Baaghi TV

Tag: تحریک انصاف

  • شاہ محمود قریشی کی جیل میں طبیعت خراب،ہسپتال منتقل

    شاہ محمود قریشی کی جیل میں طبیعت خراب،ہسپتال منتقل

    تحریک انصاف کے رہنما،سابق وزیر خارجہ شاہ محمود کی جیل میں طبیعت خراب ہوگئی

    جیل میں طبیعت خراب ہونےپر جیل کے ڈاکٹر نے شاہ محمود قریشی کا طبی معائنہ کیا اور انہیں جیل سے ہسپتال منتقل کرنے کا مشورہ دیا، جس کے بعد شاہ محمود قریشی کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے، شاہ محمود قریشی کو پمز منتقل کیا گیا ہے، اس موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں، شاہ محمود قریشی کے ضروری ٹیسٹ کئے جائیں گے،

    سائفر کیس میں عمران خان اور شاہ محمود قریشی پر خصوصی عدالت فرد جرم عائد کرچکی ہے،عدالت نے گواہوں‌کو بیان ریکارڈ کرنے کے لئے طلب کر رکھا ہے

  • سپریم کورٹ،الیکشن کمیشن نے عام انتخابات کے لئے 11فروری کی تاریخ دے دی

    سپریم کورٹ،الیکشن کمیشن نے عام انتخابات کے لئے 11فروری کی تاریخ دے دی

    سپریم کورٹ میں عام انتخابات 90 روز میں کروانے سے متعلق سماعت ہوئی

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ سماعت کرہا ہے،پاکستان تحریک انصاف کے وکیل علی ظفر روسٹرم پر آگئے اور کہا کہ اگر عدالت اجازت دے تو میں دلائل کا آغاز کرنا چاہوں گا،وکیل سجیل سواتی نے کہا کہ میں اس کیس میں الیکشن کمیشن کی نمائندگی کروں گا،فاروق نائیک وکیل پیپلز پارٹی نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے اس کیس میں فریق بننے کی درخواست دائر کی ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کسی فریق کو اعتراض تو نہیں اگر عدالت فاروق نائیک صاحب کو اس کیس میں سنے، وکیل علی ظفر نے کہا کہ ہم فاروق ایچ نائیک صاحب کو خوش آمدید کہتے ہیں ،عدالت نے پیپلز پارٹی کو انتخابات کیس میں فریق بننے کی اجازت دے دی

    پی ٹی آئی کے وکیل علی ظفر نے دلائل کا آغاز کردیا، وکیل علی ظفر نے کہا کہاپنی استدعا کو صرف ایک نقطے تک محدود کروں گا،استدعا ہے الیکشن آئین کے مطابق وقت پر ہونے چاہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کی 90 دنوں میں انتخابات کی استدعا تو اب غیر موثر ہو چکی، وکیل علی ظفر نے کہا کہ ہم بنیادی انسانی حقوق کی بات کرتے ہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بنیادی حقوق سے تو کوئی انکار نہیں کر سکتا،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ عوام کی رائے جاننے سے بہتر اور کیا ہو سکتا ہے،

    میرا نہیں خیال انتخابات کی کوئی مخالفت کرے گا،چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے پی ٹی آئی وکیل سے مکالمہ کرتےہوئے کہا کہ اب آپ صرف انتخابات چاہتے ہیں،وکیل علی ظفر نے کہا کہ جی ہم انتخابات چاہتے ہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا انتخابات کی کوئی مخالفت کرے گا؟ میرا نہیں خیال انتخابات کی کوئی مخالفت کرے گا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ کیا آپ مخالفت کریں گے ،چیف جسٹس کے سوال پر اٹارنی جنرل نےانکار میں جواب دیا، وکیل علی ظفر نے کہا کہ آئین کا آرٹیکل 58 اور 224 پڑھا جا سکتا ہے،انتخابات نہیں ہوں گے تو نہ پارلیمنٹ ہوگئی نا قانون بنیں گے،انتخابات کی تاریخ دینا اور شیڈول دینا دو چیزیں ہیں،الیکشن کی تاریخ دینے کا معاملہ آئین میں درج ہے،صدر اسمبلی تحلیل کرے تو 90دن کے اندر کی الیکشن تاریخ دے گا ، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا یہ تاریخ دینے کیلئے صدر کو وزیر اعظم سے مشورہ لینا ضروری ہے،وکیل علی ظفر نے کہا کہ ضروری نہیں ہے صدر کا اپنا آئینی فریضہ ہے وہ تاریخ دے،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ کیا صدر نے الیکشن کی تاریخ دی ہے،وکیل علی ظفر نے کہا کہ میری رائے میں صدر نے تاریخ دیدی ہے، الیکشن کمیشن کے مطابق تاریخ دینا صدر کا اختیار نہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا وہ خط دیکھ سکتے ہیں جس میں صدر نے تاریخ دی ،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ صدر نے تاریخ دینے کا حکم دینا ہے، حکومت نے اسے نوٹیفائی کرنا ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ صدر نے جس خط میں تاریخ دی وہ کہاں ہے، علی ظفر نے صدر کا خط پڑھ کر سنا دیا

    صدر مملکت ہدایات پر عمل نہ کریں تو کیا توہین عدالت کا نوٹس جاری ہو سکتا ہے؟چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ اسمبلی 9اگست کو تحلیل ہوئی اس پر تو کسی کا اعتراض نہیں؟وکیل علی ظفر نے کہا کہ جی کسی کا اعتراض نہیں،وزارت قانون نے رائے دی کہ صدر مملکت تاریخ نہیں دے سکتے،90 دنوں کا شمار کیا جائے تو 7 نومبر کو انتخابات ہونے ہیں،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ صدر مملکت کو الیکشن کمیشن کو خط لکھنے مئں اتنا وقت کیوں لگا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا صدر مملکت نے سپریم کورٹ سے رائے لینے کیلئے ہم سے رجوع کیا،وکیل علی ظفر نے کہا کہ نہیں ایسا نہیں ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پھر آپ خط ہمارے سامنے کیوں پڑھ رہے ہیں،صدر کے خط کا متن بھی کافی مبہم ہے،صدر نے جب خود ایسا نہیں کیا تو وہ کسی اور کو یہ مشورہ کیسے دے سکتے ہیں،علی ظفر کیا آپ کہہ رہے ہیں صدر نے اپنا آئینی فریضہ ادا نہیں کیا،9 اگست کو اسمبلی تحلیل ہوئی اور صدر نے ستمبر میں خط لکھا،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ آئین کی کمانڈ بڑی واضح ہے صدر نے تاریخ دینا تھی اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اختلاف کرنے والے بھلے اختلاف کرتے رہیں ،کیا سپریم کورٹ انتخابات کی تاریخ دے سکتی ہے؟ جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ کیا الیکشن کمیشن نے کبھی کہا کہ صدر تاریخ دیں؟ وکیل علی ظفر نے کہا کہ صدر مملکت نے تاریخ نہیں دی، اس پہلو کو ایک جانب رکھ کر سپریم کورٹ کو بھی انتخابات کا معاملہ دیکھنا چاہئے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا کہ کیا سپریم کورٹ صدر کے خلاف جاکر انتخابات کی تاریخ دے سکتی ہے؟ کیا آئین پاکستان سپریم کورٹ کو تاریخ دینے کا اختیار دیتا ہے؟علی ظفر نے کہا کہ جی بلکل سپریم کورٹ اس معاملے میں مداخلت کرسکتی ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے علی ظفر سے استفسار کیا کہ کیا ہم صدر مملکت کو ہدایات دے سکتے ہیں؟اگر صدر مملکت ہدایات پر عمل نہ کریں تو کیا توہین عدالت کا نوٹس جاری ہو سکتا ہے؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے علی ظفر سے استفسار کیا کہ آپ کس جماعت کی نمائندگی کرہے ہیں؟ وکیل علی ظفر نے کہا کہ میں پاکستان تحریک انصاف کا وکیل ہوں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ گزشتہ دنوں ایک ٹی وی پروگرام میں صدر مملکت نے کہا کہ تحریک انصاف کے لیڈر انکے بھی لیڈر ہیں ، تو آپ سپریم کورٹ آنے کی بجائے انہیں کال کریں اور الیکشن کی تاریخ لیں،

