Baaghi TV

Tag: ترکیہ

  • امریکہ ترکیہ کو ایف 16 لڑاکا طیارے بیچنے پر تیار

    امریکہ ترکیہ کو ایف 16 لڑاکا طیارے بیچنے پر تیار

    سویڈن ، فن لینڈ کی نیٹو میں شمولیت کے بدلے امریکہ ترکیہ کو ایف 16 طیارے بیچنے پر تیارہے تاہم بائیڈن کو کانگریس میں ترکی کو جنگی طیارے فروخت کرنے پر اعتراضات کا سامنا ہے۔

    باغی ٹی وی: امریکی موقر اخبار وال سٹریٹ کے مطابق امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کانگریس سے ترکیہ کو ایف 16 طیاروں کی فروخت کی منظوری کے لیے کہے گی۔

    ابوظبی: مینگرووز کے دس لاکھ بیج بونے کیلئے ڈرونز کا استعمال

    اخبار کے مطابق بائیڈن انتظامیہ کو ترکیہ کو ایف 16 لڑاکا طیاروں کی فروخت کی منظوری کو سویڈن اور فن لینڈ کی نیٹو میں شمولیت کے ساتھ مشروط کر رہا ہے ان دونوں ملکوں کی نیٹو میں شمولیت میں ترکیہ کئی ماہ سے رکاوٹیں ڈال رہا ہے۔

    گزشتہ نومبر میں ترک صدر رجب طیب اردوان کے ترجمان ابراہیم کالین نے کہا تھا کہ شمالی بحر اوقیانوس کے معاہدے کی تنظیم (نیٹو) کے رکن ترکی کو ایف سولہ لڑاکا طیاروں کی فروخت کے لیے امریکہ کی منظوری کا عمل ٹھیک چل رہا ہے اور ہو سکتا ہے کہ یہ دو ماہ کے اندر مکمل ہو جائے۔

    ایف ۔35 طیارے کی خریداری میں ناکامی کے بعد ترکی نے اکتوبر 2021 میں امریکہ کو لاک ہیڈ مارٹن کے تیار کردہ 40 عدد ایف 16 لڑاکا طیارے اور اپنے پاس موجود جنگی طیاروں کے لیے 80 جدید جنگی سازو سامان خریدنے کی درخواست جمع کرا دی تھی کالین نے اس وقت کہا تھا کہ بائیڈن انتظامیہ اس معاملے پر ایماندارانہ کوشش کر رہی ہے۔

    گزشتہ ستمبر میں اردوان نے اطلاع دی تھی کہ انہیں دو امریکی سینیٹرز کی جانب سے مثبت فیڈ بیک موصول ہوا ہے اور فروخت کی حمایت میں نیو یارک سے حمایت کے حوالے ملے ہیں۔

    جرمنی کا پاکستان کو 2 کروڑ 80 لاکھ یورو کی امداد فراہم کرنے کا اعلان

    انقرہ کی جانب سے روسی ساختہ میزائل ڈیفنس سسٹم حاصل کرنے کے بعد چند برسوں کے دوران امریکی کانگریس میں ترکیہ کے حوالے سے سرد مہری دیکھی جا رہی ہے اسی وجہ سے ترکیہ پر امریکی پابندیاں لگائی گئیں اور اسے ایف 35 لڑاکا طیاروں کے پروگرام سے خارج کردیا گیا تھا۔

    دوسری جانب واشنگٹن پوسٹ نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ بائیڈن انتظامیہ کانگریس سے ترکی کو F-16 لڑاکا طیاروں کی 20 بلین ڈالر کی فروخت اور یونان کو F-35 کی علیحدہ فروخت کی منظوری دینے کے لیے کہنے کی تیاری کر رہی ہے-

    ترکیہ کو ممکنہ فروخت، یونان کی طرح، نیٹو کے رکن ملک، ملک کے پرانے F-16 بحری بیڑے کو اپ گریڈ کرے گا اور انقرہ کے عالمی اثر و رسوخ کی نشاندہی کرے گا کیونکہ ترکیہ کے صدر رجب طیب اردگان روس-یوکرین جنگ میں ڈیل میکر کے طور پر اپنے کردار کو ظاہر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    جہاں بائیڈن انتظامیہ نے گزشتہ سال بحیرہ اسود سے یوکرائنی اناج کی ترسیل کی اجازت دینے کے انتظامات میں ثالثی کے لیے اردگان کے اقدامات کی تعریف کی، وہ ترک رہنما کی جانب سے روس سے S-400 میزائل دفاعی نظام کی خریداری پر تنقید کرتا رہا اور فن لینڈ کی حمایت سے انکار پر نجی مایوسی کا اظہار کیا۔ کرد شخصیات کے بارے میں ان ممالک کے موقف پر سویڈن کا نیٹو میں شمولیت کو انقرہ خطرہ سمجھتا ہے۔

    سمندری سیپی سے تیار ماحول دوست ہیلمٹ

    اتحاد میں نورڈک ممالک کی رکنیت پر تعطل نہ صرف امریکہ-ترک تعلقات کی پیچیدگی کو ظاہر کرتا ہے بلکہ نیٹو کی ترجیحات کو برقرار رکھنے کی ترکیہ کی صلاحیت کو بھی ظاہر کرتا ہے۔ جب کہ ہنگری نے، ترکیہ کی طرح، ابھی تک فن لینڈ اور سویڈن کے الحاق کی توثیق نہیں کی ہے، ہنگری کے حکام نے کہا ہے کہ وہ یہ قدم اس وقت اٹھائیں گے جب فروری میں ان کی مقننہ کا دوبارہ اجلاس ہوگا۔

    نیٹو کے حاشیے پر کئی دہائیوں کے بعد اتحاد کی رکنیت حاصل کرنے کے فیصلے کے لیے سویڈن اور فنز کے لیے ایک اہم تبدیلی کی ضرورت تھی، جس نے پڑوسی ملک یوکرین پر روسی صدر ولادیمیر پوٹن کے حملے کے بارے میں یورپیوں کی شدید تشویش کی نشاندہی کی۔

