Baaghi TV

Tag: تحریک انصاف

  • جسٹس ارباب محمد طاہرنے شہریارآفریدی کا کیس سننے سے کی معذرت

    جسٹس ارباب محمد طاہرنے شہریارآفریدی کا کیس سننے سے کی معذرت

    تحریک انصاف کے رہنما شہریار آفریدی کی تھری ایم پی او کے تحت گرفتاری کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس ارباب محمد طاہر نے کیس کی سماعت سے معذرت کر لی ،جسٹس ارباب محمد طاہر نے کیس کی فائل چیف جسٹس کو بھیجوا دی ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق کیس کسی اور بینچ کو مارک کریں گے,شہریار آفریدی ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کے آرڈر پر تھری ایم پی او کے تحت گرفتار ہیں ،پی ٹی آئی رہنما شہریار آفریدی اس وقت اڈیالہ جیل میں زیرحراست ہیں

    پرامن احتجاج ہرکسی کا حق ہے،9 مئی کو جو کچھ ہوا اسکےحق میں نہیں 

    عدالت کے گیٹوں پر پولیس کھڑی ہے آنے نہیں دیا جارہا 

    کنیز فاطمہ کا کہنا تھا کہ کوئی بھی محب وطن پاکستانی ایسی واقعات کو پسند نہیں کرتا،

     شہریار آفریدی کو ڈیتھ سیل میں رکھا گیا یے

    واضح رہے کہ چار اگست کوشہر یار آفریدی کو انسداد دہشت گردی کی عدالت سے رہائی کے بعد فوری گرفتار کیا گیا ہے، شہر یار آفریدی کو عدالت میں پیش کیا گیا تھا، عدالت نے انہین رہا کرنے کا حکم دیا تھا

    نو مئی کو عمران خان کی گرفتاری کے بعد تحریک انصاف کے کارکنان نے فوجی تنصیبات پر حملے کئے تھے، شہریار آفریدی کی بھی ایک ویڈیو سامنے آئی تھی جس میں وہ کارکنان کو جی ایچ کیو کی طرف جانے کا کہہ رہے ہیں، شہریار آفریدی کو پولیس نے گرفتار کیا تھا، وہ اڈیالہ جیل میں قید ہیں، گزشتہ سماعت پر جیل حکام نے تصدیق کی تھی کہ آفریدی اڈیالہ جیل میں ہی ہیں.

  • پی ٹی آئی کے 57 کارکنان کو رہا کرنے کا حکم

    پی ٹی آئی کے 57 کارکنان کو رہا کرنے کا حکم

    نومئی کو عمران خان کی گرفتاری کے بعد جلاؤ گھیراؤ، فوجی تنصیبات پر حملوں میں ملوث شرپسندوں، تحریک انصاف کے کارکنان کے خلاف کریک ڈاؤن ہوا، گرفتاریاں‌ ہوئیں، نظر بندیاں ہوئیں، اب لاہور ہائیکورٹ پنڈی بینچ نے تحریک انصاف کے 57 کارکنان کو رہا کرنے کا حکم دیا ہے

    عدالت نے پی ٹی آئی کارکنان کی نظر بندی کے خلاف دائر درخواستوں کا فیصلہ سنایا اور کہا کہ کارکنان کی نظر بندی ختم کی جائے ،جس کے بعد ڈپٹی کمشنر راولپنڈی نے لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بنچ کے حکم پر احکامات جاری کردئیے ہیں، ڈی سی آفس کی جانب پی ٹی آئی کے 57 کارکنان کی رہائی کے لئے فہرست اڈیالہ جیل حکام کو بھجوا دی گئی ہے،جیل حکام کارکنان کو رہا کریںگے

    واضح رہے کہ عمران خان کی گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی کارکنان نے فوجی تنصیبات پر ملک بھر میں حملے کئے تھے، شرپسند عناصر کو گرفتار کیا جا چکا ہے، گرفتار افراد کا کہنا ہے منظم منصوبہ بندی کے تحت حملے کئے گئے، شرپسند افراد نے ویڈیو بیان بھی جاری کئے ہیں جس میں انہوں نے اعتراف کیا کہ یہ سب منصوبہ بندی کے تحت ہوا، پی ٹی آئی رہنما بھی گرفتار ہیں تو اس واقعہ کے بعد کئی رہنما پارٹی چھوڑ چکے ہیں

  • جناح ہاؤس حملہ کیس کی تحقیقات،268 شرپسندوں کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری

    جناح ہاؤس حملہ کیس کی تحقیقات،268 شرپسندوں کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری

    انسداد دہشتگری کی خصوصی عدالت،پولیس نے جناح ہاؤس حملہ کیس کی تحقیقات مزید تیز کردیں

