Baaghi TV

Tag: تحریک انصاف

  • اعجاز چودھری کے تصدیق  و تائید کنندہ کو ہراساں کرنے سے روکنے کی درخواست  دائر

    اعجاز چودھری کے تصدیق و تائید کنندہ کو ہراساں کرنے سے روکنے کی درخواست دائر

    لاہور ہائیکورٹ: اعجاز چوہدری کے کاغذات نامزدگی میں تصدیق کنندہ اور تائید کنندہ کو ہراساں کرنے کا معاملہ ،تصدیق اور تائید کنندہ کو ہراساں کرنے سے روکنے کی درخواست لاہور ہائیکورٹ میں دائر کر دی گئی

    درخواست حورم علی نے لاہور ہائیکورٹ میں دائر کی ، درخواست میں‌موقف اختیار کیا گیا کہ اعجاز چوہدری نے این اے 127 سے کاغذات نامزدگی جمع کروائے ،اعجاز چوہدری کے تصدیق کنندہ اور تائید کنندہ کو پولیس ہراساں کررہی ہے، اعجاز چوہدری کی 28 دسمبر کو کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال ہے، عدالت تصدیق کنندہ اور تائید کنندہ کو ہراساں کرنے سے روکنے کا حکم دے،

    دوسری جانب لاہور ہائیکورٹ، وزیر آباد سے تحریک انصاف کے پی پی 35 سے امیدوار احمد علی کی عبوری ضمانت پر سماعت ہوئی،عدالت نے درخواست گزار کی 8جنوری تک عبوری حفاظتی ضمانت منظور کر لی،عدالت نے درخواست گزار کو متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی،جسٹس علی باقر نجفی نے احمد علی کی درخواست پر سماعت کی،درخواست میں‌مؤقف اختیار کیا گیا کہ اسکے خلاف نو مئی واقعات پر ملزمان کو سہولت کاری دینے الزامات پر مقدمہ درج کر لیا گیا ۔اس نے عدالت کے حکم پر کاغذات نامزدگی جمع کرائے،اب سیکروٹنی کے لیے پیش ہونا ہے،خدشہ ہے پولیس گرفتار کر لے گی، عدالت ٹرائل کورٹ رسائی تک حفاظتی ضمانت منظور کرے۔

    لطیف کھوسہ، چیئرمین سینیٹ بھی لڑیں گے الیکشن، کاغذات نامزدگی جمع کروانے کا سلسلہ جاری

    عام انتخابات،سیاسی رہنمامیدان میں آ گئے،مولانا،نواز،بلاول،شہباز کہاں سے لڑینگے الیکشن؟

     الیکشن کمیشن کو تمام شکایات پر فوری ایکشن لیکر حل کرنے کا حکم

    کاغذات نامزدگی جمع کرانے کے وقت میں 2 دن کا اضافہ 

    ن لیگ کے محسن رانجھا نے پی ٹی آئی والوں پر پرچہ کٹوا دیا .

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

    عام انتخابات کے دن قریب آئے تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ 

  • "بلے” کا نشان،الیکشن کمیشن اپیل کرے گا یا نہیں؟ فیصلہ نہ ہو سکا

    "بلے” کا نشان،الیکشن کمیشن اپیل کرے گا یا نہیں؟ فیصلہ نہ ہو سکا

    پشاور ہائیکورٹ کی طرف سے تحریک انصاف کے انتخابی نشان بحالی کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کرنی ہے یا نہیں الیکشن کمیشن فیصلہ نہ کرسکا. کل دوبارہ اجلاس بلالیا گیا ۔

    ذرائع کے مطابق بدھ کو الیکشن کمیشن آف پاکستان کی ایک طویل میٹنگ ہوئی جس میں پشاور ہائی کورٹ کے پی ٹی آئی کے انتخابی نشان دینے کے فیصلے کے بارے میں غور کیا گیا کمیشن نے اس سلسلے میں کل دوبارہ اہم میٹنگ کرنے کا فیصلہ کیا۔

    الیکشن کمیشن ابھی تک تحریک انصاف کی مخصوص نشستوں پر ترجیحی فہرست کا کوئی فیصلہ نہ کر سکا ،الیکشن کمیشن کو عدالت کے مصدقہ فیصلے کی کاپی کا انتظارہے،تحریک انصاف کی قومی، صوبائی اور اقلیتی نشستوں پر امیدواروں کی سکروٹنی کب کرنی ہے؟ ابھی تک فیصلہ نہیں ہو سکا، الیکشن کمیشن ذرائع کے مطابق الیکشن کمیشن حکام کل حتمی فیصلہ کریں گے

    واضح رہے کہ الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کا انتخابی نشان بلا واپس لے لیا تھا، تحریک انصاف نے پشاور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی، جس پر عدالت نے پی ٹی آئی کو انتخابی نشان بلا واپس دینے کا حکم دیا تھا ،تاہم ابھی تک پی ٹی آئی کو انتخابی نشان نہیں مل سکا، الیکشن کمیشن کی جانب سے پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل کا بھی امکان ہے تو وہیں بانی رہنما تحریک انصاف اکبر ایس بابر نے بھی پشاور ہائیکورٹ کے اس فیصلے کو چیلنج کرنے کا اعلان کر رکھا ہے.
    رپورٹ،محمد اویس، اسلام آباد

    لطیف کھوسہ، چیئرمین سینیٹ بھی لڑیں گے الیکشن، کاغذات نامزدگی جمع کروانے کا سلسلہ جاری

    عام انتخابات،سیاسی رہنمامیدان میں آ گئے،مولانا،نواز،بلاول،شہباز کہاں سے لڑینگے الیکشن؟

     الیکشن کمیشن کو تمام شکایات پر فوری ایکشن لیکر حل کرنے کا حکم

    کاغذات نامزدگی جمع کرانے کے وقت میں 2 دن کا اضافہ 

    ن لیگ کے محسن رانجھا نے پی ٹی آئی والوں پر پرچہ کٹوا دیا .

