Baaghi TV

Tag: ترکیہ

  • ارطغرل کے اداکار جلال آل کا پاکستان آنے کا اعلان

    ارطغرل کے اداکار جلال آل کا پاکستان آنے کا اعلان

    شہرۂ آفاق ڈرامہ دریلیش: ارطغرل میں عبدالرحمٰن الپ کے کردار سے دنیا بھر میں شہرت حاصل کرنےوالے ترک اداکار جلال آل نے جلد پاکستان آنے کا اعلان کیا ہے۔

    جلال آل نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری کے ذریعے پاکستانی مداحوں کے لیے خصوصی پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ میں آپ سب کو بہت یاد کرتا ہوں اور جلد ہی پاکستان کا دورہ کروں گا، میرے پیارے پاکستانی بھائیوں اور بہنو! میں آپ سب کو بہت یاد کرتا ہوں، میں بہت جلد پاکستان واپس آ رہا ہوں اور آپ سب کے لیے بہت سے سرپرائزز بھی لے کر آؤں گا، کیا آپ پاکستان میں اس شاندار ملاقات کے لیے تیار ہیں؟

    انہوں نے اپنے پیغام کے اختتام پر دل دل پاکستان اور جان جان ترکیہ بھی تحریر کیا۔

    جلال آل کے مطابق وہ ایک معروف ترک برانڈ کے سلسلے میں پاکستان کا دورہ کریں گے، تاہم انہوں نے اس تعاون یا اپنے دورے کی تاریخ سے متعلق مزید تفصیلات شیئر نہیں کیں۔

    جلال آل دریلیش: ارطغرل کے علاوہ 2012ء کی تاریخی فلم فتح 1453 میں بھی اداکاری کر چکے ہیں، جبکہ ایوارڈ یافتہ مختصر فلم Zemberek کے شریک پروڈیوسر بھی رہے ہیں،اداکاری کے ساتھ ساتھ جلال آل فلاحی سرگرمیوں میں بھی سرگرم ہیں اور ترک ریڈ کریسنٹ سمیت مختلف بین الاقوامی امدادی اداروں کے ساتھ انسانی خدمت کے منصوبوں میں حصہ لیتے رہے ہیں۔

  • ترکیہ میں 5.0 شدت کا زلزلہ

    ترکیہ میں 5.0 شدت کا زلزلہ

    ترکیہ کے مشرقی صوبے ملاتیا میں ہفتے کی صبح 5.0 شدت کا زلزلہ آیا، جس کے جھٹکے کئی قریبی صوبوں میں بھی محسوس کیے گئے۔

    ترکیہ کے ڈیزاسٹر اینڈ ایمرجنسی مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق زلزلہ مقامی وقت کے مطابق صبح 6 بج کر 20 منٹ پر آیا، جس کا مرکز صوبہ ملاتیا کے ضلع بطلغاز ی میں تھا، جبکہ اس کی گہرائی 15.59 کلومیٹر ریکارڈ کی گئی،زلزلے کے جھٹکے ملاتیا کے علاوہ الازیغ، آدی یامان، تونج ایلی اور شانلی عرفہ سمیت قریبی صوبو ں میں بھی محسوس کیے گئے، جس کے باعث شہری گھروں سے باہر نکل آئے۔

    ابتدائی جائزے کے مطابق زلزلے سے کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی، تاہم متعلقہ ادارے صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں،ترکیہ کے وزیر ماحولیات، شہری ترقی اور موسمیاتی تبدیلی مراد کورم نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا کہ بطلغازی میں آنے والے زلزلے کے بعد اب تک کسی ناخوشگوار واقعے کی اطلاع نہیں ملی، تاہم تمام موصول ہونے والی اطلاعات کا تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے۔

  • فیلڈ مارشل عاصم منیر 2 روزہ سرکاری دورے پر ترکیہ پہنچ گئے

    فیلڈ مارشل عاصم منیر 2 روزہ سرکاری دورے پر ترکیہ پہنچ گئے

    فیلڈ مارشل عاصم منیر 2 روزہ سرکاری دورے پر ترکیہ پہنچ گئے، جہاں ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز 2 روزہ سرکاری دورے پر ترکیہ پہنچ گئے۔ ترکیہ پہنچنے پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا گرم جوشی سے استقبال کیا گیا۔

    سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ دورے کے دوران فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ترکیہ کی عسکری اور سیاسی قیادت سے اہم ملاقاتیں کریں گے، جن میں باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

  • شمالی کوریا کی نیٹو سربراہی اجلاس کی شدید مذمت

    شمالی کوریا کی نیٹو سربراہی اجلاس کی شدید مذمت

    شمالی کوریا کی نیٹو سربراہی اجلاس کی شدید مذمت کہا کہ جوہری ہتھیاروں کے خاتمےکا آغاز پہلے امریکی اتحادیوں سے ہونا چاہیے۔

    شمالی کوریا کے سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق شمالی کوریا کی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکا اور اس کے اتحادی اسلحے کے ذخائر میں تیزی سے اضافہ کرنےکی پالیسی پر عمل پیرا ہیں، نیٹو کے حالیہ اجلاس سے واضح ہوگیا کہ نیٹو ایک ایسا اتحاد ہے جو جنگ اور محاذ آرائی کے لیے تشکیل دیا گیا ہے۔

    بیان میں کہا گیا کہ مغربی ممالک کی جانب سے شمالی کوریا کو جوہری ہتھیار ترک کرنے پر مجبور کرنے کی کوششیں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہیں، اس کے بجائے اگر جوہری ہتھیاروں کے خاتمے کی کوئی کوشش ہونی چاہیے تو اس کا آغاز نیٹو کے ان رکن ممالک سے ہونا چاہیے جو جوہری ہتھیاروں کے مشترکہ انتظامات میں شریک ہیں،شمالی کوریا اپنے خودمختار حقوق کو ذمہ دارانہ انداز میں استعمال کرتے ہوئے اپنی خودمختاری، قومی سلامتی اور خطے میں امن کے تحفظ کو یقینی بناتا رہےگا۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز سرکاری خبر رساں ادارے نے رپورٹ کیا تھا کہ شمالی کوریا نے اپنی جوہری قوت کو مزید مضبوط بنانےکا فیصلہ کیا ہے، جب کہ شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اِن ملکی فوج کو جدید خطوط پر استوار کرنے پر زور دے رہے ہیں۔

  • میکرون کو ترک خاتون اول کا بوسہ لینے کی کوشش پر غیرمتوقع صورتحال کا سامنا

    میکرون کو ترک خاتون اول کا بوسہ لینے کی کوشش پر غیرمتوقع صورتحال کا سامنا

    نیٹو سربراہی اجلاس کے موقع پر ترکیہ میں ہونے والی استقبالیہ تقریب کے دوران فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کو اس وقت غیر متوقع صورتحال کا سامنا کرنا پڑا جب انہوں نے ترک خاتون اول امینہ اردوان کا ہاتھ چومنے کی کوشش کی، تاہم امینہ اردوان نے اپنا ہاتھ روک لیا۔

    ترکیہ کی میزبانی میں ہونے والے دو روزہ نیٹو سربراہی اجلاس سے قبل شریک سربراہانِ مملکت و حکومت کے اعزاز میں استقبالیہ تقریب کا اہتمام کیا گیا، جہاں عالمی رہنما ایک دوسرے سے ملاقات اور مصافحہ کر رہے تھے اسی دوران فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے ترکیہ کی خاتون اول امینہ اردوان سے مصافحہ کرتے ہوئے ان کا ہاتھ چومنے کے لیے جھکنے کی کوشش کی، تاہم امینہ اردوان نے اپنا ہاتھ پیچھے روک لیا اس کے بعد میکرون نے معمول کے مطا بق مصافحہ کیا اور پھر اپنی اہلیہ بریجٹ ماکروں، ترک صدر رجب طیب اردوان اور امینہ اردوان کے ساتھ یادگاری تصویر بنوائی،ان مناظر کی ویڈیو سوشل میڈیا پر پھیل گئی-

    ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اس مختصر لمحے کے باوجود تقریب کا ماحول معمول کے مطابق رہا میکرون، ان کی اہلیہ، صدر اردوان اور امینہ اردوان نے خوشگوار انداز میں ایک دوسرے سے گفتگو کی، مصافحہ کیا اور یادگاری تصویر بھی بنوائی، جبکہ کسی کے چہرے پر ناگواری یا تناؤ کے آثار دکھائی نہیں دیے۔