    پولیس نے پی ٹی آئی کے 268 روپوش کارکنوں کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کی درخواست دائر کردی ،انسداد دہشتگری کی خصوصی نے پولیس کی درخواست منظور کرلی ،عدالت نے جناح ہاؤس حملہ کیس میں پی ٹی آئی کے 268 کارکنوں کے وارنٹ گرفتاری جاری کردیے .جج اے ٹی سی اعجاز احمد بٹر نے 10 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کردیا

    عدالت نے فیصلہ میں کہا کہ جناح ہاؤس حملہ کیس میں ملزمان کے بیانات کی روشنی میں مزید 268 ملزمان کو نامزد کیا گیا ہے، ملزمان روپوش ہیں اور گرفتاری سے بچنے کی کوشش کر رہے ہیں پولیس کے مطابق ملزمان کے مطابق شواہد موجود ہیں پولیس کی ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کی درخواست منظور کی جاتی ہے

    دوسری جانب انسداد دہشتگری کی خصوصی عدالت نے پی ٹی آئی رہنما شاہ محمود قریشی، اسد عمر کی عبوری ضمانتوں پر تحریری حکم جاری کر دیا، عدالت نے تحریری حکم میں کہا کہ درخواست گزاروں نے دلائل کے لیے مہلت مانگیدرخواست گزاروں کی استدعا پر کارروائی ملتوی کی جاتی ہے درخواست گزاروں کے وکیل 18 اگست کو عبوری ضمانتوں پر دلائل دیں شاہ محمود قریشی ،اسد عمر پر جناح ہاؤس حملہ کیس سمیت متعدد مقدمات درج ہیں

    عمران خان کی گرفتاری کے بعد کور کمانڈر ہاؤس لاہور میں ہونیوالے ہنگامہ آرائی میں پی ٹی آئی ملوث نکلی

     بشریٰ بی بی کی گرفتاری کے بھی امکانات

    نواز شریف کو سزا سنانے والے جج محمد بشیر کی عدالت میں عمران خان کی پیشی 

     مراد سعید کے گھر پر پولیس نے چھاپہ

    اوریا مقبول جان کو رات گئے گرفتار 

    واضح رہے کہ عمران خان کی گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی کارکنان نے فوجی تنصیبات پر ملک بھر میں حملے کئے تھے، شرپسند عناصر کو گرفتار کیا جا چکا ہے، گرفتار افراد کا کہنا ہے منظم منصوبہ بندی کے تحت حملے کئے گئے، شرپسند افراد نے ویڈیو بیان بھی جاری کئے ہیں جس میں انہوں نے اعتراف کیا کہ یہ سب منصوبہ بندی کے تحت ہوا، پی ٹی آئی رہنما بھی گرفتار ہیں تو اس واقعہ کے بعد کئی رہنما پارٹی چھوڑ چکے ہیں

  • افتخار درانی اسلام آباد پولیس کی حراست میں نہیں،رپورٹ عدالت جمع

    افتخار درانی اسلام آباد پولیس کی حراست میں نہیں،رپورٹ عدالت جمع

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں پی ٹی آئی رہنما افتخار درانی کی مبینہ گرفتاری کیخلاف درخواست پر سماعت ہوئی

    اسلام آباد پولیس نے عدالتی حکم پر پیش رفت رپورٹ جمع کرا دی ، پراسیکیوٹر نے کہا کہ افتخار درانی اسلام آباد پولیس کی حراست میں نہیں ہیں ،افتخار درانی کے اغوا کا مقدمہ متعلقہ تھانے میں درج کرلیا گیا ہے،افتخار درانی کے وکیل شیر افضل مروت راولپنڈی بینچ میں مصروفیات کے باعث پیش نہ ہوسکے عدالت نے وکیل شیر افضل مروت کی واپسی تک سماعت میں وقفہ کردیا

    دوبارہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں افتخار درانی کی بازیابی کی درخواست پر سماعت ہوئی، لاپتا افتخار درانی کی فیملی وکیل شیر افضل مروت کے ساتھ عدالت میں پیش ہوئی۔ دوسرے فریق کی جانب سے ایس پی سی آئی اے انویسٹی گیشن رخسار مہدی اور وکیل پولیس طاہر کاظم عدالت میں پیش ہوئے پولیس کے وکیل نے بتایا کہ مقدمہ درج ہو چکا ہے پولیس اپنا کام کرے گی ، افتخار درانی کے وکیل شیر افضل مروت نے ایس پی سی آئی اے رخسار مہدی پر اعتماد کا اظہار کیا اور عدالت میں کہا ہمیں ایس پی رخسار مہدی پر پورا اعتماد ہے وہ اسلام آباد پولیس کے واحد اچھی ساکھ والے افسر ہیں ،عدالت نے پولیس کو افتخار درانی کی بازیابی کے لئے چارروز کی مہلت دیتے ہوئے کیس کی سماعت ملتوی کر دی

