Baaghi TV

Tag: توانائی

  • ریلوے تنصیبات کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے کا فیصلہ

    ریلوے تنصیبات کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے کا فیصلہ

    وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق کی زیرِ صدارت رات گئے تک اجلاس منعقد کیا گیا.اجلاس کے دوران 21 خراب پاور وینز کی مکمل اوور ہالنگ اور 33 پاور وینز کی اپ گریڈیشن کا فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس کے دوران پاکستان ریلوے کی مالی حالت کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

    وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق نے ہدایت کی کہ ملک بھر میں ریلوے تنصیبات کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے کے منصوبے کی مکمل فزیبلٹی رپورٹ تیار کر کے ہنگامی بنیادوں پر وزارت ریلوے کو پیش کی جائے۔ وزیرریلوے نے ملازمین کے بقایا جات کی جلد ادائیگی کی منصوبہ بندی کرنے کی بھی ہدایت کی.

    وفاقی وزیر نے زکریا ایکسپریس واقعہ میں متاثرہ خاتون سے فون پر بات چیت کی اور اپنی مکمل حمایت کا یقین دلایا۔ متاثرہ خاتون کے لیے سینئیر لیڈی افسر کو فوکل پرسن مقرر کر دیا گیا۔ سعد رفیق نے پرائیویٹ ٹرین آپریٹر کو متاثرہ خاتون کے تمام قانونی واجبات ادا کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ ریلوے متاثرہ خاتون کے روزگار کا بندوبست کرے گا۔ وزیر ریلوے نے ہدایت کی کہ مقدمے کی بھرپور پیروی کی جائے اور خاتون کی مالی معاونت کی جائے۔

    قبل ازیں وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق کی زیر صدارت لاہور میں اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا تھا۔اجلاس میں آئندہ مالی سال کے ریلوے کے ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ لیا گیا تھا

    وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق نے افسران کو ہدایت کی تھی کہ ایندھن اور بجلی کی بچت کے لیے ہر ممکن اقدامات اٹھائے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں فیول کے ایک ایک لٹر کی حفاظت کرنی ہے۔ وفاقی وزیر نے ہدایت کی کہ ٹرینوں کے جو پرزے پاکستان میں بن سکتے ہیں، انہیں ہر گز درآمد نہ کیا جائے۔ اجلاس میں پٹرول و ڈیزل کی قیمتوں میں حالیہ اضافے سے پاکستان ریلوے پر پڑنے والے آٹھ ارب کے اضافی بوجھ کے ممکنہ اثرات کا جائزہ بھی لیا گیا۔

    زرائع کے مطابق زیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے ریلوے کرائے بڑھانے کی تجویز مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ٹرین غریب کی سواری ہے، اسے مہنگائی کے اثرات سے بچائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ خود اپنے وسائل استعمال کرتے ہوئے پٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا بوجھ اٹھائے گا۔

  • حکومت توانائی بحران اور دیگر چیلنجز سے نمٹنے کیلئے پرعزم ہے،صادق سنجرانی

    حکومت توانائی بحران اور دیگر چیلنجز سے نمٹنے کیلئے پرعزم ہے،صادق سنجرانی

    چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی نے کہا ہے کہ حکومت توانائی کے بحران اور دیگر چیلنجز سے نمٹنے کیلئے پرعزم ہے، مختلف شعبوں کی ترقی میں عالمی بینک کا تعاون لائق تحسین ہے، اقتصادی بحالی اور استحکام کیلئے ٹھوس پالیسیاں مرتب کر کے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔

    سینیٹ سیکرٹریٹ کے مطابق چیئرمین سینیٹ سے عالمی بینک کے کنٹری ڈائریکٹر ناجے بنحسائین نے ملاقات کی۔ ملاقات میں توانائی، تعلیم، صحت اور ترقیاتی شعبوں میں جاری اقدامات کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات کے دوران پاکستان میں ورلڈ بینک کے تعاون سے جاری منصوبوں پر بھی گفتگو کی گئی۔ چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ حکومت توانائی کے بحران اور دیگر چیلنجز سے نمٹنے کیلئے پرعزم ہے، مختلف شعبوں کی ترقی میں عالمی بینک کا تعاون لائق تحسین ہے۔

