Baaghi TV

Tag: تحریک انصاف

  • سلمان رشدی کا وکیل، عمران خان کا وکیل بن گیا

    سلمان رشدی کا وکیل، عمران خان کا وکیل بن گیا

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان جیل میں ہیں ، توشہ خانہ کیس میں عمران خان کو سزا ہوئی ،اسلام آباد ہائیکورٹ نے سزا معطل کی تو انہیں سائفر کیس میں گرفتار کر لیا گیا، عمران خان جوڈیشل ریمانڈ پر اٹک جیل میں ہیں، نو مئی کے واقعات کے بعد تحریک انصاف کے رہنماؤں نے پارٹی چھوڑنے کا فیصلہ کیا اور ابھی تک چھوڑ رہے ہیں، کئی رہنما روپوش ہیں، اور عدالتیں انہیں اشتہاری قرار دے چکی ہیں،

    ایسے میں تحریک انصاف نے بین الاقوامی عدالتوں میں بھی مقدمے لڑنے کا فیصلہ کیا ہے،اس حوالے سے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے بیرسٹر جیفری رابرٹسن کو اپنا وکیل مقرر کیا ہے، جیفری رابرٹسن بین الاقوامی عدالتوں میں چیئرمین پی ٹی آئی کی نمائندگی کریں گے، یہ اعلان تحریک انصاف کے ٹویٹر ہینڈل سے کیا گیا

    تحریک انصاف کا ایک اور فیصلہ جسکا دفاع نا ممکن

    چیئرمین تحریکِ انصاف عمران خان نے سلمان رشدی کے وکیل بیرسٹر جیفری رابرٹسن کو اپنا وکیل مقرر کر دیا ،تحریکِ انصاف نے اپنے ٹویٹر ہینڈل سے جیفری رابرٹسن کو وکیل کرنے کی توثیق کر دی ،جیفری رابرٹسن QC (کوئین کونسل) نے اسلام مخالف توہین آمیز کتاب شیطانی آیات (The Satanic Verses) کے بدنام زمانہ مصنف سلمان رشدی کے خلاف لائے گئے توہین رسالت کے مقدمے میں ملعون رشدی کا دفاع کیا .جیفری رابرٹسن نے نہ صرف ملعون رشدی کا دفاع کیا بلکہ شاتم رسول کو اپنے گھر میں چُھپا کر رکھا۔ اس بات کا اعتراف جیفری نے خود اپنے لکھے گئے مقالے میں کیا ،اس کے علاوہ جیفری نے کس کا دفاع کیا؟ جی ہاں! Gay نیوز میگزین جس نے نعوذباللہ حضرت عیسیٰ کی شان میں انتہائی توہین آمیزنظم لکھی تھی اس کا بھی دفاع کیا۔ اس بات کا اعتراف بھی جیفری نے خود اپنے لکھے گئے مقالے میں کیا ،دنیا بھر کے کرپٹ حکمرانوں اور عالمی مالیاتی فراڈز کے ملزمان کے دفاع کیلئے بیرسٹر جیفری رابرٹسن نے کئی عالمی شہرت یافتہ کیس لڑے ،عالمی عدالتوں، انٹرنیشنل وار ٹربیونلز اور ایمنسٹی انٹرنیشنل میں بڑے بڑے مقدمات کی پیروی کے باعث بیرسٹر جیفری رابرٹسن ٹاپ کریمنلز کو بچانے والا وکیل کے نام سے مشہور ہے جیفری رابرٹسن کی ایک وجہ شہرت جنگی جرائم کے ملزم دہشت گردوں کے کیسز لینا بھی ہے بیرسٹر جیفری کی وجہ شہرت ریاستوں کے خلاف کام کرنے والی شخصیات کی وکالت بھی ہے

    برج کھیل کب ایجاد ہوا، برج کھیلتے کیسے ہیں

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    حضوراقدس پر کوڑا بھینکنے والی خاتون کا گھر مل گیا ،وادی طائف سے لائیو مناظر

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ مہمان کھلاڑی حویلی ریسٹورنٹ پہنچ گئے

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    امریکی سائفر کے بیانیہ پر سیاست کرنے والا خود امریکیوں سے رحم کی بھیک مانگنے پر مجبور،

    اسرائیل سے دیرینہ روابط کی بنا پر بیرسٹر جیفری رابرٹسن پاکستان اور افواج پاکستان کیخلاف عرصہ دراز سے زہر اگلتا رہا ہے بیرسٹر جیفری رابرٹسن 1971ء میں مشرقی پاکستان کی علیحدگی اور سقوط ڈھاکہ کے سانحہ کے دوران بھارت کی بولی بولتا رہا اور پاکستان و پاکستانی فوج کیخلاف طوفان اٹھائے رکھا ،بیرسٹر جیفری رابرٹسن کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ ثابت شدہ کریمنلز کو بھی سزا سے بچا سکتا ہے بیرسٹر جیفری رابرٹسن وکی لیکس کے بانی جولین آسانج کا بھی وکیل رہا لیکن اسے سزا سے نہ بچا سکا .جیفری رابرٹسن کا بطور وکیل انتخاب چیئرمین تحریکِ انصاف کے اوپر لگے سنگین الزامات کی حساسیت کو بھی اجاگر کرتا ہے

