Baaghi TV

Tag: تعلیم

  • چین میں زیرتعلیم پاکستانی اسٹوڈنٹس کا مستقبل ؟؟؟   بقلم:ڈاکٹر زاہد جٹ

    چین میں زیرتعلیم پاکستانی اسٹوڈنٹس کا مستقبل ؟؟؟ بقلم:ڈاکٹر زاہد جٹ

    بات ہے 2020 کے شروع کی میں جو کہ چائنا کی ایک میڈیکل یونیورسٹی میں طالب علم ہوں معمول کے مطابق چھٹیاں ہوئی تھی تو میں اپنے گھر ملنے کے لیے آیا تھا۔ میں پاکستان آیا تو بیس یا پچیس دن کے بعد خبریں آنا شروع ہوگئی کہ چائنہ میں بہت زیادہ کرونا وائرس پھیلتا جا رہا ہے۔ مجھے پاکستان کے کافی لوگ بھی پوچھتے تھے کہ اب ادھر کیسے حالات ہیں تو میں کہتا پھرتا تھا کہ حالات نارمل ہی ہیں اور کچھ دنوں تک ٹھیک ہو جائیں گے۔ ہم سب کو یہی تھا کہ حالات معمول کے مطابق ایک دو مہینے میں ٹھیک ہوجائیں گے اور ہم واپس چلے جائیں گے۔ حالات بدلتے گئے اور ہر ٹی وی چینل پہ آنا شروع ہو گیا کہ حالات بہت زیادہ خراب سے خراب تر ہوتے جا رہے ہیں۔

    ہم اپنی یونیورسٹی کی مینجمنٹ کے ساتھ بھی رابطے میں تھے وہ ہمیں یہی کہہ رہے تھے آپ کا یہ والا سمسٹر آن لائن ہے اگلے سمسٹر سے آپ کو یونیورسٹی واپس بلا لیا جائے گا اور معمول کے مطابق آپ کی کلاسز شروع کروا دی جائیں گی۔

    تو جناب کرتے کرواتے ایک سال یوں ہی گزر گیا۔ تو جب اگلا سال شروع ہونا تھا تو یونیورسٹی نے ہم سے فیس کا مطالبہ کیا تو ہم جو کہ پاکستان میں تھے اور کورونا وائرس کی وجہ سے سب کے معاشی حالات جو تھے وہ اتنے زیادہ اچھے نہیں تھے۔ تو ہم نے یونیورسٹی سے بولا کہ ہمیں فیس میں رعایت دی جائے اور جتنی جلدی ہو سکے ہمیں واپس بھی بلایا جائے۔ یونیورسٹی نے ہماری ایک نہ سنی اور ہم سے پوری کی پوری فیس چارج کی۔ خیر کرتے کرواتے وہ سال بھی گزر گیا یا اور ہم ابھی تک پاکستان میں ہی بیٹھے ہوئے ہیں۔

    اب مسئلہ یہ بنا ہوا ہے ہم سب کے لیے کہ ہم چوتھے سال میں یا پانچویں سال میں ہو چکے ہیں اور ہماری کلاسز آن لائن ہی چل رہی ہیں۔ اور ہم جب بھی اپنی یونیورسٹی سے پوچھتے ہیں کہ ہمیں کب واپس بلایا جائے گا ؟ تو ان کا جواب یہی ہوتا ہے کہ اس کا فیصلہ ہماری حکومت کرے گی ہمارے بس میں کچھ بھی نہیں ہے۔ لیکن حیرانگی کی بات تو یہ ہے کہ صرف سٹوڈنٹ ویزے والے ہی ہیں جو ملک میں واپس نہیں جا سکتے ہیں۔ جتنے بھی لوگ وہاں پر کام کرتے ہیں ان کو جانے کی اجازت ہے۔ اب آپ ہی بتائیں ہم کیا کریں اور کدھر جائیں؟

    ہم جتنے بھی اسٹوڈنٹس ہیں ہم نے سوشل میڈیا پر بھی بڑی کوشش کی ہے اور اپنا پوائنٹ سب کے سامنے رکھا ہے۔ لیکن نہایت افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ ہماری کوئی بات نہیں سنی گئی۔ ہم بھی پاکستان کے شہری ہیں اور ہم تعلیم بے شک بیرون ملک حاصل کر رہے ہیں لیکن ہمارا دل پاکستان میں ہی ہے۔ اور ہم پاکستانی ہی ہیں۔ تو خدارا ہمارے فیوچر کے ساتھ نہ کھیلا جائے اور کوئی نہ کوئی بات کی جائے تاکہ چینی حکومت ہمیں جلد از جلد اپنے ملک میں واپس بلا لے۔

    ہم میں سے کچھ دوست ایسے بھی ہیں جنہوں نے وزیروں اور مشیروں سے ملاقاتیں کیں اور ان کو سارا کا سارا قصہ بتایا۔ لیکن بڑے دکھ کی بات ہے اور نہایت ہی افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ انہوں نے بھی اس معاملے میں ہماری کوئی بھی مدد نہیں کی اب تک۔

    اور دوسری جانب جو پاکستان کے میڈیکل کا ادارہ ہے جس کو ہم پاکستان میڈیکل کمیشن کہتے ہیں۔ اس ادارے نے بھی کہہ دیا ہے کہ جو بچے آن لائن ڈگری حاصل کر رہے ہیں ہم ان کو پاکستان میں پریکٹس کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دیں گے۔ یہ تو ہمارے ساتھ ظلم ہے۔ ہمارے پاس الفاظ بھی نہیں ہیں کہ اپنے دکھ اور کیفیت کو کیسے بیان کریں۔ ہمارے والدین بھی بہت زیادہ صدمے سے دوچار ہو رہے ہیں انہی حالات کی وجہ سے۔اب آپ ہی بتائیں کہ ہم جائیں تو جائیں کہاں ؟ کیا ہمارے جینے کی بھی وجہ بچتی ہے ؟ ہمارے والدین جو کہ بہت زیادہ خواب سجائے بیٹھے تھے ان سب کی آنکھیں بہت افسردہ نظر آتی ہیں۔

    انہی حالات کی وجہ سے ہم ذہنی مریض بنتے جا رہے ہیں۔ ہمارا نہ صرف پیسے کا نقصان ہوتا جا رہا ہے بلکہ وقت کا بھی بہت زیادہ نقصان ہوتا چلا جا رہا ہے۔ اور سب سے زیادہ دکھ کی بات تو یہی ہے کہ ہمیں اپنا مستقبل بھی نظر نہیں آ رہا کہ کس طرف جائے گا۔ حالانکہ پاکستان میڈیکل کمیشن کو سوچنا تو یہ چاہیے کہ کرونا کے دوران ساری دنیا کے حالات اس طرح کے تھے کہ سٹوڈنٹس نے آن لائن کلاسز لیں ہیں۔ اگر پاکستان میڈیکل کمیشن ہمارا اتنا خیر خواہ ہے تو ہمیں پاکستان کے جو ٹیچنگ ہوسپٹلز ہیں ان میں روٹیشنز کی آفیشلی اجازت دے۔ یا پھر ہماری حکومت ایسے کرے کہ ہمیں کسی بھی طرح چین میں واپس بھیجے تاکہ ہم ادھر جا کے اپنی تعلیم باقاعدگی سے حاصل کر سکیں۔

