطہ نوٹس جاری کر دیے۔عدالت نے سماعت آج 11:30 بجے تک ملتوی کر دی۔ سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل اور الیکشن کمیشن حکام کو پیش ہونے کی ہدایت کر دی، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ کیس کو روزانہ کی بنیاد پر سن کر نمٹانا چاہتے ہیں،

    سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق اپیل پر سماعت وقفہ کے بعد شروع ہو گئی،الیکشن کمیشن حکام سپریم کورٹ میں پیش ہو گئے،سلمان اکرم راجہ نے سپریم کورٹ سے مخصوص نشستوں سے متعلق الیکشن کمیشن کے تمام اقدامات کو غیر آئینی قرار دینے کی استدعا کردی،جسٹس منصور علی شاہ نے اٹارنی جنرل سے کہا کہ اٹارنی جنرل صاحب اس کیس میں دو اہم سوالات آپ سے پوچھیں گے،سلمان اکرم راجہ کے بعد آپکو سنتے ہیں،

    جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن نے پہلے کہا کہ سنی اتحاد کونسل سیاسی جماعت نہیں اس لیے مخصوص نشستیں نہیں مل سکتی لیکن بعد میں اسے سیاسی جماعت قبول کر کے فہرست جاری کر دی، الیکشن کمیشن کے فیصلے تو آپس میں ہی مطابقت نہیں رکھتے،جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی جماعتیں اپنے تناسب سے تو نشستیں لے سکتی ہیں،باقی نشستیں انہیں کیسے مل سکتی ہیں؟جسٹس منصور علی شاہ نے اٹارنی جنرل سے سوال کیا کہ کیا باقی بچی ہوئی نشستیں بھی انہیں دی جاسکتی ہیں؟قانون میں ایسا کچھ ہے؟ اگر قانون میں ایسا کچھ نہیں تو پھر کیا ایسا کرنا آئینی اسکیم کے خلاف نہیں؟اگر قانون میں ایسا نہیں تو پھر کیا ایسا کرنا آئینی اسکیم کے خلاف نہیں؟ جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ کیا الیکشن کمیشن سوموٹو اختیار سے بچی ہوئی نشستیں دوبارہ انہیں جماعتوں کو نہیں دی؟ جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ جو کام ڈائریکٹ نہیں کیا جاسکتا وہ ان ڈائریکٹ بھی نہیں ہوسکتا، ایک سیاسی جماعت کے مینڈیٹ کو ان ڈائریکٹ طریقے سے نظر انداز کرنا کیا درست ہے؟

    سپریم کورٹ نے مخصوص نشستوں سے متعلق تحریک انصاف کی درخواستیں سماعت کےلئے منظور کر لیں ،جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم مخصوص نشستوں سے متعلق الیکشن کمیشن اور ہائی کورٹ کے فیصلے کو معطل کر رہے ہیں، تاہم فیصلوں کی معطلی صرف اضافی سیٹوں کو دینے کی حد تک ہوگی، سپریم کورٹ نے تحریکِ انصاف کی مخصوص نشستوں سے متعلق تحریکِ انصاف کی درخواست پر سماعت 3 جون تک ملتوی کر دی

    الیکشن کمیشن نے سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشتیں نہ دینے کا فیصلہ دیا تھا،پشاور ہائیکورٹ نے بھی الیکشن کمیشن کا فیصلہ برقرار رکھا تھا،سنی اتحاد کونسل نے الیکشن کمیشن فیصلہ کیخلاف اپیلیں دائر کیں،اسپیکر کے پی نے پشاور ہائیکورٹ فیصلہ کیخلاف اپیلیں دائر کیں.

    اب حکومت دو تہائی اکثریت سے محروم ہوگی،بیرسٹر گوہر
    عدالتی فیصلے کے بعد بیرسٹر گوہر علی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کی قومی اسمبلی میں 180 سیٹیں ہیں، اب حکومت دو تہائی اکثریت سے محروم ہوگی، خیبرپختونخوا سمبلی سے مخصوص نشستوں پر حلف نہیں لیا گیا،ہم نے کہا تھا صدارتی الیکشن نہ کروائیں ،عدلیہ پر اعتماد ہے درخواست ہے کہ باقی کیسز بھی اٹھائے جائیں،شعیب شاہین کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی سیٹیں دوسری پارٹیوں کو اٹھا کر دے دی گئیں، ہمارے پاس انتخابی نشان نہیں تھا مگر پھر بھی 180 سیٹیں ہم جیت گئے، ہمارے لوگوں کو اٹھایا گیا، گھروں پر چھاپے مارے گئے، اسلام آباد کی تینوں سیٹیں پی ٹی آئی نے جیتیں، مگر کٹھ پتلیوں کو ایم این اے بنا دیا گیا ہے،

