Baaghi TV

Tag: ترکیہ

  • اسحاق ڈار کی قاہرہ میں سفارتی ملاقات اور غیر رسمی عشائیے میں شرکت کی

    اسحاق ڈار کی قاہرہ میں سفارتی ملاقات اور غیر رسمی عشائیے میں شرکت کی

    پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں ایک سفارتی ملاقات اور غیر رسمی عشائیے میں شرکت کی، جہاں خطے کے اہم ممالک کے وزرائے خارجہ کے درمیان باہمی روابط اور علاقائی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    اسحاق ڈار نے ایکس پر جاری اپنے ایک بیان میں مصر کے وزیر خارجہ ڈاکٹر بدر عبدالعاطی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ نیل کے کنارے قاہرہ شہر میں شاندار میزبانی اور دوستانہ ماحو ل میں ایک یادگار شام گزری، انہوں نے ترکیہ کے وزیر خارجہ ہاکان فدان اور سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان کی موجودگی کو بھی ونڈر فل قرار دیا-

    انہوں نے کہا کہ اس ملاقات میں دوستانہ تعلقات، باہمی تعاون اور خطے میں استحکام سے متعلق امور پر مثبت اور بامعنی گفتگو ہوئی شرکاء نے خطے میں درپیش چیلنجز اور مشترکہ تعاون کے امکانات پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

    سفارتی ذرائع کے مطابق اس نوعیت کی ملاقاتیں مشرق وسطیٰ اور خطے میں بڑھتی ہوئی سفارتی سرگرمیوں کا حصہ ہیں، جن کا مقصد ممالک کے درمیان رابطوں کو مضبوط بنانا اور مختلف امور پر مشترکہ فہم پیدا کرنا ہے۔

  • مشہور ترک اداکارہ   انتقال کرگئیں

    مشہور ترک اداکارہ انتقال کرگئیں

    ترک شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ ایجے ارتم 35 برس کی عمر میں انتقال کرگئیں۔

    ترک میڈیا رپورٹس کے مطابق ایجے اِرتم پیر کی دوپہر اپنے گھر میں بے ہوش حالت میں پائی گئیں بتایا گیا ہے کہ وہ اپنی والدہ کے ساتھ گھر پر موجود تھیں جب انہیں اچانک طبی ایمرجنسی کا سامنا کرنا پڑا، افسوسناک طور پر انہیں بچایا نہ جا سکا،اداکارہ کے وکیل اوغور گوک کویون کے مطابق ابتدائی طبی جائزوں سے شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ان کی موت دل کا دورہ پڑنے کے باعث ہوئی تاہم واقعے کی باقاعدہ تحقیقات جاری ہیں اور موت کی حتمی وجہ پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کے بعد ہی سامنے آئے گی، وکیل نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ان خبروں کی بھی تردید کی کہ اداکارہ نے خودکشی کی تھی۔

    ایجے اِرتم نے ایک روز قبل ہی اپنی 35 ویں سالگرہ منائی تھی، 14 جون 1991 کو ترک شہر سیواس میں پیدا ہونے والی ایجے اِرتم نے 2014 میں یاسار یونیورسٹی کے اوپیرا اور ووکل پرفارمنس ڈیپارٹمنٹ سے تعلیم مکمل کی بعد ازاں انہوں نے استنبول کے سعدی علیشک کلچرل سینٹر سے اداکاری کی تربیت حاصل کی اور شوبز کی دنیا میں قدم رکھا انہیں سب سے زیادہ شہرت ترک ڈرامے ون لو میں ’اشیل‘ کے کردار سے ملی، جس نے انہیں ملک کی ابھرتی ہوئی باصلاحیت اداکاراؤں میں شامل کر دیا۔

  • مسلم ممالک اتحاد میں اسرائیل  کی شمولیت فلسطین تنازع کے حل سے مشروط ہو گی،ترک وزیر خارجہ

    مسلم ممالک اتحاد میں اسرائیل کی شمولیت فلسطین تنازع کے حل سے مشروط ہو گی،ترک وزیر خارجہ

    ترکیہ کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے کہا ہے کہ اگر اسرائیل 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرلے تو وہ بھی پاکستان، ترکیہ، سعودی عرب، مصر اور خلیجی ممالک کے مجوزہ سیکیورٹ اتحاد کا حصہ بن سکتا ہے۔