    اور ہماری پاکستانی حکومت سے اور پاکستان میڈیکل کمیشن سے یہی گزارش ہے کہ جو بچے کرونا وائرس کی وجہ سے اپنے آخری سال آن لائن لے چکے ہیں ان کی ڈگری کو تسلیم کیا جائے اور ان کو امتحان میں بیٹھنے کی اجازت دی جائے تاکہ وہ اپنے روشن مستقبل کی طرف گامزن ہوسکیں۔

  • سوشل میڈیا اور ماضی میں لے جانے والے نئے فیچرز –  محمد نعیم شہزاد

    سوشل میڈیا اور ماضی میں لے جانے والے نئے فیچرز – محمد نعیم شہزاد

    سوشل میڈیا اور ماضی میں لے جانے والے نئے فیچرز
    محمد نعیم شہزاد

    1896 میں مارکونی نے ریڈیو ایجاد کیا اور انسان ہوا کے دوش پر اپنی آواز کو دور دراز منتقل کرنے کے قابل ہو گیا۔ دنیا کے پہلے کمرشل ریڈیو اسٹیشن KDKA نے امریکی ریاست پنسلوینیا میں پٹس برگ کے مقام پر اکتوبر 1920 میں کام کا آغاز کیا۔ پاکستان میں ریڈیو کا آغاز آزادی کے ساتھ ہی ہو گیا۔ صبح آزادی کا پہلا اعلان 13 اگست 1947 کی شب 11:59 پر مصطفیٰ علی ہمدانی کی آواز میں لاہور سے اردو اور انگریزی زبان میں کیا گیا اور عبداللہ جان مغموم نے پشاور سے پشتو میں یہی اعلان کیا۔

    السلام علیکم
    پاکستان براڈ کاسٹنگ سروس ۔ ہم لاہور سے بول رہے ہیں ۔تیرا اور چودہ اگست ، سنہ سینتالیس عیسوی کی درمیانی رات ۔ بارہ بجے ہیں ۔ طلوع صبح آزادی ۔

    The English translation of this announcement is as follows:

    Greetings Pakistan Broadcasting Service. We are speaking from Lahore. The night between the thirteenth and fourteenth of August, year forty-seven. It is twelve o’clock. Dawn of Freedom.

    جبکہ اس وقت ریڈیو پاکستان 34 زبانوں میں براڈ کاسٹنگ کر رہا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سائنس اور ٹیکنالوجی کی جدت سے ایجادات ہوتی رہیں اور ہمارا معیار زندگی بلند سے بلند تر ہوتا رہا۔ آج کے جدید دور میں ریڈیو سے بڑی کئی ایجادات ہماری دسترس میں ہیں۔ نت نئے سوشل میڈیا ٹولز ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ ہیں۔ ان ٹولز میں عوام میں عمومی طور پر مقبول ایپلیکیشن واٹس ایپ میسنجر ہے جس کے ذریعے ہم تحریری، آڈیو، ویڈیو اور دیگر میڈیا میسجز بھیج سکتے ہیں۔ دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز میں سے ایک مقبول پلیٹ فارم ٹویٹر بھی ہے۔ حال ہی میں ٹویٹر نے ایک نیا فیچر متعارف کروایا ہے جس Space کا نام دیا گیا ہے۔ صارفین اپنی مرضی کا عنوان منتخب کر کے ایک space بنا سکتے ہیں جس میں دوسروں کو مدعو کر سکتے ہیں اور دوسرے صارفین بھی اس میں شامل ہو سکتے ہیں۔ اس فیچر کے تحت زبانی گفتگو کی جاسکتی ہے جیسے ہم فون کال پر کرتے ہیں اور دوسرے کی گفتگو کے دوران چند ایموجیز بھی بھیج سکتے ہیں۔ آج ایک معروف تعلیم کے شعبہ میں خدمات انجام دینے والے ادارے ایجو سولز پاکستان ( EduSols Pk) کی جانب سے ایک space بنا کر کرونا وبا کے بعد کی تعلیمی صورتحال اور محکمہ تعلیم حکومت پاکستان کی طرف سے اس سلسلے میں کی جانے والی پیشرفت کے حوالے سے گفتگو ہوئی۔ ایک گھنٹے سے کچھ زائد وقت تک جاری رہنے والی اس گفتگو میں پاکستان میں کرونا وبا آنے کے بعد کی تعلیم کے میدان میں ہونے والی پیشرفت پر سیر حاصل بات چیت کی گئی۔ گفتگو کے لیے تعلیم سے وابستہ بعض سرکاری ملازمین، پرائیویٹ سیکٹر کے افراد، طلباء نمائندگان اور سول سوسائٹی کے نمائندہ افراد کو شامل کیا گیا تھا۔ حکومت پاکستان کے محکمہ تعلیم کی جانب سے کی گئی کوششوں کو سراہا گیا جن کے بروقت اجراء سے پاکستان میں حفظان صحت کے اصولوں پر کاربند رہ کر ممکنہ بہتر تعلیمی سہولیات میسر ہو سکیں۔ مجموعی طور پر وبا کے دوران ایمرجنسی کے حالات میں کی جانے والی تعلیمی کاوشوں کے اطمینان بخش ہونے پر اتفاق کیا گیا اور اسے حکومت کی بڑی کامیابی تصور کیا گیا۔ جس سے طلباء کے قیمتی تعلیمی سال کو ضائع ہونے سے بچا لیا گیا اور ملک میں تعلیم و تعلم کے سلسلے میں نئی جہتوں کا کامیاب اضافہ کیا گیا۔ آج کے اس تجربے سے پہلے کئی بار جب ٹویٹر پر کسی صارف سے تبادلہ خیال کرنا ہوتا تو واٹس ایپ کا آڈیو فیچر شدت سے یاد آتا کیونکہ لکھ کر بات کرنے کی نسبت بول کر اپنی بات بتانا نسبتاً آسان عمل ہے مگر آج عملی طور پر ٹویٹر پر بھی یہ طریقہ استعمال کر لیا کہ بول کر اپنی آواز کے ذریعے اپنا پیغام مخاطب تک پہنچا دیا۔ اس کے ساتھ ہی ریڈیو کی یاد بھی آنے لگی جہاں ہم مخاطب کو دیکھے بغیر محض اس کی آواز سنتے ہیں ۔ ایجاد اگرچہ پرانی ہے مگر نئے انداز سے اس فیچر کا ٹویٹر میں اضافہ اچھا لگا اور صارفین کے لیے ایک اہم سہولت ثابت ہوا جس کے ذریعے ہم ایک دوسرے کے تاثرات اور خیالات جان سکتے ہیں۔

    19 اگست ، سنہ دو ہزار اکیس عیسوی کی رات ۔ بارہ بج کر چھپن منٹ ہوئے ہیں ۔ پچھترہویں سال کی طلوع صبح آزادی ۔

  • سستی اور معیاری تعلیم کے فروغ کیلئے ورچوئل یونیورسٹی سے کافی توقعات ہیں، ڈاکٹر عارف علوی

    سستی اور معیاری تعلیم کے فروغ کیلئے ورچوئل یونیورسٹی سے کافی توقعات ہیں، ڈاکٹر عارف علوی

