Baaghi TV

Tag: تعلیم

  • ملالہ یوسف زئی کی  پاکستان آمد

    ملالہ یوسف زئی کی پاکستان آمد

    اسلام آباد:نوبیل انعام یافتہ ملالہ یوسف زئی اپنے وطن واپس پہنچ گئی ہیں، جہاں وہ خواتین کی تعلیم سے متعلق ایک اہم کانفرنس میں شرکت کریں گی۔ پارلیمانی سیکریٹری تعلیم نے ان کا استقبال کیا اور انہیں خوش آمدید کہا۔

    ملالہ یوسف زئی کی پاکستان آمد کے موقع پر وفاقی وزیرِ تعلیم ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے اس بات کی تصدیق کی کہ ملالہ یوسف زئی 2 روزہ تعلیمی کانفرنس میں حصہ لیں گی۔ کانفرنس میں ملالہ یوسف زئی خواتین کی تعلیم سے متعلق موجودہ چیلنجز اور ان کے حل پر اپنی تجاویز اور خیالات پیش کریں گی۔یہ کانفرنس خاص طور پر لڑکیوں کی تعلیم پر مرکوز ہے اور اس میں عالمی سطح پر تعلیم کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے مختلف پہلوؤں پر بحث کی جائے گی۔ ملالہ یوسف زئی اس موقع پر اپنے ذاتی تجربات اور عالمی سطح پر تعلیم کے میدان میں خواتین کو درپیش مشکلات کو اجاگر کریں گی۔

    کانفرنس میں کرغزستان کی وزیرِ تعلیم بھی شریک ہو ں گی، جو اپنے ملک کی تعلیمی اصلاحات اور خواتین کی تعلیم کے حوالے سے تجربات کا تبادلہ کریں گی۔ اس کے علاوہ، پاکستان کے چاروں وزرائے اعلیٰ اور صوبائی وزرائے تعلیم بھی اس کانفرنس میں شرکت کریں گے۔

    ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ کانفرنس کا مقصد خواتین کی تعلیم کو فروغ دینا اور ایک بہتر معاشرتی ڈھانچے کے قیام کے لیے تعلیم کے اہمیت کو اجاگر کرنا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ خواتین کی تعلیم کا مقصد نہ صرف ایک بہتر خاندان بنانا ہے بلکہ ایک بہتر نسل اور بہتر مستقبل کی تشکیل بھی ہے۔کانفرنس کا عنوان "انٹرنیشنل کانفرنس برائے مسلم خواتین، چیلنجز اور مواقع” ہے، اور اس میں دنیا بھر سے تعلیم کے شعبے کے ماہرین، حکومتی نمائندے اور عالمی تنظیمیں شرکت کریں گی۔

    ملالہ یوسف زئی کی پاکستان آمد اور اس کانفرنس میں ان کی شرکت کو خواتین کی تعلیم کے فروغ میں ایک سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے، جس سے نہ صرف پاکستان بلکہ عالمی سطح پر بھی تعلیم کے بارے میں آگاہی بڑھانے میں مدد ملے گی۔

    میدان صحافت میں جرات کی مثال،مبشر لقمان،سالگرہ مبارک

    بھارت کی کٹھ پتلی حسینہ واجد کے ویزے میں توسیع

  • عوام کو حکمرانوں نے یرغمال بنایا ، خزانوں پر لوگ ناگ بن کر بیٹھے ہیں، حافظ نعیم الرحمان

    عوام کو حکمرانوں نے یرغمال بنایا ، خزانوں پر لوگ ناگ بن کر بیٹھے ہیں، حافظ نعیم الرحمان

    امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ 25 کروڑ عوام کو حکمرانوں نے اپنے ظلم و جبر سے یرغمال بنایا اور ملک کی دولت پر قبضہ کیا ہوا ہے، ملک اور قومی وسائل پر قابض حکمرانوں سے نجات اور قبضہ مافیا سے جان چھڑانے کے لیے نوجوان جماعت اسلامی کا ساتھ دیں، ہمت کریں، آگے بڑھیں، پاکستان کا نام روشن کریں۔