    صدر مملکت نے تو تاریخ نہ دے کر خود آئینی خلاف ورزی کی،چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا اب یہ عدالت صدر کے خلاف رٹ جاری کر سکتی ہے، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ آرٹیکل 98 بہت واضح ہے اس پر اس عدالت کا کردار کہاں آتا ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کے مطابق تاریخ دینا صدر کا اختیار ہے،پھر آپ بتائیں کہ کیا اس عدالت کو بھی تاریخ دینے کا اختیار ہے،اگر صدر نے بات نہ مانی تو ہم انہیں توہین عدالت کا نوٹس جاری کریں گے،وکیل پی ٹی آئی علی ظفر نے کہا کہ 90 روز میں انتخابات ممکن نہیں تو صدر کو کہا جائے 54 روز میں انتخابات کا اعلان کریں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ صدر کو کون کہے گا آپ نہیں بلکہ ہم تین ججز ہی کہہ سکتے ہیں،جب ہم آرڈر جاری کریں گے تو ذہن میں رکھیں کہ جو تاخیر کا ذمہ دار ہوگا اس کیخلاف لکھیں گے،وکیل علی ظفر نے کہا کہ بہتر ہوگا کہ صدر کو انفرادی طور پر نہ دیکھا جائے بلکہ صدر مملکت کے طور پر دیکھا جائے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ صدر فرد نہیں ادارہ ہے،صدر کو تو تمام طریقہ کار معلوم تھا،صدر کو آرٹیکل 248 کے تحت استثنی حاصل ہے لیکن آپ بتا دیں کہ انہوں نے تاریخ دی کب؟ صدر مملکت کی گنتی درست تھی کہ اسمبلی تحلیل ہونے سے 89واں دن 6 نومبر ہے، صدر مملکت نے تو تاریخ نہ دے کر خود آئینی خلاف ورزی کی،آئین پاکستان نے ہمیں تاریخ دینے کا اختیار کہاں دیا ہے، وکیل علی ظفر نے کہا کہ سپریم کورٹ ایک مرحلے میں مداخلت کر چکی ہے، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ اس وقت سوال مختلف تھا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ انتخابات کا انعقاد تو اچھی چیز ہے پرابلم نہیں ہے،آپ کے لیڈر صدر کے بھی لیڈر ہیں،صدر کو فون کر کے کیوں نہیں کہا گیا کہ انتخابات کی تاریخ دیں ،جسٹس امین الدین نے کہا کہ آپ کی دلیل تو یہ ہے کہ صدر نے آئین سے انحراف کیا،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ بادی النظر میں حکومت ،الیکشن کمیشن اور صدر مملکت تینوں ذمہ دار ہیں،اب سوال یہ ہے کہ اس کے نتائج کیا ہوں گے،انتخابات تو وقت پر ہونے چاہیں،آئین کی خلاف ورزی تو ہوچکی جس نے خلاف ورزی کی نتائج بھگتنا ہونگے،

    آپ چاہتے ہیں عدالت آئین کی خلاف ورزی کو درگزر کر دے؟جسٹس اطہرمن اللہ
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے پی ٹی آئی وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آخری سماعت پر کہا تھا کہ کوئی حل بتائیں ورنہ تو صدر کیخلاف آپ خود برا وقت لانا چاہتے ہیں،تاریخ جہاں سے آئے ہم نے یہ دیکھنا ہے کہ بس انتخابات ہونے چاہیں،آپ کہتے کہ صدر نے تاریخ دینی ہے تو پھر ٹھیک ہے صدر نے آئین کی خلاف ورزی کی ہم لکھ دیں گے،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ آپ چاہتے ہیں عدالت آئین کی خلاف ورزی کو درگزر کر دے؟ عدالت ایک دن کی تاخیر بھی کیوں درگزر کرے چاہے کرنے والا کوئی بھی ہو، عدالت کو نظریہ ضرورت کی طرف نہ لیکر جائیں،وکیل علی ظفر نے کہا کہ اس طرح معاملہ چلتا رہا تو انتخابات نہیں ہوسکیں گے،

    درخواست گزار منیر احمد کے وکیل انور منصور خان عدالت میں پیش ہوئے، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ کیا درخواست گزار کے وکیل کے طور پر اپ نے درخواست لکھی تھی؟ انور منصور خان نے کہا کہ جناب درخواست میں نے نہیں لکھی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ منیر احمد پر کل ابصار عالم نے ایک کیس میں سنجیدہ الزامات لگائے ہیں،عدالتی عملے کی جانب بتایا گیا ہے کہ آپ کا وکالت نامہ اس میں موجود نہیں،آپ اگر ان کے وکیل ہیں تو وکالت نامہ جمع کرائیں ہم آپ کا وکالت نامہ قبول کرتے ہیں، انور منصور خان نے کہا کہ مجھ سے وکالت نامہ دستخط کرایا گیا ، کیوں جمع نہیں ہوا، نہیں معلوم ، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس کیس میں اظہر صدیق ایڈوکیٹ سمیت سات وکلا ہیں ان میں سے ایک بھی ہمارے سامنےآج موجود نہیں،عملے نے بتایا ہے عزیر چغتائی کو لاہور رجسٹری کی جانب سے سماعت کے بارے میں آگاہ کیا گیا ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ انور منصور خان آپ اس کیس میں پھنس سکتےہیں، منیر احمد جیسے لوگوں کو بھی فکس کرنا ہوگا،وکیل انور منصور خان نے کہا کہ میں اس کیس میں واک آؤٹ کرتا ہوں،

    آئین معطل کرنے کی سزا پر آرٹیکل 6 لگتا ہے، جسٹس اطہرمن اللہ
    وکیل عابد زبیری سپریم کورٹ میں پیش ہوئے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے عابد زبیری سے استفسار کیا کہ آپ پی ٹی آئی وکیل کے موقف سے اتفاق کرتے ہیں یا نہیں،وکیل سپریم کورٹ عابد زبیری نے کہا کہ میں علی ظفر سے اتفاق کرتا ہوں مگر میری استدعا الگ ہے،14 مئی کو انتخابات والے فیصلے کو پڑھنا چاہتا ہوں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ 14 مئی کو انتخابات والا کیس تو ہمارے سامنے نہیں ہے،وکیل عابد زبیری نے کہا کہ سپریم کورٹ کا حکمنامہ پڑھ رہا ہوں جو ہم سب پر لازم ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ ہمیں پریکٹس اینڈ پروسیجر کیس کی طرف لےجارہے ہیں،عابد زبیری نے کہا کہ سپریم کورٹ کا انتخابات کا فیصلہ 4 اپریل کا ہے پریکٹس اینڈ پروسیجر بعد میں آیا،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ جوبھی انتخابات نہیں کروا رہا وہ آئین کومعطل کئے ہوئے ہیں،آئین کومعطل کرنےپرآرٹیکل6بھی لگ سکتاہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ علی ظفر یہ کہہ رہےہیں کہ صدرآئین کی خلاف ورزی کررہے،آج کی تاریخ تک خلاف ورزی موجود نہیں ہے7نومبرسے شروع ہوجائے گی،آپ جو دلائل دے رہے ہیں اس سے تو صدر مملکت پر آرٹیکل 6 لگ جائے گا،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ آئین معطل کرنے کی سزا پر آرٹیکل 6 لگتا ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ میری رائے میں ابھی تک آئینی خلاف ورزی نہیں ہوئی،7 نومبر کی تاریخ گزرنے کے بعد آئین کی خلاف ورزی کی بات ہوگی،ہم کوشش کریں گے کہ آج ہی کیس مکمل کر لیں،

    جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ عابد زبیری صاحب آپ اتنا چاہتے ہیں ناں کہ انتخابات ہوں تو باقی باتیں چھوڑ دیں،ماضی میں جائیں تو آئین اور عدالتی حکم کی خلاف ورزی ہوچکی ہے،وکیل عابد زبیری نے کہا کہ سپریم کورٹ کا اپنا فیصلہ ہے کہ صدر انتخابات کی تاریخ دے سکتے ہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ عابد زبیری صاحب آپ وہ کام ہم سے کرانا چاھتے ہیں جو ہمارا کام نہیں،یہ کام جن کا ہے وہ کریں،عابد زبیری نے کہا کہ یہ جو کام نہیں کررہے ہیں اس لئے تو ہم اپ کے پاس آئےہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اس کا مطلب آپ صدر کے خلاف آرٹیکل 6 invoke کروانا چاہتےہیں، عابد زبیری نے کہا کہ میں ایسا نہیں چاہتا،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے عابد زبیری سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کہہ رہے ہیں کہ الیکشن کمیشن انتخابات کی تاریخ نہیں دے سکتا،سپریم کورٹ کے فیصلے پر نظرثانی ہوسکتی ہے،صرف اتنا بتا دیں کہ سپریم کورٹ انتخابات کی تاریخ دینے کا کہہ سکتی ہے،سپریم کورٹ کیسے انتخابات کی تاریخ بدل سکتی ہے یا 21 ارب دینے کا کیسے کہہ سکتی ہے،
    ہمیں دوسری طرف لیکر نہ جائیں،وکیل عابد زبیری نے کہا کہ 90 روز میں انتخابات نہیں ہوئے اس لیے سپریم کورٹ نے احکامات دیئے،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد کسی نے توہین عدالت کی درخواست کیوں نہیں دی،میرا سوال یہ ہے کہ انتخابات میں تاخیر کا ذمہ دار کون ہے اور اس کی سزا کیا ہوگی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سپریم کورٹ کسی اور کی ذمہ داری اپنے سر نہیں لے گی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے عابد زبیری سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ لوگ صدر کیخلاف آرٹیکل 6 کی کارروائی کروانا چاہتے ہیں،وکیل عابد زبیری نے کہا کہ جب آئین کی خلاف ورزی ہوگی تو سپریم کورٹ کوئی بھی فیصلہ دے سکتی ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پنجاب انتخابات کیس کا ہمارے ساتھ لینا دینا ہی نہیں ہے،ہم دوسری درخواستوں پر سماعت کر رہے ہیں،چیف جسٹس نے عابد زبیری سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے آخری سماعت پر خود کہا تھا کہ صرف انتخابات کی بات تک محدود رہیں گے،ہمیں پتا ہے آپ چاہتے ہیں کہ یہ بینچ ٹوٹ جائے،آپ پہلے یہ بتائیں علی ظفر سے متفق ہیں یا نہیں، عابد زبیری نے کہا کہ میں اپنی استدعا پڑھوں گا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہمیں آپ کی استدعا سے نہیں آئین سے مطلب ہے،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ عابد زبیری صاحب آپ چاہتے ہیں مزید آئین کی خلاف ورزی جاری رہے؟ عابد زبیری نے کہا کہ میں ایسا نہیں چاہتا، عابدی زبیری نے 14 مئی کے الیکشن سے متعلق سپریم کورٹ فیصلہ کا حوالہ دیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ عابد زبیری صاحب آپ اس جھگڑے میں پڑے ہیں تو پھر بتائیں اس کا کورٹ آرڈر کہاں ہے؟ آپ وہ آرڈر دکھا ہی نہیں سکتے کیونکہ اس کا باضابطہ آرڈر موجود نہیں، عابد زبیری نے کہا کہ میں تین رکنی بینچ کے فیصلے کا حوالہ دے رہا ہوں،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ عابد زبیری صاحب ہم نے نہیں کہا تھا کہ 90 دن میں الیکشن آئین کے تحت ضروری نہیں ہیں،

    پیپلز پارٹی کے وکیل فاروق ایچ نائیک دلائل شروع ہو گئے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ نائیک صاحب آپ سینئر وکیل ہے آپ پیچھے جاکر بیٹھ گئے آپ کو تو آگے آنا چاہیے تھا ،فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ انتخابات آئین کے مطابق لازمی ہونے چاہئیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت معاملہ الیکشن کا ہے۔یہ کام کمیشن کا ہے اگر وہ نہیں کراتا تو پھر شاید یہ معاملہ ہمارے پاس آئے، کیا آپ علی ظفر کے ساتھ متفق ہیں؟ فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ میں علی ظفر سے متفق نہیں ہوں،تاریخ دینے کی زمہ داری صدر کی ہے کمیشن اس کا شیڈول دے گا، پیپلز پارٹی چاہتی ہے کہ انتخابات آئین کے مطابق وقت ہوں، جسٹس اطہرمن اللہ نے استفسار کیا کہ کیا مشترکہ مفادات کونسل میں پیپلز پارٹی نے مردم شماری کی مخالفت کی؟ پیپلز پارٹی نے مخالفت نہیں کی، فاروق نائیک نائیک صاحب چھوڑ دیں آپ کی جماعت سمیت سب ذمہ دار ہیں، پیپلزپارٹی سمیت تمام لوگ انتخابات میں تاخیر کے ذمہ دار ہیں،

    وکیل الیکشن کمیشن سجیل سواتی نے کہا کہ الیکشن کمیشن 11 فروری کو عام انتخابات کراسکتا ہے۔الیکشن کمیشن نے عام انتخابات کے لئے 11فروری کی تاریخ دے دی،الیکشن کمیشن کے وکیل سجیل سواتی نے سپریم کورٹ میں عام انتخابات کی تاریخ دیدی وکیل نے کہا کہ چار فروری کو پہلا اتوار ہے اور دوسرا اتوار گیارہ فروری کو ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا صدر مملکت اس سارے عمل میں آن بورڈ ہے،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے صدر سے مشاورت نہیں کی، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ آپ سو چ سمجھ کر سوالوں کے جواب دیں، آپ کا ادارہ ایک آئینی ادارہ ہے، الیکشن کمیشن آج ہی صدر مملکت سے مشاورت کرے، الیکشن کمیشن آئین کی خلاف ورزی کر رہا ہے، آئین میں واضح ہے کہ انتخابات کی تاریخ صدر دے گا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا الیکشن کمیشن ابھی جا کر صدر مملکت سے مشاورت کر سکتا ہے،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ حلقہ بندی کے بعد 54 دن کا انتخابی شیڈول ہوتا ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا صدر پاکستان کو تاریخ سے آگاہ کیا ہے؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ قانون کے مطابق صدر کو بتانےکے پابند نہیں، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ آپ آئین کی خلاف ورزی کی ذمہ داری لے رہے ہیں، چیف جسٹس نے کہا کہ الیکشن کمیشن ابھی جا کر صدر سے کیوں نہیں ملاقات کرتا؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ ہدایات لیکر بتا سکتا ہوں، چیف جسٹس نے کہا کہ ابھی جائیں اور پتا کرکے بتائیں، وہ اتنے بڑے ہیں کہ عدالت نہیں آ سکتے، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا صدر کو جواب بظاہر آئین کیخلاف ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ عدالت کسی خط و کتابت میں نہیں جائے گی،

