Baaghi TV

Tag: ترکی

  • ترکی عالم اسلام کا وہ ملک جو اپنے شہریوں کو  بالکل مفت ائیرایمبولینس سروس فراہم کرتا ہے

    ترکی عالم اسلام کا وہ ملک جو اپنے شہریوں کو بالکل مفت ائیرایمبولینس سروس فراہم کرتا ہے

    انقرہ:یہ خبر عالم اسلام کے مسلمانوں کے لیے کتنی اچھی اور خوشی والی ہے کہ برادر ملک ترکی کے وزیر صحت فخرالدین کھوجا نے کہا ہے کہ ترکی دنیا میں وہ واحد ملک ہے جو شہریوں کو بلامعاوضہ ایئرایمبولینس سروس فراہم کرتا ہے۔

    ذرائع کے مطابق ترک وزیر فخر الدین کھوجا نے فضائی ایمبولینس کی صورتحال، طبی ساز و سامان اور عملے کی صلاحیتوں کا جائزہ لینے کے لیے ایسن بوعا عمومی ایوی ایشن ٹرمینل کا اچانک دورہ کیا۔وزیر صحت کو متعلقہ حکام نے ایمبولینسوں کے حجم، پرواز کی صلاحیت سمیت تکنیکی خصوصیات اور طبی امکانات کے بارے میں بریفنگ دی۔عمومی ایوی ایشن ٹرمینل پر فضائی ایمبولینس کے ذریعے 3 سے 4 اور ہیلی کاپٹر ایمبولینسوں سے 6 سے 7 مریضوں کو لے جانے کی سہولت فراہم کی جاتی ہے۔

    ترک وزیر فخر الدین کھوجا نے مزید تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ’’ہماری ائیرایمبولینس نہ صرف بہترین حالت میں ہے بلکہ یہ ضروری سامان سے بھی لیس ہے۔ یاد رہے کہ ترک حکام نے شہریوں کو مفت فضائی ایمبولینس سروس فراہم کرنے کا آغاز 2008 میں کیا تھا، اب تک 13 ہزار 398 ہیلی کاپٹر جبکہ 31 ہزار 587 مریضوں ائیر ایمبولینس کے ذریعے اسپتال منتقل کیا گیا۔

  • عمران کی سفارتی کامیابیاں — محمد عبداللہ

    عمران کی سفارتی کامیابیاں — محمد عبداللہ

    سفارتکاری کسی بھی ملک و قوم کے لیے انتہائی ضروری ہوتی ہے بالخصوص دور جدید میں تو اس کی ضرورت اور بھی بڑھ جاتی ہے کہ جب آپ کی معاشی، سیاسی، سماجی، ٹیکنالوجی اور عسکری ترقی کا دارو مدار ہی آپ کے بین الاقوامی دوستوں اور تعلقات پر ہو، مستزاد یہ کہ آپ کے حریف ممالک اور اقوام جب آپ کے خلاف کاؤنٹر سفارتکاری شروع کردیں تو معاملہ اور بھی گھمبیر ہوجاتا ہے پھر آپ "Do or Die” کی پوزیشن میں آجاتے ہیں. بدقسمتی سے وطن عزیز پاکستان کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی معاملہ پیش آتا رہا ہے کہ ہماری سفارکاری انتہائی کمزور رہی ہے، ہماری خارجہ پالیسی مستقل بنیادوں پر نہیں بلکہ عارضی اور ہنگامی بنیادوں پر ترتیب پاتی رہی ہے.