    یہ ملاقات سربراہی اجلاس کے آغاز سے قبل ہوئی، جس کی میزبانی ترکیہ دو دنوں تک کر رہا ہے۔ اس اجلاس میں اتحاد کے مستقبل، دفاعی اخراجات میں اضافے، یوکرین میں جنگ کے اثرات اور علاقائی کشیدگی کے ساتھ ساتھ امریکی سیاست میں ہونے والی تبدیلیوں کے تناظر میں اتحاد کے سیکورٹی کردار کو دوبارہ ترتیب دینے سے متعلق بات چیت شامل ہے۔

    ترک میڈیا کے مطابق بظاہر ایسا محسوس ہوا کہ فرانسیسی صدر استقبالیہ تقریب کے دوران رائج سفارتی پروٹوکول کو مدنظر نہیں رکھ سکے، جس کے باعث یہ صور تحال پیدا ہوئی، یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں ہے اس سے قبل 2018 میں بھی پیرس کے ایلیسی محل میں ترک صدر رجب طیب اردوان کے استقبا ل کے موقع پر ایمانوئل میکرون نے امینہ اردوان کا ہاتھ چومنے کی کوشش کی تھی، تاہم اس وقت بھی انہوں نے اپنا ہاتھ پیچھے کھینچ لیا تھا اس واقعے کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر خاصی زیر بحث رہی تھی اور مبصرین نے اسے ترک خاتون اول کی مذہبی اور روایتی اقدار سے وابستگی قرار دیا تھا –

    اس کے علاوہ جون 2025 میں ہالینڈ میں نیٹو سربراہی اجلاس کے موقع پر بھی ایمانوئل میکرون کو اسی نوعیت کے پروٹوکول سے متعلق ردعمل کا سامنا کرنا پڑا تھا وائرل ہونے والی ویڈیو میں انہیں ہالینڈ کی ملکہ میکسیما اور شہزادی آریانا کا ہاتھ چومنے کی کوشش کرتے ہوئے دیکھا گیا، جس کے بعد مختلف ممالک کے سفارتی آداب، اسلامی طریقوں اور سرکاری تقریبات میں ہاتھ چومنے کی روایت پر بھی سوشل میڈیا پر بحث شروع ہو گئی۔

  • ٹرمپ نیٹو کے 36 ویں سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے ترکیہ پہنچ گئے

    ٹرمپ نیٹو کے 36 ویں سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے ترکیہ پہنچ گئے

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ دنیا کے سب سے بڑے فوجی اتحاد نیٹو کے 36 ویں سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ پہنچ گئے ہیں-

    مریکی صدر کو لے جانے والا خصوصی طیارہ انقرہ کے ہوائی اڈے پر اترا، جہاں اجلاس کے دوران نیٹو کے مستقبل، یورپی سلامتی اور رکن ممالک کے دفاعی اخراجات سمیت اہم معاملات پر بات چیت متوقع ہے حالانکہ اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیٹو کے رکن ملکوں پر فوجی اخراجات بڑھانے کے لیے اپنا دباؤ دوبارہ بڑھا دیا ہے اس دباؤ کے جواب میں توقع کی جا رہی ہے کہ یورپی ممالک اربوں ڈالر کے نئے فوجی معاہدوں کا اعلان کریں گے تاہم امریکی صدر نے ایک بار پھر اس اجلاس سے قبل نیٹو کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

    عرب نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس اجلاس سے قبل نیٹو کے رکن ممالک پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اتحادی ممالک امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ میں مناسب تعاون نہیں کر رہے نیٹو کے کئی ارکان اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

    اُدھر یورپی حکام نے صدر ٹرمپ کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے بڑی حد تک اپنی ذمہ داریاں پوری کیں انہوں نے امریکا کو اپنے فضائی راستے اور فوجی اڈے استعمال کرنے کی اجازت دی، حالانکہ انہیں ایران کے خلاف کارروائی سے قبل اعتماد میں نہیں لیا گیا تھا۔