    نیٹو حکام نے مہینوں پہلے توسیع کو حتمی شکل دینے کی امید ظاہر کی تھی۔ نورڈک حکام نے ترکی کے تحفظات کو دور کرنے کے لیے کئی اقدامات کیے، لیکن اردگان باز نہیں آئے۔

    کانگریس کے معاونین نے کہا کہ کچھ امریکی قانون سازوں سے توقع کی جاتی ہے کہ ترکی کسی بھی F-16 کی فروخت کو آگے بڑھانے کی شرط کے طور پر فن لینڈ اور سویڈن کے نیٹو میں داخلے کی توثیق کرنے کا عہد کرے۔

    سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے سربراہ سینیٹر رابرٹ مینینڈیز (D-N.J.) نے جمعہ کو کہا کہ وہ اس فروخت کی مخالفت کریں گے جب تک کہ اردگان کئی ایسے اقدامات نہ کریں جن کی وہ حمایت کرتے ہیں۔

    واٹس ایپ نےصارفین کی آسانی کیلئےتصاویر اورویڈیوزکا نیافیچرمتعارف کرا دیا

    انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ "صدر اردگان بین الاقوامی قانون کو پامال کرنے، انسانی حقوق اور جمہوری اصولوں کو نظر انداز کرنے اور ترکی اور ہمسایہ نیٹو اتحادیوں کے خلاف خطرناک اور غیر مستحکم کرنے والے رویے میں ملوث ہیں۔” "جب تک اردگان اپنی دھمکیاں ختم نہیں کرتے، گھر میں اپنے انسانی حقوق کے ریکارڈ کو بہتر بناتے ہیں – بشمول صحافیوں اور سیاسی مخالفت کو چھوڑ کر – اور ایک قابل اعتماد اتحادی کی طرح کام کرنا شروع کر دیتے ہیں، میں اس فروخت کو منظور نہیں کروں گا۔”

    ترکی نے سب سے پہلے 2021 میں 40 نئے F-16s اور موجودہ جنگی طیاروں کے لیے 80 اپ گریڈ کٹس کی درخواست کی تھی، جس کے بعد اسے امریکی F-35 پروگرام سے ہٹا دیا گیا تھا۔ انقرہ کی جانب سے امریکی پابندیوں کی وجہ سے جدید ترین روسی فضائی دفاعی آلات خریدنے کے بعد امریکہ نے ترکی کو اس کے جدید ترین اسٹیلتھ طیارے حاصل کرنے سے روک دیا۔

    لیکن اس فروخت سے یوکرین کی جنگ کی وجہ سے جغرافیائی سیاسی منظر نامے سے فائدہ ہو سکتا ہے۔ پوتن کے فروری کے حملے کے بعد سے، اردگان نے روسی رہنما اور یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی دونوں کے ساتھ بات چیت کو برقرار رکھا ہے۔

    امریکا میں فضائی ٹریفک نظام درہم برہم،ہزاروں پروازیں متاثر،لاکھوں مسافرپریشان

    ایتھنز کو F-35 طیاروں کی علیحدہ فروخت یونانی رہنماؤں اور کانگریس میں ان کے حامیوں کے تحفظات کو کم کرنے میں مدد دے سکتی ہے، یونان اور ترکی کے درمیان طویل عرصے سے جاری تناؤ کے پیش نظر، جو قبرص کے جزیرے پر دیگر مسائل کے ساتھ جھگڑے کا شکار ہیں۔ معاونین نے بتایا کہ فروخت کی تفصیلات پہلے ہی غیر رسمی جائزے کے لیے متعلقہ کانگریسی کمیٹیوں کو پیش کر دی گئی ہیں۔

  • آج ترکیہ کی نامور مصنفہ کالدہ ادیب خانم کا یوم وفات ہے

    آج ترکیہ کی نامور مصنفہ کالدہ ادیب خانم کا یوم وفات ہے

    آج ترکیہ کی نامور مصنفہ کالدہ ادیب خانم یوم وفات ہے

    آغانیاز مگسی
    ترکی کی تاریخ میں جس طرح مصطفٰی کمال پاشا، انور پاشا اور طلعت پاشا کے نام نمایاں ہیں۔ اسی طرح خواتین میں خالدہ ادیب خانم المعروف خالدہ ادیب آدیوار کا نام بھی ناقابل فراموش ہے۔ خالدہ ادیب خانم 1884ء میں پیدا ہوئیں۔ آپ سلطان عبدالحمید کے وزیر خزانہ عثمان ادیب پاشا کی دختر تھیں۔ 1889ء میں آپ نے تعلیم کا آغاز کیا اور ابتدائی تعلیم سے فارغ ہونے کے بعد 1910ء میں بی اے کا امتحان نہایت اعلیٰ نمبروں کے ساتھ پاس کیا۔ دورانِ تعلیم آپ کی شادی آپ کے پروفیسر صحافی احمد صالح سے ہوگئی۔ ان کے شوہر نے چند سال بعد دوسری شادی کر لی۔ خالدہ خانم نے اس بات کو نا پسند کرتے ہوئے خلع لے کر شاہی فوج کے ڈاکٹر خالد بے سے شادی کر لی لیکن کچھ عرصہ بعد ڈاکٹر خالد بے کا انتقال ہو گیا۔

