Baaghi TV

Tag: تعلیم

  • پانچویں اور آٹھویں کے سنٹرلایزڈ امتحانات کے نتائج  آگئے

    پانچویں اور آٹھویں کے سنٹرلایزڈ امتحانات کے نتائج آگئے

    لاہور: ایف ڈی ای نے پانچویں اور آٹھویں کے سنٹرلایزڈ امتحانات براے سال 2023-24 کے نتائج کا اعلان کردیا –

    باغی ٹی وی : رواں برس کلاس پنجم کیلئے کل 25101 طلبہ و طالبات نے امتحانات میں شریک رہے،اعلان کردہ نتائج کے مطابق کلاس پنجم کے پاس اُمیدواروں کی شرح84.5 فیصد رہی، اسی طرح کلاس ہشتم کے سالانہ سنٹرلائز امتحانات میں کل 19693 طلبہ و طالبات شریک رہے –

    اعلان کردہ نتائج کے مطابق کلاس ہشتم کے پاس اُمیدواروں کی شرح87.25 فیصد رہی، پانچویں کلاس میں کامیاب طلباء کی تعداد 9599 جبکہ طالبات کی تعداد 11598 رہی، آٹھویں کلاس کے کامیاب طلباء کی تعداد 15934 جبکہ طالبات کی تعداد 21473 رہی-

    پانچویں کلاس کے سنٹرلائز امتحان میں 587 نمبر کے ساتھ اسلام ماڈل سکول جی ایٹ ٹو کی حائقہ کریم پہلے نمبر پر رہیں، پانچویں کلاس میں دوسری پوزیشن مشال فاطمہ، آئینہ مناہل اور عائشہ ایمان نے 586 نمبر کے ساتھ اپنے نام کی، پانچویں کلاس میں تیسری پوزیشن جی ٹین ٹو ماڈل کالج کی زینب نے 585 نمبر لیکر اپنے نام کی –

    آٹھویں کلاس کے سنٹرلائز امتحان میں 679 نمبر کے ساتھ سی ڈی اے ماڈل سکول کی مریم شفی نے پہلی پوزیشن اپنے نام کی ، آٹھو یں کلاس کی دوسری پوزیشن آئی ایٹ تھری ماڈل کالج کے ہمدان شمشیر نے 675 نمبر لیکر اپنے نام کی، آٹھویں کلاس میں تیسری پوزیشن علیمہ طاہرہ نور نے 673 نمبر لیکر اپنے نام کی –

    اعلان کردہ نتائج کے مطابق گرلز سائیڈ پر کلاس فائیو اسلام کالج فار گرلز نے 19 سکالرز شپس کے ساتھ پہلی پوزیشن سمیٹی، کلاس فائیو میں ہی 14 سکالرز شپس کے ساتھ گرلز سائیڈ پر پر آئی ٹین فور گرلز کالج دوسرے نمبر پر رہا، پانچویں کلاس میں بوائز سائیڈ پر 24 اسکالرشپس کے ساتھ آئی سی بی پہلے، جی ٹین دور بوائز کالج 19 سکالرز شپس کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہا –

    آٹھویں کلاس میں گرلز سائیڈ پر 9 سکالرز شپس کے ساتھ آئی سی جی پہلے جبکہ اسلام آباد ماڈل سکول ایف سیون 8 سکالرز شپس کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہا ،آٹھویں کلاس میں بوائیز سائیڈ پر 21 اسکالرشپس کے ساتھ جی نائن دور ماڈل کالج پہلے جبکہ 13 اسکالرشپس کے ساتھ ایف ایٹ فور ماڈل کالج دوسرے نمبر پر رہا-

  • تعلیمی ترقی ضامن معاشی ترقی

    تعلیمی ترقی ضامن معاشی ترقی

    تعلیمی ترقی ضامن معاشی ترقی

    ازقلم غنی محمود قصوری

    ایک بہترین معاشرے کی تکمیل بغیر بہترین تعلیمی نظام کے بغیر ناممکن ہے ہم الحمدللہ مسلمان ہیں اور جتنا زور اسلام میں تعلیم حاصل کرنے اور تحقیق کرنے پہ دیا گیا ہے اتنا کسی اور مذہب میں نہیں

    نبی آخر الزماں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پہ جب پہلی وحی نازل ہوئی تو وہ بھی ان الفاظ سے تھی

    اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ1 خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ2 اِقْرَاْ وَرَبُّكَ الْاَكْرَمُ3 الَّذِيْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِ4 عَلَّمَ الْاِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ5 (العلق)

    (اے پیغمبر) پڑھ اپنے رب کے نام سے ( آغاز کرتے ہوئے) پڑھ جس نے (ہر چیز کو) پیدا فرمایا جمے ہوئے خون کے ایک لوتھڑے سے انسان کی تخلیق کی ،پڑھ اور تمہارا رب بڑا کریم ہے جس نے قلم کے ذریعہ سے علم سکھایا،انسان کو وہ علم دیا جسے وہ نہ جانتا تھا

    آپ دنیا میں نظر دوڑائیں تو آپکو وہی قوم ترقی یافتہ ملے گی جس کا تعلیمی نظام اچھا ہے وگرنہ بغیر تعلیمی ترقی کے قومیں ترقی پذیر ہی رہی ہیں جب تعلیمی نظام اچھا ہو گا تو صحت مند معاشرہ تکمیل پائے گا اوردیگر شعبہ زندگی میں خدمات سرانجام دینے والے لوگ باعمل اور محنتی ہونگے

