Baaghi TV

Tag: تعلیم

  • سات درخت ۔۔۔ اظہر محمود

    سات درخت ۔۔۔ اظہر محمود

    زندگی میں یہ سات درخت ضرور لگائیں
    1۔ معاش کا درخت
    ہم درخت سے دوچیزیں لیتے ہیں ایک چھاؤں اور دوسرا پھل، چھاؤں ٹھنڈی ہوتی ہے جبکہ پھل میٹھا ہوتا ہے ، اگر ہمیں زندگی میں ٹھنڈی چھاؤں اور میٹھے پھل کو لینا ہے تو ہمیں سات درخت لگانے پڑیں گے ۔ اس شخص کی زندگی میں روشنی ہوگی جس کی زندگی میں سات درخت ہیں ،لوگ زندگی میں سات درخت نہیں لگاتے صرف ایک ہی درخت لگاتےہیں اور اسی کو کامیابی سمجھتےہیں اور اس درخت کانام ہے معاش ۔ جب تک بقیہ چھ درخت نہیں لگائیں گے کامیابی نہیں ملے گی۔
    بگ بینگ کے مفروضے کے مطابق اس کائنا ت کی عمر یا زندگی کی عمر چودہ کھرب سال ہے جبکہ اس زمین کی عمر چار کھرب پانچ سو ارب سال ہے اور اس میں انسانی زندگی کی عمر پینتیس لاکھ ہے ۔ اتنے زیادہ وقت میں آج کے انسان کے پاس صرف ساٹھ برس ہوتے ہیں ان ساٹھ برس میں شعور والی زندگی بہت تھوڑی ہوتی ہے ۔جس کے پاس شعور ہوتا ہے اس کے پاس قوت فیصلہ ہوتی ہے جبکہ شعور کا حساب ہونا ہے کیو نکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے میں نے حساب لینا ہے ۔ جب شعور والی زندگی اتنی مختصر اور مہنگی ہے تو پھر سوال ہے کہ کیا ہم نے کبھی اس کے بارے میں سنجیدگی سے سوچا ؟ کیا کبھی اس کی ترجیحات بنائیں ؟ ہمیں مہینے کی ایک کمائی تنخوا ہ کی صورت میں ملتی ہے ہم اس کی پلاننگ کرتےہی جبکہ جو کل کمائی ہے اس کے بارے میں سوچتے نہیں ہیں ،ہم نے صرف پیسے کو اپنی ترجیح بنایا ہوا ہے ،ہم نے ہر چیز کو مادے کے ساتھ جوڑ دیا ہے ۔لوگوں کے پاس پیسہ ہوتا ہے لیکن بعض اوقات سکون نہیں ہوتا ، بعض اوقات عز ت نہیں ہوتی ، بعض اوقات اپنے آپ کا پتا نہیں ہوتا ، بعض اوقات ایمان نہیں ہوتا ، بعض اوقات اپنی ذات نہیں ہوتی ۔ معاش کا درخت ضرور ہونا چاہیے لیکن صرف معاش کا درخت نہیں ہونا چاہیے۔

    2۔ خدمت کا درخت
    زندگی میں سب سے خوبصورت چیز اطمینان قلب ہے ۔ جو سکون بانٹنے میں ملتا ہے وہ کمانے میں نہیں ملتا یہ شائد اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کی صفت ب بھی بانٹنا ہے ۔ زندگی میں دوسرا خدمت کا درخت ضرور لگائیں، ” جو بندہ یہ کہتا ہے میں امیر ہو جاؤں تو بانٹوں گا وہ کبھی نہیں بانٹےگا کیو نکہ وہ امیر تو ہو جائے گا لیکن حوصلہ نہیں ہوگا ” جو بندہ آدھی روٹی خود کھاتا ہے اور آدھی بانٹ دیتا ہے وہ بڑا انسان بنتا ہے ۔ خدمت کا قطعی مطلب یہ نہیں ہے کہ پیسے ہوں تو خدمت ہو گی ہے خدمت تو مزاج سے ہوتی ہے حدیث مبارک کا مفہوم ہے "سخاوت دل سے ہے مال سے نہیں "۔ خدمت کا مطلب ہے معاوضہ بندے سے نہیں ملنا اللہ تعالیٰ سے ملنا ہے ۔ خدمت میں چوکیداری نہیں کرنی بس نیکی کرنی ہے اور دریا میں ڈال دینی ہے ۔ خدمت عقل کی زکوٰۃ ہے، یہ فہم کی زکوۃ ہے ،یہ ذہانت کی زکوۃ ہے ، یہ بڑے پن کی زکوۃ ہے ۔ اگر میٹھا پھل کھانا اور ٹھنڈی چھاؤں لینی ہے تو پھر خد مت اللہ تعالیٰ کےلیے ہونی چاہیے ۔