    الیکشن کمیشن نے انتخابات کا شیڈول سے متعلق سپریم کورٹ کا آگاہ کر دیا،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ 29 جنوری کو حلقہ بندیوں سمیت تمام انتظامات مکمل ہو جائیں گے،11 فروی کو ملک بھر میں انتخابات ہوں گے، 3 سے 5 دن حتمی فہرستوں میں لگیں گے،5 دسمبر کو حتمی فہرستیں مکمل ہو جائیں گی، 5 دسمبر سے 54 دن گنیں تو 29 جنوری بنتی ہے،انتخابات میں عوام کی آسانی کیلئے اتوار ڈھونڈ رہے تھے،4 فروی کو پہلا اتوار بنتا ہے جبکہ دوسرا اتوار 11 فروری کر بنتا ہے،ہم نے اپنے طور پر یہ فیصلہ کیا کہ 11 فروری والے اتوار کو الیکشن کروائے جائیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیی نے کہا کہ ہم جواب کا انتظار کر لیتے ہیں۔صدر مملکت بھی پاکستانی ہے۔صدت مملکت اور الیکشن کمیشن آپس میں بات کریں۔کسی کو اعتراض ہے اگر الیکشن کمیشن صدر سے مشاورت کرے۔وکیل تحریک انصاف نے کہا کہ ہمیں کوئی اعتراض نہیں۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ کیا اعتراض ہو سکتا ہے۔چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ایک مرتبہ تاریخ آ جائے۔ حلقہ بندیوں کا عمل بھی ہے ، انتخابات کب ہونا ہے یہ آئینی کھلاڑیوں نے فیصلہ کرنا ہے ، ہم چاہتے ہیں انتخابات ہو جائیں، ہم اہک تنازعہ کو ختم کرنا چاہتے ہیں، فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر صدر کیساتھ لازمی ملاقات کرے۔چیف جسٹس نے کہا کہ سپریم کورٹ کی کاروائی میں پھر وقفہ کر دیتے ہیں۔سب کو انتخابات چاہیے ، ہم چاہتے ہیں کہ ادارے ترقی کریں،پارلیمنٹ اپنا کام کرے۔صدر مملکت اپنا کام کرے۔الیکشن کمیشن اپنا کام کرے۔ ہم بھی سوچ لیتے ہیں کیا کریں۔ آرڈر جاری کریں یا نہ کریں۔ہم کسی کا کردار نہیں لینگے،ہم چاہتے ہیں جس کی ذمہ داری ہے وہ پوری کریں۔ ہر کسی کو اپنا کام خود کرنا ہوگا ہم دوسروں کا کام نہیں کرینگے۔ ہو سکتا ہے صدر مملکت اور الیکشن کمیشن کی آج ملاقات ہو جائے۔ ہر ملک کو آگے جانا ہوتا ہے مہذب معاشروں میں بات چیت سے فیصلہ ہوتے ہیں

    سپریمُ کورٹ کا حکم ، الیکشن کمیشن میں مشاورت ہوئی،چیف الیکشن کمشنر کی قانونی ٹیم اور الیکشن کمیشن حکام سے مشاورت ہوئی، سپریم کورٹ کی ہدایات کی روشنی میں پیدا ہونے والی صورتحال سے متعلق غورکیا گیا

    دوبارہ سماعت ہوئی تو وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے فیصلہ کیاہے کہ صدرمملکت سے مشاورت کی جائیگی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اٹارنی جنرل آپ اس سارے عمل میں شامل رہیں ،اس سارے عمل میں کوئی سیاسی جماعت کا نمائندہ نہیں ہوگا،آپ اس کو کیسے کرینگے؟ہم اس کیس کو ختم کرنا چاہتےہیں۔ آپ آج مشاورت کرلیں، وکیل نے کہا کہ سر ہم چیک کرتے ہیں کہ صدر کی کیا مصروفیات ہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آئندہ سماعت تک تاریخ طے کرکے آئیں، اٹارنی جنرل آپ صدر سے ملاقات فکس کرائیں ،ہم سماعت کل تک ملتوی کرتے ہیں، جو بھی ملاقات کا نتیجہ ہوگا وہ آرڈرمیں شامل کرینگے، ہم دونوں آئینی ادراوں کے اختیار کم نہیں کررہے ہیں،ہماری گزشتہ سماعت کا حکم نامہ صدر کو دکھائیں،جو تاریخ دی جایے گی اس پر عملدرآمد کرنا ہوگا، سپریم کورٹ بغیر کسی بحث کے انتخابات کا انعقاد چاہتی ہے،ہم امید کرتے ہیں عام انتخابات کی تاریخ طے کی جائیگی،اس بارے میں کل عدالت کو آگاہ کیا جائیگا،جو بھی طےہوگا اس پر تمام کے دستخط موجود ہونگے۔ایک دفعہ تاریخ کا اعلان ہو جانے پر تصور کیا جائے یہ پتھر پر لکیر ہو گی،تاریخ بدلنے نہیں دیں گے،ہم اسی تاریخ پر انتخابات کا انعقاد یقینی بنوائیں گے،عدالت اپنے فیصلے پر عمل درآمد کروائیگی ،سماعت کل تک ملتو ی کر دی گئی.

    سپریم کورٹ نے تحریری حکمنامہ میں کہا کہ الیکشن کمشین کے مطابق 30 نومبر کو حلقہ بندی کا عمل مکمل ہوگا، پانچ دسمبر کو حلقہ بندیوں کے نتائج شائع ہونگے، الیکشن کمیشن کے مطابق حلقہ بندی شائع ہونے کے بعد انتخابی پروگرام جاری ہوگا،
    الیکشن کمیشن کے مطابق انتخابی پروگرام 30 جنوری کو مکمل ہوگا،الیکشن کمیشن چاہتا ہے انتخابات اتوار کے دن ہوں، انتخابی پروگرام کے بعد پہلا اتوار چار فروری بنتا ہے، عوام کی شرکت کیلئے الیکشن کمیشن چاہتا ہے انتخابات 11 فروری کو ہونگے، الیکشن کمیشن آج صدر سے ملاقات کرکے انتخابات کی تاریخ کا تعین کرے،صدر اور الیکشن کمیشن کے درمیان جو بھی طے ہو عدالت کو تحریری طور پر آگاہ کیا جائے، تحریر پر صدر اور الیکشن کمیشن کے دستخط ہونا لازمی ہیں، الیکشن کمشنر اپنے ممبران سے خود مشاورت کرے، آج کے عدالتی حکم پر ابھی دستخط کرینگے،عدالتی حکم کی تصدیق شدہ نقول صدر، الیکشن کمیشن اور اٹارنی جنرل کو فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اپنا پروگرام عوام میں لیکر جائیں جسے پسند آئے گا ووٹ دیدیں گے، اعلان کے بعد کوئی درخواست نہیں سنی جائے گی ،انتخابات کی تاریخ پر سب کے دستخط ہوں ۔ فاروق نائیک اور اٹارنی جنرل بھی صدر سے ملنے جاسکتے ہیں