    واضح رہے کہ 3 اگست آدھی رات کو افتخار درانی کو مبینہ طور پر گرفتار یا اغوا کیا گیا، 7اگست کواسلام آباد ہائی کورٹ میں کیس کی سماعت ہوئی اورچیف جسٹس نے متعلقہ حکام کو نوٹس بھیجتے ہوئے کل افتخار درانی کو پیش کرنے کا کہا ، 8 آگست اسلام آباد پولیس کے مطابق ڈاکٹرافتخار درانی ان کی حراست میں نہیں ہیں

    افتخار درانی تحریک کے دور میں وزیر اعظم کے معاون خصوصی کے طور پر کام کر چکے ہیں۔ انہوں نے پارٹی کے مرکزی میڈیا ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ کے طور پر بھی کام کیا ،افتخاردرانی نے 2013 میں حکومت خیبر پختونخوا کے محکمہ تعلیم میں مواصلات کے مشیر کے طور پر خدمات انجام دیں

    تحریک انصاف کے رہنما افتخار درانی کی نازیبا ویڈیو سامنے آئی ہے

    متنازعہ ٹک ٹاکر حریم شاہ کی ویڈیو لیک

    حریم شاہ کے ہاتھ میں شراب کی بوتلیں اور….ویڈیو وائرل

    عامر لیاقت رات رو رہے تھے، کہہ رہے تھے میں مر جاؤں گا، ملازم

  • عمران خان کو سزا اور گرفتاری،ترجمان تحریک انصاف کا ردعمل

    عمران خان کو سزا اور گرفتاری،ترجمان تحریک انصاف کا ردعمل

    تحریک انصاف کی جانب سے عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا گیا ہے، عمران خان کو سزا اور گرفتاری کے بعد ترجمان تحریک انصاف کا ردعمل سامنے آیا ہے

    پاکستان تحریک انصاف نے جج ہمایوں دلاور کا متعصبانہ فیصلہ مسترد کردیا ،فیصلے کو اعلیٰ عدالت کے روبرو چیلنج کرنے کا اعلان کر دیا، ترجمان پی ٹی آئی نے کہا ہے کہ توشہ خانہ مقدمے کے ذریعے نظامِ عدل کی پیشانی پر ایک اور سیاہ دھبّہ لگایا گیا، جج ہمایوں دلاور کی جانب سے تاریخ میں بیہودہ ترین انداز میں ٹرائل چلایا گیا، تاریخ کے اس بدترین ٹرائل میں جج کے ہاتھوں انصاف کے قتل کی کوشش کی گئی، تعصب کی سیاہ پٹیاں آنکھوں پر باندھ کر ٹرائل چلانے والے جج نے مقدمے کے حقائق کو مخصوص ایجنڈے کی بھینٹ چڑھایا،سیشن عدالت کا فیصلہ سیاسی انتقام اور انجینئرنگ کی بدترین مثال ہے،

    ترجمان تحریک انصاف کا کہنا تھا کہ ناقص، مضحکہ خیز اور ٹھوس قانونی بنیادوں سے محروم فیصلے کے ذریعے جمہور اور جمہوریت کیخلاف شرمناک یلغار کی گئی،ہمایوں دلاور کا فیصلہ لندن پلان کے تحت لیول پلیئنگ فیلڈ جیسے شرمناک اہداف کے حصول کی مایوس کن کوشش ہے، قوم کے مقبول اور معتبر ترین سیاسی قائد کیخلاف سازش اور انتقام کی ایسی بھونڈی کوشش قوم ہرگز قبول نہیں کرے گی، فسطائیت کو میسّر عدالتی پناہ اور بدترین ریاستی جبر کے سامنے ہرگز سرنگوں نہیں ہوں گے،

    مشاروت کے بعد آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا،شاہ محمود قریشی
    تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی کیخلاف فیصلہ عجلت میں کیا گیا ، قانونی ٹیم کی مشاروت کے بعد آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا

    پی ڈی ایم کے سازشی ٹولہ کو عوام کبھی معاف نہیں کریں گے،مونس الٰہی
    عمران خان کی گرفتاری کے بعد مونس الٰہی کا ردعمل بھی سامنے آ گیا ہے، مونس الہیٰ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ تماشہ خانہ کیس کا پہلے سے طےشدہ فیصلہ آج سنا دیا گیا پاکستان میں ایک دفعہ پھر قانون کا خون ہو گیا قوم کے مقبول ترین لیڈر عمران خان کو گرفتار کر لیا گیا پی ڈی ایم کے سازشی ٹولہ کو عوام کبھی معاف نہیں کریں گے