    3۔ فیملی کا درخت
    فیملی بہت اہم ہے اور اس کو اہم سمجھنا بھی چاہیے اس کی ضروریات کو اہم سمجھنا چاہیے ۔ فیملی کی تین ضروریات ہوتی ہیں ہم ایک کو پورا کر کے دو سے کنارہ کشی کر جاتے ہیں ، پہلی ضرورت پیسہ ہے دوسری توجہ ہے ، توجہ کا مطلب ہے بچوں کی تمام چیزوں کے ساتھ تعلق ہو، تیسری ضرورت قربانی ہے کیو نکہ تعلق کی قیمت قربانی ہے ، تعلق قربانی مانگتا ہے ۔ وہ لوگ جوان تینوں میں سے ایک رکھتے ہیں باقی نکال دیتےہیں وہ زیادتی کرتےہیں ان کا درخت کبھی بھی میٹھا پھل اور ٹھندی چاؤں نہیں دیتا ۔

    4۔ پیشے کادرخت
    زندگی میں انسان کا دو چیزوں کے ساتھ زیادہ وقت گزرتا ہے ایک پیشہ دوسرا بیوی اس لیے دونوں کا انتخاب سو بار سوچنے کے بعد کرنا چاہیے ۔ ہم نے دنیا کا کوئی کام کرنا ہو اس میں چاہے کپڑے خریدنے ہوں، جوتے خریدنے ہو ، کوئی بیماری ہو یا کوئی اور چیز ہو اس کے لیے سو لوگوں سے مشورہ کرتے ہیں لیکن جس کے ساتھ ہماری زندگی گزرنی ہوتی ہے اس کے بارے میں مشورہ ہی نہیں کرتے ۔ انسان کو اللہ تعالیٰ نے انتخاب کی طاقت دی ہے یہ کسی اور مخلوق کو نہیں ملی،انسان اپنے مزاج کے مطابق اپنے پیشے کو منتخب کرتا ہے ، انتخاب میں غلطی ہو سکتی ہے ممکن ہے نوکری والا بندہ کاروبار کرتا ہو، ممکن ہے کاروبار والا نوکری کرتا ہو ، ممکن ہے نوکری جس طرح کی چاہیے تھی ویسی نہ ہو ، ممکن ہے کاروبار جس طرح کا چاہیے تھا ویسا نہ ہو لیکن اس بارے میں سوچنا ضرور چاہیے اور مشور ہ ضرور کرنا چاہیے۔ زندگی میں غلط ٹرین ہو ں تو اتر کر صحیح ٹرین پکڑنےمیں شرم محسوس نہیں کرنی چاہیے ۔ اپنی زندگی میں چیزیں چھوڑنے کی طاقت ، ہمت ، جرات پیدا کریں کیو نکہ جو چھوڑ سکتا ہے وہی آگے جا سکتا ہے پھر اس کو ٹھنڈی چھاؤ ں ملتی ہے اور میٹھا پھل بھی ملتا ہے ۔ جس پیشے سے بندہ انجوائے نہیں کرتا وہ پیشہ پھرسوالیہ نشان ہے ، جس کے لیے اس کا ہم سفر راحت کا سبب نہیں ہے تو پھر سوالیہ نشان ہے حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں "دوست سے سکون نہیں ہے اورد شمن سے تکلیف نہیں ہے تو پھر نہ دوست دوست ہے اور نہ دشمن دشمن۔ ”