  • نو مئی مقدمات ، شاہ محمود قریشی کی عبوری ضمانتیں بحال کروانے کی درخواست

    نو مئی مقدمات ، شاہ محمود قریشی کی عبوری ضمانتیں بحال کروانے کی درخواست

    لاہور:انسدادِ دہشت گردی عدالت لاہور ،نو مئی مقدمات میں شاہ محمود قریشی کی عبوری ضمانتیں بحال کروانے کی درخواست پر سماعت ہوئی

    درخواست گزرا کے وکلاء نے دلائل کے لیے مہلت کی استدعا کردی ،ایسوسی ایٹ وکیل نے کہا کہ سینئر کونسل لاہور سے باہر ہیں دلائل کی مہلت دی جائے،عدالت نے استدعا منظور کرتے ہوئے سماعت 11 نومبر تک ملتوی کردی ،انسداددہشت گردی عدالت کے جج ارشد جاوید نے درخواست پر سماعت کی

    شاہ محمود قریشی نے اپنے وکلاء کی وساطت سے ضمانتیں بحال کرنے کی درخواست دائر کی ،درخواست میں کہا گیا کہ سائفر کیس میں گرفتار کے بعد ضمانت خارج ہوئیں،عدم پیروی کی بنیاد پر عبوری ضمانتیں خارج ہوئیں ،عدالت ضمانتیں بحال کرنے اور میرٹ پر منظور کرنے کا حکم دے

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

  • سینیٹ میں علی ظفر تحریک انصاف کے پارلیمانی لیڈر بن گئے

    سینیٹ میں علی ظفر تحریک انصاف کے پارلیمانی لیڈر بن گئے

    سینیٹ میں پی ٹی آئی کے پارلیمانی لیڈر تبدیل ، ایوان بالا میں سینیٹر شہزاد وسیم کی جگہ سینیٹر علی ظفر تحریک انصاف کے پارلیمانی لیڈر نامزد کر دیئے گئے،

    سینیٹ اجلاس کے دوران پی پی رہنما سینیٹر نثار کھوڑو نےا اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ آج بھی اقتدار پاکستان کی عوام کے پاس نہیں،کہا گیا پاکستان کے عوام اس اہل نہیں کہ انہیں قومی سطح کے فیصلے کرنے دیاجائے،حکومت وقت نے فلسطین کے لئے اب تک کیا کیا ؟ہمیں اپنے اندر اعلیٰ اخلاقی معیارات پیدا کرنا ہوں گے،ہماری ہمدردیاں فلسطین کے ساتھ ہیں اور ہمیشہ رہیں گی،ذوالفقار علی بھٹو نے تمام لوگوں کو ایک جگہ جمع کیا،اگر بھٹو ہوتے تو دنیا کی صورتحال کچھ اور ہوتی.

    سینیٹر بہرہ مند تنگی نے ا اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ حماس کو ختم کرنے کا اعلان فلسطین کو ختم کرنے کا اعلان ہو گا،کیا صرف تقاریر سے فلسطین کے زخمیوں کو دوائیاں مل سکتی ہیں؟اس ہاؤس میں سلیم مانڈوی والا کی طرح ارب پتی لوگ موجود ہیں،ہمیں فلسطین کے لئے مالی امداد کا اعلان کرنے کی ضرورت ہے،

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    الاہلی ہسپتال پر حملے کا اسرائیل کا حماس پر الزام،امریکی اخبار نے اسرائیلی جھوٹ کو کیا بے نقاب

    اسرائیلی حملے میں صحافی کے خاندان کی موت

  • فارن فنڈنگ کیس، تحریک انصاف کی جانب سے الیکشن کمیشن میں کوئی پیش نہ ہوا

    فارن فنڈنگ کیس، تحریک انصاف کی جانب سے الیکشن کمیشن میں کوئی پیش نہ ہوا

    اسلام آباد،تحریک انصاف کیخلاف ممنوعہ فنڈنگ کیس کی سماعت ہوئی

    پی ٹی آئی کی جانب سے کیس متعلق ثبوت فراہم کرنےکے لیے کوئی پیش نہ ہو سکا ،چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی،کیس کی سماعت اکیس نومبر تک کیلئے ملتوی کر دی گئی

    واضح رہے کہ گزشتہ سماعت کے بعد تحریک انصاف غیر ملکی فنڈنگ ضبطگی کیس میں الیکشن کمیشن نے تحریری حکم نامہ جاری کیا تھا، الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری حکمنامہ میں کہا گیا ہے کہ تحریک انصاف کو انصاف کے تقاضے کے تحت تفصیلی جواب جمع کروانے کی اجازت دی جاتی ہے تحریک انصاف پچاس ہزار روپے الیکشن کمیشن ڈپٹی ڈائریکٹر لا کے دفتر میں جمع کرائے،یہ رقم یتیم خانے کو دی جائے گی

    تحریری حکم میں کہا گیا ہے کہ تحریک انصاف شو کاز کا حتمی جواب جمع کروائے حتمی جواب جمع نہ کروانے کی صورت میں الیکشن کمیشن کیس نمٹا دے گا ،الیکشن کمیشن دستیاب ریکارڈ کی بنیاد پر حتمی فیصلہ جاری کردے گاحکم نامہ چیف الیکشن کمشنر کے دستخط سے جاری کیا گیا

    اکبر ایس بابر سچا اور عمران خان جھوٹا ثابت ہوگیا،چوھدری شجاعت

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

    ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

    عمران خان چوری کے مرتکب پارٹی سربراہی سے مستعفی ہونا چاہیے،عطا تارڑ

  • تحریک انصاف کی پریس کانفرنس،صحافی کوئی نہ پہنچا،پولیس پہنچ گئی

    تحریک انصاف کی پریس کانفرنس،صحافی کوئی نہ پہنچا،پولیس پہنچ گئی

    تحریک انصاف کی پریس کانفرنس سے پہلے ہی پولیس پہنچ گئی، دفتر سیل کر دیا،

    تحریک انصاف کے ٹویٹر اکاؤنٹ سے کہا گیا ہے کہ تحریک انصاف سنٹرل پنجاب کے زیر اہتمام آج پریس کانفرنس کی جانی تھی لیکن اس سے پہلے ہی پولیس نے تحریک انصاف کا دفتر سیل کر دیا ہے اور اسکے علاوہ پولیس، نامعلوم افراد نے قیدیوں کی وینز کے ہمراہ دفتر کا گھیراؤ بھی کر رکھا ہے۔ ترجمان کا مزید کہنا ہے کہ اس سے قبل تحریک انصاف کو ڈی سی، ہائی کورٹ سے اجازت نامے کے باوجود لاہور میں کارنر میٹنگ کی اجازت بھی نہیں دی گئی اور اب پریس کانفرنس تک کرنے کا حق سلب کیا جا رہا ہے۔