    یہاں تک کہ پچھلے دور حکومت کے چار پانچ سالوں میں تو ملک کا وزیرخارجہ ہی نہیں تھا جس کی وجہ سے پاکستان کو خارجہ سطح پر شدید ترین نقصان سے دوچار ہونا پڑا دوسری طرف بھارت کے وزیراعظم نریندرا مودی نے دنیا بھر کے سفارتی دورے کیے اور دوسرے ممالک کے سربراہان کو اپنے ملک میں دعوت دے دے کر بلاتا رہا جس کا نقصان ہمیں یہ اٹھانا پڑا کہ پاکستان کے بارے میں عام تاثر یہ پیدا ہوگیا کہ یہ دہشت گردوں کے چنگل میں پھنسی ہوئی ایک ناکام ریاست ہے جس کے ایٹمی اثاثے تک بھی محفوظ نہیں ہیں. اسی طرح پاکستان کا آئی ایم ایف اور ایف اے ٹی ایف کے چنگل میں بری طرح سے جکڑا جانا بھی اسی ناکام ترین سفارت کاری اور کمزور خارجہ پالیسی کا ہی نتیجہ تھیں.

    سابقہ حکومت کی اس بے توجہی کی اک بڑی مثال اس وقت سامنے آئی جب کشمیر ایشو پر لابنگ کرنے کے لیے کچھ پارلیمینٹرینز کو دنیا بھر میں بھیجا گیا تو ان میں سے اکثریت وہ تھی جو کشمیر اور کشمیر کے بارے میں وہ بنیادی معلومات سے بھی نابلد تھے جو بچے بچے کو پتا ہوتی ہیں یہی وجہ تھی ہمارے اس رویے کو دیکھتے ہوئے ہمارے قریب ترین ممالک بھی ہمارے ایشوز مثلاً کشمیر وغیرہ پر ہمارا ساتھ دینا چھوڑ گئے.حالات یہاں تک پہنچ گئے کہ یہ واضح طور پر سمجھا جانے لگا کہ پاکستان کو سفارتی محاذ اور بین الاقوامی سطح پر "تنہا” کردیا گیا ہے.

    لیکن صد شکر کہ جب موجودہ حکومت قائم ہوئی تو کچھ امید بندھتی نظر آئی کہ اب حالات بدلیں گے اور واقعی بین الاقوامی سطح پر حالات بدلے. بہت سارے لوگ اس کو عمران خان کی خوشقسمتی قرار دیتے ہیں جبکہ میں سمجھتا ہوں کہ خوشقسمتی کے ساتھ ساتھ عمران خان کی محنت اور اس کی سنجیدگی کا بہت بڑا کردار ہے. جب عمران خان کی حکومت بنی ملک کی ابتر معاشی اور سیاسی صورتحال دیکھ کر تو یہی سمجھا جا رہا تھا کہ پاکستان کے تعلقات سعودیہ، چائنہ اور ترکی وغیرہ سے ناہموار ہوجائیں گے لیکن عمران خان نے اپنی حکومت قائم ہونے کے کچھ ہی عرصہ بعد سعودیہ کا دورہ کیا اور یہ سلسلہ صرف ایک دورے پر موقوف نہیں کیا بلکہ یکے بعد دیگرے تین دورے کیے جن میں شاہ سلمان، محمد بن سلمان، سیکرٹری جنرل OIC وغیرہ سے ملاقاتیں کیں، پاکستان کی ابتر معاشی صورتحال کو سہارا دینے کے لیے سعودیہ سے معاشی مدد، تین سال تک تین ارب ڈالر کا ادھار تیل حاصل کیا. علاوہ ازیں محمد بن سلمان کے پاکستان کے غیر معمولی دورے پر محمد بن سلمان کا خود کو سعودیہ میں پاکستان کا سفیر کہنا اور پاکستانی قیدیوں کی رہائی کے احکامات جاری کرنا عمران خان کی واضح ترین کامیابی تھی.