    5۔ ساکھ کا درخت
    اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ عزت اور ذلت اللہ تعالی کے ہاتھ میں ہے لیکن بندے کو وہ کام کرنے چاہییں جو عز ت کا سبب بنیں کیو نکہ اللہ تعالیٰ نے بتا دیا ہے یہ کام عزت والے ہیں یہ ذلت والے ہیں ۔یہ اتنی اہم چیز ہے کہ بندے کو نہیں دیکھا جاتا بلکہ اس کی ساکھ کو دیکھا جاتا ہے اس لیے ہمیشہ زندگی میں ساکھ برقرار رکھیں لیکن یہ بات بھی یاد رہیں کہ ساکھ ہو نے کے باوجود بھی مسئلے رہیں گے ، اچھا ہونے کے باوجود لوگ برا کہیں گے ۔ جس چیز کاکوئی حل نہیں ہے اس کی فکر مندی چھوڑ دیں بس آنکھیں نیچی کر کے چلتے جائیں ایک دن سر اٹھے گا دنیا ساتھ ہوگی ۔ اپنی نگاہوں میں اپنے آپ کو بھی گرنے نہ دیں۔ دنیا میں سب سے بڑا مجرم اپنی ذات کا مجرم ہوتا ہے ، لوگوں میں چور پن ہوتا ہے ، جس کی اپنی نگاہوں میں اپنی عزت نہیں ہے وہ کسی کی عزت کیا کرے گا ، جو چیز ہے ہی نہیں وہ کیسے دی جا سکتی ہے عزت تو عزت دار بند ہ کرتا ہے ۔ساکھ کو اہم سمجھیں اس پر انوسٹمنٹ کریں ، وقت لگائیں ۔ بندے کی دوستوں اور دشمنوں سے بھی پہچان ہونی چاہیے ، شاہین شاہین کے ساتھ ہی اڑتا ہے مردار کھانے والے گدھ کے ساتھ نہیں اڑتا۔ تعلق کی وجہ پیسہ نہیں ہونا چاہیے بلکہ نظریہ ہونا چاہیے حضرت علی المرتضی ؒ رضی اللہ عنہ فرماتےہیں "نظریے کا ساتھ ازلی اور ابدی ہوتا ہے۔” طے کریں کن کے ساتھ کام کرنا ہے کن کے ساتھ کام نہیں کرنا کئی، لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کے ساتھ صرف دوستی رکھی جا سکتی ہے کام نہیں کیاجا سکتا کیو نکہ اپنے کا جواب دیا جا سکتا ہے ۔جس کے ساتھ کھڑا نہیں ہوا جاسکتا اس کے ساتھ تعلق مت رکھیں۔

    6۔ مذہب کا درخت
    زندگی میں یقین ہے، ایمان ہے ، روحانیت ہے ، روح زندہ ہے ، عباد ت ہے،اس درخت کو بھی اہم سمجھنا چاہیے ۔حضور اکرم ﷺ نے جن تمام انداز کے ساتھ نماز ادا کی وہ سب سنت ہیں اب جو بھی جس انداز میں پڑھ رہا ہےاگر اس کی نیت یہ ہے کہ یہ میرے رسول کریم ﷺ کی سنت ہےتو ثواب ہے۔ وہ تمام نیکیوں کے کام جو آپ کو سکون دیتےہیں ان کو ضرور کریں کیو نکہ آپ کی عبادت ، روحانیت اور دین ان سے جڑا ہوا ہے ۔

    7۔ ذات کا درخت
    اپنی ذات کو بھی سکون چاہیے اس درخت کو بھی اہم سمجھنا چاہیے ۔ تنہائی کو انجوائے کرنا سیکھیں، اپنی پسند کی کتابیں خریدیں ، اپنے بے لوث دوست کے ساتھ وقت گزاریں، صبح کے وقت گیلے گھاس پر چل سکون حاصل کریں تاکہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کااحساس ہو ۔ ہم نے سب سے زیادہ اپنی ذات کے ساتھ وقت گزارنا ہوتا ہے اگر ہم اپنے اچھے دوست نہیں ہیں ، اپنی ذات کے ساتھ اچھا تعلق نہیں ہے تو پھر یہ درخت ٹھنڈی چھاؤں نہیں دے گا اور نہ ہی میٹھاپھل دے گا ۔
    آج سے ان درختوں کے بیج لگائیے کچھ دنوں بعد آپ کو محسو س ہوگا کہ پودابننا شروع ہوگیا ہے۔

  • بلوچستان بھی پاکستان ہے… محمد عبداللہ

    بلوچستان بھی پاکستان ہے… محمد عبداللہ

    اللہ کی عظیم نعمتوں اور معدنیات سے مالا مال مگر حکمرانوں کی عدم توجہی کا شکار ہمارا بلوچستان پاکستان کا ہی صوبہ ہے. دوران سفر میں نے کراچی سے کوئٹہ اور کوئٹہ سے فورٹ منرو تک بلوچستان کے بیسیوں شہر دیکھے، سنگلاخ چٹانیں، خشک پہاڑ، میلوں تلک پھیلی سطح مرتفع، کہیں کہیں فروٹس کے باغات اور درختوں کے جھنڈ، بکریوں کے ریوڑ اور خوبصورت بچے دیکھنے والوں کو اپنے سحر میں مبتلا کردیتے ہیں.


    لیکن یہ سحر بہت جلد ٹوٹ جاتا ہے کہ جب بیسیوں میل تک آپ کو پانی میسر نہ آئے، جب وہاں سے نکلنے والی بیش قیمت گیس تو لاہور، پشاور تک مل جائے ،اس کی رائلٹی سرداروں کی جیب میں چلی جائے اور سوئی کا باسی پنجاب ، سندھ اور کے پی کے میں جاتی گیس کے پائپ کے اطراف سے لکڑیاں اور گھاس پھونس اکٹھی کرکے اپنی پیٹھ پر لادے گھر جائے اور اس سے چولہا جلائے، جب سفر کرتے ہوئے سینکڑوں کلومیٹرز تک آپ کو موبائل سگنلز نہ ملیں.

    عورت اور اسلامی معاشرہ… محمد عبداللہ

    ہم گرائمرز، ایچی سن، کیڈٹس کالجز اور اسکول کے رسیا لوگوں کا بلوچستان کی خوبصورتی کا سحر اس وقت دھڑام سے گرتا ہے جب بلوچستان کے بیشتر علاقوں میں خیمہ اور ٹاٹ اسکول بھی میسر نہ ہوں. جہاں معمولی بیماریوں سے لے کر سنگین بیماریوں تک کے علاج پر اس لیے نہ توجہ دی جائے کہ بوڑھی ماں اور باپ کی دو چار سال مزید عمر کے لیے کون سینکڑوں کلومیٹر کا سفر کرکے کوئٹہ اور کراچی جائے. مجھے کوئٹہ سمیت پورے بلوچستان میں ایک بھی شہر پنجاب کے شہروں کے ہم پلہ نظر نہ آئے نہ سہولیات کے اعتبار سے اور نہ بلند و بالا بلڈنگز کے اعتبار سے. ہاں سرداروں کے وسیع و عریض محل، نت نئی گاڑیوں، جدید اسلحہ سے لیس محافظوں کی فوج ظفر موج آپ کو بتائے گی کہ بلوچستان کے مسائل کے پیچھے کیا عوامل کارفرماء ہیں.

    کیا اس لیے تقدیر نے چنوائے تھے تنکے ….. محمد عبداللہ

    میں نے بلوچستان کا بڑا مہذب نقشہ آپ کے سامنے رکھا ہے کہ مجھے الفاظ نہیں میسر کہ بلوچستان کی محرومیوں کی جو صورتحال جو آنکھوں نے دیکھی اس کو بیان کروں.