    دوسری جانب ایڈیشنل جنرل سیکرٹری سنٹرل پنجاب پی ٹی آئی سردار عظیم اللہ خان میو ایڈوکیٹ نے لاہور ہائی کورٹ کیانی ہال میں وکلا کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ مجرم کو ایئر پورٹ پر سہولیات دی گئیں، قانون کہتا ہے کہ مجرم جب تک گرفتار نہیں ہو گا اسکی کوئی درخواست نہیں لی جائے گی، حیرت کی بات ہے کہ اسکو حفاظتی ضمانت دی گئی،رانا ثناء اللہ کا بیان آن ریکارڈ موجود ہے کہ سائفر وزیر داخلہ میں موجود ہے، سائفر کو کمیٹی میں بھی ڈسکس کیا جا چکا، عمران خان کی آج ضمانت کی درخواست مسترد کر دی گئی.کل ہم نے ایک پریس کانفرنس کا اعلان کیا تھا، ہم نے پولیس کو پریس کانفرنس کور کرنے کا نہیں کہا تھا، آج وہاں صحافی کوئی نہیں آیا، چار پولیس کی گاڑیاں موجود ہیں، اگر لیول پلینگ فیلڈ یہی ہے تو پھر کیا کہا جاسکتا ہے، ہم نے لاہور میں جلسے کی درخواست دی، جلسے کی اجازت کرنے کے باوجود نہیں کرنے دیا گیا، روز کسی نہ کسی کا دروازہ توڑا جاتا ہے،

    ہسپتال حملہ،اسرائیل کا انکار،اسلامک جہاد کو ذمہ دار قرار دے دیا

    وائرل ویڈیو،حماس کے ہاتھوں گاڑی میں بندھی یرغمال لڑکی کون؟

    اسرائیل کی طرف سے عالمی قوانین کی خلاف ورزی جاری ہے. فلسطینی صحافی

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر اسرائیلی حملہ ،جوبائیڈن کا دورہ اردن منسوخ

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    الاہلی ہسپتال پر حملے کا اسرائیل کا حماس پر الزام،امریکی اخبار نے اسرائیلی جھوٹ کو کیا بے نقاب

    اسرائیلی حملے میں صحافی کے خاندان کی موت

  • خدیجہ شاہ کی عدم رہائی، سی سی پی او کے بعد آئی جی پنجاب کی طلبی

    خدیجہ شاہ کی عدم رہائی، سی سی پی او کے بعد آئی جی پنجاب کی طلبی

    لاہور ہائیکورٹ: سوشل ایکٹوسٹ خدیجہ شاہ کو عدالتی حکم کے باوجود رہا نہ کر نے پر آئی جی پنجاب پولیس اور سی سی پی او لاہور کے خلاف توہین عدالت کی درخواست پر سماعت ہوئی،

    آئی جی پنجاب پولیس اور سی سی پی او لاہور کے خلاف توہین عدالت کی درخواست پر سماعت ہوئی،عدالت نے توہین عدالت کی درخواست پر آئی جی پنجاب پولیس کو طلب کر لیا،عدالت نے حکم دیا کہ آئی جی پنجاب 3نومبر کو پیش ہوکر جواب داخل کرائیں، عدالت نے سی سی پی او سے استفسار کیا کہ آپکی رپورٹ مجھے قائل نہ کر سکی اس لیے آپکو بلایا ،سرکاری وکیل نے کہا کہ میں تفتیشی کا بیان حلفی دینا چاہتا ہوں ،عدالت نے سرکاری وکیل پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ اگر اپ اسطرح تفتیش کرنے لگے تو عدالت کیسے آگے بڑھے گی، سرکاری وکیل نے کہا کہ خدیجہ شاہ کے ریمانڈ پر آج فیصلہ ہونا ہے،

    عدالت نے کہا کہ اگر ریمانڈ نہیں تو پھر کیا ہے، عدالت نے درخواست گزار کے وکیل سے استفسار کیا کہ آپ ٹرائل کورٹ کا آرڈر چیلنج کریں گے؟ وکیل درخواست گزار نے کہا کہ ٹرائل کورٹ نے آرڈر نہیں لکھا صرف جوڈیشل کیا ہے ،آج بھی ٹرائل کورٹ میں پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے ،پولیس کی پیش کردہ رپورٹ مضحکہ خیز ہے،عدالت نے کہا کہ ٹرائل کورٹ کو کیس کا فیصلہ کرنے کا مکمل اختیار ہے ،سرکاری وکیل نے کہا کہ ٹرائل جج نے معاملہ یہاں ہونے کی وجہ سے خدیجہ شاہ کے ریمانڈ دینے یا نہ دینے پر فیصلہ نہیں کیا ،عدالت نے کہا کہ حکومت نے جو کہا اسکے نتائج دیکھتے ہیں ؟آپ نے صرف دو مقدمات دینے کا بیان کیوں دیا،

    عدالت میں سی سی پی او بلال صدیق کمیانہ اور ڈی ائی جی انوسثی گیشن عمران کشور پیش ہوئے، جسٹس علی باقر نجفی نے خدیجہ شاہ کی درخواست پر سماعت کی،درخواست گزار کی طرف سے سمیر کھوسہ ایڈووکیٹ پیش ہوئے،

    خدیجہ شاہ کی جانب سے لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں استدعا کی کہ ایڈیشنل آئی جی نے مقدمات کی تفصیلات کے لیے دائر درخواست میں عدالت رپورٹ پیش کی،رپورٹ میں خدیجہ شاہ پر دو مقدمات درج کرنے کی تفصیلات فراہم کی گی ،پولیس نے خدیجہ شاہ سے دیگر مقدمے میں تفتیش شروع کردی ہے ،پولیس کی بدنیتی ہےعدالت آئی جی پنجاب سمیت دیگر کے خلاف توہین عدالت کی کاروائی کرے

    پولیس نے خدیجہ شاہ کے خلاف درج مقدمے میں کورکمانڈر ہاؤس لاہور پر حملے سے متعلق الزامات عائد کئے ہیں،خدیجہ شاہ جیل میں ہیں، امریکی حکام نے بھی خدیجہ شاہ سے ملاقات کی ہے، خدیجہ شاہ نے ایک ویڈیو بیان جاری کر کے معافی بھی مانگی تھی، خدیجہ شاہ کو عدالت پیش کیا گیا تا ہم وہ خاموش رہیں اور سوالوں کے جواب نہیں دیئے ، خدیجہ شاہ نے خود تھانے میں پیش ہو کر گرفتاری دی تھی ،انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں تحریک انصاف کی خاتون رہنما خدیجہ شاہ کو پولیس نے پیش کیا تو اس موقع پر خدیجہ شاہ کے منہ پر کپڑا ڈالا گیا تھا، خدیجہ شاہ نے ہاتھ میں تسبح پکڑ رکھی تھی،

    جی ایچ کیو حملے میں پی ٹی آئی خواتین رہنماوں کا کردار,تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے آئی ہے،

    جناح ہاؤس لاہور میں ہونیوالے شرپسندوں کے حملے کے بارے میں اہم انکشافات

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    غیر ملکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کر دی 

    جناح ہاؤس میں سب سے پہلے داخل ہونے والا دہشتگرد عمران محبوب اسلام آباد سے گرفتار 

    عدالت نے خدیجہ شاہ کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کو مسترد کردیا

  • قید پی ٹی آئی خواتین کو  رہا کیوں نہیں کیا جارہا، لیگی رہنماء بول پڑا

    قید پی ٹی آئی خواتین کو رہا کیوں نہیں کیا جارہا، لیگی رہنماء بول پڑا

    سینئر اینکر پرسن مبشر لقمان کے پروگرام کھرا سچ میں بات کرتے ہوئے سابق گورنر پنجاب رفیق رجوانہ نے کہا کہ میں بطور ایک انسانی حقوق کے داعی کے یہ سمجھتا ہوں کہ تحریک انصاف کی خواتین جو جیل میں ان پر بات کیوں نہیں کی جارہی ہے جبکہ ان کی بھی ضمانتیں ہونی چاہئے کیونکہ وہ کئی ماہ کیسز بھگت رہیں جبکہ جیسے کہ یاسمین راشد ہیں ایک بزرگ خاتون ہیں.