    اس وقت دنیا بھر کے تمام ممالک میں سے خواندگی کے لحاظ سے برطانیہ پہلے امریکہ دوسرے نمبر پر ہے جبکہ پاکستان اس وقت 79 ویں نمبر پہ ہے

    پاکستان میں شرع خواندگی 62 فیصد ہے جو کہ انتہائی کم درجہ پہ ہے مذید ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم اپنے جی ڈی پی کا محض 1.7 فیصد تعلیم پہ خرچ کرتے ہیں جو کہ بہت ہی کم تر ہے

    پاکستان میں اس وقت خواندگی کی شرح 62.8 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے جس میں مردوں کی شرح 73.4 فیصد جبکہ خواتین کی 51.9 فیصد ہے
    ہمارے ہاں سکول نہ جانے والے بچے 32 فیصد ہیں جن میں لڑکوں کے مقابلے لڑکیاں زیادہ تعداد میں تعلیم سے محروم ہیں جو کہ سب سے بڑا المیہ ہے
    جبکہ سکول نا جانے والے بچوں کی شرح بلوچستان میں 47 فیصد ،سندھ میں 44 فیصد، خیبرپختونخوا میں 32 فیصد اور پنجاب میں 24 فیصد ہے
    ہمارے ہاں جہاں غربت و مہنگائی،بیروزگاری تعلیم کی راہ میں رکاوٹ ہیں وہیں ہمارا پرانا فرسودہ نظام تعلیم بھی ہے
    ہمارے ہاں کلاس اول کا بچہ صبح اٹھتے ہی سپارہ پڑھنے پھر 8 بجے سکول اور سکول سے واپس آتے ہی ٹیوشن میں مگن رہتا ہے جسے کھیلنے کودنے کا موقع بلکل نہیں ملتا اور اسے اپنی جسمانی و دماغی صحت کو اچھا کرنے کا موقع نہیں ملتا جس کے باعث بیشتر بچے بیمار رہتے ہیں اور تعلیم سے بھاگتے ہیں
    ہونا تو یہ چائیے کہ بطور مسلمان ملک جسطرح سکول و کالجز میں بچوں کی پڑھائی لازم ہے ایسے ہی صبح فجر کے بعد بچے کو مسجد میں ایک مستند قاری قرآن سے سپارہ پڑھنے کیساتھ نماز پڑھنے کا بھی پابند کیا جائے اور پھر سکول وقت میں اسی بچے کو لازمی طور پہ کم سے کم 30 سے 45 منٹ تک جسمانی کھیل کود کا موقع دیا جائے تاکہ اس کی جسمانی و دماغی صحت اچھی رہے اور وہ تعلیم کو تفریح سمجھ کر حاصل کرے
    مگر افسوس کہ ہمارے ہاں سب الٹ سسٹم چل رہا ہے بچوں کو رٹا لگوا لگوا کر پڑھایا جاتا ہے اور اسے کہا جاتا ہے کہ اتنے نمبر لازمی لینے ہیں چاہے جو مرضی کرو

    ہم ساری زندگی میٹرک تک بچوں کو وہ مضامین پڑھاتے ہیں کہ میٹرک کرنے کے بعد جن سے ہمارا پوری زندگی واسطہ ہی نہیں پڑتا
    جیسے کہ ریاضی کی جمع تفریق نفی کے علاوہ جو کچھ سکھلایا جاتا ہے میرا نہیں خیال کے زیادہ تر وہ ہماری زندگی کا حصہ بنا ہو
    مطلب بےمقصد پڑھائی پہ ہم اپنا سارا ٹائم لگا دیتے ہیں

    پاکستان میں تعلیمی نظام کو بہتر کرنے کی خاطر میٹرک تک یکساں تعلیمی نظام ہونا چائیے جس میں میٹرک تک تعلیم کا سارا خرچ گورنمنٹ برداشت کرے
    جنرل سائنس ( آرٹسٹ) گروپ ختم کرکے میٹرک تک سائنس لازمی قرار دی جائے جس میں بچے کو اول کلاس سے میٹرک تک دین اسلام کیساتھ اپنی صحت بارے زیادہ سے زیادہ تعلیم دی جائے
    کلاس اول سے میٹرک تک کے نصاب میں فرسٹ ایڈ،تیراکی،نشانہ بازی،سیلف ڈیفنس،زراعت،الیکٹرک و آٹو مکینک جیسے مضامین شامل کئے جائیں تاکہ ایک بچہ اپنے بچپن سے نوجوانی تک میٹرک کا طالب علم پہنچتے ہوئے اپنی روزمرہ زندگی میں اپنے استعمال کی ہر چیز کی ابتدائی مہارت رکھتا ہو
    اس کے بعد اگر اس بچے کا دل آگے پڑھنے کو کرے تو اس کو اپنی مرضی کا شعبہ چننے کا مکمل اختیار دیا جائے بلکہ ماہر نفیسات سے اس کا سیشن کروا کر اس کا ذہن پڑھ کر اسے اس کے پسندیدہ شعبے میں تعلیم کا پورا موقع دیا جائے کیونکہ ہمارے ہاں بچہ ڈاکٹر بننا چاہتا ہے تو باپ اسے وکیل بنانا چاہتا ہے مگر ماں اسے پائلٹ بننے کا عندیہ دیتی ہے تو اس ساری صورتحال اور ماں باپ کی خواہشات میں وہ بچہ ذہنی کشیدگی کا شکار ہو کر تعلیم سے دور ہو جاتا ہے بجائے کچھ بننے کے وہ اس معاشرے پہ بوجھ بن جاتا ہے
    ہمارے ہاں سب سے بڑی خرابی بچوں کو سکولوں میں سہولیات نا دینا ہے جیسے کہ گرمی میں بچے بغیر پنکھے کے پڑھتی ہیں اور سردی میں سرد ہوا کا مقابلہ کرتے ان کا ذہن پڑھائی کی بجائے موسم سے زور آزمائی میں ہوتا ہے اگر سکولوں میں زیادہ چھٹیوں کی بجائے موسم کے مطابق سہولیات جیسے اے سی و پنکھے وغیرہ دی جائیں تو بچے پڑھائی میں زیادہ توجہ دیں گے
    ہمارے ہاں اشرافیہ کیلئے آئے روز نئی سے نئی ٹیکنالوجی بیرون ممالک سے لا کر دی جاتی ہے حتی کہ ایک آفیسر کیلئے اس کی چھتری پکڑنے والا الگ ملازم دیا جاتا ہے مگر سکولوں میں سہولیات نہیں جس کے باعث اس پرانے فرسودہ نظام تعلیم سے کافی خاطر خواہ نتیجہ نہیں نکل رہا
    اگر ملک کو شاہراہِ ترقی پہ ڈالنا ہے تو ہمیں اپنے تعلیمی نظام کو اپ گریڈ کرنا ہو گا