    آرٹیکل 67 کے مطابق رکن کی قانون سازی کی اہلیت پر سوال نہیں اٹھایا جاتا،وفاقی وزیر قانون
    مخصوص نشستوں کے حوالے سے پشاور ہائیکورٹ فیصلے کی معطلی پر حکومتی مؤقف سامنے آ گیا ،وفاقی وزیر قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ کا عدالت عظمیٰ کے عبوری حکم نامے پر بیان سامنے آیا ہے، اعظم نذیر تارڑ کا کہنا ہے کہ یہ آئینی تشریح کا معاملہ ہے ، سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجرز ایکٹ کے تحت 5 رکنی لارجر بینچ کا معاملے کی سماعت کرنا موزوں ہوتا ،مناسب ہوتا اگر لارجر بینچ ہی کوئی عبوری حکم نامہ بھی جاری کرتا ،یہ آئین کے آرٹیکل 51 اور 106 کی تشریح کا معاملہ ہے، پارلیمان کی قانون سازی کے اختیار کے معاملے میں امتناع کے حکم سے احتراز برتا جانا چاہیے تھا، منتخب رکن کے قانون سازی کے اختیار پر زد پڑتی ہو تو زیادہ احتیاط برتی جاتی ہے ، آرٹیکل 67 واضح ہے کہ رکن کی طرف سے کی گئی قانون سازی قانونی نااہلیت کے باوجود برقرار رہتی ہے ،آرٹیکل 67 کے مطابق رکن کی قانون سازی کی اہلیت پر سوال نہیں اٹھایا جاتا، امید ہے حتمی فیصلے میں پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رہے گا،

    قومی اسمبلی میں 23 مخصوص نشستوں پر ارکان کی رکنیت معطل ہونے کا امکان
    مخصوص نشستوں پر سپریم کورٹ کا حکم نامہ ،قومی اسمبلی میں 23 مخصوص نشستوں پر ارکان کی رکنیت معطل ہونے کا امکان ہے،سنی اتحاد کونسل کے کوٹے کی 23 مخصوص نشستیں دیگر جماعتوں میں تقسیم کی گئی تھیں،قومی اسمبلی میں خواتین کی 14 مخصوص نشستیں ن لیگ کو دی گئی تھیں ،خواتین کی چار مخصوص نشستیں پیپلز پارٹی دو جے یو آئی کو دی گئی تھیں،اقلیتوں کی تین مخصوص نشستیں پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن اور جے یو آئی میں تقسیم کی گئی تھیں،20 اراکین کی معطلی سے حکمران اتحاد کی پارٹی پوزیشن بھی متاثر ہوگی ،اس وقت 227 اراکین پر حکمران اتحاد مشتمل ہے جو کہ20 اراکین کی معطلی کے بعد 207 رہ جائے گی ،حکمران اتحاد کی دو تہائی اکثریت بھی ختم ہو جائے گی،قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کا موقف سامنے آگیا ،قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے مطابق سپریم کورٹ نے اس کیس میں ہمیں کوئی حکم نامہ جاری نہیں کیا ۔مخصوص نشستوں پر بعد میں 23 اراکین نے حلف لیا تھا،اس حوالے سے نوٹیفیکیشن الیکشن کمیشن کی طرف سے موصول ہوا تھا ،اب بھی ان اراکین کو معطل کرنے کا نوٹیفکیشن الیکشن کمیشن سے آنا ہے،جیسے ہی الیکشن کمیشن کوئی حکم یا نوٹیفیکیشن بھجواتا ہے اس پر عمل ہو گا،

    الیکشن کمیشن کی جانب سے براہ راست مخصوص نشستوں کو ڈی سیٹ کرنے کی صورت میں اپیل میں جانے کا امکان
    دوسری جانب اسپیکر سندھ اسمبلی نے بھی قانونی ماہرین سے مشاورت کی ہے،شارٹ آرڈر یا تفصیلی فیصلہ سامنے آنے کے بعد اسپیکر سندھ اسمبلی فیصلہ کریں گے ، الیکشن کمیشن کی جانب سے براہ راست مخصوص نشستوں کو ڈی سیٹ کرنے کی صورت میں اپیل میں جانے کا امکان ہے،پیپلزپارٹی کو دو اور ایم کیو ایم کو ایک مخصوص نشست اضافی ملی ،سمیتا افضال سید ، سریندر ولاسائی پی پی جبکہ فوزیہ حمید ایم کیو ایم کی رکن اسمبلی منتخب ہوئی تھیں،سندھ اسمبلی اجلاس میں آئندہ سال کےلیے بجٹ تجاویز پیش کی جائیں گی

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    حریم شاہ مبشر لقمان کے جہاز تک کیسے پہنچی؟ حقائق مبشر لقمان سامنے لے آئے

    حریم شاہ کے خلاف کھرا سچ کی تحقیقات میں کس کا نام بار بار سامنے آیا؟ مبشر لقمان کو فیاض الحسن چوہان نے اپروچ کر کے کیا کہا؟

    حریم شاہ..اب میرا ٹائم شروع،کروں گا سب سازشیوں کو بے نقاب، مبشر لقمان نے کیا دبنگ اعلان