    اسی طرح سی پیک پر کام رک جانے کی وجہ سے یہ سمجھا جا رہا تھا کہ پاکستان کے چین سے تعلقات خراب ہوجائیں گے جس کا بین الاقوامی سطح پر پاکستان کو شدید نقصان اٹھانا پڑ سکتا تھا لیکن عمران خان نے چین کے دو دورے کیے اگرچہ پہلا دورہ کوئی واضح کامیاب تو نظر نہ آیا اور پاکستان میں سے ایک طبقے نے اس پر شدید تنقید بھی مگر یہ دورہ بھی نہایت اہمیت کا حامل ثابت ہوا کہ تحفظات دور کیے گئے اور دوسرے دورے میں جب عمران خان چینی صدر کی دعوت پر سیکنڈ بیلٹ روڈ فورم میں شرکت کے لیے گئے اور عالمی رہنماؤں کے ساتھ بین الاقوامی نمائش کا دورہ کیا. اس موقع پر عمران خان نے عالمی رہنماؤں سمیت ورلڈ بینک کے سی ای او، آئی ایم ایف کی مینجنگ ڈائریکٹر سے ملاقاتیں بھی ہوئیں. اسی موقع پر چین کے ساتھ ایل این جی، آزاد تجارت سمیت چودہ معاہدوں پر دستخط ہوئے.

    متحدہ عرب امارات اور قطر وغیرہ بھی پاکستان کے لیے علاقائی اور معاشی معاملات میں نہایت اہمیت کے حامل ہیں عمران خان نے متعدد بار ان ممالک کے بھی مختصر اور باقاعدہ دورے کیے، ان کے سربراہان سے ملاقاتیں کیں اور ان ممالک کے پاکستان کے ساتھ معاشی و سیاسی تعلقات کے لیے اپنی صلاحیتوں کو استعمال کیا. جس کی وجہ سے ان ممالک کے ساتھ مختلف معاہدے ہوئے جن میں ایل این جی، توانائی، پاکستانی شہریوں کو روزگار، دو طرفہ تعلقات، تجارت وغیرہ کے قابل ذکر معاہدے شامل ہیں.

    جہاں پاکستان کے ان خلیج کے ممالک سے تعلقات بہتر ہوئے اور پاکستان کی معیشت کو سہارا ملا وہیں عمران خان نے ایران، ترکی اور ملائیشیا کے نہایت اہم دورے بھی کیے جن میں دہشت گردی کو ختم کرنے کے لیے پاکستان کے کردار کو سراہا گیا، پاک ایران بارڈر مینجمنٹ، بجلی و توانائی کے منصوبے، کشمیر و فلسطین پر پاکستان کے موقف کی حمایت، NSG نیوکلیئر سپلائرز گروپ اور ایف اے ٹی ایف میں پاکستان کی حمایت جن کا پاکستان کو خاطر خواہ فائدہ ہوا. ملائشیا کے سربراہ مہاتیر محمد پاکستان کے دورہ پر بھی تشریف لائے اور یوم پاکستان کی تقریبات میں بھی شرکت کی.

    عمران خان کا حالیہ دور امریکہ جس پر ساری دنیا کی نظریں لگی ہوئی تھیں کیونکہ سلالہ چیک پوسٹ پر حملے کے بعد سے پاکستان اور امریکہ کے تعلقات معمول پر نہیں آسکے تھے اور امریکہ کا پلڑا بھاری تھا اور سمجھا یہی جا رہا تھا کہ عمران خان کا یہ دورہ بھی بھی معمول کی ڈکٹیشن ثابت ہوگا جو پاکستان کے مفاد میں زیادہ بہتر ثابت نہیں ہوگا لیکن عمران خان کی سنجیدگی ، اس کی شخصیت کا اثر کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی اس سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے اور عمران خان اور پاکستانیوں کی تعریف کرتے رہے. واشنگٹن میں عمران خان کا تاریخی جلسہ بھی غیر معمولی ثابت ہوا جس پر دنیا بھر تجزیہ نگار اپنے اپنے انداز میں تبصرہ کر رہے ہیں. علاوہ ازیں پاک امریکہ تعلقات میں اہم بریک تھرو اس وقت دیکھنے کو ملا جب ٹرمپ نے کشمیر ایشو پر پاکستان کو ثالثی کی پیشکش کردی جس کو لے کر انڈیا میں صف ماتم بچھ گئی اور انڈین میڈیا یہ کہنا شروع ہوگیا کہ ٹرمپ نے انڈیا پر کشمیر بم پھینک دیا ہے. سابقہ حکمرانوں کے برعکس عمران خان امریکہ کا دورہ کرتے ہوئے نہایت براعتماد اور سنجیدہ نظر آئے جس کی وجہ سے پاکستان اس دورے سے اپنے مقاصد پورے کرنے میں کافی حد تک کامیاب ہوگیا.