    باغی ٹی وی کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے الخدمت کے تحت کراچی کے نوجوانوں کو مفت آئی ٹی کورسز کروانے کے لیے اتوار کے روز سنگم گراؤنڈ فیڈرل بی ایریا اور عید گاہ گراؤنڈ گلشن ِ معمار میں بنو قابل ایپٹی ٹیوٹ ٹیسٹ 4.0 میں شریک ہزاروں طلبہ و طالبات سے خطاب کرتے ہوئے کیا جہاں شرکاء سے ایک گھنٹے کا تحریری ٹیسٹ لیا گیا، کامیاب طلبہ و طالبات کو ویپ ڈیولپنگ، ویب ڈیزائننگ ،ڈیجیٹل مارکیٹنگ، ایمزون سمیت مختلف آئی ٹی کے کورسز مفت کرائے جائیں گے۔امیر جماعت اسلامی نے مزید کہا کہ تعلیم حکومت کی ذمہ داری ہے لیکن اربوں روپے کے بجٹ کے باوجود حکومت نوجوانوں کو تعلیم کے لیے اپنی ذمہ داری پوری نہیں کرتی، متوسط اور غریب گھرانوں کے لیے تعلیم کا حصول مشکل سے مشکل تر ہوتا جا رہا ہے، گزشتہ سال کے دوران بنو قابل پروجیکٹ کے ذریعے 50ہزارسے زائد طلبہ و طالبات کو مفت آئی ٹی کورسز کروا چکے ہیں جو طلبہ ڈگری کورس کرنا چاہتے ہیں ان کو مفت ڈگری کورس بھی کروائیں گے اور ان کے روزگار کے لیے بھی سہولت اور معاونت کریں گے،بنو قابل 2.0,1.0 اور 3.0مکمل ہوچکے ہیں 4.0میں مزید 50ہزار نوجوانوں کو مفت آئی ٹی کورسز کروائیں گے، کراچی کے بعد ملک کے دیگر شہروں میں بھی اسٹیٹ آف دی آرٹ آفیسز بنانے جا رہے ہیں، 7نومبر کو لاہور میں نوجوانوں کی تعلیم کے حوالے سے ایک بڑا پروگرام کریں گے،آئندہ 2سال میں 10لاکھ نوجوانوں کو کورسز کرائیں گے۔حافظ نعیم الرحمن نے مزید کہا کہ نوجوانوں کو آئی ٹی سکلز حاصل کرنے پر مبارکباد پیش کرتے ہیں، نوجوانوں میں بڑا پوٹینشل ہے، ہمارے ملک میں بہت ٹیلنٹ موجود ہے، ملک کو اللہ تعالی نے بے شمار وسائل سے نوازا ہے لیکن چند لوگ ان پر ناگ بن کر بیٹھ گئے ہیں، آئی پی پیز کے ساتھ کیے گئے ظالمانہ معاہدہ کرنے والوں نے عوام کے پیسوں پر ڈاکا ڈالا، حکمرانوں نے ان کی سرپرستی کی، ہمیں مختلف محاذوں پر کام کرنا ہے، حکمرانوں سے بھی مقابلہ کرنا ہے، نوجوان تعلیم حاصل کریں اور آئی ٹی کورسز کرنے کے بعد دوسروں کو بھی سکھائیں، جتنی محنت ہمارا نوجوان ملک سے باہر کرتا ہے اس کی آدھی محنت پاکستان میں کریں ملک آگے بڑھے گا۔

    روس نے پاکستان اسٹیل قائم کرکے ہزاروں لوگوں کو روزگار فراہم کیا،گورنر سندھ

    دادو کی7سالہ بچی میں پولیو وائرس کا شبہ، کراچی کے ہسپتال منتقل

    وزیراعلیٰ سندھ کا ملیر ایکسپریس وے کا دورہ، تجاوزات فوری گرانے کا حکم

    کراچی کو پانی فراہم کرنے والی لائن 40 سال بعد تبدیل

  • افغانستان کا دوہرا معیار،اسرائیل کو تسلیم کرنے کو تیار،مگر خواتین کی تعلیم پر پابندی

    افغانستان کا دوہرا معیار،اسرائیل کو تسلیم کرنے کو تیار،مگر خواتین کی تعلیم پر پابندی

    طالبان وزیر کا ٹی وی پر اسرائیل کو تسلیم کرنے کا بیان
    افغانستان حکومت کے ایک وزیر نے ایک حالیہ ٹی وی انٹرویو میں یہ بیان دیا ہے کہ تحریک طالبان افغانستان اسرائیل کو تسلیم کرنے اور اس کے ساتھ تعلقات قائم کرنے میں کوئی مسئلہ نہیں رکھتی۔

    طالبان حکومت کے اس بیان پر ردعمل سامنے آیا ہے، خاص طور پر ان مسائل کی روشنی میں جو افغان خواتین کی تعلیم، خواتین کے حقوق اور جدید تعلیم کے حوالے سے موجود ہیں۔افغان وزیر نے کہا، "ہم عالمی برادری کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کے لئے تیار ہیں، بشمول اسرائیل کے ساتھ۔” ان کے اس بیان نے کئی سوالات کو جنم دیا، خاص طور پر یہ کہ طالبان کی حکومت کی پالیسیوں میں کس حد تک تبدیلی آرہی ہے۔ایک طرف افغانستان میں لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی، خواتین کا بغیر پردے کے گھروں سے نکلنے پر پابندی ،دوسری جانب اسرائیل جیسے ملک جو غزہ میں انسانیت کا قتل عام کر رہا ہے کو افغان حکومت تسلیم کرنے کو تیار ہے،

    افغان وزیر کا یہ بیان اس وقت آیا ہے جب افغانستان میں لڑکیوں کی تعلیم پر پابندیاں اور خواتین کے حقوق کی خلاف ورزیاں جاری ہیں۔افغانستان میں 87 فیصد افغان لڑکیوں اور خواتین کو تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے جب کہ 70 فیصد خواتین پولیس افسر اور اہلکاروں کو بھی جنسی طور پر ہراساں کیا جاتا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ طالبان کی یہ دوہری پالیسی ملک میں انسانی حقوق کی صورت حال پر تشویش کا باعث بن سکتی ہے۔ جبکہ ایک طرف بین الاقوامی تعلقات کو بہتر بنانے کے لئے اشارے دیے جا رہے ہیں، دوسری طرف داخلی مسائل اور خواتین کی تعلیم میں رکاوٹیں موجود ہیں۔مختلف انسانی حقوق کی تنظیمیں اس بات پر زور دے رہی ہیں کہ طالبان کو اپنے وعدوں کی پاسداری کرنی ہوگی تاکہ وہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیے جا سکیں۔

    تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ لڑکیوں کی تعلیم پرپابندیاں نہ صرف خواتین کی ترقی کو روکتی ہیں بلکہ پورے معاشرے کی ترقی پر بھی منفی اثر ڈالتی ہیں۔ لڑکیوں کی تعلیم کو محدود کرنا ایک ایسی سوچ کی عکاسی کرتا ہے جو جدید دور کے تقاضوں کے خلاف ہے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس مسئلے پر فوری توجہ نہ دی گئی تو یہ ایک بڑی معاشرتی بحرانی صورت حال پیدا کر سکتا ہے

