Baaghi TV

Tag: تحقیقات

  • غیر ملکی سفارت کاروں کے قافلے پر حملہ،تحقیقاتی کمیٹی قائم

    غیر ملکی سفارت کاروں کے قافلے پر حملہ،تحقیقاتی کمیٹی قائم

    خیبرپختونخوا حکومت نے سوات کے علاقہ مالم جبہ میں غیر ملکی سفارت کاروں کے قافلے پر حملے کی تحقیقات کرانے کا فیصلہ کر لیا ہے

    سوات میں غیر ملکی سفارتکاروں کے قافلے پر دہشت گردانہ حملے کے تحقیقات کے لئے خیبر پختونخوا حکومت نے دو رکنی کمیٹی قائم کی ہے، تحقیقاتی کمیٹی میں ایڈیشنل آئی جی انویسٹی گیشن اور اسپشل سیکرٹری داخلہ شامل ہیں،تحقیقاتی کمیٹی غیر ملکی سفارتکاروں کے قافلے پر حملے کے واقعہ کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کرے گی اور تحقیقات کے بعد تفصیلی رپورٹ بھی تیار کر کے صوبائی حکومت کو جمع کرائے گی،،کمیٹی سات روز میں دھماکے کے حوالے اپنی رپورٹ جمع کریگی،

    واضح رہے کہ 22 ستمبر کو سوات میں غیرملکی سفارتکاروں کے قافلے پر حملہ ہوا تھا، واقعہ میں ایک پولیس اہلکار شہید جبکہ 3 اہلکار زخمی ہوئے تھے، خوش قسمتی سے حملے میں تمام غیر ملکی سفارتکار محفوظ رہے تھے،ترجمان دفتر خارجہ نے اس واقعے پر اپنے بیان میں کہا کہ دھماکے کی زد میں آنے والی پولیس گاڑی کو آئی ای ڈی کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے شہید پولیس اہلکار کے خاندان اور زخمیوں کے ساتھ اپنی ہمدردی کا اظہار کیا۔ترجمان نے مزید کہا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنی جانوں کی قربانی دے کر دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں ثابت قدم ہیں۔ انہوں نے ان اداروں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ایسے واقعات پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف جدوجہد کے عزم سے نہیں روک سکتے۔سفارتکاروں کے گروپ کی محفوظ واپسی کے بعد ترجمان نے یہ بھی واضح کیا کہ پاکستان کے عزم میں کوئی کمی نہیں آئے گی اور حکومت ہر صورت میں دہشت گردی کے خلاف کاروائی جاری رکھے گی۔

    یہ حملہ خیبر پختونخوا کے اس علاقے میں ہوا جو ماضی میں دہشت گردی اور شورش کا شکار رہا ہے، لیکن حالیہ سالوں میں امن کی بحالی کے بعد یہاں کے حالات بہتر ہوچکے ہیں۔ تاہم، اس واقعے نے علاقے میں سیکیورٹی چیلنجز کو دوبارہ اجاگر کیا ہے۔ حکومت اور پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اس واقعے کی مکمل تحقیقات کی جائیں گی اور ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ سوات اور مالم جبہ کی سڑکیں، جو سیاحتی مقاصد کے لیے اہم تصور کی جاتی ہیں، اس حملے کے بعد خصوصی سیکیورٹی اقدامات کا تقاضا کرتی ہیں تاکہ آئندہ ایسے واقعات سے بچا جاسکے اور خطے کی سیاحت اور معیشت متاثر نہ ہو.

    آپریشن گولڈ سمتھ، اسرائیلی اخبار نے عمران خان کا "حقیقی چہرہ” دکھا دیا

    اسرائیل نیازی گٹھ جوڑ بے نقاب،صیہونی لابی عمران کو بچانے کیلئے متحرک

    عمران خان بطور وزیراعظم اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے کیلئے تیار تھے،دعویٰ آ گیا

    عمران خان اور پی ٹی آئی نے ملک دشمنی میں تمام حدیں پار کر دیں

    امریکی ایوان نمائندگان میں قرارداد،پاکستان کے خلاف آپریشن گولڈ اسمتھ کی ایک کڑی

    آپریشن گولڈ سمتھ کی کمر ٹوٹ گئی،انتشاری ٹولہ ایڑھیاں رگڑے گا

    تحریک انصاف کی ملک دشمنی ایک بار پھر کھل کر سامنے آ گئی

    14 سال سے خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی سرکار،اربوں بجٹ وصول،کارکردگی زیرو

    عمران پر جیل میں تشدد ہوا،مجھے مرد اہلکار نے…بشریٰ بی بی نے سنگین الزام عائد کر دیا

    عمران خان نے آخری کارڈ کھیل دیا،نواز شریف بھی سرگرم

    پی ٹی آئی کی ڈیجیٹل دہشت گردی کا سیاہ جال،بیرون ملک سے مالی معاونت

    اگلے دو مہینے بہت اہم،کچھ بڑا ہونیوالا؟عمران خان کی پہنچ بہت دور تک

    اڈیالہ جیل میں قید عمران خان نے بالآخر گھٹنے ٹیک دیئے

    اسرائیل کی عمران خان سے امیدیں ،گولڈسمتھ خاندان کااہم کردار

    سوات میں غیر ملکی سیاحوں کا داخلہ سکیورٹی خدشات کے باعث بند

  • اسلام آباد ایئر پورٹ،منصوبے میں کرپشن،انکوائری دوبارہ کھل گئی

    اسلام آباد ایئر پورٹ،منصوبے میں کرپشن،انکوائری دوبارہ کھل گئی

    ایف آئی اے نے بینظیر بھٹو بین الاقوامی ہوائی اڈے کے نئے منصوبے کی انکوائری دوبارہ کھول دی

    ایف آئی اے کے انسداد بدعنوانی سرکل نے وزارت داخلہ کو خط لکھ کر نیو بینظیر بھٹو انٹرنیشنل ایئرپورٹ پروجیکٹ کی انکوائری کی صورتحال سے متعلق اپ ڈیٹ طلب کی ہے، ایف آئی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر محمد افضل خان نیازی نے ایک خط (FIA No. AD/FIA/ACC/DR/4291) میں انکوائری کے حوالے سے مجاز اتھارٹی کی طرف سے جاری کردہ ہدایات کے نتائج کے بارے میں معلومات کی درخواست کی ہے۔ خط نمبر میں کہا گیا ہے کہ 46/2013۔ انکوائری، جو 2013 میں شروع ہوئی تھی اور ایک طویل مدت سے زیر التواء ہے۔ ایف آئی اے انکوائری کو حتمی شکل دینے کی کوشش کر رہی ہے اور آگے بڑھنے کے لیے وزارت کے جواب کی ضرورت ہے۔

    خط میں انکوائری کا حوالہ دے کر اس معاملے کو تیز کرنے کے لیے جلد جواب کی درخواست کی گئی ہے اس حوالے سے ایف آئی اے کے ذمہ دار ذرائع نے بتایا ہے کہ اسلام آباد ایئرپورٹ کی تعمیر میں بڑے پیمانے پر مالی بے ضابطگی سامنے آئی ہیں اور ابتدائی رپورٹ جو مکمل کی گئی تھی اس میں 37 ارب روپے سے زائد، مختلف کمپنیوں کو زائد ادائیگی کی گئی ہے ،اس کے علاوہ منصوبے میں فنی اور ڈیزائن میں بڑے پیمانے پر ہیرا پھیری کر کے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا ہے