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر صارف حنا سرور نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ ریاست مدینہ کا دعویدار۔۔۔ناانصافیو کے لیے امت محمدیہ کا واحد لیڈر ہے عمران خان اور اب اس واحد لیڈر کا وکیل جانتے ہیں کون ہے۔جی وہی مل ع و ن سلمان رشدی۔صرف مل عون نہیں ہے وہ۔ بلکہ 1971 جنگ میں پاکستان کے خلاف کیس لڑنے والا ٹھگ باز بھی ہے۔۔یہ ہے انقلاب تو اخ تھ و ہے اس انقلاب پر

    https://twitter.com/ChiryaClub/status/1697832167949123599

    فرحان ورک نے ٹویٹر پر لکھا کہ تحریک انصاف نے عالمی اسٹیبلشمنٹ سے مدد لینا شروع کردی جس شخص بیرسٹر جیوفری کو بین القوامی سطح پر اپنا وکیل مقرر کیا ہے وہ نا صرف سلمان رشدی جیسے گستاخ کا وکیل ہے بلکہ 1971 میں پاکستان کے خلاف بھی ایکٹو رہا ہے۔ثبوت ساتھ جڑے ہیں، خود تصدیق کریں۔

  • سینیٹر عون عباس بپی بھی تحریک انصاف چھوڑ گئے

    سینیٹر عون عباس بپی بھی تحریک انصاف چھوڑ گئے

    نو مئی واقعہ کے بعد تحریک انصاف چھوڑنے والوں کی ابھی تک لائن لگی ہوئی ہے

    ہر آئے دن، پارٹی رہنما، کارکنان عمران خان کا ساتھ چھوڑ رہے ہیں، اب گرفتار رہنما،تحریک انصاف جنوبی پنجاب کے صدر اور سینیٹر عون عباس بپی نے تحریک انصاف سے علیحدگی کا اعلان کر دیا ہے

    تحریک انصاف نے دعویٰ کیا تھا کہ عون عباس کو گرفتار کیا گیا ہے تا ہم عون عباس کا ویڈیو بیان سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے تحریک انصاف سے علیحدگی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ میں 9 مئی کے واقعات کی مذمت کرتا ہوں میں سمجھتا ہوں یہ پاکستان کی تاریخ میں سیاہ دھبہ ہے یہ قوم اور پاک فوج لازم و ملزوم ہیں 9 مئی کے واقعات میں ملوث تمام کرداروں کو سخت سزائیں دی جائیں

    عون عباس کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف جنوبی پنجاب کی صدارت سے مستعفی ہوتا ہوں تھوڑے عرصے کیلئے سیاست سے بھی دستبردار ہونے کا بھی اعلان کرتا ہوں

    برج کھیل کب ایجاد ہوا، برج کھیلتے کیسے ہیں

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    حضوراقدس پر کوڑا بھینکنے والی خاتون کا گھر مل گیا ،وادی طائف سے لائیو مناظر

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ مہمان کھلاڑی حویلی ریسٹورنٹ پہنچ گئے

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    قبل ازیں سابق صوبائی وزیر ہشام انعام اللہ نے بھی تحریک انصاف کو خیر باد کہہ دیا ،پریس کانفرنس کرتے ہوئے ہشام انعام اللہ کا کہنا تھا کہ میں کسی کے دباؤ میں یہ فیصلہ نہیں کر رہا،میں آج سیاستدان کی حیثیت سے نہیں ایک عام شہری کی حیثیت سے آیا ہوں، میں 9 مئی کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی کے ساتھ رہنا اپنی توہین سمجھتا ہوں، میں اپنی پارٹی کی رکنیت سے ابھی استعفیٰ دیتا ہوں،

  • جناح ہاؤس حملہ کیس،اعجازچودھری کے ریمانڈ میں توسیع

    جناح ہاؤس حملہ کیس،اعجازچودھری کے ریمانڈ میں توسیع

    انسداد دہشتگردی عدالت میں جناح ہاؤس حملہ اور تھوڑ پھوڑ سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

    تحریک انصاف کے رہنما اعجاز چوہدری کو پولیس نے عدالت میں پیش کیا، اس موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے،دوران سماعت تفتیشی افسر نے عدالت سے مہلت مانگی اور کہا کہ جناح ہاؤس حملہ کیس کا چالان تیارکر رہے ہیں، چالان تیاری کے مراحل میں ہے، تفتیشی افسر نے ملزم کے جوڈیشل ریمانڈ میں توسیع کی استدعا کی ، عدالت نے تفتیشی افسر کی استدعا منظور کرتے ہوئے اعجاز چوہدری کے جوڈیشل ریمانڈ میں مزید 9 ستمبر تک توسیع کردی

    اس سے قبل عدالت نے 24 جولائی جوڈیشل ریمانڈ ختم ہونے پر اعجاز چوہدری کو مزید 14 روز کے ریمانڈ پر جیل بھیجا تھا ،عدالت نے 23 اگست کو ایک بار پھر اعجاز چوہدری کے جوڈیشل ریمانڈ میں 13 روز کی توسیع کی تھی ،اعجاز چوہدری کے خلاف تھانہ شادمان میں مقدمہ درج ہے انہیں 11 مئی کو گلگت بلتستان ہاؤس سے 3 ایم پی او کے تحت گرفتار کیا گیا تھا