  • کراچی یونیورسٹی میں اساتذہ ہڑتال کا معاملہ سینیٹ میں پہنچ گیا

    کراچی یونیورسٹی میں اساتذہ ہڑتال کا معاملہ سینیٹ میں پہنچ گیا

    سینیٹ کا اجلاس پریزائڈنگ افسر سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیرصدارت 10بج کر 35منٹ پر شروع ہوا۔

    سینیٹر مسرور نے جامعہ کراچی میں اساتذہ کی ہڑتال کے معاملے کو اٹھایا طلباء یونین پر پابندی ختم کی جائے کیوں کہ سیاسی کارکن وہاں سے ہی پیدا ہوتے ہیں ۔ پریزائڈنگ افسر نے معاملہ قائمہ کمیٹی کو بھیج دیا۔ وزیرقانون اعظم نذیر تارڑ نے کہاکہ یہ معاملہ وزیر تعلیم کو بتادوں گا یونیورسٹی میں اور سٹافنگ کی گئی ہے جس کی وجہ سے مسائل ہیں ۔ طلباء یونین کے الیکشن صوبائی معاملہ ہے ۔

    ہنگری کے لیے تین سالوں میں 367طلباء کو سکالر شپ پر بھیجا گیا
    وقفہ سوالات کے دوران وزارت تعلیم کی طرف سے بتایا گیا کہ ہنگری کے لیے تین سالوں میں 367طلباء کو سکالر شپ پر بھیجا گیا ہے ۔ سوال قائمہ کمیٹی کو بھیج دیا گیا ۔سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ وزارت اوسیز نے سوالات کے جواب نہیں دیئے ہیں یہ سنجیدہ مسئلہ ہے ۔میری وزیر اورسیز سے بات ہوئی وہ بھی کہے رہے تھے کہ وزارت والے میری بات بھی نہیں سنتے ہیں ۔سینیٹر فلک ناز چترالی نے کورم کی نشاندہی کردی ایوان میں 13ارکان تھے جس پر گھنٹیاں بجائی گئیں. کورم نہ ہونے کی وجہ سے اجلاس 30منٹ تک ملتوی کردیا گیا ۔

    پاکستان میں کل 17ہزار 7سو 38مدارس،22 لاکھ 49 ہزار طلبا زیر تعلیم
    سینیٹ میں تحریری جواب دیتے ہوئے وزارت تعلیم نے بتایا کہ پاکستان میں کل 17ہزار 7سو 38مدارس ہیں جن میں سے 10ہزار 12پنجاب 2ہزار 4سو16سندھ 5سو 75بلوچستان 4ہزار5خیبر پختونخواہ 445آزاد کشمیر 199اسلام آباد اور 86جی بی میں ہیں جبکہ ان مدارس میں کل 22لاکھ 49ہزار 5سو 20 طلبہ پڑھ رہے ہیں جن میں پنجاب میں 6لاکھ 64ہزار 65 پنجاب میں 1لاکھ 88ہزار 183سندھ میں 71ہزار 8سو15 بلوچستان میں 12لاکھ 83ہزار 24خیبر پختونخواہ میں 26ہزار 7سو87آزاد کشمیر میں 11ہزار 3سو 1 اسلام آباد میں اور 4ہزار 3 سو46جی بی میں پڑھ رہے ہیں ۔مدارس کی براہ راست مالی اعانت نہیں کی جاتی ہے تاہم ڈائریکٹوریٹ جنرل مذہبی تعلیم ( ڈی جی آر ای)نے 598مدارس میں 1196اساتذہ فراہم کئے ہیں اور رجسٹرڈ مدارس میں 1لاکھ 54ہزار 8سو49طلباء کو عصری تعلیم فراہم کرنے کے لیے نصابی کتب فراہم کی ہیں۔

    وزارت مواصلات نے ایوان کو تحریری جواب میں بتایا کہ ملک میں 193ٹول پلازہ ہیں جن میں سے نیشنل ہائی وے پر 85پلازہ ہیں این ایچ اے کے زیر اہتمام موٹروے جن میں ایم 1،3،4،5،14اور ای 35 ہیں پر 70ٹول پلازہ ہیں جبکہ بی او ٹی ہے تحت چلنے والے موٹروے ایم 2،9اور 11پر 38ٹول پلازہ ہیں۔

    28اکتوبر کو روس فیڈریشن کے رکن ایوان سے خطاب کریں گے،سلیم مانڈوی والا
    11بج کر 36 پر اجلاس شروع ہوا کورم کی کی گنتی کے بجائے پلوشہ خان نے تقریر شروع کردی ۔جس پر فلک ناز نے احتجاج کیا تو دوبارہ کورم کی نشاندہی کردی جس پر دوبارہ گھنٹیاں بجائی گئیں۔ سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے ایوان میں اعلان کیا کہ 28اکتوبر کو روس فیڈریشن کے رکن ایوان سے خطاب کریں گے۔ پریزائڈنگ افسر نے اجلاس کورم نہ ہونے کی وجہ سے اجلاس پیر 28اکتوبر کو دوپہر 3بجے تک ملتوی کردیا گیا