    انہوں نے مزید کہا تحریک انصاف کے جو پرانے ورکر ہیں وہ تو نئی لوگوں سے زیادہ بہتر ہیں جو ڈٹ گئے ہیں اور کیسز بھگت رہے ہیں، جبکہ ایسے جو نئے لوگ ہیں یہ تو پریس کانفرنس کردیتے ہیں جبکہ پولیٹیکل ورکر لوگ جو ہیں جیسے پیپلزپارٹی نے ضیا دور میں کیا کچھ نہیں سہا جیسے کہ کوڑے تک کھائیں ہیں.
    عمران خان کے مستقبل کا فیصلہ عدالتی کیسز کی روشنی میں ہوگا. انوار کاکڑ
    پی ٹی آئی، مولانا ملاقات؛ "مقصد ہمیں الیکشن لڑنے دیا جائے” . جاوید چودھری
    عمران خان کی ٹرائل روکنے کی درخواست اسلام آباد ہائیکورٹ نے مسترد کردی
    العزیزیہ اور ایون فیلڈ ریفرنس میں نواز شریف کی سزا کے خلاف اپیلیں بحال
    پی ٹی آئی کا اعلیٰ سطحی وفد مولانا فضل الرحمان کی رہائشگاہ پہنچ گیا
    پیٹرول مہنگا جبکہ ڈیزل سستا ہونے کی توقع مگر کیسے؟
    رفیق رجوانہ کے مطابق کوئی بھی لیڈر ہو اس کے ساتھ اگر کوئی ہے تو یہ ان کی پاپولیٹری ہے اور ایسے لوگوں کے فالور بھی قابل قدر ہیں جبکہ اب ایسے لوگوں کی ضمانتیں کیوں نہیں ہورہی جنکی کسی جماعت یا لیڈر سے وابستگی ہے لہذا میں سمجھتا ہوں کہ ایسا نہیں ہونا چاہئے . جبکہ سب کو اکٹھا ہونا چاہئے اور اس نظام کو بہتر کرنا چاہئے.

  • پشاور ہائیکورٹ نے تحریک انصاف کو جلسے کی اجازت دے دی

    پشاور ہائیکورٹ نے تحریک انصاف کو جلسے کی اجازت دے دی

    پشاور ہائیکورٹ میں پی ٹی آئی کو جلسوں کی اجازت کے لئے دائر درخواست پر سماعت ہوئی

    دوران سماعت جسٹس اعجاز انور نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ دوسری سیاسی پارٹیاں تو کنونشن،جلسے کررہی ہے روزانہ اخباروں میں خبریں بھی آتی ہے، سڑکوں پر جلسہ کرنے کی اجازت تو ہم کسی کو نہیں دے سکتے، کسی گراونڈ میں جلسہ کرسکتے ہیں، ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختون خوا نے عدالت میں کہا کہ عاطف خان اشتہاری ہے، کیسے اشتہاری کے حجرے میں کنونشن کی اجازت دیں؟ جسٹس اعجاز انور نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ کوئی نئی بات نہیں، کچھ اشتہاریوں کو تو پروٹوکول میں لایا جاتا ہے،

    عدالت نے تحریک انصاف کو جلسے کی اجازت دیتے ہوئے کہا کہ ڈپٹی کمشنر جلسے ، کنونشن کی اجازت نہ دیں تو پھر عدالت میں رجوع کریں،پشاور ہائیکورٹ نے تحریک انصاف کے جلسے کی درخواست کو نمٹا دیا

    واضح رہے کہ اڈیالہ جیل میں قید تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے خیبر پختونخوا میں جلسوں کا کہا تھا، حکومت کی جانب سے جلسوں کی اجازت نہ ملنے پر تحریک انصاف نے پشاور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی تھی

    فیفا کے وارے نیارے ہوگئے؛ اسپانسر شپ سے ایک بلین ڈالر اضافی کمالیے
    پروین رحمان قتل کیس؛ ملزمان کو دی گئی سزا کالعدم قرار
    انتظار ختم! تاریخ کا مہنگا ترین عالمی فٹبال میلہ قطر میں سج گیا:میزبان ملک قطرپہلے میچ میں ہی ہارگیا

  • سوشل میڈیاٹیمز کے ذریعے ریاست مخالف پرویپگنڈہ،پی ٹی آئی نے کیا سرکاری وسائل کا استعمال

    سوشل میڈیاٹیمز کے ذریعے ریاست مخالف پرویپگنڈہ،پی ٹی آئی نے کیا سرکاری وسائل کا استعمال

    تحریک انصاف کے عہد اقتدار میں سرکاری سوشل میڈیا ٹیمز کے ذریعے ریاست مخالف پراپیگنڈہ کا انکشاف سامنے آیا ہے

    چیئرمین پی ٹی آئی کا جعلی امیج گھڑنے کا منصوبہ بے نقاب ہو گیا، سرکاری وسائل کے بل بوتے پر پی ٹی آئی قیادت کی جعلی تشہیر اور ریاستی اداروں کے خلاف جھوٹا پراپیگنڈا بھی بے نقاب ہو گیا، مخالفین کی کردار کشی اور ہرزہ سرائی کیلئے سوشل میڈیا ٹیموں کا بے دریغ استعمال کیا گیا، سرکاری منصوبوں کی تشہیر کے بجائے زہریلا پراپیگنڈا کیا جاتا رہا. سرکاری وسائل غیر قانونی سیاسی تشیہری مہم کیلئے استعمال، پی ٹی آئی دور کا ایک بڑا سکینڈل سامنے آ گیا،

    سالانہ ترقیاتی پروگرام (اے ڈی پی) کی آڑ میں سوشل میڈیا ٹیموں کو پی ٹی آئی کے مذموم بیانیے کو پھیلانے کا ٹاسک دیا گیا، جعلی سوشل میڈیا ٹیموں کو شخصیت پرستی اور جھوٹ کے پرچار کیلئے استعمال کیا گیا، ان اکاؤنٹس کو پی ٹی آئی کے سیاسی مقاصد کو آگے بڑھانے، پروپیگنڈہ مہم، ڈس انفارمیشن، سازشی بیانیہ سازی اور عوامی جذبات کو بھڑکانے کے لیے استعمال کیا گیا، سرکاری پیسوں سے ریاست مخالف بیانیہ پھیلانے کی مکروہ حرکت بے نقاب ہوئی، معاشرے میں نفرت انگیز بیانئے سے عدم استحکام کو فروغ دیا گیا، پراپیگنڈا اکاؤنٹس کے فالورز سرکاری وسائل سے بڑھائے گئے لیکن اختتام پر یہ اکاؤنٹ پی ٹی آئی کے سیاسی کارکنان استعمال کرتے رہے، مجموعی طور پر اس پروجیکٹ کی لاگت 870 ملین رکھی گئی تھی،مزید تحقیق میں پی ٹی آئی کے مبینہ طور پر بدنیتی پر مبنی ایجنڈے کا انکشاف ہوا جس میں سوشل میڈیا ٹیمز کو پی ٹی آئی نے غیر قانونی طور پر سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کیا،▪ ان ملازمین کی تنخواہ 25ہزار – 40 ہزار روپے تھی اور سرکاری فنڈز سے ان سوشل میڈیا ٹیموں پر کروڑوں روپے خرچ کیے گئے، پی ٹی آئی کے اس ریاست مخالف پروپیگنڈے میں شامل 800پہلے سے موجود اکاؤنٹس کی جب تحقیق کی گئی تو چشم کشا حقائق سامنے آئے۔ ان ملازمین میں سے 72.5 فیصد اکاؤنٹس کا 2021 سے پہلے پی ٹی آئی کی طرف کوئی سیاسی جھکاؤ ہی نہیں تھا،جون 2022 کے بعد 86فیصد اکاؤنٹس نے اپنا سیاسی جھکاؤ تبدیل کر لیا اور اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر پی ٹی آیی کا بیانیہ پوسٹ کرنا شروع کر دیا۔