    انہوں نے کہا کہ اقتصادی بحالی اور استحکام کیلئے ٹھوس پالیسیاں مرتب کر کے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں، پاکستان میں تمام غیر ملکی سرمایہ کاروں کو تمام ترسہولتیں فراہم کی جارہی ہیں۔ چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ عوام کے نمائندوں کے طور پر پارلیمنٹیرینز کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ پائیدار ترقی کے اہداف کو حاصل کرنے کیلئے کوشش کریں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ورلڈ بینک گورننس اور سروس ڈیلیوری کے لے ادارہ جاتی اصلاحات میں پارلیمان اور حکومت پاکستان کی حمایت جاری رکھے گا۔

    انہوں نے کہا کہ عالمی بینک تکنیکی اور مالی امداد کے ذریعے ملک کی نوجوان آبادی کی صلاحیت کو بروئے کار لانے کے لیے بہت اہم کردار ادا کر سکتا ہے، پائیدار ترقی کیلئے مشترکہ فریم ورک بنانے کیلئے پارلیمان اور ورلڈ بینک حکومت کو انگیج کرسکتی ہیں جس سے امداد کی افادیت میں مزید اضافہ ہوگا۔ ورلڈ بینک کنٹری کے ڈائریکٹر نے کہا کہ پاکستان کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے، پائیدار ترقی اور توانائی کے بحران سے نکلنے کیلئے ورلڈ بینک پاکستان کی مدد جاری رکھے گا۔

  • اقتصادی ترقی کیلئے نئے ڈیم اور قابل تجدید توانائی سے فائدہ اٹھاناہوگا،افتخار علی ملک

    اقتصادی ترقی کیلئے نئے ڈیم اور قابل تجدید توانائی سے فائدہ اٹھاناہوگا،افتخار علی ملک

    صدر سارک چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری افتخار علی ملک کا کہنا ہے کہ سماجی و اقتصادی ترقی کے لیے توانائی ناگزیر ہے اور توانائی کی طلب اور رسد کے درمیان بڑھتے ہوئے فرق سے نمٹنے کے لیے نئے ڈیم اور قابل تجدید توانائی کی صلاحیت سے فائدہ اٹھانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

    تعلیم یافتہ نوجوان خواتین کے وفد کی سربراہ عائشہ عبدالخالق بٹ سے اسلام آباد میں بات کرتے ہوئے نے کہا کہ قابل تجدید توانائی کے وسائل سے بھرپور استفادہ کرنے اور آبپاشی اور بجلی دونوں مقاصد کے لیے پانی ذخیرہ کرنے کے لیے کالا باغ ڈیم سمیت نئے ڈیموں کی تعمیر کی فوری ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہائیڈرو پاور پاکستان میں قابل تجدید توانائی کا سب سے بڑا سستا ذریعہ ہے اور پاکستان میں اس کی بڑی صلاحیت موجود ہے۔

    اربوں روپے مالیت کا سیلابی پانی جو ضائع ہو جاتا ہے اس کو بھی متعدد مقاصد کے لیے ذخیرہ کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پانی کی قلت کا سامنا کرنے والے دنیا کے 10 ممالک میں شامل ہو چکا ہے۔ موسمیاتی تبدیلی اور دیگر عوامل کے باعث ہم گرمیوں میں سیلاب اور سردیوں میں بار بار خشک سالی کا شکار ہوتے ہیں۔ افتخار علی ملک نے کہا کہ سرحدی آبی تعاون وسیع علاقائی انضمام، امن اور پائیدار ترقی کے ساتھ ساتھ علاقائی و سلامتی کے چیلنجوں سے نمٹنے اور موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے، اس وقت پاکستان اپنی توانائی کی 75 فیصد سے زیادہ ضروریات اندرونی وسائل سے پوری کرتا ہے جس میں سے 50.4 فیصد مقامی گیس، 28.4 فیصد مقامی اور درآمدی تیل جبکہ 12.7 فیصد پن بجلی سے پوری ہو رہی ہیں۔

    قابل تجدید توانائی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پاکستان کے پاس چار اہم قابل تجدید ذرائع ہوا، شمسی، ہائیڈرو اور بائیو ماس دستیاب ہیں۔ اگر ان وسائل کا صحیح استعمال کیا جائے تو یہ پاکستان میں دیرپا توانائی کے بحران کا بہترین حل فراہم کرتے ہیں۔ اگر ان وسائل کو بہتر انداز میں استعمال کیا جائے تو متنوع توانائی کی فراہمی کو بہتر بنانے، درآمد شدہ ایندھن پر انحصار کو کم کرنے اور ماحولیاتی آلودگی کو دور کرنے میں بہت مدد مل سکتی ہے۔ عائشہ عبدالخالق بٹ نے کہا کہ شمسی توانائی کے قابل تجدید توانائی کے وسائل میں اتنا ہی قابل اعتماد ہے اور ماحول پر منفی اثر ڈالے بغیر بڑی مقدار میں توانائی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ملک کے تقریباً ہر حصے میں روزانہ 8 سے 10 گھنٹے اور سال میں 300 سے زیادہ دن سورج کی روشنی دستیاب ہے۔ مزید اظہار خیال کرتے ہوئے طلب اور رسد میں موجود فرق سے نمٹنے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ دنیا بھر میں روایتی ذرائع توانائی کی فراہمی سے قابل تجدید وسائل پر انحصار میں مستحکم تبدیلی دیکھی جا رہی ہے۔ پاکستان کو قابل تجدید توانائی کے لیے کوششیں جاری رکھنا چاہیے۔

    تاہم بجلی کی طلب اور پیداوار کے درمیان موجودہ فرق کے ساتھ سالانہ 8 سے 10 فیصد مسلسل اضافہ تشویشناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کے لیے قرضہ سکیم کے ذریعے چھوٹے پیمانے پر قابل تجدید توانائی کے نظام کی خریداری کے لیے پالیسی کی حوصلہ افزائی اور اسے آسان بنایا جانا چاہیے۔

    اس شعبے میں مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کی بھی ضرورت ہے۔ 2030 تک پاکستان کی بجلی کی طلب 11,000 میگاواٹ تک بڑھنے کا امکان ہے۔ اس لیے پائیدار توانائی کے حصول کے لیے قابل تجدید توانائی کی صلاحیت کو مکمل طور پر بروئے کار لانے اور اس کے راستے میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے ایک زیادہ جامع نقطہ نظر اور پالیسی کی ضرورت ہے۔

  • جوبائیڈن نےروسی تیل اورگیس کی تمام درآمدات پرپابندی لگا دی:روس نےجوابی کارروائی کی دھمکی دےدی

    جوبائیڈن نےروسی تیل اورگیس کی تمام درآمدات پرپابندی لگا دی:روس نےجوابی کارروائی کی دھمکی دےدی

    واشنگٹن: جو بائیڈن نے روسی تیل اور گیس کی تمام درآمدات پر پابندی لگا دی:روس نے جوابی کارروائی کی دھمکی دے دی ،اطلاعات کے مطابق امریکی صدر جوبائیڈن نے ملک میں روسی تیل اور گیس کی درآمدات پر پابندی کا اعلان کردیا ہے۔

    عالمی میڈیا کے مطابق امریکی صدر نے وائٹ ہاؤس میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ روسی تیل اور گیس اب امریکی بندرگاہوں پر قابلِ قبول نہیں۔ ہم روس کے صدر ولادمیر پوٹن کو جنگ میں کوئی ’مالی معاونت‘ فراہم نہیں کرنا چاہتے۔

    جوبائیڈن نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے یہ فیصلہ یورپی اتحادیوں کے ساتھ مشاورت سے کیا ہے تاہم وہ پابندی میں امریکہ کا ساتھ دینے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ امریکہ یورپی اتحادیوں کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے تا کہ روسی تیل اور گیس پر انحصار کم کرنے کے لیے “طویل مدتی حکمت عملی” تیار کی جا سکے۔

    واضح رہے کہ اس پابندی سے روسی معیشت کو ایک تباہ کن دھچکا پہنچنے کی توقع ہے جو ملک کی آمدنی کا 40 فیصد سے زائد تیل اور گیس کی پیداوار پر انحصار کرتی ہے۔روس نے دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ روسی تیل کو مسترد کرنے سے عالمی مارکیٹ میں قیمت 300 ڈالر بیرل تک پہنچ جائے گی۔

    روسی نائب صدر الیگزینڈر نوواک کے مطابق اگر روس کے تیل کو مسترد کیا گیا تو اس کے تباہ کن نتائج برآمد ہوں گے اور تیل کی قیمت 300 ڈالر بیرل تک پہنچ جائے گی۔ اگر تیل کی برآمد پر پابندی لگائی گئی تو جواب میں جرمنی جانے والی گیس کی مین پائپ لائن کو بند کیا جا سکتا ہے۔

    یاد رہے کہ اس وقت عالمی مارکیٹ میں 2008ء کے بعد سے تیل کی قیمتیں بلند ترین سطح پر ہیں۔

  • امریکہ اور پاکستان کے مابین دوستانہ ماحول، نجی شعبے میں توانائی بڑھانے کا عزم

    امریکہ اور پاکستان کے مابین دوستانہ ماحول، نجی شعبے میں توانائی بڑھانے کا عزم

    امریکہ اور پاکستان کا ماحول دوست توانائی کیلئے نجی شعبے میں سرمایہ کاری بڑھانے کا عزم.
    اسلام آباد، 3 فروری2021 :
    امریکی حکومت نے امریکی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی (USAID) کی جانب سے اور حکومت پاکستان ، اقوام متحدہ کے صنعتی ترقی کے ادارے (UNIDO ) اور مقامی شراکت داروں کے تعاون سے پاکستان پرائیویٹ سیکٹرانرجی منصوبے کا آج آغاز کر دیا ہے جس کا مقصد ماحول دوست توانائی کیلئے نجی شعبے میں سرمایہ کاری کو فروغ دینا ہے۔ یہ منصوبہ چھوٹے اور درمیانے درجے کی توانائی صلاحیتوں کیلئے نہ صرف مددگار ثابت ہوگا بلکہ پاکستان بھر میں مقامی اور قومی اقتصادی ترقی کا باعث بھی بنے گا۔
    پاکستان کے نجی سیکٹر کیلئے توانائی کا یہ منصوبہ کم لاگت اور قابل تجدید توانائی وسائل کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے توانائی کے شعبے میں مزید سرمایہ کاری کو فروغ دے گا جو کہ اقتصادی ترقی کیلئے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔UNIDO توانائی دوست (کلین انرجی) منصوبے کے حوالے سے مالی وسائل تک رسائی کیلئے کلین انرجی ڈویلپرز کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔

    یو ایس ایڈ کی مشن ڈائریکٹر جولی کوئنن کے مطابق پائیدار، کم لاگت توانائی پاکستان کی اقتصادی ترقی کے حوالے سے بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ نجی شعبے میں سرمایہ کاری کی طاقت کو استعمال کرتے ہوئے نہ صرف اقتصادی ترقی میں اضافہ ہوگا بلکہ روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہونگے۔ ماحولیاتی تبدیلی کے وزیر ملک امین اسلم کے مطابق یو ایس ایڈ کے مالی تعاون کے تحت یہ منصوبہ حکومت پاکستان کی ماحول دوست، کم لاگت اور قابل تجدید توانائی کے حصول کی کوششوں کو پایہ تکمیل تک پہنچائے گا۔
    پاکستان میں توانائی کے شعبے میں نجی سرمایہ کاری کا منصوبہ یو ایس ایڈ او رحکومت پاکستان کے درمیان طویل مدت شراکت داری کے تحت جاری ہے۔ یو ایس ایڈ نے 2010 سے آجتک حکومت پاکستان کے ساتھ مل کر نیشنل گرڈ میں 3900 میگا واٹ بجلی شامل کی ہے۔ سرمایہ کاری کے ان مواقعوں کا فائدہ براہ راست 47 ملین پاکستانیوں کو پہنچا جبکہ نجی شعبے میں 2.3 ارب ڈالرکی سرمایہ کاری ہوئی۔ یو ایس ایڈ نے نہ صرف نئی ٹرانسمیشن لائنز کی تنصیب کی بلکہ ہوا کے ذریعے نیشنل گرڈ کو بجلی فراہمی اور پیداوار میں اضافے کیلئے سب اسٹیشنز بھی قائم کئے گئے۔ نہ صرف یہ بلکہ تھرمل اور ہائیڈرو الیکٹرک پاور پلانٹس کی بحالی میں بھی تعاون کیا گیا۔