Baaghi TV

Tag: تحریک انصاف

  • عمران خان سے ملاقات،جیل حکام ،وکلا کو میکنزم بنانے کی ہدایت

    عمران خان سے ملاقات،جیل حکام ،وکلا کو میکنزم بنانے کی ہدایت

    اسلام آباد ہائیکورٹ،عمران خان سے جیل ملاقاتوں پر 12 مارچ پابندی کے آرڈر کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی

    جسٹس ارباب محمد طاہر نے کیس کی سماعت کی،سپریڈنٹ اڈیالہ جیل اسد وڑائچ عدالت کے سامنے پیش ہوئے اور کہا کہ کئی سو درخواستیں آرہی ہیں ،وکیل شیر افضل مروت نے کہا کہ جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان کی عدالت میں یہ طے ہو گیا ہے ، سپریڈنٹ اڈیالہ جیل نے کہا کہ آرڈر یہ ہوا تھا کہ وکلا کے علاؤہ چھ افراد کو ملنے کی اجازت ہو گی ، میرے پاس سات ہزار قیدی ہیں ،روزانہ کی بنیاد پر چھ افراد کو ملنے کی عدالت نے اجازت دی جو ہمارے لئے ممکن نہیں ؟جسٹس ارباب محمد طاہر نے سپریڈنٹ اڈیالہ جیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ ہر روز کسی نئے اعتراض کے ساتھ ہمارے پاس آجاتے ہیں ، ان آرڈرز کے فیلڈ میں ہوتے ہوئے آپ نے دیکھنا ہے ،کیا آپ ان آرڈرز کی خلاف ورزی چاہ رہے ہیں ؟ کونسے ایسے لوگ ہیں جن کو کوئی نہیں جانتا ؟ شیر افضل مروت ، قومی اسمبلی کے ممبران ، سینیٹر آپ ان کو چیک کریں ، اگر عدالتی حکم پر عمل نہیں کریں گے تو کیوں نا سپریڈنٹ اڈیالہ جیل کے خلاف توہین عدالت کی کاروائی ہو ؟

    سپریڈنٹ اڈیالہ جیل نے عدالت میں کہا کہ میں کورٹ کے حکم پر بھی عمل کرتا ہوں یہ محکمہ داخلہ پنجاب کا نوٹیفکیشن بھی ہے ،عدالت نےسپریڈنٹ اڈیالہ جیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے ٹرمز پر ان کو ہم نے منا کر طے کیا تھا کہ یہ کب کب ملیں گے ، پہلے ہی آپ کے خلاف توہین عدالت کی درخواستیں زیر التوا ہیں ،

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے سپرٹینڈنٹ اڈیالہ جیل اور وکلاء کو میکنزم بنانے کا حکم دے دیا،عدالت نے کہا کہ دونوں فریق بیٹھ کر ایک میکنزم بنائیں اور 12 بجے آگاہ کریں ،

    ہر بندہ آ کر کہتا میں وکیل ہوں،ملاقات کرنی، جیل حکام عدالت میں پھٹ پڑے
    بانی پی ٹی آئی سے اڈیالہ جیل ملاقاتوں پر پابندی کے خلاف کیس کی دوبارہ سماعت ہوئی، وکیل شیر افضل مروت نے کہا کہ ہم نے سپریڈنٹ اڈیالہ جیل سے میکنزم طے کر لیا ہے، جسٹس ارباب محمد طاہر نے کہا کہ ہم یہ پٹیشن زیر التوا رکھ رہے ہیں آپ ایس او پیز بنا لیں ،عدالت نے شیر افضل مروت کو ہدایت کی کہ آپ فوکل پرسن مقرر کر دیں، شیر افضل مروت نے کہا کہ ہم آج چار لوگ اور منگل کو دوبارہ ملاقات کے لیے جائیں گے،جسٹس اربا ب طاہر نے کہا کہ ہم آپ کو یہ نہیں کہہ رہے کہ سب لوگوں کو جیل میں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت دیں،جیل سریڈینٹ نے کہا کہ یہ پرابلم اس وجہ سے آ رہی ہے کہ دنیا جہان کا ہر آدمی کہہ رہا ہے کہ وہ وکیل ہے اور ملاقات کرنی ہے، بیس وکیل سماعت پر آ جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اندر جانا ہے، جسٹس ارباب محمد طاہر نے کہا کہ آپ کو بانی پی ٹی آئی نے جن چھ وکلا کے نام دیے صرف وہی ملاقات کریں گے، جیل سپریڈنٹ نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی سمیت تمام قیدیوں سے ملاقات پر پابندی کے لیے ہوم ڈیپارٹمنٹ کی ڈائریکشن ہیں، جسٹس ارباب محمد طاہر نے کہا کہ وہ آپ کو ڈائریکٹ نہیں کر سکتے، یہ آپ کی صوابدید ہے،

    سائفر کیس،یہ کہتے تھے ضمانت کا حق نہیں ، سپریم کورٹ نے ضمانت بھی دی،سلمان صفدر

    عمران خان اور بشریٰ بی بی کو سزا کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ 

     بنی گالہ میں سارے سودے ہوتے تھے کہا گیا میرا تحفہ میری مرضی

    عمران خان جیل میں شاہانہ زندگی گزار رہے ہیں، وفاقی وزیر اطلاعات

    عمران خان سے ملاقات نہ کرانے پر توہین عدالت کی درخواست، نوٹس جاری

    اب بتا رہا ہوں پاکستان میں سری لنکا والا کام ہونے جا رہا ، کوئی ڈیل کی بات نہیں ہو رہی، عمران خان

  • مخصوص نشستیں،پشاور ہائیکورٹ سے سنی اتحاد کونسل کی درخواست خارج

    مخصوص نشستیں،پشاور ہائیکورٹ سے سنی اتحاد کونسل کی درخواست خارج

    سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق درخواستوں پر پشاور ہائی کورٹ میں سماعت ہوئی