    سوشل میڈیا پر من گھڑت بیانیے کی وجہ سے پاکستان کی جڑیں کھوکھلا کرنے کی سازش کی گئی،فردوس عاشق اعوان
    استحکام پاکستان پارٹی کی رہنما فردوس عاشق اعوان نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کے اندر دو دہائیوں کی سیاست نے ملک کی قومی وقار کو مجروح کیا ہے،بے بنیاد من گھڑت بیانیے کی وجہ سے پاکستان کی جڑیں کھوکھلا کرنے کی سازش کی گئی،نوجوانوں کے ذہن کو آلودہ کر نے کا بیانیہ ترتیب دیا گیا،ملک کی سیاست کا رکھ رکھاؤ اور رواداری کو پامال کیا گیا،معاشرے کو انتشار کا شکار کیا گیا،خاندانوں کے اندر تفریق پیدا کی گئی، ایک شخص کی امیج بلڈنگ اور اسکے بیانئے کو آگے بڑھانے کے لئے کے پی کے حکومت کے اے ڈی پی کے فنڈ میں870ملین روپے رکھے گئے،
    آٹھ سو اکاؤنٹ ایسے کھولے گئے جہاں پیسے ٹرانسفر کئے گئے، ان پیسوں کا استعمال ریاست اور عوام کے درمیان دراڑین ڈالنے کے لئے کیا گیا،قومی اداروں کو کمزور کرنے کے لئے ان پیسوں کا استعمال کیا گیا، نوجوانوں کے ذہنوں کو بارود سے بھر کر ریاستی اداروں کے لئے استعمال کیا گیا،تحقیقات میں ایسے ایسے انکشافات سامنے آئے ہیں جس کے تانے بانے زمان پارک اور بنی گالا تک جاتے ہیں،سوشل میڈیا ٹولز کو استعمال کرتے ہوئے اداروں کے خلاف بیانئے کو پرموٹ کیا گیا، چیئرمین پی ٹی آئی نے کے پی کے میں میڈیا سیل بنا کر اپنے ٹاپ ٹرینڈ کی خواہش کو پروان چڑھایا،

    شہداء لسبیلہ کے خلاف سوشل میڈیا پر پروپیگنڈا مہم میں کون تھا ملوث؟ سب سامنے آ گیا

    خیبرپختونخواہ حکومت کا کمال،تعلیمی اداروں میں اساتذہ کو تنخواہیں نہیں مل رہیں، سوشل میڈیا انفلونسرز کیلئے 87 کروڑ مختص

    ہمیں چائے کے ساتھ کبھی بسکٹ بھی نہ کھلائے اورفرح گجر کو جو دل چاہا

    فرح خان کتنی جائیدادوں کی مالک ہیں؟ تہلکہ خیز تفصیلات سامنے آ گئیں

    بنی گالہ میں کتے سے کھیلنے والی فرح کا اصل نام کیا؟ بھاگنے کی تصویر بھی وائرل

    سوشل میڈیا پر عمران خان کی کامیابی کا راز فاش

    سابق خاتون اول بشریٰ بی بی کی دیرینہ دوست فرح گوگی کا ایک اور بڑا سکینڈل منظر عام پر آ

    ان اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ پی ٹی آئی کا کبھی کوئی نظریہ تھا ہی نہیں ، یہ ایک سوچی سمجھی سازش تھی جو کہ ریاست پاکستان کے خزانے سے پیسے دے کر کروائی جا رہی تھی۔ غریبوں کی خون پسینے کی کمائی سے دیئے گئے ٹیکس کا پیسہ جو پی ٹی آئی کی حکومت نے اپنے پروپیگنڈے کے لئے جھونک دیا،پی ٹی آئی نے پارٹی کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے نوجوانوں کو بھرتی کیا اور ان کا ایسا استعمال کیا جواخلاقیات اور شرافت کے اصولوں کے خلاف تھا، عوام کے پیسوں پر ریاست مخالف مواد پھیلایا گیا،▪ ان اکاؤنٹس نے 9 مئی واقعات میں پی ٹی آئی کے کارکنان اور عوام کو اشتعال دلانے، تشدد پر بھڑکانے اور ممکنہ طور پر فوجی تنصیبات پر حملہ کرنے کے لیے اکسایا اور عوام اور اداروں میں نفرت پھیلا کر درڑیں ڈالنے کی کوششیں کیں، جعلی سوشل میڈیا ٹیموں کی بھرتی کا عمل غیر قانونی اور فراڈ پر مبنی تھا

    اگر ٹکٹ کا میرٹ میرا نہیں بنتا تو پھر کس کا بنتا ہے؟ عائلہ ملک پھٹ پڑی

    تحریک انصاف کے دو ٹکٹس ہولڈرز بھی کرپشن میں ملوث

    زمان پارک میں بجلی چوری؛ لیسکو نے انتظامیہ کو نوٹس جاری کردیا

     ثاقب نثار کے بیٹے نے بھی پی ٹی آئی کی ٹکٹوں کی لوٹ سیل لگا دی ،آڈیو لیک

    سرکاری خزانے سے معاوضہ دے کر اداروں کے خلاف بیان بازی کی گئی،عطا تارڑ
    رہنما مسلم لیگ ن عطا تارڑ نےپریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف حکومت نے سوشل میڈیا ٹرولز بھرتی کئے ،ہمارے پاس تفصیلات ہیں کہ سفاکانہ طریقے سے عوامی پیسے کو بے دردی سے لوٹا گیا،2019 میں خیبرپختونخوا حکومت نے سوشل میڈیا انفلوئنشرز کے طور پر 1100 لوگ بھرتی کئے،ان ٹرولز کو بھرتی کرنے کا مقصد صحافیوں، سیاستدانوں کو گالیاں دینا تھا،اس منصوبے پر کل 87 کروڑ روپے خرچ ہونا تھا ،اس معاملے پر سخت سے سخت کارروائی ہونی چاہئے،کیا یہ نوکریاں تحریک انصاف کی ملکیت تھیں؟پارٹی کی تشہیر کے لئے پارٹی فنڈز سے پیسے جاری ہونا چاہئیے تھے،غریب عوام کا 87 کروڑ روپیہ خرچ کیا گیا ،غریب سے دوائی، روٹی اور تعلیم کا حق چھینا گیا،سرکاری خزانے سے معاوضہ دے کر اداروں کے خلاف بیان بازی کی گئی،جن مجرمان نے ان 1100 لوگوں کو بھرتی کیا ان کے خلاف کارروائی ہونی چاہئیے،ایسے لوگوں کو کیفر کردار تک پہنچانا قومی فریضہ ہے،اس گھناؤنے عمل پر کل ایک ارب سے زائد پیسہ خرچ کیا گیا