    تعلیم و صحت وغیرہ بنیادی انسانی حقوق ہیں مگر بلوچستان کے زیادہ تر لوگوں کو یہ انسانی حقوق میسر نہیں ہیں. ہاں میسر ہے تو وہ دھماکے ہیں، سازشیں ہیں، کلبھوشنز ہیں، براہمداغ و ماما قدیر ہیں، سرمچار ہیں، فراری ہیں اور ان سب کی وجہ سے فوجی آپریشنز میسر ہیں.
    جب صادق سنجرانی، قاسم سوری، جام کمال، طلال و سرفراز بگٹی اور اختر مینگل جیسے لوگ جو پاکستان کے اعلیٰ ترین عہدوں اور پارلیمنٹ کی کرسیوں پر براجمان ہیں وہ بلوچستان کے جائز حقوق کی آئینی اور قانونی جنگ نہیں لڑیں گے اور بلوچستان کی دگردوں صورتحال پر توجہ نہیں دیں گے تو پھر براہمداغ بگٹی وغیرہ جیسے راتب اغیار پر دم ہلانے والے محرومیوں کے ستائے بلوچوں کو استعمال کریں گے، پھر کلبھوشن دہشت گردی کے نیٹ ورک قائم کریں گے. پھر محمود اچکزئی جیسے لوگ این ڈی ایس کے آلہ کار بنیں گے.

    پاکستان کے دیگر صوبوں اور ہر طرح کی سہولیات سے لیس شہروں میں بیٹھ کر یہ بات کرنا تو بہت آسان ہے کہ بلوچستان کی بات نہ کرنا، وہاں کے حقوق پر آواز نہ اٹھانا کہیں دشمن تمہارے ان مطالبات کو غلط استعمال نہ کرلے تو جناب والا پھر پنجاب اور کے پی کے اور سندھ کے مسائل اور جرائم پر بات کرنے اور سوشل میڈیا پر آواز اٹھانے کو بھی تو دشمن غلط مقصد اور بدنامی کے لیے استعمال کر سکتا ہے لیکن ہم وہ متواتر کیے چلے جاتے ہیں.
    ہمیں اور نہ ہی بلوچستان کے لوگوں کو اپنی افواج اور دیگر سکیورٹی کے اداروں سے کوئی گلہ یا شکوہ ہے کیونکہ یہ ادارے تو ان کو سازشوں سے بچاتے ہیں، حفاظت کرتے ہیں اور آفات اور مسائل میں حتیٰ المقدور بلوچستان کے غریب باسیوں کی مدد بھی کرتے ہیں.

    ہمیں شکوہ ہے تو سب سے پہلے بلوچستان کے سرداروں سے ہے، پاکستان کے ستر سال کے حکمرانوں سے ہے، موجودہ پارلیمنٹ میں بیٹھے لوگوں پر ہے جو بلوچستان کے مسائل و معاملات کو پاکستان کا مسئلہ نہیں سمجھتے.
    اگر آپ واقعی بلوچستان میں امن لانا چاہتے ہیں اور دشمن کی سازشوں کو پنپنے کا موقع نہیں دینا چاہتے، کلبھوشنوں اور براہمداغ جیسوں کے نیٹورکس قائم نہیں ہونے دینا چاہتے تو بلوچستان میں تعلیم و صحت اور روزگار پر ترجیحی بنیادوں پر کام کیجیئے کہ بلوچستان بھی پاکستان ہے.

    Muhammad Abdullah
  • بچے، مسجد میں ۔۔۔ حافظ ابتسام الحسن

    بچے، مسجد میں ۔۔۔ حافظ ابتسام الحسن

    بچوں کی تعلیم و تربیت پر ہر قوم زور دیتی ہے، لیکن اسلام اور مسلمان اس حوالے سے بطور خاص حساس ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بچوں کی تربیت پر بہت زور دیا ہے، اور تربیت میں بھی نماز کو اولین ترجیح دی ہے کہا کہ اگر بچے سات سال کے ہو جائیں تو انہیں نماز سکھلاؤ اور پڑھنے کی ترغیب دلاؤ اور دس سال کے ہو جائیں تو ان پر نماز کو فرض عین کر دو، اگر نہ پڑھیں تو ان کی پٹائی کرو، غور کرنے کی بات یہ ہے کہ اللہ کے رسول نے کسی اور معاملہ میں بچوں پر کبھی نہ سختی کی اور نہ کرنے کا حکم دیا، بلکہ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : "دس سال رسول اللہ کی خدمت کی (آپ نے کسی موقع پر) کبھی اف تک نہ کہا ۔” ایسے حلیم الطبع اور بچوں پر مشفق نبی نماز کے مسئلہ پر اگر بچوں پر سختی کا کہہ رہے ہیں تو ثابت ہوتا ہے کہ اسلام میں حکمِ نماز کتنا اہم اور حساس ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں بچے بڑے ذوق و شوق سے مسجد میں جایا کرتے تھے، بلکہ جناب عبداللہ بن عمر کہتے ہیں بچپنے سے لے کر کنوارے رہنے تک ہم سویا بھی مسجد میں ہی کرتے تھے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی چھوٹے بچوں کو مسجد میں لانے سے نہیں روکا۔ حدیث میں آتا ہے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "میرا دل کرتا ہے کہ میں نماز میں قرأت کو لمبا کروں، پھر میں بچوں کے رونے کی آوازوں کو پاتا ہوں تو میں قرأت کو مختصر کر دیتا ہوں۔ ” اس حدیث سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قرأت مختصر کردی مگر بچوں کو مسجد میں لانے سے منع نہیں کیا۔
    موجودہ دور بے راہ روی کا دور ہے، اس میں بچے تو کیا بچوں کے والدین بہت کم مسجد میں آتے ہیں۔ مسجدیں اپنے حجم کے حساب سے تقریبا ویران رہتی ہیں ۔ضرورت اس بات کی ہے کہ بچوں اور ان کے والدین کو مساجد میں لا کر مساجد کی رونق کو دو بالا کیا جائے ۔اس حوالے سے ترکی نے سرکاری سطح پر ایک زبردست اقدام کیا، پہلے تو انہوں نے اپنی مساجد میں بچوں کے لیے کھیلنے کے لیے چھوٹے چھوٹے پلے گراؤنڈ بنائے، کہ سات سال سے چھوٹے بچے وہاں کھیلتے رہیں اور ان کے والدین با اطمینان نماز میں مشغول رہیں، پھر سات سال سے اوپر کے بچوں کے لیے یہ اعلان کیا کہ جو بچے چالیس دن نمازیں باجماعت ادا کریں گے انہیں بطور انعام سائیکلیں دی جائیں گی، جو کہ دی بھی گئیں ۔ان بچوں کی سائیکلوں کے ہمراہ تصاویر سوشل میڈیا پر کافی وائرل بھی ہوئی تھیں ۔ترکی کے بعد پاکستان کی کئی مساجد نے اپنے طور پر اس کار خیر کو اپنایا ۔ان میں گوجرانوالہ کی ایک مسجد کا پوسٹر مجھے دیکھنے کا اتفاق ہوا ۔اس کے بعد مسجد حلیمہ سعدیہ الرحمان گارڈن فیز ٹو نے یہ قدم اٹھایا، پہلے پہل تو یقین نہ آیا لیکن جب بچوں کو انعامات لیتے اور سائیکلوں کو سرپٹ دوڑاتے دیکھا، تو یقین مانیے دل کو بہت مسرت ہوئی ۔جامع مسجد حلیمہ سعدیہ الرحمان گارڈن فیز ٹو وہی مسجد ہے جہاں مجھے اس سال رمضان المبارک میں قرآن مجید سنانے کی سعادت حاصل ہوئی تھی، فللہ الحمد ۔