    میں آپکی بیویوں کے کرتوت بتاؤں گی، حریم شاہ کی دو سیاستدانوں کو وارننگ

    حریم شاہ کے ہاتھ میں شراب کی بوتلیں اور….ویڈیو وائرل

  • الیکشن کمیشن کا تحریک انصاف کو بطور پارٹی ختم کرنے کا عندیہ

    الیکشن کمیشن کا تحریک انصاف کو بطور پارٹی ختم کرنے کا عندیہ

    تحریک انصاف کا سیاسی مستقبل خطرے میں،الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کو بطور پارٹی ختم کرنے کا عندیہ دے دیا،

    الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کے حالیہ انتخابات پر بھی سنگین سوالات اٹھا دیئے،پارٹی انتخابات کے بغیر جنرل کونسل، مرکزی مجلس عاملہ کے انتخاب اور اجلاسوں پر بھی تحفظات کا اظہارکیا گیا،5 سال سے تحریک انصاف کے انٹرا پارٹی الیکشن ہی نہیں ہوئے تو مختلف پارٹی تنظیمیں کیسے کام کر رہی ہیں، الیکشن کمیشن کا مؤقف ہے کہ تحریک انصاف کی کوئی باڈی نہیں بچی، نہ ہی کوئی انتخابی نشان ہے، مسلسل الیکشن ایکٹ کے سیکشن 208 کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے، کیوں نہ پارٹی کے خلاف کاروائی کی جائے،

    الیکشن کمیشن نے سوال کیا کہ جب باڈیز ہی نہیں تو جنرل باڈی کا اجلاس کیسے بلایا جا سکتا ہے؟ جنرل باڈی کے تحت کیسے چیف الیکشن کمشنر مقرر کیا جا سکتا ہے؟الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف سے تحفظات پر تحریری طور پر جواب طلب کر لیا،الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف انٹراپارٹی الیکشن کے خلاف درخواستگزاروں کے تحفظات پر بھی جواب مانگ لیا،الیکشن کمیشن تحریری جواب آنے پر سماعت مقرر کرے گا،

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کے فیڈرل الیکشن کمشنر رؤف حسن کی جانب سے تفصیلات الیکشن کمیشن میں جمع کروائی گئیں تھیں جس پر الیکشن کمیشن نے اعتراض عائد کر دیا تھا اور پی ٹی آئی کو نوٹس جاری کئے تھے، رؤف حسن نے فارم 65 پر مشتمل پارٹی سربراہ کا سرٹیفیکیٹ بھی الیکشن کمیشن میں جمع کروا یا ،مرکزی اور صوبائی سطح پر نو منتخب پارٹی عہدے داروں کی تفصیلات شامل ہیں،مرکزی کور کمیٹی کے ارکان کے نام اور تفصیلات بھی شامل ہیں،فیڈرل الیکشن کمشنر کے نوٹیفکیشن کے علاوہ دیگر دستاویزات بھی الیکشن کمیشن میں جمع کروائی گئیں

    علاوہ ازیں،اکبر ایس بابر نے بھی پی ٹی آئی انٹراپارٹی انتخابات کو الیکشن کمیشن میں چیلنج کردیا ، اکبر ایس بابر نے الیکشن کمیشن میں مؤقف اختیار کیا کہ پی ٹی آئی انٹراپارٹی انتخابات کو کالعدم قرار دیا جائے۔اکبر ایس بابر نے الیکشن کمیشن میں باضابطہ درخواست دائر کردی، درخواست میں کہا گیا کہ ساڑھے 8 لاکھ میں سے 960 ووٹ پڑے ،سنی تحریک میں شامل ہونے والوں کو تحریک انصاف سے خارج کرنے کا حکم دیا جائے،پی ٹی آئی کے فنڈز منجمند کئے جائیں۔

    تحریک انصاف کے چیف الیکشن کمشنر رؤف حسن نے انٹرا پارٹی الیکشن کے نتائج کا اعلان کیا تھااور کہا تھا کہ انٹرا پارٹی الیکشن میں بیرسٹر گوہر چیئرمین اور عمر ایوب سیکریٹری جنرل منتخب ہوئے ہیں، اس بار الیکشن کمیشن پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی انتخابات تسلیم کرے گا اور ہمیں انتخابی نشان واپس ملے گا

    سائفر کیس، آج مایوسی ہوئی، عدالت کو کہا فیصلے کو منوائیں، وکیل عمران خان

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

    سائفر کی ماسٹر کاپی وزارت خارجہ کے پاس موجود ہے،اعظم خان کا بیان

    عمران خان اور جیل سپرنٹنڈنٹ کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ

    واضح رہے کہ پہلے اکبر ایس بابر کی درخواست پر ہی انٹرا پارٹی انتخابات کالعدم ہوئے تھے، تحریک انصاف نے سپریم کورٹ میں بھی انتخابی نشان کے لئے درخواست دائر کی تھی تا ہم درخواست مسترد کر دی گئی تھی، تحریک انصاف نے انتخابی نشان بلے کے بغیر الیکشن میں حصہ لیا ، آزاد امیدوار جیتے تو وہ سنی اتحاد کونسل میں شامل ہو گئے،