    خالدہ خانم نے لکھنے لکھانے کا سلسلہ کم عمری سے ہی شروع کر دیا تھا۔ محض سولہ سال کی عمر میں آپ نے ”ترکی پردے‘‘ پر ایک نہایت عمدہ کتاب لکھی اور بعد میں افسانہ نگاری شروع کر دی۔ ان کے اسلوبِ بیان میں ایسی ندرت اور تازگی تھی کہ انہوں نے بہت جلد ترکی کر کے افسانہ نگاروں کی صف اول میں جگہ حاصل کر لی۔ آپ کے افسانوی مجموعوں کی نہ صرف ترکی بلکہ یورپ میں بھی خوب پذیرائی ہوئی اور روسی، فرانسیسی، جرمن، انگریزی اور عربی زبان میں ان کے تراجم ہوئے۔ خالدہ خانم نے جب شاعری کی جانب توجہ کی تو قلیل مدت میں اس شعبہ میں بھی مہارت اور شہرت حاصل کر لی۔ 1935ء میں خالدہ ادیب خانم نے ڈاکٹر ایم اے انصاری کی دعوت پر ہندوستان کا دورہ کیا اور ”درونِ ہند‘‘ کے عنوان سے اپنی یادداشتیں لکھیں۔

    خالدہ خانم اگرچہ ادبی مشاغل میں مصروف تھیں لیکن ان کے اندر ایک مصلح بھی چھپا ہوا تھا۔ وہ ترکی کی خواتین میں جدید خیالات کا فروغ چاہتی تھیں۔ اس مقصد کے یئے انہوں نے ملک میں چھوٹی چھوٹی نسوانی انجمنیں قائم کیں۔ وزارتِ تعلیم پر زور دیا کہ ترک عورتوں کو جدید تعلیم حاصل کرنے کی سہولیات بہم پہنچائے۔ ان سرگرمیوں کی بدولت خالدہ ادیب خانم ترکی میں باوقار خاتون رہنما تسلیم کی گئیں اور ترکوں کا ہر حلقہ ان کو قدر کی نگاہ سے دیکھنے لگا۔

    ترکی میں سلطان عبدالحمید خان کی حکومت تبدیل ہوئی تو نوجوانانِ ترکی اپنے ملک کو ترقی دینے کی کوششوں میں مصروف ہوگئے۔ خالدہ خانم کی کوششوں کی بدولت مدبرین ترکی مطالباتِ نسواں کے حامی ہوگئے۔ اس مقصد کے لیے خالدہ خانم نے ترکی کے اخبارات میں مضامین لکھے جن کا خاطر خواہ اثر سامنے آیا۔ ترکی کی دستور پسند جماعت کی حمایت میں انہوں نے یورپ اور امریکہ کے اخبارات میں مضامین کا سلسلہ شروع کیا۔ امریکہ کے اخبارات نے ان مضامین کو نہایت فخر کے ساتھ شائع کیا اور کہا کہ یہ ہمارے ہی کالج کی ایک معلمہ ہیں جو آج اپنے ملک میں رہنما کی حیثیت اختیار کر گئی ہیں۔

    انور پاشا اور طلعت پاشا نے خالدہ خانم کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے ان کو سیاسی آئین وضوابط کی تشکیل میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا۔ جلد ہی خالدہ خانم کو شام کے صوبے میں تعلیمات کی وزیر مقرر کیا گیا۔ آپ نے ایک جامع لائحہ عمل مرتب کیا اور ملک میں ابتدائی مدارس اور ہائی سکولوں کاجال بچھا دیا۔ علاوہ ازیں یتیم خانے قائم کئے، مذہبی تبلیغ کا بندوبست کیا، ارمن اور کرد بچوں کی تعلیم پر خاص توجہ دی۔ شام کے گورنر جنرل جمال پاشا ان سے سیاسی معاملات پر مشورے بھی کرتے تھے۔

    آپ شام میں ہی تھیں کہ پہلی جنگ عظیم بھڑک اٹھی۔ آپ شام سے ترکی کے دارالحکومت استنبول آگئیں اور وزارتِ دفاع کی امداد میں مصروف ہوگئیں۔ آپ نے امریکہ کے اخبارات میں مضامین لکھے اور وہ مجبوریاں بیان کیں جن کی بناء پر ترکی کو جنگ میں شامل ہونا پڑا۔ ”نیویارک ٹائمز‘‘ نے ان کے مضامین کو نہایت قدرووقعت کے ساتھ شائع کیا۔ اسی دوران ترکوں کی وحدت یا پان توران ازم پر ان کی کتاب بہت مقبول ہوئی۔ اس کتاب میں ترکوں کی شجاعت کے جذبات کو اس طرح ابھارا گیا تھا کہ حکومت نے فوج میں اس کتاب کے ہزاوروں نسخے تقسیم کرائے۔ جنگ کے دور میں خالدہ خانم ترکی کی سراوٴں اور مساجد میں جاتیں اور ان کی امداد واعانت کے علاوہ لوگوں کی حوصلہ افزائی بھی کرتیں۔

    1918ء میں خالدہ خانم نے غیور اور قوم پرست لیڈر عدنان بے شادی کر لی۔ وہ انجمن اتحاد ترقی کے ممتاز ممبر اور محترم رہنما خیال کیے جاتے تھے۔ عدنان بے بعد میں انقرہ میں لارڈ چیف جسٹس کے عہدے پر بھی کام کرتے رہے اور پھر دولت انقرہ کی طرف سے انقرہ کے گورنر جنرل بھی مقرر کیے گئے۔ پہلی جنگ عظیم کا خاتمہ ہوا تو ترکوں پر مظالم کے پہاڑ توڑ دیئے گئے۔ قسطنطنیہ پر اتحادی افواج کا قبضہ ہوگیا۔ قوم پرست خاص طور پر ان کا نشانہ بنے۔ اس دوران آزاد ترکی کے لیے مصطفٰی کمال پاشا نے جدوجہد جاری رکھی تو خالدہ خانم نے ان کے حق میں قسطنطنیہ میں لاکھوں کے مجمعوں میں آ تش بار تقاریر کیں، یہاں تک کہ کٹھ پتلی وزیراعظم کو آپ کی گرفتاری کا حکم دینا پڑا۔ آپ اپنے شوہر کے ساتھ نہایت تکالیف سے گزریں اور خفیہ طور پر مصطفٰی کمال پاشا سے جا ملیں۔ مصطفٰی کمال پاشا نے آپ کی قدر کی اور آپ کو ملک کی وزیرِ تعلیمات مقرر کیا۔ آپ نے ایک بار پھر اصلاحی اور تعلیمی کاموں کا سلسلہ شروع کیا۔

    جولائی 1921ء تک آپ کی سیاسی و تعلیمی خدمات کا سلسلہ جاری رہا۔ انہی دِنوں اطلاعات ملیں کہ یونانی لشکر انقرہ پر حملہ کرنے والا ہے تو پورے اناطولیہ میں مصطفٰی کمال پاشا کی قیادت میں دفاعِ وطن کا جذبہ پورے جوش و خروش کے ساتھ بیدار ہو گیا۔ اس موقع پر خالدہ خانم نے مادرِ وطن کے دفاع کے لیے ترک خواتین کے میدان میں لانے کا فیصلہ کیا اور اس مقصد کے لیے انہوں نے ایک جنگی سکیم بھی تیار کی جس کا مقصد ترکی خواتین کو باقاعدہ لشکر میں بھرتی کیا جانا تھا. خواتین کا لشکر مردوں کے لشکر کے پیچھے رسد، بار برداری اور زخمیوں کی طبی امداد کے فرائض انجام دینے کے لیے تیار ہواتھا۔ خالدہ خانم نے اس مقصد کے لیے پورے ملک کا طوفانی دورہ کیا۔ ہزاروں عورتوں کو فوج میں بھرتی کیا۔ وزارتِ جنگ نے ان کی فوجی تربیت کا انتظام کیا۔ جب ہزاروں خواتین کو فوجی تربیت دی جا چکی تو ان کے باقاعدہ فوجی دستے بنا دیئے گئے۔ یہ دستے اناطولیہ میں پُلوں، تارگھروں اور ریلوے سٹیشنوں کی حفاظت کی خدمات انجام دینے لگے۔

    خواتین کے فوجی دستوں نے یونانیوں پر نہایت کامیاب شب خون مارے۔ جب ستمبر 1921ء میں یونانیوں کا سب سے بڑا فوجی حملہ ہوا تو خالدہ خانم یہ نفس نفس میدانِ جنگ میں موجود تھیں اور نسوانی دستہ بھی ان کے ہمراہ تھا۔ اسی طرح ایک مشہور لڑائی میں جہاں فیلڈ مارشل عصمت پاشا فوج کی کمان کر رہے تھے، خالدہ خانم مجاہدین کے عقب میں اپنے نسوانی لشکر کے ساتھ موجود تھیں۔ کہا جاتا ہے کہ اگر غازی عصمت پاشا، نسوانی لشکر کو پیش قدمی سے روک نہ دیتے تو خالدہ خانم یقیناً اس جنگ میں شہید ہو جاتیں کیوں کہ ان کا جوشِ جہاد بہت زیادہ بڑھا ہوا تھا۔

    یورپ اور امریکہ کے اخبارات میں ترک خواتین کی عسکریت اور خالدہ خانم کی قیادت پر حیرانی کا اظہار کیا گیا۔ وہ پہلے ہی ترکی میں ایک خاتون کو وزیر تعلیم کے تعینات کیئے جانے پر حیران تھے۔ 19 اکتوبر کو رافت پاشا نے اعلان کیا کہ کہ قسطنطنیہ پر ترکانِ احرار کا قبضہ ہو چکا ہے اور اتحادی رخصت ہو چکے ہیں۔ آخر جنوری 1922ء میں ڈاکٹر عدنان بے کو حکم دیا گیا کہ وہ جا کر رافت پاشا سے گورنری کا چارج لے لیں۔ چنانچہ خالدہ خانم اپنے جلیل القدر شوہر کے ساتھ اناطولیہ سے قسطنطنیہ پہنچ گئیں۔

    خالدہ خانم نے تمام عمر ترکی کی خدمت میں گزاری۔ وہ ترکی میں جمہوری نظریات کے فروغ کے لیے کسی بھی قسم کی قربانی دینے کے لیے تیار تھیں۔ وہ امریکن گریجویٹ ہونے کی بناء پر مغربی طرزِ زندگی کی عادی تھیں لیکن جب انہوں نے دیکھا کہ مغربی حکومتیں ترکی کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کر رہیں تو انہوں نے ترکی لباس اور رہن سہن کو اپنا لیا۔ خاص طور پر میدانِ جنگ میں وہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی سنت میں سیاہ عمامہ باندھتیں تو فوجیوں میں جوش وخروش کی لہر دوڑ جاتی۔ آپ نے ستر سال سے زیادہ عمر پائی اور 9 جنوری 1964ء کو آپ کا انتقال ہوا۔

    نام:کالدہ ادیب خانم
    سن ولادت:1884ء
    تاریخ وفات:09 جنوری 1964ء
    تصنیفات
    ۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)قمیص من نار-1923
    ۔ (2)اندرون ہند-1937
    ۔ (3)ترکی میں مشرق و مغرب کی کشمکش
    ۔ 1938
    ۔ (4)اندرون حیدرآباد-1939
    ۔ (5)پیراہن آتشین
    ۔ (6)دختر سمرنا
    ۔ (7)ربیعہ

  • وزیر اعظم کا ترک صدر طیب اردوان سے بھی ٹیلیفونک رابطہ

    وزیر اعظم کا ترک صدر طیب اردوان سے بھی ٹیلیفونک رابطہ

    اسلام آباد:وزیر اعظم شہباز شریف کا ترک صدر رجب طیب اردوان سے ٹیلیفونک رابطہ، طیب اردوان کو جنیوا میں کلائمیٹ ریزیلینٹ پاکستان کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی۔