    کرونا لاک ڈاؤن، گھر میں فاقے، ماں نے 5 بچوں کو تالاب میں پھینک دیا،سب کی ہوئی موت

    دس برس تک سگی بیٹی سے مسلسل جنسی زیادتی کرنیوالے سفاک باپ کو عدالت نے سنائی سزا

    شادی شدہ خاتون کے ساتھ اجتماعی زیادتی کے بعد ملزمان نے ویڈیو وائرل کر دی

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے، ویڈیو وائرل

    نوجوان جوڑے پر تشدد کرنیوالے ملزم عثمان مرزا کے بارے میں اہم انکشافات

    اعجاز چودھری کو عدالت نے رہا کرنے کا حکم دیا تھا مگر انہیں دوبارہ گرفتار کر لیا گیا ہے، اعجاز چودھری پر نو مئی کے روز احتجاج کے دوران توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ میں ملوث ہونے کا الزام ہے ، اعجاز چودھری کی آڈیو بھی سامنے آئی ہے جس میں وہ بیٹے کے ساتھ بات کرتے ہوئے فخریہ انداز میں کہتے ہیں کہ جناح ہاؤس میں ہم نے سب کچھ تباہ کر دیا ہے

    دوسری جانب اعجاز چوہدری سے جیل میں ملاقات کیلئے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائرکر دی گئی،اعجاز چوہدری کی اہلیہ سلمی اعجاز چوہدری نے لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کر دی ،سلمی اعجاز چوہدری کی درخواست میں سیکرٹری داخلہ پنجاب ،آئی جی پنجاب پولیس اور سپرنٹنڈنٹ کوٹ لکھپت جیل کو فریق بنایا گیا ہے ،درخواست میں کہا گیا ہےکہ اعجاز چوہدری کوٹ لکھپت جیل میں قید ہیں اہل خانہ کو اعجاز چوہدری سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی اعجاز چوہدری مختلف عارضوں کا شکار ہیں اہل خانہ کو اعجاز چوہدری سے ملاقات کی اجازت دی جائے،

    جی ایچ کیو حملے میں پی ٹی آئی خواتین رہنماوں کا کردار,تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے آئی ہے،

    جناح ہاؤس میں سب سے پہلے داخل ہونے والا دہشتگرد عمران محبوب اسلام آباد سے گرفتار 

    غیر ملکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کر دی 

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    جناح ہاؤس لاہور میں ہونیوالے شرپسندوں کے حملے کے بارے میں اہم انکشافات

  • سائفر کیس میں تحریری فیصلے جاری

    سائفر کیس میں تحریری فیصلے جاری

    آفیشل سیکرٹ ایکٹ عدالت نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کیخلاف 16 اور 30 اگست کو سائفر کیس کی سماعتوں کے تحریری فیصلے جاری کردیے ہیں جبکہ ان میں کہا گیا ہے کہ غیر معمولی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی کا جسمانی ریمانڈ منظور نہیں کیا جاسکتا، جوڈیشل کمپلیکس پیش نہ کرنے کی وجہ عمران خان کی جان کو تحفظ فراہم کرنا ہے، جج ابوالحسنات ذوالقرنین کی عدالت سے جاری دو دو صفحات پر مشتمل الگ الگ تفصیلی فیصلوں میں عدالت کا کہنا ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف سائفر کیس کی 16 اگست کی سماعت جوڈیشل کمپلیکس میں ہوئی تھی، ایف آئی اے نے تفتیش کے لیے 16 اگست کو چیرمین پی ٹی آئی کا 14 روزہ جسمانی ریمانڈ مانگا تھا.

    جبکہ فیصلے کے مطابق چیئرمین پی ٹی آئی پہلے سے ہی توشہ خانہ کیس میں بطور مجرم اٹک جیل میں قید تھے، سیکرٹ ایکٹ 1923 کے تحت کورٹ کے پاس اختیار ہے کہ ملزم کا جسمانی، جوڈیشل یا ضمانت منظور کرے اور عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ زندگی اہم ہے، معلوم نہیں کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو اٹک جیل سے باہر لانے پر کوئی حادثہ پیش آجائے، غیر معمولی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی کا جسمانی ریمانڈ منظور نہیں کیا جاسکتا۔

    مزید براں کہا گیا کہ جوڈیشل کمپلیکس پیش نہ کرنے کی وجہ چیئرمین پی ٹی آئی کی جان کو تحفظ فراہم کرنا ہے، فیصلے میں کہا گیا سائفر کیس عام نوعیت کا نہیں، سائفر جیسے حساس کیسز میں ریاست کی خود مختاری بھی شامل ہوتی ہے جبکہ فیصلے کے مطابق، سپرنٹنڈنٹ جیل کو چیئرمین پی ٹی آئی کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر اپنی تحویل میں لینے کا حکم دیا جاتا ہے، چیئرمین پی ٹی آئی کی جان کو خطرہ اور عوام کو لاحق خدشات کے پیش نظر عمران خان کو حاضری سے استثنیٰ دیا گیا۔