  • پی ٹی آئی انٹراپارٹی انتخابات،الیکشن کمیشن نے جواب مانگ لیا

    پی ٹی آئی انٹراپارٹی انتخابات،الیکشن کمیشن نے جواب مانگ لیا

    الیکشن کمیشن آف پاکستان میں تحریک انصاف کے انٹراپارٹی انتخابات کے حوالے سے کیس چیف الیکشن کمیشن کی سربراہی میں سناگیا

    چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر اور چیف فیڈرل الیکشن کمیشنر رئوف حسن الیکشن کمیشن پیش ہوئے،ڈی جی پولیٹیکل فنانس الیکشن کمیشن مسعود اختر الیکشن کمیشن پیش ہوئے،ڈی جی پولیٹیکل فنانس نے کہا کہ پی ٹی آئی نے انٹرا پارٹی انتخابات منعقد کرائے، سپریم کورٹ کا 23 نومبر اور 22 دسمبر کا فیصلہ ہے،انٹرا پارٹی انتخابات پر اعتراضات ہیں اس کی وضاحت ضروری ہے، بیرسٹر گوہر نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو جو بھی اعتراض ہے اس کا جواب دیں گے، ہمیں تحریری طور پر کچھ نہیں دیا گیا تحریری طور پر دیں گے تو جواب دے دیں گے نوٹس ملا تو جواب دیا ۔الیکشن کمیشن نے اعتراضات کی تفصیلات پی ٹی آئی کو فراہم کرنے کی ہدایت کی اور آئندہ سماعت پر جواب مانگ لیا،آئندہ سماعت کی تاریخ کا اعلان بعد میں ہوگا.

    ہمارے ساتھ جو زیادتیاں ہونی تھی ہو چکی اب انصاف ہونا چاہیے،بیرسٹر گوہر
    الیکشن کمیشن میں پیشی کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے چیئرمین تحریک انصاف بیرسٹر گوہر علی خان کا کہنا تھا کہ جو الیکشن ہم نے تین مارچ کو کروائے تھے اس پر مجھے اور رؤف حسن کو نوٹس آیا تھا،نوٹس میں صرف سماعت کی تاریخ کا بتایا گیا تھا، اس میں جس طریقے سے آخری جو ہیرنگ کی تھی اس میں کچھ پوائنٹ ہمیں بتائے گئے تھے لیکن اس بار نہیں بتائے گئے،ہمیں کوئی اعتراض نوٹس میں نہیں بتایا گیا تھا،آج الیکشن کمیشن نے سٹاف سے پوچھا آپ کیا کہنا چاہیں گے، سٹاف نے کہا کہ سپریم کورٹ اور الیکشن کمیشن کے آرڈر میں کچھ ہماری آبزرویشن ہیں، پی ٹی آئی انٹراپارٹی انتخابات پر آج مختصر سماعت ہوئی،پی ٹی آئی جواب جمع کرائےگی، کیس کی سماعت ملتوی کردی گئی، اب الیکشن کمیشن ہمیں کونسی تاریخ دے گی اس پر پھر بات میں بحث ہو گی، پاکستان کی 175سیاسی جماعتیں ہیں، ان میں تحریک انصاف کی طرح کسی نے بھی شفاف انٹراپارٹی الیکشن نہیں کرائے، ہمارا انٹراپارٹی الیکشن صاف شفاف ہوا ہے، ہم نے الیکشن کمیشن کے آرڈ ر کو مدنظر رکھا،جس میں الیکشن کمیشن نے ہمیں بیس دن کا وقت دیا تھا،ہم نے انٹرا پارٹی الیکشن کے لیے سوشل میڈیا پر بھی آگاہ کر دیا تھا،تین کا الیکشن تھا چار کا نوٹیفکیشن تھا ہمیں آج تک نوٹیفیکشن نہیں ملا،ہمیں بلے کا نشان بھی ملنا چاہیے،جتنی اوبزرویشن ہم نے پوائنٹ آؤٹ کی ہم یہ نہیں کہتے کہ وہ سب ٹھیک ہیں،سیاسی درجہ حرارت کم ہونا چاہیے،ہمارے ساتھ جو زیادتیاں ہونی تھی ہو چکی اب انصاف ہونا چاہیے،عوام نے بینگن، چمٹے کو ووٹ دئیے،ہم بائیکاٹ کی طرف نہیں گئے اپنے حقوق کے لیے باہر نکلے،ہر طرح سے ہمیں دبانے کی کوشش کی گئی لیکن عوام نے ہمارا ساتھ دیا،ہم پارلیمنٹ کا حصہ بنے ہیں لیکن ہم پر بھی طاقت کا استعمال کیا جا رہا ہے

