Baaghi TV

Tag: ترکیہ

  • پاکستان اور ترکیہ کا خطے میں مشترکہ دفاعی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق

    پاکستان اور ترکیہ کا خطے میں مشترکہ دفاعی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق

    وزیر دفاع خواجہ آصف نے استنبول میں اپنے ترک ہم منصب یاشار گولر سے اہم ملاقات کی، جس میں علاقائی اور باہمی دفاعی تعاون کو وسعت دینے پر اتفاق کیا گیا،اس موقع پر ترکیہ کے چیف آف جنرل اسٹاف جنرل سلچوک بائرکتار اوغلو بھی موجود تھے۔

    ملاقات میں پاکستان اور ترکیہ نے خطے میں مشترکہ دفاعی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا ،یہ ملاقات تینوں برادر ممالک پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان 7 اگست کو مقدس شہر مکہ مکرمہ میں دستخط کیے جانے والے ’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ ‘ کے تحت قائم ’اسٹریٹجک پولیٹیکل اینڈ ڈیفنس کمیٹی‘ کے پہلے باقاعدہ اجلاس سے قبل ہوئی۔ اس کمیٹی کا یہ تاریخی پہلا اجلاس دفاعی اور سفارتی تعاون کی عملی شکل فراہم کرنے کے لیے استنبول میں منعقد ہو رہا ہے۔

    اجلاس میں تینوں ممالک کے وزرائے خارجہ، وزرائے دفاع اور عسکری قیادت شرکت کر رہی ہے، ترک وزارت خارجہ کے مطابق ترکیہ کی نمائندگی وزیر خارجہ حاقان فیدان، وزیر دفاع یاشار گولر اور چیف آف جنرل اسٹاف جنرل سلچوک بائرکتار اوغلو کر رہے ہیں۔

    دفتر خارجہ اسلام آباد کے جاری کردہ بیان کے مطابق، پاکستان کی جانب سے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر دفاع خواجہ آصف، اور چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی کر رہے ہیں،نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر اہم سرکاری دورے پر استنبول پہنچ چکے ہیں۔

    واضح رہے کہ استنبول کا یہ اجلاس مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ پر عملدرآمد کی سمت میں پہلا مضبوط ادارہ جاتی قدم ہے،اس معاہدے کے تحت طے پایا ہے کہ تینوں میں سے کسی بھی ایک ملک پر مسلح حملہ تمام تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا، جس کا بنیادی مقصد نیٹو (NATO) کے آرٹیکل 5 کی طرز پر اجتماعی دفاعی نظام کو مضبوط بنانا ہے، تینوں ممالک نے اس نظام کو خالصتاً دفاعی اور اجتماعی طاقت کو مضبوط کرنے کا ذریعہ قرار دیا ہے جس کا مقصد کسی مخصوص ملک کو نشانہ بنانا نہیں ہے۔

  • ترکیہ کے یومِ فتح پر آئی ایس پی آر کا پاک ترک دوستی سے بھرپور نغمہ ’دو دل، ایک جان‘ جاری

    ترکیہ کے یومِ فتح پر آئی ایس پی آر کا پاک ترک دوستی سے بھرپور نغمہ ’دو دل، ایک جان‘ جاری

    ترکیہ کے 104ویں یومِ فتح کے موقع پر انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) نے پاکستان اور ترکیہ کے درمیان لازوال برادرانہ تعلقات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے خصوصی نغمہ ’دو دل، ایک جان‘ جاری کردیا۔

    پاک ترک دوستی کے جذبے سے سرشار اس خصوصی نغمے میں پاکستانی فنکاروں نے اردو اور ترک زبان میں اپنی آواز کا جادو جگایا ہے جبکہ نغمے کے ذریعے دونوں برادر ممالک کے درمیان تاریخی تعلقات، مشترکہ ثقافت، اقدار، بھائی چارے اور باہمی محبت کو خوبصورت انداز میں اجاگر کیا گیا ہے۔

    دو دل، ایک جان‘ کی موسیقی علی مصطفیٰ نے ترتیب دی ہے جبکہ اس کی کمپوزیشن کامران اللہ خان اور سامعہ گوہر نے کی ہے، نغمے کو عثمان رئیس اور ڈاکٹر مبشرہ حفیظ نے اپنی آواز سے سجایا ہےاس منفرد نغمے کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں اردو اور ترک زبان کا حسین امتزاج پیش کیا گیا ہے اور نغمے میں شامل تمام گائیک اور فنکار پاکستانی ہیں، فنکاروں نے اپنی آواز اور فن کے ذریعے پاکستان اور ترکیہ کے درمیان موجود گہری دوستی اور قر بت کے جذبات کو مؤثر انداز میں پیش کیا ہے۔