    عمران خان نے نہ صرف عالمی سطح پر بلکہ علاقائی سطح پر بھی بہترین سفارتکاری کا مظاہرہ کیا مشہور سکھ رہنما نوجود سنگھ سدھو کی پاکستان آمد، کرتار پور کوریڈور ، مودی کو خط اور کشمیر ایشو پر عالمی برادری کی توجہ حاصل کرنے میں کافی حد تک کامیاب رہے جس کی وجہ سے پچھلے سالوں کی وجہ سے ایک بہت بڑا خلا جو پیدا ہوچکا تھا وہ عمران خان کی ایک سال کی سفارتکاری کی وجہ سے پر ہوتا نظر آرہا ہے اور امید بندھ رہی ہے کہ پاکستان ان شاءاللہ جلد عالمی سطح پر اپنا کھویا ہوا وقار حاصل کرلے گا.

    Muhammad Abdullah

  • ‘ امریکہ پابندیاں لگا کر خمیازہ بھگتنے کیلئے تیار رہے ‘

    ‘ امریکہ پابندیاں لگا کر خمیازہ بھگتنے کیلئے تیار رہے ‘

    انقرہ: ترکی کے وزیرحارجہ میولٹ کیویسگلو نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ایس فور ہنڈرڈ کے معاملے میں ترقی اپنے موقف پر قائم ہے کہ روس سے ایس فور ہنڈرڈ کا معاہدہ صرف اور صرف دفاعی قوت کو بڑھانے کیلئے کیا ہے نہ کہ کسی ملک پر دھاوا بولنے کیلئے، اور اگر امریکہ ہم پر پابندیاں لگانا چاہتا ہے تو جوابی وار کیلئے بھی تیار رہے،
    تفصیلات کیمطابق ٹی جی آرٹی براڈکاسٹر کو انٹرویو دیتے ہوئے مزید کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ترکی پر کوئی پابندیاں نہیں لگانا چاہتے اور نہ وہ ایسا وائٹ ہاؤس کو کرنے دینا چاہتے ہیں

  • امریکہ کی پابندیوں کی پرواہ نہیں روس سے ایس 400 میزائل سسٹم ضرور لیں گے ترکی امریکہ کے سامنے اکڑ گیا

    امریکہ کی پابندیوں کی پرواہ نہیں روس سے ایس 400 میزائل سسٹم ضرور لیں گے ترکی امریکہ کے سامنے اکڑ گیا

    انقرہ:امریکہ کی پابندیوں کی پرواہ نہیں روس سے ایس 400 میزائل سسٹم ضرور لیں گے ترکی امریکہ کے سانے اکڑ گیا وزیرِ خارجہ میولود چاوش اولو کا کہنا ہے کہ ترکی نے روس سے ایس۔400 ہوائی دفاعی نظام خرید لیا ہے اب اس کی ترکی کو حوالگی کے شیڈول پر بات ہو رہی ہے۔چاوش اولو نے دارالحکومت انقرہ میں رواندا کے وزیرِخارجہ و بین الاقوامی تعاون ڈاکٹر رچرڈ سیزی بیرا کے ساتھ مشترکہ پیرس کانفرس کا اہتمام کیا۔

    امریکہ کے ساتھ بحث کا موضوع بننے والے ایس۔400 کا ذکر چھیڑتے ہوئے ترک وزیر نے کہا کہ "امریکہ کےاس حوالے سے اقدامات قوانین کے منافی ہیں، ہم اس ملک کے مؤقف کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔”امریکی دھمکیوں پر بھی اپنے جائزے پیش کرتے ہوئے جناب چاوش اولو نے بتایا کہ "چاہے یہ جس قسم کی بھی پابندیوں کا فیصلہ کیوں نہ کریں ہم ایس۔400 خرید چکے ہیں، اس معاملے میں قدم پیچھے ہٹانے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ "