Baaghi TV

Tag: تعلیم

  • سسٹم آن لائن ہونے سے سالانہ  10 ارب روپوں کی بدعنوانی کا خاتمہ ہوا، مراد رس

    سسٹم آن لائن ہونے سے سالانہ 10 ارب روپوں کی بدعنوانی کا خاتمہ ہوا، مراد رس

    سسٹم آن لائن ہونے سے سالانہ 10 ارب روپوں کی بدعنوانی کا خاتمہ ہوا، مراد رس

    صوبائی وزیر تعلیم پنجاب مراد راس نے قائد ہیڈکوارٹر لنک وحدت روڈ پر پنجاب ایگزیمینیشن کمیشن کی جانب سے تیار کردہ آئٹم بنک سسٹم کا افتتاح کر دیا۔

    اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ چند سال پہلے ہم نے طلبا کی بہتری کیلئے پانچویں اور آٹھویں جماعت کے بورڈ امتحانات ختم کئے۔ بورڈ امتحانات ختم کرنے کی بنیادی وجہ اساتذہ کا اپنی کارکردگی بہتر دکھانے کے لئے طلبا کو بورڈ امتحانات میں خود نقل کرانا تھا۔ مراد راس نے کہا کہ آج ہم نے ایک ایسا آن لائن نظام متعارف کرایا ہے جس کے ذریعے طلبا کی سیکھنے اور سمجھنے کی صلاحیتیوں میں نکھار آئے گا۔ ہم اپنی آنے والی نسل کو رٹا سسٹم کے ذریعے نہیں پڑھانا چاہتے۔ ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہمارے بچے مکمل طور پر سمجھ کر تعلیم حاصل کریں۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ اب سے 50 فیصد ایم سی کیوز اور 50 فیصد کمپریہینشن (Comprehension) کی طرز پر پیپرز تیار کئے جائیں گے۔ آئٹم بنک سسٹم کے ذریعے پہلی سے آٹھویں جماعت کے طلبا کے لئے آن لائن سسٹم کی مدد سے خود کار پیپر تیار کئے جائیں گے۔ مراد راس کا کہنا تھا کہ ایم سی کیوز کا جواب طلبا تب ہی دے سکتے ہیں جب انہوں نے سمجھ کر پڑھا ہو اور اس کی باقاعدہ تیاری کی ہو۔

    مراد راس نے اعلان کیا کہ نجی سکول سیکٹر سے کوئی بھی حکومت کے تیار کردہ اس آئٹم بنک سسٹم سے بلکل مفت مدد حاصل کر سکتا ہے۔ ہمارے تیار کردہ سسٹم سے اگر نجی سیکٹر میں زیر تعلیم طلبا کو فائدہ ہوتا ہے تو ہمارے لئے اس سے اچھی کوئی بات نہیں۔ ہمیں ہمارے بچوں کی بہتری کے لئے کام کرنا ہے۔  آئٹم بنک سسٹم کے تحت تمام امتحانات ہمارے نصاب کے مطابق تیار ہوں گے۔ تیار کردہ آئٹم بنک سسٹم کی بدولت ہمیں اساتذہ کی کارکردگی کا وقتاً فوقتاً جائزہ لینے میں بھی مدد ملے گی۔ ہم سے پہلے کسی بھی حکومت نے محکمہ سکول ایجوکیشن پنجاب کے ٹوٹے ہوئے سٹم کو ٹھیک کرنے کی کوشش نہیں کی۔