    اعلٰی عدالت میں یہ فیصلہ کھڑا نہیں ہو گا،اسد عمر
    عمران خان کی گرفتاری پر اسد عمر کا بھی ردعمل سامنے آیا ہے، اسد عمر کا کہنا تھا کہ آج کا فیصلہ قانون کے بنیادی اصول پر ہی پورا نہیں اترتا کہ انصاف ہوتا ہوا نظر آنا چاہیے،اعلٰی عدالت میں یہ فیصلہ کھڑا نہیں ہو گا ،اور سیاست دانوں کے بارے میں معنی خیز فیصلے عوام کے دلوں میں ہوتے ہیں، عدالتوں میں نہیں،

    واضح رہے کہ عمران خان کو عدالتی فیصلے کے بعد گرفتار کر لیا گیا ہے، توشہ خانہ کیس ،عمران خان کو نااہل کردیا گیا عدالت نے عمران خان کو تین سال قید ہی سزا سنا دی عدالت نے ایک لاکھ جرمانہ بھی کر دیا، عدالت نے فیصلے میں کہا کہ ملزم نے جان بوجھ کر الیکشن کمیشن میں جھوٹی تفصیلات دیں، ملزم کو الیکشن ایکٹ کی سیکشن 174 کے تحت 3 سال قید کی سزا سنائی جاتی ہے

    قیام پاکستان سے اب تک توشہ خانہ کے تحائف کی تفصیلات کا ریکارڈ عدالت میں پیش

    نیب ٹیم توشہ خانہ کی گھڑی کی تحقیقات کے لئے یو اے ای پہنچ گئی، 

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے

    بزدار کے حلقے میں فی میل نرسنگ سٹاف کو افسران کی جانب سے بستر گرم کی فرمائشیں،تہلکہ خیز انکشافات

    10جولائی تک فیصلہ کرنا ہے،آپ کو 7 اور 8 جولائی کے دو دن دیئے جا رہے ہیں 

    آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر جج جو کیس سن رہے ہیں وہ جانبداری ہے ؟

    آج پاکستان کی تاریخ کا اہم ترین دن ہے،

  • شہریار آفریدی رہائی کے بعد ایک بار پھر گرفتار

    شہریار آفریدی رہائی کے بعد ایک بار پھر گرفتار

    تحریک انصاف کے رہنما شہریار آفریدی کو رہائی کے بعد ایک بار پھر گرفتار کر لیا گیا ہے،

    شہر یار آفریدی کو انسداد دہشت گردی کی عدالت سے رہائی کے بعد فوری گرفتار کیا گیا ہے، شہر یار آفریدی کو عدالت میں پیش کیا گیا تھا، عدالت نے انہین رہا کرنے کا حکم دیا، انسداد دہشتگردی عدالت کے جج نے ایس ایس پی آپریشنز کو شوکاز نوٹس بھی جاری کیا شہریار آفریدی کے وکیل اشتیاق چوہدری نے عدالت میں کہا کہ شہریار آفریدی اے ٹی سی سے وکلا کے ہمراہ باہر آئے تو پولیس نے پھر دھاوا بول دیا شہریار آفریدی اور ان کے وکلا نے اے ٹی سی میں پناہ لی ہوئی ہے

     

    آفریدی اپنے وکلا کے ہمراہ عدالت سے باہر نکلے تو پولیس انکے انتظار میں کھڑی تھی، پولیس نے انہیں گھیرے میں لے لیا، شہریار آفریدی کو ڈپٹی کمشنر راولپنڈی کے 16 ایم پی او آرڈرکے تحت دوبارہ گرفتار کیا گیا گرفتاری کے بعد شہریار آفریدی کو اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا ہے

     پرامن احتجاج ہرکسی کا حق ہے،9 مئی کو جو کچھ ہوا اسکےحق میں نہیں 

    عدالت کے گیٹوں پر پولیس کھڑی ہے آنے نہیں دیا جارہا 

    کنیز فاطمہ کا کہنا تھا کہ کوئی بھی محب وطن پاکستانی ایسی واقعات کو پسند نہیں کرتا،

     شہریار آفریدی کو ڈیتھ سیل میں رکھا گیا یے

  • پی ٹی آئی نے مزید 8 ارکان اسمبلی سندھ کو پارٹی سے نکال دیا

    پی ٹی آئی نے مزید 8 ارکان اسمبلی سندھ کو پارٹی سے نکال دیا

    پاکستان تحریک انصاف نے پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی پرمزید 8 ارکان اسمبلی سندھ کو پارٹی سے نکال دیا

    پاکستان تحریک انصاف نے پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی کرنے اور سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کو ووٹ ڈالنے پر بلال احمد،کریم بخش گبول کو پارٹی سے نکال دیا ،تحریک انصاف نے محمد علی عزیز، عمر اماڑی ، رابعہ اظفر نظامی کو بھی پارٹی سے نکال دیا ، سچانند لکھوانی سچل،سید عمران علی شاہ، سنجے گنگوانی کی بھی بنیادی رکنیت ختم کرکے پارٹی سے نکال دیا گیا

