Baaghi TV

Tag: توشہ خانہ کیس

  • ڈونلڈ ٹرمپ بھی توشہ خانہ کیس میں پھنس گئے،غیر ملکی تحائف کا ریکارڈ ظاہر کرنے میں ناکام

    ڈونلڈ ٹرمپ بھی توشہ خانہ کیس میں پھنس گئے،غیر ملکی تحائف کا ریکارڈ ظاہر کرنے میں ناکام

    واشنگٹن: ڈونلڈ ٹرمپ بھی ’توشہ خانہ کیس‘ میں پھنس گئے، اپنے دورِ حکومت میں دیگر ممالک سے ملنے والے تحائف کا ریکارڈ ظاہر کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

    باغی ٹی وی: بین الاقوامی میڈیا کے مطابق امریکی قانون سازوں نے الزام عائد کیا ہے کہ جاپان کا سونے سے بنا گولف کلب اور سعودی عرب کے شاہی خاندان کی تلواریں ان تحائف میں شامل ہیں جنہیں سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے عہدہ صدارت کے دوران ظاہر نہیں کیا۔

    یوٹیوب نے ڈونلڈ ٹرمپ کا چینل بحال کردیا

    رپورٹ میں بتایا گیا کہ یہ تحائف ٹرمپ ،ان کی بیوی میلانیا، ٹرمپ کی بیٹی ایوانکا اور ٹرمپ کے داماد کشنر کو دیے گئے ، بعد میں ان تحائف کو حکومت کے حوالے کر دیا گیا لیکن ان کو امریکی قانون کے مطابق ظاہر نہیں کیا گیا تھا ۔

    جاری کردہ ایک اعلامیے میں امریکی ہاؤس کی نگران کمیٹی کے ڈیموکریٹس نے 100 سے زائد اشیاء کی فہرست جاری کی جو ٹرمپ اور ان کے اہلخانہ نے وائٹ ہاؤس میں اپنے چار سالہ دور حکومت کے دوران رپورٹ نہیں کیں۔ اشیاء کی قیمت 250,000 ڈالرز سے زائد ہے۔

    فہرست میں سعودی عرب کے 16 تحائف ہیں جن کی مالیت 45,000 ڈالر سے زیادہ ہے، اس کے علاوہ ایک خنجر بھی ہے جس کی قیمت 24,000 ڈالرز ہےبھارت سے 17 تحائف ملے ہیں جن میں مہنگے کف لنکس، ایک گلدان اور 4,600 ڈالرز کا تاج محل کا ماڈل شامل ہے۔

    گرفتاری کا خدشہ،ڈونلڈ ٹرمپ نے کارکنوں کو احتجاج کی کال دے دی

    مذکورہ بالا فہرست میں ایل سلواڈور کے صدر کی جانب سے ٹرمپ کو دی گئی ان کی دیوہیکل پینٹنگ بھی شامل ہے جس کے بارے میں کمیٹی کے تفتیش کاروں کا خیال ہے کہ شاید اسے فلوریڈا منتقل کردیا گیا ہے جہاں ٹرمپ ساحل کے سامنے ایک محل اور تین گولف کلبوں کے مالک ہیں۔

    دوسری جانب برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ پر کارکنوں کے نام ایک پوسٹ میں اپنی گرفتاری کے خلاف احتجاج کرنے کی اپیل کی ہے۔

    ٹرمپ کے وکیلوں کا کہنا ہے کہ ان پر اگلے ہفتے فرد جرم عائد کی جا سکتی ہے،اگر ٹرمپ پر فرد جرم عائد ہوتی ہے تو یہ کسی سابق امریکی صدر کے خلاف پہلا مجرمانہ مقدمہ ہوگا۔

    چینی صدراگلے ہفتے سرکاری دورے پر روس روانہ ہوں گے

  • توشہ خانہ کیس: عمران خان کے ناقابل وارنٹ گرفتاری اسلام آباد ہائیکورٹ میں چلینج کرنے کا فیصلہ

    توشہ خانہ کیس: عمران خان کے ناقابل وارنٹ گرفتاری اسلام آباد ہائیکورٹ میں چلینج کرنے کا فیصلہ

    لاہور: پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے اسلام آباد کی سیشن عدالت کی جانب سے توشہ خانہ کیس میں ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری برقرار رکھنے کے حکم کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں چلینج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    باغی ٹی وی: تفصیلات کے مطابق عمران خان کے وکیل خواجہ حارث ایڈوکیٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کریں گے جس میں ممکنہ طور پر توشہ خانہ ضابطہ فوجداری کیس دوسرے جج کو منتقل کرنے کی درخواست پر فوری سماعت کی استدعا کی جائے گی۔

    زمان پارک؛ پولیس پرپتھراؤ اور توڑپھوڑ کرنے والے 700 کارکنان کی شناخت کرلی گئی

    واضح رہے کہ جمعرات کو سیشن عدالت نے عمران خان کی تحریری یقین دہانی کے بعد ناقابل ضمانت وارنٹ منسوخ کرنے کی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا۔

    ایڈیشنل سیشن جج نے ریمارکس دیے تھے کہ میں نے تفصیلی فیصلے میں سب کچھ لکھ دیا ہے کہ وارنٹ ہوتا کیا ہے اور کب جاری کیا جاتا ہے سب کچھ لکھ دیا ہے، مید ہے فیصلہ پڑھ کر آپ کو مزا آئے گا۔