    وزیر تعلیم پنجاب مراد راس کا مزید کہنا تھا کہ آج محکمہ سکول ایجوکیشن پنجاب میں اساتذہ کی ریٹائرمنٹ کا سسٹم مکمل طور پر آن لائن ہو چکا ہے۔ اب تک 15 ہزار سے زائد اساتذہ آن لائن ریٹائرمنٹ سرٹیفکیٹ حاصل کر چکے ہیں۔ مراد راس نے بتایا کہ اے جی آفس کی مدد سے اساتذہ کو ریٹائرمنٹ کے وقت ملنے والی رقم کی آن لائن بینک اکاؤنٹ میں ادائیگی کے لیے پائلٹ پراجیکٹ کا آغاز لاہور سے کیا جا رہا ہے جس کو بہت جلد پورے پنجاب تک لے جایا جائے گا۔ انہوں نے بتایا اساتذہ کو ریٹائرمنٹ کے وقت ملنے والی رقم حاصل کرنے کے لئے اساتذہ کو رشوت دینے کے ساتھ ساتھ مختلف دفتروں کے بیشتر چکر بھی لگانے پڑتے تھے۔ ٹیکنالوجی کے موثر اور جامع استعمال کی بدولت آج محکمہ تعلیم پنجاب میں اساتذہ کے تبادلے، اے سی آرز، چھٹیاں، پینشن پے آرڈر، ریٹائرمنٹ سرٹیفکیٹ و دیگر اموُر آن لائن سسٹم کے تحت کامیابی سے چل رہے ہیں۔ محکمہ تعلیم پنجاب کا سسٹم آن لائن ہونے سے سالانہ قریب 10 ارب روپوں کی بدعنوانی کا خاتمہ ہوا ہے۔ محکمہ سکول ایجوکیشن پنجاب کے تمام افسران نے گزشتہ چند سالوں میں زبردست کام کیا ہے

    صوبائی وزیر سکول ایجوکیشن پنجاب مراد راس نے سینئر صحافی تجزیہ کار ارشد شریف کے قتل پر تعزیت بھی کی. انہوں نے کہا کہ ہمارے مُلک میں بدقسمتی سے اس طرز کے ہولناک واقعات کا حاصل حصول کچھ نہیں ہوتا. ارشد شریف ایک سچے اور باکردار صحافی تھے، شاید ان کو اسی بات کی سزا ملی. اللہ تعالیٰ ارشد شریف کی مغفرت کرے اور ان کے لواحقین کو صبرِ جمیل عطا کرے

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    سافٹ ویئر اپڈیٹ، میں پاک فوج سے معافی مانگتی ہوں،خاتون کا ویڈیو پیغام

     اداروں کے خلاف تنقید کرنے والے یوٹیوبر نے معافی مانگ لی کہا نادم ہوں

  • امیر غریب میں تفریق ختم کرنے کےلئے حکومت یکساں نصاب لاگو کرے صبا حمید

    امیر غریب میں تفریق ختم کرنے کےلئے حکومت یکساں نصاب لاگو کرے صبا حمید

    باصلاحیت اداکارہ صبا‌حمید نے اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں کہا ہے کہ ہمارے ملک میں چاہے صحت کا شعبہ ہو یا تعلیم دونوں کی ہی عجیب صورتحال ہے ایسا لگتا ہےکہ جیسے ان دونوں کو شعبوں کو کاروبار بنا لیا گیا ہے. غریب آدمی نہ اپنا علاج کروا سکتا ہے اور نہ ہی اپنے بچوں کو اچھے تعلیمی اداروں میں تعلیم دلوا سکتا ہے. غریب کے لئے تو علاج کروانا اور تعلیم حاصل کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہو چکا ہے. ایلیٹ کلاس اور سرکاری سکولوں میں تعلیم حاصل کرنے والے بچوں کے درمیان کوئی مقابلہ نہیں ہے ان کے پڑھائی کے طریقہ کار اور ان کے نصاب میں زمین آسمان کا فرق ہے. غریب کا بچہ نہ فیسیں افورڈ کر سکتا ہے اس لئے وہ عملی زندگی میں‌مقابلے کی دوڑ سے ہی باہر ہوجاتا ہے جو کہ کافی تکلیف دہ

    بات ہے. صبا پرویز نے زور دیکر کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ اس قسم کی تفریق کا خاتمہ کرے اور یکساں نصاب لاگو کرے تاکہ جو احساس محرومی غریب کے بچے میں جنم لیتی ہے وہ جنم نہ لے اور جب وہ پڑھائی مکمل کرے تو اس کے لئے بھی جاب کرنے کے اتنے ہی مواقع ہوں جتنے دوسروں کو میسر ہیں. انہوں نے مزید یہ بھی کہا حکومت کو چاہیے کہ وہ سرکاری ہسپتالوں کی بھی صورتحال کو بہتر کرے تاکہ غریب کا علاج ممکن ہو سکے.