    صدر عارف علوی نے ڈاکٹر ارشد سلیم بھٹی کی بطور ریکٹر ورچوئل یونیورسٹی تعیناتی کردی۔
    صدر مملکت نے یونیورسٹی کے بورڈ آف گورنرز کے تجویز کردہ پینل میں شامل تین امیدواروں کے تفصیلی انٹرویو لیےگئے ۔ پینل میں ڈاکٹر ناصر محمود اور ڈاکٹر محمد بلال خان بھی شامل تھے. بورڈ آف گورنرز کی سفارشات اور تفصیلی انٹرویو کے بعد میرٹ پر ڈاکٹر ارشد سلیم بھٹّی کی تعیناتی کی گئی.ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ ملک میں سستی اور معیاری تعلیم کے فروغ کیلئے ورچوئل یونیورسٹی سے کافی توقعات ہیں،ورچوئل یونیورسٹی کی مدد سے انٹرمیڈیٹ پاس طلبہ ملک کے کسی بھی حصے سے کم خرچ تعلیم حاصل کر سکتے ہیں۔

  • ماضی میں صحت اور تعلیم کو نظرانداز کیا گیا اسلیے صحت کا نظام غیر موثر،وزیراعظم عمران خان

    ماضی میں صحت اور تعلیم کو نظرانداز کیا گیا اسلیے صحت کا نظام غیر موثر،وزیراعظم عمران خان

    وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت صوبہ پنجاب میں یونیورسل ہیلتھ انشورنس کی فراہمی کے حوالے سے پیش رفت پر جائزہ لیا گیا۔
    اس اجلاس میں وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار، وزیر برائے اقتصادی امور مخدوم خسرو بختیار، مشیر وزیر اعظم شہزاد اکبر، معاون خصوصی ملک امین اسلم، صوبائی وزیر خزانہ پنجاب مخدوم ہاشم جواں بخت، معاون خصوصی وزیر اعلی پنجاب ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان اور سینئر افسران شریک تھے
    اجلاس میں پنجاب کی صوبائی کابینہ کی جانب سے صوبے کی 100 فیصد آبادی کو اس سال کے آخر تک یونیورسل ہیلتھ کوریج کی فراہمی کی منظوری کے بعد اب تک کی پیش رفت کےحوالے سے آگاہ کیا گیا ۔ صحت سہولت پروگرام کی فزیبلٹی، بجٹ کے تخمینے، اور مرحلہ وار عملدرآمد پر شرکاء کو تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے آگاہ کیا گیا کہ قلیل مدتی پلان کے تحت موجودہ مالی سال کے اختتام تک ساہیوال اور ڈیرہ غازی خان ڈویژن کے 7 اضلاع میں ہیلتھ کارڈز کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی جبکہ دسمبر 2021 تک پنجاب کی 100 فیصد آبادی کو یونیورسل ہیلتھ انشورنس کے تحت ہیلتھ کارڈ کے ذریعے علاج معالجے کی بہتر سہولیات میسر ہوں گی۔
    وزیراعظم عمران خان نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں صحت اور تعلیم کے شعبوں کو نظرانداز کیا گیا جس کی وجہ سے صحت کا نظام غیر موثر ہو گیا اور اس کا سب سے زیادہ نقصان غریب عوام کو ہوا۔ عوام، خصوصا نچلے طبقےکو صحت کی معیاری اور سستی سہولیات کی فراہمی اور سماجی تحفظ فراہم کرنا موجودہ حکومت کی اولین ترجیح ہے ۔
    ہیلتھ کارڈ کی فراہمی کی بدولت نہ صرف عام آدمی کو صحت کے حوالے سے تحفظ فراہم ہو گا جس وہ گزشتہ ستر سال سے محروم رہا بلکہ نظام صحت میں بھی انقلابی تبدیلی رونما ہو گی اور نظام صحت پختہ بنیا دوں پر استوار ہو گا۔ وزیراعظم عمران خان نے یونیورسل ہیلتھ انشورنس کے اہداف کی تکمیل کے حوالے سے مسلسل مانیٹرنگ کرنے کی ہدایت کی اور وفاقی حکومت کی طرف سے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی ۔