    صدر ٹرمپ اس سے قبل بھی نیٹو پر شدید تنقید کرتے رہے ہیں رواں سال اپریل میں انہوں نے کہا تھا کہ میں نیٹو سے نکلنے پر بالکل غور کر رہا ہوں، کیونکہ مجھے اس اتحاد سے شدید ناگواری ہے۔

    یہ پہلا موقع نہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے نیٹو سے علیحدگی کی بات کی ہو اپنے پہلے صدارتی دور میں 2018 کے دوران بھی انہوں نے خبردار کیا تھا کہ اگر دیگر رکن ممالک دفاعی اخراجات میں اضافہ نہیں کرتے تو امریکا اتحاد چھوڑ سکتا ہے۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق انقرہ میں ہونے والا نیٹو سربراہی اجلاس اس لحاظ سے اہم ہے کہ اس میں امریکا اور اس کے اتحادیوں کے درمیان دفاعی تعاون، مشترکہ سلامتی اور اتحاد کے مستقبل سے متعلق اہم فیصلے زیر غور آ سکتے ہیں۔

    واضح رہے کہ اس اجلاس میں نیٹو کے تمام 32 ممالک کے بڑے رہنما شریک ہیں، لیکن اس کے ساتھ ساتھ دو ایسے ملکوں کے صدر بھی آئے ہیں جو نیٹو کا حصہ نہیں ہیں، جن میں یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی اور جنوبی کوریا کے لی جے میونگ شامل ہیں اس کے علاوہ آسٹریلیا، جاپان اور نیوزی لینڈ نے بھی اپنے وزیرِ دفاع یا وزرائے خارجہ بھیجے ہیں، اور خلیجی ممالک جیسے بحرین، کویت، قطر اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) بھی اپنے وزیر بھیج رہے ہیں جو امریکا، اسرائیل اور ایران کی جنگ کی وجہ سے متاثر ہو رہے ہیں۔

    الجزیرہ کے مطابق دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ نیٹو امریکا کے بغیر بھی کسی نہ کسی صورت میں اپنا وجود برقرار رکھ سکتا ہے اور یورپی ممالک ایک الگ دفاعی اتحاد بھی قائم کر سکتے ہیں، تاہم امریکا کی علیحدگی سے یورپ کو شدید دفاعی اور سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا۔

    ماہرین کے مطابق یورپ کئی اہم دفاعی شعبوں میں امریکا پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے ان میں انٹیلی جنس، نگرانی، جاسوسی، سیٹلائٹ کے ذریعے معلومات کا حصول، فوجی رسد کی فراہمی، فضائی اور میزائل دفاعی نظام جیسی اہم صلاحیتیں شامل ہیں۔

    دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر امریکا نیٹو سے الگ ہو جاتا ہے تو یورپی ممالک کو ان صلاحیتوں کا متبادل تیار کرنے میں کم از کم ایک دہائی یا اس سے بھی زیادہ وقت لگ سکتا ہے، جبکہ اس مقصد کے لیے تقریباً ایک کھرب ڈالر خرچ ہونے کا امکان ہے۔

    دوسری جانب ماہرین کا کہنا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنی مرضی سے فوری طور پر امریکا کو نیٹو سے نہیں نکال سکتے امریکی قانون کے تحت نیٹو سے باضابطہ علیحدگی کے لیے امریکی سینیٹ میں دو تہائی اکثریت یا پھر کانگریس سے قانون کی منظوری درکار ہوگی فی الحال ایسا ہونا آسان دکھائی نہیں دیتا کیونکہ امریکا کی دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کے متعدد قانون ساز اب بھی نیٹو کی بھرپور حمایت کرتے ہیں اسی وجہ سے مستقبل قریب میں امریکا کے نیٹو سے باضابطہ انخلا کے امکانات محدود سمجھے جا رہے ہیں۔

  • پاک ترک  قیادت اور عوام کے درمیان اعتماد ہمارا اثاثہ ہے،اسحاق ڈار

    پاک ترک قیادت اور عوام کے درمیان اعتماد ہمارا اثاثہ ہے،اسحاق ڈار

    نائب وزیراعظم ، وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ موجودہ دور کی سفارتکاری میں معیشت بھی انتہائی اہم جزو ہے۔