  • خیبر پختونخوا کے سرکاری اسکولوں میں داخلہ مہم ختم،ہدف پورا نہ ہو سکا

    خیبر پختونخوا کے سرکاری اسکولوں میں داخلہ مہم ختم،ہدف پورا نہ ہو سکا

    خیبر پختونخوا کے سرکاری اسکولوں میں داخلہ مہم کا سلسلہ ختم ہو گیا ہے۔

    باغی ٹی وی : محکمہ تعلیم کے مطابق سرکاری اسکولوں میں داخلے کا ہدف 10لاکھ تھا، خیبر پختونخوا کے سرکاری ا سکولوں میں 6 لاکھ 76 ہزار سے زائد بچوں کے داخلے ہو چکے ہیں-

    محکمہ تعلیم کے مطابق سرکاری ا سکولوں میں مقررہ ہدف سے3 لاکھ سے زائد بچے کم داخل ہوئے جبکہ پرائیویٹ اسکولوں میں 94 ہزار نئے بچے آئے ہیں۔

    محکمہ تعلیم کے مطابق خیبر پختونخوا کے قبائلی اضلاع کےاسکولوں میں 73 ہزارسے زائد طلبا داخل ہوئے،جن میں 44 ہزار طلبا اور705 طالبات شامل ہیں،محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کے مطابق سب سے زیادہ نئے طلبہ پشاور اور سوات میں اسکولوں میں داخل ہوئے۔

    دوسری جانب منشیات کی لعنت سے نجات حاصل کرنے والے 1200 افراد کو ان کے عزیز و اقارب کے حوالے کرنے کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلی صوبہ خیبرپختونخوا محمود خان نے کہا ہے کہ حکومت کے ساتھ ساتھ والدین کا فرض ہے کہ اپنے بچوں کے معمولات پہ نگاہ رکھیں۔

    تقریب میں کمشنر پشاور، ڈی سی پشاور اور پولیس افسران سمیت تاجر برادری کی نمائندہ شخصیات نے بھی شرکت کی۔ اس موقع پر تاجر برادری کی جانب سے 380 افراد کو ملازمتیں دینے کا بھی اعلان کیا گیا۔

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ صوبے کا بارڈر دور دور تک پھیلا ہوا ہے جس کی وجہ سے منشیات کی روک تھام میں مشکلات و دشواریاں پیش آتی ہیں نشے سے پاک پشاور ہمارا عزم اور ذمہ داری ہے۔

  • دنیا کا مقابلہ کس طرح‌کیا جا سکتا ہے شہزاد رائے نے بتا دیا

    دنیا کا مقابلہ کس طرح‌کیا جا سکتا ہے شہزاد رائے نے بتا دیا

    شہزاد رائے جو کہ گلوکار ہونے کے ساتھ ساتھ سماجی کارکن بھی ہیں انہوں‌ نے وسائل نہ رکھنےوالے بچوں کی تعلیم و تربیت کا بیڑا بھی اٹھایا ہوا ہے. شہزاد رائے نے اپنے حالیہ انٹرویو میں کہا ہے کہ ہمیں دنیا کا مقابلہ کرنے کےلئے روایتی کے ساتھ جدید تعلیم کو اپنانا ہوگا. شہزاد رائے تعلیم کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تعلیم کاحصول ہر بچے کےلئے ضروری ہے اور اس کو سب بچوں کے لئے ممکن بنانا ہم سب کا فرض ہے. میں تعلیم دینے کی مہم کو اس لئے چلا رہا ہوں کیونکہ میں پوری دنیا میں دیکھ رہا ہوں کہ تعلیم کو بہت اہمیت دی

    جا رہی ہے اور ہمارے ملک میں معاملات اس سے برعکس ہیں خصوصی طور پر ان بچوں کےلئے جو وسائل نہیں رکھتے. شہزاد رائے نے کہا کہ حکومت تعلیم کے شعبے میں ایمر جنسی کانفاذ کرے اور نصاب کو حقیقی معنوں میں یکساں ہونا چاہیے۔ میں سمجھتا ہوں‌کہ جن کے وسائل نہیں ہیں یا جو بچے بے آسرا ہیں ان کا حق ہے وہ تعلیم حاصل کریں حکومت کے ساتھ ساتھ صاھب ثروت لوگوں‌کو بھی چاہیے کہ وہ ایسے بچوں کے لئے آسانیاں کریں اور ان کی تعلیم کے لئے جو کر سکتے ہیں کریں. اگر ایسے بچوں‌کا ایک بڑا طبقہ ان پڑھ رہ جائیگا تو سوچیں پاکستان کا کتنا بڑا نقصان ہے.