    ارکان کو پارٹی پالیسی کی خلاف ورزی اور سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کو ووٹ دینے پر شوکاز نوٹس جاری کیا گیا تھا ،مقرر مدت کے اندر نوٹس کا تسلی بخش جواب موصول نہ ہونے کی صورت میں ارکان کی بنیادی رکنیت ختم کی گئی ہے سیکٹری جنرل تحریک انصاف عمر ایوب کے دستخط سے برطرفی کے نوٹس جاری کر دیئے گئے،تمام رہنماوں کو کسی بھی طرح سے پارٹی کا نام اور عہدہ استعمال کرنے سے گریز کرنے کی ہدایت کی گئی ہے

    190 ملین پاؤنڈ،ڈیم فنڈ کی تفصیلات دی جائیں، مبشر لقمان کا سپریم کورٹ کو خط
    لسبیلہ ہیلی کاپٹر حادثے کو ایک سال،وزیراعظم کا شہداء کو خراج تحسین
    سویڈن پولیس نے ایک بار پھر قرآن پاک کی بے حرمتی کی اجازت دے دی
    چیئرمین پی ٹی آئی نے اپنے ریکارڈ کروائے گئے 342 کے بیان پر دستخط کردیئے

  • شہریار آفریدی کو فوری رہا کرنے کا حکم

    شہریار آفریدی کو فوری رہا کرنے کا حکم

    پی ٹی آئی رہنماء شہریار آفریدی اور انکے بھائی فرخ جمال کی نظر بندی کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی

    عدالت نے شہریار آفریدی سمیت دس پی ٹی آئی کارکنان کے کے نظر بندی آرڈر معطل کردئیے .عدالت نے شہریار آفریدی انکے بھائی سمیت دس کارکنان کو فوری رہا کرنے کا حکم دے دیا، عدالت نے شہریار آفریدی کو کسی اور کیس میں گرفتاری کیلئے سات دن کی حفاظتی ضمانت منظور کرلی ،

    عدالت کے طلب کرنے پر ڈپٹی کمشنر راولپنڈی حسن وقار چیمہ عدالت میں پیش ہوئے،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں جو کچھ ہورہا ہے انتہائی افسوس ناک ہے،خدا کیلئے ملک کو آگے چلنے دیں، ہم خود ہی اپنا مذاق اور تمسخر اڑا رہے ہیں، کیس کی سماعت راولپنڈی ہائی کورٹ کے جسٹس انوارالحق نے کی۔

     پرامن احتجاج ہرکسی کا حق ہے،9 مئی کو جو کچھ ہوا اسکےحق میں نہیں 

    عدالت کے گیٹوں پر پولیس کھڑی ہے آنے نہیں دیا جارہا 

    کنیز فاطمہ کا کہنا تھا کہ کوئی بھی محب وطن پاکستانی ایسی واقعات کو پسند نہیں کرتا،

     شہریار آفریدی کو ڈیتھ سیل میں رکھا گیا یے

    واضح رہے کہ شہریار آفریدی کو اڈیالہ جیل سے رہائی کے فوری بعد گرفتار کر لیا گیا تھا ،عدالت نے شہریار آفریدی کو 15 روز کی نظر بندی کے بعد رہا کردیا تھا تاہم انہیں رہا ہوتے ہی راولپنڈی پولیس نے گرفتار کرلیاپولیس کا کہنا ہے کہ شہریار آفریدی کو تھری ایم پی او کے تحت حراست میں لیا گیا ہے۔

  • کبھی نہیں چاہوں گا اس ملک کی فوج اپنے شہریوں پر بندوق اٹھائے،چیف جسٹس

    کبھی نہیں چاہوں گا اس ملک کی فوج اپنے شہریوں پر بندوق اٹھائے،چیف جسٹس

    سپریم کورٹ،فوجی عدالتوں میں سویلینز کا ٹرائل کیخلاف دائر درخواستوں پر سماعت ہوئی،

    چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں چھ رکنی لارجر بنچ نے سماعت کی،جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس منیب اختر اور جسٹس یحییٰ آفریدی بنچ میں شامل ہیں،جسٹس مظاہر نقوی اور جسٹس عائشہ ملک بھی بینچ کا حصہ ہیں ،بیرسٹر اعتزاز احسن روسٹرم پر آ گٸے ،اعتراز احسن نے آفیشل سیکرٹ ایکٹ میں حالیہ ترامیم عدالت میں پیش کردی اعتزاز احسن نے سپریم کورٹ سے آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی ترامیم کا نوٹس لینے کی استدعا کردی اور کہا کہ اس قانون کے بعد ایجنسیوں کو اختیار دیا جار ہا بغیر وارنٹ کسی کو بھی گرفتار کرلیا جائے گا،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق چیف جسٹس اکیلے از خود نوٹس نہیں لے سکتا،خوش قسمتی سے بل ابھی زیر بحث ہے دیکھتے ہیں پارلیمنٹ کا دوسرا ایوان اس قانون پر کیا رائے دیتا ہے زیادہ علم نہیں اس بل بارے اخبارات میں پڑھا ہے،