    علاوہ ازیں عدالت نے فیصلے میں لکھا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کی حاضری جوڈیشل کمپلیکس میں تصور کی جاتی ہے، ان کی غیر حاضری پر ان سے قانونی حق نہیں چھینا جائےگا، عدالت نے سپرنٹنڈنٹ جیل سے بھی اٹک جیل میں چیئرمین پی ٹی آئی کی حاضری کی یقین دہانی لی جبکہ فیصلے میں کہا گیا کہ اٹک جیل سے جوڈیشل کمپلیکس منتقلی کی صورت میں سپرنٹنڈنٹ کو سخت سیکیورٹی انتظامات کا جائزہ لینے کا حکم ہے، 30 اگست کے فیصلے کے مطابق عدالت کو وزارت قانون سے چیئرمین پی ٹی آئی کا ٹرائل اٹک جیل میں کرنے کا نوٹیفکیشن موصول ہوا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    توشہ خانہ فیصلہ؛ اپیل واپسی کی درخواست سماعت کیلئے مقرر
    چیئرمین سینیٹ سے نگران وفاقی وزیر توانائی کی ملاقات
    اوپن مارکیٹ میں ڈالر 325 روپے کی تاریخی سطح پر پہنچ گیا
    ہمیشہ ووٹ کے لئے نہیں عوام کی خدمت کے لئے کام کیا،جہانگیر ترین
    نوکری کا جھانسہ،تین الگ الگ واقعات میں خواتین عزتیں گنوا بیٹھیں
    تاہم خیال رہے کہ عدالتی فیصلے میں مزید لکھا گیا کہ 30 اگست فیصلہ کے مطابق عدالت نے گزشتہ سماعت پر چیئرمین پی ٹی آئی کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجا۔ عدالت نے سپرنٹنڈنٹ جیل کو اٹک جیل میں سیکرٹ ایکٹ عدالت میں چیئرمین پی ٹی آئی کو پیش کرنےکا حکم دیا تھا، عدالت نے چیئرمین پی ٹی آئی سے جیل میں حالات، مسائل اور ٹریٹمنٹ کے حوالے سے پوچھا، عدالت نے جیل سپرنٹنڈنٹ کو چیئرمین پی ٹی آئی کو جیل قانون کے مطابق تمام سہولیات مہیا کرنے کی ہدایت کی جبکہ فیصلے کے مطابق چیئرمین پی ٹی آئی کی صحت بہت اہم ہے، سپرنٹنڈنٹ جیل تمام تر اقدامات اٹھائے، وکیل صفائی نے وزارت قانون کا نوٹیفیکیشن کالعدم قرار دینے اور سائفر کیس کو اوپن کورٹ میں کرنے کی درخواست دائر کی۔

  • سائفر کیس،شاہ محمود قریشی کو جوڈیشل ریمانڈ پر بھیج دیا گیا

    سائفر کیس،شاہ محمود قریشی کو جوڈیشل ریمانڈ پر بھیج دیا گیا

    آفیشل سیکریٹ ایکٹ عدالت اسلام آباد ،عدالت نے سائفر کیس میں شاہ محمود قریشی کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا

    کیس کی سماعت آفیشل سیکرٹ ایکٹ عدالت کے جج ابو الحسنات ذولقرنین نے کی ،اسپیشل پراسیکوٹر شاہ خاور عدالت کے روبرو پیش ہوئے ،شاہ محمود قریشی کے وکیل بابر اعوان عدالت کے روبرو پیش ہوئے عدالت میں ان کیمرہ سماعت ہوئی، اس موقع پر جج ابو الحسنات ذولقرنین کی عدالت کے باہر سخت سیکورٹی تعینات کی گئی تھی، پولیس کی بھاری نفری عدالت کے باہر تعینات تھی،دوران سماعت ایف آئی اے نے شاہ محمود کے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی، عدالت نے ایف آئی اے کی استدعا کو مسترد کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی کو جیل بھجوا دیا

    دوسری جانب شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت دائر کر دی گئی،عدالت نے فریقین کو نوٹسز جاری کر دئیے ،عدالت فریقین کو نوٹسز جاری کر کے دو ستمبر کو دلائل طلب کر لیے

    واضح رہے کہ شاہ محمود قریشی کو 19 اگست کو ایف آئی اے نے سائفر کیس میں اسلام آباد سے گرفتار کیا تھا، اور انہیں گرفتاری کے بعد ایف آئی اے ہیڈکوارٹر منتقل کیا گیا تھا،

    خیال رہے کہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت ملک بھر کے لیے اسلام آباد میں خصوصی عدالت قائم کر دی گئی ہے، آفیشل سیکرٹ ایکٹ عدالت کا اضافی چارج انسداد دہشتگردی عدالت کے جج کو سونپ دیا گیا ہے،قانون کے مطابق آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت درج مقدمات کی سماعت ان کیمرا ہو گی۔