  • تعلیم کے رسمی اور فاصلاتی طریقوں میں سرمایہ کاری کی جائے،صدر عارف علوی

    تعلیم کے رسمی اور فاصلاتی طریقوں میں سرمایہ کاری کی جائے،صدر عارف علوی

    صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی زیرصدارت علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی ، اسلام آباد کے حوالے سے اجلاس منعقد کیا گیا.

    صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ جامعات میں زیرِ تعلیم طلباء کی تعداد بڑھانے کیلئے فاصلاتی تعلیم کے معیار اور پہنچ کو مزید بڑھانے ، مخلوط تعلیمی طریقہ کار کے فروغ کی ضرورت ہے ،طلباء کو مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق تعلیم اور ہنر فراہم کرنے سے ان کی جلد ملازمت یقینی بنانے اورپیشہ ورانہ ترقی میں مدد ملے گی،صدر مملکت نے تعلیم کے رسمی اور فاصلاتی طریقوں میں سرمایہ کاری کرنے کی ضرورت پر زور دیا.

    صدر مملکت نے کہا کہ سرکاری اور نجی شعبوں کے متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد فاصلاتی اور ہائبرڈ طریقوں کو پرائمری اور مڈل سکول کی سطح تک بڑھایا جا سکتا ہے، فاصلاتی اور ہائبرڈ ذریعہ تعلیم سے سکول سے باہر بچوں کو تعلیم دینے میں مدد ملے گی، مساجد کو فجر سے ظہر تک مفت تعلیم کی فراہمی کیلئے اسکولوں کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے ،وزارت تعلیم اور پیشہ ورانہ تربیت سرکاری اور نجی شعبوں سے تعلق رکھنے والے تمام اسٹیک ہولڈرز کو ایک پلیٹ فارم پر لانے میں قائدانہ کردار ادا کرے .

    صدر مملکت کا کہنا تھا کہ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اپنی خدمات کو پاکستان اور دنیا بھر میں مارکیٹ کرنے کیلئے اپنا مارکیٹنگ اور تعلقات عامہ کا شعبہ قائم کرے،صدر مملکت نے ایچ ای سی اور کورسیرا کے ڈیجیٹل لرننگ اینڈ سکلز منصوبے کے تحت دستیاب 24,000 لائسنسوں کو اجاگر کرنے کی ضرورت پر بھی زوردیا.

    صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان افغانستان کے عوام کو فاصلاتی اور ورچوئل تعلیم کی سہولیات فراہم کرنے کے لیے تیار ہے ،افغان طلباء ٹیلی ویژن نیٹ ورک کے ذریعے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے تعلیمی مواد کو استعمال کر سکتے ہیں.

  • ناہید درانی کے دور میں وزارت تعلیم کی کارکردگی میں نمایاں بہتری آئی،رانا تنویر

    ناہید درانی کے دور میں وزارت تعلیم کی کارکردگی میں نمایاں بہتری آئی،رانا تنویر

    وفاقی وزیر تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت رانا تنویر حسین نے سبکدوش ہونے والی سیکرٹری تعلیم ناہید درانی کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے دور میں وزارت تعلیم کی کارکردگی میں نمایاں بہتری آئی ہے، ان کی تعلیم کیلئے خدمات قابل ستائش ہیں۔

    ان خیالات کا اظہار انہوں نے سابق سیکرٹری ایجوکیشن ناہید درانی کے اعزاز میں الوداعی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب میں وزارت کے اعلیٰ افسران، چیئرمین پیرا، ڈی جی ایف ڈی ای، سیکرٹری آئی بی سی سی، چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ایجوکیشن اور ایگزیکٹو ڈائریکٹر ایچ ای سی نے بھی شرکت کی۔