    رپورٹ، زبیر قصوری، اسلام آباد

    اسلام آباد ایئر پورٹ پر طیارہ الٹ گیا،بارش سے ایئر پورٹ کی چھتیں ٹپکنے لگیں

    جعلی پائلٹس کے لائسنس ،دو ہفتوں میں وزارت ایوی ایشن سے رپورٹ طلب

    پاکستان کی قومی ایئر لائن پی آئی اے کو مجموعی طور پر 383 بلین کا خسارہ ہے 

    سپریم کورٹ نے پی آئی اے کو نئی 205 پروفیشنل بھرتیوں کی اجازت دیدی

    ایئر انڈیا: کرو ممبرزکیلیے نئی گائیڈ لائن ’لپ اسٹک‘ ’ناخن پالش‘ خواتین کے لیے اہم ہدایات

    جعلی پائلٹ لائسنس بحال کرنے کے لیے سول ایوی ایشن اتھارٹی کو 15دن کا الٹی میٹم

    دیو آنند پاکستان ایئرفورس کی تاریخ کے پہلے ہندو پائلٹ بن گئے

    سینیٹر سلیم مانڈوی والا ڈی جی سول ایوی ایشن پر برہم ہو گئے،

    قبل ازیں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ایوی ایشن کے ایک اجلاس میں نیو اسلام آباد ایئرپورٹ کے منصوبے میں کرپشن کے حوالے بتایا گیا کہ یہ ایک منصوبہ نہیں تھا بلکہ اس میں بے شمار پیکجز تھے جس پر مختلف کنٹریکٹر نے کام کیا ہے۔سیکرٹری سول ایوی ایشن نے کمیٹی کو بتایا کہ نیو انٹرنیشنل اسلام آباد ایئر پورٹ کے منصوبے پر94 ارب کی ادائیگی کر دی گئی ہے جس میں سے 81 ارب کے پیکجز پر انکوائریاں ہو رہی ہیں۔سینیٹر بہرا مند خان تنگی نے کہا کہ میں نے یہ مسئلہ ایوان بالاء میں بھی اٹھایا تھا اور اس کمیٹی اجلاس میں مطالبہ کیا تھا کہ جے آئی ٹی بنائی جائے۔دو سال ہونے والے ہیں مگر میرے سوال کا جواب نہیں دیا گیا۔سینیٹر نعمان وزیر خٹک نے کہا کہ آربیٹریشن میں اس طرح کے کیسز نہیں دیکھے جا تے۔ کیبنٹ کمیٹی کی رپورٹ آ جائے تو جائزہ لیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ کمیٹی کے شروع کے اجلاسوں میں ایک مسئلہ اٹھایا تھا کہ ٹیکسی ٹریک کو رن وے بنایا گیا ہے۔ دو رن ویز کے درمیان قانون کے مطابق 4 سے ساڑھے چار کلو میٹر کا فاصلہ ہونا چاہیے مگر نیو انٹرنیشنل ایئر پورٹ کے رن ویز کے درمیان 400 میٹر کا فاصلہ بھی نہیں ہے جو نہ صرف خطرناک بلکہ قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچایا گیا ہے۔

    2 اکتوبر 2021 کو سینیٹ اجلاس میں اس وقت کے وفاقی وزیر ہوابازی غلام سرور کا کہنا تھا کہ اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کا 6 مئی 2006 کو سنگ بنیاد رکھا گیا 38 ارب روپے کا پی سی ون تھا پی سی ون پر مختلف ادوار میں نظرثانی ہوتی رہی جس سے لاگت میں اضافہ ہوا اپنے لوگوں کو نوازنے کے لئے 18 پیکجز بنائے گئے ٹھیکوں پر نظرثانی کی گئی، دوسرا رن وے نامکمل تھا، بڑے پیمانے پر بے قاعدگیاں اور کرپشن سامنے آئی،پی اے سی، سینیٹ اور قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹیوں میں یہ معاملہ اٹھایا گیا، چیف جسٹس نے اس کا نوٹس اور یہ معاملہ تحقیقات کے لئے مختلف تحقیقاتی اداروں کو بھیجا گیا، نیب اور ایف آئی اے اس معاملے کی تحقیقات کر رہے ہیں، ذمہ داروں کو نہیں چھوڑا جائے گا۔

    اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی تعمیر میں بے ضابطگی سے متعلق آڈٹ رپورٹ میں حقائق سامنے آئے تھے،رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ہوائی اڈے کے اے ٹی سی ٹاور کےلیے غلط سائٹ کا انتخاب کیا گیا،رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ غلط سائٹ کے انتخاب سے قومی خزانے کو دو کروڑ دس لاکھ روپے کا نقصان ہوا۔آڈٹ رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ ایئرٹریفک کنٹرول ٹاور کی عمارت اپنی تعمیر کا مقصد پورا نہیں کرتی تھی، اے ٹی سی ٹاور سے مرکزی ٹرمینل کے شمال مغرب میں کھڑے طیارے نظر ہی نہیں آتے تھے، انہیں وجوہات کی بنا پر اے ٹی سی کےلیے علیحدہ معاہدے کے ذریعے ایک اور عمارت تعمیر کی گئی، نئی عمارت کی تعمیر، سامان کی ترسیل اور تنصیب سے دو کروڑ دس لاکھ کا اضافی خرچ ہوا، اور یہ نقصان بد انتظامی اور کمزور اندرونی کنٹرول کے باعث ہوا،ہ اگست اور ستمبر 2020 میں معاملے کی نشاندہی کی گئی تھی لیکن پراجیکٹ منیجمنٹ نے جواب نہیں دیا لہذا ذمہ داروں کا تعین کر کے نقصان کو پورا کیا جائے،

    نیو اسلام آباد ایئرپورٹ انتظامیہ کی خراب صورتحال اور مسافروں کو سہولیات کی عدم فراہمی کی وجہ سے اپنے افتتاح کے بعد سے ہی خبروں کی زینت رہا ہے۔ان خبروں کی وجہ سے سول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے اے) اور ہوائی اڈے کی انتظامیہ کو افتتاح کے فورا بعد ہی شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ رن وے اور ٹرمینلز بنانے کیلئے اربوں روپے خرچ ہوئے جو مسلسل ٹوٹ‌ پھوٹ‌ کا شکار ہیں، سابق سکریٹری برائے دفاع ، لیفٹیننٹ جنرل نعیم خالد لودھی (ر) نے اسلام آباد ایئرپورٹ کے حوالے سے کچھ حیران کن انکشافات کیے ہیں۔ سی اے اے کی نااہلی کو بے نقاب کرتے ہوئے اور غیر معیاری ہوائی اڈے کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آغاز میں ہوائی اڈے کی منصوبہ بندی کی گئی تھی اور غالبا مشرف حکومت کے دوران تقریبا 37 ارب کی منظوری دی گئی تھی۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں ، ڈیزائن کا جائزہ لیا گیا اور قیمت بڑھ کر 60 ارب روپے کے قریب ہوگئی اور یہ بالآخر 100 ارب سے زیادہ میں تکمیل کو پہنچا، رن ویز اور انفراسٹرکچر کی تعمیر برطانیہ (کی ایک کمپنی اور پاکستان میں مقیم ٹھیکیدار حسنین کنسٹرکشن کمپنی کو دی گئی تھی۔ تاہم ، کچھ عرصے کے بعد یہ معاہدہ چوہدری منیر کو دے دیا گیا۔”ٹرمینل عمارت چائنا اسٹیٹ کمپنی میرے خیال میں جو کہ بلیک لسٹ ہے) کو دی گئی تھی. ذیلی شراکت داری ایک مقامی کمپنی ، فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن FWO کو دی گئی تھی،