     عمران خان کو سائفرگمشدگی کیس میں بھی گرفتار کرلیا گیا۔

    گدی نشینی کا تنازعہ شدت اختیار کر گیا

    ضمانت ملی تو ملک کے بعد مذہب بھی بدل لیا،

    سیما کو واپس نہ بھیجا تو ممبئی طرز کے حملے ہونگے،کال کے بعد ہائی الرٹ

     سیما حیدر کے بھارت میں گرفتاری کے ایک بار امکانات

    پب جی پارٹنر ، سیما اور سچن ایک بار پھر جدا ہوا گئے

    صدر مملکت نے چیف الیکشن کمشنر کو ملاقات کی دعوت دے دی ،

  • عمران خان کیخلاف سائفر کیس کی عدالت کل اٹک جیل میں لگے گی

    عمران خان کیخلاف سائفر کیس کی عدالت کل اٹک جیل میں لگے گی

    عمران خان کے خلاف سائفر کیس کی عدالت کل اسلام آباد کچہری کے بجائے اٹک جیل میں لگے گی جس میں آفیشل سیکرٹ عدالت کے جج کو اٹک جیل لے جایا جائے گا اور نگران وزارت قانون و انصاف نے این او سی جاری کردیا گیا ہے. جبکہ خیال رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے توشہ خانہ کیس میں عمران خان کی تین سال قید کی سزا اور جرمانے کو معطل کر دیا تھا، لیکن رہائی کیلئے انہیں ابھی بھی انتظار کرنا ہوگا کیونکہ سابق وزیر اعظم کے خلاف متعدد دیگر مقدمات بھی موجود ہیں۔

    عدالتی فیصلہ آنے کے فوری بعد یہ بحث چھڑ گئی کہ عمران خان مضبوط دلائل کی وجہ سے اس جج سے ریلیف حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں جسے ان کی اپنی جماعت نے بدنام کیا یا عدالتوں نے انہیں بچایا لیکن وجہ ان میں سے کوئی بھی نہیں، اصل وجہ یہ ہے کہ عمران کی سزا بہت مختصر تھی اور عمران خان کی سزا معطلی پر جسٹس عامر فاروق اور جسٹس طارق محمود جہانگیری کا تحریری حکم نامہ نو صفحات پر مشتمل ہے اور کارروائی میں جو کچھ ہوا اس کا خلاصہ ہے۔

    جبکہ اس میں وضاحت کی گئی ہے کہ عمران خان کے وکیل لطیف کھوسہ نے ٹرائل کورٹ کے توشہ خانہ فیصلے میں کئی کوتاہیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے لطیف کھوسہ نے دلیل دی کہ اثاثہ جات کے گوشوارے جمع کرانے کے 120 دنوں کے اندر شکایات درج کی جا سکتی ہیں، جبکہ الیکشن کمیشن نے ایسا کرنے میں بہت تاخیر کی۔

    جبکہ اس میں یہ بھی شامل کیا گیا کہ درخواست منتخب شخص کے ذریعے فائل نہیں کی گئی تھی اور لطیف کھوسہ نے استدلال کیا کہ دائرہ اختیار کے مسائل کا فیصلہ ٹرائل کورٹ کو مقدمے کے فوائد پر بات کرنے سے پہلے کرنا چاہیے تھا اور آخر میں لطیف کھوسہ نے دلیل دی کہ عمران کو اپنے دفاع کا مناسب موقع نہیں دیا گیا کیونکہ ان کے گواہوں پر ’غیر متعلقہ‘ لیبل لگا دیا گیا تھا۔

    انہوں نے اسلام آباد ہائیکورٹ کو یہ بھی بتایا کہ اس معاملے کا فیصلہ ’غیر ضروری‘ جلد بازی میں کیا گیا تھا، جواب میں الیکشن کمیشن کے وکیل امجد پرویز نے بھی تکنیکی نکات پر بحث کی اور انہوں نے کہا کہ جب سے عمران خان کو قید کیا گیا ہے، انہیں ریاست کے حوالے کر دیا گیا ہے لیکن ریاست کو کیس میں فریق نہیں بنایا گیا تاہم امجد پرویز نے یہ بھی دلیل دی کہ اس معاملے میں اپیل کو سیدھا اسلام آباد ہائیکورٹ جانے کے بجائے سیشن کورٹ کے سامنے دائر کیا جانا چاہیے تھا۔

    علاوہ ازیں انہوں نے دفاع کے حق کے بارے میں لطیف کھوسہ کے نکتہ کے خلاف بھی دلیل دی اور کہا کہ عمران نے متعدد مواقع ملنے کے باوجود عدالت میں پیش نہ ہونے کا انتخاب کیا جبکہ انہوں نے کہا کہ عمران نے کارروائی کو ’ناکام‘ بنانے کی کوشش کی، تاہم وکلاء کے تمام دلائل کے بعد معاملہ ایک نقطہ پر آگیا کہ کیا عمران خان کی سزا کو معطل کیا جا سکتا ہے، یا ضمانت دی جاسکتی ہے؟ کیونکہ یہ سزا ’مختصر‘ تھی۔

    جبکہ لطیف کھوسہ نے دلیل دی کہ سزا معطلی کی اپیل دراصل ضمانت کے لیے اپیل کرنے کے مترادف ہے اور عمران ضمانت کے حقدار ہیں کیونکہ تین سال کی سزا مختصر ہے جبکہ دلچسپ بات یہ ہے کہ انہوں نے جس کیس کا حوالہ دیا ان میں سے ایک نواز شریف بمقابلہ چیئرمین نیب (2019) تھا، امجد پرویز کا کہنا تھا کہ ضروری نہیں کہ ہر سزا معطل کی جائے اس کے جواب میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے کہا کہ سپریم کورٹ نے معطلی یا ضمانت کے معاملات میں طویل دلائل کو نظر انداز کیا ہے۔