    جسٹس اشتیاق ابراہیم کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بینچ نے سماعت کی،سنی اتحاد کونسل کے وکیل بیرسٹر علی ظفر عدالت میں پیش ہوئے،علی ظفرنے گزشتہ روز پیش نہ ہونے پر عدالت سے معذرت کی اور کہا کہ الیکشن سے پہلے پی ٹی آئی سے بلّے کا نشان لیا گیا، پشاور ہائی کورٹ نے تاریخی فیصلہ دے کر بلّا واپس کردیا تھا، سپریم کورٹ نے دوبارہ الیکشن کمیشن کے حق میں فیصلہ دے کر نشان واپس لیا، سنی اتحاد کونسل مخصوص نشستوں کی حقدار ہے، الیکشن کمیشن نے ہماری سیٹیں ایک طرف کر کے باقی سیاسی جماعتوں کو دے دیں،عدالت نے وکیل علی ظفر سے سوال کیا کہ یہ کیس کس حد تک ہم سن رہے ہیں؟ بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ یہ کیس قومی اسمبلی اور کے پی اسمبلی حد تک محدود ہے، الیکشن کمیشن نے کہا کہ ان 78 سیٹوں کا ہم فیصلہ کریں گے، الیکشن کمیشن کو 6 درخواستیں موصول ہوئیں کہ سنی اتحاد کونسل حقدار نہیں، پہلا نکتہ سنی اتحاد سیاسی جماعت نہیں، دوسرا سنی اتحاد کونسل نے لسٹ نہیں دی، تیسرا نکتہ یہ کہ سیٹیں اگر ان کو نہیں ملتیں تو ہمیں دے دیں، کچھ سیاسی جماعتوں نے الیکشن کمیشن کو درخواستیں دیں کہ یہ سیٹیں انہیں دے دیں، درخواستیں دینے والی سیاسی جماعتیں تھیں، درخواست گزاروں نے اپنے لیے سیٹیں مانگ لیں، الیکشن کمیشن نے 2 وجوہات پر فیصلہ دیا کہ سنی اتحاد سیاسی پارٹی نہیں اور لسٹ نہیں دی، الیکشن کمیشن کے ایک رکن نے مخصوص نشستوں کی تقسیم کی مخالفت کی، 4 نے حمایت کی، سنی اتحاد کونسل رجسٹرڈ پارٹی ہے اور اس کا انتخابی نشان بھی ہے، الیکشن میں حصہ نہ لینا اتنی بڑی بات نہیں، بعض اوقات سیاسی جماعتیں انتخابات سے بائیکاٹ کر سکتی ہیں، سنی اتحاد کونسل ایک سیاسی جماعت ہے،

    جسٹس شکیل احمد نے استفسار کیا کہ یہ بتائیں کہ اگر انتخابات میں حصہ نہیں لیتے پھر کیا ہو گا؟ بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ میں پہلے اس پر بات کر رہا ہوں کہ میں سیاسی جماعت ہوں، میں سیاسی جماعت ہوں تو میرے بنیادی آئینی حقوق کیا ہیں؟ آرٹیکل 17 کے تحت میرے کئی بنیادی حقوق بنتے ہیں، آئین کہتا ہے کہ جس جماعت نے جتنی سیٹیں جیتی ہیں، اس کے مطابق مخصوص نشستیں دی جائینگی، ہم نے الیکشن کمیشن کا سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہ دینے کا فیصلہ چیلنج کیا ہے، ہم نے الیکشن کمیشن کے سیکشن 104 کو بھی چیلنج کیا ہے، الیکشن کمیشن نے سیکشن 104 اور 51 کی غلط تشریح کی ہے، سوال آیا کہ سیاسی پارٹی؟ میرے خیال میں جماعت وہ ہے جو ان لسٹ ہے، الیکشن ایکٹ کے سیکشن 210 اور 202میں سیاسی پارٹی کا ذکر موجود ہے، سنی اتحاد کونسل نے الیکشن نہیں لڑا لیکن یہ ضروری نہیں، بائیکاٹ بھی الیکشن کا حصہ ہوتا ہے، عدالت نے کہا کہ آپ کا کہنا ہے کہ اگر ایک پارٹی الیکشن نہ لڑے تو پھر پولیٹیکل پارٹی ہوتی؟ پولیٹیکل پارٹی تو سیٹیں جیتنے کیلئے الیکشن میں حصہ لیتی ہے، علی ظفر نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل کے پاس انتخابی نشان ہے اور الیکشن لڑنے کا اختیار ہے، عدالت نے استفسار کیا کہ اگر کوئی پارٹی الیکشن میں حصہ نے لے تو وہ پارٹی رہتی ہے یا نہیں ہے؟ علی ظفر نے کہا کہ میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ سنی اتحاد کونسل ایک سیاسی جماعت ہے، کوئی سنی اتحاد کونسل کا حق نہیں لے سکتا جب تک سنی اتحاد کونسل ایک سیاسی جماعت ہو، آئین میں پولیٹیکل جسٹس کا ذکر واضح لکھا ہوا ہے، ہر وہ شہری جو سرکاری ملازم نہ ہو وہ سیاسی جماعت بنا سکتا ہے یا کسی پارٹی میں شمولیت اختیار کر سکتا ہے، آرٹیکل 72 کہتا ہے کہ سیاسی جماعتوں کو کئی حقوق حاصل ہیں، سیاسی پارٹیاں الیکشن میں حصہ لے سکتی ہیں،حکومت بنا سکتی ہے، مخصوص نشستیں حاصل کر سکتی ہے،