  • الخدمت فاؤنڈیشن نے 2023میں 21ارب 49کروڑ فلاحی کاموں پر خرچ کئے،ڈاکٹرحفیظ الرحمن

    الخدمت فاؤنڈیشن نے 2023میں 21ارب 49کروڑ فلاحی کاموں پر خرچ کئے،ڈاکٹرحفیظ الرحمن

    الخدمت فاؤنڈیشن پاکستا ن نے سال 2023میں 21ارب 49کروڑ فلاحی کاموں پر خرچ کئے،یتیم بچوں،طلبہ وطالبات ،مریضوں،ایمرجنسی ڈیزاسٹر و دیگرشعبوں میں 2کروڑ 5لاکھ افراد کی خدمت کی گئی،39ڈیزاسٹر مینجمنٹ سنٹرز کے ذریعے الخدمت کے 67ہزاررضاکاروں نے 6لاکھ 25ہزارمتاثرین کوریلیف پہنچایاگیا،22آغوش سنٹرزاورگھروں میں 29ہزارسے زائدیتیم بچوں کی کفالت کررہی ہے،الخدمت فاؤنڈیشن 5269 مستحق طلبہ وطالبات کو436ملین کی سکالرشپ فراہم کرچکی ہے۔

    صدرالخدمت فاؤنڈیشن پاکستان ڈاکٹرحفیظ الرحمن نے الخدمت رازی ہاسپٹل اسلام آباد کی ڈونرکانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ 7ارب 50کروڑ صرف شعبہ صحت پرسالانہ خرچ کررہے ہیں،2023 میں دوران سال 52 ہسپتالوں ،50میڈیکل سنٹرز، 113ڈائیگناسٹک سنٹرز، 310ایمبولنس،54فارمیسی،1144میڈیکل کیمپ کے ذریعے 1کروڑ2لاکھ 21 ہزار 527افراد کوہیلتھ کی سہولیات فراہم کی گئیں۔ میڈیکل ڈائریکٹرڈاکٹرطاہرفاروق نے اس موقع پر ہاسپٹل کی کارکردگی اور مستقبل کے اہداف پر شرکاء کوبریف کیا۔اسداللہ بھٹو،حزب اللہ جکھڑو،عبد الحفیظ بجارانی،حامد اطہرملک سمیت بڑی تعداد میں عمائدین اورڈونرز سالانہ ڈونرکانفرنس میں شریک تھے۔

    ڈاکٹرحفیظ الرحمن نے کہاکہ 2022کے سیلاب کے دوران متاثرہونے والی 70ہزارخواتین کو الخدمت سیف مدرسیف چائلڈپروگرام کے ذریعے رجسٹرڈ کیا اوران کی زچگی سے متعلق تمام امورمیں انھیں میڈیکل اورغذائی سہولیات فراہم کی گئیں جس پر الخدمت نے ایک ارب روپے خرچ کئے۔ اہل خیرکیلئے یہ مواقع ہیں کہ وہ جنت میں اپنا گھربنانے کیلئے الخدمت فاؤنڈیشن کے پراجیکٹس میں اپنامال خرچ کریں،اللہ کی راہ میں خرچ کیا جائے والا مال کئی گنابڑھ کرواپس ملے گا۔ سالانہ رپورٹ کے مطابق ڈیزاسٹرمینجمنٹ کے شعبہ نے دوران سال 30ہزار840 متاثرہ خاندانوں کو فوڈ پیکج 8,310کو خیمے اور ٹینٹ فراہم کئے، قیدیوں، معذوروں،اقلیتی کمیونٹی سمیت دیگرطبقات کے 39لاکھ 36ہزار افراد کوامدادفراہم کی گئی۔ الخدمت فاؤنڈیشن مستحق افراد کو کاروبارکیلئے 14 ہزار افراد کو 43کروڑ کے بلاسود قرض فراہم کرچکی ہے۔

    تمباکو پر ہیلتھ لیوی ٹیکس – ایک جائزہ ،تحریر: راجہ ارشد

    ہیلتھ لیوی ،تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

    ویسے تو ہیلتھ لیوی کی منظوری 2019جون میں ہوچکی ہے

    تمباکو جیسی مصنوعات صحت کی خرابی اور پیداواری نقصان کا سبب بنتی ہیں

    ” ہیلتھ لیوی کے نفاذ میں تاخیر کیوں” تحریر: افشین

     اگر کھلے مقام پر کوئی سگریٹ پی رہا ہو تو اسکو "گھوریں”

    تمباکو سے پاک پاکستان…اک امید

    تمباکو سے پاک پاکستان، آئیے،سگریٹ نوشی ترک کریں

  • تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت اور اخلاقیات پر بھی توجہ مرکوز کرنا ہو گی،عارف علوی

    تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت اور اخلاقیات پر بھی توجہ مرکوز کرنا ہو گی،عارف علوی

    اسلام آباد: صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے 2 کروڑ 62 لاکھ بچے سکولوں سے باہر ہونے سے متعلق حالیہ رپورٹ پر تشویش کا اظہار کیا ہے-

    باغی ٹی وی : عارف علوی نے بدھ کو وزارت تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت کے زیر اہتمام تعلیم کے عالمی دن کی مناسبت سے نیشنل لائبریری اسلام آباد میں منعقد ہ تقریب سے خطاب میں کہاہے کہ ان بچوں کو سکولوں میں لانے کے لئے تعلیمی ایمرجنسی لگا کر ہنگامی بنیادوں پر اقدامات اٹھانے ، تعلیمی اداروں میں ڈبل شفٹ ، ایکسلریٹڈ لر ننگ پروگرام اور مساجد کو بچوں اور بچیوں کی تعلیم کا مرکز بنانے کی ضرورت ہے ،مساجد میں تعلیم دینے کے لئے نئے گریجویٹس اور انٹرمیڈیٹ بچے اور بچیوں کی خدمات حاصل کیں جائیں ، اعلی تعلیم کی شرح کو بڑھانے کے لئے آن لائن تعلیم کو فروغ دیا جائے ، ڈاکٹرز ،انجنیئر زاوردیگر شعبوں میں پیشہ وارانہ تربیت حاصل کرنے والوں کو پاکستان کے اندر ہی ایسی سہولیات دی جائیں کہ وہ بیرون ملک نہ جائیں ۔

    وزارت مذہبی امور کی ملک بھر میں نماز استسقاء ادا کرنے کی اپیل

    فاقی سیکرٹری وزارت تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت وسیم اجمل چوہدری ، سپیشل سیکرٹری محی الدین وانی ،ڈائریکٹر جنرل بیسک ایجوکیشن کمیونٹی سکولز حمیدخان نیازی ،پاکستان انسٹیوٹ آف ایجوکیشن کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر محمد شاہد سرویہ ، اسلام آباد چمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر احسن بختاروری ، اللہ والا ٹرسٹ کے سربراہ شاہد انور سمیت وزارت تعلیم کے حکام ، یو ایس ایڈ ، یونیسف ، یونیسکو ، جائیکا سمیت شعبہ تعلیم میں کام کرنے والے ترقیاتی شعبے کے نمائندوں کی کثیر تعداد تقریب میں شریک تھی ۔

    صدر ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ پاکستان انسٹویٹ آف ایجوکیشن کی تعلیمی شماریاتی رپورٹ 22 ۔ 2021 میں 2 کروڑ 62 لاکھ بچوں کے سکولوں سے باہر ہونے کا بتایا گیا ہے ۔ اتنی بڑی تعداد ہمارے لئے ایک چیلنج ہے ،میٹرک کی سطح پر 44 فیصد بچے سکولوں سے باہر ہیں ۔ ہمارے خطے کے دیگر ممالک میں اسکولوں میں بچوں کی داخلوں کی شرح 98 سے 100 فیصد ہے ۔

    نگران حکومت ، اسٹیبلشمنٹ اور الیکشن کمیشن ملے ہوئے ہیں،عمران خان

    انہوں نے کہا کہ 2 کروڑ 62 لاکھ بچوں کو سکولوں کے اندر لانے کے لئے مزید 50 ہزار سکولوں کی ضرورت ہے،ہماری صوبائی حکومتوں کا تعلیمی بجٹ 25 تا 28 فیصد ہے ، تاہم اتنی کثیر تعداد میں سکول بنانے کیلئے سالوں درکار ہوں گے ، لیکن اس چیلنج سے نبردآزما ہونے کے لئے ہمیں نئے طریقوں بارے سوچنا ہوگا۔

    ڈائریکٹر جنرل بیسک ایجوکیشن کمیونٹی سکولز حمیدخان نیازی نے اس موقع پر بریفنگ دیتے ہوئے ادارے کے موجودہ پروگرا م اور سکول سے باہر بچوں کو سکول میں داخلے کی مہم کا بھی ذکر کیا جس میں ادارے نے اسلام آباد میں بارہ ہزار سے زائد بچوں کو سکولز میں داخل کیا اور اس مہم کی کامیابی میں کلیدی کردار ادا کیا

    ۔صدر مملکت نے ادارے کی کاوشوں کو سراہا اور مزید وسعت پر زور دیا صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ مساجد میں بجلی ،پینے کے صاف پانی سمیت بنیادی ضروریات میسر ہیں اور پاکستان میں مساجد لاکھوں کی تعداد میں ہے ، مساجد میں بچوں اور بچیوں کو الگ الگ اوقات ِکار میں پڑھایا جاسکتا ہے وزارت تعلیم کے ساتھ ملکر مساجد کو سینٹر آف لر ننگ بناکر ہم سکولوں سے باہر بچوں کو سکولوں میں لانے کے اہداف حاصل کرسکتے ہیں ۔

    سوریا کمار نے مسلسل دوسری بار ٹی ٹوئنٹی کرکٹر آف دی ایئر کا ایوارڈ جیت …

    انہوں نے کہا کہ ماضی میں انٹرمیڈیٹ کے بعد بچے اور بچیوں کو سیلف ڈیفنس کی تربیت دی جاتی تھی ، اس کو مثال کے طور پر ہم سامنے رکھ کر اپنے گریجویٹ اور ایف ایس سی بچے اور بچیوں کو اسکولوں سے باہر بچوں کو مساجد میں لاکر تعلیم دی جائے کہ انٹرمیڈیٹ کے بعد اعلی تعلیمی اداروں میں داخلے حاصل کرنے والوں کی شرح 10 تا 12 فیصد ہے ،ہمارے ہمسایہ ممالک میں یہ شرح 24 فیصد سے زائد ہے ، اس لئے ہم نے طلبا کی تعداد بڑھانے پر بھی توجہ دینا ہوگی ۔ ورچوئل یونیورسٹی نے آن لائن تعلیم کے ذریعے 30 سے 65 ہزار داخلے اضافی کئے ہیں اس کو بھی ہم سکولوں سے باہر بچوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے کے لئے استعمال کرسکتے ہیں ۔

    صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ اس تقریب کا سلوگن تعلیم کے ذریعے امن ہے لیکن میں یہ سمجھتا ہوں کہ تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت اور اخلاقیات پر بھی توجہ مرکوز کرنا ہو گی کیونکہ دنیا میں تعلیم یافتہ لوگ بھی ظلم کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم کے شعبے میں کام کرنے والے سٹیک ہولڈرز حقیقی معنوں میں ہمارے مددگار ہیں ،ان سے زیادہ سے زیادہ استفادہ حاصل کر کے ہم سکولوں سے باہر بچوں کے بوجھ کو کم سے کم کر سکتے ہیں ۔

    پاکستان عوامی تحریک کا پی پی رہنما راجہ پرویز اشرف کی حمایت کا اعلان

    انہوں نے کہا کہ وزارت تعلیم کی جانب سے ڈسلیکسیا بیماری میں مبتلا بچے اور بچیوں کی تعلیم کے لئے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں جو قابل ستائش ہیں ملک میں روزگار کے ناکافی مواقع ہونے کی وجہ سے پڑھے لکھے اور ہنر مند لوگ باہر جارہے ہیں ،ان لوگوں کے لئے ملک کے اندر مواقع اور سہولیات دینا ہوں گی ۔

    انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس مشوروں کی کوئی کمی نہیں ہے لیکن بچوں کو سکولوں میں لانے کے لئے ہمیں عملی اقدامات اٹھانا ہوگی اس موقع پر بیسک ایجوکیشن کمیونٹی سکولز سمیت دیگر اداروں نے اپنے اسٹالز لگائے اور صدر مملکت نے بیسک ایجوکیشن کمیونٹی سکولز (BECS) اسٹال کا خصوصی دورہ کیا اور ڈی جی بیسک کی کاوشوں کو سراہا-

  • پاکستان میں 2 کروڑ سے زائد بچے سکول جانے سے محروم

    پاکستان میں 2 کروڑ سے زائد بچے سکول جانے سے محروم

    لاہور: پاکستان میں 2 کروڑ سے زائد بچے سکول جانے سے محروم ہیں۔

    باغی ٹی وی: پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ایجوکیشن کا کہنا ہے کہ پاکستان میں 2 کروڑ 62 لاکھ کے قریب بچے اسکول سے باہر ہیں پنجاب میں ایک کروڑ 11 لاکھ سے زائد جبکہ سندھ میں 70 لاکھ سے زائد بچے تعلیم سے محروم ہیں،خیبر پختونخوا میں 36 لاکھ سےزائد اور بلوچستان میں 31 لاکھ سے زائد بچے اسکول نہیں جا رہے-

    اسلام آباد میں تقریباً 80 ہزار بچے اسکولوں سے باہر ہیں، اسکول جانے کی عمر کے 39 فیصد بچے اس وقت اسکول سے باہر ہیں 2016-17 میں اسکول نہ جانے والے بچوں کی تعداد 44 فیصد تھی، 22-2021 میں 39 فیصد بچے تعلیم سے محروم تھے، ہائر سیکنڈری سطح پر 22-2021ء میں 60 فیصد بچے اسکول سے باہر تھے۔

    پاکستان میں آسمانی بجلی گرنے کے مقام کی نشاندہی کیلئے آلات کی …

    پنجاب اور خیبرپختونخواہ میں سردی کی شدید لہر اور دھند ،انتباہ جاری

    لاہور: حلقہ این اے 119 سے پی ٹی آئی رہنما مریم نواز کے حق …

  • ادارہِ امن و تعلیم کے زیر اہتمام  4 روزہ تربیتی ورکشاپ کا انعقاد

    ادارہِ امن و تعلیم کے زیر اہتمام 4 روزہ تربیتی ورکشاپ کا انعقاد

    لاہور (نمائندہ خصوصی) "ادارہِ امن و تعلیم کے زیر اہتمام بیسٹ ویسٹرن ہوٹل لاہور میں 4 روزہ تربیتی ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا ۔

    باغی ٹی وی: جمہوریت کے فروغ کے لیے نوجوانوں کے کردار” پر 4 روزہ تربیتی ورکشاپ کا انعقاد ادارہِ امن و تعلیم کے زیرِ اہتمام لاہور میں بیسٹ ویسٹرن ہوٹل میں ہوا جس میں مختلف مکاتبِ فکر سے نوجوانوں کو مدعو کیا گیا پہلے دن ڈائریکٹر پیس اینڈ ایجوکیشن فاؤنڈیشن غلام مرتضی نے ادارہِ امن و تعلیم کا مختصر تعارف کروایا، ورکشاپ کے مقاصد اور ورکشاپ کے اصول بتائے گئے۔

    پہلے دن 4 مختلف سیشنز ہوئے جس میں ورکشاپ میں استعمال ہونے والی اصطلاحات، عالمی منظر نامے میں پاکستان کا جمہوری نظام، جمہوریت،اسلام اور مسلم دنیاکا نظام اور نظامِ جمہوریت میں بننے والے بیانیے پر ڈاکٹر عبدالغنی اور صاحب زادہ امانت رسول نے مفصل گفتگو کی اور ایکٹیویٹی بیسڈ سرگرمیاں کروائیں ، اس کے ساتھ ساتھ جمہوریت پر لکھی گئی کتاب "جمہوریت اور پاکستان کا نوجوان” کے خالق جنابِ ڈاکٹر محمد حسین نے کتاب کے حوالے تفصیلاً تعارف کروایا اور ورکشاپ کے دوسرے دن پروفیسر ڈاکٹر شہباز منج نے پاکستان کے جمہوری نظام کا جائزہ لیا اور شرکاء سے اس حوالے سے تفصیل سے گفتگو کی۔

    ہماری زمین سے 13 گنا بڑا سیارہ، جس نے سائنسدانوں کو چکرا کر رکھ …

    جواد ظفر ( ایڈووکیٹ سپریم کورٹ) نے شرکاء کو آئینِ پاکستان کے مطابق انسانی حقوق اور بطور پاکستانی شہری ہماری زمہ داریوں کے بارے میں بتایا۔ فردِ واحد کی طاقت اور پاکستانی نوجوانوں کا جمہوریت میں کردار اور پاکستان میں انتخابی نظام پر پروجیکٹ مینیجر میڈم ارسہ شفیق نے مفصل گفتگو کی اور ساتھ ہی ساتھ عملی سرگرمیاں بھی کروائی گئیں۔

    ورکشاپ کے تیسرے دن سمیر علی خان نے شرکاء سے جمہوریت میں میڈیا کا کردار اور سیڈ پروجیکٹ کے بارے میں تبادلہ خیال کیا گیا ورکشاپ کے آخری اور چوتھے روز پاکستانی معاشرے کی حساستیں اور سیڈ پروجیکٹس کے ابتدائی ڈرافٹ کی پیشکش کی گئی اور اس پر فیڈ بیک دیا گیا۔

    8 فروری عوام کےلئے ظلم کےنظام سےنجات کا دن ہوگا،سراج الحق

    پروگرام کی اختتامی تقریب کے مہمانانِ خصوصی میں پروفیسر تیمور الرحمن (ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ پولیٹیکل سائنس)، پیر سید حبیب عرفانی (اسلامی نظریاتی کونسل کے ممبر) ، زنایہ چودھری ٹرانسجینڈرز (ویکٹم سپورٹ آفیسر ، نے خصوصی طور پر شرکت کی اور تقریب منعقد کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کی اور شرکاء میں سرٹیفکیٹس بھی تقسیم کئے گئے۔

    پروگرام میں میڈم عروج فاطمہ نے کوآرڈینیٹر کے فرائض سر انجام دیئے اور محمد عثمان نے چار روزہ ورکشاپ میں بطور کیمرہ مین اپنے فرائض نبھائے ی اختتام پر ڈائریکٹر پیس اینڈ ایجوکیشن فاؤنڈیشن غلام مرتضی نے سب کا شکریہ ادا کیا گیا اور ملک و قوم کی سلامتی کے لیے دعا بھی کی گئی۔

    بنگلہ دیش نے موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کیلئے بین الاقوامی اتحاد قائم کرلیا

  • بیچارہ استاد

    بیچارہ استاد

    بیچارہ استاد

    خانپور میں آج ایک استاد کو بچے کو مارنے پہ لاک اپ میں بند کر دیا گیا۔ کیا باپ اپنے بچوں کو غلطی پہ سزا نہیں دیتا۔میں بچوں کو سخت سزا دینے کا قائل نہیں مگر جب سے انگریزوں کے قوانین کو فالو کیا گیا ہے تعلیم کا کباڑہ ہو گیا ہے اسلام میں جزا سزا کا تصور موجود ہے ایک حدیث کے مطابق جب بچہ سات سال کا ہو جائے تو اسے نماز پڑھنے کا کہا جائے اور جب دس سال کا ہو جائے اور پھر بھی نماز نہ پڑھے تو اسے مارا جائے۔

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک معلم سے فرمایا : ’’إیّاک أن تضرب فوق الثلاث فإنک إذا ضربتَ فوق الثالث اقتص اللّٰہُ منک۔
    تین ضرب سے زیادہ مت مارو، اگر تم تین ضرب سے زیادہ ماروگے تو اللہ تعالیٰ تم سے قصاص لے گا۔

    امام غزالی رح نے بھی شاگرد کو ہلکی سی سزا دینے کی حمایت کی ہے ان کی کتاب میں لکھا ہوا ہے کہ استاد بچے کی غلطی پہ اسکی سرزنش کر سکتا ہے اور چھڑی کا استعمال کر کے ہلکی سزا دے سکتا ہے اُنھوں نے یہ بھی بتایا ہے کہ کس جگہ پہ مارنا ہے اور کتنا مارنا ہے آج سے پندرہ بیس سال پیچھے جائیں تو استاد کو بچے کی بہتر تربیت کرنے کے لیے تمام اختیارات حاصل تھے اور ان دنوں تعلیمی معیار بھی بہت اعلیٰ تھا حالانکہ ان دنوں معروضی سوالات نہیں ہوتے تھے پڑھائی کافی مشکل تھی مگر پھر بھی معیار تعلیم بہت اعلیٰ تھا جب سے مار نہیں پیار کا سلوگن آیا ہے تعلیم کا زوال شروع ہو گیا ہے یہ سب ایک دم نہیں ہوا بلکہ اس میں بہت سے عوامل کا عمل دخل ہے۔ جس میں سب سے اہم مار نہیں پیار کا سلوگن ہے۔ ایک بچہ مندرجہ ذیل وجوہات کی وجہ سے پڑھے گا۔

    1.اگر اسے پڑھائی کا شوق ہوگا۔
    2. اگر فیل کا خوف ہوگا۔
    3. اگر مار کا خوف ہوگا۔
    4. اگر والدین بچوں پہ توجہ دیں تو۔

    دیہاتی سکولوں میں والدین کی توجہ نہ ہونے کے برابر ہے اور شہروں میں جو والدین بچوں پہ توجہ دیتے ہیں وہ بچوں کو پرائیویٹ سکولوں میں بھیجتے ہیں۔

    آپ بتائیں اگر بچہ غلطی کرے ساتھیوں کے ساتھ لڑائی کرے اور بار بار سمجھانے کے باوجود بھی نتیجہ وہی رہے تو استاد بیچارہ کیا کرے۔ جب بچے کو پتہ ہو گا کہ مجھے فیل نہیں کیا جائے گا تو وہ کیوں پڑھے گابچے کو نہ فیل کا خوف ہوگا نہ مار کا ڈر ہو گا تو وہ کیوں پڑھے گا اوپر سے اساتذہ کے ہاتھ باندھ کر انھیں تیرنے کے لیے چھوڑ دیا گیا ہے یہاں تک کہ استاد بچے کو غصے سے گھور بھی نہیں سکتاجب ایک استاد اتنا مجبور ہے تو بچے کے رزلٹ پہ استاد کو سزا کیوں؟-

    میرا مقصد سزا کی حمایت نہیں ہے بلاشبہ سزا سے بچے کی پوشیدہ صلاحیتیں ختم ہو جاتی ہیں مگر اس صورتحال کا آخر حل کیا ہے؟

    ازقلم: مجیب الرحمٰن بھٹو

  • میٹرک اور انٹر میں نیا  گریڈ نگ سسٹم متعارف

    میٹرک اور انٹر میں نیا گریڈ نگ سسٹم متعارف

    کراچی : انٹر بورڈز کوآرڈی نیشن کمیشن نے ملک بھر میں گریڈ سسٹم متعارف کرادیا –

    باغی ٹی وی: چیئرمین انٹر بورڈز کوآرڈی نیشن کمیشن غلام علی ملاح نے کہا کہ دنیا بھر میں گریڈ سسٹم موجود ہے، بچوں کو نمبرز کی دوڑ سے نکال کرانہیں اچھی تعلیم دینی ہے، نمبرز سسٹم کےمتبادل گریڈنگ سسٹم طلبا کے لیے زیادہ فائدہ مند ثابت ہوگا،سال 2024 میں پہلے مرحلے میں نویں اور گیارہویں جماعت کےطلبا کو نمبرز کےبجائےگریڈ دیا جائےگا جب کہ مارک شیٹ یا رزلٹ کارڈ میں فیل کا لفظ بھی شامل نہیں ہوگا۔

    چیئرمین انٹر بورڈز کوآرڈی نیشن کمیشن کا کہنا تھا کہ اس فیصلے کے تحت نیا 10 پوائنٹ گریڈنگ سسٹم ہوگا جس کو طلبا کی کارکردگی جانچنے کے لئے پانچ رینک میں تقسیم کیا گیا ہے جوکہ سال 2025 میں دوسرے مرحلے میں دسویں اور بارہویں جماعت میں بھی نافذ کیا جائے گاہ ہم پاسنگ مارکس 33 سے بڑھا کر 40 کر رہے ہیں تا کہ تعلیمی معیار بہتر ہو اور مرحلہ وار اس میں مزید اضافہ کریں گے جب کہ کوشش ہے پاسنگ مارکس کو 50 فیصد تک بھی لے جائیں۔

    شہباز شریف ایاز صادق کے ہمراہ لشکری رئیسانی کے گھر پہنچ گئے

    غلام علی ملاح نے کہا کہ اب طلبا کا نتیجہ جس مضمون میں خراب آئے گا وہ دوبارہ اس سبجیکٹ کا امتحان دے سکے گا، اس میں سپلیمنٹری کے نام کے بجائے سالانہ امتحان ہی آئے گا، اب سپلی کا ٹیگ ختم کردیا ہے جی پی اے کے فارمولے کو تبدیل کریں گے، ہم مارکس کے تحت گریڈ دیں گے۔ انہوں نے کہا ہم چاہتے ہیں کہ طلبا کریکولم سیکھیں مارکس کی دوڑ میں نہ رہیں بین الاقوامی سطح پر گریڈنگ سسٹم ہی ہوتا ہے۔

    امریکی صدر جوبائیڈن، انٹونی بلنکن اور لائڈ آسٹن کے خلاف مقدمہ درج

  • یونیورسٹیاں خواتین کو دوباہ داخلہ دینے کیلئے تیارہیں، افغان محکمہ تعلیم

    یونیورسٹیاں خواتین کو دوباہ داخلہ دینے کیلئے تیارہیں، افغان محکمہ تعلیم

    افغان محکمہ تعلیم کے ایک اہلکار نے کہا ہے کہ یونیورسٹیاں خواتین کو دوباہ داخلہ دینے کیلئے تیارہیں، تاہم اس بات کی منظوری طالبان کی اعلٰی قیادت دے گی۔

    باغی ٹی وی: نیوزایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق طالبان نے دسمبر 2022 میں خواتین کی یونیورسٹی تعلیم پر پابندی لگا دی تھی جس سے عالمی سطح پر غم و غصہ پیدا ہوا تھا اگست 2021 میں اقتدارسنبھالنے کے بعد چھٹی جماعت کےبعد سےلڑکیوں کو اسکول جانے سے روک دیا تھا،طالبان کے عبوری حکومت سنبھالنے کے بعد سے اففانستان دنیا کا واحد ملک ہے جہاں خواتین کی تعلیم پرپابندی عائد کی گئی۔

    افغان وزیرتعلیم ندا محمد ندیم کا کہنا تھا کہ یونیورسٹیوں میں مخلوط تعلیم پرپابندی لازمی تھی کیونکہ کچھ مضامین پڑھائے جانے سے اسلام کے اصولوں کی خلاف ورزی ہوتی ہے،یہ پابندی طالبان سپریم کمانڈر ملا ہیبت اللہ اخونزادہ کی طرف سے لگائی گئی تھی،یہ عارضی ہے ، مخلوط تعلیم، نصاب اور ڈریس کوڈ کا مسئلہ حل ہو جائے گا تو یونیورسٹیاں دوبارہ کھول دی جائیں گی ہیبت اللہ اخوندزادہ کی طرف سے جنوبی شہر قندھار سے جاری کردہ پابندی اگلے نوٹس تک برقرار ہے۔

    کینیڈا:سکھوں کاہندو مندر پر حملہ ،پوسٹر آویزاں کر دیئے

    وزارت تعلیم کے مشیر مولوی عبدالجبار نے کہا ہے کہ جیسے ہی ملاہیبت اللہ اخونزادہ کا حکم ہوگا یونیورسٹیاں خواتین کو دوبارہ داخلہ دینے کیلئے تیارہوں گی،تاہم اس حکم کا نفاذ کب ہوگا،اس حوالے سے ابھی کچھ نہیں بتایا گیا،ملا ہیبت اللہ اخونزادہ نےکہا کہ یونیورسٹیاں بند کر دو ،اس لیے بند ہیں، اور جب وہ کہیں گے کھول دو تو اسی روز کھل جائیں گی، ہمارے رہنما خواتین کی تعلیم کے حق میں ہیں-

    گوگل کا ای دستخط متعارف کرانے کا فیصلہ

  • طالبان نے لڑکیوں پر کلاس 3 سے آگے پڑھنے پر بھی پابندی عائد کردی

    طالبان نے لڑکیوں پر کلاس 3 سے آگے پڑھنے پر بھی پابندی عائد کردی

    کابل: افغانستان میں سیکنڈری اسکولوں میں لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی کے بعد طالبان نے اب کلاس 3 سے آگے پڑھنے پر بھی پابندی عائد کردی۔

    باغی ٹی وی : 15 اگست 2021 کوجب سے طالبان نے افغانستان کا کنٹرول سنبھالا ہے، تب سے اب تک خواتین پر پابندیوں کے کئی احکامات جاری کیے جا چکے ہیں ایسے کئی معاملات ہیں مگر کئی معاملات میں تو کسی حکم نامے یا سفارش کے بغیر بھی پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔

    طالبان کی جانب سے خواتین پر پابندیاں چار طرح کی ہیں: سیاست سے بے دخلی، عوامی سرگرمیوں پر پابندیاں، تعلیم پر پابندی، اور کام کرنے کے حق پر پابندی ،یہ وہ چاربنیادی پابندیاں ہیں جو طالبان نےخواتین پر عائد کر رکھی ہیں حالانکہ اُنھوں نے اپنے گذشتہ دورِ حکومت کے مقابلے میں زیادہ نرمی کرنے کا وعدہ کیا تھا۔

    ہر بارفرد جرم عائد ہونے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت میں مزید اضافہ ہوا،برطانوی …

    برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی فارسی کے مطابق طالبان نے 10 سال سے زائد عمر کی لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی عائد کردی جس کے بعد کلاس 3 کے بعد لڑکیاں تعلیم جاری نہیں رکھ سکیں گی چھٹی جماعت کی ایک طالبہ نے بی بی سی کو بتایا کہ ہم سے کہا گیا ہے کہ جن لڑکیوں کا قد 10 سال سے زائد عمر کی لڑکیوں سے زیادہ ہے، انہیں بھی اسکول میں داخلے کی اجازت نہیں ہوگی۔

    بی بی سی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ غزنی صوبے میں طالبان حکومت کی وزارت تعلیم کےحکام نے اسکولوں اور مختصر مدت کے تربیتی پروگراموں کے سربراہوں کو مطلع کیا ہے کہ 10 سال سے زیادہ عمرکی لڑکیوں کوپڑھنے کی اجازت نہیں ہوگی دیگر صوبوں میں ‘وزارت تبلیغ اور رہنمائی’ نے لڑکیوں کے اسکولوں کے سربراہوں سے کہا ہے کہ کسی بھی طالبہ کو تیسری جماعت سے آگے تعلیم حاصل کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

    خواتین میں پوسٹ پارٹم ڈپریشن کےعلاج کیلئے تیار گولی کی منظوری مل گئی

    قبل ازیں طالبان نے لڑکیوں کے سیکنڈری تعلیم پر پابندی عائد کر رکھی تھی تاہم پرائمری اسکول میں پانچویں جماعت تک لڑکیاں تعلیم حاصل کر رہی تھیں جب کہ خواتین پر ملازمتوں کے دروازے بند ہیں اور انھیں پارکوں، جمز، میلوں اور پارلرز میں بھی جانے کی اجازت نہیں۔