    نغمے کی موسیقی میں پاکستان کے روایتی ساز رباب کے ساتھ ترکیہ کے معروف روایتی ساز باقلاما اور دربوکا کو بھی شامل کیا گیا ہے، جس سے دونوں ممالک کی موسیقی اور ثقافتی ورثے کا خوبصورت امتزاج سامنے آتا ہے ’دو دل، ایک جان‘ نہ صرف ایک موسیقی کا شاہکار ہے بلکہ یہ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان قائم تاریخی اور برادرانہ تعلقات کی عکاسی بھی کرتا ہےنغمے کے ذریعے دونوں ممالک کے عوام کے درمیان محبت، بھائی چارے، مشترکہ اقدار اور ثقافتی رشتے کو اجاگر کیا گیا ہے۔

    آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کیا گیا یہ خصوصی نغمہ ترکیہ کے یومِ فتح کے موقع پر پاک ترک دوستی کے عزم کی تجدید اور دونوں برادر ممالک کے درمیا ن دیرینہ تعلقات کو خراجِ تحسین پیش کرنے کی خوبصورت کاوش قرار دیا جا رہا ہے۔

  • پاکستان ،سعودی عرب اور ترکیہ اتحاد خطے کی سلامتی کے لیے اہم ہے،وزیراعظم شہباز شریف

    پاکستان ،سعودی عرب اور ترکیہ اتحاد خطے کی سلامتی کے لیے اہم ہے،وزیراعظم شہباز شریف

    وزیراعظم شہباز شریف نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر امریکی صدر کی حمایت کا خیرمقدم کیا ہے۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹروتھ سوشل پر اپنے بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان نے حال ہی میں اور بالآخر مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے ہیں، جو خطے میں باہمی دفاعی تعاون کی جانب اہم قدم ہے۔

    امریکی صدر کی جانب سے دئیے گئے بیان پر اب وزیر اعظم شہبازشریف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ مل کر علاقائی دفاع یقینی بنائیں گے، پاکستان ، سعودی عرب اور ترکیہ اتحاد خطے کی سلامتی کے لیے اہم ہے،ایٹمی تباہی سے بچانے پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں،صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بروقت اقدامات نے جنوبی ایشیا کو تباہی سے بچایا،پائیدار امن ہی عوام کی خوشحالی اور روشن مستقبل کی ضمانت ہے۔

    واضح رہے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے درمیان طے پانے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے تینوں ممالک کی قیادت کو مبارکباد دی ہے۔

  • مکہ مشترکہ دفاعی معاہدےکے تحت ایک مشترکہ سیاسی اور عسکری فریم ورک تشکیل دیں گے ،ترکیہ

    مکہ مشترکہ دفاعی معاہدےکے تحت ایک مشترکہ سیاسی اور عسکری فریم ورک تشکیل دیں گے ،ترکیہ

    ترک وزارتِ دفاع نے دعویٰ کیا ہے کہ ترکیہ، سعودی عرب اور پاکستان نے ’معاہدۂ مکہ‘ کے تحت سیاسی اور عسکری رابطوں کو مزید مضبوط بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔

    انقرہ میں ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان ترک وزارتِ دفاع نے جمعرات کو کہا ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ گزشتہ ہفتے طے پانے والے مشترکہ دفاعی کے تحت ایک مشترکہ سیاسی اور عسکری فریم ورک تشکیل دیں گے جس میں تینوں ممالک کے وزرائے دفاع، وزرائے خارجہ اور عسکری سربراہان شامل ہوں گے۔

    دفاع کا کہنا تھا کہ اس نئے رابطہ جاتی نظام کے ذریعے دفاع اور خارجہ امور سے متعلق معاملات پر تینوں ممالک کے درمیان رابطے اور تعاون کو فروغ دیا جائے گا،پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے مابین مشترکہ فوجی مشقوں کی منصوبہ بندی بھی کی جا رہی ہے اس کے علاوہ دفاعی شعبے میں مشترکہ پیداوار اور ٹیکنالوجی کے تبادلے تک تعاون بڑھانے کے امکانات پر بھی کام کیا جا سکتا ہے۔

    واضح رہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے 7 اگست کو مکہ مکرمہ میں ایک مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے، جسے ’مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ‘ یا ’’معاہدۂ مکہ‘ نام دیا گیا تھااس معاہدے کے تحت یہ طے پایا تھا کہ کسی ایک ملک پر حملے کو تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا، جو اجتماعی دفاع کے حوالے سے نیٹو کے آرٹیکل 5 سے مماثلت رکھتا ہے۔