    اعتراز احسن نے کہا کہ اس وقت سپریم کورٹ کے چھ ججز کی حیثیت فل کورٹ جیسی ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا آفیشل سیکرٹ ایکٹ بل ہے یا قانون ہے،آپ نے ہمارے علم میں لایا آپ کا شکریہ،اعتراز احسن نے کہا کہ ملک میں اس وقت مارشل لاء جیسی صورتحال ہے،

    چیف جسٹس کی آبزرویشنز کے بعد اٹارنی جنرل نے دلائل کا اغاز کردیا ،

    جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سویلینز کا فوجی عدالت میں ٹرائل متوازی عدالتی نظام کے مترادف ہے، بتائیں آرٹیکل 175 اور آرٹیکل 175/3 کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ کورٹ مارشل آرٹیکل 175 کے زمرے میں نہیں آتا،جسٹس عائشہ ملک نے استفسار کیا کہ کیا آئین میں ایسی کوئی شق ہے جس کی بنیاد پر آپ بات کررہے ہیں؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں آپکا سوال نوٹ کرلیتا ہوں، جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا آپ پھر میرے سوال سے ہٹ رہے ہیں؟

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم اب آئینی طریقہ کار کی جانب بڑھ رہے ہیں کیس کیسے ملٹری کورٹس میں جاتا ہے؟ جسٹس منیب اختر نے کہا کہ بنیادی انسانی حقوق کو قانون سازوں کی صوابدید پر نہیں چھوڑا جاسکتا، بنیادی انسانی حقوق کی ضمانت تو آئین پاکستان نے دے رکھی ہے،جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آرٹیکل 175 کے تحت ہائی کورٹس اور سپریم کورٹ کا ذکر ہے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ فوجی عدالتوں کا قیام ممبرز آرمڈ فورسز اور دفاعی معاملات کیلئے مخصوص ہے، عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر ملٹری کورٹس کورٹ آف لا نہیں تو پھر یہ بنیادی حقوق کی نفی کے برابر ہے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ لوگوں کے بنیادی انسانی حقوق ملٹری کورٹ سے صلب کرنا چاہتے ہیں آرمڈ فورسز سے تعلق پر ٹرائل ہو تو یہ بھی دیکھنا ہو گا کل عدالت ممکن نہیں ہو گی ایک جج دستیاب نہیں ہیں
    آگے کچھ جج چھٹیوں پر جانا چاہتے ہیں جون سے کام کر رہے ہیں ہمیں ایک پلان آف ایکشن دینا ہو گاملٹری کورٹ میں سویلین کا ٹرائل ایک متوازی جوڈیشل سسٹم نہیں ہمیں اعتزازاحسن صاحب نے بتایا کہ پارلمینٹ بہت جلدی میں ہے ۔چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ اس معاملے پر آپ کیا کہتے ہیں ؟اٹارنی جنرل نے کہاکہ میں کوئی ڈیڑھ گھنٹہ مزید لوں گا دشمن ممالک کے جاسوس اور دہشت گردوں کے لیے ملٹری کورٹ کا ہونا ضروری ہےہم عدالت کو یقین دہانی کروا چُکے ہیں کہ کن وجوہات پر مشتمل فیصلے دیں گے آئین وقانون کو پس پشت ڈالنے کی کوئی کوشش نہیں ہورہی، اعتزاز احسن اور میرے والد ایم آرڈی میں تھے، جیلوں میں بھی جاتے تھے،مگر ان لوگوں نے حملے نہیں کئے،
    نو مئی کو جو کچھ ہوا آپ کے سامنے ہے،ایک بات یاد رکھیں وہ فوجی ہیں ان پر حملہ ہوتو ان کے پاس ہتھیار ہیں، وہ ہتھیاروں سے گولی چلانا ہی جانتے ہیں،ایسا نہیں ہوسکتا ان پر کہیں حملہ ہورہا ہو تو وہ پہلے ایس ایچ او کے پاس شکایت جمع کرائیں،وہ نو مئی کو گولی بھی چلاسکتے تھے

    جسٹس مظاہر علی نقوی نے استفسار کیا کہ گولی چلائی کیوں نہیں یہ بتائیں، اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہم نہیں چاہتے وہی صورتحال پیدا ہوکہ اگلی مرتبہ گولی بھی چلائیں، اس لئے ٹرائل کررہے ہیں، یقین دہانی بھی کروا رہے ہیں، اعتزاز احسن نے کہا کہ ان کی حکومت 12 اگست کو جارہی ہے یہ کیا یقین دہانی کروائیں گے،اعتزاز احسن اور لطیف کھوسہ نے عدالت سے چھٹیوں پر جانے سے قبل فیصلہ کرنے کی استدعا کی،

    ملڑی کورٹ کیس کی سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کر دی گئی، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئےکہا کہ دو ہفتوں تک تو بینچ کے ممبران دستیاب نہیں ،جیسے ہی ججز دستیاب ہوں گے کیس سنیں گے ،لطیف کھوسہ نے کہا کہ اتوار کو بھی صبح 8 سے شام 8 بجے تک بیٹھیں اور فیصلہ کریں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئےکہا کہ میں ذاتی طور پر حاضر ہوں، روز رات 9 بجے تک بیٹھتا ہوں، اس بنچ کے ممبران کا بھی حق ہے وہ اپنا وقت لیں، چایک ممبر کو محرم کی چھٹیوں سے بھی واپس بلا لیا گیا ہے، ملک نازک صورتحال سے گزر رہا ہے اور یہ عدالت بھی،آپ نے ساری صورتحال اپنی آنکھوں سے دیکھی ہے جنہوں نے اس عدالت کو فعال بنانے میں مدد کی ہے ان کیلئے دل میں احترام ہے، نو مئی کو جو کچھ ہوا وہ بہت سنجیدہ ہے،میں کبھی نہیں چاہوں گا اس ملک کی فوج اپنے شہریوں پر بندوق اٹھائے،فوج سرحدوں کی محافظ ہے،

    فوجی عدالتوں میں سویلنز کے ٹرائل کیخلاف درخواستوں کی سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی گئی،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئےکہا کہ یہ چھ رکنی بینچ اب آئیدہ دو ہفتے تک دستاب نہیں ہے کیس کہ آئندہ سماعت میں دو ہفتوں سے بھی زائد کا وقت لگ سکتا ہے اٹارنی جنرل صاحب آپ کس کی ہدایات لے کر سپریم کورٹ کو بتا رہے ہیں ، اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں افواج پاکستان کے انتہائی سینئر افسران کی جانب سے دی گئی ہدایات عدالت کے سامنے رکھ رہا ہوں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ کوئی ٹرائل نہیں ہوگا اٹارنی جنرل کی جانب سے کی گئی یقین دہانیاں برقرار رہیں گی ،میانوالی ایئربیس گرائی گئی، وہاں معراج طیارے کھڑے تھے،ہم فوج کو پابند کریں گے وہ غیر آئینی اقدام نہ کرے،میرے ایک ساتھی جج نے ایک اہم زمہ داری نبھانی ہے میں وہ یہاں بتانا نہیں چاہتا،کچھ ججز کو صحت کے سنگین ایشو ہوسکتے ہیں،کچھ ججز کو چھٹیوں کی ضرورت ہے،عدالتی امور چلتے رہنے چاہئیں اس لئے میں دل سے کوشش کررہا ہوں، میں نہیں چاہتا کہ افواج پاکستان شہریوں پر بندوقیں تان لیں، فوج کا کام شہریوں کی حفاظت کرنا ہے،

    واضح رہے اٹارنی جنرل نے عدالت کے علم میں لائے بغیر کسی سویلنز کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل شروع نہ کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی تھی

     کسی سویلین کا ٹرائل ملٹری کورٹ میں نہیں ہونا چاہیے

    کرپشن کا ماسٹر مائنڈ ہی فیض حمید ہے

    برج کھیل کب ایجاد ہوا، برج کھیلتے کیسے ہیں

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    حضوراقدس پر کوڑا بھینکنے والی خاتون کا گھر مل گیا ،وادی طائف سے لائیو مناظر

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ مہمان کھلاڑی حویلی ریسٹورنٹ پہنچ گئے

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    9 مئی کے بعد زمان پارک کی کیا حالت ہے؟؟

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں جلاؤ گھیراؤ ہوا، تحریک انصاف کے کارکنان کی جانب سے فوجی تنصیبات پر حملے کئے گئے، حکومت کی جانب سے فیصلہ ہواکہ حملے کرنیوالے تمام شرپسندوں کے مقدمے ملٹری کورٹ میں چلائے جائیں گے ,تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں ہونے والے جلاؤ گھیراؤ،ہنگامہ آرائی میں ملوث افراد دن بدن بے نقاب ہو رہے ہیں، واقعات میں ملوث تمام افراد کی شناخت ہو چکی ہے ،جناح ہاؤس لاہور میں حملہ کرنیوالے ایک اور شرپسند کی ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں شرپسند نے اعتراف جرم کرتے ہوئے بتایا کہ وہ تحریک انصاف کا کارکن اور قیادت کے کہنے پر حملہ کیا ہے،

    تحریک انصاف کے کارکن شرپسند عاشق خان کو گرفتار کیا تھا جو جناح ہاؤس جلاؤ گھیراؤ میں ملوث تھا، عاشق خان نے جلاؤ گھیراؤ کے دوران نہ صرف پاک فوج کے خلاف نعرے لگائے بلکہ کارکنان کو حملے کے لئے بھی اکسایا، عاشق خان نے حملے کے لئے لوگوں کا کہا کہ میں کورکمانڈر ہاؤس کی جانب گامزن ہوں اس پر حملہ کریں، عاشق نے اعتراف کیا کہ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی گرفتاری پر زمان پارک میں طے ہوا تھا کہ کورکمانڈر ہاؤس پر حملہ کرنا ہے حملے کی ہدایات ہمیں زمان پارک میں پہلے سے ملتی رہیں، جب سے پی ٹی آئی کی حکومت گئی پاک فوج کے خلاف ہماری ذہن سازی کی جاتی رہی تھی ہمارے ذہن میں فوج کے خلاف نفرت کو ابھارا جاتا رہا ہمارے ذہنوں میں فوج کیلئے نفرت بھری گئی ۔ یہی سوچ ہمیں کورکمانڈر ہاؤس لے گئی اور ہم حملہ آور ہو گئے

    جناح ہاؤس حملے میں مبینہ طور پر پی ٹی آئی کی قیادت ملوث ہے واقعہ کے بعد پی ٹی آئی رہنماؤں کی آڈیو بھی لیک ہوئی تھیں، ایک شرپسند کا ویڈیو بیان سامنے آیا تھا جس میں شرپسند نے اپنے جرم کا اعتراف کیا حاشر درانی کا تعلق بھی لاہور سے ہی تھا اور اس نے ویڈیو بیان میں کہا کہ جناح ہاؤس میں دوران حملہ میں انقلاب کے نعرے لگاتا رہا جس میں انقلاب مبارک ہو اور آزادی مبارک ہو کے نعرے شامل تھے

    جناح ہاؤس لاہور میں ہونیوالے شرپسندوں کے حملے کے بارے میں اہم انکشافات

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    نواز شریف کو سزا سنانے والے جج محمد بشیر کی عدالت میں عمران خان کی پیشی 

     لیگل ٹیم پولیس لائن گئی تو انہیں عدالت جانے سے روک دیا گیا

    غیر ملکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کر دی 

    جی ایچ کیو حملے میں پی ٹی آئی خواتین رہنماوں کا کردار,تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے آئی ہے،

    جناح ہاؤس میں سب سے پہلے داخل ہونے والا دہشتگرد عمران محبوب اسلام آباد سے گرفتار 

  • اعجاز چوہدری کو جیل میں بی کلاس کی فراہمی کی درخواست پر سماعت ملتوی

    اعجاز چوہدری کو جیل میں بی کلاس کی فراہمی کی درخواست پر سماعت ملتوی

    تحریک انصاف کے سینیٹر اعجاز چوہدری کو جیل میں بی کلاس کی فراہمی کیلئے انٹرا کورٹ اپیل پر سماعت ہوئی،

    لاہور ہائیکورٹ نے ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ سمیت دیگر کو 7 اگست کے لئے نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا ۔جسٹس ساجد محمود سیٹھی کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے سلمیٰ اعجاز کی انٹرا کورٹ اپیل پر سماعت کی ، اپیل کنندہ کے شوہر کو جیل میں سہولیات فراہم نہ کرنے کے اقدام کو چیلنج کیا گیا ہے ،لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ اعجاز چودھری سینیٹر ہیں لیکن اس کے باوجود اپیل کنندہ کے شوہر کو جیل مینول کے تحت بی کلاس میں نہیں رکھا گیا،اعجاز چوہدری کو سیاسی بنیادوں پر مقدمہ میں ملوث کیا گیا،ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ کو اعجاز چوہدری کو بی کلاس کی اجازت کیلئے درخواست دی لیکن کوئی شنوائی نہیں ہوئی،اعجاز چوہدری کو جیل میں بی کلاس فراہم کی جائے اپیل پر مزید سماعت 7 اگست کو ہوگی

    عمران خان نے ووٹ مانگنے کیلئے ایک صاحب کو بھیجا تھا،مرزا مسرور کی ویڈیو پر تحریک انصاف خاموش

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے شہباز گل ضمانت کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا

    پائلٹس کے لائسنس سے متعلق وفاق کے بیان کے مقاصد کی عدالتی تحقیقات ہونی چاہیے، رضا ربانی

    کراچی طیارہ حادثہ کی رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش، مبشر لقمان کی باتیں 100 فیصد سچ ثابت

    ایئر انڈیا: کرو ممبرزکیلیے نئی گائیڈ لائن ’لپ اسٹک‘ ’ناخن پالش‘ خواتین کے لیے اہم ہدایات