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کے فیڈرل الیکشن کمشنر رؤف حسن کی جانب سے تفصیلات الیکشن کمیشن میں جمع کروائی گئیں تھیں جس پر الیکشن کمیشن نے اعتراض عائد کر دیا تھا اور پی ٹی آئی کو نوٹس جاری کئے تھے، رؤف حسن نے فارم 65 پر مشتمل پارٹی سربراہ کا سرٹیفیکیٹ بھی الیکشن کمیشن میں جمع کروا یا ،مرکزی اور صوبائی سطح پر نو منتخب پارٹی عہدے داروں کی تفصیلات شامل ہیں،مرکزی کور کمیٹی کے ارکان کے نام اور تفصیلات بھی شامل ہیں،فیڈرل الیکشن کمشنر کے نوٹیفکیشن کے علاوہ دیگر دستاویزات بھی الیکشن کمیشن میں جمع کروائی گئیں

    علاوہ ازیں،اکبر ایس بابر نے بھی پی ٹی آئی انٹراپارٹی انتخابات کو الیکشن کمیشن میں چیلنج کردیا ، اکبر ایس بابر نے الیکشن کمیشن میں مؤقف اختیار کیا کہ پی ٹی آئی انٹراپارٹی انتخابات کو کالعدم قرار دیا جائے۔اکبر ایس بابر نے الیکشن کمیشن میں باضابطہ درخواست دائر کردی، درخواست میں کہا گیا کہ ساڑھے 8 لاکھ میں سے 960 ووٹ پڑے ،سنی تحریک میں شامل ہونے والوں کو تحریک انصاف سے خارج کرنے کا حکم دیا جائے،پی ٹی آئی کے فنڈز منجمند کئے جائیں۔

    تحریک انصاف کے چیف الیکشن کمشنر رؤف حسن نے انٹرا پارٹی الیکشن کے نتائج کا اعلان کیا تھااور کہا تھا کہ انٹرا پارٹی الیکشن میں بیرسٹر گوہر چیئرمین اور عمر ایوب سیکریٹری جنرل منتخب ہوئے ہیں، اس بار الیکشن کمیشن پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی انتخابات تسلیم کرے گا اور ہمیں انتخابی نشان واپس ملے گا

    سائفر کیس، آج مایوسی ہوئی، عدالت کو کہا فیصلے کو منوائیں، وکیل عمران خان

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

    سائفر کی ماسٹر کاپی وزارت خارجہ کے پاس موجود ہے،اعظم خان کا بیان

    عمران خان اور جیل سپرنٹنڈنٹ کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ

    واضح رہے کہ پہلے اکبر ایس بابر کی درخواست پر ہی انٹرا پارٹی انتخابات کالعدم ہوئے تھے، تحریک انصاف نے سپریم کورٹ میں بھی انتخابی نشان کے لئے درخواست دائر کی تھی تا ہم درخواست مسترد کر دی گئی تھی، تحریک انصاف نے انتخابی نشان بلے کے بغیر الیکشن میں حصہ لیا ، آزاد امیدوار جیتے تو وہ سنی اتحاد کونسل میں شامل ہو گئے،

  • نومئی کیس، اسد عمر کی بریت درخواست پر فیصلہ محفوظ

    نومئی کیس، اسد عمر کی بریت درخواست پر فیصلہ محفوظ

    اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے عمران خان و دیگر پی ٹی آئی رہنماؤں کے خلاف 9 مئی کے کیس پر سماعت کرتے ہوئے اسد عمر کی درخواستِ بریت پر فیصلہ محفوظ کر لیا

    اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ کے جج شبیر بھٹی نے کیس کی سماعت کی،دورانِ سماعت اسد عمر اپنے وکلاء سردار مصروف اور آمنہ علی کے ساتھ عدالت میں پیش ہوئے،وکیل آمنہ علی نے کہا کہ ایماء کی حد تک الزام ہے، کوئی ثبوت چالان میں موجود نہیں، اسد عمر کی حد تک درخواستِ بریت پر دلائل ہو چکے،جج شبیر بھٹی نے کہا کہ اسد عمر کی حد تک بریت کی درخواست پر آرڈر کروں گا،عدالت نے اسد عمر کی درخواست بریت پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔

    وکیل سردار مصروف نے استدعا کی کہ عمران خان اور شاہ محمود قریشی کے پروڈکشن آرڈر جاری کریں۔جج شبیر بھٹی نے استفسار کیا کہ عمران خان کی بریت کی درخواست دائر ہوئی ہے؟وکیل سردار مصروف نے جواب دیا کہ بریت کی درخواست دائر نہیں ہوئی، پروڈکشن کی درخواستیں دائر ہیں،عدالت نے کیس کی سماعت میں وقفہ کر دیا۔

    بچ کر رہنا،لڑکی اور اشتہاریوں کی مدد سے پنجاب پولیس نے ہنی ٹریپ گینگ بنا لیا

    مہنگائی،غربت،عید کے کپڑے مانگنے پر باپ نے بیٹی کی جان لے لی

    پسند کی شادی کیلئے شوہر،وطن ،مذہب چھوڑنے والی سیماحیدر بھارت میں بنی تشدد کا نشانہ