  • صحت کے شعبے میں قصور وار کون ؟؟  تحریر: غنی محمود قصوری

    صحت کے شعبے میں قصور وار کون ؟؟ تحریر: غنی محمود قصوری

    ملک پاکستان میں صحت کے شعبے میں بڑی لوٹ مار کا بازار گرم ہے جس سے اس شعبہ کی حالت ابتر ہے جس کی دو وجوہات ہیں
    1 ایم بی بی ایس ڈاکٹرز کی کمی
    2 پیرامیڈیکس کی ذاتی محدود پریکٹس کی ممانعت
    کسی بھی شعبے میں گھر پڑھنے کیساتھ چھوٹا موٹا کاروبار کر کے آپ اپنا روزگار شروع کر سکتے ہیں اور اپنی تعلیم کے اخراجات نکال سکتے ہیں جبکہ ایک ایم بی بی ایس ڈاکٹر بننے کیلئے ایف ایس سی کرنے کے بعد کسی میڈیکل کالج میں داخلہ لینا لازم ہے اور پانچ سال تک کالج اٹینڈ کرنا بھی لازم ہے
    جس کیلئے بڑا سخت میرٹ ہوتا ہے جو طالب علم میرٹ کی بنا پر سرکاری میڈیکل کالجز میں داخلہ نہیں لے پاتے وہ پھر پرائیویٹ کالجز کا رخ کرتے ہیں کیونکہ وہاں کم نمبروں والے کو بھی آسانی سے داخلہ مل جاتا ہے
    پرائیویٹ کالجز کی پانچ سالہ فیس 50 سے 90 لاکھ ہے جو کہ کوئی غریب پوری زندگی بھر بھی نہیں کما سکتا.
    یوں غریب طالبعلم بچے اپنے حق سے محروم رہ جاتے ہیں
    ہمارے ملک میں ڈسپنسر ایک سالہ کورس کر کے ڈاکٹر کی معاونت کرتا ہے امریکہ جیسے ترقی یافتہ ملک میں بھی دور دراز علاقوں میں جہاں ڈاکٹرز میسر نہیں وہاں پیرامیڈیکس ڈاکٹرز کی جگہ کام کرتے جبکہ ہمارے ہاں ایک سالہ کورس ڈسپنسر کرنے والا اتائی ڈاکٹر کہلواتا ہے حالانکہ یہی اتائی ہمارے ڈی ایچ کیو،ٹی ایچ کیو،آر ایچ سی اور بی ایچ یو میں ایک ماہر ڈاکٹر کی طرح انجیکشن بھی لگاتے ہیں نسخہ بھی تجویز کرتے ہیں دوائی بھی دیتے ہیں مگر سرکاری ہسپتالوں کے بعد یہی کوالیفائڈ ڈسپنسر اپنے نجی کلینک کھولنے پر اتائی کہلواتے ہیں افسوس کی بات تو یہ ہے کہ ملک میں پرائس کنٹرول کا کوئی نظام نہیں سرکاری ہسپتال کا ایم بی بی ایس ڈاکٹر اپنے نجی کلینک میں کم از کم فیس 500 روپیہ لے رہا ہے جبکہ سپیشلسٹ ڈاکٹرز کی فیس ہزاروں روپیہ ہے اور دوائی جو میڈیکل سٹور سے خریدنی ہے وہ الگ جبکہ مزدور کی دیہاڑی 700 روپیہ ہے یہی کوالیفائڈ ڈاکٹرز اپنے سرکاری ہسپتالوں میں کسی غریب کی بات سننے کے روادار نہیں ہوتے ایک غریب انسان بخار کی دوائی لینے سرکاری ہسپتال جائے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ پرچی بنوانے سے اپنی بھاری آنے پر معائنہ کروا کر دوائی حاصل کرنے تک کم از کم ٹائم 3 گھنٹے جبکہ مزدور کی مزدوری کا ٹائم صبح 7 بجے شروع ہو جاتا ہے اور ہمارے ان سرکاری ہسپتالوں کا ٹائم 8 بجے یعنی کہ اگر کوئی 60 سے 70 روپیہ کی دوائی سرکاری ہسپتال سے لینے جائے تو اسے اپنے 700 روپیہ سے ہاتھ دھونے پڑینگے ویسے تو گورنمنٹ کی طرف سے ہر یونین کونسل کی سطح پر ایک بی ایچ یو ہسپتال ہوتا ہے جس میں دفتری اوقات کے بعد بھی ایل ایچ ڈبلیو یعنی لیڈی ہیلتھ ورکر اپنے گھروں میں فرسٹ ایڈ میڈیسن کیساتھ موجود ہوتی ہیں مگر افسوس کہ ان کو بھی صرف پیراسیٹامول ،فولک ایسڈ اور کنڈومز کے علاوہ کچھ بھی نہیں ملتا جبکہ یہی پیراسیٹامول ہر گھر میں موجود ہوتی ہے
    کچھ عرصہ قبل سٹیرائیڈ اور اینٹی بائیوٹک کو نفرت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا مگر آج جلد آرام اور اپنے نجی کلینک کی رینکنگ بڑھانے کے علاوہ میڈیکل سٹورز سے کمیشن حاصل کرنے کے چکر میں ہمارے یہ پانچ سالہ تربیت یافتہ ڈاکٹرز ڈبل ٹرپل اینٹی بائیوٹکس میڈیسن تک دینے سے گریز نہیں کرتے اگر کوئی ٹرپل نا بھی دے تو ڈبل تو لازم ہے جیسے کہ انجیکشن میں سیفٹرائیکزون سوڈیم تو لازمی جز ہے جبکہ گولیوں میں ،کو اماکسی سلین،سیفراڈون اور سیفیکزائم وغیرہ بلا ضروت دی جاتی ہے
    ایک جانب تو گورنمنت نے چوروں ڈاکوءوں کے خلاف کریک ڈاون کا اعلان کر رکھا ہے جبکہ دوسری جانب ان ایم بی بی ایس ڈاکٹرز کی بے جا لوٹ مار بداخلاقی اور ناجائز آمدن پر خاموش بھی ہے بلکہ پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کی آڑ میں ان کو مذید تحفظ حاصل ہو گیا ہے کیونکہ ڈسپنسر اور دیگر شارٹ ہیلتھ کورسز والے کوئی بھی ذاتی پریکٹس نہیں کر سکتے جس سے بہت سے کوائیک یعنی اتائی کاروبار چھوڑ چکے ہیں جس کے نتیجے میں لوگوں نے ذاتی طور پر ادویات کا استعمال شروع کر دیا ہے جو کہ سخت حیران کن بات ہے کم ازکم ڈسپنسر ایک سال ہسپتال میں دوران کورس ،ڈرپ ،انجیکشن اور پیشاب کی نالی لگانا سیکھ جانے کے علاوہ بہت سی ادویات بارے پڑھ کر ہسپتال میں عملی طور پر ڈاکٹرز کیساتھ تجربہ بھی حاصل کر چکا ہوتا ہے لہذہ گورنمنٹ کو ان پیرامیڈیکس کے بارے سوچنا ہوگا ورنہ غریب اپنی صحت کا دشمن تو پھر بنا ہی ہے.

  • پاکستان میں تعلیمی معیار اساتزہ کی ناکامی یا حکومت کی : علی چاند

    پاکستان میں تعلیمی معیار اساتزہ کی ناکامی یا حکومت کی : علی چاند

    تکنیکی معنوں میں تعلیم سے مراد وہ رسمی طریقہ کار ہے جس کے ذریعے ایک معاشرہ اپنی اخلاق و عادات اپنی آنے والی نسل کو منتقل کرتا ۔ تعلیم کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ پہلی وحی کا پہلا لفظ ہی ” پڑھ ” تھا ۔ حدیث شریف میں علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض کیا گیا ہے ۔ غزوہ بدر میں جب کفار قیدی بناٸے گے تو انہیں اس شرط پر رہاٸی دی گٸی کہ وہ دس دس مسلمان بچوں کو پڑھنا لکھنا سیکھا دیں ۔

    ترقی یافتہ ممالک میں شرح خواندگی دیکھیں تو پتہ چلتا ہے کہ وہاں کے تقریبا سو فیصد لوگ ہی تعلیم یافتہ ہیں ۔ اور جب محکوم قوموں ،قرضوں کے بوجھ تلے دبی قوموں کے حالات کا جاٸزہ لیا جاٸے تو یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہوجاتی ہیں کہ ان اقوام میں شرح خواندگی انتہاٸی کم ہے اور ایسی قومیں تعلیم پر بالکل بھی توجہ نہیں دیتیں ۔ تعلیم کسی بھی قوم کی ترقی کی ضمانت ہے لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں تعلیم کی اہمیت پر کسی بھی حکومت نے زور نہیں دیا اور نہ ہی تعلیمی بجٹ میں کوٸی خاطر خواہ اضافہ کیا ہے ۔ مختلف حکومتوں نے ابتداٸی تعلیم مفت تو کر دی لیکن معیار تعلیم بلند نہ کیا جاسکا ۔ پاکستان میں دو طرح کے تعلیمی نظام موجود ہوں ایک امیر کے لیے دوسرا غریب کے لیے ۔ امیر کا بچہ تو پراٸیویٹ سکولوں کی مہنگی ترین فیس ادا کر بہتر تعلیم حاصل کر لیتا ہے جبکہ غریب کا اتنے پیسوں میں پورا مہینہ چولہا جلتا ہے ۔ پاکستان میں سکول میں داخل ہونے والے بچوں کی تعداد بھی سکول چھوڑنے والے بچوں سے کافی کم ہے ۔ اس کی بنیادی وجہ ایک تو والدین کی عدم دلچسپی ہے دوسرا اساتذہ کا سخت ترین رویہ اور مار پیٹ ہے جو غریب کے بچوں کو جانور سمجھ کر جیسا مرضی سلوک روا رکھتے ہیں اور بچہ تنگ آکر خود ہی سکول سے بھاگ جاتا ہے ۔ تعلیمی معیار میں کمی کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ یہاں اساتذہ کو صرف تنخواہ سے غرض ہے ، اس بات سے کوٸی غرض نہیں اس ملک کا مستقبل سنور رہا ہے یا بگڑ رہا ہے ۔ پاکستان میں آج بھی وہی نظام تعلیم راٸج ہے جو آج سے 30 40 سال پہلے تھا ۔ وہی طریقہ ہاٸے تدریس وہی نصاب ، اگر نصاب میں کوٸی تبدیلی آتی بھی ہے تو صرف وہی جس سے مسلمانوں کے احساسات مجروح ہوں ، جس سے مسلمانوں کے بنیادی عقاٸد کو چھیڑا جا سکے ۔ اساتذہ سمجھتا ہے اس کو تنخواہ مل رہی ہے اس لیے اسے جدید طریقہ تدریس کی طرف دھیان دینے کی کوٸی ضرورت نہیں ۔