    سی اے اے ، ریاستی ریگولیٹری ادارہ جو ہوا بازی کو منظم کرنے کا کام انجام دیتا ہے ، بنیادی ڈیزائن کی فراہمی میں بری طرح سے ناکام رہا جیسے دو متوازی رن ویز کے درمیان ناکافی فاصلہ ہے واضح رہے کہ اس ہوائی اڈے پر متوازی رن ویز سے بیک وقت دو پروازوں کے لئے غیر موضع قرار دیا جاتا ہے،یہ خامیاں اس وجہ سے ہیں کہ ٹھیکیدار اور ریگولیٹر دونوں ہی میں تجارتی ہوابازی کی ضروریات اور ہوائی اڈے کے ڈیزائن میں مہارت نہیں رکھتے۔

    لیفٹیننٹ جنرل (ر) لودھی نے کہا ،میں نے جنوری 2012 میں تقریبا اس سائٹ کا دورہ کیا (تقریبا) رن وے کی تعمیر کا کام جاری تھا ۔ میں نے دونوں رن وے کے درمیان کم فاصلے پر سخت اعتراض کیا اور قیمت میں تین گنا اضافے ، ڈیزائن پر نظرثانی وغیرہ پر بھی تحقیقات کا حکم دیا۔

    30 اگست ، 2018 کو ، وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کی تحقیقات کے مطابق 13 ریٹائرڈ افسران مبینہ طور پر اسلام آباد ایئرپورٹ کے کرپشن اسکینڈل میں ملوث پائے گئے۔13 افسران میں ایک ایک ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل اور ائیر مارشل ، دو ریٹائرڈ میجر جنرل ، چھ ریٹائرڈ ایئر وائس مارشل ، دو ریٹائرڈ بریگیڈیئر اور ایک ریٹائرڈ ایئر کاموڈور شامل تھے۔

    پاکستان میں اہل اور تجربہ کار ماہرین کی کمی نہیں ہے۔ تاہم ، یہ سیاسی خواہش ، سالمیت اور حکمرانی کی اخلاقیات کا فقدان ہے جیسے مفادات کے تنازعات ، میرٹ سے نظرانداز اور عوامی فنڈز کی ضیاع کے لئے احتساب کا نفاذ کرنے میں ناکامی جو پاکستان میں تمام ترقیاتی منصوبوں اور ان کی باقاعدہ نگرانی کو پریشان کرتی ہے۔

    اس سے قبل ، باغی ٹی وی نے اسلام آباد ایئرپورٹ سے متعلق متعدد سکینڈل کو رپورٹ کیا ہے جس میں اربوں روپے کا نقصان ہوا ،اسلام آباد ایئر پورٹ سول ایوی ایشن اتھارٹی کی بدانتظامی اور ناقص نگرانی کی یہ ایک واضح مثال ہے۔ اس میگا پروگرام کی تعمیر میں کرپشن اور غبن کے لئے سی اے اے کی تحقیقات ہونی چاہئے۔تاکہ عوام تک اصل حقائق پہنچ سکیں.

    13 اکتوبر 2022کو اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو دوبارہ بے نظیر بھٹو انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے نام سے بحال کرنے کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کی تھی،سابقہ حکومت نے بے نظیر بھٹو انٹرنیشنل ایئرپورٹ کا نام اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ رکھ دیا تھا۔ واضح رہے کہ ماضی میں جب پیپلزپارٹی 2008 میں‌اقتدار میں تھی تو پاکستانی حکومت نے باضابطہ طور پر اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو بےنظیر بھٹو کے نام سے منسوب کیا گیا تھا جبکہ راولپنڈی جنرل ہسپتال اور مری روڈ کا نام بھی بےنظیر بھٹو کے نام پر رکھ دیا گیا تھا.اس وقت کی وفاقی حکومت جو پی پی پی ہی کی تھی نے اس ضمن میں پنجاب حکومت کے ساتھ مشاورت کی تھی اور باہمی رضا مندی کے ساتھ ان جگہوں کے نام بینظیر بھٹو کے نام کے ساتھ منسوب کیے تھے. جبکہ اس وقت اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر بےنظیر بھٹو انٹرنیشل ائرپورٹ کی تختی بھی آویزاں کی گئی تھی علاوہ ازیں راولپنڈی جنرل ہسپتال کو بےنظیر بھٹو کے نام سے منسوب کرنے کے حوالے سے ایک تقریب راولپنڈی میں منعقد ہوئی تھی جس میں اس وقت کی وفاقی وزیر صحت شیری رحمان مہمان خصوصی شریک ہوئی تھی۔

  • والٹن ایئر پورٹ کیوں بند کیا گیا؟ نیب نے تحقیقات شروع کر دیں

    والٹن ایئر پورٹ کیوں بند کیا گیا؟ نیب نے تحقیقات شروع کر دیں

    نیب نے والٹن ائیرپورٹ سے متعلق تحقیقات شروع کر دی ہیں
    نیب کی جانب سے والٹن ایئر پورٹ کے حوالہ سے تحقیقات میں سابق ڈی جی خاقان مرتضٰی سمیت دیگر سول ایوی ایشن افسران کو شامل کیا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق نیب نے اس ضمن میں 13 سوالات تیار کئے ہیں جو خاقان مرتضیٰ عباسی سے دوران تحقیقات پوچھے جائیں گے،سوالات میں والٹن ائیرپورٹ لاہور بند کر کے کمرشل سرگرمیوں کیلئے دینے سے متعلق پوچھا گیا ہے، والٹن ائیرپورٹ کو بند کرنے کی کیا وجہ تھی؟یہ بھی سوال تیار کیا گیا ہے.نیب لاہور نے ائیر کرافٹ اونرز اینڈ آپریٹرز ایسوسی ایشن سے مددکے لیے بھی رابطہ کیا ہے،اور تحقیقات میں مدد کی درخواست کی ہے،نیب لاہور نے 13 سوالات پر مشتمل سوالنامہ ائیر کرافٹس اونرز اینڈ آپریٹرز ایسوسی ایشن کو بھی بھیجا ہے

    واضح رہے کہ مئی 2021 میں سول ایوی ایشن اتھارٹی نے والٹن ائیر پورٹ کو بند کرنے کے احکامات جاری کرتے ہوئے ائیرپورٹ پر فلائنگ کلبز کو تمام طیارے گراؤنڈ کرنے کی ہدایت کی تھی۔

    قبل ازیں والٹن ایئر پورٹ لاہور میگا کرپشن اسکینڈل کے معاملے میں پاکستان سول ایوی ایشن آفیسرز ایسوسی ایشن نے وزیر ہوا بازی خواجہ آصف کو خط بھی لکھا تھا،خط کے مطابق پاکستان سول ایوی ایشن آفیسرز ایسوسی ایشن کسی بھی تحقیقاتی ادارے کے ساتھ مکمل تعاون کرے گی، ایئر کرافٹ اونرز اینڈ آپریٹرز ایسوسی ایشن کے خط میں الزامات کی بھی تصدیق کرتے ہیں،خط میں والٹن ایئر پورٹ کا ریکارڈ فوری قبضے میں لے کر تحقیقاتی اداروں کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