    پاکستان، سعودی عرب یا ترکیہ میں سے کسی بھی ملک نے اس معاہدے کی تفصیلات جاری نہیں کی تھیں البتہ تینوں ممالک وضاحت کرچکے ہیں کہ یہ معاہدہ کسی مخصوص ریاست یا فریق کے خلاف نہیں بنایا گیا بلکہ اس کا مقصد دفاعی اور علاقائی سیکیورٹی تعاون کو یقینی بنانا ہے۔

    پاکستان کے دفترِ خارجہ نے اس معاہدے کے بعد جاری بیان میں بتایا تھا کہ ’معاہدۂ مکہ‘ کا مقصد تینوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون، باہمی رابطوں اور مشترکہ سلامتی کے نظام کو مزید مضبوط بنانا ہے،اس سے قبل ترک وزیرِ خارجہ ہاکان فیدان نے معاہدے کے حوالے سے بتایا تھا کہ مشترکہ دفاع معاہدے کے تحت تینوں ممالک کے درمیان سیاسی اور عسکری سطح پر رابطے کے لیے کمیٹیاں قائم کی جائیں گی، جس میں وزرائے خارجہ، وزرائے دفاع اور فوجی سربراہان شامل ہوں گے، جبکہ سعودی عرب میں ایک مستقل سیکریٹریٹ قائم کرنے کا منصوبہ بھی زیرِ غور ہے۔

  • مکہ  دفاعی معاہدے میں جلد مصر بھی شامل ہو سکتا ہے، ترک وزیر خارجہ

    مکہ دفاعی معاہدے میں جلد مصر بھی شامل ہو سکتا ہے، ترک وزیر خارجہ

    ترکیہ کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے کہا ہے کہ ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان طے پانے والے دفاعی معاہدےمیں مصر ممکنہ طور پر شامل ہوسکتا ہے۔

    ہاکان فیدان نے سرکاری خبر رساں ادارے اناطولیہ ایجنسی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ صدر رجب طیب اردوان چاہتے ہیں کہ یہ اتحاد صرف تین ممالک تک محدود نہ رہے بلکہ خطے کے دیگر ممالک کو بھی اس کے تحت یکجا کیا جائےبعض تکنیکی معاملات حل ہونے کے بعد مصر ممکنہ طور پر اس معاہدے میں شامل ہوسکتا ہے۔

    ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب نے جمعے کے روز مکہ مکرمہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے مشترکہ اعلامیے کے مطابق معاہدے کا مقصد کسی بھی جارحیت کے خلاف اجتماعی دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنانا ہے، جبکہ اس میں طے کیا گیا ہے کہ تینوں میں سے کسی ایک ملک پر مسلح حملہ تمام ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔

    انہوں نے کہا کہ ترکیہ، سعودی عرب، پاکستان اور مصر نے حالیہ مہینوں میں علاقائی معاملات سے نمٹنے کے لیے ایک گروپ بھی تشکیل دیا ہے، جسے ’’آر فور‘‘ کا نام دیا گیا ہے اس گروپ کا مقصد ٹھوس طریقہ کار کے ذریعے شراکت داری کو مضبوط بنانا ہے بحیرہ احمر میں حوثی حملوں سے بحری جہازوں کے تحفظ کے لیے بننے والے بین الاقوامی اتحاد میں ترکیہ کو بھی شامل ہونا چاہیے، کیونکہ بحری جہازوں کی سلامتی انقرہ کے مفادات سے متعلق ہے۔

    ترک وزیر خارجہ نے کہا کہ یہ دفاعی معاہدہ تکنیکی اعتبار سے نیٹو کے آرٹیکل 5 کے باہمی دفاعی معاہدے جیسا ہے، تاہم یہ ایران یا کسی دوسرے ملک کے خلاف نہیں ہے بلکہ تینوں اتحادی ممالک کی سلامتی کے لیے عمومی تعاون کی یقین دہانی ہےکسی رکن ملک پر حملے کی صورت میں اتحادی ممالک مشاورت کے ذریعے یہ طے کریں گے کہ کس نوعیت، سطح اور طریقہ کار کے تحت مدد فراہم کی جائے گی۔ ان کے بقول جب تک کسی رکن ملک پر حملہ نہیں ہوتا، کسی ملک کو خطرہ تصور نہیں کیا جائے گا۔

    ہاکان فیدان نے کہا کہ نیٹو ایک بڑا فوجی اتحاد ہے جس میں 32 ممالک شامل ہیں، جبکہ اس اتحاد کا آغاز تین ممالک سے ہوا ہے اور اس حوالے سے محتاط لیکن ٹھوس اقدامات کیے جانے چاہئیں۔ انہوں نے بتایا کہ معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے 2 سال 8 ماہ سے کوششیں جاری تھیں۔

    ترک وزیر خارجہ کے مطابق اتحاد کے تحت نیٹو کی طرز پر وزرائے خارجہ پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی جائے گی، جبکہ سعودی عرب میں جنرل سیکریٹریٹ قائم کیا جائے گا۔ تاہم عملی امور کی تفصیلات کمیٹی کے پہلے اجلاس میں طے کی جائیں گی۔

  • سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ  دفاعی معاہدہ ایران یا کسی دوسرے ملک کے خلاف نہیں،ترکیے

    سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ دفاعی معاہدہ ایران یا کسی دوسرے ملک کے خلاف نہیں،ترکیے

    ترک وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان دفاعی معاہدے ایران یا کسی دوسرے ملک کے خلاف نہیں ہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق سعودی ولی عہد محمد بن سلمان، ترک صدر رجب طیب اردوان اور پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے جمعہ کو مکہ میں معاہدے پر دستخط کیے جس میں کہا گیا ہے کہ ایک ملک پر حملہ تینوں پر حملہ تصور کیا جائے گا،مکہ دفاعی معاہدہ تیل کی دولت سے مالا مال سعودی عرب اور جوہری طاقت پاکستان کے ساتھ ساتھ ترکی کو بھی اکٹھا کرتا ہے، جس کے پاس نیٹو کی دوسری سب سے بڑی فوج اور تیزی سے بڑھتی ہوئی دفاعی صنعت ہے-

    ترکی کے سرکاری انادولو ایجنسی کو انٹرویو دیتے ہوئےمعاہدے کو علاقائی استحکام کی جانب ایک اہم قدم قرار دیتے ہوئے کہا ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان کا کہنا تھا کہ یہ بڑھتی ہوئی علاقائی غیر یقینی صورتحال اور جنگ کے خطرات کے وقت تعاون اور مزاحمت کو گہرا کرتا ہے، تینوں ممالک کسی خاص ریاست کو اس وقت تک مخالف نہیں سمجھتے جب تک کہ وہ ان کے خلاف معاندانہ کارروائی نہ کریں،معاہدے میں ایسا کچھ نہیں لکھا اور نہ ہی ہم نے ایسی کسی چیز پر دستخط کیے ہیں جو ایک مشترکہ خطرے کی وضاحت کرتا ہے۔ کوئی بھی ملک جو ہم پر حملہ نہیں کرتا وہ ہمارے لیے ہدف نہیں ہے۔

  • ارطغرل کے اداکار جلال آل کا پاکستان آنے کا اعلان

    ارطغرل کے اداکار جلال آل کا پاکستان آنے کا اعلان

    شہرۂ آفاق ڈرامہ دریلیش: ارطغرل میں عبدالرحمٰن الپ کے کردار سے دنیا بھر میں شہرت حاصل کرنےوالے ترک اداکار جلال آل نے جلد پاکستان آنے کا اعلان کیا ہے۔

    جلال آل نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری کے ذریعے پاکستانی مداحوں کے لیے خصوصی پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ میں آپ سب کو بہت یاد کرتا ہوں اور جلد ہی پاکستان کا دورہ کروں گا، میرے پیارے پاکستانی بھائیوں اور بہنو! میں آپ سب کو بہت یاد کرتا ہوں، میں بہت جلد پاکستان واپس آ رہا ہوں اور آپ سب کے لیے بہت سے سرپرائزز بھی لے کر آؤں گا، کیا آپ پاکستان میں اس شاندار ملاقات کے لیے تیار ہیں؟

    انہوں نے اپنے پیغام کے اختتام پر دل دل پاکستان اور جان جان ترکیہ بھی تحریر کیا۔

    جلال آل کے مطابق وہ ایک معروف ترک برانڈ کے سلسلے میں پاکستان کا دورہ کریں گے، تاہم انہوں نے اس تعاون یا اپنے دورے کی تاریخ سے متعلق مزید تفصیلات شیئر نہیں کیں۔