    پاکستان میں ابھی تک بہت سے گھوسٹ سکول ہیں جو حکومتی کھاتے میں تو ہیں ، اساتذہ کو تنخواہیں اور سکول کو فنڈ مل رہا ہے لین اس سکول کا دنیا میں کوٸی وجود نہیں ۔ مختلف حکومتوں نے فیس معاف کر کے کتابیں مفت تقسیم کر دیں ، اساتذہ کے لیے بھی لازمی قرار دیا گیا کہ ہر سکول میں بچوں کی اتنی تعداد ہو ،لیکن نتیجہ پھر بھی صفر ہےکیونکہ گورنمنٹ کی توجہ نہ ہونے کے برابر ہے ۔ حکومت تو سرکاری سکول ، ان میں راٸج طریقہ تدریس ، دیگر سہولیات اور معیار تعلیم کو تو تب توجہ دے جب ان عوامی نماٸندوں کے بچے ان سکول میں داخل ہوں ۔ عوامی نماٸندوں ، حکومتی وزیروں ، مشیروں کے بچے تو ملک سے باہر رہتے ہیں ، وہی کے رسم ورواج اپناتے ہیں ، وہی سے تعلیم حاصل کرتے ہیں اس لیے ان لوگوں نے کبھی پاکستانی بچوں کو اپنا بچہ سمجھنا گوارا نہیں کیا تو تعلیم اپنے بچوں جیسی کیسے دلواٸیں ۔ ویسے بھی اگر حکومتی وزیر ، مشیر پاکستانی بچوں کا معیار تعلیم اپنے بچوں جیسا کر لیں تو پھر یہ سیاستدان اور ان کے بچے حکمرانی کس پر کریں ۔اس لیے ایک سازش کے تحت ان سیاستدانوں اور ملک کی بھاگ دوڑ سنبھالنے والوں نے کبھی تعلیم پر توجہ ہی نہیں دی ۔

    ترقی یافتہ ممالک میں بچے کو نصابی سرگرمیوں کے علاوہ ہنر بھی سکھایا جاتا ہے تاکہ بچہ عقل و شعور حاصل کر کے اپنا مستقبل سنوار سکے ۔ جبکہ پاکستان میں رٹہ سسٹم کے ذریعے کلرک وغیرہ ہی بنانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ ہمارے ملک میں انجنیرنگ ، طب ، وکالت ، اور صنتی و ساٸنسی تعلیم دی جاتی ہے اس کا معیار بھی ترقی یافتہ ممالک سے انتہاٸی کم ہے ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان میں ہر طرح کی تعلیم پاکستان کی قومی زبان میں ہی دی جاٸے تاکہ لوگ جو پیسہ انگریزی سیکھنے میں لگاتے ہیں اس کی بچت بھی کر سکیں اور اپنی قومی زبان میں تعلیم ہونے کی وجہ سے بہت سے پیچیدہ تعلیمی مساٸل بھی خود حل کر سکیں گے ۔ انگریزی کو رٹہ لگانے کی بجاٸے تعلیم کو سمجھ کر حاصل کر سکیں ۔ جب تک مسلمان تعلیم حاصل کر کے اپنی عقل و دماغ سے کام لیتے ہوٸے کاٸنات میں غوروفکر کرتے رہے تب تک دنیا کے حکمران رہے اور جب سے مسلمان انگریزوں کی تعلیم کو انگریزی میں رٹہ لگاتے رہے آزاد ہو کر بھی انگریزوں کے محکوم ہیں ۔

    پاکستان حقیقی معنوں میں تبھی ترقی کرے گا جب یہاں اسلامی تعلیمات کے مطابق معیار تعلیم کو بلند کر کے ، معیاری طریقہ تدریس کے ذریعے ، شفیق اساتذہ کی زیر نگرانی جدید تعلیم دی جاٸے گی ۔ تاکہ بچے کی عقل و شعور کی گرہیں کھلیں اور وہ کاٸنات میں غور وفکر کر کے تجربات کے ذریعے کلرک بننے کی بجاٸے دنیا کی حکمرانی کی سوچ رکھیں ۔

  • صوبائی وزیر تعلیم مراد راس کا جہلم کا دورہ

    صوبائی وزیر تعلیم مراد راس کا جہلم کا دورہ

    صوبائی وزیر تعلیم مراد راس کا جہلم کا دورہ

    جہلم۔ (اے پی پی) صوبائی وزیر تعلیم مراد راس ے ضلع جہلم کا دورہ کیا۔اس موقع پر ا ہوں ے ڈپٹی کمش ر دفتر میں سکول ایجوکیش ڈیپارٹم ٹ کے افسرا کے ہمراہ اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس مےںڈپٹی کمش ر جہلم محمد سیف ا ور جپہ، ممبر صوبائی اسمبلی راجہ یاور کمال، چوہدری ظفر اقبال، سی ای او ایجوکیش سید مظہر اقبال، ڈی ای اوز، ڈپٹی ڈی ای اوز اور اے ای اوز اور دیگر اساتذہ کرام موجود تھے ۔

    صوبائی وزیر تعلیم پ جاب مراد راس ے ڈپٹی کمش ر سیف ا ورجپہ اور سکول ایجوکیش ڈیپارٹم ٹ کے افسرا کی جا ب سے سکولوں میں معیاری تعلیم کی فراہم کو یقی ی ب ا ے پر زبردست سراہا۔ اجلاس میں بریف گ دیتے ہوئے ڈپٹی کمش ر سیف ا ور ے بتایا ہے کہ ضلع جہلم میں شرح خوا گی 81 فیصد ہے جبکہ ایک ہزار سے زائد سرکاری سکولوں میں عدم دستیاب سہولیات کو پورا کیا جا چکا ہے۔

  • تعلیم کے نام پہ ناچ گانا ۔۔۔ صالح عبداللہ جتوئی

    تعلیم کے نام پہ ناچ گانا ۔۔۔ صالح عبداللہ جتوئی

    ماں کی گود بچے کی پہلی درسگاہ اور تربیت گاہ ہوتی ہے اور میرا ماننا ہے کہ والدین کی تربیت کے ساتھ ساتھ سکول میں بھی بچوں کی تربیت کی بہت زیادہ اہمیت ہے اور تعلیمی ادارے بھی بچے کی ثانوی تربیت گاہ کا درجہ اختیار کر چکے ہیں اب والدین اور سکول دونوں بچے کی تربیت کے ذمہ دار ہیں.