    جو پارٹیاں الیکشن میں حصہ نہیں لیتی ان کا حق نہیں بنتا ،زیرو کے ساتھ جو بھی جمع کریں وہ زیرو ہی ہوتا ہے،عدالت
    عدالت نے کہا کہ پاکستان میں 100 سے زائد سیاسی جماعتیں ہیں،کل تو ہر کوئی بطور آزاد امیدوار الیکشن لڑے گا، کامیاب ہونے کے بعد پھر وہ بھی مخصوص نشستیں مانگے گا، مخصوص نشستیں کیوں دوسری جماعتوں کو نہ دی جائیں؟ علی ظفر نے کہا کہ پہلی بار لوگوں نے شخصیات کو ووٹ دیا ہے، جس نے جتنی سیٹیں جیتیں اسے اسی تناسب سے سیٹیں ملتی ہیں، ایسا نہیں ہو سکتا کہ انکی سیٹیں بڑھا دی جائیں، جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اگر یہ سیٹیں نہیں دی گئیں تو پارلیمنٹ پوری نہیں ہو گی؟علی ظفر نے کہا کہ اسی لئے ہم کہتے ہیں کہ آپ آئین کی ایسی تشریح کریں کہ یہ خلا پیدا نہ ہو، یہ کہیں نہیں لکھا کہ آپ لسٹ دوبارہ نہیں دے سکتے، یہ دوسرا شیڈول بھی جاری کر سکتے ہیں، جنرل الیکشن کا بھی انہوں نے سیکنڈ شیڈول جاری کیا، یہ کہنا کہ آپ لسٹ اب نہیں دے سکتے یہ غلط ہے، عدالت نے کہا کہ جو پارٹیاں الیکشن میں حصہ نہیں لیتی ان کا حق نہیں بنتا ،زیرو کے ساتھ جو بھی جمع کریں وہ زیرو ہی ہوتا ہے، علی ظفر نے کہا کہ آئین میں کہیں نہیں لکھا کہ لسٹ کب دینی ہے،بہتر سمجھ یہ ہو گی کہ انتخابات کے بعد مخصوص نشستوں کا الیکشن شیڈول آ جائے، سیکشن 104 کہتا ہے کہ ایک دن مخصوص ہو گا، یہ نہیں لکھا کب ہوگا، دوسری لسٹ پر کوئی پابندی نہیں کہ آپ لسٹ نہیں دے سکتے، سیکشن 104 ہم سے ہمارے آئینی حقوق نہیں چھین رہا،

    آئین کو وقت کی ضرورت کے مطابق سمجھنے کی ضرورت ہے،علی ظفر
    جسٹس اعجاز انور نے استفسار کیا کہ دیگر سیاسی جماعتوں کو انکا مخصوص نشست کا حصہ مل چکا؟ علی ظفر نے کہا کہ یہ جو حالات بن گئے پہلی مرتبہ ایسا ہوا، جسٹس اعجاز انور نے استفسار کیا کہ کیا یہ مخصوص نشستیں خالی نہیں رہنی چاہئیے، علی ظفر نےکہا کہ بلکل خالی بھی رہنی چاہئیے اور دوبارہ الیکشن ہونا چاہئے، عدالت نے استفسار کیا کہ کیا ایسا کبھی پہلے ہوا ہے، علی ظفر نے کہا کہ باپ پارٹی کو 2018 میں مخصوص سیٹ الاٹ کی گئیں ہیں ،جسٹس سید ارشد علی نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے فیصلے میں کہا ہے کہ آپ نے وہ دستاویزات نہیں دیئے، علی ظفر نے کہا کہ وہ الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ پر موجود ہے، جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ باب کا حق تو زیادہ ہے۔ جس پر عدالت میں قہقہہ گونج اٹھا، علی ظفر نے کہا کہ ہمیں پھر آپ بیٹا سمجھ لیجیے، کے پی میں اکثریت کو کیسے اپنے مخصوص نشستوں سے محروم رکھا جائے، آئین کو وقت کی ضرورت کے مطابق سمجھنے کی ضرورت ہے،یہاں پر پارٹی کو ووٹ ملا ہے, جسٹس ایس ایم عتیق شاہ نے کہا کہ یہ بات ٹھیک ہے کہ پارٹی کو ووٹ ملا ہے،

    سکندر بشیر نے کہا کہ یہ درخواستیں تمام اسمبلیوں میں مخصوص نشستوں کے لیے ہیں جو کہ اس عدالت کے دائرہ اختیار سے بھی باہر ہیں،سندھ ہائیکورٹ میں درخواستیں ان درخواستوں سے مماثلت رکھتی ہیں،تمام درخواستوں میں ایک ہی درخواست گزار ہے،درخواستوں میں ایک ہی پیٹرن کو فالو کیا گیا ہے،لاہور ہائیکورٹ میں بھی لارجر بینچ کے لیے استدعا کی گئی ہے،جسٹس ارشد علی نے کہا کہ پہلی درخواست ہمارے سامنے موجود ہیں, دیگر صوبوں کےہائیکورٹ اپنے فیصلے دیں گے،الیکشن کمیشن کے وکیل کے بعد ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل مبشر عدالتی معاونت کے لیے روسٹرم پر آگئے،ایڈووکیٹ جنرل شاہ فیصل اتمانخیل اسی کیس میں پہلے وکیل ہونے کے باعث عدالتی معاون نہیں ہوسکتے، ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل نے کہا کہ آزاد امیدواروں نے سنی اتحاد کونسل کو جوائن کیا تو پھر وہ پارلیمنٹری پارٹی بن گئی،پولیٹکل پارٹی کی تعریف یہ ہے کہ اس نے الیکشن میں حصہ لیا ہو.

    مخصوص نشستوں کے حوالے سے سنی اتحاد کونسل کی درخواست پر پشاور ہائیکورٹ نے فیصلہ محفوظ کرلیا تھا جو اب سنا دیا گیا ہے، پشاور ہائیکورٹ نے سنی اتحاد کونسل کی درخواست خارج کر دیا ہے،پشاور ہائیکورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے محفوظ فیصلہ سنادیا ،پانچ رکنی بینچ نے سنی اتحاد کونسل کا کیس خارج کردیا

    عبدالقوی باز نہ آئے، ایک اور نازیبا ویڈیو وائرل

    مفتی قوی نے مجھے گاڑی میں نشانہ بنایا،غلط کام کیا:حریم شاہ نے شرمناک حرکتوں کوبیان کرتے ہوئے شرم نہ کی

    میرا وجود ،میرا جسم ….. نازیبا ویڈیو کے بعد مفتی عبدالقوی کی ایک اور ویڈیو آ گئی

    مفتی عبدالقوی کا ایک اور بڑا دھماکہ،اللہ سے وعدہ، اب یہ کام نہیں کریں گے

  • علی امین گنڈاپور کو نااہل قرار دینے کی درخواست قابل سماعت قرار

    علی امین گنڈاپور کو نااہل قرار دینے کی درخواست قابل سماعت قرار

    الیکشن کمیشن نے وزیر اعلی خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کو نااہل قرار دینے کی درخواست قابل سماعت قرار دے دی،علی امین گنڈا پور کی نااہلی کے خلاف درخواست پر اگلی سماعت 26 مارچ کو ہو گی۔ الیکشن کمیشن نے علی امین گنڈا پور کو نوٹس جاری کردیا ہے

    الیکشن کمیشن کے دو رکنی بینچ نے مختصر تحریری فیصلہ جاری کیا ہے،فیصلے میں کہا گیا ہے کہ درخواست پر ابتدائی سماعت کی گئی، کمیشن کو بتایا گیا کہ ڈی آئی خان میں 735 کنال علی امین گنڈاپور کے نام پر عارضی طور پر ٹرانسفر کی گئی،فیصلے کے مطابق زمین کے اصل مالک آصف خان تھے، علی امین گنڈاپور کی 2020 کے اثاثوں کی تفصیلات کے مطابق انہوں نے لینڈ کروزر گاڑی اسی زمین کو بیچ کر حاصل کی تھی،غلط بیانی پر علی امین گنڈاپور صوبائی اسمبلی کی نشست کے اہل نہیں،الیکشن کمیشن نے وزیراعلی خیبر پختوانخوا علی امین کو نوٹس جاری کردیا ہے،علی امین گنڈاپور کو 26 مارچ کو ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر کے سامنے پیش ہونے کیلئے نوٹس جاری کیا گیا ہے،

    واضح رہے کہ وزیراعلی خیبرپختوانخوا کیخلاف اثاثے چھپانے کی درخواست الیکشن کمیشن کو موصول ہوئی تھی

  • ہمیں پارلیمان میں بات کرنے کا موقع نہیں دیا جاتا،بیرسٹر گوہر

    ہمیں پارلیمان میں بات کرنے کا موقع نہیں دیا جاتا،بیرسٹر گوہر

    تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج دو گواہان پر جرح مکمل ہوئی، 7 گواہان میں سے 6 گواہان کے بیانات قلمبند ہو چکے ہیں،

    بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کی طبعیت ٹھیک ہے،ملاقاتوں پر پابندی عائد ہے لیکن ہم نے درخواست کی تھی ، ملاقات میں پارٹی سے متعلق امور پر بات چیت ہوئی ہے،سینٹ کے انتخابات کا اعلان ہوا ہے 15 اور 16 کو انتخابات ہوں گے،امیدواران کے حوالے سے بات چیت ہوئی ہے اس پر پارٹی فائنل فیصلہ کرے گی ،وفاقی کابینہ میں نگران حکومت کے لوگوں کو شامل کیا گیا ہے،نگران حکومت ایک سیاسی جماعت کے پیچھے بنے اور اب بڑے عہدوں پر بیٹھے ہوئے ہیں ، موجودہ حکومت کی کوئی اخلاقی حیثیت نہیں رہی، اس کی مذمت کرتے ہیں ،حکومت ہمیں پیچھے دھکیل رہی ہے اور کوریج کو بھی محدود کر دیا گیا ، دہشت گردی ایک سیریس مسئلہ ہے، بانی پی ٹی آئی سے ملاقات میں ہمیں اعتماد میں لینا ہو گا ،ہم مذاکرات پر یقین رکھتے ہیں، ہمیں پارلیمان میں بات کرنے کا موقع نہیں دیا جاتا،

    عمران خان جیل میں شاہانہ زندگی گزار رہے ہیں، وفاقی وزیر اطلاعات

    عمران خان سے ملاقات نہ کرانے پر توہین عدالت کی درخواست، نوٹس جاری

    اب بتا رہا ہوں پاکستان میں سری لنکا والا کام ہونے جا رہا ، کوئی ڈیل کی بات نہیں ہو رہی، عمران خان

  • پولیس کے لئے  جدید آلات خریداری کے لئے تین ارب جاری کرنیکا فیصلہ

    پولیس کے لئے جدید آلات خریداری کے لئے تین ارب جاری کرنیکا فیصلہ

    وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور کی زیر صدارت امن و امان سے متعلق اہم اجلاس ہوا

    چیف سیکرٹری اور آئی جی پی کے علاوہ دیگر متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی،متعلقہ حکام کی جانب سے وزیر اعلیٰ کو صوبے میں امن و امان کی مجموعی صورتحال، چیلنجز، آئیندہ کے لائحہ عمل اور دیگر معاملات پر بریفنگ دی گئی،

    پولیس کو مستحکم کرنے کے لئے وزیر اعلیٰ کا اہم اقدام سامنے آیا ہے،پولیس کے لئے بکتر بند گاڑیاں، اسلحہ اور دیگر جدید آلات خریداری کے لئے تین ارب روپے کا فنڈ جاری کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے،وزیر اعلیٰ نےپولیس شہداء کے ورثاء کو رمضان پیکج میں شامل کرنے کا اعلان کیا ہے،صوبائی حکومت کے رمضان پیکج کے تحت پولیس شہداء کے ورثاء کو 10، 10 ہزار روپے نقد دیئے جائیں گے،پولیس شہداء کے بچوں کے لئے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کا بڑا فیصلہ سامنے آیا ہے،شہداء کوٹہ کے تحت تمام شہداء کے بچوں کو پولیس میں بھرتی کرنے کے لئے ون ٹائم کوٹہ مقرر کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ اس مقصد کے لئے کابینہ کی منظوری کے لئے کیس تیار کیا جائے، ون ٹائم کوٹہ مقرر کرنے سے شہداء کوٹہ کے تحت بھرتی کے منتظر تمام شہداء کے بچے بیک وقت بھرتی ہوسکیں گے۔ شہداء کوٹہ کم ہونے کی وجہ سے پولیس شہداء کے بچے کئی سالوں سے بھرتی کے منتظر ہیں۔ صوبے کے تمام ڈویژنل ہیڈکوارٹرز میں سیف سٹی پراجیکٹ شروع کرنے پر کام کیا جائے.