    جلال آل دریلیش: ارطغرل کے علاوہ 2012ء کی تاریخی فلم فتح 1453 میں بھی اداکاری کر چکے ہیں، جبکہ ایوارڈ یافتہ مختصر فلم Zemberek کے شریک پروڈیوسر بھی رہے ہیں،اداکاری کے ساتھ ساتھ جلال آل فلاحی سرگرمیوں میں بھی سرگرم ہیں اور ترک ریڈ کریسنٹ سمیت مختلف بین الاقوامی امدادی اداروں کے ساتھ انسانی خدمت کے منصوبوں میں حصہ لیتے رہے ہیں۔

  • ترکیہ میں 5.0 شدت کا زلزلہ

    ترکیہ میں 5.0 شدت کا زلزلہ

    ترکیہ کے مشرقی صوبے ملاتیا میں ہفتے کی صبح 5.0 شدت کا زلزلہ آیا، جس کے جھٹکے کئی قریبی صوبوں میں بھی محسوس کیے گئے۔

    ترکیہ کے ڈیزاسٹر اینڈ ایمرجنسی مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق زلزلہ مقامی وقت کے مطابق صبح 6 بج کر 20 منٹ پر آیا، جس کا مرکز صوبہ ملاتیا کے ضلع بطلغاز ی میں تھا، جبکہ اس کی گہرائی 15.59 کلومیٹر ریکارڈ کی گئی،زلزلے کے جھٹکے ملاتیا کے علاوہ الازیغ، آدی یامان، تونج ایلی اور شانلی عرفہ سمیت قریبی صوبو ں میں بھی محسوس کیے گئے، جس کے باعث شہری گھروں سے باہر نکل آئے۔

    ابتدائی جائزے کے مطابق زلزلے سے کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی، تاہم متعلقہ ادارے صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں،ترکیہ کے وزیر ماحولیات، شہری ترقی اور موسمیاتی تبدیلی مراد کورم نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا کہ بطلغازی میں آنے والے زلزلے کے بعد اب تک کسی ناخوشگوار واقعے کی اطلاع نہیں ملی، تاہم تمام موصول ہونے والی اطلاعات کا تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے۔

  • فیلڈ مارشل عاصم منیر 2 روزہ سرکاری دورے پر ترکیہ پہنچ گئے

    فیلڈ مارشل عاصم منیر 2 روزہ سرکاری دورے پر ترکیہ پہنچ گئے

    فیلڈ مارشل عاصم منیر 2 روزہ سرکاری دورے پر ترکیہ پہنچ گئے، جہاں ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز 2 روزہ سرکاری دورے پر ترکیہ پہنچ گئے۔ ترکیہ پہنچنے پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا گرم جوشی سے استقبال کیا گیا۔

    سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ دورے کے دوران فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ترکیہ کی عسکری اور سیاسی قیادت سے اہم ملاقاتیں کریں گے، جن میں باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

  • شمالی کوریا کی نیٹو سربراہی اجلاس کی شدید مذمت

    شمالی کوریا کی نیٹو سربراہی اجلاس کی شدید مذمت

    شمالی کوریا کی نیٹو سربراہی اجلاس کی شدید مذمت کہا کہ جوہری ہتھیاروں کے خاتمےکا آغاز پہلے امریکی اتحادیوں سے ہونا چاہیے۔

    شمالی کوریا کے سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق شمالی کوریا کی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکا اور اس کے اتحادی اسلحے کے ذخائر میں تیزی سے اضافہ کرنےکی پالیسی پر عمل پیرا ہیں، نیٹو کے حالیہ اجلاس سے واضح ہوگیا کہ نیٹو ایک ایسا اتحاد ہے جو جنگ اور محاذ آرائی کے لیے تشکیل دیا گیا ہے۔

    بیان میں کہا گیا کہ مغربی ممالک کی جانب سے شمالی کوریا کو جوہری ہتھیار ترک کرنے پر مجبور کرنے کی کوششیں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہیں، اس کے بجائے اگر جوہری ہتھیاروں کے خاتمے کی کوئی کوشش ہونی چاہیے تو اس کا آغاز نیٹو کے ان رکن ممالک سے ہونا چاہیے جو جوہری ہتھیاروں کے مشترکہ انتظامات میں شریک ہیں،شمالی کوریا اپنے خودمختار حقوق کو ذمہ دارانہ انداز میں استعمال کرتے ہوئے اپنی خودمختاری، قومی سلامتی اور خطے میں امن کے تحفظ کو یقینی بناتا رہےگا۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز سرکاری خبر رساں ادارے نے رپورٹ کیا تھا کہ شمالی کوریا نے اپنی جوہری قوت کو مزید مضبوط بنانےکا فیصلہ کیا ہے، جب کہ شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اِن ملکی فوج کو جدید خطوط پر استوار کرنے پر زور دے رہے ہیں۔