    کافی دنوں سے کچھ ویڈیوز نظروں سے گزری جس میں ایک عورت جو کہ ماسٹر ٹرینر ہیں جو مرد و زن اساتذہ کرام کو ایک ساتھ ٹریننگ دے رہی ہیں لیکن اس ٹریننگ میں وہ بچوں کو پڑھانے کے اطوار کی بجاۓ ان کو بے ہودگی کی طرف مائل کرنے کے طریقے سکھا رہی ہے تنگ لباس گلے میں دوپٹہ لئے ڈانس کے ذریعے اساتذہ کرام کو کونسے گر سکھاۓ جا رہے ہیں کبھی ٹریننگ کے نام پہ گھٹیا حرکتیں کی جا رہی ہیں کبھی بے ہودہ قسم کی سرگرمیاں سرانجام دی جا رہی ہے اب یہ ٹھونس اور زبردستی کی ٹریننگ کروانے کا کیا مقصد ہے کیا ایسی ٹریننگ پہ عمل کرنے والے اساتذہ کرام بچوں کو صحیح معنوں میں تعلیم دے پائیں گے یا پھر بچوں کی تعلیم و تربیت کے نام پہ ناچ گانے کے عمل کو ترویج دیں گے؟

    اس کی کیا وجوہات ہیں ایسی ٹریننگز ہمیں کیوں کروائی جاتی ہے اس کا کس کو فائدہ اور کس کو نقصان ہے اور اس کے مقاصد کیا ہیں؟

    دراصل پاکستان بننے سے پہلے ہم پہ انگریز مسلط تھے اور ان کا ہی نظام تعلیم تھا اور ہماری بدقسمتی ہے کہ ہم نے 1947ء میں ان سے چھٹکارا تو حاصل کر لیا تھا لیکن ان کا نظام تعلیم آج بھی ہم پہ مسلط ہے جس سے ابھی تک ہم خلاصی نہیں پا سکے.

    آج ہمارے ملک میں QAED وہ ادارہ ہے جو اساتذہ کی سروس سے پہلے اور سروس کے بعد ہونے والی ٹریننگز کو ڈیل کر رہا ہے اور یہ ادارہ بھی British Council کے تعاون سے چل رہا ہے اور کبھی US AID کے نام سے پروجیکٹ شروع کیے جاتے ہیں سو اب جو بھی آپ کے ساتھ تعاون کر رہا ہے اور آپ کے ادارے میں سرمایہ کاری کر رہا ہے تو اس کا کوئی نہ کوئی مقصد ضرور ہو گا اور آپ جانتے ہیں کہ کفار کبھی بھی مسلمانوں کے ساتھ مخلص نہیں ہو سکتے سو ان کا ایک ہی مقصد ہے کہ وہ آپ کے نظام تعلیم پہ راج کرے اور اپنی مرضی کے مطابق اس کو سلو پوائزن دے دے کے تباہ و برباد کر دیں.

    ایسی بے ہودہ ٹریننگز بھی اسی بات کا شاخسانہ ہیں جس میں قابل احترام اساتذہ کو بھی تعلیم کے ڈھنگ سکھانے کی بجاۓ ان کو ناچ گانا سکھایا جاتا ہے ایسی ٹریننگز کا مجھے بھی اتفاق ہوا ہے اور ان میں برٹش کونسل کی طرف سے فنڈنگ ہوتی ہے اور اس میں اردو بولنے کی بالکل بھی اجازت نہیں ہوتی اور صرف اور صرف انگلش بولنے کی پابندی ہوتی ہے یعنی کہ جو فنڈ دے رہے ہیں ان کی زبان کی ترویج ہو گی اور ان کے بناۓ ہوۓ نوٹس لگواۓ جاتے اور ان کی ہدایات پہ مشتمل بے ہودہ سرگرمیاں (جن کا میں پہلے ذکر کر چکا ہوں) کروائی جاتی ہیں اور نہ کرنے والوں کو پیڈا ایکٹ کے نفاذ کی دھمکیاں دی جاتیں ہیں.

    ایسی ٹریننگ کئی حد تک سود مند ہو سکتی ہیں اگر ان کو صحیح مقاصد کو مدنظر رکھتے ہوۓ سرانجام دیا جاۓ تو لیکن یہاں پہ ایسا کچھ نہیں ہے بلکہ اس میں ہونے والی سرگرمیاں انگریزوں کے رسم و رواج کی عکاسی کرتی ہیں اور اپنے وجود کا احساس دلاتی رہتی ہیں اور یہی ان کی سرمایہ کاری کا اصل مقصد ہے.

    ہمیں تو چاہئے تھا کہ ہماری قومی زبان اردو کی ترویج کریں لیکن ہم تو اپنے ہی ملک میں دوسروں کی غلامی کرتے ہوۓ ان کی زبان اور ثقافت کو فروغ دے رہے ہیں جو کہ ہمارے تعلیمی نظام کی ناکامی کا ایک بہت بڑا سبب ہے.

    ہمیں اساتذہ کو اس طرح کی ٹریننگز کروانا ہوں گی جس سے وہ ایک باعمل اور بہترین معلم بن کر قوم کے بچوں کی خدمت کر سکیں نہ کہ مخلوط اور بے ہودہ قسم کی ٹریننگ کروا کے ان کو بھی معلم کی بجاۓ ڈانسر بنا دیا جاۓ.

    سننے میں آیا ہے کہ قائد اعظم اکیڈمی آف ایجوکیشنل ڈیویلپمنٹ (QAED) نے اس عورت کے خلاف سخت ایکشن لیا ہے اور اس ٹرینر کو ہمیشہ کے لیے بلیک لسٹ کر دیا ہے اور اس سرگرمی میں شامل ہونے والے افراد کے خلاف بھی ایکشن لینے کا فیصلہ کیا ہے.

    لیکن سوال یہ ہے کہ اس ایک عورت کو لائف ٹائم بین کرنے سے کیا ہو گا کیونکہ انٹرنیٹ پہ تو بے بہا ایسی ویڈیوز موجود ہیں ان کے خلاف کون ایکشن لے گا کیا ایسے لوگ بچوں کو تعلیم کے ساتھ تربیت بھی دیتے ہوں گے کیا ان جیسے اساتذہ سے بچے اچھی تربیت لے پائیں گے یا وقت کے بہترین ڈانسر بنیں گے کیا ہمارے ادارے اچھے معلم پیدا کریں گے یا صرف فلموں ڈراموں کے ہیرو پیدا کریں گے؟

    ہماری گورنمنٹ آف پاکستان سے اپیل ہے کہ ایسے ٹرینرز کے خلاف ایکشن لینے کی بجاۓ ٹریننگ کا معیار بدلا جاۓ اور اس میں اصلاحات لائی جائیں اور اساتذہ کرام کو ایسی ٹریننگ دی جاۓ جس سے بچوں کو مزید اچھے طریقے سے پڑھانے کے طریقے سکھائیں جائیں اور ان میں جدید ٹیکنالوجی سے مزین اصولوں کو مدنظر رکھا جاۓ تاکہ وہ ہمارے بچوں کی تعمیر و ترقی میں اہم کردار ادا کر سکیں اور ہمارے بچوں کا مستقبل تابناک ہو.
    اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو آمین ثم آمین