    انٹرنیشنل سول ایوی ایشن آرگنائزیشن، سیکیورٹی آڈٹ ٹیم کا دورہ پاکستان مکمل

    پاکستان کی قومی ایئر لائن پی آئی اے کو مجموعی طور پر 383 بلین کا خسارہ ہے 

    سپریم کورٹ نے پی آئی اے کو نئی 205 پروفیشنل بھرتیوں کی اجازت دیدی

    ایئر انڈیا: کرو ممبرزکیلیے نئی گائیڈ لائن ’لپ اسٹک‘ ’ناخن پالش‘ خواتین کے لیے اہم ہدایات

    جعلی پائلٹ لائسنس بحال کرنے کے لیے سول ایوی ایشن اتھارٹی کو 15دن کا الٹی میٹم

    دیو آنند پاکستان ایئرفورس کی تاریخ کے پہلے ہندو پائلٹ بن گئے

    سینیٹر سلیم مانڈوی والا ڈی جی سول ایوی ایشن پر برہم ہو گئے،

    والٹن ایئرپورٹ:اگرعمران خان یہ کام کرنے میں کامیاب ہوگئے تویہ پاکستان کی کامیابی ہوگی:اہم شخصیت نے بڑا دعویٰ‌ کردیا

    وزیراعلیٰ بزدار والٹن ایئرپورٹ اورملحقہ علاقوں کے لئے ترقیاتی اتھارٹی کی سربراہی کریں گے

    والٹن ائیرپورٹ کو تجارتی مرکز بنانے کیلئے درخت اور نرسریاں کاٹنے کیخلاف درخواست پر ہوئی سماعت

    لاہور کا تاریخی والٹن ایئرپورٹ بند ، طلبا سراپا احتجاج

    والٹن ایئر پورٹ پر فلائنگ آپریشن بارے لاہور ہائیکورٹ نے حکم دے دیا

    واضح رہے کہ والٹن ائیرپورٹ کی زمین کی فروخت میں سیکنڑوں ارب کے فراڈ کا انکشاف ،،ایئرکرافٹ اونر اینڈ آپریٹرز ایسوسی ایشن کا دعوی ہے کہ پاکستان ایئرکرافٹ اونر اینڈ آپریٹرز ایسوسی ایشن نے وزیر ہوابازی کو خط میں نشاندہی کردی ، ڈی جی سول ایوی ایشن اور حکومتی نمائندوں نے لینڈ مافیا کیساتھ ملکر والٹن ائیرپورٹ کی زمین میں تین سو ارب سے زیادہ غبن کیا۔ایئرکرافٹ اونر اینڈ آپریٹرز ایسوسی ایشن کا کہناہےکہ 350 ارب روپے کی والٹن ائیرپورٹ کی زمین 50 ارب میں بیچ دی گئی والٹن ائیرپورٹ کو قیمتی زمین کی جگہ مریدکے میں دیہی زمین دے دی گئی، لینڈ مافیا نے 50 ارب میں سے بھی صرف 1 ارب اب تک سول ایوی ایشن اتھارٹی کو ادا کیے ۔یاد رہے کہ حکومت نے والٹن ائیرپورٹ کی زمین سنٹرل بزنس ڈسٹرکٹ اتھارٹی کو فروخت کی تھی ،ایئرکرافٹ اونر اینڈ آپریٹرز ایسوسی ایشن نے وزیر ہوابازی سے معاملے کی جامع تحقیقات کا مطالبہ کردیا۔

  • بچوں کی سمگلنگ،صارم برنی پر درج مقدمے کی تفصیلات

    بچوں کی سمگلنگ،صارم برنی پر درج مقدمے کی تفصیلات

    گزشتہ روز انسانی سمگلنگ کیس میں گرفتار صارم برنی پر مقدمے کی تفصیلات سامنے آ گئیں، صارم برنی کی اہلیہ کو بھی ایف آئی اے کی جانب سے تحقیقات میں شامل کئے جانے کا امکان ہے، صارم برنی نے اپنی غلطی بھی تسلیم کرلی ہے

    صارم برنی ویلفیئر ٹرسٹ کے سربراہ صارم برنی کیخلاف ایف آئی اے کے ہیومن ٹریفکنگ سیل میں پاکستان سے بچوں کی امریکا اسمگلنگ کے الزام میں پہلی ایف آئی آر 26/2024 درج کی گئی ہے، درج مقدمے میں حیا نامی نومولود بچی کو امریکا میں سمگل کرنے کا الزام لگایا گیا ہے، مقدمے کے مطابق ملزم صارم برنی نے گزشتہ ایک برس میں کم از کم بیس نومولود بچوں کو امریکی والدین کو گود دینے کے نام پر امریکا میں اسمگل کیا،جو بچے سمگل کئے گئے ان میں سے 15 لڑکیاں اور پانچ لڑکے تھے،

    صارم برنی کے خلاف امریکی ادارے بھی متحرک ہیں اور تحقیقات کر رہے ہیں، امریکی شکایت پر ہی صارم برنی کو گزشتہ روز امریکا سے پاکستان واپسی پر گرفتار کیا گیا تھا،صارم برنی کو ان کے حالیہ دورہ امریکا کے دوران امریکی حکام نے سرویلنس میں رکھا تھا اور ان سے دو بار پوچھ گچھ بھی کی گئی تھی۔ صارم برنی کی جانب سے امریکا منتقل کیے گئے بچوں کا ریکارڈ سفارت خانے سے ایف آئی اے حکام کو فراہم کیا گیا ہے، حکام کے مطابق” ٹرسٹ کی دستاویزات میں صارم برنی کے ساتھ ان کی اہلیہ بھی بینیفشری ہیں، سندھ حکومت سے دستاویزات کی تصدیق کے بعد صارم برنی کی اہلیہ عالیہ کو بھی مقدمے میں نامزد کیا جا سکتا ہے”۔

    ایف آئی اے کے مطابق صارم برنی نے آخری مرتبہ حیا نامی بچی امریکا بھیجی تھی وہ بچی مبینہ طور پر اس کے والدین سے 10 لاکھ روپے میں خریدی گئی تھی، بچی کی خریداری میں صارم برنی کی ایک سے زائد افراد نے معاونت کی تھی، بچی کے والدین انتہائی غریب ہیں ان کا بیان بھی ریکارڈ کیا گیا ہے۔

    صارم برنی دو روزہ جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے کے حوالے
    دوسری جانب صارم برنی کو ایف آئی اے نے عدالت پیش کر دیا، عدالت نے صارم برنی کو دو روزہ جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے کے حوالے کر دیا،دوران سماعت صارم برنی کے وکیل نے صارم برنی کو رہا کرنے کی درخواست پر دلائل دیئے،صارم برنی کے وکیل نے کہا کہ صارم برنی کے خلاف کیس نہیں بنتاا نہیں رہا کیا جائے۔تفتیشی افسر نے کہا کہ ہمیں صارم برنی کا بیان ریکارڈ کرنا ہے ، شریک ملزمان کے حوالے سے بھی معلومات حاصل کرنی ہے، ہمیں کسٹڈی نہیں دی گئی تو شواہد ضائع کیے جانے کا خدشہ ہے اسلئے صارم برنی کا جسمانی ریمانڈ دیا جائے.دوران سماعت صارم برنی کے وکلاء نے کہا کہ صارم برنی کی معاشرے کے لیے خدمات نمایاں ہیں، جھوٹے اور بے بنیاد الزامات لگا کر ان کو گرفتارکیا گیا، ان کو سماجی خدمات پر ایوارڈز مل چکے ہیں، غلط کام کا تصور نہیں کر سکتے۔