    اپنی گفتگو میں وزیر اعظم شہباز شریف نے 9 جنوری کو ہونے والی کانفرنس کے بارے میں آگاہ کیا اورترکیہ سے اعلیٰ سطحی وفد کی شرکت کی درخواست کی جس پر وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان ترکیہ کے ساتھ اپنے دوستانہ اور تاریخی تعلقات کو اہمیت دیتا ہے، دونوں رہنماؤں کا ایک دوسرے کے درمیان قریبی تعاون پر اطمینان کا اظہار کیا۔

    پاکستان کی بڑی ٹیکسٹائل کمپنی نشاط چونیاں بھی بحران کا شکار:آپریشن معطل کرنےکا…

    وزیر اعظم شہباز شریف نے ترکی کے صدر رجب طیب اردوان کو کلائمیٹ ریزیلینٹ پاکستان کانفرنس میں اپنا بھرپور کردار ادا کرنےکی درخواست کی ،اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے دو طرفہ اور بین الاقوامی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا، اپنی گفتگو میں وزیراعظم نے اپنی عوام اور حکومت کی جانب سے ترک حکومت کا شکریہ ادا کیا۔

    الیکشن کمیشن نے حکومت کو آرٹیکل 140 اے میں ترمیم کی سفارش کر دی

    اس سے پہلے وزیراعظم شہباز شریف کی مملکت بحرین کے شاہ حمد بن عیسیٰ آل خلیفہ سے ٹیلیفونک گفتگو ہوئی ہے،شاہ حمد بن عیسیٰ آل خلیفہ نے پاکستان میں موسمیاتی سیلاب کے بعد تعمیر نو اور بحالی کے اقدامات کو سراہا. وزیراعظم شہباز شریف نےکہا کہ پاکستان بحرین کے ساتھ اپنے دوستانہ اور تاریخی تعلقات کو اہمیت دیتا ہے۔ دونوں رہنماؤں نے کثیرالجہتی فورمز پر دونوں ممالک کے درمیان قریبی تعاون پر اطمینان کا اظہار کیا۔ شاہ حمد نے بحرینی قیادت کی پاکستان کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کو مزید گہرا اور وسیع کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ۔

    دونوں رہنماؤں نے قریبی رابطہ برقرار رکھنے اور باہمی دلچسپی کے تمام امور پر مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا.

  • عتیقہ اوڈھو کے بعد اب توثیق حیدر بھی ترکیہ کے ڈرامے میں

    عتیقہ اوڈھو کے بعد اب توثیق حیدر بھی ترکیہ کے ڈرامے میں

    گزشتہ دنوں معروف اداکارہ عتیقہ اوڈھو نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ کے زریعے اپنے مداحوں کے ساتھ خبر شئیر کی کہ وہ بہت جلد ترکیہ کے ڈرامے میں نظر آئیں گی. عتیقہ اوڈھو کے بعد اب توثیق حیدر بھی ترکیہ کے ڈرامے میں نظر آئیں گے .انہوں نے اپنے مداحوں کے ساتھ یہ خبر سوشل میڈیا پر شئیر کی. توثیق حیدر نے لکھا کہ کویو بیاز کے پہلے سیزن کی شوٹنگ استنبول میں ہو چکی ہے اور میرا کردار بہت اہم ہے میرے مداح میرے اس نئے تجربے کو یقینا سراہیں گے. یہ وہی ڈرامہ ہے جس میں‌عتیقہ اوڈھو بھی نظر آئیں گے ، توثیق حیدر نے کہا کہ عتقیہ اوڈھو کے ساتھ کام

    کرنے کا تجربہ بہت اچھا رہا ہے. توثیق حیدر کی اس پوسٹ کے بعد انہیں سوشل میڈیا پر بہت زیادہ پذیرائی ملی اور ان کے مداحوں نے ان کو مبارکبادیں دیں . یاد رہے کہ ترکیہ کے ڈرامے پاکستان میں بہت زیادہ پسند کئے جاتے ہیں . اب دیکھنا یہ ہے کہ ہمارے فنکار جو کہ ترکیہ کے ڈراموں میں کام کررہے ہیں ان کو وہاں‌کتنی پذیرائی ملتی ہے. پاکستانی ترکی فنکاروں کے بہت بڑے مداح بھی ہیں اور ہر دم انہیں دیکھنے کے لئے بےتاب رہتے ہیں. ترکیہ کے کئی ڈرامے پاکستان میں ڈب ہو کر ٹی وی چینلز پر لگ چکے ہیں .

  • امیر جماعت اسلامی سراج الحق سے ترکیہ کے سفیر مہمت پچاجی کی ملاقات

    امیر جماعت اسلامی سراج الحق سے ترکیہ کے سفیر مہمت پچاجی کی ملاقات

    امیر جماعت اسلامی سراج الحق اور ترکیہ کے سفیر مہمت پچاجی کے درمیان اسلام آباد میں ملاقات ہوئی جس میں دوطرفہ تعلقات اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال ہوا۔

    باغی ٹی وی : ڈائریکٹر شعبہ امور خارجہ جماعت اسلامی آصف لقمان قاضی بھی امیر جماعت کے ہمراہ تھے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے سراج الحق نے کہا کہ جماعت اسلامی امت کو متحد دیکھنا چاہتی ہے۔ پاکستان اور ترکیہ اسلامی دنیا کو قیادت فراہم کر سکتے ہیں۔

    سراج الحق نے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ نے مسئلہ کشمیر اور شمالی قبرص پر ہمیشہ ایک دوسرے کے موقف کی حمایت کی ہے، دونوں ممالک محبت اور بھائی چارہ کے دیرینہ اور لازوال رشتے سے بندھے ہوئے ہیں۔ دونوں اطراف مسئلہ فلسطین اور اسلاموفوبیا پر بھی یکساں اور زوردار موقف رکھتی ہیں۔ صدر جمہوریہ ترکیہ رجب طیب اردگان کا مسئلہ فلسطین اور اسلامو فوبیا پر کردار قابل تحسین ہے۔