    عدالت کی جانب سےجاری تفصیلی فیصلے میں لکھا گیا ہےکہ عمران خان کی وارنٹ منسوخی کی درخواست مسترد کی جاتی ہے، درخواست گزار نے لاہور میں امن و امان کی صورتحال پیدا کی، ایسا رویہ عدالت کیلئے کسی طور بھی قابل قبول نہیں ہے، اس صورتحال کے بعد عمران خان کسی عمومی قانونی ریلیف کے مستحق نہیں، عمران خان کو عدالتی کارروائی کی خلاف ورزی پر ذاتی طور پر پیش ہونا پڑے گا۔

    تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ قانون معاشرے کے طاقت ور اور کمزور تمام طبقوں کے لیے برابر ہے ، یہ کوئی مذاق نہیں کہ قومی خزانے کو اتنا بڑا نقصان پہنچانے کے بعد انڈرٹیکنگ دے دی جائے ، لاہور میں قومی خزانے ، املاک اور لوگوں کو بھاری نقصان پہنچایا گیا، عمران خان کے اس کنڈکٹ اور عمل کے بعد محض انڈرٹیکنگ پر وارنٹ منسوخ نہیں کئے جا سکتے، عمران خان کے وکیل نے وارنٹ پر عمل درآمد پر مزاحمت کو افسوس ناک قرار دیا۔

    دہشت گردوں کے ٹھکانے سے اسلحہ کی بڑی مقدار برآمد. آئی ایس پی آر

    فیصلے میں لکھا گیا ہے کہ عمران خان نے ریاست ریاست کی رٹ اور تقدس کو چیلنج کیا ، پولیس کی فرائض کی انجام دہی میں رکاوٹ ڈالنے ظالمانہ طاقت کا استعمال کیا گیا، یہ تمام صورتحال پیدا کرنے کے بعد عمران خان وارنٹ گرفتاری معطلی کے حقدار نہیں ہے، عمران خان کے فالورز نے کئی پولیس اہلکاروں کو زخمی کہیں پولیس گاڑیوں کو جلایا۔

    عدالتی فیصلے میں لکھا گیا کہ عمران خان تحریک انصاف کے چیئرمین ہیں ان کے فالورز نے پولیس کے وارنٹ گرفتاری تعمیل میں رکاوٹ ڈالی، عمران خان کےکنڈکٹ اورعمل کے باعث غریب قوم کے لاکھوں روپے خرچ ہوئے، قانون کے مطابق عوام پولیس کے وارنٹ گرفتاری پر عمل درآمد میں معاونت کی پابند ہے، عدالت طلبی کے باوجود مسلسل عدم حاضری پر ملزم کے وارنٹ جاری کرتی ہے۔

    علی امین گنڈاپور کی ایک اور آڈیو لیک؛ زمان پارک بندے پورے نہ لانے پر …

    فیصلے میں لکھا گیا کہ عدالت ناقابل ضمانت وارنٹ میں پولیس کو ملزم کو گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم دیتی ہے، وارنٹ گرفتاری ملزم کے عدالت کے سامنے پیش ہونے پر منسوخ ہو جاتے ہیں، قابل ذکر ہے کہ پولیس نے عمران خان کو بلا تاخیر گرفتار کرکے عدالت کے سامنے پیش کرنا ہے، پولیس عمران خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ پر پاکستان میں کسی بھی مقام پر عمل درآمد کرا سکتی ہے، جس پولیس افسر کو وارنٹ جاری کیا جاتا ہے وہ اس پر عمل درآمد کا پابند ہوتا ہے، عدالتی ریکارڈ کے مطابق عمران خان اس کیس میں کبھی عدالت پیش نہیں ہوئے اس عدالت نے چار بار عمران خان کی ذاتی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظور کی۔

  • توشہ خانہ کیس میں عمران خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری برقرار

    توشہ خانہ کیس میں عمران خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری برقرار

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد ،توشہ خانہ فوجداری کارروائی میں عدالت نے وارنٹ معطلی کی درخواست مسترد کردی.عدالت نے وارنٹ برقرار رکھے اور عمران خان کو پیش کرنے کا حکم دیا، عدالت نے محفوظ فیصلہ سنا دیا، عدالت نے عمران خان کی درخواست خارج کر دی،

    قبل ازیں عمران خان کے خلاف توشہ خانہ کیس کی سماعت میں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد کے جج ظفر اقبال نےکہا ہےکہ عمران خان اب بھی سرینڈر کردیں تو میں آئی جی کو آرڈر کردیتاہوں کہ ان کوگرفتار نہ کریں۔

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد میں توشہ خانہ کیس کی سماعت ہوئی ایڈیشنل سیشن جج ظفر اقبال نے کیس کی سماعت کی، جہاں عمران خان کے وکیل خواجہ حارث نے اسلام آباد ہائیکورٹ کا وارنٹ بحالی کا فیصلہ پڑھ کر سنایا۔

    عمران خان پر زمان پارک میں ہنگامہ آرائی کا مقدمہ درج،مکمل سیکیورٹی بھی واپس لے …

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد کے ایڈیشنل سیشن جج ظفر اقبال نے توشہ خانہ کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیئے ہیں کہ قانون کے مطابق عمران خان نے پولیس کے ساتھ تعاون کرنا ہے، غیر قانونی عمل سے آرڈر پر اثرانداز نہیں ہونا چاہیے، عمران خان ابھی عدالت میں سرنڈر کر دیں تو میں آئی جی کو گرفتاری سے روک دوں گا۔