    علاوہ ازیں عدالت نے لطیف کھوسہ سے بھی اتفاق کیا کہ اس معاملے کے لیے تین سال، یا یہاں تک کہ پانچ سال، ایک مختصر سزا ہے اور عام طور پر معطل کی جاتی ہے جبکہ عدالت نے مزید کہا کہ اس مرحلے پر کیس کے میرٹ پر دلائل کی ضرورت نہیں ہے اور تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ دائرہ اختیار اور دیگر مسائل کے بارے میں دونوں فریقوں کی طرف سے اٹھائے گئے دلائل میں اس معاملے کی گہری تعریف شامل ہے جس کی معطلی کے مرحلے پر کوئی جواز نہیں ہے، خاص طور پر جہاں سزا مختصر ہو، بالآخر عمران خان کو دی گئی سزا کی مختصر طوالت ان کی رہائی کے احکامات کی وجہ بن گئی۔

  • سوشل میڈیا ایکٹوسٹ عائشہ علی بھٹہ سمیت 25 کارکنان کے ریمانڈ میں توسیع

    سوشل میڈیا ایکٹوسٹ عائشہ علی بھٹہ سمیت 25 کارکنان کے ریمانڈ میں توسیع

    نو مئی کو راحت بیکری افشان چوک میں پولیس کی گاڑیاں نزر آتش کرنے کا معاملہ ، پی ٹی آئی سوشل میڈیا ایکٹوسٹ عائشہ علی بھٹہ کو انسداد دہشت گردی عدالت میں پیش کیا گیا

    عدالت نے ملزمہ عائشہ علی بھٹہ کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ ہر جیل بھجوا دیا ،انسداد دھشت گردی عدالت کے جج اعجاز احمد بٹر نے سماعت کی ،پولیس نے نئے مقدمہ میں جسمانی ریمانڈ کے بعد عدالت میں پیش کیا ، تفتیشی افسر نے عدالت میں کہا کہ ملزمہ تھانہ سرور روڑ کے مقدمہ نمبر 103/23 مین ملوث ہے،ملزمہ راحت بیکری افشان چوک میں پولیس کی گاڑیاں نزر آتش کرنے میں ملوث ہے تفتیش مکمل ہو گئی ہے ملزمہ کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوا دیا جائےشناخت پریڈ میں عائشہ علی بھٹہ کی شناخت ہو گئی ہے ملزمہ عائشہ علی بھٹہ جلاؤ گھیراؤ میں ملوث ہے

    ملزمہ کی جانب سے رانا مدثر عمر اور یوسف وائیں ایڈووکیٹ پیش ہوئے اور کہا کہ ملزمہ کو پہلے جناح ہاؤس حملہ کیس میں ملوث کیا گیا اب نئے مقدمہ میں ملوث کر دیا گیا ہےملزمہ کی جناح ہاؤس حملہ میں ضمانت منظور ہو چکی ہے ،ملزمہ کو رہا کیا جائے،

    انسداد دہشتگردی عدالت ،پی ٹی آئی کے 25 کارکنان کے جوڈیشل ریمانڈ کا معاملہ ،عدالت نے پی ٹی آئی کے 25 کارکنان کو پیش کیا ،عدالت نے کارکنانِ کے جوڈیشل ریمانڈ میں 14 روز کی توسیع کر دی انسداد دہشتگردی عدالت کے جج اعجاز احمد بٹر نے سماعت کی،عدالت نے تمام ملزمان کو 5 ستمبر کو دوبارہ پیش کرنے کا حکم دے دیا، پولیس نے کہا کہ ملزمان کا جوڈیشل ریمانڈ ختم ہو چکا ہے،ملزمان کے جوڈیشل ریمانڈ میں توسیع کی جائےملزمان کے مقدمہ کا چالان آخری مراحل میں ہے ،چالان جلد مکمل کر کے پیش کر دیا جائے گا ،ملزمان کے خلاف نو مئی کے واقعات میں توڑ پھوڑ جلاؤ گھیراؤ کے مقدمات درج ہیں

    عمران خان کی گرفتاری کے بعد کور کمانڈر ہاؤس لاہور میں ہونیوالے ہنگامہ آرائی میں پی ٹی آئی ملوث نکلی

     بشریٰ بی بی کی گرفتاری کے بھی امکانات

    نواز شریف کو سزا سنانے والے جج محمد بشیر کی عدالت میں عمران خان کی پیشی 

     مراد سعید کے گھر پر پولیس نے چھاپہ

    اوریا مقبول جان کو رات گئے گرفتار 

  • ریاست مخالف نعرے بازی، پی ٹی آئی کارکنان پر مقدمہ درج

    ریاست مخالف نعرے بازی، پی ٹی آئی کارکنان پر مقدمہ درج

    راولپنڈی پی ٹی آئی کارکنان کے خلاف ریلی نکالنے پر تھانہ وارث خان میں مقدمہ درج کر لیا گیا