    وزارت تعلیم نے سینیٹ میں تحریری جواب دیتے ہوئے بتایا کہ پاکستان میں کل 157پبلک سیکٹر یونیورسٹیاں اور ہائیر ایجوکیشن انسٹیٹیوشن ہیں جن میں سے 97 پر وی سی اور ریکٹر کام کررہے ہیں جبکہ 57قائمقام کے طور پر کام کررہے ہیں اور تین پوسٹیں خالی ہیں پاکستان کے 60پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں میں وائس چانسلر اور ریکٹر کے عہدے پر مستقل تعیناتی نہیں ہے جبکہ ایکٹنگ چارج پر کام کررہے ہیں اسلام آباد کے تمام 6کی چھ یونیورسٹیوں کی وائس چانسلر نہیں ہیں ۔ آزاد کشمیر میں ایک،بلوچستان میں 5،خیبرپختونخوا کے 22،پنجاب میں 22 اور سندھ میں 4 وائس چانسلر اور ریکٹر کی پوسٹیں خالی ہیں

    رپورٹ: محمد اویس، اسلام آباد

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے عدلیہ پر بیرونی دباو کو نظر انداز کیا،جسٹس منصور کا خط

    طاقتوروں کا وار کامیاب،یحییٰ آفریدی چیف جسٹس،فیض حمید کا فیصلہ چند دن میں

    بس ایک دن کیلئے برداشت کر لیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

    سپریم کورٹ میں 26 ویں آئینی ترمیم کے خلاف ایک اور درخواست

    جسٹس منصور علی شاہ کا چیف جسٹس کو خط،مخصوص بنچ میں بیٹھنے سے معذرت

    رجسٹرار آفس کو آئینی بنچ کے حوالے سے پالیسی دے دی ہے،نامزد چیف جسٹس

    پی ٹی آئی کو جسٹس یحییٰ آفریدی کی تقرری پر نہیں، آئینی ترامیم پر تحفظات ہے: شعیب شاہین

    سپریم کورٹ،برطرف ملازمین بحالی کی درخواست آئینی بینچز کو بھیج دی گئی

    40 فیصد مقدمات آئینی بنچوں کو منتقل کئے جائیں گے

  • تعلیم حاصل کرنیوالے قیدیوں کی سزا معافی،اجلاس نہ ہونے پر اظہار برہمی

    تعلیم حاصل کرنیوالے قیدیوں کی سزا معافی،اجلاس نہ ہونے پر اظہار برہمی

    محکمہ داخلہ پنجاب نے ایجوکیشن ریمیشن کمیٹی کی میٹنگ نہ بلانے پر جیل خانہ جات حکام کو اظہار برہمی کا نوٹس دیا ہے،

    ترجمان محکمہ داخلہ پنجاب کے مطابق تعلیم مکمل کرنے والے قیدیوں کی بروقت رہائی کیلئے کمیٹی کا اجلاس ہر ماہ ہونا لازم ہے،ڈی آئی جی پریزن انسپیکشن، اے آئی جی پریزن جوڈیشل، اے آئی جی پریزن ایس اینڈ ڈی کو خط لکھا گیا ہے،متعلقہ افسران نے 2 ماہ سے ایجوکیشن ریمیشن کمیٹی کا اجلاس منعقد نہیں کیا، افسران کی غفلت کے باعث تعلیم مکمل کرنے والے قیدیوں کی رہائی میں تاخیر ہوئی، ایجوکیشن ریمیشن کمیٹی ہر ماہ تعلیم مکمل کرنے والے قیدیوں کی سزا میں کمی کا فیصلہ کرتی ہے، دورانِ قید میٹرک، انٹر، بی اے یا ایم اے کرنے والے اسیران کو 6 سے 10 ماہ سزا کی معافی ملتی ہے، دورانِ قید ترجمہ و حفظ القرآن مکمل کرنے والے اسیران کو 6 ماہ سے 2 سال سزا کی معافی ملتی ہے، الیکٹریشن، موٹر بائینڈنگ اور بیوٹیشن جیسے کورسز کرنے پر اسیران کو 1 ماہ تک سزا کی معافی ملتی ہے.

    جبری مشقت بارے آگاہی،انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کی لاہور میں میڈیا ورکشاپ

    بہت ہو گیا،طوائفوں کی ٹیم، محسن نقوی ایک اور عہدے کے‌خواہشمند

    قومی اسمبلی،غیر قانونی بھرتیوں پر سپیکر کا بڑا ایکشن،دباؤ قبول کرنے سے انکار

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    حاجرہ خان کی کتاب کا صفحہ سوشل میڈیا پر وائرل،انتہائی شرمناک الزام

    جمخانہ کلب میں مبینہ زیادتی،عظمیٰ تو پرانی کھلاڑی نکلی،کب سے کر رہی ہے "دھندہ

  • دو کروڑ 62 لاکھ 6 ہزار 520 بچے بچیاں اسکولوں سے باہر

    دو کروڑ 62 لاکھ 6 ہزار 520 بچے بچیاں اسکولوں سے باہر

    ملک بھر میں دو کروڑ 62 لاکھ 6 ہزار 520 بچے بچیاں اسکولوں سے باہر ہیں

    وزارت تعلیم نے تفصیلات ایوان میں پیش کر دی ،5 سے 9 سال تک کے 1کروڑ 7 لاکھ 74 ہزار 890 بچے اور بچیاں اسکول سے باہر ہیں، 49 لاکھ 72 ہزار 949 سال کے بچے ،58 لاکھ 1 ہزار 941 بچیاں تعلیم سے محروم ہیں،10 سے 12 سال تک کی عمر کے 49 لاکھ 35 ہزار 484 بچے بچیاں مڈل تعلیم سے محروم ہیں،جن میں سے21لاکھ 6 ہزار 672 بچے اور 28 لاکھ 28 ہزار 812 بچیاں مڈل تعلیم سے محروم ہے ،ہائی اسکول کی تعلیم سے کل 45 لاکھ 45 ہزار 537 طلبہ طالبات محروم ہیں،طلبا 23لاکھ 6 ہزار 8 سو بیاسی اور طالبات کی تعداد 22 لاکھ 38 ہزار 655 ہے ،ہائر سیکنڈری کے کل 59 لاکھ 50 ہزار 609 طلبا و طالبات تعلیم سے محروم ہیں،جس میں طلبہ 29 لاکھ 92 ہزار 570 اور طالبات 29 لاکھ 58 ہزار 49 ہیں