    اجلاس میں اہم شخصیات اور تنصیبات کی سکیورٹی کے لئے پولیس کے اندر سکیورٹی ڈویژن کے قیام سے متعلق امور پر بھی غوروخوص کیا گیا،وزیر اعلیٰ نے متعلقہ حکام کو اہم شخصیات کو سکیورٹی دینے سے متعلق ایک قابل عمل پالیسی تشکیل دینے کی ہدایت کی اور کہا کہ امن و امان صوبائی حکومت کی ترجیحات میں سرفہرست ہے،امن و امان پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، موجودہ صورتحال سے بہتر انداز میں نمٹنے کے قابل بنانے کے لئے پولیس کو ہر لحاظ سے مستحکم بنایا جائے گا،اس مقصد کے لئے پولیس کو درکار مالی وسائل ترجیحی بنیادوں پر فراہم کئے جائیں گے،

  • 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کیس کی اڈیالہ جیل میں سماعت 16 مارچ تک ملتوی

    190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کیس کی اڈیالہ جیل میں سماعت 16 مارچ تک ملتوی

    190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کیس کی سماعت اڈیالہ جیل میں ہوئی

    کیس کی سماعت احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے کی،بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کے وکلاء بیرسٹر سلمان صفدر، بیرسٹر علی ظفر، عثمان گل اور ظہیر عباس چودھری عدالت میں پیش ہوئے،بانی پی ٹی آئی کی ہمشیرہ علیمہ خان بھی کمرہ عدالت میں موجود تھیں،جیل حکام نے صرف 6 وکلاء کو اندر جانے کی اجازت دے دی۔جیل حکام نے صرف 6 صحافیوں کو پروسیڈنگز کور کرنے کی اجازت دی۔شاہ محمود قریشی کی اہلیہ، بیٹا اور بیٹی بھی ملاقات کیلئے جیل کے باہر موجود تھے،میڈیا کو جیل سے دو کلو میٹر دور کوریج کی اجازت دی گئی ہے۔جیل کے اندر اور اطراف سیکورٹی سخت کردی گئی ہے۔وکلاء کی بڑی تعداد جیل کے باہر موجودتھی،

    190 ملین پاؤنڈ اسکینڈل ریفرنس کیس کی سماعت 16 مارچ تک ملتوی کر دی گئی،عدالت نے نیب کے تین گواہان کے بیانات قلمبند کرلئے۔گواہان کا تعلق فارن آفس، اسٹیٹ بینک، کیبنیٹ ڈویژن اور القادر یونیورسٹی سے ہے۔بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کمرہ عدالت میں موجود تھے۔نیب کے پراسیکیوٹر عرفان بھولا ٹیم کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے۔کیس کی سماعت احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے کی۔دوران سماعت وکلاء کے تاخیر سے آنے پر عدالت نے برہمی کا اظہارکیا،بیرسٹر سلمان صفدر نے عدالت میں کہا کہ صبح دس بجے سے آئے ہوئے ہیں اندر آنے کی اجازت نہیں دی گئی، ہمیں جیل کے اندر پوری دستاویزات لانے کی بھی اجازت نہیں،

    دوسری جانب مشعال یوسفزئی نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ ہم صبح 9 بجے سے اڈیالہ جیل کے باہر موجود ہیں ہمیں اندر جانے نہیں دِیا جارہا ہے۔ باقی روٹین کی موومنٹ چل رہی ہے ، مخالف وکیل ،پراسیکیوٹر سب پروٹوکول کے ساتھ اندر باہر جارہے ہیں، شاید ہم ہی وہ دہشت گرد ہیں جس سے اڈیالہ جیل کو خطرہ ہے اور جس سے پنجاب کی مینڈیٹ چور چیف منسٹر خوف کا شکار ہے۔عمران خان جیل میں بیٹھ کر اس ملک کے پورے نظام پر بھاری ہے۔

    عمران خان جیل میں شاہانہ زندگی گزار رہے ہیں، وفاقی وزیر اطلاعات

    عمران خان سے ملاقات نہ کرانے پر توہین عدالت کی درخواست، نوٹس جاری

    اب بتا رہا ہوں پاکستان میں سری لنکا والا کام ہونے جا رہا ، کوئی ڈیل کی بات نہیں ہو رہی، عمران خان
    سابق وزیراعظم عمران خان نےاڈیالہ جیل میں میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سب کچھ جھوٹ پر چل رہا ہے،الیکشن نتائج فراڈ جاری ہوئے،اداروں کی ساکھ ختم کر دی گئی،سیکورٹی تھریٹ فریب اور جھوٹ ہے،سارا ملک جھوٹ پر چل رہا ہے،ادارے تباہ ہو چکے ہیں،انتخابات میں پی ٹی آئی کو میدان میں نہیں آنے دیا گیا،ووٹر نے پولنگ ڈے پر ان سے بدلہ لیا،لیکن ووٹ کے ذریعے تبدیلی کو تسلیم نہیں کیا گیا،انھوں نے مینڈیٹ چھین کر قوم کی امید ختم کر دی ہے،میری ساری پیشگوئیاں سچ ثابت ہوئیں،اب بتا رہا ہوں پاکستان میں سری لنکا والا کام ہونے جا رہا ہے
    کوئی ڈیل کی بات نہیں ہو رہی،وکلا تک سے ملاقاتیں بند کر دی گئی ہیں،اب مہنگائی میں اضافہ ہو گا،عوام باہر نکلے گی
    ہمارا پرامن احتجاج کا سلسہ جاری رہے گا،ہم انتخابات میں دھاندلی کے خلاف سپریم کورٹ بھی جائیں گے ،سینٹ الیکشن میں پھر پیسہ چلنے والا ہے،گزشتہ سینٹ انتخابات میں گیلانی کا بیٹا پکڑا گیا،آج تک سزا نہیں ہوئی

  • کیا سنی اتحاد کونسل کا کوئی امیدوار کامیاب ہوا تھا؟  عدالت کا استفسار

    کیا سنی اتحاد کونسل کا کوئی امیدوار کامیاب ہوا تھا؟ عدالت کا استفسار

    پشاور ہائی کورٹ ، مخصوص نشستوں سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران سنی اتحاد کونسل کے وکیل نے تیاری کے لیے وقت مانگ لیا

    جسٹس اشتیاق ابراہیم کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بینچ نے سماعت کی، بینچ میں جسٹس اعجاز انور، جسٹس ایس ایم عتیق شاہ، جسٹس شکیل احمد اور جسٹس سید ارشد علی شامل ہیں۔سنی اتحاد کونسل کی جانب سے قاضی انور، اعظم سواتی عدالت میں پیش ہوئے ، پیپلز پارٹی کے نیئر بخاری، فیصل کریم کنڈی اور فاروق ایچ نائیک عدالت میں پیش ہوئے، سنی اتحاد کونسل کے وکیل قاضی انور ایڈووکیٹ نے دلائل دیئے،جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ کیا سنی اتحاد کونسل کا کوئی امیدوار کامیاب ہوا تھا؟ جسٹس ارشد علی نےکہا کہ سنی اتحاد کونسل کے چیئرمین نے تو خود آزاد حیثیت میں الیکشن لڑا، قاضی انور نے کہا کہ بالکل انکا کوئی امیدوار بھی کامیاب نہیں ہوا، آزاد امیدواروں نے قانون کے مطابق 3 روز میں سنی اتحاد کونسل جوائن کی،

    سنی اتحاد کونسل کے وکیل قاضی انور ایڈووکیٹ نے کہا کہ ہم نے سنی اتحاد کونسل کو جوائن کرنے کے بعد لسٹ دی، جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ مخصوص نشستیں خالی چھوڑ دی جائیں تو پھر پارلیمنٹ مکمل نہیں ہو گی،قاضی انور نے کہا کہ مخصوص نشستیں دوسری پارٹیوں کو نہیں دی جا سکتیں، اگلے الیکشن تک خالی رہیں گی،عدالت نے کہا کہ اٹارنی جنرل بھی پہنچ گئے، بیرسٹر ظفر نہیں آئے،سنی اتحاد کونسل کے وکیل قاضی انور ایڈووکیٹ نے استدعا کی کہ مجھے وقت دیں کہ میں تھوڑی تیاری کر لوں،جسٹس اشتیاق ابراہیم نے سنی اتحاد کونسل کے وکیل قاضی انور ایڈووکیٹ سے کہا کہ آپ ہر وقت تیار رہتے ہیں، ہم انٹیرم ریلیف واپس لے لیں گے،پیپلز پارٹی کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ کل سینیٹ کے انتخابات بھی ہیں

    کیا سنی اتحاد کونسل کو سیاسی جماعت تصور کیا جا رہا ہے؟ عدالت
    اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سنی اتحاد کونسل نے الیکشن میں حصہ نہیں لیا، سیاسی جماعت انتخابات میں نشستیں لینے کے بعد پارلیمانی جماعت بن جاتی ہے۔عدالت نے کہا کہ مخصوص نشستوں کیلئے لسٹ فراہمی کا طریقہ کار الیکشن ایکٹ میں موجود نہیں ہے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ اسمبلی میں مکس ممبران کی نمائندگی کا قانون ہے، اسمبلی میں خواتین اور اقلیتوں کو نمائندگی دی گئی ہے، سیاسی جماعتوں کو الیکشن سے قبل مخصوص نشستوں کی لسٹ جمع کروانی پڑتی ہے، جنرل الیکشن میں درخواست گزار پارٹی نے حصہ نہیں لیا،عدالت نے کہا کہ لسٹ کا طریقہ کار قانون میں واضح نہیں، کیا سنی اتحاد کونسل کو سیاسی جماعت تصور کیا جا رہا ہے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ ا لیکشن کمیشن کے متعدد سیکشنز کے مطابق سنی اتحاد کونسل ایک سیاسی جماعت ہے یا نہیں یہ دیکھنا ہے، قانون کے مطابق جو سیاسی پارٹی جنرل الیکشن میں حصہ لے، کوئی سیٹ جیتے تو مخصوص نشستیں اسے ملیں گی، سیاسی پارٹی جب کوئی سیٹ جیت جائے اور پھر آزاد امیدوار شمولیت اختیار کریں تب ہی اسے مخصوص نشستوں کا فائدہ ہو گا، عدالت نے کہا کہ آپ کے دلائل کے مطابق سنی اتحاد کونسل ایک سیاسی جماعت نہیں؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ جنرل سیٹ جیتنے کے تناسب سے سیاسی جماعتوں کو مخصوص نشستیں دی جاتی ہیں، عدالت نے اٹارنی جنرل کو ہدایت کی کہ آرٹیکل 15 ڈی پر بحث کریں تاکہ واضح ہو جائے، کیا سنی اتحاد کونسل ایک پارٹی ہے یا نہیں؟ کیا وہ صدارتی، سینیٹ، اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے الیکشن میں حصہ لے سکتی ہے؟ کیا سنی اتحاد کونسل اپوزیشن لیڈر بنا سکتی ہے؟

    سنی اتحاد کونسل سیاسی پارٹی ہے لیکن پارلیمانی پارٹی نہیں کیونکہ کوئی سیٹ نہیں جیتی،اٹارنی جنرل
    اٹارنی جنرل نے کہا کہ قانون میں سیاسی جماعت کو کم از کم جنرل الیکشن میں سیٹ جیتنا لازمی ہے،عدالت نے کہا کہ مخصوص نشستوں کا ایسا کیس کبھی سامنے نہیں آیا ہے، یہ کیس اپنی نوعیت کا پہلا کیس ہے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ مخصوص نشستیں اس جماعت کو ملیں گی جس کی پارلیمنٹ میں نمائندگی ہو،عدالت نے کہا کہ ایک اور قانون بھی ہے کہ آزاد امیدواروں کو 3 دن کے اندر کسی جماعت میں شمولیت اختیار کرنی ہو گی، پارلیمنٹ میں نمائندگی نہ رکھنے والی پارٹی میں کوئی آزاد امیدوار چلا جائے تو کیا ہو گا؟ الیکشن کمیشن کے ایکٹ 2017 کو پاس کرتے وقت پارلیمنٹ مخصوص نشستوں کا معاملہ زیر غور نہیں لائی تھی، اٹارنی جنرل نے کہا کہ لسٹ جمع کرنا کسی سیاسی جماعت کیلئے لازمی ہوتا ہےالیکشن سے قبل لسٹ جمع کرانا لازمی ہوتا ہے، مخصوص نشستوں کو شائع کیا جاتا ہے، ووٹر مخصوص نشستوں کی لسٹ دیکھ کر کسی امیدوار یا جماعت کو ووٹ دیتا ہے،عدالت نے استفسار کیا کہ اگر کوئی جماعت مخصوص نشستوں کی لسٹ جمع نہ کرائے؟ اگر وہ جماعت پاکستان کی بڑی جماعت ہو تو الیکشن ایکٹ اس معاملے میں کیا کہتا ہے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہر سیاسی جماعت لسٹ جمع کراتی ہے الیکشن سے قبل کیونکہ اسے یقین ہوتا ہے کہ وہ یہ مخصوص نشستیں بھی حاصل کریگی، کسی بھی جماعت کو مخصوص نشستیں لسٹ کے مطابق ملتی ہیں، اگر کوئی آزاد حیثیت برقرار رکھنا چاہتا ہے تو مخصوص نشستوں کے حصول سے انہیں نکالا جائے گا،جسٹس ارشد علی نے کہا کہ اب تو یہ صورتحال ہے کہ آزاد امیدواروں نے پارٹی جوائن کر رکھی ہے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ یہ جنرل سیٹس کے علاوہ مخصوص نشستوں کا سوچ بھی نہیں سکتے،جسٹس عتیق شاہ نے اسفتسار کیا کہ سنی اتحاد کونسل الیکشن کمیشن کے پاس رجسٹرڈ ہے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ یہ سیاسی پارٹی ہے لیکن پارلیمانی پارٹی نہیں کیونکہ کوئی سیٹ نہیں جیتی،جسٹس ارشد علی نے کہا کہ قانون میں اس بات کا ذکر تو نہیں،اٹارنی جنرل نے کہا کہ الیکشن ایکٹ میں یہ بات واضح ہے، رولز کے مطابق سیٹ جیتنے والی پارٹی کو مخصوص نشستوں کی لسٹ پہلے جمع کرانی ہوتی ہے، عدالت نے کہا کہ اگر ایک جماعت 12 اور دوسری 18 جنرل نشستیں جیت جائے؟ آزاد امیدوار 12 جنرل نشستیں جیتنے والی پارٹی میں شمولیت اختیار کر لیں تو پھر کیا ہوگا؟اس صورت میں تو وہ پارٹی آزاد امیدواروں کی شمولیت کے بعد بڑی پارٹی بن جائیگی،اٹارنی جنرل نے کہا کہ پھر بھی امیدواروں کی لسٹ جمع کرانے کی شرط پوری کرنی پڑے گی، عدالت نے کہا کہ کیا آپ مزید کچھ کہنا چاہتے ہیں؟ اگر آزاد امیدوار کسی پارٹی میں شمولیت اختیار کر لیں تو کیا اس کو مخصوص نشستیں نہیں دی جا سکتیں؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ دی جاسکتی ہیں لیکن اگر پارلیمان میں اس پارٹی کی کوئی نمائندگی ہو تب، اٹارنی جنرل کے دلائل مکمل ہو گئے.

    الیکشن کمیشن کے وکیل سکندر بشیر مہمند کے دلائل شروع ہو گئے، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ اٹارنی جنرل کے دلائل کو سپورٹ کرتا ہوں، سنی اتحاد کونسل سیکشن 51 ڈی کے مطابق ایک سیاسی جماعت نہیں،سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہیں دی جا سکتیں، مخصوص نشستوں کے امیدوار پورے صوبے کی نمائندگی کرتے ہیں، مخصوص نشستوں کیلئے 3 مختلف سیکشنز پورے کرنے لازمی ہوتے ہیں، اگر کوئی جماعت اس میں ایک بھی پورا نہ کرے تو وہ سیاسی جماعت تصور نہیں ہو گی، قانون کے مطابق مخصوص نشستیں اس جماعت کو ملیں گی جو الیکشن میں حصہ لے گی، اپنی پارٹی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑنے والی جماعت کو ہی مخصوص نشستیں ملیں گی، سنی اتحاد کونسل کے چیئرمین نے خود بطور آزاد امیدوار الیکشن میں حصہ لیا، اگر سنی اتحاد کونسل کے چیئرمین نے بطور آزاد امیدوار الیکشن میں حصہ لیا تو اس کا کیا مطلب ہوا، کسی جماعت کو تب ہی مخصوص نشستیں ملیں گی جب کم از کم ایک جنرل نشست جیت جائے، پولیٹیکل پارٹی جس کی پارلیمنٹ میں نمائندگی ہو اسے مخصوص نشستیں ملیں گی، آرٹیکل 51 d اور سیکشن 104 کہتا ہے کہ ایک جنرل نشست ہوگی تو ان کو ملے گی،کاغذات نامزدگی کے آخری دن سے پہلے مخصوص نشستوں کی لسٹ بھی دینی ہوتی ہے، سنی اتحاد کونسل کی کوئی جنرل نشست نہیں ہے اور نہ مخصوص لسٹ پہلے جمع کرائی ہے، قانون میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے لیکن ابھی یہ مسئلہ حل کرنا ہوگا، : تشریح یہی ہے کہ کم از کم ایک سیٹ جیتنی لازمی ہے، اب یہ فیصلہ بنچ نے کرنا ہے کہ تشریح درست ہے یا نہیں

    مخصوص نشستیں اسی پارٹی کو ملتی ہیں جو الیکشن لڑتی ہے، فاروق ایچ نائیک
    فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ مخصوص نشستیں اسی پارٹی کو ملتی ہیں جو الیکشن لڑتی ہے، جب کوئی پارٹی انتخابات میں حصہ نہیں لیتی تو لسٹ کیوں دے گی،مخصوص نشستوں کی فہرست میں اس وقت اضافہ ہوگا جب اس میں نام کم پڑتے ہیں، کوئی فہرست نہ دینے کی صورت میں پارٹی مقابلے سے باہر ہو جاتی ہے، فاروق ایچ نائک کے دلائل مکمل ہو گئے

  • یاسمین راشد کی ضمانت کی درخواست پر دلائل طلب

    یاسمین راشد کی ضمانت کی درخواست پر دلائل طلب

    انسداددہشت گردی عدالت لاہور،نو مئی واقعات میں گرفتار پی ٹی آئی رہنما ڈاکٹر یاسمین راشد کی بعد از گرفتاری درخواست ضمانت پر سماعت ہوئی

    انسداددہشت گردی عدالت کے جج ارشد جاوید نے کیس پر سماعت کی،عدالت نے آئندہ سماعت پر وکلاء سے دلائل طلب کر لیے،عدالت نے کیس کی سماعت 19 مارچ تک ملتوی کر دی،ڈاکٹر یاسمین راشد نے جیل سے بعدازگرفتاری دائر کر رکھی ہیں،ڈاکٹر یاسمین راشد کے خلاف تھانہ ماڈل ٹاون پولیس نے مقدمہ درج کر رکھا ہے

    لاہور: ڈاکٹر یاسمین راشد نے دہشت گردی کے مقدمے میں چالان کی کاپیاں صاف نہ دینے کا اقدام ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا .درخواست میں تفتیشی افسر سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے، درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ ٹرائل کورٹ نے صاف کاپیاں فراہم کرنے کی درخواست خارج کردی،چالان کے ساتھ گواہان کے ناموں کی لسٹ نہیں لگائی گئی،چالان کی نامکمل کاپی درخواست گزار کو فراہم کی گئی،صاف کاپیاں فراہم نہ کرنے کا اقدام بنیادی حقوق کی خلاف وزری ہے،عدالت چالان کی صاف کاپیاں فراہم کرنے کا حکم دے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    چلڈرن ہسپتال کا کوکلیئر امپلانٹ کے تمام اخراجات برداشت کرنے کافیصلہ،ڈاکٹر جاوید اکرم

  • وزیر اعلیٰ کے پی  کو وفاق کے ذمے صوبے کے واجبات اور دیگر مالی امور پربریفنگ

    وزیر اعلیٰ کے پی کو وفاق کے ذمے صوبے کے واجبات اور دیگر مالی امور پربریفنگ

    وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور کی زیر صدارت وفاق سے جڑے صوبے کے مالی معاملات سے متعلق اہم اجلاس ہوا،

    متعلقہ حکام کی جانب سے وزیر اعلیٰ کو وفاق کے ذمے صوبے کے واجبات اور دیگر مالی امور پر تفصیلی بریفنگ دی گئی،وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور نے متعلقہ حکام کو یہ معاملات وفاقی حکومت کے ساتھ اٹھانے کے لئے لائحہ عمل ترتیب دینے کی ہدایت کر دی،اور کہا کہ ایک مہینے کے اندر اس سلسلے میں ہوم ورک مکمل کرکے پلان آف ایکشن مرتب کیا جائے،وفاق سے جڑے صوبے کے مالی معاملات کا کیس مؤثر انداز میں پیش کرنے کے لئے تمام متعلقہ دستاویزات تیار رکھی جائیں، صوبے کے واجبات اور آئینی حقوق کے لئے تمام دستیاب فورمز پر بھر پور آواز اٹھائی جائے گی، وفاقی حکومت کے ساتھ معاملہ موثر انداز میں اٹھانے کے لئے ماہرین کی خدمات حاصل کی جائیں،وفاق سے شنوائی نہ ہونے کی صورت میں عدالتوں کا دروازہ بھی کھٹکھٹایا جائے گا،

    اجلاس میں دوران بریفنگ بتایا گیا کہ اے جی این قاضی فارمولہ کے تحت پن بجلی کے خالص منافع جات کی مد میں وفاق کے ذمے 1510 ارب روپے واجب الادا ہیں،نیشنل گرڈ کو بیچی جانے والی صوبائی حکومت کی بجلی کی مد میں چھ ارب روپے بقایا جات ہیں،سابقہ قبائلی اضلاع کا صوبے کے ساتھ انتظامی انضمام ہوگیا ہے مگر مالی انضمام نہیں ہوا، سابقہ قبائلی اضلاع کے انضمام سے صوبے کی آبادی میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے، صوبے کی موجودہ آبادی کے تناسب سے این ایف سی میں صوبے کا شیئر 19.64 فیصد بنتا ہے، جبکہ صوبے کو اس وقت این ایف سی کا صرف 14.16 فیصد شیئر ملتا ہے،صوبے کی موجودہ آبادی کے حساب سے صوبے کو این ایف سی میں سالانہ 262 ارب روپے ملنے چاہئیں، ضم اضلاع کے دس سالہ ترقیاتی پلان کے تحت صوبے کو 500 ارب روپے کے مقابلے میں اب تک صرف 103 ارب روپے ملے ہیں،

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    چلڈرن ہسپتال کا کوکلیئر امپلانٹ کے تمام اخراجات برداشت کرنے کافیصلہ،ڈاکٹر جاوید اکرم

  • پشاورہائیکورٹ،ایک اور پی ٹی آئی رہنما کی ضمانت منظور

    پشاورہائیکورٹ،ایک اور پی ٹی آئی رہنما کی ضمانت منظور

    پشاور ہائیکورٹ ،پی ٹی آئی رہنما شبلی فراز کی راہداری ضمانت کے لئے دائر درخواستوں پر سماعت ہوئی

    سماعت چیف جسٹس محمد ابراہیم خان نے کی،عدالت نے شبلی فراز کی راہداری ضمانت کی درخواست منظور کر لی، عدالت نے شبلی فراز کو 20 دن میں متعلقہ عدالتوں میں پیش ہونے کا حکم دے دیا، وکیل درخواست گزار نے کہا کہ شبلی فراز کے خلاف 20 سے زائد مختلف نوعیت کے مقدمات درج کئے گئے ہیں۔شبلی فراز  متعلقہ عدالتوں میں پیش ہونا چاہتے ہیں لیکن گرفتاری کا خدشہ ہے۔شبلی فراز کے خلاف اسلام آباد, راولپنڈی, اور پنجاب کے دیگر شہروں میں 20 مقدمات درج ہیں۔

    عدالت نے شبلی فراز کی راہداری ضمانت منظور کرلی،عدالت نے ایک لاکھ روپے کے مچلکوں پر ضمانت دے دی۔عدالت نے شبلی فراز کو 20 دن میں متعلقہ عدالتوں میں پیش ہونے کا حکم دے دیا،

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    چلڈرن ہسپتال کا کوکلیئر امپلانٹ کے تمام اخراجات برداشت کرنے کافیصلہ،ڈاکٹر جاوید اکرم