    ترک وزیرِ خارجہ ہاکان فیدان نے جاپانی اخبار نکی ایشیا کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں مشرقِ وسطیٰ کے لیے ایک نئے علاقائی سکیورٹی ڈھانچے کا تصور پیش کر دیا ہے، جس میں پاکستان، ترکیہ، سعودی عرب، مصر اور خلیجی ممالک کو شامل کیا گیا ہےترک وزیرِ خارجہ نے اس اتحاد کو خطے کے ممالک کے لیے ایک سنہری موقع قرار دیا اور کہا کہ تمام ریاستوں کو ایک دوسرے کی علاقائی سالمیت، خودمختاری اور سلامتی کے تحفظ کا عہد کرنا چاہیے۔

    انہوں نے کہا کہ یہ مجوزہ اتحاد پاکستان سے خلیجِ فارس تک پھیلے ممالک کو ایک مشترکہ تعاون کے فریم ورک میں جوڑ سکتا ہے مستقبل میں حالات معمول پر آنے کی صورت میں ایران کو بھی اس نظام کا حصہ بنایا جا سکتا ہے جبکہ اسرائیل کی شمولیت فلسطین تنازع کے حل سے مشروط ہو گی، اگر اسرائیل مسئلہ فلسطین کے حل پر راضی ہوتا ہے تو میرا خیال ہے کہ خطے کے ممالک اسرائیل کی سلامتی میں بھی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

    ہاکان فیدان کے یہ بیانات اس سوال کے جواب میں سامنے آئے جس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ترکیہ سمیت مسلم ممالک کو ’ابراہم معاہدے‘ میں شامل کرنے کی مبینہ کوششوں کا ذکر کیا تھاابراہم معاہدے اسرائیل اور متعدد عرب ممالک کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے طے پانے والے ایک معاہدہ ہے، جس کا آغاز صدر ٹرمپ کے پہلے صدارتی دور میں ہوا تھا۔

    ہاکان فیدان نے کہا کہ ترکیہ اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کی ایک طویل تاریخ موجود ہے دونوں ممالک 1949 سے سفارتی تعلقات رکھتے ہیں اور غزہ جنگ سے قبل دونوں ملکوں کے درمیان دوطرفہ تجارت کا حجم تقریباً 10 ارب ڈالر تک پہنچ چکا تھا تاہم غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے بعد ترکیہ نے اس تجارتی سلسلے کو معطل کر دیا تھا۔

    انہوں نے کہا کہ ترکیہ نے تجارت معطل کرتے وقت اپنا مؤقف واضح کر دیا تھا کہ اسرائیل کو فلسطینیوں کا قتلِ عام روکنا ہوگا اور غزہ کے عوام کو خوراک، رہائش، ادویات اور پانی جیسی بنیادی ضروریات تک رسائی دینے میں حائل رکاوٹیں ختم کرنا ہوں گی اگر یہ شرائط پوری ہو جائیں تو تعلقات معمول پر لانے میں کوئی مسئلہ نہیں، کیوں کہ ترکیہ دو ریاستی حل کا حامی ہے۔

    ترک وزیر خارجہ نے بعض اسرائیلی سیاست دانوں کی جانب سے ترکیہ کو ممکنہ علاقائی حریف قرار دینے کے بیانات پر بھی تنقید کی، انہوں نے کہا کہ اسرا ئیل کی داخلی سیاست میں اکثر ایک ’دشمن‘ کی ضرورت محسوس کی جاتی ہے تاکہ اس کے جنگی عزائم کو جواز فراہم کیا جا سکے ہر کوئی یہ بات جانتا ہے کہ اسر ا ئیل صرف اپنی سلامتی کے لیے نہیں بلکہ مزید علاقوں پر قبضے کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

    ہاکان نے غزہ، مغربی کنارے، شام اور لبنان میں اسرائیلی فوج کی موجودگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی برادری کو اسرائیل کو ایسے اقدامات سے روکنا چاہئےجو نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی نظامِ امن و استحکام کو بھی متاثر کر رہا ہےانہوں نے زور دیا کہ مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کے لیے مسئلہ فلسطین کا منصفانہ حل اور دو ریاستی فارمولے پر پیش رفت ناگزیر ہے، جس کے بغیر خطے میں دیرپا استحکام کا حصول مشکل ہوگا۔

  • ترک اور امریکی صدور  کے درمیا ن ٹیلیفونک رابطہ

    ترک اور امریکی صدور کے درمیا ن ٹیلیفونک رابطہ

    ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا، جس میں دوطرفہ تعلقات، ایران سے جنگ بندی، شام اور لبنان کی صورتحال سمیت اہم علاقائی و عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    ترک صدارتی شعبہ مواصلات کے مطابق صدر اردوان نے ایران کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع کے امریکی فیصلے کو ’مثبت پیش رفت‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ متنازع امور کا معقول اور سفارتی حل ممکن ہے انہوں نے اس عزم کا اعادہ بھی کیا کہ ترکیہ خطے میں تنازعات کے حل کے لیے تعمیری اقدامات کی حمایت جاری رکھے گا۔

    صدر اردوان نے شام کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہاں مستقل استحکام کا قیام پورے خطے کے لیے ایک اہم کامیابی ہوگی۔ انہوں نے واضح کیا کہ ترکیہ شام کے استحکام اور تعمیر نو کے لیے اپنی حمایت بلا تعطل جاری رکھے گا جبکہ انہوں نے لبنان کی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے زور دیا کہ وہاں حالات کو مزید خراب ہونے سے روکنا ضروری ہے۔

    صدر اردوان نے انقرہ میں نیٹو سربراہی اجلاس کی تیاریوں کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ اس اجلاس کو ہر لحاظ سے کامیاب بنانے کے لیے بھرپور کوششیں جاری ہیں امریکی ریاست کیلیفورنیا میں ایک مسجد پر حالیہ حملے پر صدر ٹرمپ سے تعزیت بھی کی اور کہا کہ ترکیہ کسی بھی مذہبی گروہ کے خلاف نفرت انگیز جرائم کی مخالفت کرتا ہے۔

    دوسری جانب صدر ٹرمپ نے امریکی ریاست میری لینڈ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر اردوان کے ساتھ ہونے والی بات چیت کو ’بہت اچھی‘ قرار دیا اور ترک صدر کے ساتھ اپنے ذاتی تعلقات کو سراہا ٹرمپ نے کہا یہ اچھی بات ہے کہ میرے تعلقات بعض مضبوط رہنماؤں کے ساتھ ہیں، اردوان ایک مضبوط شخصیت ہیں اور میرے ان کے ساتھ ایسے تعلقات ہیں جیسے کسی اور کے نہیں، انہوں نے اچھا کام کیا ہے، صدر اردوان امریکا کے اہم اتحادی رہے ہیں، اگرچہ بعض لوگ اس پر شبہ کرتے ہیں، لیکن ان کے بقول ترکیہ ایک بہترین اتحادی ثابت ہوا ہے اور ترک عوام اپنے صدر کا بے حد احترام کرتے ہیں

  • ترکیہ اور تیونس میں ذوالحجہ کا چاند نظر آگیا

    ترکیہ اور تیونس میں ذوالحجہ کا چاند نظر آگیا

    تیونس اور ترکیہ میں ذوالحجہ 1447 ہجری کا چاند نظر آنے کی تصدیق کردی گئی ہے، جس کے بعد دونوں ممالک میں پیر 18 مئی کو یکم ذوالحجہ جبکہ بدھ 27 مئی کو عیدالاضحیٰ منائی جائے گی۔

    عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق تیونس پہلا اسلامی ملک بن گیا جس نے باضابطہ طور پر ذوالحجہ کے آغاز کا اعلان کیا تیونسی حکام نے ہفتہ 16 مئی کو ذوالقعدہ کی 29 تاریخ قرار دیتے ہوئے چاند نظر آنے کی تصدیق کی، جس کے بعد نئے اسلامی مہینے کے آغاز کا اعلان کردیا گیا۔

    دوسری جانب ترکیہ نے بھی پیر 18 مئی کو یکم ذوالحجہ قرار دے دیا ہے ترک حکام کے مطابق ملک میں اسلامی کیلنڈر کے تعین کے لیے فلکیاتی حسابات پر مبنی نظام استعمال کیا جاتا ہے، اسی بنیاد پر ذوالحجہ کے آغاز کی تاریخ مقرر کی گئی ترکیہ میں کئی برسوں سے روایتی رویت ہلال کے بجائے جدید سائنسی اور فلکیاتی اندازوں کے مطابق اسلامی مہینوں کا اعلان کیا جاتا ہے، جس کے باعث وہاں عیدین اور دیگر مذہبی ایام کی تاریخیں پہلے سے طے کرلی جاتی ہیں۔

    دوسری جانب سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، عمان اور بیشتر دیگر اسلامی ممالک میں آج اتوار 17 مئی کی شام ذوالحجہ کا چاند دیکھنے کے لیے رویت ہلال کمیٹیوں کے اجلاس ہوں گے سعودی سپریم کورٹ کی جانب سے شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ چاند نظر آنے کی صورت میں قریبی عدالت یا رویت ہلال مرکز کو اطلاع دیں تاکہ باضابطہ اعلان کیا جاسکے۔

    ماہرین فلکیات کا کہنا ہے کہ بیشتر خلیجی ممالک میں چاند نظر آنے کے امکانات موجود ہیں، تاہم حتمی فیصلہ رویت ہلال کمیٹیوں کے اعلان کے بعد ہی سامنے آئے گا،اگر سعودی عرب میں آج چاند نظر آگیا تو وہاں بھی یکم ذوالحجہ 18 مئی کو ہوگی اور عیدالاضحیٰ 27 مئی بروز بدھ منائی جائے گی، جبکہ وقوف عرفہ 26 مئی کو ادا کیا جائے گا۔

  • بیلجیم اور ترکیہ کے درمیان 9 دفاعی معاہدوں پر دستخط

    بیلجیم اور ترکیہ کے درمیان 9 دفاعی معاہدوں پر دستخط

    بیلجیم اور ترکیہ نے دفاعی تعاون کو فروغ دینے کے لیے 9 اہم معاہدوں پر دستخط کیے ہیں۔

    بیلجیم کے وزیر دفاع تھیو فرانکن نے انقرہ میں اپنے ترک ہم منصب یاشر گولر کے ساتھ اعلیٰ سطحی ملاقاتوں کے بعد اس پیش رفت کی تصدیق کی، اور ان معاہدوں کو دونوں ممالک کے درمیان طویل المدتی اسٹریٹیجک دفاعی شراکت داری کی جانب بڑا قدم قرار دیا ہے۔

    یہ مذاکرات بیلجیم کی ملکہ میتھلڈے کی قیادت میں جاری 4 روزہ اقتصادی مشن کے دوران ہوئے تھیو فرانکن نے انقرہ میں بیلجیم کے سفیر کی رہائش گاہ پر منعقدہ دفاعی اور ایروناٹیکل نیٹ ورکنگ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج کا دن دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک اہم پیش رفت کا دن ہے۔

    بیلجیم کی وزارت دفاع کے مطابق 6 دفاعی صنعتی معاہدوں پر بدھ کے روز انقرہ میں جبکہ مزید 3 معاہدوں پر پیر کے روز استنبول میں دستخط کیے گئے دونوں ممالک نے اعلیٰ سطحی ’لیٹر آف انٹینٹ‘ پر دستخط کے ذریعے طویل المدتی اسٹریٹیجک دفاعی شراکت داری کی بنیاد رکھ دی ہے۔

    یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب روس سے لاحق خطرات اور نیٹو میں امریکا کے ممکنہ کم ہوتے کردار کے تناظر میں یورپی ممالک اپنی دفاعی صنعتوں کو دوبارہ مضبوط بنانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

    بیلجیم نے اس موقع پر یورپی یونین کے 150 ارب یورو مالیت کے SAFE دفاعی پروگرام میں ترکیہ کی شمولیت کی بھی حمایت کی یہ پروگرام یورپ کی دفاعی صلاحیتوں کو مستحکم بنانے کے لیے متعارف کرایا گیا ہے۔

    تھیو فرانکن نے کہا کہ مذاکرات میں بیلجیئم اور ترکیہ کے درمیان سرمایہ کاری اور مشترکہ دفاعی تعاون کے مختلف پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا گیا اگرچہ انہوں نے تفصیلات فراہم نہیں کیں، تاہم ترک ڈرونز کی خریداری میں دلچسپی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ یقیناً ایک بہترین پیشرفت ہوگی، اس حوالے سے کوئی بھی فیصلہ یورپی خریداری قوانین کے مطابق کیا جائے گا۔

  • پاکستان کا سعودی دفاعی معاہدے میں ترکیہ اور قطر کی شمولیت کا اشارہ، بلومبرگ

    پاکستان کا سعودی دفاعی معاہدے میں ترکیہ اور قطر کی شمولیت کا اشارہ، بلومبرگ

    امریکی نیوز ویب سائٹ کے مطابق پاکستان نے اشارہ دیا ہے کہ ترکیہ اور قطر بھی سعودی عرب کے ساتھ اس کے باہمی دفاعی تعاون کے معاہدے کا حصہ بن سکتے ہیں۔

    امریکی نیوز ویب سائٹ ’بلومبرگ‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق وزیر دفاع خواجہ آصف نے پیر کی رات انٹرویو کے دوران کہا کہ اگر قطر اور ترکیہ بھی اس موجود ہ معاہدے میں شامل ہو جاتے ہیں تو یہ ایک خوش آئند پیش رفت ہو گی اس اقدام کا مقصد ہم خیال ممالک کے درمیان تعاون کا ایک وسیع پلیٹ فارم بنانا ہے تاکہ علاقائی استحکام اور اجتماعی سلامتی کو مزید تقویت دی جا سکے اس انتظام کو فی الحال حتمی شکل دی جا رہی ہے اور مستقبل میں اسے ایک وسیع تر علاقائی سیکیورٹی فریم ورک کی شکل دی جا سکتی ہے۔

    یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان تنازع نے خلیجی ممالک کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اور توانائی کی ترسیل سمیت سمندری راستوں کی حفاظت کے حوالے سے سنگین خدشات پیدا ہو گئے ہیں پاکستان اس بحران کے دوران ایک اہم سفارتی ثالث کے طور پر ابھرا ہے جو واشنگٹن اور تہران کے درمیان رابطوں میں آسانی پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ مسلسل مذاکرات اور کشیدگی میں کمی کی اپیل کر رہا ہے۔

    واضح رہے کہ سعودی عرب اور پاکستان نے ستمبر 2025 میں ایک اسٹریٹجک دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے جس کے تحت کسی بھی ایک ملک کے خلاف جارحیت کو دونوں ممالک کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا ایران کی جانب سے علاقائی اہداف پر جوابی حملوں کے بعد سے دونوں ممالک نے سیکیورٹی کوآرڈینیشن میں مزید اضافہ کر دیا ہے اور گزشتہ ماہ پاکستانی فوج کا ایک دستہ بھی سعودی عرب پہنچا ہے اگر ترکیہ اور قطر بھی اس انتظام کا حصہ بنتے ہیں تو اس سے کئی بااثر مسلم ممالک ایک پلیٹ فارم پر اکٹھے ہو جائیں گے، جو خطے کی سیکیورٹی اور استحکام میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

  • وزیر اعظم  کا  ترکیہ میں  تباہ کن سیلاب سے نقصان پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار

    وزیر اعظم کا ترکیہ میں تباہ کن سیلاب سے نقصان پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار

    وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے ترکیہ کے مختلف صوبوں میں آنے والے تباہ کن سیلاب سے نقصان پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے ایک بیان میں شہباز شریف نے حکومتِ پاکستان اور عوام کی جانب سے سیلاب سے دوچار ترک عوام سے دلی ہمدردی اور ہلاکتوں پر تعزیت کا بھی اظہار کیا ہے کہا کہ رجب طیب اردوان اور ترکیہ کے برادر عوام کے ساتھ اس مشکل گھڑی میں مکمل یکجہتی کا اظہار کیا جاتا ہے۔

    بیان میں متاثرہ خاندانوں سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان کی دعائیں اور نیک تمنا ئیں اس قدرتی آفت سے متاثر ہونے والے تمام افراد کے ساتھ ہیں،پاکستان اس آزمائش کی گھڑی میں ترکیہ کے ساتھ کھڑا ہے اور اگر ضرورت پڑی تو امدادی اور بحالی کی کوششوں میں ہر ممکن انسانی اور مادی تعاون فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔

    واضح رہے کہ ترکیہ میں سیلاب اور خراب موسم کے باعث غازی انتیپ، شانلی اورفہ اور آدی یمان ملحقہ علاقوں میں قیمتی انسانی جانوں اور املاک کا نقصان ہوا ہے-

  • سپریم کورٹ پاکستان کا ترکیہ اور چین کے ساتھ عدالتی تعاون  وسیع

    سپریم کورٹ پاکستان کا ترکیہ اور چین کے ساتھ عدالتی تعاون وسیع

    سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کے آئی ٹی افسران کے وفود ترکیہ اور چین کا دورہ کریں گے-

    ترکیہ اور چین کے ساتھ اسٹریٹجک عدالتی شراکت داری کو فروغ دیا جا رہا ہے، جس کا مقصد پاکستان کے نظامِ انصاف کو جدید، ٹیکنالوجی پر مبنی اور عالمی معیار کے مطابق بنانا ہے۔ اس سلسلے میں آئینی عدالت ترکیہ اور Supreme People’s Court of China کے ساتھ مفاہمتی یادداشتوں پر عملدرآمد جاری ہے، جس کے تحت عدالتی تبادلے، تربیت، ٹیکنالوجی انضمام اور استعداد کار میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔

    ان اقدامات کے تحت ضلعی عدلیہ کے میرٹ پر منتخب ججز کو عالمی سطح پر تربیتی مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں، جبکہ دور دراز علاقوں جیسے گوادر، لکی مروت، گھوٹکی، بنوں، کوئٹہ اور مٹھی سے تعلق رکھنے والےججز کو بھی بین الاقوامی فورمز میں نمائندگی دی جا رہی ہے۔ خواتین ججز کی عالمی سطح پر مؤثر اور بھرپور شمولیت کو یقینی بنایا گیا ہے، جبکہ پاکستانی عدالتی وفود ترکیہ اور چین میں کانفرنسز اور تربیتی پروگرامز میں شرکت کر رہے ہیں۔

    مزید برآں سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کے آئی ٹی افسران کے وفود بھی ان ممالک کا دورہ کریں گے تاکہ جدید عدالتی ڈیجیٹل نظام اور مصنوعی ذہانت کے استعمال کا عملی جائزہ لیا جا سکے سپریم کورٹ کے مطابق یہ مفاہمتی یادداشتیں نہ صرف فعال بلکہ نتیجہ خیز ثابت ہو رہی ہیں، اور اس عالمی تعاون کے ذریعے پاکستان کے نظامِ انصاف میں اصلاحات اور ادارہ جاتی ترقی کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے۔

  • وزیراعظم شہباز شریف سعودی عرب، قطر اور ترکیہ کے اہم سفارتی دورے پر آج روانہ ہوں گے

    وزیراعظم شہباز شریف سعودی عرب، قطر اور ترکیہ کے اہم سفارتی دورے پر آج روانہ ہوں گے

    وزیراعظم شہباز شریف 15 سے 18 اپریل تک سعودی عرب، قطر اور ترکیہ کے اہم سرکاری دورے کریں گے-

    سعودی عرب اور قطر کے دورے دوطرفہ نوعیت کے ہوں گے، جن کے دوران وزیراعظم دونوں ممالک کی قیادت سے ملاقاتیں کریں گے۔ ان ملاقاتوں میں جاری دوطرفہ تعاون، باہمی تعلقات کے فروغ کے ساتھ ساتھ خطے میں امن و سلامتی کی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

    وزیراعظم ترکیہ کا دورہ بھی کریں گے جہاں وہ پانچویں انطالیہ ڈپلومیسی فورم میں شرکت کریں گے۔ فورم کے دوران وزیراعظم دیگر عالمی رہنماؤں کے ہمراہ لیڈرز پینل میں شرکت کریں گے اور عالمی فورم پر پاکستان کا مؤقف پیش کریں گے۔

    فورم کے موقع پر وزیراعظم کی رجب طیب ایردوان سمیت دیگر اہم عالمی رہنماؤں سے دوطرفہ ملاقاتوں کی بھی توقع ہے اس فورم میں پاکستان کی شرکت عالمی سطح پر تعمیری سفارت کاری، کثیرالجہتی تعاون اور بین الاقوامی برادری کے ساتھ اہم عالمی امور پر بامقصد روابط کے عزم کی عکاسی کرتی ہے۔

    وزیراعظم کے ہمراہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطااللہ تارڑ، وزیراعظم کے معاونِ خصوصی سید طارق فاطمی اور دیگر اعلیٰ حکام بھی وفد میں شامل ہوں گے۔