    اس مسجد میں رمضان المبارک سے قبل اعلان کیا گیا تھا کہ جو بچے پورا رمضان مغرب، عشاء اور فجر کی نمازیں باجماعت مسجد حلیمہ سعدیہ میں ادا کریں گے انہیں انعام میں سائیکلیں دی جائیں گی اور دیگر قیمتی انعامات بھی دیے جائیں گے ۔اس خبر کے نشر ہوتے ہی ٹاؤن کے بچوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی، وہ بڑھ چڑھ کر اپنا نام درج کروانے لگے
    پچاس بچوں نے اس میں حصہ لیا جو کہ بہت زبردست اور حوصلہ افزا تعداد تھی ، ماشاءاللہ ان پچاس بچوں کی مسجد آمد سے مسجد میں اچھی خاصی رونق ہوجاتی تھی، جس سے اس بات کی خوشی ہوتی تھی کہ ہم اپنی اگلی نسل تک دین پہنچا رہے ہیں ۔ان بچوں کی باقاعدہ حاضری لگتی تھی، جس کی ذمہ داری مسجد ہذا کے صدر ماسٹر مشتاق صاحب بڑی باقاعدگی سے نبھاتے رہے، جس پر وہ بھی اللہ کے ہاں یقینا اجر کے مستحق ہوں گے۔
    ان پچاس بچوں میں سے بیس بچے باقاعدگی سے آتے رہے اور ایک بھی نماز میں کمی نہیں کی ۔ان کی باقاعدگی کا یہ عالم تھا کہ یہ بچے اپنی نانی اماں اور دادی اماں کے ہاں افطاری پر بھی نہیں گئے، جس نے بھی دعوت دی اسے عید کے بعد کا وقت دیا، خوشی کی بات یہ ہے کہ یہ بچے طاق راتوں میں بھی مسجد میں جاگتے رہے ہیں اور عبادات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے رہے ہیں ۔الحمد للہ اس وجہ سے مسجد حلیمہ سعدیہ میں پورا رمضان رونقیں لگی رہیں ۔
    بالآخر رمضان کے آخر جمعہ میں نماز کے بعد بچوں میں سائیکلوں اور دیگر انعامات کی تقسیم کے لیے ایک پروقار تقریب منعقد کی گئی اور ان پابند بچوں میں نئی، اچھی اور معیاری سائیکلیں تقسیم کی گئیں، جنہیں پاکر بچوں کی خوشی دیدنی تھی اور دین پر عمل پیرا ہونے کے جذبات دوگنا ہو چکے تھے۔
    ان بیس بچوں کے علاوہ باقی تیس بچوں کو جن کی حاضری میں کچھ کمی تھی، ان میں حاضری کے بقدر انعامات بانٹے گئے جو کہ قیمتی بھی تھے اور اصلاحی بھی ۔جس میں دارالسلام کی دینی کتب، معیاری خوشبوئیں، منی فینز، گاڑیاں اور دیگر اچھی چیزیں تھیں۔
    اس کاوش میں سب سے اہم کردار اس مسجد کے خطیب پروفیسر حافظ عثمان ظہیر صدر جمیعت اساتذہ پنجاب کا ہے۔انہوں نے یہ اقدام اٹھایا اور سائیکلوں و انعامات کے لیے کافی متحرک بھی رہے ۔ماسٹر مشتاق ورک صاحب جو مسجد کے صدر ہیں، نے بڑی باقاعدگی سے تینوں اوقات میں بچوں کی حاضری لگائی۔ اسی طرح محترم حبیب کبریا صاحب برادر مکرم حافظ عبدالعظیم اسد صاحب کا کردار بھی لائق تحسین ہے جنہوں نے دارالسلام کی خوبصورت پروڈکٹس کے تحفے بچوں کے لیے عنایت کیے۔
    آخر میں پیغام ٹی وی کے زیر اہتمام تقریب نے اس پروجیکٹ کو چار چاند لگادیے ۔پیغام ٹی وی نے اس پروقار تقریب کی کوریج کی اور اسے چینل پر چلایا
    ہمیں امید ہے مسجد حلیمہ سعدیہ کا یہ منصوبہ دوسری مساجد کے منتظمین کو بھی تحرک دے گا اور وہ بھی اپنے علاقے کے بچوں کو مساجد میں لانے کے لیے ایسے ہی اقدامات کریں گے۔ اور یہ عمل نیکی کے فروغ میں مشعلِ راہ ثابت ہو گا۔