    پاسپورٹ آفس کی دیواریں بھی پیسے مانگتی ہیں،شہریوں کی وزیر داخلہ سے شکایت

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    پولیس وردی پہننے پر وزیراعلیٰ پنجاب کیخلاف مقدمہ کی درخواست

    میں تین بار وزیر اعظم رہنے والے نواز شریف کی بیٹی تھی مگر مجھے بھی خود کو ثابت کرنا پڑا،مریم نواز

  • محکمہ تعلیم سندھ کا نیویارک کے تعلیمی اداروں کے ساتھ   آن لائن کوآرڈینیشن پروگرام   کا فیصلہ

    محکمہ تعلیم سندھ کا نیویارک کے تعلیمی اداروں کے ساتھ آن لائن کوآرڈینیشن پروگرام کا فیصلہ

    وزیر تعلیم سندھ سید سردار علی شاہ سے نیو یارک اسٹیٹ کے اسمبلی اسپیکر فل راموس (Mr. Phil Ramos) نے اپنے وفد کے ساتھ ملاقات کی ہے،

    ملاقات میں سیکریٹری اسکول ایجوکیشن سندھ زاہد علی عباسی، سیکریٹری کالج ایجوکیشن صدف انیس شیخ، چیف پروگرام مینجر آر ایس یو ڈاکٹر جنید سموں، اور دیگر افسران بھی موجود تھے،32 رکنی وفد میں اسمبلی رکن ایلیک بروک، امریکن پاکستانی کمیٹی کے ڈاکٹر اعجاز، امتیاز راہی، امتیاز پیرزادہ، عامر میمن اور دیگر شامل تھے،وزیر تعلیم سید سردار شاہ نے نیو یارک اسٹیٹ کے اسمبلی اسپیکر فل راموس اور آئے ہوئے وفد کو سندھ میں تعلیمی چیلینجز کے سلسلے میں آگاہی دی۔ اور کہا کہ سندھ کی تعلیم کی ترقی میں امریکی عوام کا قابل تعریف تعاون رہا ہے۔سندھ میں یو ایس ایڈ کے تعاون سے سیلاب سے متاثر ہونے والے 108 اسکولز کی اسٹیٹ آف دی آرٹ عمارتیں تعمیر کی گئیں۔ایک دوسرے سے سیکھنے کے لیے ورچوئل نظام کے تحت تعاون کو بڑھایا جا سکتا ہے۔

    وفد نے اس بات پر اتفاق کیا کہ سندھ کے اسکولز اور نیویارک کے اسکولز کے مابین آن لائین کوآرڈینیشن نظام قائم کیا جاۓ۔ ملاقات میں اتفاق کیا گیا کہ پہلے مرحلے میں ایک سرکاری اور ایک نجی اسکول کا نیویارک کے اسکولز کے ساتھ ورچوئل رابطہ قائم کیا جاۓ گا۔سندھ اور نیویارک کے اسکولز کی کانفرسنگ کنیکٹوٹی سے اساتذہ اور طلباء اور ایک دوسرے معلومات کا تبادلہ کر سکیں گے۔

    نیو یارک اسٹیٹ کے اسمبلی اسپیکر فل راموس نے کہا کہ وہ نیویارک کمیونٹی کے طرف سے ہر ممکن تعاون کا یقین دلاتے ہیں۔آن لائین کانفرنسنگ کے ذریعہ امریکی طلبہ پاکستان کے بارے میں پاکستانی طلبہ اور پاکستانی اساتذہ امریکیوں سے سیکھ سکتے ہیں، امریکی اور پاکستانی تعلیمی اداروں کے آن لائین کوآرڈینیشن سے تکنینکی تعلیم اور شارٹ کورسز کو بھی متعارف کروایا جا سکتا ہے۔

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سے نیو یارک اسٹیٹ کے اسمبلی اسپیکر فل راموس کی ملاقات
    دوسری جانب وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سے نیو یارک اسٹیٹ کے اسمبلی اسپیکر فل راموس (Mr Phil Ramos) نے اپنے وفد کے ساتھ ملاقات کی، ملاقات میں وزیر صحت ڈاکٹر عذرا پیچوہو، وزیر تعلیم سردار شاہ، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، سیکریٹری ٹو سی ایم رحیم شیخ اور مختلف محکموں کے سیکریٹریز شریک تھے،32 رکنی وفد میں اسمبلی رکن ایلیک بروک، امریکن پاکستانی کمیٹی کے ڈاکٹر اعجاز، امتیاز راہی، امتیاز پیرزادہ، عامر میمن اور دیگر شامل تھے، وزیراعلیٰ سندھ اور نیو یارک اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر کے درمیان صحت کے شعبے میں ٹریننگ پر بات چیت ہوئی، وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ نرسز کی صلاحیت بڑھانے کی ضرورت ہے، نرسنگ کی بہترین ٹریننگ کیلئے اقدامات کر رہے ہیں، نیو یارک اسٹیٹ کے نرسنگ اساتذہ سندھ میں آن لائن ٹیچنگ کرینگے تو معیار میں بہتری آئے گی،

    وزیر صحت ڈاکٹر عذرا پیچوہو کا کہنا تھا کہ اسپیشلائیڈ نرسز کی بہت ضرورت ہے، نیو یارک اسٹیٹ اگر نرسز کی اسپیشلائیزیشن کیلئے تعاون کرے تو اچھا ہوگا،

