Baaghi TV

Tag: تحریک انصاف

  • بلے کا نشان کیس، فیصلہ نہیں کرسکتے،9 جنوری کو ڈویژن بنچ کیلئے لگا ہے،جسٹس اعجاز خان

    بلے کا نشان کیس، فیصلہ نہیں کرسکتے،9 جنوری کو ڈویژن بنچ کیلئے لگا ہے،جسٹس اعجاز خان

    پشاور: پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات اور انتخابی نشان کیس،الیکشن کمیشن کی درخواست پر پشاور ہائیکورٹ میں سماعت ہوئی

    جسٹس اعجاز خان نے اپیل پر سماعت کی، الیکشن کمیشن کے وکیل سکندر مہمند نے دلائل دیئے، الیکشن کمیشن وکیل نے جسٹس کامران حیات کا فیصلہ عدالت میں پڑھا،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ چھٹیوں کے دوران اس عدالت کے جج نے فیصلہ معطل کیا، پی ٹی آئی کا موقف ہے کہ الیکشن کمیشن کے پاس انٹرا پارٹی انتخابات کالعدم قرار دینے کا اختیار نہیں، پی ٹی آئی کا انٹرم ریلیف اور حتمی استدعا ایک ہی ہے،ہائیکورٹ کا فیصلہ یکطرفہ کارروائی ہے، الیکشن کمیشن کو نہیں سنا گیا، الیکشن کمیشن کیس کا بنیادی فریق ہے، عدالت نے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل اور ڈپٹی اٹارنی جنرل کو سنا جو صوبائی و وفاقی حکومت کے نمائندے ہیں،

    جسٹس اعجاز خان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ نے کوئی ایسا آرڈر دیا کہ کیا ایک ہائیکورٹ کا حکم پورے ملک کیلئے ہوتا ہے، اخبار میں پڑھا تھا، کیا ایسے کوئی حکم ہے بھی؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ بالکل سپریم کورٹ نے آر اوز سے متعلق لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ معطل کیا تھا، پہلا پوائنٹ یہ ہے کہ یکطرفہ کارروائی کے تحت فیصلہ معطل کیا گیا، دوسرا پوائنٹ یہ ہے کہ انٹرم ریلیف اور حتمی استدعا ایک ہی ہے،جسٹس اعجاز خان نے استفسار کیا کہ کیس میں اصل درخواستگزار کہاں ہے، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ مجھ ےمعلوم نہیں، شاید وہ خود پیش نہیں ہوئے، جسٹس اعجاز خان نے کہا کہ اس کیس میں ہم فیصلہ نہیں کرسکتے،9 جنوری کو ڈویژن بنچ کیلئے لگا ہے، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ میں نہیں کہہ رہا ہے کہ کوئی فیصلہ دیا جائے، صرف معطلی کا فیصلہ واپس لیا جائے، کیس پر پھر ڈویژن بنچ کے سامنے دلائل دینگے، 9 جنوری تک معطلی کا واپس لیا جائے،ڈویژن بینچ قائم کیا جائے تاکہ کیس کی سماعت صحیح طریقے سے ہو سکے، دونوں پارٹیوں کو سننے کے بعد فیصلہ کیا جائے

    ایڈوکیٹ جنرل نے عدالت میں کہا کہ ہم اس کیس میں فریق نہیں بننا چاہتے، ہماری نگراں صوبائی حکومت ہے، ہمارے لیے تمام سیاسی جماعتیں برابر ہیں، ہمارا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے، ہمیں اس کیس سے نکالا جائے، اگر ہمیں نوٹس جاری کیا جاتا ہے تو پھر عدالت کی معاونت کریں گے،جسٹس اعجاز خان نے استفسار کیا کہ وفاقی حکومت کا بھی یہی مؤقف ہے؟ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ جی ہمارا بھی یہی مؤقف ہے،الیکشن کمیشن کے وکیل نے کہا کہ آرٹیکل 199 کے تحت ہائی کورٹ صرف صوبے تک فیصلہ کر سکتی ہے، انٹرا پارٹی انتخابات پورے ملک کے لیے ہوئے ہیں،دلائل مکمل ہونے پر عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا

    واضح رہےکہ الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کے انٹرا پارٹی الیکشن کو آئین کے برخلاف قرار دیتے ہوئے کالعدم کیا تھا جس کے بعد پی ٹی آئی سے بلے کا نشان چھن گیا تھا تاہم تحریک انصاف نے کمیشن کے فیصلے کو پشاور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا،پشاورہائیکورٹ نے پی ٹی آئی انٹراپارٹی انتخابات اور انتخابی نشان سے متعلق الیکش کمیشن کافیصلہ معطل کرتے ہوئے تحریک انصاف کو انتخابی نشان بلا بحال کیا تھا

    واضح رہے کہ الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کا انتخابی نشان بلا واپس لے لیا تھا، تحریک انصاف نے پشاور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی، جس پر عدالت نے پی ٹی آئی کو انتخابی نشان بلا واپس دینے کا حکم دیا تھا ،تاہم ابھی تک پی ٹی آئی کو انتخابی نشان نہیں مل سکا، الیکشن کمیشن کی جانب سے پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کر دی ہے تو وہیں بانی رہنما تحریک انصاف اکبر ایس بابر نے بھی پشاور ہائیکورٹ کے اس فیصلے کو چیلنج کرنے کا اعلان کر رکھا ہے.

  • لاہور ہائیکورٹ نے خرم لطیف کھوسہ کو 6 بجے پیش کرنے کا حکم دے دیا

    لاہور ہائیکورٹ نے خرم لطیف کھوسہ کو 6 بجے پیش کرنے کا حکم دے دیا

    خرم لطیف کھوسہ کی گرفتاری کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں درخواست پر سماعت ہوئی

    ربیعہ باجوہ ایڈوکیٹ نے عدالت میں کہا کہ خرم کھوسہ کے چیمبر پر دھاوا بولا گیا ہراساں کیا گیا ،اگر یہ صورتحال رہی ہائی کورٹ بھی محفوظ نہیں رہے گی ، لطیف کھوسہ نے کہا کہ یہ غیر قانونی حراست کا معاملہ ہے عدالت مداخلت کرے ، عدالت اس معاملے میں پر فوری حکم جاری کرے ، خرم لطیف کھوسہ نے ایسا کیا کیا کہ دہشت گردی کی دفعات لگائی گئیں،ہم آج صبح سے تمام عدالتیں چھان کر آ گئے خرم کو پیش نہیں کیا گیا ،جسٹس علی باقر نجفی نے استفسار کیا کہ دکھائیں وہ ویڈیو کدھر ہے،

    سرکاری وکیل کی ہائیکورٹ بار کی نائب صدر سے تلخ کلامی ہوئی،ربیعہ باجوہ ایڈوکیٹ نے کہا کہ ٹنل روڈ بار کا حصہ ہے، وہ سینئر وکیل ہیں،ایک وقت تھا کہ ظلم اور زیادتی ہوتی تھی تو سرکاری وکیل مخالفت کرتے تھے، لیکن اب تو انتہا ہوچکی ہے، لطیف کھوسہ نے کہا کہ اگر یہ ویڈیو میں ثابت کردیں کہ وردی پھاڑی یا گریبان پکڑا تو ہم اپنی درخواست واپس لے لیں گے،سرکاری وکیل نے کہا کہ جو ویڈیو عدالت میں دیکھائی گئی وہ صرف اس حد تک نہیں ہے، لطیف کھوسہ نے کہا کہ یہ پھٹی وردی عدالت میں پیش کردیں، سرکاری وکیل نے کہا کہ یہ ہائیکورٹ ہے وہ تفتیش ہوگی اور کورٹ آف لاء میں پیش کی جائے گی یہاں نہیں، لاہور ہائیکورٹ نے خرم لطیف کھوسہ کو 6 بجے پیش کرنے کا حکم دے دیا

    واضح رہے کہ خرم لطیف کھوسہ کو گزشتہ روز پولیس نے گرفتار کیا تھا

  • نو مئی واقعات میں ملوث ملزمان کی جائیدادیں ضبط کرنے کا حکم

    نو مئی واقعات میں ملوث ملزمان کی جائیدادیں ضبط کرنے کا حکم

    نو مئی میں ملوث ملزمان کی جائیدادیں ضبط کرنے کا عدالت نے حکم دے دیا

    گوجرانوالہ کی انسداد دہشت گردی عدالت نے گوجرانوالہ کینٹ میں نومئی کو جلاؤ گھیراؤ مقدمے میں ملوث 51 میں سے 49 ملزمان کی جائیدادیں ضبط کرنے کا حکم دیا ہے،عدالت میں مقدمے میں ملوث 51 ملزمان کو اشتہاری قرار دینے کی کارروائی جاری ہے،عدالتی حکم پر ملزمان کے گھروں اور شہر کے اہم مقامات پر اشتہار آویزاں کیے گئے ہیں،عدالت نے ملزمان کے ناقابل ضمانت وارنٹِ گرفتاری بھی جاری کر رکھے ہیں،

    51 ملزمان کی فہرست میں بانی پی ٹی آئی عمران خان، شاہ محمود قریشی، چوہدری پرویز الہٰی،مراد سعید، حماد اظہر، فرخ حبیب، عمر ایوب، علی امین گنڈا پور، زرتاج گل، یاسمین راشد، اعجاز چوہدری ، زبیر نیازی، اکرم ساہی، شوکت بھٹی،احمد چٹھہ، بلال اعجاز اور ظفر اللّٰہ چیمہ و دیگر شامل ہیں

    واضح رہے کہ عمران خان کی گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی کارکنان نے فوجی تنصیبات پر ملک بھر میں حملے کئے تھے، شرپسند عناصر کو گرفتار کیا جا چکا ہے، گرفتار افراد کا کہنا ہے منظم منصوبہ بندی کے تحت حملے کئے گئے، شرپسند افراد نے ویڈیو بیان بھی جاری کئے ہیں جس میں انہوں نے اعتراف کیا کہ یہ سب منصوبہ بندی کے تحت ہوا، پی ٹی آئی رہنما بھی گرفتار ہیں تو اس واقعہ کے بعد کئی رہنما پارٹی چھوڑ چکے ہیں.

     سانحہ نو مئی کے چھے مقدمات میں اہم پیشرفت

    9 مئی کے بعد زمان پارک کی کیا حالت ہے؟؟

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    سانحہ نو مئی نائن زیرو، بلاول ہاؤس یا رائے ونڈ سے پلان ہوتا تو پھر ردعمل کیا ہوتا؟ بلاول بھٹوزرداری

    یہ لوگ منصوبہ کرچکے ہیں نو مئی کا واقعہ دوبارہ کروایا جائے

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نومئی واقعات کیس میں جے آئی ٹی کے سامنے جب پیش ہوئے تھے تو اسوقت جے آئی ٹی کے سوالات کے جواب میں عمران خان نے تسلیم کر لیا کہ نو مئی کا واقعہ منظم منصوبہ بندی کے تحت ہوا،لیکن منصوبہ بندی کہیں اور ہوئی تھی، عمران خان جے آئی ٹی کے اراکین کو دھمکیاں بھی دیتے رہے،میں پھر آؤں گا،آپکو تمام کاروائیوں کا جواب دینا ہو گا

    میڈیا رپورٹس کے مطابق عمران خان سے جے آئی ٹی نے جو سوال کئے اور عمران خان نے جواب دیئے، اندرونی کہانی سامنے آئی،عمران خان سے جو سوال کئے گئے اس میں عمران خان نے سوالات کے جواب دئے ساتھ ہی دھمکی بھی لگاتے رہے، عمران خان جے آئی ٹی کے سامنے ایک گھنٹہ رہے، جے آئی ٹی ایک ڈی آئی جی، ایک ایس ایس پی اور 4 ایس پیز پر مشتمل تھی،

    جی ایچ کیو حملے میں پی ٹی آئی خواتین رہنماوں کا کردار,تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے آئی ہے،

    جناح ہاؤس لاہور میں ہونیوالے شرپسندوں کے حملے کے بارے میں اہم انکشافات

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    جناح ہاؤس میں سب سے پہلے داخل ہونے والا دہشتگرد عمران محبوب اسلام آباد سے گرفتار 

    عدالت نے خدیجہ شاہ کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کو مسترد کردیا

  • عمر ڈار کو آج ہی بازیاب کروانے کا حکم

    عمر ڈار کو آج ہی بازیاب کروانے کا حکم

    لاہور ہائیکورٹ ، عمر ڈار کے مبینہ اغواء کے خلاف دائر درخواست پر سماعت ہوئی

    عدالت نےآئی جی پنجاب کو عمر ڈار کو آج ہی بازیاب کروا کر جواب جمع کروانے کا حکم دے دیا، وکیل درخواست گزار نے کہا کہ کل ہماری ہوٹل مالک سے ملاقات ہوئی ہے،وہ ہمیں سی سی ٹی وی فوٹیج نہیں دے رہے،ہم نے ہوٹل مالک سے کہا ہمیں فوٹیج دیں تو انکا کہنا ہے میرا ہوٹل بند ہو جائے گا،ہوٹل مینیجر کی ویڈیو میرے پاس ہے، وہ اقرار کر رہا ہے پولیس ہوٹل میں آئی اور عمر ڈار کو گرفتار کیا،جسٹس علی باقر نجفی نے عثمان ڈار کی والدہ کی درخواست پر سماعت کی

    دائر درخواست میں آئی جی پنجاب، سی سی پی او لاہور سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے،درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ پولیس یونیفارم میں ملبوس افراد سمیت 40 سے زائد لوگ عمر ڈار کو اغوا کر کے لے گئے،مغوی کی والدہ سیالکوٹ سے خواجہ آصف کیخلاف الیکشن لڑ رہی ہیں.مغوی کے خاندان کو مسلسل سیاسی انتقام کا نشان بنایا جا رہا ہے،عدالت عمر ڈار کو بازیاب کروا کر پیش کرنے کا حکم دے، عدالت نے آئی جی پنجاب کو عمر ڈار کو آج ہی بازیاب کروا کر جواب جمع کروانے کا حکم دے دیا

    قبل ازیں لاہور ہائیکورٹ میں عمر ڈار کی بازیابی کی درخواست پر پولیس نے رپورٹ جمع کرا دی،پولیس نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ عمر ڈار پولیس کی حراست میں نہیں ہیں،

    میرے بابا سے بیان دلوادیں یا کوئی اور پارٹی جوائن کروالیں،ہم عمران کے ساتھ ہیں، بیٹی عمر ڈار
    عمر ڈار کی بیٹی کا کہنا تھا کہ پولیس نے میرے والد کو اغوا کیا، فوٹیج موجود مگر نہیں دی جا رہی،میں واضح کر دوں کہ میں اور میرے گھر کی تمام خواتین ہم دادی کے ساتھ ،عمران خان کے ساتھ کھڑی ہیں،ملک اب بدل چکا، نوجوانوں‌کا ملک ہے،میرے بابا سے بیان دلوادیں یا کوئی اور پارٹی جوائن کروالیں،لیکن ہم خواتین عمران خان کے ساتھ ہیں.عمران خان کے نظریئے کے ساتھ ہیں،

    تمام امیدواران کو الیکشن کا برابر موقع ملنا چاہئے

    عام انتخابات کے دن قریب آئے تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ 

     این اے 15سے نوازشریف کے کاغذات نامزدگی منظور

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

    الیکشن کمیشن کا فواد حسن فواد کو عہدے پر برقرار رکھنے کا فیصلہ

    ٹکٹوں کی تقسیم،ن لیگ مشکل میں،امیدوار آزاد لڑیں گے الیکشن

    تحریک انصاف کے وکیل شعیب شاہین چیف جسٹس پاکستان کے سامنے پیش

    انتخابات سے متعلق سروے کرنے پر ٹی وی چینلز کیخلاف کارروائی کا حکم

  • پشاورہائیکورٹ، بلے کا انتخابی نشان، الیکشن کمیشن کی اپیل سماعت کیلئے مقرر

    پشاورہائیکورٹ، بلے کا انتخابی نشان، الیکشن کمیشن کی اپیل سماعت کیلئے مقرر

    پی ٹی آئی کو بلے کا انتخابی نشان دیےجانے کا معاملہ،پشاور ہائیکورٹ میں الیکشن کمیشن کی نظرثانی اپیل کی سماعت ڈویژن بینج سےکرانےکیلئے الیکشن کمیشن کی درخواست سماعت کیلئے مقررکر دی گئی

    جسٹس اعجاز خان کل درخواست کی سماعت کریں گے ،الیکشن کمیشن نے پشاورہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف نظرثانی کی اپیل دائر کی ہے ،الیکشن کمیشن نے نظرثانی اپیل کی سماعت ہائیکورٹ کےڈویژن بینج سے کرانے کی درخواست بھی دائر کی ہے،الیکشن کمیشن کے وکیل نے پشاور ہائیکورٹ میں دو الگ الگ درخواستیں دائر کر رکھی ہیں، ایک درخواست تحریک انصاف کے انٹرا پارٹی انتخابات اور انتخابی نشان سے متعلق ہے جس میں الیکشن کمیشن نے عدالت سے فیصلے پر نظرثانی کی اپیل کی ہے،الیکشن کمیشن نے ایک اور درخواست دائر کی ہے جس میں عدالت سے استدعا کی گئی ہےکہ چھٹیوں کے دوران ہی ڈویژنل بینچ بناکر درخواست کو سماعت کے لیے مقرر کیاجائے

    واضح رہےکہ الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کے انٹرا پارٹی الیکشن کو آئین کے برخلاف قرار دیتے ہوئے کالعدم کیا تھا جس کے بعد پی ٹی آئی سے بلے کا نشان چھن گیا تھا تاہم تحریک انصاف نے کمیشن کے فیصلے کو پشاور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا،پشاورہائیکورٹ نے پی ٹی آئی انٹراپارٹی انتخابات اور انتخابی نشان سے متعلق الیکش کمیشن کافیصلہ معطل کرتے ہوئے تحریک انصاف کو انتخابی نشان بلا بحال کیا تھا

    واضح رہے کہ الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کا انتخابی نشان بلا واپس لے لیا تھا، تحریک انصاف نے پشاور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی، جس پر عدالت نے پی ٹی آئی کو انتخابی نشان بلا واپس دینے کا حکم دیا تھا ،تاہم ابھی تک پی ٹی آئی کو انتخابی نشان نہیں مل سکا، الیکشن کمیشن کی جانب سے پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کر دی ہے تو وہیں بانی رہنما تحریک انصاف اکبر ایس بابر نے بھی پشاور ہائیکورٹ کے اس فیصلے کو چیلنج کرنے کا اعلان کر رکھا ہے.

  • لیول پلیئنگ فیلڈ ،تحریک انصاف کے وکیل چیف جسٹس کے سامنے پیش

    لیول پلیئنگ فیلڈ ،تحریک انصاف کے وکیل چیف جسٹس کے سامنے پیش

    سپریم کورٹ میں تحریک انصاف کی الیکشن کمیشن کے خلاف توہین عدالت کی درخواست سماعت کیلئے مقرر کردی گئی ہے،سپریم کورٹ کا 3 رکنی بینچ درخواست پر 3 جنوری کو سماعت کرے گا

    تحریک انصاف کے وکیل انتظار حسین نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ نے ہماری لیول پلئینگ فیلیڈ میں توہین عدالت کی درخواست تین جنوری کو سماعت کے لیے مقرر کر ہی دی ہے

    سپریم کورٹ،پاکستان تحریک انصاف کو انتخابات میں لیول پلیئنگ فیلڈ دینے کا معاملہ،پاکستان تحریک انصاف کے وکیل شعیب شاہین چیف جسٹس پاکستان کے سامنے پیش ہو گئے

    وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ میں ایک اہم بات کرنا چاہتا ہوں،لیول پلیئنگ فیلڈ فراہم کرنے کیلئے توہین عدالت کی درخواست دائر کر رکھی ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ وقفہ کے بعد آجائیں آپکو سن لیتے ہیں،

    پی ٹی آئی کی قانونی ٹیم وقفے کے بعد کمرہ عدالت سے غائب ہو گئی،بینچ وکلاء کی عدم موجودگی کے باعث اٹھ کر چلا گیا،بعد میں‌پی ٹی آئی وکلاء کی رجسٹرار سے ملاقات ہوئی،ایڈوکیٹ شعیب شاہین کا کہنا ہے کہ ہماری رجسٹرار سے ملاقات ہوئی ہے، رجسٹرار نے درخواست سماعت کیلئے مقرر کرنے کی یقین دہائی کرا دی ہے،آج یا کل ہماری درخواست سماعت کیلئے مقرر ہو جائیگی،ہماری عدلیہ واحد امید ہے، عدلیہ نے مثبت کردار ادا نہ کیا تو ذمہ داری عدلیہ پر ہی آئے گی،نو مئی کو الیکشن ہو جاتے تو یہ حال نہ ہوتا، سپریم کورٹ کے فیصلوں‌پر عمل ہونا چاہئے تھا، اب آٹھ فروری کا حکم ہے تو صاف شفاف الیکشن ہو،ہم نے توہین عدالت کی درخواست دائر کی، جمعرات جمعہ کو سپریم کورٹ کی چھٹی ہو گئی، اب ہم یہ استدعا کرنا چاہتے ہیں کہ آج یا کل اس درخواست کو سنیں، جس طرح کی صورتحال ہے اس میں پھر الیکشن نہ کروائیں،سیدھا وزیراعظم بنا دیں، تماشے بند کریں، ہمیں عدلیہ سے امید اسلئے کہ کاغذوں میں آئین موجود ہے،میں پی ٹی آئی کا ترجمان ہوں، ہمیں کتنی تکلیفیں پہنچیں، متعصب جج دیکھ لیں، لیکن ہماری طرف سے کوئی گفتگو نہیں کی گئی، پی ڈی ایم کی پچھلے ہفتے کی گفتگو دیکھ لیں انہوں نے کیاکہا، ہمارا عدلیہ کے ساتھ احترام کا رشتہ ہے،

    واضح رہے کہ لیول پلیئنگ فیلڈ کے احکامات پرعملدرآمد نہ ہونے پر تحریک انصاف نے سپریم کورٹ میں توہین عدالت کی درخواست دائرکررکھی ہے،تحریک انصاف کی جانب سے سپریم کورٹ میں‌ دائر درخواست میں استدعا کی گئی کہ سپریم کورٹ 22 دسمبرکے احکامات پرعملدرآمد یقینی بنائے، پی ٹی آئی امیدواروں اوررہنماؤں کوگرفتاریوں اورحراساں کرنے سے بھی روکا جائے.

    گزشتہ دنوں سپریم کورٹ نے تحریک انصاف کی لیول پلیئنگ فیلڈ سے متعلق شکایت پر الیکشن کمیشن اور حکومت کو فوری ازالے کی ہدایت کرتے ہوئے قراردیا تھا کہ بظاہر پی ٹی آئی کا لیول پلئنگ فیلڈ نہ ملنے کا الزام درست ہے، عدالتی فیصلے میں کہا گیا تھا کہ منصفانہ انتخابات منتخب حکومت کو قانونی حیثیت فراہم کرتے ہیں، شفاف انتخابات جمہوری عمل پر عوام کا اعتماد برقرار رکھتے ہیں، انتخابات جبری کی بجائے عوام کی رضا کے حقیقی عکاس ہونے چاہییں، آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کا انعقاد نتائج سے زیادہ اہم ہے الیکشن کمیشن جمہوری عمل میں میں اہم کردار ادا کرتا ہے، الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے انتخابات کو بدعنوانی سے بچائے، آئین کے آرٹیکل 220 کے تحت تمام ایگزیکٹو اتھارٹیز الیکشن کمیشن کی معاونت کے پابند ہیں۔

    تمام امیدواران کو الیکشن کا برابر موقع ملنا چاہئے

    عام انتخابات کے دن قریب آئے تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ 

     این اے 15سے نوازشریف کے کاغذات نامزدگی منظور

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

    الیکشن کمیشن کا فواد حسن فواد کو عہدے پر برقرار رکھنے کا فیصلہ

    ٹکٹوں کی تقسیم،ن لیگ مشکل میں،امیدوار آزاد لڑیں گے الیکشن

  • صنم جاوید کی عدالت پیشی،بنایا وکٹری کا نشان،بولیں،مریم کا مقابلہ کروں گی

    صنم جاوید کی عدالت پیشی،بنایا وکٹری کا نشان،بولیں،مریم کا مقابلہ کروں گی

    سیشن کورٹ لاہور ،مسلم لیگ ن کا آفس جلانے کا مقدمہ ،پولیس نے صنم جاوید کو دو روزہ جسمانی ریمانڈ ختم ہونے پر عدالت پیش کر دیا

    اس موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے، صنم جاوید قیدی وین سے اتریں تو اپنے وکیل کے ہمراہ عدالت پیش ہوئیں، اس موقع پر صنم جاوید نے وکٹری کا نشان بھی بنایا، پولیس نے صنم جاوید کا مزید جسمانی ریمانڈ مانگ لیا،پولیس نے عدالت میں کہا کہ صنم جاوید سے تفتیش کرنی ہے، جسمانی ریمانڈ دیا جائے، صنم جاوید کے وکیل نے جسمانی ریمانڈ کی مخالفت کر دی،عدالت نے وکلاء کے دلائل کے بعد فیصلہ محفوظ کیا جو اب سنا دیا گیا ہے، عدالت نے صنم جاوید کا ایک روز کا مزید جسمانی ریمانڈ دے دیا، تھانہ ماڈل ٹاؤن پولیس نے صنم جاوید کے خلاف مقدمہ درج کر رکھا ہے۔

    صنم جاوید کی ایک ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں وہ قیدی وین میں موجود ہیں، صنم جاوید سے سوال کیا گیا کہ الیکشن کہاں سے لڑیں گی، جس کے جواب میں صنم جاوید نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ “جہاں سے مریم نواز الیکشن لڑے گی، اسی حلقے سے میں لڑوں گی، میری سمجھ میں نہیں آرہا ڈر کس بات کا ہے؟کاغذ بھی ریجکٹ کروانے ہیں ضمانتیں بھی نہیں ہونے دینی “میں سچی ہوں سچ کے ساتھ کھڑی ہوں اب یہ جیلیں یہ ریمانڈ میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے میرے لئے میرا اللہ کافی ہے

    واضح رہے کہ صنم جاوید کے  نظر بندی کے احکامات واپس لئے گئے تھے، صنم جاوید کی رہائی کا امکان تھا تا ہم بعد میں پولیس نے انہیں ایک اور مقدمے میں گرفتار کر لیا،

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    غیر ملکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کر دی 

    جناح ہاؤس لاہور میں ہونیوالے شرپسندوں کے حملے کے بارے میں اہم انکشافات

    جی ایچ کیو حملے میں پی ٹی آئی خواتین رہنماوں کا کردار,تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے آئی ہے،

    جناح ہاؤس میں سب سے پہلے داخل ہونے والا دہشتگرد عمران محبوب اسلام آباد سے گرفتار 

    واضح رہے کہ صنم جاوید کی کئی مقدمات میں ضمانت منظور ہو چکی ہے تا ہم عدالت سے رہائی کے بعد صنم جاوید کو دوبارہ نئے مقدمے میں گرفتار کر لیا جاتا ہے,آٹھ نومبر کو پی ٹی آئی کارکن صنم جاوید کو جیل سے رہا ہوتے ہی دوبارہ گرفتار کرلیا گیا تھا،20 اکتوبر کو بھی تحریک انصاف کی رکن صنم جاوید خان اور ان کی ساتھی خواتین کو کوٹ لکھپت جیل سے رہائی ملنے کے بعد ان کے جیل سے باہر نکلتے ساتھ ہی پولیس نے دوبارہ گرفتار کر لیا تھا،25 ستمبر کو بھی جناح ہاؤس حملہ کیس میں رہائی پانے والی پی ٹی آئی کارکن صنم جاوید اور دیگر خواتین کو پھر سے گرفتار کرلیا تھا،

  • میری بیوی کو برہنہ کیا گیا،عزت محفوظ نہیں ہمیں گولی مار دو، جمشید دستی

    میری بیوی کو برہنہ کیا گیا،عزت محفوظ نہیں ہمیں گولی مار دو، جمشید دستی

    جمشید دستی کا اپنے گھر پر چھاپے کے حوالے سے جذباتی بیان سامنے آیا ہے، جمشید دستی کے اہلخانہ نے مبینہ چھاپے کے بعد کی ویڈیو جاری کردی،پولیس جمشید دستی کے گھر پر کاروائی کے معاملے سے انکاری ہے

    تحریک انصاف کے روپوش رہنماء جمشید دستی کا نامعلوم مقام سے جذباتی انداز میں ویڈیو بیان سامنے آیا ہے، جمشید دستی کا کہنا تھا کہ قانون نافذ کرنے والے افراد ظفر کالونی میں میرے گھر داخل ہوئے.میری بیوی کو برہنہ کیا گیا،بچوں کو مارا گیا. میں پچھلے نو ماہ سے انکی زیادتی کا مقابلہ کررہا ہوں،آج یہ انتہا پر آگئے ہیں.میرا صرف یہی گناہ ہے کہ ہم بانی تحریک انصاف کے ساتھی ہیں. ایک کیس تھا جس میں ضمانت کروالی،اب مجھ پر کوئی کیس نہیں. میرا دماغ کام کرنا چھوڑ گیا ہے،دوستوں کو کہتا ہوں ظلم کیخلاف اکٹھے ہوجاؤ.مجھے گولیاں ماردیں لیکن ان لوگوں کا مقابلہ کرنا چاہتا ہوں.چیف جسٹس صاحب ہماری عزتیں محفوظ نہیں،ہمیں گولی مار دو.

    جمشید دستی ویڈیو بیان میں رونے کیساتھ ساتھ اپنا سر بھی پیٹتے رہے

    دوسری جانب پولیس کا کہنا ہے کہ پولیس نے جمشید دستی کے گھر کوئی چھاپہ نہیں مارا. جمشید دستی اہلخانہ پر ہونے والے مبینہ تشدد کے حوالے سے درخواست دیں تو کاروائی کی جائیگی.

    مظفر گڑھ کے مقامی صحافی عبداللہ محمود نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر جمشید دستی کے گھر کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے کہا کہ جمشید دستی کئی مہینوں سے اپنی فیملی سمیت روپوش ہے۔ ان کے قریبی رشتہ داروں کا بھی ان سے رابطہ منقطع ہے۔ مقامی صحافیوں کے مطابق جمشید دستی صاحب کے دفتر پر چھاپہ پڑا تھا، لیکن ان کے گھر میں اس وقت کوئی بھی موجود نہیں۔ سیاست کے لیے اپنے بچے اور بیوی کو نیلام نہ کریں۔

    کسی حد تک زیادتی ہو رہی ہوگی لیکن اتنی بھی نہیں کہ گھر کی خواتین کو ننگا کیا گیا ہو ،فخر درانی
    صحافی فخر درانی کہتے ہیں کہ پی ٹی آئی کے ساتھ کسی حد تک زیادتی ہو رہی ہوگی لیکن اتنی بھی نہیں کہ گھر کی خواتین کو ننگا کیا گیا ہو جیسے جمشید دستی دعویٰ کررہا ہے۔ پی ٹی آئی پراپیگنڈا کی ماہر ہے اور ایک کو ایک سو بنا کر پیش کرتی ہے۔الیکشن سے پہلے زیادہ سے زیادہ ہمدردیاں حاصل کرنے کے لیے اسطرح کے روزانہ کوئی نہ کوئی واقعات بناتے رہیں گے۔ جمشید دستی ہو یا کوئی اور اگر ان کے مفرور ہونے سے جسطرح یہ دعوی کررہے ہیں انکی خواتین کو ننگا کیا گیا ہے کوئی اور ہوتا تو اب تک خود کو قانون کے حوالے کردیتا تاکہ انکی چادر اور چار دیواری کی بے حرمتی نہ ہو۔ جوں جوں الیکشن قریب آئیں گے یہ اسطرح کے واقعات روز بتائیں گے۔

    سیاست میں خود سے ننگے ہونے کی روایت کا کریڈٹ بھی پی ٹی آئی کے حصے میں ہی آیا
    ٹویٹر پر ایک صارف نعمان خان کہتے ہیں کہ جمشید دستی ایک بہت بڑا ڈرامے باز جھوٹا مکار شخص ہے،اس نے ایک نہیں کئی بار الزامات لگائے اپنے حریفوں پر لیکن کبھی ثابت نہیں کر سکا لیکن کیونکہ قانون نے ایکشن نہیں کیا تو اس بار اس نے مزید گھٹیا پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک ذمےدار ادارے پر ہی الزام لگا دیا،کیوں بھاگتا پھر رہا ہے؟کورٹ میں پیش کیوں نہیں ہوتا؟ویڈیوز بنا کر پی ٹی آئی اور ان کے سابقہ چیئرمین عوام میں جھوٹا تاثر دینے کی کوششوں میں مصروف عمل ہیں اور مظلوم بننے کا ڈھونگ کر رہے ہیں،پی ٹی آئی نے گھٹیا ترین مہم شروع کر رکھی ہے کہ پاکستان کے خلاف ،اس سے قبل پی ٹی آئی کے سابق چیئرمین نے جنرل فیصل پر الزام لگایا کہ مجھے مارنے کی کوشش کی
    جب کورٹ میں گئے اور ان سے ثبوت طلب کئے تو کہا کہ فلاں نے مجھے بتایا تھا کورٹ نے پوچھا کون فلاں تو موصوف نے کہا کہ مجھے یاد نہیں،پی ٹی آئی جب سے اقتدار سے باہر نکلی ہے اس نے صرف ایک کام کی مسلسل کوشش کی ہے کہ بس پاکستان میں خانہ جنگی شروع ہو جائے اور پاکستان عراق لیبیا شام اور یمن کی طرح تباہ و برباد ہو جائے،سیاست میں خود سے ننگے ہونے کی روایت کا کریڈٹ بھی پی ٹی آئی کے حصے میں ہی آیا ہے،جبکہ ان کے سابقہ چیئرمین اور ان کے دیگر راہنماؤں نے اپنے ہی عورتوں کو ننگا بھی کیا اور عزتیں بھی تار تار کی ہیں،عوام کو فوج کے خلاف اکسانے کی ان کی تمام تر کوششیں ناکام ہو چکی ہیں،پی ٹی آئی پر مکمل پابندی عائد ہونی چاہیئے،ملک دشمن پی ٹی آئی کو پاکستان میں سیاست کا کوئی حق نہیں،میری آرمی چیف سے پرزور اپیل ہے کہ ملٹری کورٹس کے زریعے 9 مئی کے تمام نامزد ملزمان کو سخت سے سخت سزا دی جائے

    جمشید دستی جیل سے رہائی کے بعد برس پڑے، وزیراعظم پر سنگین الزام عائد کر دیا

    کرونا ایس او پیز کی خلاف ورزی پر عوامی راج پارٹی کے سربراہ ،سابق رکن قومی اسمبلی جمشید دستی کے خلاف مقدمہ درج 

    گرفتاری کے بعد جمشید دستی بھی ہو گئے بیمار، کونسی بیماری؟

    فیس بک، ٹویٹر پاکستان کو جواب کیوں نہیں دیتے؟ ڈائریکٹر سائبر کرائم نے بریفنگ میں کیا انکشاف

    ٹویٹر پر جعلی اکاؤنٹ، قائمہ کمیٹی اجلاس میں اراکین برہم،بھارت نے کتنے سائبر حملے کئے؟

    بیس ہزار کے عوض خاتون نے ایک ماہ کی بیٹی کو فروخت کیا تو اس کے ساتھ کیا ہوا؟

  • کاغذات نامزدگی مسترد ،پی ٹی آئی کا سپریم کورٹ جانے کا اعلان

    کاغذات نامزدگی مسترد ،پی ٹی آئی کا سپریم کورٹ جانے کا اعلان

    پی ٹی آئی نے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کے خلاف سپریم کورٹ آف پاکستان سے رجوع کرنے کا اعلان کیا ہے

    تحریک انصاف کے سینیئر رہنما ڈاکٹر بابر اعوان نےاسلام آباد ہائیکورٹ میں میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ آئین کسی کو بھی الیکشن لڑنے سے نہیں روکتا،یہاں لوگوں سے کاغذات نامزدگی چھینے گئے، 300 سے زائد کاغذات نامزدگی مسترد کیے گئے ہیں، ہم ان ہتھکنڈوں کے خلاف سپریم کورٹ جا رہے ہیں، ہر حال میں ہر قیمت پر پاکستان تحریک انصاف الیکشن لڑے گی، یہی ہماری سٹریٹجی تھی کہ ہر حلقے سے اپنا امیدوار کھڑا کیا جائے، ہائی کورٹ نے اجازت دے دی ہے عمران خان خود ٹکٹ جاری کریں گے، امید ہے سپریم کورٹ اف پاکستان سے ہمیں انصاف ملے گا،

    واضح رہے کہ عام انتخابات 2024، سکروٹنی کا عمل مکمل ہونے کےبعد کاغذات نامزدگی مسترد کیے جانے کے خلاف آج سے اپیلیں سنی جائیں گی، کاغذات نامزدگی مسترد ہونے یا ان کی منظوری کے خلاف اپیلیں 3 جنوری تک دائر کی جاسکتی ہیں، الیکشن ٹربیونل اپیلوں پر 10 جنوری تک فیصلہ کرے گا

    این اے 122،عمران خان کے کاغذات نامزدگی پر دائر اعتراضات پر فیصلہ محفوظ

    تمام امیدواران کو الیکشن کا برابر موقع ملنا چاہئے

    عام انتخابات کے دن قریب آئے تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ 

    ٹکٹوں کی تقسیم،ن لیگ مشکل میں،امیدوار آزاد لڑیں گے الیکشن

    کسی بھی امیدوار کے تجویز ،تصدیق کنندہ کی ہراسگی برداشت نہیں ہوگی،عدالت

     این اے 15سے نوازشریف کے کاغذات نامزدگی منظور

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

    الیکشن کمیشن کا فواد حسن فواد کو عہدے پر برقرار رکھنے کا فیصلہ

  • این اے 122 لاہور،این اے 89 میانوالی، عمران خان کے کاغذات نامزدگی مسترد

    این اے 122 لاہور،این اے 89 میانوالی، عمران خان کے کاغذات نامزدگی مسترد

    این اے 122،عمران خان کے کاغذات نامزدگی پر اعتراض کا فیصلہ سنا دیا گیا

    بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کو لاہور سے الیکشن لڑنے بارے بڑا دھچکا،این اے 122 سے بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کاغذات نامزدگی مسترد کر دیئے گئے،ریٹرننگ افسر نے کاغذات نامزدگی پر اعتراضات کے حوالے سے محفوظ فیصلہ سنا دیا ، عمران خان این اے 122 سے الیکشن نہیں لڑ سکیں گے، تحریک انصاف کا کہنا ہے کہ ہم آر او کے فیصلے کو الیکشن ٹربیونل میں چیلنج کریں گے، این اے 122 میں مسلم لیگ ن کی جانب سے خواجہ سعد رفیق امیدوار ہیں، جبکہ مرکزی مسلم لیگ کے حافظ طلحہ سعید بھی اسی حلقے سے امیدوار ہیں

    ن لیگی رہنما، درخواست گزار میاں نصیر احمد کے وکیل نے کہا کہ بانی تحریک انصاف عمران خان کی سزا معطل ہوئی ہے جرم نہیں ، ان کا جرم برقرار ہے لہذا وہ الیکشن نہیں لڑ سکتے ، بانی تحریک انصاف کے تائید کنندہ اس حلقہ سے نہیں جو قانون کی خلاف ورزی ہے ، وکیل اظہر صدیق نے کہا کہ الیکشن کمیشن کوئی عدالت نہیں جو کسی کو سزا دے سکے ،عمران خان پر اس فیصلے کی وجہ سے آرٹیکل باسٹھ تریسٹھ کا اطلاق نہیں ہوتا ،اہلیت کا سوال تب اٹھتا ہے جب کسی قانون کے تحت سزا ہوئی ہو ، الیکشن کمیشن کی سزا کے متعلق کوئی قانون ہی موجود نہیں ،تائید کنندہ این اے 122کا ہی ووٹر تھا ، وکیل محمد خان کھرل نے کہا کہ 15دسمبر کے بعد یہ حلقہ تبدیل ہوا ، وکیل بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ حلقہ بندی کے حوالے سے ہائی کورٹ نے حکم دیا جس پر تبدیلی ہوئی ،جب یہ حلقہ بندی تبدیل ہوئی اس وقت الیکشن کا شیڈول آ چکا تھا ،الیکشن کمیشن چار ماہ پہلے حلقہ بندیوں میں ردو بدل نہیں کر سکتا ، رات کے اندھیرے میں سب کچھ کیا گیا ،یہ بانی تحریک انصاف کو الیکشن سے باہر رکھنے کی کوشش ہے ،

    واضح رہے کہ گزشتہ روز سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف ن لیگ میدان میں آئی تھی، کاغذات نامزدگی پر اعتراض عائد کر دیئے،عمران خان نے لاہور کے حلقہ این اے 122 سے کاغذات جمع کروائے تھے، ن لیگ کے سابق رکن پنجاب اسمبلی میاں نصیر احمد نے عمران خان کے کاغذات نامزدگی پر اعتراض عائد کیا، میاں‌نصیر احمد نے وکیل سپریم کورٹ محمد رمضان چودھری،بیرسٹر عبدالقدوس سوہل کے توسط سے درخواست دائر کی،میاں نصیر احمد کی درخواست میں کہا گیا ہے کہ عمران خان سزا یافتہ ہے الیکشن لڑنے کے اہل نہیں کاغذات نامزدگی مسترد کیے جائیں،

    دوسری جانب سابق وزیراعظم پاکستان عمران احمد خان نیازی کے NA89 میانوالی 1 سے کاغذات نامزدگی مستردکر دیئےگئے ہیں، پی پی 85 میانوالی عبدالرحمن المعروف ببلی خان کے کاغذات نامزدگی بھی مسترد کردئیے گئے ہیں

     الیکشن کمیشن کو تمام شکایات پر فوری ایکشن لیکر حل کرنے کا حکم

    کاغذات نامزدگی جمع کرانے کے وقت میں 2 دن کا اضافہ 

    ن لیگ کے محسن رانجھا نے پی ٹی آئی والوں پر پرچہ کٹوا دیا .

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

    عام انتخابات کے دن قریب آئے تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