    وفاقی وزیر تعلیم نے سابق سیکرٹری ایجوکیشن ناہید درانی کو اہم خدمات سرانجام دینے پر مبارکباد دی۔ وفاقی وزیر تعلیم نے ناہید درانی کی مستقبل کی ذمہ داریوں کے لئے نیک تمنا وں کا اظہار کیا۔ انھوں نے کہا کہ وزارت کی کارکردگی پہلے سے بہت بہتر کر دی ہے جس پر ناہید درانی کی کاوشیں قابل تعریف ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ ناہید درانی کی ایجوکیشن سیکٹر میں بہت گہری انڈرسٹینڈنگ ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کیلئے تعلیم کے شعبے کی ترقی اولین ترجیح ہے اور اس کی کامیابی میں ناہید درانی نےاہم کردار ادا کیا ہے۔ وفاقی وزیر تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت نے کہا کہ ایجوکیشن ایک اہم وزارت ہے،عوام کی فلاح کیلئے اس میں بہتری لیکر آئیں گے، وزارت کے ماتحت چلنے والے تمام پراجیکٹس کو جلد مکمل کیا جائے گا.

  • مکمل انسان کیلئے تعلیم کے ساتھ تربیت بھی ضروری ہے،صدر عارف علوی

    مکمل انسان کیلئے تعلیم کے ساتھ تربیت بھی ضروری ہے،صدر عارف علوی

    صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے نوجوانوں کو جدید تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایک مکمل انسان کیلئے تعلیم کے ساتھ تربیت بھی ضروری ہے۔ صدر مملکت نے ان خیالات کا اظہار منگل کو غلام اسحاق خان انسٹیٹیوٹ کے 26 ویں کانووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
    ضمنی انتخابات میں دھاندلی کے بغیر ہم ان کو شکست دیں گے،عمران خان

    انہوں نے کہا کہ جامعات اور معاشرہ اخلاقیات اور اقدار پر خصوصی توجہ دے، ہمیں اپنے تعلیمی نظام کو بہتر سے بہتر بنانے پر اپنی توجہ مرکوز کرنا ہوگی۔ صدر نے کہا کہ انسانی وسائل اور اذہان کی ترقی علم سے منسلک ہے، طلباء تعلیم کے ساتھ ساتھ رابطے اور زبان و بیان کی صلاحیتوں میں اضافے پر خصوصی توجہ دیں۔ صدر ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ زمانے میں تیزی سے ظہور پزیر ہونے والی تبدیلیوں کو سمجھنا ہوگا، ٹیکنالوجی کی مدد سے علم تک رسائی بڑھ چکی ہے۔

     

    وفاقی کابینہ نے نیب ترمیم بل 2022 منظور کرلیا

     

    انہوں نے کہا انسان کی تجزیہ کاری اور فیصلہ سازی کی صلاحیتیں بُنیادی اہمیت اختیار کر گئی ہیں، قدرتی وسائل کی نسبت انسانی اور فکری وسائل کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔ صدر مملکت نے کہا کہ موجودہ دور میں علم ترقی کا واحد راستہ ہے، پاکستان کو ہنر مند اور تربیت یافتہ انسانی وسائل کی اشد ضرورت ہے، جامعات معیاری انسانی وسائل کی زیادہ تعداد پیدا کریں۔

    صدر نے کہا کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں پاکستان سالانہ تقریباَ 30 ہزار طلباء پیدا کرتا ہے، ہنر مند نوجوان آن لائن خدمات کی مدد سے روزگار کما رہے ہیں۔ ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ پاکستان کو اخلاقیات کے لحاظ سے بھی برتری حاصل ہے، پاکستان نے 40 سال تک 40 لاکھ افغان پناہ گزینوں کو پناہ دی، پاکستان میں زلزلے اور سیلاب کی صورت میں عوام بڑھ چڑھ کر فلاحی کاموں میں حصہ ڈالتے ہیں۔