    سراج الحق نے کہا کہ اسلامی دنیا کو باہمی اختلافات بھلا کر مشترکہ مفادات کو فوقیت دینی چاہیے۔ اسلامی ممالک کا تعلیم، ٹیکنالوجی اور اقتصادی شعبوں میں اشتراک وقت کی ضرورت ہے۔ پاکستان، ترکیہ، سعودی عرب اور ایران کے درمیان اشتراک مغربی تسلط سے آزادی کے لیے لازم ہے۔

    انھوں نے کہا کہ اسلامی ممالک کے حکمرانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ مشترکہ منڈی اور مشترکہ دفاع کے لیے قدم بڑھائیں۔ انھوں نے کہا کہ امت متحد ہو کر اسلامو فوبیا کے چیلنج کا مقابلہ کرے تاکہ مغربی تہذیب کا تسلط قائم کرنے کی سازشیں ناکام ہو سکیں۔

    انھوں نے کہا کہ اسلامی ممالک مسلمان اقلیتوں کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی فورمز پر مشترکہ اور جان دار آواز اٹھائیں۔

  • کرد جنگجوؤں کے خلاف آپریشن فضائی کارروائی تک محدود نہیں رہے گا،ترک صدر

    کرد جنگجوؤں کے خلاف آپریشن فضائی کارروائی تک محدود نہیں رہے گا،ترک صدر

    ترک صدر رجب طیب اردوان نے اعلان کیا ہے کہ ہمارے سپاہی ٹینکوں کے ساتھ کرد جنگجوؤں پر یلغار کریں گے۔

    باغی ٹی وی :عالمی خبررساں دارے کے مطابق ترک صدر نےمنگل کے روز کہا کہ ان کے ملک کی زمینی افواج شام میں کرد جنگجووں کو نشانہ بنائیں گی۔

    اردوان نے شمال مشرقی ترکیہ میں اس بارے میں کہا کہ ہم چند دنوں سے دہشت گردوں کواپنے جہازوں کے ذریعے دیکھ رہے رہے ہیں۔ اللہ نے چاہا تو ہم دہشت گردوں کواب اپنے سپاہیوں اور ٹینکوں سے جڑ سے اکھاڑ پھینکیں گے۔

    ترک صدر اس سے پہلے بھی یہ کہہ چکے ہیں کہ کرد دہشت گردوں کے خلاف آپریشن فضائی کارروائی تک محدود نہیں رہے گااس آپریشن میں زمینی افواج کو بھی شامل کیا جائے گا۔

    واضح رہے پیرکے روز کردوں کی اس مسلح ملیشیا نے کارروائی کر کے دو افراد کو ہلاک کر دیا تھا، یہ ترک فضائیہ کی بمباری کے بعد کیا گیا، اس سے پہلے ایک ہفتہ قبل استنبول میں بم دھماکے کیے گئے تھے۔

    سعودی عرب سے اپ سیٹ شکست کے بعد لیونل میسی کا بیان سامنے آ گیا

    دوسری جانب سیرین ڈیموکریٹک فورسز کا کہنا ہے کہ ترکیہ کی حالیہ بمباری کے نتیجے میں 15 شہری ہلاک ہو گئے تھے۔ تاہم ترک وزیر دفاع نے کہا کہ یہ کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔

    امریکی دفتر خارجہ کے ترجمان نے منگل کے روز اس امر پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے کہ ترکیہ کی کارروائیوں سے داعش کے خلاف جنگی اہداف متاثر ہوں گے۔

    ترجمان نے کہا امریکہ نے اپنی اس تشویش سے ترکیہ کو آگاہ کر دیا گیا ہےترکیہ کو ان کارروائیوں کے نہ کرنے کے لیے بھی کہا گیا ہے۔ اسی طرح ہم نے شام میں اپنے شراکت داروں سے بھی کہا ہے کہ وہ حملوں کو تیز نہ کریں۔

    واضح رہے سیرین ڈیموکریٹک فورس اور وائی پی جی امریکی اتحادیوں میں شامل ہیں۔ جبکہ ترکی کے ساتھ ان کی گہری دشمنی ہے۔

    چین: فیکٹری میں آتشزدگی،38 افراد ہلاک

  • شام کے کرد جنگجوؤں کا ترکیہ پر جوابی راکٹ حملہ، 3 افراد ہلاک 10 زخمی،1 سکول تباہ

    شام کے کرد جنگجوؤں کا ترکیہ پر جوابی راکٹ حملہ، 3 افراد ہلاک 10 زخمی،1 سکول تباہ

    ترکیہ کے شام میں کرد جنگجوؤں کے ٹھکانوں پر فضائی بمباری کے جواب میں کرد جنگجوؤں نے آج ترکیہ پر 6 راکٹس برسائے جس میں 3 افراد ہلاک،10 زخمی اور ایک اسکول تباہ ہوگیا۔

    باغی ٹی وی : عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ترکیہ کے شام سے جڑے سرحدی ضلعے غازیانتپ کے قصبے خامیس میں 6 راکٹ گرے جن میں سے دو ایک اسکول پر گرے جس سے عمارت تباہ ہوگئی اور 6 بچے زخمی بھی ہوئے۔

    ترکیہ کی سرکاری انادولو ایجنسی نے رپورٹ کیا کہ ایک میزائل دو گھروں پر گرا جب کہ ایک میزائل سرحدی علاقے میں فوجی ساز و سامان لے جانے والے مال بردار فوجی ٹرک پر لگا۔

    ترکیہ کی شام میں کرد فورسز کے ٹھکانوں پر بمباری،12 افراد ہلاک

    شام کے کرد علاقے سے داغے گئے ان 6 میزائلوں سے مجموعی طور پر 3 افراد ہلاک اور 10 سے زائد زخمی ہوگئے زخمیوں میں سے دو کی حالت نازک ہونے کے سبب ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