    پسند کی شادی، عدالت نے لڑکی کو شوہر کے ساتھ جانے کی اجازت دے دی

    شادی شدہ خاتون سے معاشقہ،نوجوان کے ساتھ کی گئی بدفعلی،خاتون نے بنائی ویڈیو

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

  • الیکشن کمیشن نے آزاد ارکان  کی سنی اتحاد کونسل میں شمولیت کوتسلیم کرلیا

    الیکشن کمیشن نے آزاد ارکان کی سنی اتحاد کونسل میں شمولیت کوتسلیم کرلیا

    اسلام آباد (محمداویس)پی ٹی آئی اور سنی اتحاد کونسل کےلئے اچھی خبر ، الیکشن کمیشن نے آزاد ارکان قومی اسمبلی کی سنی اتحاد کونسل میں شمولیت کوتسلیم کرلیا۔ الیکشن کمیشن نے قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کو باضابطہ آگاہ بھی کردیا۔

    قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کی درخواست پر الیکشن کمیشن نے آگاہ کر دیا۔قومی اسمبلی میں تحریک انصاف کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار اب آزاد نہیں رہے بلکہ سنی اتحاد کونسل کا حصہ ہونگے ۔ الیکشن کمیشن نے آزاد ارکان قومی اسمبلی کی سنی اتحاد کونسل میں شمولیت کوتسلیم کرتے ہوئے باقاعدہ طور پر اسمبلی سیکرٹریٹ کو آگاہ کر دیا.الیکشن کمیشن نے قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کو پارٹی پوزیشن اور رکن اسمبلی وائز آگاہ کیا گیا۔ الیکشن کمیشن کی دستاویزات کے مطابق سنی اتحاد کونسل میں 82 آزاد ارکان قومی اسمبلی شامل ہوئے،پنجاب سے 49 ،خیرپختونخواہ سے 33 آزاد ارکان سنی اتحاد کونسل میں شامل ہوئے ہیں۔ سنی اتحاد کونسل کو کوئی مخصوص نشست نہیں دی گئی۔ قومی اسمبلی میں سنی اتحاد کونسل دوسری بڑی جماعت ہے۔ن لیگ کے 120 اور پیپلزپارٹی کے 71 ارکان ہیں۔ قومی اسمبلی میں 7 ارکان آزاد ہیں۔ دستاویز کے مطابق ایم کیو ایم کے 21 ،جے یو آئی کے 11 اور ق لیگ کے پانچ ارکان ہیں۔ آئی پی پی کے 4،ایم ڈبلیو ایم،پی کے میپ اور بی این پی کا ایک ایک رکن قومی اسمبلی ہے۔الیکشن کمیشن کی دستاویزات کے مطابق مسلم لیگ ضا، بی اے پی اور نیشنل پارٹی کے ممبران کی تعداد بھی ایک ایک ہے۔

    اداروں کی یونیفارم پہننا خلافِ قانون،محترمہ عملی کام بھی کریں، بیرسٹر سیف

    مریم کی پولیس وردی پر تنقید کرنیوالوں نےبرقعے کی آڑ میں دھندہ چلایا ،عظمیٰ بخاری

    بچ کر رہنا،لڑکی اور اشتہاریوں کی مدد سے پنجاب پولیس نے ہنی ٹریپ گینگ بنا لیا

    مہنگائی،غربت،عید کے کپڑے مانگنے پر باپ نے بیٹی کی جان لے لی

    پسند کی شادی کیلئے شوہر،وطن ،مذہب چھوڑنے والی سیماحیدر بھارت میں بنی تشدد کا نشانہ

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    پولیس وردی پہننے پر وزیراعلیٰ پنجاب کیخلاف مقدمہ کی درخواست

    میں تین بار وزیر اعظم رہنے والے نواز شریف کی بیٹی تھی مگر مجھے بھی خود کو ثابت کرنا پڑا،مریم نواز

  • پی ٹی آئی کو ایک اور دھچکا، دوبارہ کروائے گئے انٹرا پارٹی انتخابات پر اعتراض عائد

    پی ٹی آئی کو ایک اور دھچکا، دوبارہ کروائے گئے انٹرا پارٹی انتخابات پر اعتراض عائد

    تحریک انصاف کے لئے ایک اور دھچکا، دوبارہ کروائے گئے انٹرا پارٹی انتخابات پر بھی الیکشن کمیشن نے اعتراضات عائد کر دیئے ہیں

    الیکشن کمیشن نے اس ضمن میں تحریک انصاف کو نوٹس جاری کیا ہے ، الیکشن کمیشن پولیٹیکل فنانس ونگ نے تحریک انصاف کو 30 اپریل کو پیش ہونے کی ہدایت کی گئی ہے، تحریک انصاف نے 4 مارچ کو الیکشن کمیشن میں انٹراپارٹی الیکشنز کی تفصیلات جمع کروائی تھیں۔

    تحریک انصاف کے فیڈرل الیکشن کمشنر رؤف حسن کی جانب سے تفصیلات الیکشن کمیشن میں جمع کروائی گئیں ،فارم 65 پر مشتمل پارٹی سربراہ کا سرٹیفیکیٹ بھی الیکشن کمیشن میں جمع کروا دیا گیا ،مرکزی اور صوبائی سطح پر نو منتخب پارٹی عہدے داروں کی تفصیلات شامل ہیں،مرکزی کور کمیٹی کے ارکان کے نام اور تفصیلات بھی شامل ہیں،فیڈرل الیکشن کمشنر کے نوٹیفکیشن کے علاوہ دیگر دستاویزات بھی الیکشن کمیشن میں جمع کروائی گئیں

    علاوہ ازیں،اکبر ایس بابر نے بھی پی ٹی آئی انٹراپارٹی انتخابات کو الیکشن کمیشن میں چیلنج کردیا ، اکبر ایس بابر نے الیکشن کمیشن میں مؤقف اختیار کیا کہ پی ٹی آئی انٹراپارٹی انتخابات کو کالعدم قرار دیا جائے۔اکبر ایس بابر نے الیکشن کمیشن میں باضابطہ درخواست دائر کردی، درخواست میں کہا گیا کہ ساڑھے 8 لاکھ میں سے 960 ووٹ پڑے ،سنی تحریک میں شامل ہونے والوں کو تحریک انصاف سے خارج کرنے کا حکم دیا جائے،پی ٹی آئی کے فنڈز منجمند کئے جائیں۔

    تحریک انصاف کے چیف الیکشن کمشنر رؤف حسن نے انٹرا پارٹی الیکشن کے نتائج کا اعلان کیا تھااور کہا تھا کہ انٹرا پارٹی الیکشن میں بیرسٹر گوہر چیئرمین اور عمر ایوب سیکریٹری جنرل منتخب ہوئے ہیں، اس بار الیکشن کمیشن پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی انتخابات تسلیم کرے گا اور ہمیں انتخابی نشان واپس ملے گا

    سائفر کیس، آج مایوسی ہوئی، عدالت کو کہا فیصلے کو منوائیں، وکیل عمران خان

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

    سائفر کی ماسٹر کاپی وزارت خارجہ کے پاس موجود ہے،اعظم خان کا بیان

    عمران خان اور جیل سپرنٹنڈنٹ کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ

    واضح رہے کہ پہلے اکبر ایس بابر کی درخواست پر ہی انٹرا پارٹی انتخابات کالعدم ہوئے تھے، تحریک انصاف نے سپریم کورٹ میں بھی انتخابی نشان کے لئے درخواست دائر کی تھی تا ہم درخواست مسترد کر دی گئی تھی، تحریک انصاف نے انتخابی نشان بلے کے بغیر الیکشن میں حصہ لیا ، آزاد امیدوار جیتے تو وہ سنی اتحاد کونسل میں شامل ہو گئے،

  • پبلک اکاؤنٹس کمیٹی بارے پارٹی رہنماؤں نے ہی غلط بیانی کی،شیر افضل مروت

    پبلک اکاؤنٹس کمیٹی بارے پارٹی رہنماؤں نے ہی غلط بیانی کی،شیر افضل مروت

    تحریک انصاف کے رہنما شیر افضل مروت نے کہا ہے کہ عمران خان نے مجھے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی چیئرمین شپ کے لئے نامزد کیا، پارٹی رہنما میرے نام کی مخالفت کر رہے لیکن عمران خان نہیں مانے،شیر افضل مروت نے دعویٰ کیا کہ پارٹی رہنماؤں نے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے نام پر غلط بیانی کی، ایک ہفتہ قبل پارٹی کے دوست عمران خان سے جیل میں ملے اور کہا کہ سپیکر قومی اسمبلی پی اے سی چیئرمین کے لئے شیر افضل مروت کا نام نہیں مان رہے،متبادل نام دیں لیکن عمران خان نے ان رہنماؤں کی چال انہی پر الٹ دی،یہ روایت ہے چیئرمین پی اے سی کو اپوزیشن نامزد کرتی ہے، اسپیکر مجھے چیئرمین پی اے سی نامزد نہیں کرتے تو اپوزیشن کوئی کمیٹی نہیں لے گی،عمران خان کا مجھ پر مکمل اعتماد ہے، پارٹی کے اندر جو بھی یہ کر رہے ہیں اپنا قد چھوٹا کر رہے ہیں، عمران خان نے میرا نام لیا، اب یہ رہنما مجبور کر رہے تھے نام تبدیل کریں، اسپیکر قومی اسمبلی کو میرے نام پر کوئی اعتراض نہیں تھا۔

    خیال رہے کہ گزشتہ دنوں پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان نے پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین کیلئے شیر افضل مروت کا نام تجویز کیا تھاتاہم دوسری جانب نور عالم خان بھی چیئرمین پی اے سی کے امیدوار ہیں، نور عالم خان اتحادی حکومت میں بھی پی اے سی کے چیئرمین رہ چکے ہیں، سنی اتحاد کونسل کے امیدوار آزاد ہیں، جبکہ نور عالم خان جے یو آئی کے رکن ہیں، اسلئے قوی امکان ہے کہ پی اے سی کی چیئرمین شپ جے یو آئی کو دے دی جائے گی

  • تحریک انصاف  ختم ،  ”بزدار ماڈل“ نے پنجاب کو بے تحاشا نقصان پہنچایا ،عظمیٰ بخاری

    تحریک انصاف ختم ، ”بزدار ماڈل“ نے پنجاب کو بے تحاشا نقصان پہنچایا ،عظمیٰ بخاری

    صوبائی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے پنجاب اسمبلی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ گذشتہ روز پاکستان اور پنجاب کے عوام نے ایک بار پھرثابت کیا ہے کہ ان کو انتشار، فساد کا ایجنڈا نہیں چاہیے۔جو سیاسی جماعت کام کرے عوام اسے ووٹ دیتی ہے۔کہا گیاکہ ضمنی انتخابات حکومتیں جیت جاتی ہیں مگر بانی پی ٹی آئی جب حکومت میں تھے تو ضمنی الیکشن ہار گئے تھے۔ کل کے رزلٹ پر یہ کہنا کہ حکومتیں جیت جاتی ہیں،یہ ٹھیک نہیں ہے۔ حمزہ شہباز کی حکومت میں ضمنی الیکشن ن لیگ ہاری تھی۔ وزیراعلیٰ مریم نواز کی ڈیڑھ، دو ماہ کی حکومت میں عوام نے کام ہوتے دیکھے تو ضمنی انتخابات میں عوام کا فیصلہ کلیئر تھا۔مریم نواز کی حکومت پنجاب کے عوام کے لئے تازہ ہوا کا جھونکا ہے۔ ”بزدار ماڈل“ نے پنجاب کو بے تحاشا نقصان پہنچایا ہے۔

    صوبائی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ اگر عمران خان اپنی دو ماہ کی حکومت کے بعد ضمنی الیکشن ہار جائے تو وہ مقبولیت کا پیمانا نہیں ہوتا۔ یہ لوگ جب حکومت میں تھے تب بھی روتے تھے، آج حکومت سے باہر ہیں، تب بھی روتے ہیں۔ وزیر اعظم شہباز شریف ہوں یا وزیر اعلیٰ مریم نواز،دونوں پاکستان اور پنجاب کے عوام کے لئے کام کر رہے ہیں۔ پاکستان کی عوام نے وہ سٹوری بھی دیکھ لی کہ بشریٰ بی بی کو ”ہارپک“ دیا، مگر محترمہ کودراصل گیسٹرک کا مسئلہ تھا۔ پنجاب کے عوام شہروں کو آگ لگانا پسند نہیں کرتے۔ہمارے بچوں کے پاس مفت موٹرسائیکلیں ہونی چاہیے۔ مجھے فخر ہے پنجاب کے عوام نے درست فیصلہ کیا ہے۔ تحریک انصاف تو اب ختم ہوچکی ہے، تحریک فساد پارٹی اب ختم ہوتی جارہی ہے۔صوبائی وزیراطلاعات نے بتایا کہ آج گندم پر وزیر اعلیٰ پنجاب کی ایک میٹنگ ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب جلد کسانوں کے حوالے سے ایک جامع پلان دیں گی۔ مولانا فضل الرحمان کے جلسوں نے کبھی فساد برپا نہیں کیا،ہم ان کے ساتھ تعاون کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ مونس الٰہی کو اسپین میں بیٹھ کر دھاندلی نظر آرہی ہے، اپنا باپ سڑتا ہوا اڈیالہ جیل میں نظر نہیں آرہا۔ ان کے والد صاحب پر بہت کیسز ہیں، ان کا ان کو جواب دینا ہے۔ مونس الٰہی پیسے بھر بھر کے باہر لے کر گئے ہیں۔ تحریک انصاف کی قیادت این آر او مانگ رہی ہے لیکن ان کو این آر او ملے گا نہیں

    مریم نواز کا آٹھ سو کا سوٹ،لاہوری صحافی نے عظمیٰ بخاری سے مدد مانگ لی

    مریم نواز تو شجر کاری مہم بھی کارپٹ پر واک کرکے کرتی ہے،بیرسٹر سیف

    بچ کر رہنا،لڑکی اور اشتہاریوں کی مدد سے پنجاب پولیس نے ہنی ٹریپ گینگ بنا لیا

    مہنگائی،غربت،عید کے کپڑے مانگنے پر باپ نے بیٹی کی جان لے لی

    پسند کی شادی کیلئے شوہر،وطن ،مذہب چھوڑنے والی سیماحیدر بھارت میں بنی تشدد کا نشانہ

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری