Baaghi TV

Tag: تحریک انصاف

  • بابر اعوان کا بیان مضحکہ خیز،حقائق کے منافی ہے، ترجمان الیکشن کمیشن

    بابر اعوان کا بیان مضحکہ خیز،حقائق کے منافی ہے، ترجمان الیکشن کمیشن

    ترجمان الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ بابر اعوان ایڈووکیٹ کا خیبر پختونخوا کی قومی اسمبلی کی نشستیں کم کرنے کے پر بیان مکمل طور پر حقائق کے منافی ہے

    ترجمان الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ بابر اعوان کا بیان مضحکہ خیز ہے اور عوام کے ذہنوں میں ابہام پیدا کرنے کی ناکام کوشش ہے، 25ویں آئینی ترمیم 2018 کے تحت سابق فاٹا کو صوبہ خیبر پختونخوا میں ضم کرنے سے فاٹا کی 12 قومی اسمبلی کی نشستوں کو ختم کر کےخیبر پختونخواکی قومی اسمبلی میں 6 نشستوں کا اضافہ کیا گیا، اسی طرح خیبر پختونخوا کی صوبائی اسمبلی میں 16 جنرل سیٹوں کا اضافہ کر کے 99 سے 115 کر دی گئیں ہیں،بطور وکیل بابر اعوان کو کوئی بات آئین اور قانون سے ہٹ کر نہیں کرنی چاہیے،قومی وصوبائی اسمبلیوں کی سیٹوں کا تعین پارلیمنٹ کا استحقاق ہے،آئین کے مطابق مختص کی گئی سیٹوں کے مطابق الیکشن کمیشن نے حلقہ بندی کی ہے،

    واضح رہے تحریک انصاف کے رہنما بابر اعوان نے کہا تھا کہ خیبرپختونخوا کی خودمختاری پر حملہ ہوا ہے، الیکشن کمیشن سے پوچھنا چاہتا ہوں فاٹا کی 5نشستیں کس اختیار سے ختم کی گئیں؟ آئین میں لکھا ہے قومی اسمبلی کی 342نشستیں ہوں گی انہوں نے 5 اڑا دیں یہ سیدھی سیدھی صوبائی خودمختاری میں مداخلت ہے۔ آئین کے مطابق فاٹا کو خصوصی توجہ اور خصوصی رعایت ملنی چاہیے.

    سائفر کیس، آج مایوسی ہوئی، عدالت کو کہا فیصلے کو منوائیں، وکیل عمران خان

    سائفر کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی کا جیل ٹرائل کالعدم قرار

    سائفر کیس،لگی دفعات میں سزا،عمر قید،سزائے موت ہے،ضمانت کیس کا فیصلہ

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

  • پی ٹی آئی انٹرا پارٹی الیکشن،بانی رہنما اکبر ایس بابر کا بھی بڑا اعلان

    پی ٹی آئی انٹرا پارٹی الیکشن،بانی رہنما اکبر ایس بابر کا بھی بڑا اعلان

    پاکستان تحریک انصاف کے بانی راہنما اکبر ایس بابر نے نئے پی ٹی آئی چیئرمین کی تقرری مسترد کردی، الیکشن کے طریقہ کار پر سنجیدہ سوالات اٹھا دئیے

    اکبر ایس بابر نے کہا کہ یہ "الیکشن” نہیں سراسر "سلیکشن” ہے، الیکشن کمیشن آف پاکستان پی ٹی آئی انٹرا پارٹی الیکشن میں اپنے آزاد مبصرین مقرر کرے،الیکشن کمیشن آف پاکستان کے مقرر کردہ مبصرین کی نگرانی میں شفاف، آزادانہ اور پارٹی آئین کے مطابق الیکشن کرائیں، انٹرا پارٹی الیکشن کے انعقاد سے پہلے ہی پارٹی چیئرمین کی طرف سے نئے چیئرمین کی نامزدگی نے پارٹی الیکشن کو محض سلیکشن کا عمل بنا دیا ہے،پی ٹی آئی کے آئین کے مطابق مرکزی قیادت کا الیکشن صوبائی منتخب قیادت کی ذمہ داری ہے،جب تک مرکزی قیادت کے الیکشن کا الیکڑول کالج منتخب نہ ہو تو مرکزی قیادت کا الیکشن کس بنیاد پر ہو گا؟

    اکبر ایس بابر کا کہنا تھا کہ اب تک نہ پی ٹی آئی الیکشن کمیشن کا اعلان ہوا ہے، نہ یوسی، تحصیل, ڈسٹرکٹ اور صوبائی سطح پر الیکشن کا انعقاد ہوا ہے،انٹرا پارٹی الیکشن کے شیڈول کا اعلان بھی ابھی نہیں ہوا، ان حالات میں مرکزی قیادت کا الیکشن محض ڈھونگ اور ناٹک کے سوا کچھ نہیں، تاریخ میں شاید یہ پہلے الیکشن ہیں جہاں ووٹر لسٹ نہیں، امیدواروں کو الیکشن کے طریقہ کار کا علم تک نہیں اور اسے "الیکشن” کہا جا رہا ہے،انٹرا پارٹی الیکشن کے نام پر کاغذی کاروائی قبول نہیں، حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں، شخصی تسلط سے نجات تک سیاسی جماعتیں جمہوری نہیں ہوں گی،عوامی مسائل کے حل کی صلاحیت رکھنے والی قابل قیادت پارٹیوں میں جمہوریت لانے سے ہی آئے گی،

    دوسری جانب بانی صدر پی ٹی آئی پنجاب اور عمران خان کے سگے چچا کے بیٹے سعید اللہ خان نیازی نے بانی رہنما اکبر ایس بابر کی حمایت کا اعلان کردیا.سعید اللہ خان میانوالی کی ممتاز شخصیت، عمران خان کے بہنوئی حفیظ اللہ نیازی کے بڑے بھائی اور نیازی قبیلے کے سربراہ بھی ہیں، سعیداللہ نیازی نے عمران خان کے مقابلے میں اکبر ایس بابر کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے ایک ویڈیو پیغام جاری کیا جس میں انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کو آج جن مشکلات کا سامنا ہے، اس کی ذمہ داری پارٹی کی ناقص قیادت پر ہے۔ پی ٹی آئی کا وجود خطرے میں ہے،پارٹی بنانے میں خون پسینہ دینے والے ورکرز کے لئے یہ صورتحال باعث تشویش ہے۔ عمران خان کے سامنے ہمیشہ سچ بولا جو کڑوا ہوتا ہے۔ آج نہیں تو کل یہ سچ دنیا کے سامنے آہی جائے گا۔ پی ٹی آئی کو مزید تباہی سے بچانا چاہتے ہیں، پی ٹی آئی کسی شخصیت کی ملکیت نہیں۔ پی ٹی آئی کسی ایک شخص کو اقتدار میں لانے کے لئے نہیں بنائی تھی۔ پی ٹی آئی بنانے کا مقصد معاشرے میں بہتری لانا تھا، انتشار پھیلانا نہیں تھا۔پی ٹی آئی کو بچانے کے لئے کل بھی اکبر بابر کے ساتھ کھڑا تھا، آج بھی ساتھ کھڑا ہوں۔ اکبر ایس بابر ایک سچا اور مخلص شخص ہے۔

     اسلامی شرعی احکامات کا مذاق اڑانے پر عمران نیازی کے خلاف راولپنڈی میں ریلی نکالی

    ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    ریحام خان جب تک عمران خان کی بیوی تھی تو قوم کی ماں تھیں

    خاور مانیکا کے انٹرویو پر نواز شریف کا ردعمل

    بشریٰ بی بی کی سڑک پر دوڑیں، مکافات عمل،نواز شریف کی نئی ضد، الیکشن ہونگے؟

    جعلی رسیدیں، ضمانت کیس، بشریٰ بی بی آج عدالت پیش نہ ہوئیں

    عمران خان، بشریٰ بی بی نے جان بوجھ کر غیر شرعی نکاح پڑھوایا،مفتی سعید کا بیان قلمبند

  • پی ٹی آئی میں بشریٰ بی بی کی ڈکٹیٹر شپ،تحریک انصاف کا سیاسی کلچر تباہ

    پی ٹی آئی میں بشریٰ بی بی کی ڈکٹیٹر شپ،تحریک انصاف کا سیاسی کلچر تباہ

    سابق وزیر اعظم عمران خان کی اہلیہ اور سابق گورنر لطیف کھوسہ کی آڈیو لیک ، آڈیو میں بشری بی بی اور لطیف کھوسہ چیئرمین پی ٹی آئی کی بہنوں سے متعلق اپنے تحفظات کا کھل کر اظہار کر رہے ہیں

    اینکر غریدہ فاروقی سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر کہتی ہیں کہ جیل میں بہنوں کی وجہ سے چیرمین تحریک انصاف اور بشریٰ بی بی کے درمیان مسئلہ پڑ گیا تھا۔ آپس میں تخت کلامی تک بات پہنچی تھی جو کم ظرفی اور چھوٹے سوچ کی عکاسی کرتی ہیں ۔ لطیف کھوسہ پر چیرمین تحریک انصاف کی بہنوں کی طرف سے جھوٹے اور من گھڑت الزامات دراصل چیرمین تحریک انصاف کی خاندانی پس منظر پیش کرتاہے،لطیف کھوسہ کا کہنا کہ میں نے یہ ضرور کہا کہ دیکھیں بار بار آپ ضد مت کریں، جس طرح سے میں مناسب سمجھتا ہوں مجھے کرنے دیں، واضح ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی کی قیادت سنبھالنے کے لیے عمران خان کی بہنوں اور اہلیہ بشری بی بی میں اختلافات کی خبریں پہلے سے زیر گردش ہیں جس سے مزید بحران پیدا ہوتا نظر آرہا ہے، تحریک انصاف ‘ون مین شو’ بننے کے بعد جمہوریت کی تمام اقدار سے عاری ہو کر بنانا پارٹی بن گئی ہے، جمہوریت کی اقدار سے عاری تحریک انصاف میں کیئر ٹیکر چیئرمین جیسی نئی منطق نظر آئی ہے، بشری بی بی کی تحریک انصاف کے معاملات میں دخل اندازی کے بعد جماعت میں ڈکٹیٹرشپ کے اثرات نظر آئے، بشری بی بی کے بعد تحریک انصاف کا سیاسی کلچر تباہ ہو گیا، پی ٹی آئی پہلے ہی متبادل قیادت کے فقدان اور گروپنگ کا شکار ہے جس سے پارٹی میں کئی دھڑے بن چکے ہیں

    واضح رہے کہ بشریٰ بی بی کے خلاف اڈیالہ جیل کے باہر نعرے بھی لگ چکے ہیں، اڈیالہ جیل کے باہر علیمہ خان کے خلاف بھی نعرے لگ چکے ہیں، عمران خان نے بیرسٹر گوہر کو چیئرمین نامزد کیا ہے تا ہم بشریٰ بی بی کی خواہش کچھ اور ہے، اسی طرح علیمہ خان بھی کچھ اور چاہتی ہیں،

    آڈیو لیک، کمیٹی تشکیل ، سات روز میں تحقیقات مکمل کرنے کا حکم

    آڈیو لیک،عمران خان کیخلاف سخت کاروائی کی قرارداد اسمبلی میں جمع

    ہیکرز نے دعوی کیا ہے کہ اب مزید آڈیو جمعہ کو جاری کی جائیں گی

    عمران خان کا جھوٹا بیانیہ سب نے دیکھ لیا،آڈیو کے بعد بھی یوٹرن لے سکتے ہیں،عظمیٰ بخاری

    ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی اور وکیل لطیف کھوسہ کی مبینہ آڈیو لیک ہو گئی ہےآڈیو میں بشریٰ بی بی اور لطیف کھوسہ آپس میں بات چیت کر رہے ہیں، بشریٰ بی بی کہتی ہیں کہ "بلکہ وہاں پر ہمارا مسئلہ پڑ گیا کیونکہ انکی بہنیں بھی ساتھ تھیں اور ہماری اچھی خاصی بلکہ وہاں پر مسئلہ پڑ گیا تھا،بشری بی بی نے مسکراتے ہوئے بات کی جس پر لطیف کھوسہ نے کہا اچھا اچھا،بشریٰ بی بی نے کہا کہ وہاں کافی سارا یشو کھڑا ہو گیا تھا میں حیران رہ گئی تھی ،پھر میں نے زیادہ مناسب نہیں سمجھا کہ میں ان لوگوں سے زیادہ بہنوں سے بات کروں،بس میں نے خان صاحب کو کہہ دیا کہ جی میرے کیسز تو سب وہی کریں گے اور آپ کے جتنے اب ہوں‌گےمیں نہیں سمجھوں گی کہ یہ لیٹ ہو رہا تو وہ انہی کو دوں گی،لطیف کھوسہ کہتے ہیں چلیں چلیں وہ کہتی ہیں کہ اسکے ساتھ بدتمیزی کی ہے میں نےوہ اصل میں ہوا یوں،

  • انٹرا پارٹی انتخابات،بیرسٹر گوہر تحریک انصاف کے چیئرمین کے امیدوار نامزد

    انٹرا پارٹی انتخابات،بیرسٹر گوہر تحریک انصاف کے چیئرمین کے امیدوار نامزد

    تحریک انصاف کا کون ہو گیا نیا چیئرمین؟ شیر افضل مروت کے گزشتہ روز کے اعلان کے بعد تردیدیں، دعوے، لیکن حتمی فیصلہ کچھ نہ ہو سکا، شیر افضل مروت اپنے دعوے پر قائم ہیں کہ چیئرمین عمران خان نہیں ہوں گے تا ہم اب لطیف کھوسہ نے جیل میں عمران خان سے ملاقات کی اور کہا کہ چیئرمین عمران خان ہی ہوں گے، دوسری جانب پی ٹی آئی میں شدید اختلافات دیکھنے میں آئے ہیں

    اب بیرسٹر علی ظفر نے اعلان کیا ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی نے فوراََ انٹرا پارٹی الیکشن کرانے کی منظوری دی ،چیئرمین پی ٹی آئی عارضی طور پر انٹرا پارٹی الیکشن میں حصہ نہیں لے رہے ،بیرسٹر گوہر پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین کے لیے اُمیدوار نامزد کردیے گئے۔الیکشن کمیشن کو موقع نہیں دینا چاہتے کہ وہ ہم سے بلے کا نشان لے،قانونی طور پر عمران خان انٹرا پارٹی الیکشن میں حصہ لے سکتے ہیں،علی ظفر کا کہنا تھا کہ چئیرمین پی ٹی آئی نے قانونی ٹیم سے چئیرمن شپ کے انتخابات کے حوالے سے مشاورت کی،قانونی ٹیم کے مطابق چئیرمن پی ٹی آئی کے خلاف توشہ خانہ کیس کا فیصلہ ہوا اور سزا سنائی گئی،ہمارے مطابق یہ سزا غیر آئینی اور غیر قانونی ہے، قانونی طور پر چئیرمین پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات میں حصہ لے سکتے ہیں ،ہمارے خدشات ہیں کہ اگر چئیرمن پی ٹی آئی الیکشن میں حصہ لیتے ہیں تو الیکشن کمیشن آخری وقت میں بلے کا نشان واپس لے سکتا ہے،ہم نے ان قانونی معاملات پر چئیرمین کو آگاہ کیا، چئیرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ عوام میرے ساتھ ہے، میں کسی قسم کا کوئی خطرہ مول نہیں لے سکتا،چئیرمین نے کہا کہ میں عام انتخابات میں حصہ لینا چاہتا ہوں، انٹرا پارٹی الیکشن لڑنے کی ضرورت نہیں، چئیرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ عارضی طور پر چئیرمین شپ کیلئے کوئی اور امیدوار ہو،

    علی ظفر کے بیان کے بعد شیر افضل مروت سچے ثابت ہو گئے، انکا کل کا بیان درست تھا حالانکہ پی ٹی آئی کی جانب سے اس کی تردید کی جاتی رہی، کیا اب شیر افضل مروت کے خلاف مہم چلانے والے شیر افضل مروت سے معافی مانگیں گے؟

    عہدہ امانتاً قبول کر رہا ہوں،بہت جلد یہ عہدہ عمران خان کو واپس دیں گے،بیرسٹر گوہر
    تحریک انصاف کے نامزد چیئرمین بیرسٹر گوہر نے علی ظفر کے ہمراہ میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جب تک عمران خان باعزت واپس نہیں آجاتے، میں ذمہ داری نبھاؤں گا، ہماری جدوجہد وہی ہے جو عمران خان کی تھی، انہی کا نظریہ اول آخر ہے، وہ جیل کے اندر ہوں یا باہر اصل لیڈر وہی ہیں،ہمارا نظریہ وہی ہے جو خان صاحب کا ہے،سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ چیئرمین تحریک انصاف کا عہدہ امانتاً قبول کر رہا ہوں انشاء اللہ بہت جلد یہ عہدہ عمران خان کو واپس دیں گے

    https://twitter.com/BarristerGoharA/status/1729830211561128369

    پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں اختلافات سامنے آئے ہیں،مرکزی رہنما شیرافضل مروت کا رہنماء پی ٹی آئی عاطف خان کیخلاف مبینہ آڈیو پیغام لیک ہوا ہے،شیر افضل مروت کہتے ہیں کہ عاطف خان نے کارکنوں کو پیغام بھیجا ہے کہ کنونشن سے بائیکاٹ کیا جائے، عاطف پی ٹی آئی پشاور ریجن کا صدر اور ذمہ دار بندہ ہے،اس نے نامناسب بات کی،عاطف خان کو کوئی حق نہیں کہ چیرمین پی ٹی آئی کے کنونشن سے بائیکاٹ کی باتیں کریں،علی امین گنڈاپور اس معاملے پر عاطف خان کو شوکاز نوٹس دیں،عاطف خان وضاحت دیں کہ اس نے کس حیثیت سے بائیکاٹ کی بات کی،عاطف خان سے اس بات پر چیرمین پی ٹی آئی کی جانب سے پوچھا جائے گا،عاطف خان کی اس بات کو منطقی انجام تک پہنچاؤں گا،

    دوسری جانب تحریک انصاف کے انٹراپارٹی الیکشن کے معاملے پر سینئر نائب صدر شیر افضل مروت کا کہنا ہے کہ میرے گزشتہ روز کے بیان کے بعد سوشل میڈیا پر میرے خلاف بہت زیادہ ردعمل سامنے آرہا ہے،میں نے عدالت کی جانب سے عمران خان کی پارٹی چیئرمین کے طور پر نااہلی کے حوالے آگاہ کیا، قانونی پہلوؤں کی وجہ سے چیئرمین پی ٹی آئی پارٹی چیئرمین کے لیے الیکشن نہیں لڑ سکیں گے،میں نے یہ خبر جیل میں چئیرمن پی ٹی آئی سے ملاقات کے بعد بتائی، یہ خبریں میں نے نہیں بنائیں اور نہ ہی میں توشہ خانہ کیس میں نااہلی کے عدالتی فیصلے کا ذمہ دار ہوں، میرے خلاف پروپیگنڈہ بند کیا جائے،چئیرمن شپ کے الیکشن کا فیصلہ سینیٹر علی ظفر، بیرسٹر گوہر عمیر نیازی اور میری موجودگی میں چئیرمن سے ملاقات میں ہوا،میرے خبر دینے کے فوراً بعد میڈیا نے میرے بیان کی تردید شروع کردی،پی ٹی آئی کے آفیشل ٹویٹر اکاونٹ سے مجھ سے تصدیق کے بغیر بیان جاری ہوناافسوس ناک ہے،بدقسمتی سے میرے بارے میں بہت غلط فہمیاں پیدا ہوئیں، میں یہ سمجھنے میں ناکام ہوں کہ تضاد کے پیچھے کون ہے، پاکستان تحریک انصاف کے ٹوئیٹر اکائونٹ سے بیان ہٹا دینا چاہئے ، بدنام کرنے والے لوگ مجھے تحریک انصاف کی قیادت کی خواہش کرنے کی تصویر کشی کرنا بند کر دیں،میں یہاں سیاست کو فتح کرنے کی نیت سے نہیں آیا، ہمیں ان مشکل حالات میں ہمت کی ضرورت ہے، کوئی بھی جو پاکستان کا وفادار ہے وہ میری کوششوں کو سراہے گا،میں اس مشکل وقت میں چئیرمن پی ٹی آئی اور پاکستان کے ساتھ کھڑا ہوں، ہم سب کو اس ظلم کے خلاف ڈٹ کر مقابلہ کرنا چاہیے اور ہمت نہیں ہارنی چاہیے،جیل میں پی ٹی آئی کے رہنماؤں کے ساتھ، ان کے خاندان کے ساتھ جو کچھ ہوا، اس نے انہیں توڑ کر رکھ دیا، تحریک انصاف میں شاید ہی کوئی ایسا بچا ہو جس پر ناقابل تصور تشدد نہ کیا گیا ہو، پی ٹی آئی میں ہمیں اس وقت اتحاد کی ضرورت ہے، میں تحریک انصاف میں نیا ہوں لہذا اس معاملے پر کسی کو موردالزام نہیں ٹھہراتا، پی ٹی آئی کی زیادہ تر سینئر قیادت ابھی تک جیلوں میں قید ہے، اس وجہ سے پارٹی میں تنظیم اور معلومات کے بہاؤ کو کسی حد تک نقصان پہنچا ہے، میں حال ہی میں کنونشنوں میں میرے فعال کردار کی وجہ سے عوام کی طرف سے مجھے دی جانے والی عزت کے لیے بہت مشکور ہوں، میں اس اعتماد کو کبھی نہیں توڑوں گا جو چئیرمن پی ٹی آئی نے مجھ پر ڈالا ہے،جو اس مشکل وقت میں چئیرمن پی ٹی آئی کے ساتھ کھڑا ہوگا وہ مقبول ہوگا، مجھ پر تنقید کرنے والے لوگوں کو کہتا ہوں کہ کنونشنز میں میرا ساتھ دیں اور فرنٹ لائن پر ہمارے ساتھ لڑیں،

    دوسری جانب عمران خان کے وکیل لطیف کھوسہ نے جیل میں عمران خان سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خاور مانیکا کے بیان پر چیئرمین پی ٹی آئی کو تکلیف ہوئی کہ کوئی اتنا بھی گر سکتا ہے،اور اتنا جھوٹ بھی بول سکتا ہے، سیاست میں سب ہوتا ہے کیسسز بنا دیئے جاتے ہیں،لیکن کوئی اتنا گر سکتا ہے، سابق وزیر اعظم کی شادی کو 6 سال ہو گئے ہیں،خاور مانیکا کو 2 ماہ پابند سلاسل رکھا گیا، جج کے سامنے بیان پر خاور مانیکا لکھے ہوئے کاغذ کو پڑھ رہے تھے،انھیں لکھا ہوا کاغذ دیا گیا، انھیں 6 سال بعد یاد آ گیا کہ یہ عدت میں شادی ہوئی تھی،پی ٹی آئی چیئرمین نے آج پی ٹی آئی میں شامل ہونے کا کہا ہے کہ قوم کو اور پارٹی کو آپکی ضرورت ہے ، پی ٹی آئی میں شمولیت کے حوالے سے اپنے دوستوں اور فیملی سے مشاورت کروں گا،

    لطیف کھوسہ کا کہنا تھا کہ القادر ٹرسٹ پراپرٹی میں پی ٹی آئی چیئرمین کی ایک اور بشری بی بی کی دو درخواستوں پر سماعت ہوئی، 35 ارب روپے سپریم کورٹ سے نکال کر سرکاری خزانے میں داخل کر دیا گیا، 460 ارب روپے بحریہ ٹرسٹ نے 2026 تک پیسے جمع کروانے کا وقت ہے، القادر ٹرسٹ میں بحریہ ٹاؤن کی جانب سے یونیورسٹی بنا کر تحفہ میں دی گئی،القادر ٹرسٹ کیس میں پی ٹی آئی چیئرمین اور بشری بی بی کا کوئی واسطہ نہیں ہے، توشہ خانہ میں بھی پی ٹی آئی چیئرمین کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا ہے، پی ٹی آئی چیئرمین اور بشری بی بی کی درخواست ضمانت کو 6 دسمبر تک توسیع دی گئی، جیل ٹرائل کی شروعات نہیں ہوئی، نوٹیفکیشن غیر موثر ہو سکتا ہے،352 کے مطابق میں جیل ٹرائل نہیں بلکہ اوپن ٹرائل ہی ہو سکتا ہے،اوپن ٹرائل کا مقصد ہے کہ پوری دنیا انصاف کا بول بالا ہوتا دیکھ سکے،مائنس پی ٹی آئی چیئرمین کا تصور نہیں ہے، پی ٹی آئی کا چیئرمین عمران خان ہے اور عمران خان ہی چیئرمین رہے گا، الیکشن کمیشن کے فیصلے کو چیلنج کیا جارہا ہے، انٹرا پارٹی الیکشن میں پی ٹی آئی چیئرمین ہوں گے،

     اسلامی شرعی احکامات کا مذاق اڑانے پر عمران نیازی کے خلاف راولپنڈی میں ریلی نکالی

    ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    ریحام خان جب تک عمران خان کی بیوی تھی تو قوم کی ماں تھیں

    خاور مانیکا کے انٹرویو پر نواز شریف کا ردعمل

    بشریٰ بی بی کی سڑک پر دوڑیں، مکافات عمل،نواز شریف کی نئی ضد، الیکشن ہونگے؟

    جعلی رسیدیں، ضمانت کیس، بشریٰ بی بی آج عدالت پیش نہ ہوئیں

    عمران خان، بشریٰ بی بی نے جان بوجھ کر غیر شرعی نکاح پڑھوایا،مفتی سعید کا بیان قلمبند

  • عدالت پولیس کی عزت کرنا چاہتی ہے پولیس عزت کروانا سیکھے،سندھ ہائیکورٹ

    عدالت پولیس کی عزت کرنا چاہتی ہے پولیس عزت کروانا سیکھے،سندھ ہائیکورٹ

    سندھ ہائی کورٹ ، عدالت کی جانب سے روکنے کے باوجود سابق اپوزیشن لیڈر حلیم عادل شیخ کی گرفتاری کا معاملہ،آئی جی سندھ کے خلاف حلیم عادل شیخ کے بیٹے کی جانب سے دائر توہین عدالت کی درخواست کی سماعت ہوئی

    پراسیکیوٹر نے کہا کہ ہم نے آئی جی سندھ کے خلاف توہین عدالت کی درخواست پر جواب جمع کرادیا ہے، آئی جی سندھ کے خلاف لفظ” توہین عدالت ” استعمال کرنے پر عدالت نے پراسیکیوٹر پر اظہار برہمی کیا، جسٹس عمر سیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت پولیس کی عزت کرنا چاہتی ہے لگتا ہے آپ لوگ عزت کروانا نہیں چاہتے،بار بار استدعا کے باوجود ہم نے آئی جی سندھ کو توہین عدالت کا نوٹس جاری نہیں کیا تھا، شاید میں آخری جج ہوں گا جو آئی جی سندھ کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کروں گا، پراسیکیوٹر نے کہا کہ ذمہ دار پولیس اہلکاروں کو شوکاز نوٹس جاری کردیے گئے ہیں، پولیس اہلکاروں کے خلاف محکمہ جاتی کارروائی بھی شروع کردی گئی ہے،

    ڈی آئی جی ساؤتھ نے کہا کہ ایس ایچ او پریڈی عامر اکرام اور انسپکٹر سجاد حسین، اے ایس آئی وسیم مرزا کے خلاف محکمہ جاتی کارروائی شروع کردی گئی، 27 جولائی 2023 کے احکامات کی کوئی خلاف ورزی نہیں کی گئی، ڈی آئی جی ویسٹ نے کہا کہ حلیم عادل شیخ کے خلاف 2 مقدمات درج ہیں کوئی نیا مقدمہ درج نہیں کیا گیا، حلیم عادل شیخ کو عدالت کی جانب سے این او سی حاصل کرنے کے بعد گرفتار کیا گیا،

    عدالت نے پولیس رپورٹ پر حلیم عادل شیخ کے وکیل سے جواب الجواب طلب کرلیا،عدالت نے آئی جی سندھ اور دیگر پولیس افسران کو حاضری سے استثنیٰ دے دیا،عدالت نے درخواست کی مزید سماعت 12 دسمبر تک ملتوی کردی

  • پی ٹی آئی لیگل ٹیم نے انٹرا پارٹی الیکشن کی تجویز دے دی

    پی ٹی آئی لیگل ٹیم نے انٹرا پارٹی الیکشن کی تجویز دے دی

    تحریک انصاف لیگل ٹیم نے انٹرا پارٹی الیکشن کروانے کی تجویز دے دی

    تحریک انصاف کی لیگل ٹیم کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا بھی آپشن رکھیں گے، انٹرا پارٹی الیکشن مین چیرمین پی ٹی آئی کو ہی منتخب کیا جائے گا،حامد خان کا کہنا ہے کہ انٹرا پارٹی الیکشن میں وکلاء کو اہم زمہ داریاں سونپی جائیں گی،چیرمین پی ٹی آئی نے انٹرا پارٹی کروانے کی منظوری دے دی ،

    پی ٹی آئی کورکمیٹی اجلاس کے جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی کورکمیٹی کا اہم ترین اجلاس ہوا،اجلاس میں ملکی سیاسی صورتحال، تنظیمی سرگرمیوں، تحریک انصاف کے قائدین اور کارکنان کیخلاف جبر و فسطائیت کے جاری سلسلے اور انٹراپارٹی انتخابات سمیت اہم امور پر غور کیا گیا، اڈیالہ جیل کے باہر چیئرمین عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی گاڑی کے گھیراؤ اور اشتعال انگیز نعرہ بازی کی شدید مذمت کی گئی، کورکمیٹی اراکین کا کہنا ہے کہ سیاسی مخالفین کو نشانہ بنانا اور ان کی خواتین کو ہراساں اور غلیظ پراپیگنڈہ کا ہدف بنانا نون لیگ کا پرانا وطیرہ ہے،ایسی مذموم حرکات سے چیئرمین عمران خان یا ان کے اہلِ خانہ کی قوم کی حقیقی آزادی کی جستجو میں کسی قسم کی کمی پیدا کرنا ممکن نہیں،

    کورکمیٹی کی جانب سے خیبرپختونخوا کے سینئر نائب صدر اور سابق رکن قومی اسمبلی جنید اکبر کی گرفتاری کی بھی شدید مذمت کی گئی اور جنید اکبر کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا گیا، کور کمیٹی نے خیبرپختونخوا میں پرامن کنونشنز کے منتظمین کیخلاف جھوٹے پرچوں کے اندراج کا قابلِ مذمت سلسلہ فوری ترک کرنے کا مطالبہ بھی کیا،کورکمیٹی کی جانب سے چیئرمین عمران خان کی عدالتی پیشی کے موقع پر سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات کے مطالبے کا اعادہ کیا،اجلاس میں انٹراپارٹی انتخابات کے الیکشن کمیشن کے دیے گئے ٹائم فریم میں انعقاد کی حکمتِ عملی پر بھی سیر حاصل گفتگو کی گئی.مقررہ مدت میں انٹراپارٹی انتخابات منعقد کروانے کے لائحۂ عمل کی باضابطہ منظوری بھی دے دی گئی

    واضح رہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے تحریک انصاف کا بلے کا نشان برقرار رکھتے ہوئے 20 روز میں دوبارہ انٹرا پارٹی الیکشن کرانے کا حکم دے رکھا ہے، الیکشن کمیشن نے کہا کہ تحریک انصاف 20 دن میں انٹرا پارٹی الیکشن یقینی بنائے،الیکشن کے 7 دن بعد رپورٹ جمع کرائی جائے، اگر پارٹی الیکشن نہ کرائے گئے تو تحریک انصاف انتخابی نشان کے لیے نااہل ہو گی.

    اکبر ایس بابر سچا اور عمران خان جھوٹا ثابت ہوگیا،چوھدری شجاعت

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

    ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

    عمران خان چوری کے مرتکب پارٹی سربراہی سے مستعفی ہونا چاہیے،عطا تارڑ

  • لندن میں شہزاد اکبر پر تیزاب پھینک دیا گیا

    لندن میں شہزاد اکبر پر تیزاب پھینک دیا گیا

    تحریک انصاف کے رہنما شہزاد اکبر نے دعویٰ کیا ہے کہ رات کو لندن میں میرے گھر پر حملہ کیاگیا،

    عمران خان دور حکومت میں وزیراعظم کے مشیر رہنے والے شہزاد اکبر کاکہنا ہے کہ مجھ پر تیزاب پھینکا گیا ،کچھ چوٹیں بھی آئی ہیں،میری اہلیہ اور بچے محفوظ ہیں،شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ اللہ کا شکر ہے کہ حملہ آور پوری طرح سے کامیاب نہ ہوا اور انشاللہ میرا حوصلہ اور عزم برقرار ہے اور رہے گا اور ظالم اپنے ارادوں میں کامیاب نہ ہونگے اور انشاءاللہ جلد بے نقاب بھی ہونگے.میں نے پولیس کو اطلاع کر دی ہے

    شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ حملہ انگلینڈ میں میری رہائش گاہ پرکیا گیا جہاں میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہا ہوں، مجھے معمولی زخم آئے تا ہم اہلخانہ محفوظ ہیں

  • فواد چودھری کو بی کلاس فراہم،ملاقات کی بھی اجازت،عدالت میں جواب

    فواد چودھری کو بی کلاس فراہم،ملاقات کی بھی اجازت،عدالت میں جواب

    اسلام آباد ہائیکورٹ: فواد چودھری کو جیل میں سہولیات اور وکلا و فیملی ارکان سے ملاقات کی اجازت دینے کا کیس کی سماعت ہوئی

    عدالتی حکم پر چیف کمشنر اسلام آباد کیپٹن ر انوار الحق اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیش ہوئے،فواد چوہدری کو جیل میں بی کلاس فراہم کردی گئی ، فیملی اور وکلاء سے ملاقات کی بھی اجازت دے دی گئی،چیف کمشنر نے فواد چوہدری کی درخواست پر عمل درآمد رپورٹ جمع کروادی ،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپکی رپورٹ آگئی ہے ،ٹھیک ہے آپ جا سکتے ہیں ،

    فواد چوہدری کو اہلیہ سے جیل میں پرائیویسی میں ملاقات کرانے کی اجازت مل گئی، عدالت نے فواد چوہدری کو جیل مینوئل کے مطابق طبی سہولیات بھی فراہم کرنے کا حکم دے دیا،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نےڈپٹی سپرنٹینڈنٹ جیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ڈپٹی سپرنٹینڈنٹ صاحب درخواست گزار کے وقار کو ملحوظ خاطر رکھا جائے ،جیل میں فیملی اور وکلاء ملاقات کی ملاقات پر آصف علی زرداری اور محترمہ بینظیر بھٹو کو بھی روکا جاتا تھا، ایسے واقعات آپکے افسران کے لیے شرمندگی کا باعث بنتے ہیں ، کتنے کیسز درج ہیں فواد چوہدری کے خلاف ،فیصل چودھری نے کہا کہ ایک کیس میں گرفتار ہیں باقی پتہ نہیں کتنے کیسز ہیں ،ایک کیس جہلم میں درج ہے اور ایک اور کیس پنجاب کے کسی شہر میں درج ہے ، عدالت نے کہا کہ ایسا کرتے ہیں جیل سپرنٹینڈنٹ سے کیسوں کی تفصیلات منگوا لیتے ہیں ،

    گزشتہ سماعت پر عدالت نے چیف کمشنر کے خلاف توہین عدالت کارروائی کا عندیہ دیا تھا ،جسٹس میاں گل حسن اورنگ زیب نے کیس کی سماعت کی ،چیف کمشنر کو پٹیشنر کی جانب سے دی گئی درخواستوں کو زیر غور لا کر فیصلہ کرنے کی ہدائت کی گئی تھی،عدالت نے فواد چوہدری کی درخواست ہدایات کے ساتھ نمٹا دی.

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    سپریم کورٹ نے دیا پی ٹی آئی کو جھٹکا،فواد چودھری کو بولنے سے بھی روک دیا

    بیانیہ پٹ گیا، عمران خان کا پول کھلنے والا ہے ،آئی ایم ایف ڈیل، انجام کیا ہو گا؟

    عمران خان معافی مانگنے جج زیبا چودھری کی عدالت پہنچ گئے

    عمران خان، فواد چودھری اور اسد عمر کے خلاف توہین الیکشن کمیشن کیس ہدایات کے ساتھ نمٹا دیا گیا

  • تحریک انصاف کے انٹراپارٹی انتخابات کالعدم قرار

    تحریک انصاف کے انٹراپارٹی انتخابات کالعدم قرار

    الیکشن کمیشن آف پاکستان نے تحریک انصاف کا بلے کا نشان برقرار رکھتے ہوئے 20 روز میں دوبارہ انٹرا پارٹی الیکشن کرانے کا حکم دے دیا.

    تحریک انصاف کےانٹراپارٹی الیکشن کا معاملہ،الیکشن کمیشن نے محفوظ فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف کے انٹرا پارٹی الیکشن کالعدم قرار دے دیئے گئے، الیکشن کمیشن نے کہا کہ تحریک انصاف 20 دن میں انٹرا پارٹی الیکشن یقینی بنائے،الیکشن کے 7 دن بعد رپورٹ جمع کرائی جائے، اگر پارٹی الیکشن نہ کرائے گئے تو تحریک انصاف انتخابی نشان کے لیے نااہل ہو گی.

    الیکشن کمیشن نے انٹرا پارٹی انتخابات سے متعلق پی ٹی آئی کو 2 اگست کو نوٹس جاری کیا تھا کہ انٹرا پارٹی الیکشن نہ کرانے پر پی ٹی آئی کو بلے کے نشان کے لیے نااہل کیوں نہ کیا جائے،سماعت کے دوران پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر گوہر نے بتایا تھا کہ انٹرا پارٹی الیکشن پارٹی آئین میں ترمیم سے پہلے ہوئے، بعد میں ہم نے ترامیم واپس لے لی ہیں، الیکشن کمیشن کی ڈی ڈی لاء صائمہ جنجوعہ نے کہا تھا کہ الیکشن کمیشن کو اختیار ہے کہ وہ کیس میں پی ٹی آئی کو درگزر کر دے،الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی انٹرا پارٹی الیکشن سے متعلق 13 ستمبر کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

    الیکشن کمیشن کے فیصلے کو چیلنج کریں گے، تحریک انصاف
    تحریک انصاف نے الیکشن کمیشن کا فیصلہ چیلنج کرنے کا اعلان کر دیا، بیرسٹر گوہر کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن کے فیصلے سے بہت افسوس ہوا ، الیکشن کمیشن نے انصاف کے تقاضے پورے نہیں کیے، الیکشن کمیشن نے یہ نہیں کہا تھا کہ پارٹی الیکشن آئین کے مطابق نہیں ہوئے، الیکشن کمیشن نے کہا تھا کہ ڈاکومنٹس پورے نہیں ہیں، آج کے فیصلے سے بڑا دکھ ہوا ،کسی خاص مقصد کیلئے اس فیصلے میں تاخیر کی گئی ، بلے کا نشان ہمارے پاس رہے گا ، اس آرڈر کو ہم مناسب فورم پہ چیلنج کریں گے،

    تجزیہ کاروں کے مطابق عام انتخابات میں حصہ لینے کیلئے تحریک انصاف کو انٹرا پارٹی انتخابات 20 روز میں ہر صورت کرانے ہونگے،توشہ خانہ کیس میں نااہلی کے باعث عمران خان چئیرمین کے عہدے کیلئے انتخابات میں حصہ نہیں لے سکیں گے،انٹرا پارٹی انتخابات 20 دن میں کروانے کے الیکشن کمیشن کے فیصلے سے عمران خان پارٹی سربراہی بھی جائیں گے۔ سزا یافتہ شخص پارٹی کا سربراہ نہیں رہ سکتا ، نواز شریف کے معاملے میں عدالتوں کے فیصلے موجود ہیں۔بلا بچانا ہے تو تحریک انصاف کو عمران خان کی جگہ کسی اور کو پارٹی کا سربراہ بنانا ہوگا.

    انٹرا پارٹی انتخابات نہ کروائے تو تحریک انصاف عام انتخابات میں حصہ نہیں لے سکے گی
    سابق سیکرٹری الیکشن کمیشن کنور دلشاد نے نجی ٹی وی سےبات کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کے فیصلے پر ردعمل میں کہاکہ انٹراپارٹی انتخابات کیلئے الیکشن کمیشن دو سال سے تحریک انصاف کو نوٹس جاری کر رہاتھاعمران خان جب پاکستان کے وزیراعظم تھے اس وقت بھی جون 2021میں الیکشن کمیشن نے انٹراپارٹی انتخابات کیلئے نوٹس جاری کیا تھا،کہ آپ انٹراپارٹی انتخابات کروا لیں ورنہ آپ کی پارٹی کو غیرقانونی قرار دے دیں گے،اس وقت پی ٹی آئی نےایک سال کی مہلت مانگی جس میں موقف اختیار کیا گیا کہ کورونا وبا ہے ہمارے ارکان جمع نہیں ہو پا رہے،کورونا کی وجہ سے آپ ریلیف دے دیں،جس پر الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کو ریلیف دے دیا،چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے انٹراپارٹی انتخابات کرانے کیلئے اعظم سواتی کی سربراہی میں الیکشن کمیشن تشکیل دیا،اس کے باوجود انہوں نے انتخابات نہیں کرائے، جب یہ پارٹی اقتدار سے محروم ہو گئی تھی،اس وقت بھی الیکشن کمیشن نے نوٹس جاری کیا کہ انٹراپارٹی انتخابات کرائے جائیں ، نوٹس کے باوجود پی ٹی آئی نے انتخابات نہیں کروائے اور ٹال مٹول سے کام لیا،الیکشن کمیشن دو ڈھائی سال سے پی ٹی آئی کو ریلیف دیتا آر ہا ہے،آج کے فیصلے میں الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کو 20روز کا ریلیف دیا ہے، انکو چاہئے کہ اس دوران متبادل قیادت سامنے لے آئیں الیکشن ایکٹ کی دفعات میں انٹراپارٹی انتخابات اہم شق ہے،پی ٹی آئی نے انتخابات نہ کروائے تو انتخابات میں حصہ لینے کی مجاز نہیں ہوگی.

    اکبر ایس بابر سچا اور عمران خان جھوٹا ثابت ہوگیا،چوھدری شجاعت

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

    ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

    عمران خان چوری کے مرتکب پارٹی سربراہی سے مستعفی ہونا چاہیے،عطا تارڑ

  • شہریار آفریدی،شاندانہ گلزار کی ایم پی او آرڈرز کالعدم قراد دینے کی درخواست، فیصلہ محفوظ

    شہریار آفریدی،شاندانہ گلزار کی ایم پی او آرڈرز کالعدم قراد دینے کی درخواست، فیصلہ محفوظ

    اسلام آباد ہائیکورٹ: شہریار آفریدی اور شاندانہ گلزار کی ایم پی او آرڈرز کالعدم قراد دینے کی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کر لیا گیا

    ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کے ایم پی او آرڈر جاری کرنے کے اختیار پر بھی دلائل مکمل ہو گئے، درخواست گزار کے وکیل شیر افضل مروت عدالت میں پیش نہ ہوئے، عدالت نے تحریری دلائل جمع کرانے کی ہدایت کر دی،اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس بابر ستار نے درخواستوں پر سماعت کی،

    ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کے اختیارات سے متعلق عدالت نے دو عدالتی معاونین مقرر کیے تھے،عدالتی معاونین بیرسٹر صلاح الدین اور وقار رانا عدالت میں دلائل دے چکے،اسلام آباد ہائیکورٹ نے شہریار آفریدی اور شاندانہ گلزار کے خلاف ایم پی او آرڈر معطل کر رکھا ہے،عدالت نے ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کو مزید ایم پی او آرڈر جاری کرنے سے روک رکھا ہے

    ابھی ایم پی او کو کالعدم تو نہیں کیا بلکہ کچھ شرائط عائد کی ہیں

    پرامن احتجاج ہرکسی کا حق ہے،9 مئی کو جو کچھ ہوا اسکےحق میں نہیں 

    عدالت کے گیٹوں پر پولیس کھڑی ہے آنے نہیں دیا جارہا 

    کنیز فاطمہ کا کہنا تھا کہ کوئی بھی محب وطن پاکستانی ایسی واقعات کو پسند نہیں کرتا،

     شہریار آفریدی کو ڈیتھ سیل میں رکھا گیا یے