    استنبول میں پاکستان ترکیہ بزنس ٹو بزنس (بی ٹی بی )کانفرنس سے خطاب میں اسحاق ڈار نے کہا کہ بدلتی صورتحال کے تناظر میں معاشی شراکت داری کو وسعت دینا ضرور ی ہے پاکستان اور ترکیہ نے ہمیشہ ایک دوسرے کا ساتھ دیا، دونوں ملکوں کی قیادت اور عوام کے درمیان اعتماد ہمارا اثاثہ ہے،موجودہ دور کی سفارت کار ی میں معیشت بھی انتہائی اہم جزو ہے، تجارت سرمایہ کاری میں اضافے کےلیے رکاوٹوں کو دور کرنے کےلیے پرعزم ہیں،کاروبار دوست ماحول کی فراہمی ہماری ترجیح ہے، آئی ٹی، کان کنی، توانائی سمیت مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کا خیرمقدم کریں گے۔

    قبل ازیں کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکراتی عمل میں ہم نے خلوص نیت سے کوششیں کیں، ترک صدر رجب طیب اردوان کی مخلصانہ حمایت سے پاکستان کو ثالثی کے کردار کا موقع ملا، لیکن یہ کٹھن سفارتی مشن ہر گز آسان نہیں تھا، تاہم اب اللہ کے فضل سے جنگ بندی ہوگئی ہے،اب ضروری ہے کہ امن عمل سے فائدہ اٹھایا جائے، نئے امکانات کو دوطرفہ تعاون اور علاقائی خوشحالی کے لیے استعمال کرنا ہے۔

  • ترکیہ پاکستان کا مضبوط اور مخلص اتحادی ہے،وزیراعظم

    ترکیہ پاکستان کا مضبوط اور مخلص اتحادی ہے،وزیراعظم

    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ترکیہ پاکستان کا مضبوط اور مخلص اتحادی ہے، استنبول کا خوبصورت شہر ایشیا اور یورپ کو ملاتا ہے۔

    ترکیہ کے شہر استنبول میں پاکستان ترکیہ بزنس ٹو بزنس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہاکہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکراتی عمل میں ہم نے خلوص نیت سے کوششیں کیں، ترک صدر رجب طیب اردوان کی مخلصانہ حمایت سے پاکستان کو ثالثی کے کردار کا موقع ملا، لیکن یہ کٹھن سفارتی مشن ہر گز آسان نہیں تھا، تاہم اب اللہ کے فضل سے جنگ بندی ہوگئی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ اب ضروری ہے کہ امن عمل سے فائدہ اٹھایا جائے، نئے امکانات کو دوطرفہ تعاون اور علاقائی خوشحالی کے لیے استعمال کرنا ہے، ترکیہ پاکستان کا مضبوط اور مخلص اتحادی ہے، استنبول کا خوبصورت شہر ایشیا اور یورپ کو ملاتا ہے، دونوں ملکوں کے لازوال رشتے کی ایک تاریخ ہے، اس منفرد اور تاریخی تعلق کی بنیاد ترکیہ کی جنگ آزادی کے دوران رکھی گئی۔

    وزیراعظم نے کہاکہ علی برادران کی قیادت میں برصغیر کے مسلمانوں نے ترکیہ کی جدوجہد کی حمایت کی، ترکیہ نے ہر مشکل گھڑی میں پاکستان کا بھرپور ساتھ دیا جس پر ہم ترک قیادت کے شکر گزار ہیں، ترک سرمایہ کار پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھا سکتے ہیں، آئی ٹی، اے آئی، زراعت اور دیگر شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع موجود ہیں۔

    وزیراعظم نے کہاکہ وقت کے ساتھ ساتھ بزنس ٹو بزنس تعاون مزید مضبوط ہوگا، ڈسکوز کی نجکاری اور ٹرانسمیشن سسٹم کی بہتری کے لیے ترکیہ کے تجربات سے فائدہ اٹھانا ہے،فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان نے دشمن کو شکست فاش دی، جب ہم پر جنگ مسلط کی گئی تو اپنی خود مختاری اور وقار کا دفاع کیا۔