    وزیر داخلہ سلیمان سویلو نے کہا کہ جاں بحق ہونے والوں میں ایک استاد اور ایک بچہ شامل ہے۔ راکٹوں میں سے ایک ہائی اسکول کی زمین پر گرا لیکن وہاں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

    فوجی مال بردار ٹرک پر میزائل لگنے سے 4 پولیس اہلکار اور 2 فوجی زخمی ہوگئے جنھیں قریبی اسپتال منتقل کردیا گیا جہاں ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی جارہی ہے۔

    سویلو نے کہا کہ ایک فوجی اور سات پولیس اہلکار راتوں رات مشتبہ کرد عسکریت پسندوں کی طرف سے کی جانے والی علیحدہ گولہ باری میں زخمی ہو گئے جنہوں نے قریبی کیلیس میں ایک سرحدی علاقے کو نشانہ بنایا۔

    قطر میں فٹ بال ورلڈکپ 2022 کا رنگا رنگ افتتاحی تقریب سے آغاز ہو گیا

    وزیر نے کہا کہ ترکی حملوں کا جواب "سب سے مضبوط طریقے سے” دے گا۔

    خیال رہے کہ گزشتہ روز ترکیہ کے طیاروں نے شام میں کرد جنگجوؤں کے ٹھکانوں پر بمباری میں 12 ہلاکتیں ہوئی تھیں جن میں کرد جنگجوؤں سمیت شامی فوج کے اہلکار بھی شامل ہیں۔

    ترکیہ کی وزارت دفاع نے کہا تھا کہ یہ بمباری استنبول میں ہونے والے بم دھماکے میں کرد علیحدگی پسند جماعت کے ملوث ہونے پر ردعمل کے طور پر کی گئی تھی تاہم کرد پارٹی نے بم دھماکے میں ملوث ہونے کی تردید کی تھی۔

    پیر کے روز، ترک صدر رجب طیب اردگان نے اشارہ دیا کہ ترکی عسکریت پسند گروپوں کے خلاف زمینی حملے پر بھی غور کر رہا ہے، یہ کہتے ہوئے کہ یہ آپریشن "فضائی مہم تک محدود نہیں رہے گا انہوں نے مزید کہا کہ ترکی کی وزارت دفاع اور فوج زمینی دستوں کی تعداد پر بات چیت کریں گے جن کی ضرورت ہوگی۔

    ترک میڈیا نے اردگان کے حوالے سے کہا کہ "ہم اپنی مشاورت کریں گے اور پھر اس کے مطابق اقدامات کریں گے۔”

    موت کے قریب پہنچنے پر انسان کن تجربات کا سامنا کرتا ہے؟

  • ترکیہ کی شام میں کرد فورسز کے ٹھکانوں پر بمباری،12 افراد ہلاک

    ترکیہ کی شام میں کرد فورسز کے ٹھکانوں پر بمباری،12 افراد ہلاک

    انقرہ: ترکیہ نے استنبول بم دھماکے میں کرد پارٹی کے ملوث ہونے پر شام میں ان کے ٹھکانوں پر فضائی بمباری کی، برطانیہ میں قائم مانیٹرنگ گروپ کے مطابق بمباری میں کم از کم 6 ممبران سمیت 12 حکومتی حامیوں کو ہلاک کر دیا ہے-

    باغی ٹی وی : عالمی خبررساں ادارے کے مطابق ترکیہ کے وزیر دفاع نے اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ سب کچھ ملبہ بنانے کی گھڑی آچکی ہے اس کے علاوہ کسی گروہ کا نام لیے بغیر انتہائی سخت انداز میں گالی کی زبان استعمال کرتے ہو ئے کہا کہ ان کو اپنے حملوں کی بڑی قیمت ادا کرنا ہوگی۔

    سعودی عرب نےانسداد وبائی امراض کیلئےعالمی فنڈ میں 5 کروڑ ڈالرعطیہ کرنےکا اعلان کیا

    ترک وزیر دفاع نے اس ٹویٹ کے ساتھ ایک تصویر بھی شیئر کی جس میں ایک لڑاکا طیارے کو اُڑان بھرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے اس کے بعد اپنی اگلی ٹوئٹس میں انہوں نے بتایا کہ ٹھیک ٹھیک نشانے لے کر دہشت گردوں کے ٹھکانے تباہ کردیئے اس کے ساتھ ایک ویڈیو بھی ٹویٹ کی گئی ہے جس میں دکھایا گیا ہے کہ ایک ہدف کو تلاش کی جارہا ہے اور اس کے ساتھ ہی دھماکے کی آواز آتی ہے۔

    کردش فورسز کا بتانا ہے کہ ترکیہ کے حملے کا ہدف شمال مشرقی شام میں کوبین کا علاقہ تھا۔ واضح رہے اس کوبین شہر کو ہی داعش نے قبضے میں لیا تھا۔

    شمالی نائیجریا کے گاؤں پر مسلح افراد کا حملہ،12 افراد ہلاک

    امریکی اتحادی فوج ایس ڈی ایف کے چیف کمانڈر مظلوم عابدی نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا کہ ترکیہ کی بمبار ی سے ہمارے محفوظ علاقوں کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے حلب، حسکیہ میں بمباری کی گئی ہے۔

    شامی آبزرویٹری کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمان نے کہا ہے کہ گنجان آباد علاقے کو ہدف بنایا گیا ہے، نیز ان علاقوں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے جن میں شامی رجیم کی فورسز تعینات ہیں۔

    ترکیہ کے فوجی ذرائع نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ حملے میں کرد پارٹی کے اسلحہ خانے، خندقیں، فیکٹری، تربیت گاہ اور کمین گاہوں کو مٹی کا ڈھیر بنادیا گیا۔ یہ کارروائی استنبول بم دھماکے کے جواب میں کی گئی۔

    ترکیہ کی جانب سے بمباری میں ہلاکتوں سے متعلق کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا لیکن شام میں جنگ کو مانیٹر کرنے والے برطانوی ادارے نے دعویٰ کیا ہے کہ ترکیہ کے حملے میں 12 اہلکار مارے گئے جن میں کرد جنگجو اور شامی فوجی بھی شامل ہیں۔

    کویت میں 2017 کے بعد پہلی مرتبہ ایک پاکستانی اور 2 خواتین سمیت سات افراد کو پھانسی

  • ترکیہ میں دھماکہ:صدرمملکت اور وزیراعظم کی طرف سےدہشت گردی کی شدید مذمت

    ترکیہ میں دھماکہ:صدرمملکت اور وزیراعظم کی طرف سےدہشت گردی کی شدید مذمت

    اسلام آباد: صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی اور وزیراعظم شہباز شریف نے ترکیہ میں ہونے والے دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔اطلاعات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے ترکیہ میں دہشت گردی کے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ترکیہ کی استقلال اسٹریٹ میں دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہیں، ہمیں واقعے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر بے حد افسوس ہے۔

    وزیر اعظم نے کہا کہ بچوں سمیت واقعے میں زخمی ہونے والوں کی جلد صحت یابی کی دعا کرتے ہیں، پاکستان ترکیہ کے عوام اور حکومت سے مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے، ہرطرح کی دہشت گردی قابل مذمت ہے۔

    دوسری جانب صدر عارف علوی نے ترکیہ کی استقلال اسٹریٹ میں دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی تمام دُنیا کا مشترکہ مسئلہ ہے، ترکیہ کی حکومت اور عوام کےساتھ دہشت گردی کے اِس واقعے کےخلاف کھڑے ہیں۔

    انہوں نے دھماکے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے جاں بحق افراد کی مغفرت اور ورثا کے لیے صبر کی دعا کی اور کہا ہک دکھ کی اِس گھڑی میں ترکیہ کی عوام کے ساتھ ہیں۔

    علاوہ ازیں پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان، سابق صدر اور پی پی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری، وزیر خارجہ بلاول بھٹو سمیت دیگر رہنماؤں نے بھی ترکی میں ہونے والے دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔

    یاد رہے کہ ترکیہ کے استقلال ایونیو میں زور دار بم دھماکا ہوا جس میں 6 افراد جاں بحق اور 53 زخمی ہوگئے۔

    عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ترکیہ کے شہر استنبول کے علاقے استقلال ایونیو میں زورد دار دھماکا ہوا۔ جس جگہ دھماکا ہوا وہاں کافی تعداد میں راہگیر موجود تھے اور یہ مصروف ترین علاقہ ہے۔

    ترک صدر طیب اردوان نے دھماکے میں 6 افراد کے جاں بحق اور 53 کے زخمی ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ یہ ایک بم دھماکا تھا۔ بم دھماکے ذمہ داروں کو سخت سزائیں دیں گے۔

    عمران خان کے صاحبزادوں قاسم اور سلیمان کی زمان پارک آمد 

    شوکت خانم کے باہر سے مشکوک شخص گرفتار

    جس کو پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو کہتا تھا اسے ڈاکو کی وزارت اعلیٰ کے نیچے عمران خان پر حملہ ہوا

  • ترکیہ میں زوردار دھماکا،5 جاں بحق اور 40 زخمی

    ترکیہ میں زوردار دھماکا،5 جاں بحق اور 40 زخمی

    استنبول : ترکیہ کے استقلال ایونیو میں زور دار دھماکا ہوا جس میں 5 افراد کے جاں بحق اور 40 کے زخمی ہونے کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔

    عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ترکیہ کے شہر استنبول کے علاقے استقلال ایونیو میں زورد دار دھماکے کی آواز سنی گئی ہے تاہم دھماکے کی نوعیت کا تعین نہیں ہوسکا۔

    ایمبولینسوں اور فائر بریگیڈ کی گاڑیوں کو جائے حادثہ کی جانب جاتے ہوئے دیکھا گیا ہے جب کہ پولیس غیر متعلقہ افراد کو وقوعہ پر جانے سے روک رہے ہیں۔ جس جگہ دھماکا ہوا وہاں کافی تعداد میں راہگیر موجود تھے اور یہ مصروف ترین علاقہ ہے۔

     

    https://twitter.com/ItsTalatAgain/status/1591801540897280002?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E1591801540897280002%7Ctwgr%5Ea855690bd4e5c76bc8188d95b398705f22534c8f%7Ctwcon%5Es1_&ref_url=https%3A%2F%2Fwww.express.pk%2Fstory%2F2400369%2F10

    اب تک دھماکے میں 40 افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق ہوئی ہے اور تاہم استنبول کے گورنر نے اپنی ٹوئٹ میں بتایا کہ دھماکے میں ہلاکتیں بھی ہوئی ہیں لیکن انھوں نے تعداد نہیں بتائی۔

    غیر ملکی خبر رساں ایجنسی نے غیر مصدقہ اطلاع دی ہے کہ دھماکے میں ہلاکتوں کی تعداد 5 ہوگئی ہے۔

     

    پولیس کا کہنا ہے کہ دھماکے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔ اب تک دھماکے کے مواد اور نوعیت سے متعلق معلومات نہیں مل سکیں۔ پہلی ترجیح زخمیوں کو فوری طبی امداد کی فراہمی ہے۔

    ترک صدر طیب اردوان نے دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے زخمیوں کو طبی امداد کی فراہمی کو یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔

    واضح رہے کہ ترکیہ میں داعش نے کئی بار خود کش حملے کیے ہیں اور 2017 میں ایک نائٹ کلب میں مسلح افراد کے حملے میں 39 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