  • اردو بطور ذریعہ تعلیم ۔۔۔ فا طمہ قمر پاکستان قومی زبان تحریک

    اردو بطور ذریعہ تعلیم ۔۔۔ فا طمہ قمر پاکستان قومی زبان تحریک

    معزز وزیر اعلیٰ پنجاب! یہ بات صرف پرائمری سطح تک ہی محدود نہیں کہ انگریزی کو ذریعہ تعلیم بنانے سے توجہ ترجمے کی طرف مرکوز ہوتی ہے اس بات کا اطلاق ہر تعلیمی سطح پر ہوتا ہے کہ غلامی کی زبان میں تعلیم دینے سے علم ہمارے طلباء تک پہنچ ہی نہیں رہا وہ صرف زبان غیر کی گتھیاں سلجھانے میں اپنا وقت برباد کرکے تخلیقیت سے دور ہوجاتے ہیں! رٹہ بازی’ ٹیوشن بازی بوٹی مافیا اس نظام تعلیم کا حصہ بن جاتی ہے۔
    ایک بات اور کہ پرائمری کی سطح تک اردو میں تعلیم اپ کی حکومت کا کارنامہ ہر گز نہیں ہے یہ کام تو پچھلی حکومت بھی کرتی رہی ہے ۔ آپ کا کارنامہ تو یہ ہوتا کہ اپ عدالت عظمیٰ کے فیصلے کی روشنی میں ہر سطح پر زریعہ تعلیم اردو میں کرنے کے احکامات فوری طور پر ایسے صادر فرمائیں۔جیسے سابق حکومت پنجاب اور کے پی کے حکومت نے آئین شکنی کرتے ہوئے تمام سرکاری تعلیمی ادارے راتوں رات انگریزی میڈیم کردیے تھے۔
    ملک میں قومی یکجہتی’ معاشرتی تفریق ختم کرنے کے لئے یکساں نصاب تعلیم یکساں قومی زبان میں نافذ کریں۔جو ضابطہ اخلاق اور اردو زریعہ تعلیم سرکاری تعلیمی اداروں کے لئے طے کریں اس کا نجی تعلیمی اداروں کو بھی پابند بنائیں اور عمل نہ کرنے کی صورت میں بغیر کسی سیاسی وابستگی کے اس تعلیمی ادارے کی رجسٹریشن منسوخ کرکے اس ادارے بحق سرکار ضبط کر لیں۔
    سب سے اہم بات یہ کہ عدالت عظمیٰ کی روشنی میں مقابلے کا امتحان اردو میں لینے کا فخر آپ کی حکومت حاصل کریں یقین کیجئے یہ اپ کی حکومت کا انتہائی مقبول’ جراءت مندانہ فیصلہ ہوگا!
    اور یہی وہ فیصلہ ہوگا جو آپ فخر کے ساتھ اپنی حکومت کے نایاب اور تاریخ ساز کارنامے کے طور پر قوم کے سامنے رکھ سکیں گے۔
    ورنہ جس پرائمری تعلیم کے ذریعہ تعلیم کا فخر اپ کی حکومت اپنے اعزاز کے طور پر بیان کر رہی ہے یہ تو حقیقت میں سابق حکومت کا کارنامہ ہے!

  • سات درخت ۔۔۔ اظہر محمود

    سات درخت ۔۔۔ اظہر محمود

    زندگی میں یہ سات درخت ضرور لگائیں
    1۔ معاش کا درخت
    ہم درخت سے دوچیزیں لیتے ہیں ایک چھاؤں اور دوسرا پھل، چھاؤں ٹھنڈی ہوتی ہے جبکہ پھل میٹھا ہوتا ہے ، اگر ہمیں زندگی میں ٹھنڈی چھاؤں اور میٹھے پھل کو لینا ہے تو ہمیں سات درخت لگانے پڑیں گے ۔ اس شخص کی زندگی میں روشنی ہوگی جس کی زندگی میں سات درخت ہیں ،لوگ زندگی میں سات درخت نہیں لگاتے صرف ایک ہی درخت لگاتےہیں اور اسی کو کامیابی سمجھتےہیں اور اس درخت کانام ہے معاش ۔ جب تک بقیہ چھ درخت نہیں لگائیں گے کامیابی نہیں ملے گی۔
    بگ بینگ کے مفروضے کے مطابق اس کائنا ت کی عمر یا زندگی کی عمر چودہ کھرب سال ہے جبکہ اس زمین کی عمر چار کھرب پانچ سو ارب سال ہے اور اس میں انسانی زندگی کی عمر پینتیس لاکھ ہے ۔ اتنے زیادہ وقت میں آج کے انسان کے پاس صرف ساٹھ برس ہوتے ہیں ان ساٹھ برس میں شعور والی زندگی بہت تھوڑی ہوتی ہے ۔جس کے پاس شعور ہوتا ہے اس کے پاس قوت فیصلہ ہوتی ہے جبکہ شعور کا حساب ہونا ہے کیو نکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے میں نے حساب لینا ہے ۔ جب شعور والی زندگی اتنی مختصر اور مہنگی ہے تو پھر سوال ہے کہ کیا ہم نے کبھی اس کے بارے میں سنجیدگی سے سوچا ؟ کیا کبھی اس کی ترجیحات بنائیں ؟ ہمیں مہینے کی ایک کمائی تنخوا ہ کی صورت میں ملتی ہے ہم اس کی پلاننگ کرتےہی جبکہ جو کل کمائی ہے اس کے بارے میں سوچتے نہیں ہیں ،ہم نے صرف پیسے کو اپنی ترجیح بنایا ہوا ہے ،ہم نے ہر چیز کو مادے کے ساتھ جوڑ دیا ہے ۔لوگوں کے پاس پیسہ ہوتا ہے لیکن بعض اوقات سکون نہیں ہوتا ، بعض اوقات عز ت نہیں ہوتی ، بعض اوقات اپنے آپ کا پتا نہیں ہوتا ، بعض اوقات ایمان نہیں ہوتا ، بعض اوقات اپنی ذات نہیں ہوتی ۔ معاش کا درخت ضرور ہونا چاہیے لیکن صرف معاش کا درخت نہیں ہونا چاہیے۔

    2۔ خدمت کا درخت
    زندگی میں سب سے خوبصورت چیز اطمینان قلب ہے ۔ جو سکون بانٹنے میں ملتا ہے وہ کمانے میں نہیں ملتا یہ شائد اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کی صفت ب بھی بانٹنا ہے ۔ زندگی میں دوسرا خدمت کا درخت ضرور لگائیں، ” جو بندہ یہ کہتا ہے میں امیر ہو جاؤں تو بانٹوں گا وہ کبھی نہیں بانٹےگا کیو نکہ وہ امیر تو ہو جائے گا لیکن حوصلہ نہیں ہوگا ” جو بندہ آدھی روٹی خود کھاتا ہے اور آدھی بانٹ دیتا ہے وہ بڑا انسان بنتا ہے ۔ خدمت کا قطعی مطلب یہ نہیں ہے کہ پیسے ہوں تو خدمت ہو گی ہے خدمت تو مزاج سے ہوتی ہے حدیث مبارک کا مفہوم ہے "سخاوت دل سے ہے مال سے نہیں "۔ خدمت کا مطلب ہے معاوضہ بندے سے نہیں ملنا اللہ تعالیٰ سے ملنا ہے ۔ خدمت میں چوکیداری نہیں کرنی بس نیکی کرنی ہے اور دریا میں ڈال دینی ہے ۔ خدمت عقل کی زکوٰۃ ہے، یہ فہم کی زکوۃ ہے ،یہ ذہانت کی زکوۃ ہے ، یہ بڑے پن کی زکوۃ ہے ۔ اگر میٹھا پھل کھانا اور ٹھنڈی چھاؤں لینی ہے تو پھر خد مت اللہ تعالیٰ کےلیے ہونی چاہیے ۔