    وزیراعلیٰ سندھ اور نیویارک کے ڈپٹی اسپیکر نے تعلیمی وفد کے تبادلے پر بھی بات چیت کی،وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ سندھ کے تعلیمی اداروں کے بچے اور اساتذہ نیویارک کے تعلیمی اداروں کا دورہ کرنا چاہتے ہیں، تعلیمی وفد کے تبادلے سے ایک دوسرے کی تعلیمی سرگرمیوں کا تجربہ ہوگا، سید مراد علی شاہ نے اگلے سیشن میں سندھ اسمبلی سے نیویارک اور کراچی سسٹر سٹیز کی قرارداد منظور کرنے کا اعلان کیا

  • بچیوں کی تعلیم کی مخالف ویڈیو پرنیلوفر بختیارکا نوٹس،بڑا مطالبہ

    بچیوں کی تعلیم کی مخالف ویڈیو پرنیلوفر بختیارکا نوٹس،بڑا مطالبہ

    چیئرپرسن قومی کمیشن برائے وقار نسواں نےبچیوں کی تعلیم کی مخالف ویڈیو پر نوٹس لے لیا ہے

    چیئرپرسن قومی کمیشن برائے وقار نسواں نیلوفر بختیار کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر وائرل حسن اقبال چشتی کی وڈیو ناقابل برداشت ہے۔ سوشل میڈیا پر وائرل وڈیو میں بچیوں کی تعلیم مخالف مواد پر سخت ترین کارروائی کی جائے۔ سائبر کرائم ایف آئی اے وڈیو بنانے اور وائرل کرنے والوں کو کیفر کردار تک پہنچائے۔ پی ٹی اے بچیوں کی تعلیم کے مخالف مواد تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارم سے فوری ہٹائے۔بچیوں، خواتین کے بنیادی حقوق مخالف مواد نشر، تشہیر کرنے والوں پر مستقل پابندی عائد کی جائے۔ اسلامی نظریاتی کونسل بھی یقینی طور پر حسن اقبال چشتی کی مذمت کرے گا۔ہم پر امید ہیں اسلامی نظریاتی کونسل، علماے کرام حسن اقبال چشتی سے اظہار لاتعلقی کریں گے۔

    چیئرپرسن نیلوفر بختیار کا کہنا تھا کہ دین اسلام اور آئین کا آرٹیکل 25 اے بچیوں کی تعلیم پر واضح ہیں۔ تعلیم کوئی احسان یا انسانی زندگی میں اضافی چیز نہیں، بنیادی حق ہے۔ قومی کانفرنس براے تعلیم نسواں کے اختتام کے فوری بعد اس وڈیو کا عام ہونا تشویش کا باعث ہے۔ بچیوں، خواتین کو تعلیم کے بنیادی حق سے محروم رکھنے کی سوچ کا دین، آئین میں تصور نہیں۔

    دوسری جانب فیصل آباد کے علاقے تاندیانوالہ میں ایڈووکیٹ شبیر سیال نے نفرت انگیز اور گھٹیا اشعار پڑھنے پر حسن اقبال چشتی کے خلاف تھانے میں درخواست جمع کروا دی ہے اور کہا کہ بچیوں کی تعلیم کی مخالفت کرنے پر حسن چشتی پر مقدمہ درج کیا جائے.ایڈوکیٹ شبیر سہال کا کہناتھا کہ مقدمہ درج نہ ہوا تو عدالت سے رجوع کریں گے،

    امریکی ایوان نمائندگان میں قرارداد،پاکستان کے خلاف آپریشن گولڈ اسمتھ کی ایک کڑی

    آپریشن گولڈ سمتھ کے حوالہ سے سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے ایک وی لاگ میں انکشافات کیے تھے اور کہا تھا کہ اب آپریشن گولڈ سمتھ جو ہے چڑیل کی خبر کے مطابق وہ لانج ہو گیا ہے

    امریکی قرارداد پاکستان کے سیاسی حالات سے ناواقفیت پر مبنی ہے،ترجمان دفتر خارجہ

    گولڈسمتھ 2.0 کے حصے کے طور پر قرارداد 901 پاکستان کو کمزور کرنے کی کوشش

    امریکی قرارداد مسترد، وزیر خارجہ کا مقابلے میں قرارداد لانے کا اعلان

    قراردار پر پاکستان نے امریکا کو اپنے تحفظات سے آگاہ کردیا ہے،ترجمان دفتر خارجہ

  • کچھ لوگ اسکولوں کو تباہ کر کے کہہ رہے ہیں ہم اسلام کی خدمت کررہے ہیں،چیف جسٹس

    کچھ لوگ اسکولوں کو تباہ کر کے کہہ رہے ہیں ہم اسلام کی خدمت کررہے ہیں،چیف جسٹس

    ملک بھر کی سرکاری یونیورسٹیز میں مستقل وائس چانسلر کی تعیناتی کیس کی سماعت ہوئی

    دوران سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ محکمہ تعلیم میں بیٹھے افسران کیا مکھیاں مار رہے ہیں؟یونیورسٹیز پاکستان کا مستقبل ہیں، منظم طریقے سے پاکستان کے مستقبل کو تباہ کیا جارہا ہے، ملک میں سب کچھ آہستہ آہستہ زمین بوس ہورہا ہے، ٹی وی چینلز میں بیٹھ کر سیاسی مخالفین کا غصہ نظر آتا ہے، تعلیم کے معاملے پر ٹی وی چینلز میں کوئی پروگرام نہیں ہوتے ہیں،گالم گلوچ کے اعدادوشمار میں پاکستان کی پہلی پوزیشن ہوگی، کچھ لوگ اسکولوں کو تباہ کر کے کہہ رہے ہیں ہم اسلام کی خدمت کررہے ہیں، اسکولوں کو تباہ کرنے والوں سے حکومتیں پھر مذاکرات بھی کرتی ہیں،جس طرح پی آئی اے میں تباہی ہوئی اسی طرح یونیورسٹیز میں بھی ہورہی ہے،