    وراث خان میں درج مقدمے میں 8 نامزد اور 15 نامعلوم افراد کو شامل کیا گیا ،مقدمے میں طلحہ، راجہ ناصر محفوظ، علی، عرفان، حماد بٹ، فرہاد بٹ، شرجیل عثمان اور عبدالمعیز کو نامزد کیا گیا ،درج مقدمہ میں کہا گیا کہ کارکنان نے ہاتھوں میں ڈنڈے اٹھا رکھے تھے اور ریاست مخالف نعرے بازی کی،کارکنان فیض آباد کی جانب سے آئے اور مری روڈ کر زبردستی بلاک کیا، کارکنان نے کار سرکار میں مداخلت کی اور دفعہ 188 کی خلاف ورزی کی، کارکنان نے گزشتہ روز لیاقت باغ سے فیض آباد تک موٹر سائیکل ریلی نکالی تھی

    واضح رہے کہ عمران خان کو توشہ خانہ کیس میں سزا ہو چکی ہے، عمران خان جیل میں ہیں ،عمران خان کی سزا کے خلاف پنڈی میں تحریک انصاف کے کارکنان نے گلیوں میں ریلی نکالی تھی جس پر مقدمہ درج کیا گیا ہے،

    اعظم خان نےعمران خان پرقیامت برپا کردی ،سارے راز اگل دیئے،خان کا بچنا مشکل

    جیل اسی کو کہتے ہیں جہاں سہولیات نہیں ہوتیں،

    چیئرمین پی ٹی آئی پر ایک مزید مقدمہ درج کر لیا گیا

    نشہ آور اشیاء چیئرمین پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ میں پہلی لڑائی کی وجہ بنی،

    بشریٰ بی بی نے شوہر کے لئے چار سہولیات مانگ لیں

    پی ٹی آئی کورکمیٹی میں اختلافات،وکیل بھی پھٹ پڑا

    جیل میں عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی دو الگ الگ ملاقاتیں ہو چکی ہیں، اب بشریٰ بی بی نے سیکرٹری داخلہ پنجاب کو خط لکھا ہے جس میں انہوں نے استدعا کی کہ انکے شوہر عمران خان کو اڈیالہ جیل منتقل کیا جائے، بنیادی سہولیات دی جائیں،گھر کا کھانا دینے کی اجازت دی جائے،ڈاکٹر سے ملنے کی اجازت دی جائے

    بشری بی بی نے سیکرٹری داخلہ پنجاب کو لکھے گئے خط میں کہا کہ عدالت نے میرے شوہر عمران خان کو اڈیالہ جیل منتقل کرنے کی ہدایت کی تھی لیکن انہیں اٹک جیل لے جایا گیا، عمران خان کو فوری اٹک جیل منتقل کیا جائے، عمران خان سابق وزیراعظم ہیں، وہ آکسفورڈ کے گریجویٹ اور قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان ہیں، وہ جن عہدوں پر فائز رہ چکے ، اس حساب سے اٹک جیل میں سہولیات میسر نہیں، میرے شوہر کو جیل میں بنیادی سہولیات دی جائیں

  • پی ٹی آئی کورکمیٹی میں اختلافات؟ شاہ محمود قریشی نے پریس کانفرنس کر دی

    پی ٹی آئی کورکمیٹی میں اختلافات؟ شاہ محمود قریشی نے پریس کانفرنس کر دی

    وائس چئیرمین پی ٹی آئی شاہ محمود قریشی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی ہمارے چئیرمین تھے ہیں اور رہیں گے، سب ان کی ذات پر سب متفق اور ان کے ویژن کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں،

    شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ پارٹی میں قیادت کے حوالے سے کوئی کشمکش نہیں ہے، کور کمیٹی میں اختلافات کی خبریں بے بنیاد ہیں،کور کمیٹی کے پاس پارٹی چئیرمین کی 27 سالہ جدوجہد ایک امانت ہے، 10 روز قبل ایک نئی مردم شماری کا نوٹیفکیشن کیا گیا، 7 روز قبل قومی اسمبلی کو تحلیل کیا گیا ، آئین واضع ہے کہ انتخابات کب ہونگیں اور کیسے ہونگے،آئین میں انتخابات کی 90 روز کی واضع قدغن کو عبور کیا گیا تو وہ غیر آئینی ہوگا، 90 روز سے بڑھنے کی کوشش کو سپریم کورٹ میں چیلنج کریں گے، اس حوالے سے ہمارے وکلاء پٹیشن دائر کرنے کی تیاری کر رہے ہیں،سینیٹر علی ظفر اس حوالے سے پٹیشن تیار کر رہے ہیں،سلمان اکرم راجہ بھی چئیرمین پی ٹی آئی کی طرف سے سی سی آئی کے فیصلوں کو چیلنج کریں گے،

    شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کی بار ایسوسی ایشن بھی اس حوالے سے موقف واضع کر چکی، عمران خان پارٹی کے بانی چیئرمین تھے ہیں اور رہیں گے اس میں کوئی دو رائے نہیں! انکا متبادل کوئی ہو ہی نہیں سکتا اور نہ ہی کوئی یہ سوچے،عمر ایوب اور مجھ سے منسوب خبروں میں کوئی صداقت نہیں کوئی فائدہ اٹھانا چاہتا ہے مایوس کرنا چاہتا ہے، عثمان ڈار کی فیکٹری بند کر دی گئی جو ڈالر پاکستان لا رہی تھی کیا اس طرح پاکستان کی خدمت کی جا رہی ہے؟ میری کل محسن لغاری سے بات ہوئی، پنجاب میں وزیر خزانہ رہے انکے بیٹے کو اٹھایا گیا ، تشدد کیا گیا، پورا خاندان اتنا بے بس ہو جاتا ہے کہ نہ چاہتے ہوئے بھی انہیں وہ ویڈیو میسج ریکارڈ کروانا پڑتا ہے جس پر نہ دل تھا نہ خواہش تھی،

    اعظم خان نےعمران خان پرقیامت برپا کردی ،سارے راز اگل دیئے،خان کا بچنا مشکل

    جیل اسی کو کہتے ہیں جہاں سہولیات نہیں ہوتیں،

    چیئرمین پی ٹی آئی پر ایک مزید مقدمہ درج کر لیا گیا

    نشہ آور اشیاء چیئرمین پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ میں پہلی لڑائی کی وجہ بنی،

    بشریٰ بی بی نے شوہر کے لئے چار سہولیات مانگ لیں

    پی ٹی آئی کورکمیٹی میں اختلافات،وکیل بھی پھٹ پڑا

  • تحریک انصاف کی مقبولیت میں دو سو فیصد کمی

    تحریک انصاف کی مقبولیت میں دو سو فیصد کمی

    تحریک انصاف کے چیئرمین توشہ خانہ کیس میں گرفتار ہو چکے ہیں، نو مئی کا واقعہ پاکستان کی تاریخ کا سیاہ ترین واقعہ ہے جب پاکستان کے اندر فوجی تنصیبات پر حملے کئے گئے ، منظم منصوبہ بندی کے تحت حملے ہوئے، آڈیو ریکارڈنگ لیک ہوئیں اور ابھی تک منصوبہ بندی کرنے والے مراد سعید جیسے کئی پی ٹی رہنما روپوش ہیں تو وہیں پی ٹی آئی رہنماؤں کی اکثریت پارٹی چھوڑ چکی ہے

    ایک طرف پاکستان میں تحریک انصاف کے ساتھ عوامی ہمدردیاں نو مئی کے بعد سے کم ہوئی ہیں تو وہیں بین الاقوامی میڈیا بھی اس امر کی تصدیق کر رہا ہے،انٹرنیشنل میڈیا کی نئی رپورٹ کے مطابق پی ٹی آئی کی سپورٹ میں کمی دیکھنے میں آئی ،بیرونی جریدے Social Index جو ہر سال پاکستان سمیت دنیا بھر کے ممالک پر ایک سروے کرکے رپورٹ نشر کرتا ہے اُس کے مطابق پاکستان کے سیاسی حالات روز بروز اپنا رُخ تبدیل کرتے نظر آرہے ہیں۔ جو سوشل میڈیا پر نظر آرہا ہے حقیقت اُس کے برعکس ہے ،سوشل انڈکس نے 17 اگست کو اپنی پاکستان سے متعلق رپورٹ نشر کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان کے سوشل میڈیا کو دیکھا جاہے تو ایک سیاسی جماعت ہر طرف چھائی ہوئی نظر آتی ہے جبکہ گراؤنڈ میں اُسکی سپورٹ روز بروز کم ہوتی جا رہی ہے۔

    بیرونی جریدے کے مطابق 9 مئی کے بعد سے پاکستان تحریک انصاف کی سپورٹ میں واضح کمی دیکھنے میں آئی اور نظریاتی کارکنان نے پارٹی کو خیرآباد کہنا شروع کردیا ہے۔

    سوشل انڈکس نے عوامی سروے کرنے کے بعد اپنا گراف شئیر کیا
    پاکستان تحریک انصاف 26%
    مسلم لیگ ن 26%
    پاکستان پیپلز پارٹی 21%
    استحکام پاکستان پارٹی 15%
    تحریک لبیک پاکستان 7%
    اور باقی چھوٹی بڑی جماعتیں 5%

    سوشل انڈکس نے اپنی شائع کردہ رپورٹ میں بتایا کہ پچھلے دو سے تین مہینوں میں پی ٹی آئی کی مقبولیت میں دوسو فیصد کمی دیکھنے میں آئی ہے اور اگر الیکشن وقت پر نہیں ہوتے تو پی ٹی آئی کی مقبولیت کا گراف اور نیچے جا سکتا ہے، جبکہ استحکام پاکستان پارٹی کا گراف باقی جماعتوں کی نسبت تیزی سے اوپر جا رہا ہے

    اعظم خان نےعمران خان پرقیامت برپا کردی ،سارے راز اگل دیئے،خان کا بچنا مشکل

    جیل اسی کو کہتے ہیں جہاں سہولیات نہیں ہوتیں،

    چیئرمین پی ٹی آئی پر ایک مزید مقدمہ درج کر لیا گیا

    نشہ آور اشیاء چیئرمین پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ میں پہلی لڑائی کی وجہ بنی،

    بشریٰ بی بی نے شوہر کے لئے چار سہولیات مانگ لیں

    پی ٹی آئی کورکمیٹی میں اختلافات،وکیل بھی پھٹ پڑا