  • اسحاق ڈار کی ترک ادارے ’اویاک‘ کے سی ای او سے ملاقات

    اسحاق ڈار کی ترک ادارے ’اویاک‘ کے سی ای او سے ملاقات

    نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے پاکستان ترکیہ بزنس کانفرنس کے موقع پر ترکیہ کے معروف ادارے اویاک کے جنرل مینیجر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر پروفیسر ڈاکٹر مرات یالچنتاش سے ملاقات کی۔

    ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان سرمایہ کاری، صنعتی تعاون اور اسٹریٹجک اقتصادی شراکت داری کے فروغ پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا، ملاقات کے دوران پاکستان اور ترکیہ کے درمیان سرمایہ کاری کے حجم میں اضافے، صنعتی تعاون کو مزید مضبوط بنانے اور اقتصادی شراکت داری کے نئے مواقع تلاش کرنے پر گفتگو ہوئی۔

    پروفیسر ڈاکٹر مرات یالچنتاش اور ان کے وفد نے پاکستان کی معاشی ترقی اور اقتصادی پیشرفت کو سراہتے ہوئے ملک میں سرمایہ کاری کے مواقع میں گہری دلچسپی کا اظہار کیاانہوں نے پاکستان میں مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے امکانات کا جائزہ لینے کے عزم کا بھی اظہار کیا۔

    ملاقات میں وفاقی وزیر برائے بحری امور، وفاقی وزیر توانائی، وفاقی وزیر پیٹرولیم، وفاقی وزیر نجکاری، وفاقی وزیر آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن اور ترکیہ میں پاکستان کے سفیر بھی شریک تھے۔

    قبل ازیں وزیراعظم پاکستان شہباز شریف سے ترکیہ کی معروف ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی ’ترک سیل‘ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر علی طحہٰ کوچ نے استنبول میں ملاقات کی، جس میں پاکستان اور ترکیہ کے درمیان ڈیجیٹل اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے اور مشترکہ منصوبوں کے امکانات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

    ملاقات کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے ڈیجیٹل اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں دونوں برادر ممالک کے درمیان تعاون کو مزید گہرا کرنے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے حکومت کے ’پاکستان ترکیہ ڈیجیٹل کوریڈور‘ کے وژن سے آگاہ کیا،انہوں نے کہاکہ اس منصوبے کا مقصد علاقائی ڈیجیٹل رابطوں کو مضبوط بنانا، سرحد پار محفوظ ڈیٹا کے تبادلے کو آسان بنانا اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کے انضمام کو فروغ دینا ہے۔

  • اسحاق ڈار کی قاہرہ میں سفارتی ملاقات اور غیر رسمی عشائیے میں شرکت کی

    اسحاق ڈار کی قاہرہ میں سفارتی ملاقات اور غیر رسمی عشائیے میں شرکت کی

    پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں ایک سفارتی ملاقات اور غیر رسمی عشائیے میں شرکت کی، جہاں خطے کے اہم ممالک کے وزرائے خارجہ کے درمیان باہمی روابط اور علاقائی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    اسحاق ڈار نے ایکس پر جاری اپنے ایک بیان میں مصر کے وزیر خارجہ ڈاکٹر بدر عبدالعاطی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ نیل کے کنارے قاہرہ شہر میں شاندار میزبانی اور دوستانہ ماحو ل میں ایک یادگار شام گزری، انہوں نے ترکیہ کے وزیر خارجہ ہاکان فدان اور سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان کی موجودگی کو بھی ونڈر فل قرار دیا-

    انہوں نے کہا کہ اس ملاقات میں دوستانہ تعلقات، باہمی تعاون اور خطے میں استحکام سے متعلق امور پر مثبت اور بامعنی گفتگو ہوئی شرکاء نے خطے میں درپیش چیلنجز اور مشترکہ تعاون کے امکانات پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

    سفارتی ذرائع کے مطابق اس نوعیت کی ملاقاتیں مشرق وسطیٰ اور خطے میں بڑھتی ہوئی سفارتی سرگرمیوں کا حصہ ہیں، جن کا مقصد ممالک کے درمیان رابطوں کو مضبوط بنانا اور مختلف امور پر مشترکہ فہم پیدا کرنا ہے۔