    3۔ فیملی کا درخت
    فیملی بہت اہم ہے اور اس کو اہم سمجھنا بھی چاہیے اس کی ضروریات کو اہم سمجھنا چاہیے ۔ فیملی کی تین ضروریات ہوتی ہیں ہم ایک کو پورا کر کے دو سے کنارہ کشی کر جاتے ہیں ، پہلی ضرورت پیسہ ہے دوسری توجہ ہے ، توجہ کا مطلب ہے بچوں کی تمام چیزوں کے ساتھ تعلق ہو، تیسری ضرورت قربانی ہے کیو نکہ تعلق کی قیمت قربانی ہے ، تعلق قربانی مانگتا ہے ۔ وہ لوگ جوان تینوں میں سے ایک رکھتے ہیں باقی نکال دیتےہیں وہ زیادتی کرتےہیں ان کا درخت کبھی بھی میٹھا پھل اور ٹھندی چاؤں نہیں دیتا ۔

    4۔ پیشے کادرخت
    زندگی میں انسان کا دو چیزوں کے ساتھ زیادہ وقت گزرتا ہے ایک پیشہ دوسرا بیوی اس لیے دونوں کا انتخاب سو بار سوچنے کے بعد کرنا چاہیے ۔ ہم نے دنیا کا کوئی کام کرنا ہو اس میں چاہے کپڑے خریدنے ہوں، جوتے خریدنے ہو ، کوئی بیماری ہو یا کوئی اور چیز ہو اس کے لیے سو لوگوں سے مشورہ کرتے ہیں لیکن جس کے ساتھ ہماری زندگی گزرنی ہوتی ہے اس کے بارے میں مشورہ ہی نہیں کرتے ۔ انسان کو اللہ تعالیٰ نے انتخاب کی طاقت دی ہے یہ کسی اور مخلوق کو نہیں ملی،انسان اپنے مزاج کے مطابق اپنے پیشے کو منتخب کرتا ہے ، انتخاب میں غلطی ہو سکتی ہے ممکن ہے نوکری والا بندہ کاروبار کرتا ہو، ممکن ہے کاروبار والا نوکری کرتا ہو ، ممکن ہے نوکری جس طرح کی چاہیے تھی ویسی نہ ہو ، ممکن ہے کاروبار جس طرح کا چاہیے تھا ویسا نہ ہو لیکن اس بارے میں سوچنا ضرور چاہیے اور مشور ہ ضرور کرنا چاہیے۔ زندگی میں غلط ٹرین ہو ں تو اتر کر صحیح ٹرین پکڑنےمیں شرم محسوس نہیں کرنی چاہیے ۔ اپنی زندگی میں چیزیں چھوڑنے کی طاقت ، ہمت ، جرات پیدا کریں کیو نکہ جو چھوڑ سکتا ہے وہی آگے جا سکتا ہے پھر اس کو ٹھنڈی چھاؤ ں ملتی ہے اور میٹھا پھل بھی ملتا ہے ۔ جس پیشے سے بندہ انجوائے نہیں کرتا وہ پیشہ پھرسوالیہ نشان ہے ، جس کے لیے اس کا ہم سفر راحت کا سبب نہیں ہے تو پھر سوالیہ نشان ہے حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں "دوست سے سکون نہیں ہے اورد شمن سے تکلیف نہیں ہے تو پھر نہ دوست دوست ہے اور نہ دشمن دشمن۔ ”

    5۔ ساکھ کا درخت
    اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ عزت اور ذلت اللہ تعالی کے ہاتھ میں ہے لیکن بندے کو وہ کام کرنے چاہییں جو عز ت کا سبب بنیں کیو نکہ اللہ تعالیٰ نے بتا دیا ہے یہ کام عزت والے ہیں یہ ذلت والے ہیں ۔یہ اتنی اہم چیز ہے کہ بندے کو نہیں دیکھا جاتا بلکہ اس کی ساکھ کو دیکھا جاتا ہے اس لیے ہمیشہ زندگی میں ساکھ برقرار رکھیں لیکن یہ بات بھی یاد رہیں کہ ساکھ ہو نے کے باوجود بھی مسئلے رہیں گے ، اچھا ہونے کے باوجود لوگ برا کہیں گے ۔ جس چیز کاکوئی حل نہیں ہے اس کی فکر مندی چھوڑ دیں بس آنکھیں نیچی کر کے چلتے جائیں ایک دن سر اٹھے گا دنیا ساتھ ہوگی ۔ اپنی نگاہوں میں اپنے آپ کو بھی گرنے نہ دیں۔ دنیا میں سب سے بڑا مجرم اپنی ذات کا مجرم ہوتا ہے ، لوگوں میں چور پن ہوتا ہے ، جس کی اپنی نگاہوں میں اپنی عزت نہیں ہے وہ کسی کی عزت کیا کرے گا ، جو چیز ہے ہی نہیں وہ کیسے دی جا سکتی ہے عزت تو عزت دار بند ہ کرتا ہے ۔ساکھ کو اہم سمجھیں اس پر انوسٹمنٹ کریں ، وقت لگائیں ۔ بندے کی دوستوں اور دشمنوں سے بھی پہچان ہونی چاہیے ، شاہین شاہین کے ساتھ ہی اڑتا ہے مردار کھانے والے گدھ کے ساتھ نہیں اڑتا۔ تعلق کی وجہ پیسہ نہیں ہونا چاہیے بلکہ نظریہ ہونا چاہیے حضرت علی المرتضی ؒ رضی اللہ عنہ فرماتےہیں "نظریے کا ساتھ ازلی اور ابدی ہوتا ہے۔” طے کریں کن کے ساتھ کام کرنا ہے کن کے ساتھ کام نہیں کرنا کئی، لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کے ساتھ صرف دوستی رکھی جا سکتی ہے کام نہیں کیاجا سکتا کیو نکہ اپنے کا جواب دیا جا سکتا ہے ۔جس کے ساتھ کھڑا نہیں ہوا جاسکتا اس کے ساتھ تعلق مت رکھیں۔

    6۔ مذہب کا درخت
    زندگی میں یقین ہے، ایمان ہے ، روحانیت ہے ، روح زندہ ہے ، عباد ت ہے،اس درخت کو بھی اہم سمجھنا چاہیے ۔حضور اکرم ﷺ نے جن تمام انداز کے ساتھ نماز ادا کی وہ سب سنت ہیں اب جو بھی جس انداز میں پڑھ رہا ہےاگر اس کی نیت یہ ہے کہ یہ میرے رسول کریم ﷺ کی سنت ہےتو ثواب ہے۔ وہ تمام نیکیوں کے کام جو آپ کو سکون دیتےہیں ان کو ضرور کریں کیو نکہ آپ کی عبادت ، روحانیت اور دین ان سے جڑا ہوا ہے ۔

    7۔ ذات کا درخت
    اپنی ذات کو بھی سکون چاہیے اس درخت کو بھی اہم سمجھنا چاہیے ۔ تنہائی کو انجوائے کرنا سیکھیں، اپنی پسند کی کتابیں خریدیں ، اپنے بے لوث دوست کے ساتھ وقت گزاریں، صبح کے وقت گیلے گھاس پر چل سکون حاصل کریں تاکہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کااحساس ہو ۔ ہم نے سب سے زیادہ اپنی ذات کے ساتھ وقت گزارنا ہوتا ہے اگر ہم اپنے اچھے دوست نہیں ہیں ، اپنی ذات کے ساتھ اچھا تعلق نہیں ہے تو پھر یہ درخت ٹھنڈی چھاؤں نہیں دے گا اور نہ ہی میٹھاپھل دے گا ۔
    آج سے ان درختوں کے بیج لگائیے کچھ دنوں بعد آپ کو محسو س ہوگا کہ پودابننا شروع ہوگیا ہے۔