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

    عام انتخابات کے دن قریب آئے تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ 

  • توہین الیکشن کمیشن، عمران خان،فواد چودھری پر فردجرم کی کاروائی ایک بار پھر مؤخر

    توہین الیکشن کمیشن، عمران خان،فواد چودھری پر فردجرم کی کاروائی ایک بار پھر مؤخر

    توہین الیکشن کمیشن کیس کی سماعت بغیر کارروائی 3 جنوری تک ملتوی کر دی گئی،

    عمران خان اور فواد چوہدری پر فردجرم عائد نہ ہو سکی،فواد چودھری کے وکیل فیصل فرید چودھری عدالت پیش ہوئے،بانی پی ٹی آئی کے وکیل شعیب شاہین کاغذات نامزدگی کی سکروٹنی کے باعث پیش نہ ہو سکے ،الیکشن کمیشن نے توہین کیس میں سماعت بغیر کاروائی ملتوی کردی ،توہین الیکشن کمیشن کیس کی سماعت تین جنوری تک ملتوی کر دی گئی،

    فواد چوہدری کے بھائی فیصل چوہدری نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ عمران خان کا کہنا تھا کہ پارٹی کو ٹارگٹ کیا جارہا ہے کیس کا ریکارڈ اور آرڈر شیٹ موجود نہیں ہے فواد چوہدری کے تجویز کنندہ اور تائید کنندہ کو دھمکایا جارہا ہےسکروٹنی کے عمل میں بھی مشکلات کا سامنا ہے توہین الیکشن کمیشن کے اوپن ٹرائل کا بھی مطالبہ کیا گیا الیکشن کمیشن جا کر بھی اپنی معروضات پیش کریں گے فواد چوہدری کے جہلم کے دو حلقوں سے کاغذاتِ نامزدگی جمع کروائے گئے ہیں، سماعت ہے بعد الیکشن کمیشن کا لاؤ لشکر اڈیالہ جیل سے واپس روانہ ہو گیا

    توہین الیکشن کمیشن میں جیل ٹرائل کے خلاف بانی پی ٹی آئی عمران خان کی درخواست

    الیکشن کمیشن نے فیصلے میں کہا کہ کیس کا ٹرائل اڈیالہ جیل میں ہوگا

     وزارت داخٰلہ اجازت دے گی چیئرمین پی ٹی آئی کیس کی جیل میں سماعت کرلیں،

     ہم چیئرمین پی ٹی آئی پر فردجرم عائد کردیں گے دفاع میں جو پیش کرنا چاییں آپ کی مرضی

  • مشتاق غنی کی حفاظتی ضمانت کی درخواست،عدالت کا پاسپورٹ جاری کرنیکا حکم

    مشتاق غنی کی حفاظتی ضمانت کی درخواست،عدالت کا پاسپورٹ جاری کرنیکا حکم

    پشاور ہائی کورٹ نے اسپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی مشتاق غنی کی حفاظتی ضمانت کی درخواست پر سماعت ہوئی

    وکیل درخواستگزار نے عدالت میں کہا کہ مشتاق غنی بیرون ملک ہیں اور وہ آنا چاہتے ہیں لیکن خدشہ ہے کہ انہیں گرفتار کیا جائے گا، ان کا پاسپورٹ بھی زائد المعیاد ہے، لہٰذا حفاظتی ضمانت دی جائے،ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت میں کہا کہ مشتاق غنی کو ہائی کورٹ نے 27 دسمبر تک سفری ضمانت دی تھی تاہم 27 دسمبر تک حفاظتی ضمانت کے باوجود وہ عدالت میں پیش نہیں ہوئے، اگر پاسپورٹ زائد المعیاد ہے تو وہ ایف آئی اے سے رابطہ کریں،

    عدالت نے وفاقی وزارت داخلہ اور پاسپورٹ آفس کو درخواست گزار کو پاسپورٹ جاری کرنے کا حکم دیا، وکیل درخواست گزار نے کہا کہ درخواست گزار سپیکر صوبائی اسمبلی ہے پاسپورٹ کے لئے اپلائی کیا ہے لیکن ان کو پاسپورٹ جاری نہیں کیا جارہا۔ ہم نے ارجنٹ پاسپورٹ فیس بھی جمع کیا ہے, اس کے باوجود پاسپورٹ جاری نہیں کیا جارہا۔ عدالت نے استفسار کیا کہ درخواست گزار کہا ں پر ہے۔? وکیل درخواست گزار نے کہا کہ درخواست گزار لندن میں ہے, ان کا نام ای سی ایل پر ہے اور پاسپورٹ ایکسپائر ہوا ہے۔ پاسپورٹ جاری کیا جائے گا تو وہ واپس آئے گا۔درخواست گزار کو عبوری ضمانت دی جائے کہ ان کو واپسی پر گرفتار نہ کیا جائے۔ عدالت نے وفاقی وزارت داخلہ اور پاسپورٹ آفس کو درخواست گزار کو پاسپورٹ جاری کرنے کا حکم دے دیا،سماعت جسٹس کامران حیات میاں خیل نے کی.

    لطیف کھوسہ، چیئرمین سینیٹ بھی لڑیں گے الیکشن، کاغذات نامزدگی جمع کروانے کا سلسلہ جاری

    عام انتخابات،سیاسی رہنمامیدان میں آ گئے،مولانا،نواز،بلاول،شہباز کہاں سے لڑینگے الیکشن؟

     الیکشن کمیشن کو تمام شکایات پر فوری ایکشن لیکر حل کرنے کا حکم

    کاغذات نامزدگی جمع کرانے کے وقت میں 2 دن کا اضافہ 

    ن لیگ کے محسن رانجھا نے پی ٹی آئی والوں پر پرچہ کٹوا دیا .

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

    عام انتخابات کے دن قریب آئے تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ 

  • سپریم کورٹ، عمران خان کی نااہلی ختم کرنے کی اپیل پر فوری سماعت کی استدعا مسترد

    سپریم کورٹ، عمران خان کی نااہلی ختم کرنے کی اپیل پر فوری سماعت کی استدعا مسترد

    بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے توشہ خانہ کیس میں سزا معطلی درخواست کے مقرر کرنے کا معاملہ ،سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی کی سزا معطلی اپیل کو چھٹیوں میں مقرر کرنے کی استدعا مسترد کر دی

    قائمقام چیف جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ چھٹیوں میں تین رکنی بینچ دستیاب نہیں، چھٹیوں کے بعد تین رکنی بینچ اس کیس کو سنے گا،اسلام آباد ہائیکورٹ کے دو رکنی بینچ نے فیصلہ سنایا ہے،ہائیکورٹ کے دو رکنی بینچ کے فیصلے کیخلاف درخواست تین رکنی بینچ سن سکتا ہے ،توہین عدالت کی درخواست شاید کل لگ جائے،توہین عدالت کی درخواست آئی ہے اس کو مقرر کرنے سے متعلق چیمبر میں جا کر فیصلہ کریں گے

    قبل ازیں بانی پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف توشہ خانہ فیصلہ معطلی اور لیول پلیئنگ فیلڈ کے کیس کی سماعت کے لیے تحریک انصاف کے وکلاء قائم مقام چیف جسٹس پاکستان کی عدالت پہنچ گئے،تحریک انصاف کے سینئر وائس صدر لطیف کھوسہ عدالت میں پیش ہوئے،اور کہا کہ سپریم کورٹ میں دو درخواستیں دائر کی ہیں،عمران خان کے خلاف فیصلہ معطلی کی استدعا کی گئی ہے، لیول پلیئنگ فیلڈ کے معاملے میں بھی توہین عدالت دائر کر رکھی ہے، قائمقام چیف جسٹس جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ دونوں درخواستوں کی آفس سے معلومات حاصل کر لیتے ہیں،وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ سپریم کورٹ کی عمارت کے اندر میرے اسٹاف سے فائل چھینی گئی اور دھمکایا گیا،قائم مقام چیف جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ یہ معاملہ ایڈمنسٹریٹو سائڈ پر دیکھا جائے گا، اس میں کوئی آئینی ایشو نہیں جو عدالت میں لگایا جائے،وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ یہ تو انصاف سے رسائی سے انکار ہے،جسٹس اطہر من اللّٰہ نے کہا کہ آپ کی درخواست میں بہت ہی سنجیدہ الزامات ہیں،وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ اگر بروقت کیس جمع ہوتا تو آج اتنی ایمرجنسی نہ ہوتی،

    واضح رہے کہ لیول پلیئنگ فیلڈ کے احکامات پرعملدرآمد نہ ہونے پر تحریک انصاف نے سپریم کورٹ میں توہین عدالت کی درخواست دائرکر رکھی ہے،تحریک انصاف کی جانب سے سپریم کورٹ میں‌ دائر درخواست میں استدعا کی گئی کہ سپریم کورٹ 22 دسمبرکے احکامات پرعملدرآمد یقینی بنائے، پی ٹی آئی امیدواروں اوررہنماؤں کوگرفتاریوں اورحراساں کرنے سے بھی روکا جائے

    قبل ازیں عمران خان نے توشہ خانہ کیس میں سزا کا فیصلہ معطل کرنے کیلئے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر دی،سپریم کورٹ سے اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے ، اپیل میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ توشہ خانہ کیس میں سزا پہلے ہی معطل ہوچکی ہے، ہائی کورٹ نے صرف سزا معطل کی پورا فیصلہ نہیں،ہائی کورٹ فیصلے میں غلطی کا الیکشن کمیشن نے فائدہ اٹھایا،الیکشن کمیشن نے چیئیرمین پی ٹی آئی کی نااہلی کو نوٹیفیکیشن جاری کر دیا، انتخابات قریب ہیں، چیئرمین پی ٹی آئی ملک کے سابق وزیراعظم ہیں، ملک کی سب سے بڑی جماعت کے لیڈر کو انتخابات سے باہر نہیں رکھا جا سکتا، سپریم کورٹ توشہ خانہ کیس میں سزا پر مبنی فیصلہ معطل کرے تاکہ انتخابات میں حصہ لیا جا سکے،

    آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر جج جو کیس سن رہے ہیں وہ جانبداری ہے ؟

    آج پاکستان کی تاریخ کا اہم ترین دن ہے،

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

    چئیرمین پی ٹی آئی کا صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ جعلی ثابت ہوگیا

    پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی

     عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت ہوئی

  • خدیجہ شاہ کیخلاف ایف آئی اے انکوائری روکنے کی استدعا مسترد

    خدیجہ شاہ کیخلاف ایف آئی اے انکوائری روکنے کی استدعا مسترد

    مسرت جمشید چیمہ کی پانچ روز تک عبوری حفاظتی ضمانت منظور
    لاہور ہائیکورٹ: پی ٹی آئی رہنما مسرت چیمہ کی گرفتاری کا خدشہ،درخواست پر سماعت ہوئی،عدالت نے مسرت جمشید چیمہ کی پانچ روز تک عبوری حفاظتی ضمانت منظورکر لی،عدالت نے درخواست کو مجاز عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی، لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا کہ اسکے کاغذات نامزدگی جمع ہو چکے ہیں ،خدشہ ہے اسکو گرفتار کر لیا جائے گا ،عدالت ٹرائل کورٹ تک رسائی کے لیے عبوری حفاظتی ضمانت منظور کرے،

    عرفان اللہ نیازی کیخلاف درج مقدمات کی تفصیلات طلب
    لاہور ہائیکورٹ: بھکر سے پی ٹی آئی کے سابق ایم پی اے عرفان اللہ نیازی کی مقدمات اور انکوائریوں کی تفصیلات فراہم کرنے کی درخواست پر سماعت ہوئی،عدالت نے درخواست پر سماعت 29دسمبر تک ملتوی کر دی،عدالت نے پولیس اور اینٹی کرپشن سے درخواست گزار کے خلاف درج مقدمات کی تفصیلات طلب کر لیں ،اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب خواجہ محسن نے مقدمات کی تفصیلات فراہم کرنے کے لیے مہلت مانگی ،جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی،درخواست میں چیف سیکرٹری ۔سیکرٹری ہوم اور اینٹی کرپشن کو فریق بنایا گیا ہے،درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ درخواست گزار کے خلاف سیاسی بنیادوں پر اینٹی کرپشن میں دو مقدمات درج ہوئے،دونوں مقدمات میں عدالت نے انکی عبوری ضمانتیں لے رکھی ہیں، درخواست گزار عام الیکشن لڑناچاہتا ہے ،خدشہ ہے کہ اسکو بے بنیاد مقدمات میں ملوث کر دیا جائے گا،عدالت اسکے خلاف درج مقدمات اور انکوائریوں کی تفصیلات فراہم کرنے کا حکم دے ،

    خدیجہ شاہ کیخلاف ایف آئی اے انکوائری روکنے کی استدعا مسترد
    لاہور ہائیکورٹ: سابق وزیر خزانہ کی بیٹی خدیجہ شاہ کی کمپنی’ ایلان’کی ایف آئی اے کی انکوائری کیخلاف درخواست پر سماعت ہوئی،عدالت نے درخواست پر سماعت جنوری کے دوسرے ہفتے تک ملتوی کر دی ،عدالت میں ایف آئی اے کی طرف سے جواب داخل نہ کرایا گیا،عدالت نے درخواست پر ڈی جی ایف آئی اے کو دوبارہ نوٹس جاری کرتے ہوے جواب طلب کرلیا ،عدالت نے درخواست گزار فیملی کو ناجائز تنگ اور حراساں کرنے سے روکنے کے اپنے حکم میں توسیع کر دی ،عدالت نے ایف ائی اے انکوائری روکنے کی استدعا سے اتفاق نہ کیا،جسٹس علی باقر نجفی نے سابق وزیر خزانہ سلمان شاہ کی بیٹی خدیجہ شاہ کی درخواست پر سماعت کی،خدیجہ شاہ نے منی لانڈرنگ کے الزام میں انکوائری کیخلاف لاہور سے رجوع کیا،درخواست میں کہا گیا کہ ایف آئی اے کی منی لانڈرنگ کے الزام میں انکوائری بدنیتی پر مبنی ہے، ایف آئی اے کی منی لانڈرنگ انکوائری کو کالعدم قرار دیا جائے،

    محمودالرشید نے لاہور ہائیکورٹ سے درخواست واپس لے لی
    لاہور ہائیکورٹ: سابق وزیر میاں محمود الرشید کے کاغذات نامزدگی جمع کرانے کا معاملہ،عدالت نے درخواست واپس لینے کی بنا پر نمٹا دی،مسعود گجر ایڈوکیٹ نے کہا کہ عدالت کے حکم پر آر او نے کاغذات نامزدگی جمع کر دیے ہیں ۔درخواست واپس لینے کی اجازت دی جائے،جسٹس علی باقر نجفی نے ڈاکٹر حسن محمود کی درخواست پر سماعت کی

    لطیف کھوسہ، چیئرمین سینیٹ بھی لڑیں گے الیکشن، کاغذات نامزدگی جمع کروانے کا سلسلہ جاری

    عام انتخابات،سیاسی رہنمامیدان میں آ گئے،مولانا،نواز،بلاول،شہباز کہاں سے لڑینگے الیکشن؟

     الیکشن کمیشن کو تمام شکایات پر فوری ایکشن لیکر حل کرنے کا حکم

    کاغذات نامزدگی جمع کرانے کے وقت میں 2 دن کا اضافہ 

    ن لیگ کے محسن رانجھا نے پی ٹی آئی والوں پر پرچہ کٹوا دیا .

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

    عام انتخابات کے دن قریب آئے تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ 

  • شیر افضل مروت کیخلاف کوئی کرپشن چارجز نہیں،سیکرٹری وزارت ہاوسنگ

    شیر افضل مروت کیخلاف کوئی کرپشن چارجز نہیں،سیکرٹری وزارت ہاوسنگ

    سینیٹ کی ہاوسنگ کمیٹی میں پی ٹی آئی رہنما شیر افضل مروت کی بطور ڈی جی فیڈرل گورنمنٹ ہاوسنگ اتھارٹی مبینہ کرپشن کی گونج .لیگی سنیٹر افنان اللہ نے بولے اگر کرپشن پی ٹی آئی کرے تو اسکی اجازت کیسے ہوسکتی ہے؟

    سینیٹر حاجی ہدایت اللہ کی زیر صدارت قائمہ کمیٹی ہاوسنگ اینڈ ورکس کااجلاس ہوا، اجلاس میں پی ٹی آٔئی رہنما شیر افضل مروت کی بطور ڈی جی فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاؤسنگ اتھارٹی تعیناتی اور مبینہ کرپشن شکایات پر غور کیا گیا، حکام نے بتایا کہ شیر افضل خان نیازی 26 ستمبر 2008 کو ڈائریکٹر ایڈمن کی طور پر تعینات ہوئے،جس پر سینٹر افنان اللہ نے پوچھا کہ انہوں نے اپنے عہدے کے دوران پلاٹ اپنے نام کروائے؟اس پر سنیٹر دوست محمد بولے یہ پلاٹس سب کا استحقاق ہیں ،

    معاملے پر سینیٹر دوست محمد خان اور سینیٹر افنان اللہ خان کے درمیان لفظی نوک جھونک ہوگئی ،سنیٹر افنان اللہ نے اعتراض اٹھایا سنیٹر دوست محمد کمیٹی کے رکن نہیں جو کمیٹی کا ممبر نہیں وہ یہاں نہیں بول سکتا ہے ،جس پر چییئرمین کمیٹی نے سینیٹر دوست محمد خان کو کمیٹی سے جانے کا کہہ دیا، سنیٹر دوست محمد نے جاتے یہ بھی کہہ گئے کہ ذاتی ایجنڈے پر لوگوں کو انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے، سیکرٹری وزارت ہاوسنگ نے بتایا کہ ہمارے پاس ایسا ریکارڈ نہیں جس سے شیر افضل مروت کے خلاف کوئی کرپشن چارجز ہوں،شیر افضل مروت کو ضابطہ اور قانون کے مطابق  الاٹ ہوا،

    سنیٹر افنان اللہ بولے شیر افضل مروت کو کرپشن چارجز پر جج کی نوکری سے نکالا گیا تھا اگر کرپشن پی ٹی آئی کرے تو اس کی اجازت ہے، باقی پر قانون لاگو ہوتا ھے تو پی ٹی آئی پر کیوں نہیں اجلاس میں سنیٹر سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ پارک روڈ ہاوسنگ اسکیم کیلئے زمین 200کنال ہے،آپ نے 2600,کنال کے حساب سے لوگوں کو الاٹ منٹ لیٹر کیسے بانٹے,چار مئی کے اجلاس میں بتایا گیا ہمارے پاس زمین نہیں ہے اب زمین کہاں سے ملی ؟ قائمہ کمیٹی میں وزارت ہاوسنگ اور فیڈر ل ایمپلائرز ہاوسنگ اتھارٹی کے حکام جواب دینے میں ناکام رہے

    اعظم خان نےعمران خان پرقیامت برپا کردی ،سارے راز اگل دیئے،خان کا بچنا مشکل

    جیل اسی کو کہتے ہیں جہاں سہولیات نہیں ہوتیں،

    چیئرمین پی ٹی آئی پر ایک مزید مقدمہ درج کر لیا گیا

    نشہ آور اشیاء چیئرمین پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ میں پہلی لڑائی کی وجہ بنی،

    بشریٰ بی بی نے شوہر کے لئے چار سہولیات مانگ لیں

    پی ٹی آئی کورکمیٹی میں اختلافات،وکیل بھی پھٹ پڑا

     مروت کی گرفتاری کے بعد الیکشن کمیشن کس منہ سے کہتا ہے لیول پلینگ فیلڈ تحریک انصاف کو دی 

  • لیول پلئنگ فیلڈ کے احکامات پر عمل نہیں ہو رہا،تحریک انصاف سپریم کورٹ پہنچ گئی

    لیول پلئنگ فیلڈ کے احکامات پر عمل نہیں ہو رہا،تحریک انصاف سپریم کورٹ پہنچ گئی

    لیول پلیئنگ فیلڈ کے احکامات پرعملدرآمد نہ ہونے پر تحریک انصاف نے سپریم کورٹ میں توہین عدالت کی درخواست دائرکردی

    تحریک انصاف کی جانب سے سپریم کورٹ میں‌ دائر درخواست میں استدعا کی گئی کہ سپریم کورٹ 22 دسمبرکے احکامات پرعملدرآمد یقینی بنائے، پی ٹی آئی امیدواروں اوررہنماؤں کوگرفتاریوں اورحراساں کرنے سے بھی روکا جائے

    گزشتہ دنوں سپریم کورٹ نے تحریک انصاف کی لیول پلیئنگ فیلڈ سے متعلق شکایت پر الیکشن کمیشن اور حکومت کو فوری ازالے کی ہدایت کرتے ہوئے قراردیا تھا کہ بظاہر پی ٹی آئی کا لیول پلئنگ فیلڈ نہ ملنے کا الزام درست ہے، عدالتی فیصلے میں کہا گیا تھا کہ منصفانہ انتخابات منتخب حکومت کو قانونی حیثیت فراہم کرتے ہیں، شفاف انتخابات جمہوری عمل پر عوام کا اعتماد برقرار رکھتے ہیں، انتخابات جبری کی بجائے عوام کی رضا کے حقیقی عکاس ہونے چاہییں، آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کا انعقاد نتائج سے زیادہ اہم ہے الیکشن کمیشن جمہوری عمل میں میں اہم کردار ادا کرتا ہے، الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے انتخابات کو بدعنوانی سے بچائے، آئین کے آرٹیکل 220 کے تحت تمام ایگزیکٹو اتھارٹیز الیکشن کمیشن کی معاونت کے پابند ہیں۔

  • پشاور ہائیکورٹ نے تحریکِ انصاف کا انتخابی نشان "بلا” بحال کر دیا

    پشاور ہائیکورٹ نے تحریکِ انصاف کا انتخابی نشان "بلا” بحال کر دیا

    پشاور ہائیکورٹ،تحریک انصاف کے انٹرا پارٹی انتخابات کالعدم ہونے کا معاملہ ،الیکشن کمیشن کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی

    پشاور ہائیکورٹ نے انٹرا پارٹی انتخابات کالعدم اور پارٹی نشان واپس لینے کے فیصلے کو عبوری معطل کردیا،عدالت نے دلائل مکمل ہونے پر الیکشن کمیشن کے فیصلے پر حکم امتناع جاری کردیا،عدالت نے کہا کہ اس کیس کا فیصلہ ہونے تک الیکشن کمیشن کا فیصلہ معطل ہوگا،پشاور ہائی کورٹ نے یہ بھی ریمارکس دیے کہ چھٹیوں کے ختم ہونے کے بعد پہلے ڈبل بینچ میں کیس سنا جائے۔

    وکیل تحریک انصاف بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے 2 دسمبر کو انٹرا پارٹی انتخابات کے انعقاد کو تسلیم کیا، الیکشن کے انعقاد میں کوئی بے ضابطگی کا نہیں کہا، الیکشن کمیشن نے انتخابات کو درست جبکہ اس کے انعقاد کرنے والے پر اعتراض کیا، الیکشن کمیشن نے ملک کی سب سے بڑی سیاسی پارٹی سے انتخابی نشان لیا، اب ہم الیکشن میں بطور پارٹی حصہ نہیں لے سکتے،مخصوص نشستیں بھی سیاسی جماعت کو بغیر انتخابی نشان نہیں مل سکتیں، سیاسی جماعت کو انتخابات سے باہر کردیا گیا، انتخابی نشان سیاسی پارٹی کی پہچان ہوتی ہے، اسکے بہت سنجیدہ ایشو ہوں گے،انتخابی نشان کے بغیر امیدوار میدان میں نہیں اُترسکتے، ریزرو سیٹ بھی اقلیتی امیدوار کو نہیں مل سکتی ،جسٹس کامران حیات نے استفسار کیا کہ الیکشن کمیشن نے انٹرا پارٹی انتخابات کے انعقاد کیلیے جنرل سیکرٹری کے کمیشن بنانے پر اعتراض کیا؟ بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ جی الیکشن کمیشن نے انٹرا پارٹی انتخابات کو صحیح جبکہ پارٹی کے جنرل سیکرٹری کیجانب سے کمیشن کی تقرری پر اعتراض کیا ، علی ظفر کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کو انٹرا پارٹی الیکشن کو سوالیہ نشان بنانے کا اختیار نہیں ،الیکشن کمیشن کو انٹرا پارٹی الیکشن کالعدم قرار دینے کا اختیار نہیں ،پولیٹکل پارٹیز ایکٹ اور الیکشن ایکٹ واضح ہے اور ان میں اختیارات کا تعین ہے ،

    جسٹس کامران حیات نے استفسار کیا کہ میں نے فیصلہ نہیں پڑھا، کیا صرف یہی لکھا ہے کہ الیکشن کرانے والے کی تعیناتی غلط ہے،بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ بالکل الیکشن کمیشن نے یہی لکھا ہے، الیکشن کمیشن پارٹی میں تعیناتیوں پر سوال نہیں اٹھا سکتا، الیکشن کمیشن انٹرا پارٹی انتخابات کالعدم نہیں کرسکتا، اگر الیکشن کمیشن کو یہ اختیارات دیئے گئے تو آرٹیکل 17 کی خلاف ورزی ہوگی۔الیکشن کمیشن کے پاس کسی بھی سیاسی پارٹی کے عہدیدار کی تقرری ، انٹرا پارٹی انتخابات کالعدم قرار دینے کا اختیار نہیں ، الیکشن کمیشن کے پاس کورٹ کی طرح اختیارات نہیں ہیں ، الیکشن کے حوالے سے معاملات سول کورٹ باقاعدہ ٹرائل کے بعد طے کرتا ہے، 8 لاکھ سے زائد رجسٹرڈ ووٹرز ہیں جنہوں نے انٹرا پارٹی انتخابات پر اعتراض نہیں کیا ،عدالت نے استفسار کیا کہ اگر سیکرٹری جنرل مستعفی ہوجائے تو کیا ہوگا، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ ایڈیشنل سیکرٹری جنرل عہدے سنبھالا لیتا ہےاس وقت عمر ایوب تھے،جسٹس کامران حیات نے کہا کہ کیا اسد عمر نے استعفیٰ دیا اور وہ منظور ہوا، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ جی بالکل ، جنوری میں اسد عمر گرفتار ہوئے اور جب واپس آئے تو استعفیٰ دیا، اسد عمر کے بعد عمر ایوب جنرل سیکرٹری منتخب ہوئے،

    جسٹس کامران حیات نے استفسار کیا کہ انٹرا پارٹی انتخابات کے خلاف درخواستگزار کون ہیں ؟بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ انٹرا پارٹی انتخابات کے خلاف درخواست عام شہریوں کے طور پر دی گئی ،کسی بھی سیاسی پارٹی کو صرف سپریم کورٹ نکال سکتی ہے الیکشن کمیشن کمیشن نہیں، جسٹس کامران حیات نے استفسار کیا کہ آپ کی پارٹی کے آئین و رولز میں انٹرا پارٹی انتخابات کا کیا طریقہ کار ہے؟ بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ پارٹی چیئرمین کا انتخاب خفیہ بیلٹ پر ہوگا، رجسٹرڈ ووٹرز ہی الیکشن میں حصہ لے سکتے ہیں ، ، انٹرا پارٹی انتخابات رولز ہم نے بنائے ہیں ہم ہی اپ ڈیٹ کرینگے،الیکشن کمیشن ڈائریکشن نہیں دے سکتا، جسٹس کامران حیات نے کہا کہ الیکشن کمیشن یہ کہ رہی ہے کہ آئین کے مطابق الیکشن نہیں ہوا،آپ یہ کہنا جاتے ہیں کہ اگر الیکشن نہیں کروائیں گے تو پھر پارٹی جرمانہ ہوگا، علی ظفر نے کہا کہ یہاں تو اس سے بڑا فیصلہ ہوا ہے اور پارٹی کو الیکشن سے ہی باہر نکال دیا،ایک طرف ہمیں کہا جاتا ہے کہ 20دن میں انٹرا پارٹی انتخابات کروائیں دوسری جانب اعتراض کررہے ہیں ، انٹرا پارٹی کے خلاف 14بندوں نے الیکشن کمیشن میں درخواست دی ایک بھی پارٹی ممبر نہیں تھا، الیکشن کمیشن کو بتایا کہ درخواستگزار پی ٹی آئی ممبر شپ کو کوئی ثبوت دیں ، اگر انتخابی نشان نہیں ملا تو ہمیں اقلیتی اور خواتین کی مخصوص نشستیں نہیں ملے گی، 30دسمبر اسکروٹنی کا آخری دن ہے ہمیں نشان الاٹ کیا جائے،

    جسٹس کامران حیات نے کہا کہ اس کیس کا فیصلہ آج نہیں کرسکتے، کیونکہ یہ ڈویژنل بینچ کا کیس ہے،پی ٹی آئی کی آج ہی درخواست پر فیصلہ کرنے کی استدعا پشاور ہائیکورٹ نے مسترد کر دی،انٹرا پارٹی انتخابات پر الیکشن کمیشن کے فیصلے کیخلاف پشاور ہائیکورٹ میں کیس کی سماعت کچھ دیر کا وقفہ کر دیا گیا، بیرسٹر علی ظفر کے دلائل مکمل ہو گئے، عدالت نے کہا کہ سرکاری وکلاء کو وقفے کے بعد سنتے ہیں.

    دوبارہ سماعت ہوئی جسٹس کامران حیات میاں خیل نے وکیل الیکشن کمیشن سے کہاکہ آپ ادھر ادھر جاتے ہیں جو سوال کیا ہے اس پر آ جائیں،وکیل نے کہاکہ پارٹی کو نشان تب الاٹ ہوتا ہے جب وہ الیکشن کرائے اور سرٹیفکیٹ جمع کرائے،جسٹس کامران نے کہاکہ الیکشن شیڈول جاری ہو گیا ہے اب تو نشان نہیں روک سکتے،الیکشن شیڈول جاری ہو گیاہے نشان دینا ہوگا،

    قبل ازیں تحریک انصاف نے انٹرا پارٹی انتخابات پر الیکشن کمیشن کے فیصلے کوپشاور ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا، درخواست میں پی ٹی آئی کے وکلاء نے الیکشن کمیشن کے فیصلے کو کالعدم قرار دینے کے استدعا کی ہے،تحریک انصاف کی جانب سے پشاور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کے پاس پارٹی انتخابات کرانے کے طریقے پر فیصلے کا اختیار نہیں، پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی انتخابات کو چیلنج کرنے والے پارٹی ممبر ہی نہیں، الیکشن کمیشن نے انتخابی نشان بلا بھی واپس لے لیا ہے،تحریکِ انصاف نے اپنی درخواست میں الیکشن اور انٹرا پارٹی انتخابات کو چیلنج کرنے والے درخواست گزاروں کو بھی فریق بنایا ہے،عدالت سے سینئر ججز پر مشتمل بینچ بنانے اور درخواست آج ہی سماعت کے لیے مقرر کرنے کی استدعا کی گئی ہے،

    پشاور ہائی کورٹ نے ہمیشہ انصاف کا سر اونچا کیا ، بیرسٹر علی ظفر
    پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد پی ٹی آئی وکیل بیرسٹر علی ظفر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پشاور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کا بلے کا نشان بحال کردیا ہے، عدالت نے حکومتی وکیل سے پوچھا کہ الیکشن کمیشن نے کس شق کے تحت فیصلہ کیا؟ یقین ہے ہر فیصلہ قانون کے مطابق ہوتا ہے، التجا کرتا ہوں کہ آئین و قانون پر یقین رکھیں،پشاور ہائی کورٹ نے ہمیشہ انصاف کا سر اونچا کیا ہے عدالت نے الیکشن کمیشن کے بلے چھیننے کے آرڈر کو معطل کردیا ہے اور کہا کہ بلے کا نشان واپس کیا جائے،

    تحریک انصاف کے رہنما بابر اعوان نے پشاور ہائیکورٹ میں میڈیا سے گفتگو کے دوران کہا کہ پی ٹی آئی کا انتخابی نشان بلا تھا اور بلا ہی رہے گا،بانی پی ٹی آئی چیئرمین تھے اور رہیں گے، الیکشن کمیشن کے فیصلے کو چیلنج کر رہے ہیں سپریم کورٹ بھی توہین عدالت کا کیس دائر کرنے جا رہے ہیں، سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ الیکشن میں جو بھی رکاوٹ ڈالے گا، اس کے خلاف توہینِ عدالت کا مقدمہ ہو گا، پنجاب میں پی ٹی آئی کے ساتھ پری پول ریگنگ ہو رہی ہے، امیدواروں سے کاغذاتِ نامزدگی تک چھینے گئے

    قبل ازیں تحریک انصاف کے سینئر نائب صدر شیر افضل مروت نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلا پی ٹی آئی کا نشان تھا اور رہے گا،پرویز خٹک کے بیان کا نوٹس لینا چاہیے، بیٹ کا نشان صرف الیکشن کمیشن ہی آفر کر سکتا ہے،بیٹ کا نشان آفر کرنے کی ضرورت کیوں تھی؟ پرویز خٹک نے تو تحریک انصاف کے مقابلے میں اپنی پارٹی بنائی ہے، پرویز خٹک کے بیان سے ان کے اور الیکشن کمیشن کے تانے بانے ملتے ہیں،بانی پی ٹی آئی نے این اے 32 پشاور سے الیکشن کے لیے مجھے نامزد کیا تھا، اپنے حلقے لکی مروت سے بھی قومی اسمبلی کے لیے کاغذات جمع کرائے ہیں، الیکشن کہاں سے لڑنا ہے یہ فیصلہ پارٹی کرے گی

    واضح رہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات پارٹی آئین کے مطابق نہ کرانے پر بلے کا نشان واپس لے لیا تھا،عام انتخابات کے لئے کاغذات نامزدگی جمع ہو چکے ہیں ، تحریک انصاف کی کوشش ہے کہ ان کو بلے کا نشان واپس مل جائے، بلے کا نشان واپس نہ ملنے کی صورت میں تحریک انصاف کے امیدواروں کو آزاد الیکشن لڑنا پڑے گا.ایسے میں سب امیدواروں کے انتخابی نشان مختلف ہوں گے.ہم عوام پاکستان پارٹی نے بھی الیکشن کمیشن سے بلے کا نشان مانگ رکھا ہے ، وہیں ن لیگی رہنما کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کو بلے کی بجائے گھڑی کا انتخابی نشان دیا جائے تا کہ سب کو پتہ چلے کہ یہ گھڑی چور ہیں

    لطیف کھوسہ، چیئرمین سینیٹ بھی لڑیں گے الیکشن، کاغذات نامزدگی جمع کروانے کا سلسلہ جاری

    عام انتخابات،سیاسی رہنمامیدان میں آ گئے،مولانا،نواز،بلاول،شہباز کہاں سے لڑینگے الیکشن؟

     الیکشن کمیشن کو تمام شکایات پر فوری ایکشن لیکر حل کرنے کا حکم

    کاغذات نامزدگی جمع کرانے کے وقت میں 2 دن کا اضافہ 

    ن لیگ کے محسن رانجھا نے پی ٹی آئی والوں پر پرچہ کٹوا دیا .

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

    عام انتخابات کے دن قریب آئے تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ 

  • فضل الرحمان لالچی،بلے کی آفر ہوئی،انکار کر دیا،پرویز خٹک

    فضل الرحمان لالچی،بلے کی آفر ہوئی،انکار کر دیا،پرویز خٹک

    پاکستان تحریک انصاف پارلیمنٹیرینز (پی ٹی آئی پی) کے سربراہ پرویز خٹک نے کہا ہے کہ پاکستان کے اصل مجرم یہ سیاسی لوگ ہیں،

    پرویز خٹک کا کہنا تھا کہ ایسے سیاسی جنہوں نے ہر حکومت میں حصہ لیا ،اپنی جائیدادیں بنائیں،اپنی جائیدادیں بنانے والوں نے قوم کو قرضوں کے کینسر میں مبتلا کیا،پورے صوبے میں ان لوگوں کا مکروہ چہرہ دکھا نے کیلئے نکلا ہوں،کے پی کے عوام سے ہمارا تعلق ووٹ کا نہیں بھائی چارے کا ہے،الیکشن ہو نہ ہو ہم لوگ آپ کی خوشی غمی میں حاضر ہوتے ہیں،فضل الرحمان جیسا منافق اور لالچی انسان زندگی میں نہیں دیکھا ،اسلام کے نام پر مانگتے ہیں،وزارتیں مل جائے تو اسلام آباد کیلئے شریعت بھول جاتے ہیں،موسمی مینڈک میدان میں آچکے ہیں ،کوئی اسلام کے نام پر کوئی روٹی کپڑا اور مکان کے نام پر ووٹ مانگ رہا ہے،نئے پاکستان کے نام پر ووٹ مانگنے والوں ، ان مینڈکوں کیلئے اکیلا کافی ہوں ،

    پرویز خٹک کا کہنا تھا کہ میں چیلنج کرتا ہوں کہ میں تمہارے مقابلے میں آیا ہوں،میں نے تو اپنی پارٹی بنائی، میں  4 سال وفاقی حکومت رہی خیبر پختونخوا کو ایک منصوبہ بھی نہیں دیا ،ہمارے چلتے ہوئے کام بند کئے گئے، پٹھانوں‌کو عمران خان بیوقوف سمجھتا ہے، فاٹا کے ساتھ سو ارب سالانہ کا وعدہ ہوا تھا، وفاق نے پچاس ارب دینے تھے، وہ نہیں دیئے گئے، بہت سی وعدہ خلافیاں ہم سے کی گئیں، اگر کچھ بنتا تو چار سال میں ہم ملک کے لئے کر لیتے،بیٹ ہو یا نہ ہو، ہم میدان میں ہیں، سیاسی آدمی ہیں،ہم نے محنت کرنی ہے، لوگوں کو مستقبل کا راستہ دکھانا ہے،کون ہے کون نہیں، اس سے فرق نہیں پڑتا، ہماری نیت صاف ہے، سب کو شکست ہو گی،میرے مقابلے بہت سارے ہیں، مجھے بلے کی آفر ہوئی میں نے انکار کر دیا، تحریری طور پر کہا کہ مجھے بلا نہیں چاہئے،

    بلے کے نشان کے بعد پی ٹی آئی کا نام و نشان بھی ختم ہوجائےگا ۔

     پی ٹی آئی کے ساتھ آج جو کچھ ہو رہا ہے وہ اسکا اپنا کیا دھرا ہے ،

    عمران خان نے تبدیلی کے نام پر عوام کو دھوکہ دیا

    الیکشن میں میں جہاں بھی ہوں گا وہاں جیت ہماری ہی ہوگی

     بانی پی ٹی آئی اب قصہ پارینہ بن چکے

    عمران خان ملک میں الیکشن نہیں چاہتا ، وہ صدارتی نظام چاہتاہے