  • صحافی نصراللہ گڈانی کے قتل کی جوڈیشل تحقیقات کے لیے درخواست دائر

    صحافی نصراللہ گڈانی کے قتل کی جوڈیشل تحقیقات کے لیے درخواست دائر

    میرپور ماتھیلو،باغی ٹی وی(نامہ نگار مشتاق علی لغاری)سندھ ہائی کورٹ میں صحافی نصراللہ گڈانی کے قتل کی جوڈیشل انکوائری کے لیے درخواست دائر کر دی گئی۔

    صحافی نصر اللہ گڈانی کے قتل کی جوڈیشل انکوائری کے لیے سندھ ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں چیف سیکرٹری سندھ، محکمہ داخلہ،آئی جی سندھ پولیس و دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔درخواست گزار ماجد گبول ایڈووکیٹ و دیگرکی جانب سے مؤقف اپنایا گیا ہے کہ 21 مئی کو میرپور ماتھیلو میں صحافی نصر اللہ گڈانی پر موٹر سائیکل سوار ملزمان نے فائرنگ کی تھی۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ علاقے کے لوگ صحافی نصر اللہ گڈانی کو بچانے آئے تو ملزمان نے ہوائی فائرنگ کرکے انہیں بھگا دیا تھا، صحافی نصر اللہ گڈانی کا قتل مقامی وڈیروں کی جانب سے کھلی دہشت گردی ہے۔نصر اللہ گڈانی پر حملے کا مقدمہ سات روز بعد درج کیا گیا تاکہ کیس کو خراب کیا جا سکے۔
    درخواست میں کہا گیا ہے کہ عدالت سے استدعا ہے نصر اللہ گڈانی قتل کی تحقیقات کیلئے سندھ حکومت کو ہائیکورٹ جج پر مشتمل جوڈیشل کمیشن بنانے کا حکم دیا جائے۔جوڈیشل کمیشن میں پولیس کے ایماندار اور ماہر افسرا ن کو بھی شامل کیا جائے۔

    میر ماتھیلو :شہیدصحافی نصر اللہ گڈانی کے قاتلوں کی عدم گرفتاری پر احتجاجی ریلی نکالی گئی

    میہڑ:صحافی نصراللہ گڈانی اور جان محمد مہر کے قاتلوں کی عدم گرفتاری پر صحافیوں کا احتجاج

    صحافی نصراللہ گڈانی کراچی کے نجی اسپتال میں دم توڑ گیا ،شرجیل میمن کا اظہار تعزیت

    نصراللہ گڈانی گھوٹکی کے شہر میرپور ماتھیلو کے رہائشی ہیں، وہ سندھی روزنامہ عوامی آواز سے منسلک ہیں،نصراللہ گڈانی کو 21 مئی کو موٹر سائیکل سوار ملزمان نے نشانہ بنایا تھا، نصر اللہ گڈانی کو سندھ حکومت کی ایئر ایمبولینس پر علاج کے لئے کراچی منتقل کیا گیا تھا لیکن وہ جانبر نہ ہو سکے.

    ہتک عزت بل 2024ء پنجاب اسمبلی میں منظور،اپوزیشن نے بل کی کاپیاں پھاڑ دیں

    ایمنڈ کا پنجاب ہتک عزت بل 2024 کے قیام پر شدید تحفظات کا اظہار

    لاہور پریس کلب نے پنجاب حکومت کا مجوزہ ہتک عزت قانون 2024 مسترد کر دیا

    ہم جنس پرستی کلب کے قیام کی درخواست پر ڈاکٹر فرید احمد پراچہ کا ردعمل

    بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    ایبٹ آباد میں "ہم جنس پرستی کلب” کے قیام کے لیے درخواست

    گھوٹکی کے بہادر بے باک صحافی نصر اللہ گڈانی کے قتل کو 12 روز گزر گئے قاتل گرفتار نہ ہو سکے، سیاسی سماجی رہنماؤں صحافیوں اور شہریوں کی جانب سے احتجاجی کیمپ قائم کر دیا گیا کئمپ میں موجود مظاہرین نے کہاکہ صحافی نصراللہ گڈانی پر حملہ کرنے والے ملزمان ابھی تک گرفتار نہیں کیئے گئے، پولیس کی نااہلی کا کھلا ثبوت ہے، شہید صحافی نصرالله گڈانی نے ہمیشہ مظلوم عوام کا ساتھ دیا ہے جس کی بنا پر ان کو شہید کر دیا گیا ہے. جب تک شہید نصرالله گڈانی کے قاتلوں کو گرفتار نہیں کیا جاتا احتجاج جاری رہے گا، مظاہرین نے الزام لگایاکہ ایس ایس پی گھوٹکی سمیر نور چنہ مقدمہ میں ملوث ملزمان کو گرفتار کرنے کے بجائے ان پر پردہ ڈال رہے ہیں، ایس ایس پی گھوٹکی سمیر نور چنہ کو فوری طور پر ہٹایا جائے،

  • گندم درآمد سیکنڈل،چار افسران کے خلاف کاروائی کی منظوری

    گندم درآمد سیکنڈل،چار افسران کے خلاف کاروائی کی منظوری

    نگران دور حکومت میں اضافی گندم درآمد کرنے کے اسکینڈل میں ذمہ داروں کا تعین کرلیا گیا ہے

    گندم درآمد سیکنڈل کی تحقیقات کے لئے وزیراعظم شہباز شریف نے تحقیقاتی کمیٹی کی سفارشات کی منظوری دے دی ہے، تحقیقاتی کمیٹی نے وفاقی وزارت نیشنل فوڈ سیکورٹی کے چار افسران کو معطل کرنے کی سفارش دی تھی جو وزیراعظم نے منظور کر لی ہے.سابق وفاقی سیکرٹری نیشنل فوڈ سکیورٹی محمد آصف کے خلاف باضابطہ کارروائی کی منظوری دی گئی ہے ،سابق ڈی جی پلانٹ پروٹیکشن اے ڈی عابد کو معطل کرنے کی منظوری دی گئی ہے،فوڈ سکیورٹی کمشنر ون ڈاکٹر وسیم اور ڈائریکٹر سہیل کو بھی معطل کرنے کی منظوری دی گئی ہے،میڈیا رپورٹس کے مطابق گندم درآمد سیکنڈل کیس میں ذمہ دار افسران پر ناقص منصوبہ بندی اور غفلت برتنے کا چارج لگایا گیا ہے