    صدر مملکت نے کہا کہ قیادت کی جانب سے درست فیصلہ سازی کی ضرورت ہے، فیک نیوز اور غیبت کی حوصلہ شکنی کی جانی چاہیے، سر سید احمد خان، علامہ اقبال اور قائدِ اعظم نے ہمیں بحیثیت قوم اٹھایا۔ صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان کی ترقی کیلئے جمہوریت، تجارت اور جذبے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ طلباء پر معاشرے کی ترقی اور فلاح و بہبود کی خصوصی ذمے داری عائد ہوتی ہے

  • کیا ہائرایجوکیشن کمیشن ایم فل اور ایم ایس داخلہ پر پابندی کے فیصلے کو برقرار رکھ پائے گی؟

    کیا ہائرایجوکیشن کمیشن ایم فل اور ایم ایس داخلہ پر پابندی کے فیصلے کو برقرار رکھ پائے گی؟

    ہائرایجوکیشن کمیشن نے تمام جامعات سے وابستہ کالجز میں ایم ایس اور ایم فل کے داخلوں پر پابندی لگادی جسکے سبب اب ان کالجز سے ایم فل اور ایم ایس پرواگرام نہیں ہوسکیں گے لہذا اب طلبہ کو جامعات میں سے ہی ایم ایس، ایم فل کی ڈگری کرنی گی۔
    اسلام آباد کے رہائشی طالب علم محمد رضوان نے باغی ٹی وی کو بتایا کہ ایچ ای سی میں پروفیشنل لوگ نہ ہونے کی وجہ سے تعلیمی نظام کا بیڑا غرق ہوکر رہ گیا ہے اور اب انہوں نے جامعات سے وابستہ کالجز سے ایم ایس اور ایم فل کی ڈگری کرنے پر پابندی تو لگا دی لیکن ان طلبہ کا نہیں سوچا جو دوردراز علاقوں میں رہتے ہیں اور انکے قریب صرف کالج کی سہولت موجود ہے جبکہ جامعات ان سے کافی دور ہیں۔ لہذا میرا ایچ ای سی سے سوال ہے کہ اب ان طلبہ کا کیا بنے گا؟

    ماہر تعلیم پروفیسر ڈاکٹر خالد سلطان نے باغی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ: ہائرایجوکیشن کمیشن نے کالجز کی سطح پر ایم ایس اور ایم فل پروگرامز پر پابندی لگا کر ایک اچھا فیصلہ کیا ہے کیونکہ اس ڈگری میں ریسرچ اور کورس ورک کیلئے جس قسم کے معیار کی ضرورت ہوتی ہے وہ کسی کالج میں برقرار رکھنا مشکل ہوتا ہے۔ لہذا میں سمجھتا ہوں کہ جو معیار ایک جامع فراہم کرسکتی ہے وہ کالج میں مشکل ہے۔

    پروفیسر خالد سلطان نے مزید بتایا کہ: ایچ ای سی کے اس فیصلہ سے دور دراز علاقوں میں رہنے والے طلبہ خوش نہیں ہونگے کیونکہ ہر ایک کے قریب جامع نہیں ہوتی اور اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا ایچ ای سی ایم ایس اور ایم فل کے داخلہ پر پابندی کے اس فیصلے کو برقرار رکھ پائے گی یا نہیں کیونکہ بعض اوقات ایسے فیصلوں سے کالجز، طلبہ اور سول سوسائٹی کے جانب سے دباو آتا ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے ساتھ ناانصافی کی جارہی ہے۔ لیکن جس قسم کے معیار کی ان ڈگریوں کیلئے ضرورت ہوتی ہے اسے برقرار رکھنا بھی ایچ ای سی کی ذمہ داری ہے۔

    اس سلسلے میں باغی ٹی وی نے ایچ ای سی کا موقف لینے کیلئے کوشش کی مگر ایچ ای سی ہیڈ آفس اسلام آباد میں کسی سے رابطہ نہ ہوسکا۔