    پاکستان میں 154 سرکاری یونیورسٹیز،66 میں وائس چانسلرز کو اضافی چارج یا عہدے خالی
    ہائیر ایجوکیشن کمیشن کی جانب سے رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کی گئی ، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں 154 سرکاری یونیورسٹیاں ہیں،66 یونیورسٹیز میں وائس چانسلر کو اضافی چارج دیا گیا یا عہدے خالی ہیں، اسلام آباد کی 29 یونیورسٹیز میں سے 24 پر مستقل وائس چانسلرز تعینات ہیں،بلوچستان کی 10 یونیورسٹیز میں سے 5 میں وائس چانسلرز تعینات ہیں، بلوچستان کی سرکاری یونیورسٹیز میں 5 میں قائم مقام وی سی موجود ہیں، خیبرپختونخوا کی 32 سرکاری یونیورسٹیز میں سے 10 پر مستقل وی سی موجود ہیں،خیبرپختونخوا میں کچھ سرکاری یونیورسٹیزمیں 16 پر اضافی چارج اور 6 خالی ہیں، پنجاب کی 49 سرکاری یونیورسٹیز میں سے 20 پر مستقل اور 29 پر قائم مقام وی سی ہیں،سندھ کی 29 سرکاری یونیورسٹیز میں سے 24 پر مستقل اور 5 پر اضافی چارج پر وی سیز تعینات ہیں،

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    ایبٹ آباد میں "ہم جنس پرستی کلب” کے قیام کے لیے درخواست

    ہنی ٹریپ،لڑکی نے دوستوں کی مدد سے نوجوان کیا اغوا

    بچ کر رہنا،لڑکی اور اشتہاریوں کی مدد سے پنجاب پولیس نے ہنی ٹریپ گینگ بنا لیا

    طالبات کو نقاب کی اجازت نہیں،لڑکے جینز نہیں پہن سکتے،کالج انتظامیہ کیخلاف احتجاج

    امجد بخاری کی "شادی شدہ” افراد کی صف میں شمولیت

    مجھے مسلم لیگ ن کے حوالے سے نہ بلایا جائے میں صرف مسلمان ہوں،کیپٹن ر صفدر

  • وزارت خارجہ تعلیم کی دشمن بن گئی طلبہ پاکستان میں دربدر ہوگئے

    وزارت خارجہ تعلیم کی دشمن بن گئی طلبہ پاکستان میں دربدر ہوگئے

    وزارت خارجہ تعلیم کی دشمن بن گئی، سکالر شپ پر بنگلہ دیش جانے کے منتظر طلبا وزارت خارجہ کی نااہلی کی وجہ سے دربدر ہو رہے ہیں، طلبا کی سکالر شپ ضائع ہونے کا امکان ہے، طلبا دفاتر کے چکر لگا لگا کر تھک گئے لیکن کوئی ذمہ داری لینے کو تیار نہیں

    سارک تنظیم کے رُکن ممالک کے درمیان طلباء کو مختلف تعلیمی شعبوں میں سکالرشپس دینے کا معاہدہ ہوا۔ میڈیکل کی تعلیم کے لئیے بنگلہ دیش کو منتخب کیا گیا. یہ زبردست اقدام تھا اس بنیاد پر پاکستانی طلباء بھی سارک ممالک کے بہترین اداروں میں فُلی فنڈڈ سکالرشپ کے تحت زیر تعلیم ہیں۔امسال بھی پاکستان سے طلباء نے سارک سکالر شپ پروگرام کے تحت ایم بی بی ایس کے لئیے اپلائی کیا۔پاکستان سے 21 طلباء بنگلہ دیش کے مختلف میڈیکل کالجز میں سلیکٹ ہوئے ۔

    گزشتہ سال تک سادہ سا طریقہ کار تھا کہ سلیکٹڈ سٹوڈنٹس متعلقہ ڈاکومنٹس اٹیچ کر کے بنگلہ دیش ہائی کمیشن کو ویزہ کے لئیے درخواست دیتے جو فوراً ہی پراسس ہو کے دو تین دن میں ویزہ جاری ہوجاتا تھا ۔مگر کیسے ممکن ہے کہ پاکستانی بیوروکریسی معاملہ کو پیچیدہ نہ بنائے ۔گزشتہ سال پاکستانی اداروں نے بنگلہ دیش ایمبیسی کو خط لکھا کہ این او سی کے بغیر کسی پاکستانی سٹوڈنٹ کو سٹڈی ویزہ جاری نہ کیا جائے،اور یہ لیٹر لکھنے کے بعد پاکستانی ادارے ستو پی کے سو گئے،

    اب جب پاکستانی طلباء ویزے کے لئیے بنگلہ دیش ہائی کمیشن گئے تو انہیں پاکستانی وزارت داخلہ سے داخلہ لانے کے لئیے کہا گیا ۔وہیں وزارت داخلہ میں کسی کو اس قسم کے این او سی کے متعلق کوئی معلومات ہی نہیں ہیں،آفیشلز کہتے کہ باہر جانے کے لئیے این او سی جاری کرنا وزارت داخلہ کا کام ہی نہیں۔یہ ہمارے دائرہ کار میں آتا ہی نہیں ہم باہر سے پاکستان آنے والوں کے لئیے این او سی جاری کرتے ہیں نا کہ باہر جانے والوں کے لئیے نہ ایسی کوئی مثال موجود ہے۔وزارت داخلہ نے طلبا کو این او سی جاری کرنے سے صاف انکار کردیا۔

    طلبا نے وزارت خارجہ سے رجوع کیا تو انہوں نے بھی کسی ایسے این او سی کے متعلق لاعلمی کا اظہار کیا۔طلبا کا کہنا ہے کہ گوگل کی خاک چھانی گئی تو ہائیر ایجوکیشن کمیشن کی طرف سے پبلک الرٹ جاری کیا گیا تھا جسمیں واضح طور پہ لکھا تھا کہ فارن منسٹری کی ایڈوائس پر وزارت داخلہ این او سی جاری کرے گی باقاعدہ وزارت داخلہ کے پولٹیکل ایکسٹرنل ونگ PE 1 کو مینشن کیا گیا تھا،جب متعلقہ PE1 سیکشن میں یہ الرٹ دکھایاگیا تو انہوں نے پھر لاعلمی کا اظہار کیا اور این او سی جاری کرنے سے انکار کر دیا ۔تین دن تک وزارت خارجہ سے وزارت داخلہ کے درمیان شٹل کاک بنے رہنے کے بعد چوتھے دن دوبارہ بنگلہ دیش ہائی کمیشن گیا اور ان سے وہ لیٹر دکھانے کی درخواست کی جسمیں حکومت پاکستان نے این او سی لازمی قرار دیا تھا۔ آفیسر نے وہ لیٹر دکھایا تب عقدہ کھلا کہ فارن منسٹری کے ساوتھ ایشیا ڈویژن کی طرف سے یہ لیٹر جاری کیا گیا تھا جس میں انٹیرئیر منسٹری این او سی جاری کرنے کی مجاز بتائی گئی ۔ ایسا لیٹر فی الواقع موجود تھا مگر وزارت داخلہ اور خارجہ این او سی سے متعلق مسلسل انکار کر رہی تھیں

    فارن منسٹری ساوتھ ایشیا ڈیسک سے رابطہ کیا گیا۔ انہوں نے ایسا لیٹر جاری کرنے کا اقرار کیا جب انہیں انکے جاری کردہ لیٹر کا باقاعدہ نمبر بتایا ۔اسسٹنٹ ڈائریکٹر ہما طارق نے بتایا کہ بالکل ایسا لیٹر ہم نے لکھا تھا مگر اسکی تفصیلات دیکھنی پڑے گی۔ ساتھ میں اپلیکیشن داخل کرنے کا کہا ، اپلیکیشن داخل کردی گئی مگر ابھی تک اس پہ کوئی رسپانس کوئی پیشرفت نہیں ،اب صورتحال یہ ہے کہ 21 پاکستانی طلباء کو ایک برادر ملک نے سکالرشپ دی مگر پاکستانی بیورو کریسی اسکے درمیان رکاوٹ بن گئی ہے

    پاکستان فارن منسٹری نے بنگلہ دیش ایمبیسی کو این او سی لازمی قرار دینے کا خط تو لکھ دیا مگر این او سی جاری کرنے کا طریقہ کار وضع ہی نہیں کیا ۔کوئی پالیسی نہیں بنائی ،اداروں کے درمیان کوارڈینیشن نہیں کوئی انڈرسٹینڈنگ نہیں.ڈائریکٹر جنرل میڈیکل ایجوکیشن بنگلہ دیش نے سلیکٹڈ پاکستانی طلباء کو 31 مئی تک ایڈمیشن کی ڈیڈ لائن دی ہے ۔مگر آج تک پاکستانی طلباء ایک غیر ضروری ڈاکومنٹ کے حصولِ کے لئیے خوار ہورہے ہیں ۔پاکستانی اداروں کی نااہلی ،کوتاہی نہایت غیر ذمہ داری کی وجہ سے میرٹ پہ آنے والے 21 ہونہار طلباء کی سکالرشپس ضائع ہونے کا خدشہ ہے۔

    9 مئی کو ایک سال، زخم ابھی تازہ،عمران کا جوابی وار،معافی نہیں ملے گی؟

    نومئی،ایک برس بیت گیا،ملزمان کی سزائیں نہ مل سکیں،یہ ہے نظام انصاف

    نو مئی واقعات کی چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے سامنے مذمت کی تھی،عمران خان

    9 مئی پاکستان کیخلاف بہت بڑی سازش جس کا ماسٹر مائنڈ بانی پی ٹی آئی،عظمیٰ بخاری

    9 مئی کی آڑ میں چادرو چار دیواری کی عزت کو پامال کرنیوالے معافی مانگیں،یاسمین راشد

    عوام نے نومئی کے بیانیے کو مستر د کر دیا ،مولانا فضل الرحمان

    اسد قیصر نے نومئی کے واقعات پر معافی مانگنے سے انکار کر دیا

    نومئی، پی ٹی آئی نے احتجاج پروگرام تشکیل دے دیا

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    سانحہ نو مئی نائن زیرو، بلاول ہاؤس یا رائے ونڈ سے پلان ہوتا تو پھر ردعمل کیا ہوتا؟ بلاول بھٹوزرداری

    یہ لوگ منصوبہ کرچکے ہیں نو مئی کا واقعہ دوبارہ کروایا جائے

    نو مئی جلاؤ گھیراؤ، پہلا فیصلہ آ گیا، 51 ملزمان کو ملی سزا

    عمران خان سے ملنے اب اڈیالہ نہیں آؤنگا،شیر افضل مروت پھٹ پڑے