    قبل ازیں وزیراعظم شہباز شریف نے گندم خریداری کے عمل میں ٹیکنالوجی کے استعمال کے حوالے سے ہدایات پر عمل نہ کرنے اور غفلت برتنے پر پاسکو کے مینیجنگ ڈائریکٹر اور جنرل مینیجر پروکیورمنٹ کو معطل کردیا،وزیر اعظم شہباز شریف نے گندم کی خریداری کا عمل شفاف بنانے کیلئے ٹیکنالوجی کے استعمال اور موبائل فون ایپلی کیشن تیار کرنے کی تاکید کی ، وزیراعظم نے پاسکو کے اسٹاک کا تھرڈ پارٹی آڈٹ کروانے کی بھی ہدایت کی۔

    دوسری جانب وفاقی سطح پر اب تک کتنی گندم خریدی گئی ، اس حوالے سے وزیراعظم شہباز شریف نے اہم اجلاس طلب کرلیا ہے، اجلاس میں کسانوں کو درپیش مسائل اور اب تک دیے گئے ریلیف پر غور ہوگا

    خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے پنجاب کے کاشتکاروں سے گندم کی خریداری جاری ہے،اب تک پنجاب کےکاشتکاروں سے 37 ہزار میٹرک ٹن ،پاسکو سے ایک لاکھ 35 ہزارمیٹرک ٹن گندم خریدی گئی ہے،بلوچستان میں گندم کی خریداری اب تک شروع نہ ہوسکی۔

    گندم سیکنڈل،تحقیقات کیلیے عدالت میں درخواست دائر

    گندم درآمد سیکنڈل، شہباز شریف کا نام بھی آنے لگا

    گندم بحران کا زمہ دار کون ، قائد ن لیگ نے پیر کو وزیر اعظم کو بلا لیا,

    نیب گندم اسکینڈل کا فوری نوٹس لے،شیخ رشید

    وزیراعظم نے کسانوں کی شکایات کالیا نوٹس،فوری گندم خریداری کی ہدایت

    چنیوٹ: گندم کی قیمت 5000 فی من مقرر کی جائے،کسانوں کا مطالبہ

    حکومت نے گندم کی درآمد اور آٹا کی برآمد کی اجازت دیدی

    گندم کی قیمت میں مزید کمی کے امکانات موجود

    گندم درآمدی اسکینڈل کی تحقیقات کے معاملے میں اب یہ بات سامنے آئی ہے کہ نئی حکومت آنے کے بعد بھی 98 ارب 51 کروڑ روپے کی گندم درآمد کی گئی ہے، میڈیا رپورٹس کے مطابق موجودہ حکومت کے دور میں بھی 6 لاکھ ٹن سے زیادہ گندم درآمد کی گئی، ایک لاکھ 13 ہزار سے زیادہ کا کیری فارورڈ اسٹاک ہونے کے باوجود گندم درآمد کی گئی، وزیراعظم شہباز شریف کو بھی گندم کی درآمد کے حوالے سے لاعلم رکھا گیا، وزیراعظم نے لاعلم رکھنے پر سیکریٹری فوڈ سیکیورٹی کو عہدے سے ہٹایا، گندم کی درآمد نگران حکومت کے فیصلے کے تحت موجودہ حکومت میں بھی جاری رکھی گئی، وزارت خزانہ نے نجی شعبے کے ذریعے 5 لاکھ میٹرک ٹن گندم درآمد کرنے کی اجازت دی، وزارت خزانہ نے ٹی سی پی کے ذریعے گندم درآمد کرنے کی سمری مسترد کی، درآمدی گندم بندرگاہ پر 93 روپے 82 پیسے فی کلو میں پڑی، وزارت بحری امور کو درآمدی گندم کی بندرگاہوں پر پہنچ کر ترجیح دینے کی ہدایت کی گئی، اجازت نامے میں ضرورت پڑنے پر سمری پر نظرثانی کا بھی آپشن رکھا گیا، گزشتہ سال صوبوں سے گندم کی خریداری کا ہدف 75 فیصد حاصل ہوا تھا، نگران حکومت کے دور میں 200 ارب روپےسے زیادہ کی گندم درآمد کی گئی

  • دبئی لیکس کی تحقیقات   کیلئے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر

    دبئی لیکس کی تحقیقات کیلئے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر

    لاہور ہائیکورٹ میں دبئی لیکس کی تحقیقات ایف آئی اے، ایف بی آر اور نیب سے کرانے کیلئے درخواست دائر کر دی گئی۔

    لاہو ر ہائیکورٹ میں درخواست شہری مشکور حسین نے ندیم سرور ایڈووکیٹ کے ذریعے دائر کی ،درخواست میں وفاقی حکومت، نیب ، ایف آئی اے سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔ درخواست میں کہا گیا کہ دبئی لیکس میں کئی پاکستانی سیاستدانوں اور کاروباری شخصیات کے نام آئے، ہر سیاستدان پر اپنی تمام ملکی و غیر ملکی پراپرٹی ظاہر کرنا لازم ہے، عدالت ایف آئی اے، نیب اور دیگر متعلقہ اداروں کو دبئی لیکس کی تحقیقات کا حکم دے، درخواست میں استدعا کی گئی کہ تحقیقات ہونی چاہیے کہ دبئی میں خریدی گئی پراپرٹیز منی لانڈرنگ سے تو نہیں بنائی گئیں، دبئی میں غیر قانونی پراپرٹی ثابت ہونے پر مالکان کے خلاف کارروائی کا حکم بھی دیا جائے۔

    دبئی لیکس شرم کا مقام ہے،زرتاج گل

    پاکستان کے اہم سیاسی رہنماؤں کے نامو ں کا دبئی پر اپرٹی لیکس میں انکشاف

    بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے دبئی پراپرٹی لیکس میں نام آنے پر وضاحت

    ریٹائرڈ فوجی جنرل، پاکستان ایئر فورس کے دو ریٹائرڈ ایئر وائس مارشل بھی دبئی میں جائیدادوں کے مالک

    محسن نقوی اور شرجیل میمن کی دبئی لیکس پہ وضاحت

    دبئی پراپرٹی لیکس میں حکمران اشرافیہ کا بدنما کرپٹ چہرہ سامنے آیا ہے، سینٹر مشتاق احمد

    عمران خان کی فرنٹ مین فرح گوگی بھی دبئی میں جائیداد کی مالک

  • گندم سیکنڈل،تحقیقات کیلیے عدالت میں درخواست دائر

    گندم سیکنڈل،تحقیقات کیلیے عدالت میں درخواست دائر

    گندم سکینڈل کی نیب سے تحقیقات کرانے کیلئے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کر دی گئی ہے

    درخواست شہری مشکور حسین نے ندیم سرور ایڈووکیٹ کی وساطت سے دائر کی ہے، درخواست میں وزیراعظم بذریعہ پرنسپل سیکرٹری، سابق نگران وزیراعظم، نیب اور وفاقی حکومت کو فریق بنایا گیا ہے،درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ مسلم لیگ ن کی حکومت کے پہلے دو ماہ میں 7.78 لاکھ میٹرک ٹن گندم درآمد کی گئی، حکومتی سطح پر بنائی گئی کمیٹی شفاف تحقیقات نہیں کر سکتی، حکومت خود گندم سکینڈل کا حصہ ہے، میرٹ پر تحقیقات ممکن نہیں،نیب کو گندم میگا سکینڈل کی تحقیقات کیلئے درخواست دی مگر کوئی کارروائی نہیں کی گئی،درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ نیب کو گندم کے میگا سیکنڈل کی تحقیقات کا حکم دیا جائے، گندم سکینڈل کے محرکات کا تعین کر کے رقم وصول کر کے قومی خزانے میں جمع کرائی جائے۔

    گندم درآمد سیکنڈل، شہباز شریف کا نام بھی آنے لگا

    گندم بحران کا زمہ دار کون ، قائد ن لیگ نے پیر کو وزیر اعظم کو بلا لیا,

    نیب گندم اسکینڈل کا فوری نوٹس لے،شیخ رشید

    وزیراعظم نے کسانوں کی شکایات کالیا نوٹس،فوری گندم خریداری کی ہدایت

    چنیوٹ: گندم کی قیمت 5000 فی من مقرر کی جائے،کسانوں کا مطالبہ

    حکومت نے گندم کی درآمد اور آٹا کی برآمد کی اجازت دیدی

    گندم کی قیمت میں مزید کمی کے امکانات موجود

    گندم درآمدی اسکینڈل کی تحقیقات کے معاملے میں اب یہ بات سامنے آئی ہے کہ نئی حکومت آنے کے بعد بھی 98 ارب 51 کروڑ روپے کی گندم درآمد کی گئی ہے، میڈیا رپورٹس کے مطابق موجودہ حکومت کے دور میں بھی 6 لاکھ ٹن سے زیادہ گندم درآمد کی گئی، ایک لاکھ 13 ہزار سے زیادہ کا کیری فارورڈ اسٹاک ہونے کے باوجود گندم درآمد کی گئی، وزیراعظم شہباز شریف کو بھی گندم کی درآمد کے حوالے سے لاعلم رکھا گیا، وزیراعظم نے لاعلم رکھنے پر سیکریٹری فوڈ سیکیورٹی کو عہدے سے ہٹایا، گندم کی درآمد نگران حکومت کے فیصلے کے تحت موجودہ حکومت میں بھی جاری رکھی گئی، وزارت خزانہ نے نجی شعبے کے ذریعے 5 لاکھ میٹرک ٹن گندم درآمد کرنے کی اجازت دی، وزارت خزانہ نے ٹی سی پی کے ذریعے گندم درآمد کرنے کی سمری مسترد کی، درآمدی گندم بندرگاہ پر 93 روپے 82 پیسے فی کلو میں پڑی، وزارت بحری امور کو درآمدی گندم کی بندرگاہوں پر پہنچ کر ترجیح دینے کی ہدایت کی گئی، اجازت نامے میں ضرورت پڑنے پر سمری پر نظرثانی کا بھی آپشن رکھا گیا، گزشتہ سال صوبوں سے گندم کی خریداری کا ہدف 75 فیصد حاصل ہوا تھا، نگران حکومت کے دور میں 200 ارب روپےسے زیادہ کی گندم درآمد کی گئی

  • نیب کا نیا ضابطہ جاری، وسائل ضائع ہونے کا بھی اعتراف

    نیب کا نیا ضابطہ جاری، وسائل ضائع ہونے کا بھی اعتراف

    نیب نے اپنے تمام دفاتر کیلئے نیا معیاری ضابطہ کار جاری کیا ہے تاکہ صرف اصل اور حقیقی شکایات پر ہی کارروائی کی جا سکے،

    نیب نے اعتراف کیا ہے غیر ضروری شکایات کی وجہ سے قیمتی وقت اور وسائل ضائع ہوتے ہیں اور بیورو کی کارروائیوں اور اس کی کوششوں پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں،نیب کی جانب سے نئے ایس او پیز میں اس عزم کا اظہار کیا گیا ہے کہ شکایات نمٹانے میں بد احتیاطی دور کرنے کیلئے درست سمت کا تعین ضروری ہے تاکہ معاشرے اور ریاست کے مختلف حلقوں میں پائے جانے والے خوف اور دباؤ کے حوالے سے بڑھتے تاثر کو دور کیا جا سکے،اس ضمن میں شکایات کے اندراج کے نظام اور انہیں پراسیس کرنے کو اسٹریم لائن کیا گیا ہے اور بدنیتی پر مبنی شکایات اور غیر سنجیدہ شکایات کی حوصلہ شکنی کی گئی ہے، ایسی شکایات کو قابلِ سزا جرم قرار دیا جائے گا، ارکان پارلیمنٹ، سرکاری افسران اور تاجروں کیخلاف شکایات کے ازالے کیلئے ان کے بنیادی تحفظات دور کیا جائے گا اور نیب کی کارروائیوں میں زیادہ شفافیت اور انسانی حقوق کے احترام کو یقینی بنایا جائے گا،ایس او پیز کے مطابق منتخب نمائندوں کیخلاف شکایات پر کارروائی کیلئے علیحدہ ہدایات جاری کی جا رہی ہیں۔ تاہم، سرکاری ملازمین کیخلاف شکایات کی صورت میں درج ذیل ہدایات جاری کی گئی ہیں جن پر سختی سے عمل کی تلقین کی گئی ہے

    سرکاری ملازمین کیخلاف گمنام شکایات پر غور نہیں کیا جائے گا، شکایت کی تصدیق کے عمل کے دوران سرکاری اہلکاروں کی شناخت کو صیغۂ راز میں رکھا جائے گا، گریڈ 19؍ تک کے افسران کیخلاف شکایات پر کارروائی کا اختیار ریجنل ڈائریکٹر جنرلز کو دیا گیا ہے جبکہ گریڈ 20؍ اور اس سے بالا گریڈ کے افسران کیخلاف شکایات پر کارروائی کیلئے چیئرمین نیب کی منظوری درکار ہوگی، شکایت کی تصدیق اور انکوائری کے مرحلے کے دوران سرکاری ملازمین کو نیب کے احاطے میں ذاتی حیثیت میں طلب نہیں کیا جائے گا، متعلقہ صوبائی چیف سیکریٹریز کی مشاورت سے ریجنل ڈائریکٹر جنرلز متعلقہ سول سیکرٹریٹ میں اکاؤنٹبلٹی فیسلیٹیشن سیلز (اے ایف سیز) قائم کریں گے،تمام خط و کتابت اور معلومات کا اشتراک اے ایف سیز کے ذریعے کیا جائے گا،تاجروں کیخلاف شکایات پر غور کیلئے ایس او پیز میں لکھا ہے، تاجروں کیخلاف کسی گمنام شکایت پر غور نہیں کیا جائے گا، تاجروں کی شناخت کو سختی سے صیغۂ راز میں رکھا جائے گا،شکایت کی تصدیق کے مرحلے کے دوران کسی تاجر کو نیب احاطے میں طلب نہیں کیا جائے گا، باوقار انداز سے تحقیقات کیلئے نیب کے ریجنل آفس میں ایک علیحدہ بزنس فیسیلیٹیشن سیل (بی ایف سی) قائم کیا جائے گا،بی ایف سی متعلقہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے نمائندے، ریئلٹرز ایسوسی ایشن کے نمائندے اور دیگر کاروباری تنظیموں کے نمائندوں پر مشتمل ہوگی ،

    نئے ایس او پیز کے مطابق تمام شکایات کو درج ذیل ترجیحی احکامات کے تحت فوری طور پر نمٹایا جائے گا، وفاقی اور صوبائی حکومتوں اور متعلقہ وزارتوں سے موصول ہونے والی شکایت، معزز عدالتوں کی طرف سے ارسال کردہ شکایات،) قومی اسمبلی، سینیٹ اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی طرف سے بھیجی گئی شکایت، سرکاری محکموں، ریگولیٹری اداروں، آڈیٹر جنرل آف پاکستان اور بینکوں وغیرہ کی طرف سے بھیجی گئی شکایات، انٹیلی جنس ایجنسیوں کی طرف سے بھیجی گئی شکایات،) چیمبر آف کامرس، بزنس ہاؤسز اور کارپوریٹ اداروں کی طرف سے بھیجی گئی شکایات، چیئرمین نیب کی طرف سے منظور کردہ شکایات، نیب کے علاقائی ڈی جیز کی طرف سے بھیجی گئی شکایات، نیب حکام سے متعلق شکایات، عوام کو بڑے پیمانے پر دھوکا دینے کی شکایت، کسی فرد کی طرف سے دائر کردہ شکایات،معیار پر پورا نہ اترنے والی تمام زیر التواء شکایات متعلقہ ریجنل بیورو دفاتر کے ذریعے نمٹائی جائیں گی۔

    جاری گمنام/ فرضی شکایات کی صورت میں (جن میں کچھ شواہد بھی موجود ہوں) علاقائی بیوروز کو پہلے شکایات کا پتہ لگانے کا اختیار حاصل ہوگا اور تصدیق کے بعد تصدیق کا عمل جاری رکھنے کیلئے نیب ہیڈکوارٹر سے منظوری حاصل کی جائے گی۔نئے ضابطہ کار (ٹی او آرز) جاری کرتے ہوئے نیب نے اعتراف کیا ہے کہ بیورو کے قیام سے لیکر اب تک اس کی کارکردگی کا معروضی جائزہ ظاہر کرتا ہے کہ قانونی طور پر سنجیدہ شکایات پر زیادہ توجہ مرکوز کرکے سزا کی شرح کو تیزی سے بہتر کیا جا سکتا ہےبنیادی طور پر یہ مسئلہ اس لیے پیدا ہوا ہے کہ طے شدہ معیار اور ریگولیٹری فریم ورک موجود نہیں جس کی مدد سے سنجیدہ اور غیر سنجیدہ شکایات میں فرق کیا جا سکے۔ نتیجتاً، غیر سنجیدہ شکایات پر کارروائی میں قیمتی وقت اور وسائل ضا ئع ہو جاتے ہیں جس سے نیب کی کارروائیاں اور کوششیں بری طرح متاثر ہوتی ہیں،شکایات نمٹانے میں بد احتیاطی دور کرنے کیلئے درست سمت کا تعین ضروری ہے تاکہ معاشرے اور ریاست کے مختلف حلقوں میں پائے جانے والے خوف اور دباؤ کے حوالے سے بڑھتے تاثر کو دور کیا جا سکے

  • 9 مئی واقعات،عمران خان سے تفتیش کے لیے جے آئی ٹی اٹک جیل پہنچ گئی

    9 مئی واقعات،عمران خان سے تفتیش کے لیے جے آئی ٹی اٹک جیل پہنچ گئی

    چیرمین پی ٹی آئی سے تفتیش کا معاملہ ،جوائنٹ انوسٹی گیشن کی ٹیم اٹک پہنچ گئی

    5 رکنی ٹیم میں ڈی آئی جی انویسٹی گیشنز لاہور شامل ہیں ،انسداد دہشتگردی کی عدالت سے گزشتہ روز اجازت ملنے کے بعد جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم آج چئیرمین پی ٹی آئی عمران خان کا بیان قلمبند کرے گی ،تھانہ سرور روڈ میں درج مقدمات سمیت دیگر مقدمات کے حوالے سے بھی سوال جواب کیے جائیں گئے

    چئیرمین پی ٹی آئی اس سے قبل جے آئی ٹی کے سامنے لاہور میں پیش ہوچکے ہیں ،چیرمین پی ٹی آئی کی جانب سے ملنے والی دھمکیوں پر بھی جے آئی ٹی نے انکے خلاف مقدمہ درج کروایا ہوا ہے

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نومئی واقعات کیس میں جے آئی ٹی کے سامنے جب پیش ہوئے تھے تو اسوقت جے آئی ٹی کے سوالات کے جواب میں عمران خان نے تسلیم کر لیا کہ نو مئی کا واقعہ منظم منصوبہ بندی کے تحت ہوا،لیکن منصوبہ بندی کہیں اور ہوئی تھی، عمران خان جے آئی ٹی کے اراکین کو دھمکیاں بھی دیتے رہے،میں پھر آؤں گا،آپکو تمام کاروائیوں کا جواب دینا ہو گا

    میڈیا رپورٹس کے مطابق عمران خان سے جے آئی ٹی نے جو سوال کئے اور عمران خان نے جواب دیئے، اندرونی کہانی سامنے آئی،عمران خان سے جو سوال کئے گئے اس میں عمران خان نے سوالات کے جواب دئے ساتھ ہی دھمکی بھی لگاتے رہے، عمران خان جے آئی ٹی کے سامنے ایک گھنٹہ رہے، جے آئی ٹی ایک ڈی آئی جی، ایک ایس ایس پی اور 4 ایس پیز پر مشتمل تھی،

    گزشتہ روزتفتیشی افسران کو چئیرمین تحریک انصاف عمران خان کو چھ مقدمات میں شامل تفتیش کرنے کی اجازت مل گئی تھی،انسداد دہشت گردی عدالت کے جج اعجاز احمد بٹر نے تفتیشی افسران کی درخواست منظور کر لی ،چئیرمین تحریک انصاف عمران خان کو شادمان تھانہ جلانے ، کلمہ چوک کینٹینر جلانے ، مسلم لیگ ن ہاوس حملہ کیس میں شامل تفتیش کرنے کی اجازت دے دی گئی،چئیرمین تحریک انصاف کوعسکری ٹاور حملہ کیس اور پولیس تشدد کیس میں شامل تفتیش کرنے کی اجازت مل گئی، پولیس کو مقدمہ1271/23 گلبرگ ، 366/23 ماڈل ٹاؤن ، 768/23 شادمان ، 1078/23 نصیر آباد ، 1280/23 گلبرگ اور 367/23 تھانہ ماڈل ٹاون میں شامل تفتیش کرنے کی اجازت مل گئی

    عمران خان کی گرفتاری کے بعد کور کمانڈر ہاؤس لاہور میں ہونیوالے ہنگامہ آرائی میں پی ٹی آئی ملوث نکلی

     بشریٰ بی بی کی گرفتاری کے بھی امکانات

    نواز شریف کو سزا سنانے والے جج محمد بشیر کی عدالت میں عمران خان کی پیشی 

     مراد سعید کے گھر پر پولیس نے چھاپہ

    اوریا مقبول جان کو رات گئے گرفتار 

    واضح رہے کہ عمران خان کی گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی کارکنان نے فوجی تنصیبات پر ملک بھر میں حملے کئے تھے، شرپسند عناصر کو گرفتار کیا جا چکا ہے، گرفتار افراد کا کہنا ہے منظم منصوبہ بندی کے تحت حملے کئے گئے، شرپسند افراد نے ویڈیو بیان بھی جاری کئے ہیں جس میں انہوں نے اعتراف کیا کہ یہ سب منصوبہ بندی کے تحت ہوا، پی ٹی آئی رہنما بھی گرفتار ہیں تو اس واقعہ کے بعد کئی رہنما پارٹی چھوڑ چکے ہیں