  • سعودی عرب کا 25 یونیورسٹیوں میں پاکستانی طلبہ کیلئے سکالرشپس کا اعلان

    سعودی عرب کا 25 یونیورسٹیوں میں پاکستانی طلبہ کیلئے سکالرشپس کا اعلان

    لاہور: سعودی عرب نے پاکستانی طلبہ کو خوشخبری سناتے ہوئے 25 یونیورسٹیوں میں سکالر شپس کا اعلان کر دیا ہے۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) پاکستان کی ویب سائٹ پر جاری کردہ بیان کے مطابق ڈپلومہ، بیچلرز، ماسٹرز اور پی ایچ ڈی کے طلبہ سکالرشپ سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

    پاکستان کا سعودی عرب اور تاجکستان کے ساتھ تعاون بڑھانے پر اتفاق

    ایچ ای سی کی جانب سے بیان میں کہا گیا کہ سکالرشپ میں پاکستان میں رہنے والے طلبہ کے لیے 75 فیصد جبکہ سعودی عرب میں مقیم پاکستانی طلبہ کے لیے 25 فیصد کوٹہ رکھا گیا ہے، علم سیاسیات، قانون، تعلیم، ایڈمنسٹریشن، معاشیات، انجینئرنگ، کمپیوٹر سائنس، زراعت، عربی، اسلامک سٹڈیز اور میڈیا سائنسز میں سکالرشپس کا اعلان کیا گیا ہے۔

    سکالرشپس کے لیے پاکستان اور آزاد کشمیر کے طلبہ درخواستیں دے سکتے ہیں، پروگرام میں بیچلرز کی ڈگری کے لیے درخواست دینے والے طلبہ کی عمر 17 سے 25، ماسٹرز کے لیے 30 اور پی ایچ ڈی کے لیے 35 سال ہونی چاہیے۔

    سعودی عرب پاکستان کے ذمہ واجب الادا 3 ارب ڈالرز واپسی کی مہلت بڑھا رہے ہیں‌:سعودی…

    سعودی عرب 25 یونیورسٹیوں میں سکالرشپ کے مواقع فراہم کر رہا ہے، ہر یونیورسٹی میں 5 فیصد طلبہ کو انرول کیا جائے گا جبکہ دو جامعات میں رجسٹریشن کا تناسب مختلف رکھا گیا ہے، پرنسز نور بنتِ عبدالرحمٰن یونیورسٹی برائے خواتین (ریاض) میں 8 فیصد پاکستانی اور کشمیری طلبہ جبکہ مدینہ منورہ میں واقع جامعہ اسلامیہ میں مجموعی طور پر 85 فیصد نشستوں پر رجسٹریشن کی جائے گی۔

    ویب سائٹ پر جاری کردہ طریقہ کار کے مطابق جامعہ، سعودی وزارت تعلیم کو درخواست بھیجے گی اور اہل طلبہ کو سکالرشپ فراہم کرے گی، درخواست دینے والے طلبہ کے لیے شرط عائد کی گئی ہے کہ ان کو کسی ادارے سے نکالا گیا ہو نہ ہی ان کا کوئی کریمنل ریکارڈ ہو، بصورت دیگر درخواست کو مسترد کردیا جائے گا۔

    سعودی عرب میں 19سالہ لڑکی جنسی تبدیلی کے بعد لڑکا بن گئی

    سکالرشپ والے طلبہ کو 3 ماہ کا وظیفہ اور ریٹرن ٹکٹ بھی دیا جائے گا، مفت میڈیکل سمیت دیگر سہولیات فراہم کی جائیں گی، سائنس میں سکالرشپ حاصل کرنے والے طلبہ کو 900 سعودی ریال جبکہ دیگر شعبہ جات میں طلبہ کو 850 سعودی ریال ماہانہ دیئے جائیں گے۔

    سکالر شپس دینے والی 25 یونیورسٹیوں کے نام درج ذیل ہیں:

    جدہ یونیورسٹی، بشاہ یونیورسٹی، اُم القرا یونیورسٹی، اسلامک یونیورسٹی، امام محمد ابنِ سعود اسلامک یونیورسٹی، کند سعود یونیورسٹی، کنگ عبدالعزیز یونیورسٹی، حفار الباطن یونیورسٹی، کنگ فیصل یونیورسٹی، کنگ خالد یونیورسٹی، قاسم یونیوسٹی، طیبہ یونیورسٹی، طائف یونیورسٹی، یونیورسٹی آف حائل، جزان یونیورسٹی، الجوف یونیورسٹی، البہا یونیورسٹی، طابق یونیورسٹی، نجران یونیورسٹی، نادرن بارڈر یونیورسٹی، پرنس ستام بن عبدالعزیز یونیورسٹی، شقرا یونیورسٹی، مجمہ یونیورسٹی۔

  • اساتذہ تعلیم کے ساتھ نوجوانوں کی تربیت پربھی توجہ دیں،گورنر پنجاب

    اساتذہ تعلیم کے ساتھ نوجوانوں کی تربیت پربھی توجہ دیں،گورنر پنجاب

    گورنر پنجاب محمد بلیغ الرحمان کی کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی میں آمد۔ گورنر پنجاب محمد بلیغ الرحمان نے کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی کے گرلز ہاسٹل فاطمہ بلاک کا افتتاح کیا. ورنر پنجاب نے افتتاح کے بعد گرلز ہاسٹل میں پودا بھی لگایا.

    وائس چانسلر خالد مسعود گوندل نے کورونا وبا کے دوران یونیورسٹی اور ہسپتالوں کی خدمات پر روشنی ڈالی۔ گورنر پنجاب نے کنگ ایڈورڈ کے شعبہ ٹیلی میڈیسن کا دورہ کیا۔ پروفیسر بلقیس شبیر کی گورنر پنجاب کو شعبہ ٹیلی میڈیسن بارے بریفنگ۔

    اس موقع پر گورنر پنجاب محمد بلیغ الرحمان نے کہا کہ کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی ایک قدیمی اور معیاری درس گاہ ہے. کورونا وبا کے دوران کنگ ایڈورڈ میڈیکل کے ٹیلی میڈیسن سنٹر کا کردار قابل ستائش ہے. کنگ ایڈورڈ کے شعبہ ٹیلی میڈیسن کی آگاہی سے عوام کو فائدہ ہو گا۔ بطور چانسلر تمام یونیورسٹیوں سے متعلق مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کروں گا ۔

    گورنر پنجاب نے کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی کی اکیڈمک کونسل سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اساتذہ تعلیم کے ساتھ ساتھ نوجوان نسل کی تربیت پر خصوصی توجہ دیں۔ ایک میڈیکل پروفیشنل کا ڈاکٹر کے ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بہترین انسان بھی ہونا چاہیے۔ تمام تر معاشی مشکلات کے باوجود تعلیم اور صحت کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ چانسلر ہونے کے ناطے آپ کے تمام تر اقدامات کو سراہتا ہوں۔ ٹیم سپرٹ کے ساتھ کام کرنے سے اچھے نتائج حاصل ہوتے ہیں. پروفیسر خالد مسعود گوندل نے ٹیم ورک کی ایک اچھی مثال قائم کی ہے۔

    صوبائی وزیر خواجہ سلمان رفیق ،وائس چانسلر کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی خالد مسعود گوندل ،پرو وائس چانسلر پروفیسر اعجاز حسین، ڈینز، ممبران اکیڈیمک کونسل اور ایم ایسز بھی اس موقع پر موجود تھے۔

    قبل ازیں گورنر پنجاب بلیغ الرحمان نے حضرت داتا گنج بخش علی ہجویری کے مزار پر حاضری دی. گورنر پنجاب نے مزار پر پھولوں کی چادر چڑھائی ،سیکرٹری اوقاف نبیل جاوید, مسلم لیگ ن کے ایم این اے پیر عمران شاہ اور پیر ناظم حسین شاہ بھی اس موقع پر موجود تھے،گورنر پنجاب نے اس موقع پر ملک اور قوم کی سلامتی اور استحکام کے لیے خصوصی دعا کی.

    بلیغ الرحمان نے کہا کہ حضرت داتا گنج بخش نے امن، برداشت اور رواداری کا درس دیا.
    معاشرے میں امن، رواداری اور برداشت پیدا کرنے لے لیے حضرت داتا گنج بخش کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کی ضرورت ہے.