    جج نے ریمارکس دیئے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ اب تک عدالتی طریقہ کار سے سیشن عدالت کو موصول نہیں ہوئی، جج نے استفسار کیا کہ آپ کو کیا لگتا ہے کہ کیس قابل سماعت ہونے کے حوالے سے الیکشن کمیشن کو نوٹس دینا چاہیے ؟ مسئلہ ایک سیکنڈ میں حل ہو سکتا ہے، عمران خان کہاں ہیں؟ عمران خان ذاتی حیثیت میں عدالت میں کہاں پیش ہوئے ہیں؟ انڈرٹیکنگ کا کانسیپٹ کہاں پر ہے؟

    وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ کیا ضروری ہےکہ عمران خان کو گرفتار کرکے ہی عدالت لائیں؟ جج نے ریمارکس دیے کہ ہم چاہتے ہیں کہ عمران خان عدالت آجائیں،عمران خان کیوں نہیں آرہے؟وجہ کیا ہے؟ قانون کےمطابق عمران خان نےپولیس کےساتھ تعاون کرنا ہے، مزاحمت نہیں کرنی، عمران خان نے مزاحمت کرکے سین نہیں بنانا ہے۔

    سیکورٹی فورسز کی کاروائی 8 دہشتگرد ہلاک. آئی ایس پی آر

    جج نے ریمارکس دیئے کہ اگر قابل ضمانت وارنٹ ہوتے تو مسئلہ ہی کچھ نہ ہوتا، وارنٹ ناقابلِ ضمانت ہیں، آپ جو دلائل بتا رہے ہیں وہ قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری کےمطابق ہیں کیس میں شوریٹی توآئی ہوئی ہےاسلام آباد ہائیکورٹ کےفیصلےمیں یہ بھی لکھاہےکہ غیرقانونی عمل سے آرڈر پر اثرانداز نہیں ہونا چاہیے۔

    خواجہ حارث نے کہا کہ شورٹی یہاں پرموجود ہےانڈر ٹیکنگ دے رہے ہیں،کیا یہی سختی رکھنی ہےکہ عمران خان کےناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری رکھنے ہیں، جج نے ریمارکس دیئےکہ وارنٹ گرفتاری عمران خان کی ذاتی حیثیت میں پیشی کےلیےہیں، وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ عمران خان تو خود کہہ رہے ہیں کہ میں عدالت آنا چاہتاہوں، عمران خان استثنا نہیں مانگ رہے، عدالت آنا چاہتےہیں۔

    وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ کیا اس وقت ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری کے فیصلے کی ضرورت ہے؟ آپ کے پاس دو آپشنز موجود ہیں، درخواست گزارآناچاہتےہیں،پہلا آپشن آپ انڈرٹیکنگ کی درخواست منظورکرکےناقابلِ ضمانت وارنٹ منسوخ کردیں، دوسرا آپشن آپ شوریٹی لے کر قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کریں، عمران خان انڈرٹیکنگ دینا چاہتےہیں کہ 18 مارچ کو سیشن عدالت پیش ہوں گے۔

    ترکی کے زلزلہ زدہ علاقے میں شدید سیلاب کے باعث متعدد افراد ہلاک

    جج نے ریمارکس دیئے کہ یہ دنیا کا سب سے مہنگا وارنٹ ہوگیا ہے، کروڑوں روپے اس وارنٹ کے پیچھے لگ گئے ہیں، خواجہ حارث نے کہا کہ وارنٹ اگزیکیوٹ کر دیتے تو بہتر تھا، جج نے ریمارکس دیئے کہ وارنٹ اگزیکیوٹ کیسے ہوتا ناقابل ضمانت وارنٹ تھا، عدالت نے کہا کہ جو ہوا ہے ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا،وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ آپ جو کہ رہے میں اس کو مانتا ہوں کہ ایسا نہیں ہونا چاہئیے تھا۔

    عمران خان کے وکیل خواجہ حارث نے وارنٹ گرفتاری معطل کرنے کی استدعا کی جس پر جج نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو نوٹس بھی دیتے ہیں، وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ آپ نوٹس دے کر الیکشن کمیشن کو آج ہی بلالیں، جج نے ریمارکس دیے کہ لاہور زمان پارک میں صورتحال خراب کیوں ہے؟ وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ حکومت سیاسی انتقام بنا رہی، گرفتاریاں ہوئی ہیں، زیادتی ہوئی ہے، زمان پارک میں جو ہورہا وہ نہیں ہونا چاہیے تھا۔

    چینی کمپنی پاکستان میں دو ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری کرے گی

    خواجہ حارث نے کہا کہ تین سے زیادہ ایسے واقعات ہوئے ہیں جس میں تشدد کے واقعات ہوئے ،لوگوں پر مقدمات کیے گئے، عدالت نے کہا کہ عمران خان ابھی عدالت میں سیرنڈر کر دیں تو میں آئی جی کو گرفتاری سے روک دوں گا، جج نے ریمارکس دیے کہ قانون کے مطابق عمران خان کو سیدھا عدالت لانا تھا، عمران خان کو عدالتی پیشی پر حراساں کرنا ممکن ہی نہیں ہے، عدالت نے کہا کہ سیکشن 91 کی خلاف ورزی ہوئی ہے اور یہ وارنٹ سیکشن 93 کہ تحت جاری ہوئے ہیں۔

    عمران خان کے وکلا نے اصل انڈر ٹیکنگ عدالت میں جمع کروا دی، جج نے ریمارکس دیئے کہ غریب ملک ہے، کروڑوں روپے وارنٹ پر خرچہ ہوا جس کی ضرورت نہیں تھی، عمران خان کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ میں تبدیلی کیا ہوگی۔

    وکیل خواجہ حارث نے استدعا کی کہ عمران خان انڈرٹیکنگ دے رہے ہیں، وارنٹ معطل کردیں، عدالت نے کہا کہ وارنٹ پر تاریخ کا مطلب یہ نہیں کہ اسی دن کارروائی ہونی ہے، وارنٹ پر دی گئی تاریخ کا مطلب گھنٹہ پہلے بھی یا اسے سے پہلے جب بھی بندے کو پکڑ کر عدالت لائیں۔

    زمان پارک؛ ڈنڈا برداروں نے کنٹرول سنبھال لیا ہے

    توشہ خانہ کیس، چئیرمین تحریک انصاف عمران خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری کا معاملہ، آئی جی اسلام آباد عدالت میں پیش ہو گئے، جج نے استفسار کیا کہ آئی جی صاحب بتائیں ورانٹ گرفتاری پر عملدرآمد کیوں نہیں ہوا؟ آئی جی اسلام آباد نے عدالت میں کہا کہ ہم عدالتی حکم پر عمل درآمد کرنے گئے اور عدالت کی خاطر ڈنڈے اور پتھر کھائے، قانون کی نظر میں سب برابر ہیں، ہمارے پولیس افسران زخمی ہوئے، پولیس کی دس گاڑیاں جلائی گئی ہیں،پولیس اہلکار عدالت کے حکم کی تعمیل کے لیے لاہور گئے مگر 65 اہلکاروں سمیت ڈی آئی جی رینک کے آفیسر کو زخمی کیا گیا، آج میں ان 65 زخمی اہلکاروں کے خاندانوں کو کیا جواب دوں؟ زمان پارک میں پولیس کو بتایا گیا کہ عمران خان دستیاب نہیں پھر آدھے گھنٹے بعد عمران خان اسی جگہ پائے گئے،عمران خان نے لاہور میں ریلی نکالی سیکیورٹی کا صرف بہانہ بنایا جارہا ہے، اگر ایک شخص کو رعایت دینا چاہتے ہیں تو باقی 22 کروڑ کو بھی دیں،آئین پاکستان کا آرٹیکل 25 کہتا ہے قانون سب کیلئے برابر ہے،

    وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ ہر بار اسلام آباد ہائیکورٹ نے اس عدالت کے حکم کو قانونی قرار دیا،عمران خان نے لاہور میں ریلی نکالی، سکیورٹی کا بہانہ ناقابل قبول ہے، ضرورت سے زیادہ ریلیف مانگا جارہا ہے، ایک ایم پی اے بھی 2 ہزار بندہ سڑکوں پر نکال سکتا ہے،عمران خان وارنٹ گرفتاری کیس میں عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا گیا،جج ظفر اقبال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کافی تفصیل سے باتیں ہوئیں، اب آرڈر بھی تفصیل سے ہی آئے گا، میں آرڈر لکھوا کر، اس پر دستخط کرکے یہاں سے جاؤں گا، آپ دونوں فریقین ایک ایک بندہ بھیجیے گا، زیادہ نہیں، یہاں کھڑے ہونے کا یا بیٹھنے کا فائدہ نہیں، نہیں معلوم کب آرڈر مکمل ہوگا،

  • توشہ خانہ کیس: عمران خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری کا  تفصیلی فیصلہ جاری

    توشہ خانہ کیس: عمران خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری کا تفصیلی فیصلہ جاری

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد نے توشہ خانہ کیس میں عمران خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا۔

    باغی ٹی وی: ایڈیشنل سیشن جج ظفر اقبال نے 4 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا فیصلے میں کہا گیا کہ عدالت نے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرکےعمران خان کو7 مارچ کو طلب کیا تھاسیشن عدالت نے 6 مارچ کوعمران خان کی ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری منسوخی کی درخواست مسترد کی تھی، عمران خان کی وارنٹ گرفتاری پر اپیل اسلام آباد ہائی کورٹ نے نمٹا دی تھی۔

    خاتون جج دھمکی کیس: عمران خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری معطل

    تحریری فیصلےمیں کہا گیا ہےکہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلےکے مطابق عمران خان کوسیشن عدالت میں پیش ہونےکا موقع دینا چاہیے اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلےکے مطابق 13 مارچ تک عمران خان کے وارنٹ منسوخ کیےگئے، اسلام آباد ہائی کورٹ نے عمران خان کو سیشن عدالت میں 13 مارچ کو پیش ہونےکا حکم دیا تھا۔

    فیصلے میں کہا گیا کہ حاضری سے استثنیٰ کی درخواست پر فیصلہ اسلام آباد ہائی کورٹ اور سیشن عدالت کے ماضی کے فیصلوں پر ہوگا، اسلام آباد ہائی کورٹ نے عمران خان کو صاف الفاظ میں13 مارچ کو سیشن عدالت پیش ہونے کا حکم دیا، عمران خان 13 مارچ کو عدالت پیش نہیں ہوئے-

    توشہ خانہ کیس:عمران خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری بحال

    تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ سیشن عدالت کے پاس عمران خان کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست مسترد کرنے کے سوا کوئی آپشن نہیں، عمران خان کی 13 مارچ کو حاضری سے استثنیٰ کی درخواست مسترد کی جاتی ہے، عمران خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے جارہے ہیں، عمران خان18 مارچ کو عدالت میں پیش ہوں۔

    واضح رہےکہ گزشتہ روز اسلام آباد کی عدالت نے ہائی کورٹ کے حکم کے باوجود آج توشہ خانہ کیس میں پیش نہ ہونے پر عمران خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیئے تھے عدالت نے عمران خان کی درخواست پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے ناقابل ضمانت وارنٹ معطل کرکے پیشی کا حکم دیا تھا۔

    عمران خان کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست مسترد،ناقابل ضمانت وارنٹ جاری

  • میں نے توشہ خانہ سے تحائف کو غلط طریقے سے حاصل کیا تو ضرور کارروائی کی جائے،شاہد خاقان

    میں نے توشہ خانہ سے تحائف کو غلط طریقے سے حاصل کیا تو ضرور کارروائی کی جائے،شاہد خاقان

    اسلام آباد: سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ ن کے سینئیر رہنما شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ اگر میں نے توشہ خانہ سے تحائف کو غلط طریقے سے حاصل کیا تو ضرور کارروائی کی جائے۔

    باغی ٹی وی: شاہد خاقان عباسی ایل این جی ریفرنس میں پیش ہونے کے لیے جوڈیشل کمپلیکس پہنچے تھے۔ احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے ایل این جی ریفرنس کی سماعت کی، سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔

    کراچی:آگ لگنے سے 100 سے زائد جھگیاں جل گئیں،خاتون سمیت 2 بچے زخمی

    احتساب عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ توشہ خانہ میں میرا بھی نام آیا ہے،اگر میں نے توشہ خانہ سے تحائف کو غلط طریقے سے حاصل کیا تو ضرور کارروائی کی جائے-

    سابق وزیر اعظم نے کہا کہ بیرون ملک سے اگر کوئی تحفہ ملتا ہے تو اسے توشہ خانہ میں جمع کروایا جاتا ہے توشہ خانہ تحفے کی قیمت کا تعین کرواتا ہے اور تحفے کو حاصل کرنے کے لیے رقم ادا کرنا پڑتی ہے۔

    کراچی: پولیس کی مختلف کارروائیوں میں 8 ملزمان گرفتار،نامعلوم افراد کی گولی سے ایک بچہ …

    شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ سالوں سے لوگ احتساب عدالتوں کے چکر لگاتے ہیں فیصلے نہیں ہو رہے، نئے چیئرمین غریب لوگوں کے کیسز ختم کریں سیاست دانوں کے بے شک چلائیں نئی پارٹی بنانے کی کوئی کوشش نہیں پاکستان سیاسی جماعتوں میں خود کفیل ہے۔

  • اسلام آباد پولیس نے زمان پارک سے واپس جانے کی خبروں کی تردید کر دی

    اسلام آباد پولیس نے زمان پارک سے واپس جانے کی خبروں کی تردید کر دی

    اسلام آباد پولیس نے زمان پارک سے واپس جانے کی خبروں کی تردید کر دی-

    باغی ٹی وی: ایس پی سٹی اسلام آباد حسین طاہر کی سربراہی میں ٹیم لاہور پہنچی تھی۔ ایس پی سٹی حسین طاہر نے ٹیم کے ہمراہ زمان پارک پہنچ کر وارنٹ گرفتاری دکھائے اور نوٹس جمع کروا کر واپس روانہ ہوگئے تاہم اب اسلام آباد پولیس نے ان خبروں کی تردید کی ہے-

    عمران خان قاتلانہ حملے کی کہانی جھوٹ پر مبنی ہے، رانا ثنااللہ

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اسلام آباد پولیس کی جانب سے جاری کئے گئے بیان میں کہا گیا کہ پولیس ٹیم تاحال زمان پارک موجود ہے-

    آئی جی اسلام آباد اکبر ناصر خان کا کہنا ہے کہ عدالت نے وارنٹ جاری کیا ہے ،پہلے عمران خان کی گرفتاری عمل میں لائی جاسکتی ہے،بجائے اس کےکہ کارکنوں کو مشتعل کرائیں،قانون پر عمل کریں ،دوسری جانب عدالت نے 7مارچ تک عمران خان کو گرفتارکرکے پیش کرنے کا کہا ہے-

    اسلام آباد پولیس عدالت کے حکم پر گرفتاری کیلئے ایس پی سٹی حسین طاہر کی سربراہی میں ٹیم لاہورزمان پارک پہنچی تھی، اسلام آباد عمران خان کی ممکنہ گرفتاری کےلئے لاہور پولیس کومعاونت کیلئے درخواست دی تھی ،لاہور پولیس زمان پارک کے اطراف میں جمع ہونا شروع ہوگئی اور لوہے کے جنگلے بھی طلب کر لیے ہیں۔ زمان پارک میں کارکنوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

    لاہور پولیس کی مزید نفری کو الرٹ کر دیا گیا جبکہ اینٹی رائٹ فورس کے جوان پولیس لائن قلعہ گجر سنگھ میں تیار ہیں، واٹر کینن بھی تیار کر لیا گیا۔ زمان پارک کے باہر پولیس وین بھی پہنچ گئی۔

    عمران خان کی زیرصدارت پی ٹی آئی سینئرقیادت کا ہنگامی اجلاس جاری

    اسلام آباد پولیس کا کہنا تھا کہ عدالت نےعمران خان کی گرفتاری کا حکم دیا ہےمکمل قانونی تقاضے پورے کر کے عمران خان نیازی کو گرفتار کیاجائے گا،عمران خان نیازی کو گرفتار کرکے 7 مارچ کو پیش کیا جائے-

    ایس پی اسلام آباد حسین طاہر نے کہا کہ عمران خان کو توشہ خانہ کیس میں گرفتاری کیلئے پہنچے ہیں ،عمران خان کوبولیں گے کہ عدالت میں آئیں ،عمران خان اگر عدالت نہیں آتے ہیں تو گرفتار کیا جائے گا،پی ٹی آئی قیادت سے رابطہ کررہے ہیں ہم نوٹس لے کر پہنچے ہیں-

    ترجمان اسلام آباد پولیس کے مطابق لاہور پولیس کے تعاون سے تمام کارروائی مکمل کی جارہی ہے، عدالتی احکامات کی تکمیل میں رکاوٹ ڈالنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی،اسلام آباد پولیس اپنی حفاظت میں عمران خان کو اسلام آباد منتقل کرے گی-

    ایشیا کپ 2023 سے متعلق بابر اعظم کا بیان سامنے آ گیا

    ترجمان اسلام آباد پولیس کے مطابق قانون سب کے لیے برابر ہے،عمران خان گرفتاری سے گریزاں ہیں، ایس پی صاحب کمرے میں گئے ہیں مگر وہاں عمران خان موجود نہیں-

  • اسلام آباد پولیس نوٹس جمع کروا کرعمران خان کی گرفتاری کے بغیر زمان پارک سے چلی گئی

    اسلام آباد پولیس نوٹس جمع کروا کرعمران خان کی گرفتاری کے بغیر زمان پارک سے چلی گئی

    لاہور: چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی ممکنہ گرفتاری کے معاملے پر اسلام آباد پولیس کی ٹیم نوٹس جمع کروا کر زمان پارک سے چلی گئی۔

    باغی ٹی وی: ایس پی سٹی اسلام آباد حسین طاہر کی سربراہی میں ٹیم لاہور پہنچی تھی۔ ایس پی سٹی حسین طاہر نے ٹیم کے ہمراہ زمان پارک پہنچ کر وارنٹ گرفتاری دکھائے اور نوٹس جمع کروا کر واپس روانہ ہوگئے –

    عمران خان کے وارنٹس کی تعمیل ہو گئی ، شبلی فراز نے وارنٹس موصول کر لئے وصولی رپورٹ کے مطابق عمران خان گھر میں دستیاب نہیں ، وارنٹس کے جواب میں تمام لیگل پراسیس پر عمل کی یقین دہانی کروا دی گئی-

    اسلام آباد پولیس عدالت کے حکم پر گرفتاری کیلئے ایس پی سٹی حسین طاہر کی سربراہی میں ٹیم لاہورزمان پارک پہنچی تھی، اسلام آباد عمران خان کی ممکنہ گرفتاری کےلئے لاہور پولیس کومعاونت کیلئے درخواست دی تھی ،لاہور پولیس زمان پارک کے اطراف میں جمع ہونا شروع ہوگئی اور لوہے کے جنگلے بھی طلب کر لیے ہیں۔ زمان پارک میں کارکنوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

    لاہور پولیس کی مزید نفری کو الرٹ کر دیا گیا جبکہ اینٹی رائٹ فورس کے جوان پولیس لائن قلعہ گجر سنگھ میں تیار ہیں، واٹر کینن بھی تیار کر لیا گیا۔ زمان پارک کے باہر پولیس وین بھی پہنچ گئی۔

    اسلام آباد پولیس کا کہنا تھا کہ عدالت نےعمران خان کی گرفتاری کا حکم دیا ہےمکمل قانونی تقاضے پورے کر کے عمران خان نیازی کو گرفتار کیاجائے گا،عمران خان نیازی کو گرفتار کرکے 7 مارچ کو پیش کیا جائے-

    ایس پی اسلام آباد حسین طاہر نے کہا کہ عمران خان کو توشہ خانہ کیس میں گرفتاری کیلئے پہنچے ہیں ،عمران خان کوبولیں گے کہ عدالت میں آئیں ،عمران خان اگر عدالت نہیں آتے ہیں تو گرفتار کیا جائے گا،پی ٹی آئی قیادت سے رابطہ کررہے ہیں ہم نوٹس لے کر پہنچے ہیں-

    ترجمان اسلام آباد پولیس کے مطابق لاہور پولیس کے تعاون سے تمام کارروائی مکمل کی جارہی ہے، عدالتی احکامات کی تکمیل میں رکاوٹ ڈالنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی،اسلام آباد پولیس اپنی حفاظت میں عمران خان کو اسلام آباد منتقل کرے گی-

    ترجمان اسلام آباد پولیس کے مطابق قانون سب کے لیے برابر ہے،عمران خان گرفتاری سے گریزاں ہیں، ایس پی صاحب کمرے میں گئے ہیں مگر وہاں عمران خان موجود نہیں-

    دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما فواد چوہدری کاکہنا ہےکہ عمران خان کی گرفتاری کی کوئی بھی کوشش حالات کو شدید خراب کردےگی، میں اس نااہل اورپاکستان دشمن حکومت کوخبردارکرناچاہ رہا ہوں،پاکستان کو مزید بحران میں نہ دھکیلیں اور ہوش سےکام لیں۔

    رہنما پی ٹی آئی حماد اظہر اور فواد چوہدری نے کارکنوں سے اپیل کی کہ تمام کارکن فوری طور پر زمان پارک پہنچیں،تحریک انصاف کے رہنما یاسمین راشد،فواد چوہدری،فرخ حبیب بھی زمان پارک پہنچ گئے جبکہ کارکنوں کی بڑی تعداد بھی زمان پارک موجود ہے-

    فرخ حبیب عمران خان کا جینا مرنا پاکستان میں ہے،عمران خان لاہور ہائی کورٹ اور اسلام آباد کی عدالت میں پیش ہوئے ہیں،عمران خان پر قاتلانہ حملہ ہوچکا ہے،عمران خان کی ملک کے لیے خدمات ہیں ،یہ ملک میں انارکی پھیلانا چاہتے ہیں ،کسی صورت حکومت کو عمران خان کی گرفتاری ممکن نہیں ہونے دیں گے، عدالت میں پیشی پر ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے-

    نگران صوبائی وزیر اطلاعات عامر میر نے کہا کہ اسلام آباد پولیس عدالتی حکم پر عمران خان کو گرفتار کرنے آئی ہے ، پنجاب حکومت اسلام آباد پولیس کی آئین اور قانون کے مطابق معاونت کرے گی-

    ذرائع کے مطابق عمران خان کے لیے اڈیالہ جیل میں سیل تیار کیا جارہا ہے، عمران خان کو اڈیالہ جیل کے اسی سیل میں رکھا جائے گا جس میں 2019 میں سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کو گرفتار کرکے رکھا گیا تھالاہور ائیرپورٹ پر خصوصی طیارے کو اسٹینڈ بائی پر رکھا گیا ہے۔

    دوسری جانب آئی جی اسلام آباد نے ایس ایس پی اسلام آباد سے رابطہ کیا اور انہیں عمران خان کو آج ہی گرفتار کرنے کی ہدایت دی ہے۔

    زمان پارک میں میڈیا سےگفتگو میں فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ کسی انسان کے لیے ممکن نہیں کہ وہ روز اتنے مقدمات میں پیش ہو، ان حکمرانوں نے ملک اور معیشت کو ڈبو دیا ہے، ان حکمرانوں کا واحد مقصد ملک میں فسادات کرنا ہے تاکہ انتخابات ملتوی ہو جائیں، عمران خان کی گرفتاری کا مقصد صرف ملک کے حالات خراب کرنا ہےحکومت فسطائیت کا مظاہرہ کر رہی ہے، حکومت ملک میں امن و امان کا مسئلہ کھڑا کرنا چاہتی ہے، حکومت پی ٹی آئی کےکارکنوں کو اشتعال دلانا چاہتی ہےحکومت عمران خان پرایک اورقاتلانہ حملہ کرانا چاہتی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ شہبازشریف اور محسن نقوی میں کوئی فرق نہیں، ہم عدالتوں میں قانون کےمطابق ڈیل کر رہےہیں، حکومت انتخابات سے فرار چاہتی ہے، عدالتیں ایک بھگوڑے کو نہیں بلا رہیں۔

    شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ہم نے نوٹس دیکھ لیا ہے، نوٹس میں گرفتاری کا حکم نہیں، وکلا سے مشاورت کے بعد لائحہ عمل کا اعلان کریں گے، ہمارا سیاسی رد عمل بھی ہوگا لیکن بلاوجہ گھبرانےکی ضرورت نہیں عمران خان کی جان کو خطرہ تھا اور ہے، عمران خان پر قاتلانہ حملہ ہوا،عین ممکن ہے ان پر دوبارہ قاتلانہ حملے کا پلان کیا جا رہاہو، عمران خان کے خطاب میں کل جارحیت نہیں تھی، عمران خان نے یکجہتی کی بات کی، عقل کے اندھے جو اس وقت کارروائیاں کرنے کی کوشش کر رہےہیں وہ زخم پرنمک پاشی کر رہےہیں، عوام کے زخموں پر نمک پاشی کے بجائے مرہم رکھنےکی ضرورت ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ملک اس وقت سیاسی اور معاشی بحران سے دوچار ہے، ملک کواس وقت سکیورٹی چیلنجز بھی درپیش ہیں، حقیقی اصولوں پرسمجھوتہ نہیں کریں گےہمیں صرف سکیورٹی کےتحفظات ہیں، کسی میں سمجھ داری ہے توہم خلا پرکرنےکےلیےتیارہیں لیکن اپنےبنیادی اصولوں سےنہیں ہٹیں گےحکومت انتخابات سےفرارچاہتی ہے30 اپریل کو پنجاب میں انتخابات ہونے ہیں، یہ حکومت گھبرا چکی ہے، پولیس اور حکومت دونوں کنفیوژ ہیں جب کہ پی ٹی آئی پرُسکون ہے اور متحد ہے۔

    خیال رہے کہ 28 فروری کو توشہ خانہ کیس میں عدم پیشی پر ایڈیشنل سیشن جج اسلام آباد ظفر اقبال نے عمران خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھےسیشن عدالت نے عمران خان کو گرفتار کرکے7 مارچ کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دے رکھا ہے۔

    عدالت نے 28 فروری کو عمران خان کو عدالت میں پیش ہونے کا آخری موقع دے رکھا تھا کیونکہ عمران خان پر توشہ خانہ کیس میں فرد جرم عائد کی جانی تھی عمران خان نے سیکیورٹی خدشات کی وجہ سے عدالت میں پیش نہ ہونے کی وجہ قرار دیا تھا۔

    عمران خان نے ٹرائل کورٹ کو کچہری سے جوڈیشل کمپلیکس منتقل کرنے کی استدعا کی تھی لیکن عدالت نے عمران خان کی عدالت منتقل کرنے کی استدعا مسترد کی تھی۔ عمران خان 28 فروری کو جوڈیشل کمپلیکس میں پیش ہوئے تھے لیکن کچہری نہ گئے۔

  • توشہ خانہ کیس : عمران خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری

    توشہ خانہ کیس : عمران خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری

    اسلام آباد: توشہ خانہ کیس میں عمران خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیےگئے۔

    باغی ٹی وی : توشہ خانہ مقدمہ میں الیکشن کمیشن کی جانب سے عمران خان کے خلاف فوجداری کارروائی کیس کی سماعت ہوئی۔سیشن کورٹ اسلام آباد نے وشہ خانہ فوجداری کیس میں عمران خان کے ناقابل وارنٹ گرفتاری جاری کردیے۔

    ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ظفر اقبال نے محفوظ فیصلہ سنادیا،ایڈیشنل سیشن جج ظفر اقبال نے عمران خان کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے۔

    ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے جانے کے بعد پی ٹی آئی کارکن سیشن کورٹ کے باہر جمع ہونے لگے ہیں –

    قبل ازیں عمران خان کے وکیل علی بخاری اور الیکشن کمیشن کے وکیل سعد حسن عدالت پیش ہوئے۔ کیس کی سماعت ایڈیشنل سیشن جج ظفر اقبال نے کی۔ سماعت کے آغاز پر عمران خان کے وکیل نے پیشی کے لیے پانچ دن کی مہلت دینے کی استدعا کی تھی۔

    دوران سماعت، وکیل علی بخاری اور الیکشن کمیشن کے وکیل سعد حسن کے درمیان تلخ کلامی ہوئی۔ وکیل علی بخاری نےکہا کہ آپ الیکشن کمیشن کے وکیل ہیں اور وکیل ہی رہیں، ترجمان نہ بنیں،عمران خان کچھ دیر پہلے لاہور سے نکل پڑے ہیں عمران خان نےجوڈیشل کمپلیکس کی دو عدالتوں میں پیش ہونا ہے اس لیے عمران خان آج اس عدالت میں پیش نہیں ہو سکیں گے۔

    وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ یہ عدالت کا مسئلہ نہیں عمران خان کہاں سے آرہے ہیں، یہ عدالت میں پیش ہی نہیں ہونا چاہتے لیکن ہم اس کیس پر ہر دن سماعت کے لیے تیار ہیں، عمران خان دوسری عدالتوں میں پیش ہو رہے تو اس عدالت میں کیوں نہیں؟

    وکیل عمران خان نے کہا کہ میں آج عمران خان کو عدالت میں پیش کرنے کے قابل نہیں ہوں، اگر عمران خان عدالتی وقت میں جوڈیشل کمپلیکس سے نکل آئے تو ہم پیش ہو جائیں گے۔

    جج ظفر اقبال نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ کونسا طریقہ ہے کہ عمران خان ادھر پیش نہیں ہوسکتے اور جوڈیشل کمپلیکس پیش ہوجائیں گے، ادھر کے لے وقت نہیں بچے گا یہ کونسا طریقہ ہے۔ یہاں فرد جرم عائد ہونا ہے اس لیے ادھر آجائیں اور جب فرد جرم عائد ہوجائے تو پھر چلے جائیں۔

    عدالت نے عمران خان کی حاضری ضروری قرار دی تھی۔

    واضح رہے کہ آج 4 مختلف کیسز میں چیئرمین پی ٹی آئی کی انسداد دہشت گردی عدالت اور بینکنگ کورٹ سمیت سیشن عدالت کے 2 کیسز میں پیشی تھی جب کہ انہیں اسلام آباد ہائی کورٹ میں بھی پیش ہونا ہے۔

    عمران خان انسداد دہشت گردی عدالت اور بینکنگ کورٹ میں پیش ہوئے جہاں ان کی ضمانتیں منظور کرلی گئیں۔

  • عمران خان توشہ خانہ کیس:عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئےسماعت ملتوی کرنے کی استدعا مسترد کردی

    عمران خان توشہ خانہ کیس:عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئےسماعت ملتوی کرنے کی استدعا مسترد کردی

    اسلام آباد: عمران خان کے خلاف توشہ خانہ کیس میں ان کے وکیل نے سماعت 5 دن کے لیے ملتوی کرنے کی استدعا کردی جس پر جج نے برہمی کا اظہار کیا۔

    اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں عمران خان کےخلاف توشہ خانہ ریفرنس سے متعلق فوجداری کیس کی سماعت ہوئی جس میں ان کے وکیل علی بخاری عدالت میں پیش ہوئے جب کہ الیکشن کمیشن کے سعد حسن بطور وکیل پیش ہوئے۔

    دورانِ سماعت الیکشن کمیشن اور عمران خان کے وکیل کے درمیان تلخ کلامی ہوئی جس میں عمران خان کے وکیل نے الیکشن کمیشن کے وکیل سے کہا کہ آپ الیکشن کمیشن کے وکیل ہیں، وکیل ہی رہیں، ترجمان نہ بنیں۔

    علی بخاری نے عدالت کو بتایا کہ عمران خان کچھ دیر پہلے لاہور سے نکل پڑے ہیں، انہیں آج جوڈیشل کمپلیکس کی دو عدالتوں میں پیش ہونا ہے، وہ آج اس عدالت میں پیش نہیں ہو سکیں گے۔

    عمران خان کے وکیل نے سماعت 5 دن کے لیے ملتوی کرنے کی استدعا کی تو جج نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ کون ساطریقہ ہے، عمران خان 11 کورٹس میں پیش ہوسکتےہیں،کچہری میں نہیں، عمران خان جوڈیشل کمپلیکس پیش ہوجائیں گے اِدھر کے لیے ٹائم نہیں بچےگا، یہ کونساطریقہ ہے، ادھر فرد جرم عائد ہونا ہے ادھر آجائیں، فرد جرم عائد ہوجائے پھر چلے جائیں۔

    جج کے ریمارکس پر علی بخاری نے کہا کہ خواجہ حارث اس کیس میں عمران خان کے وکیل ہیں، آج یہاں اس عدالت میں پیش ہونے کے لیے وہ دستیاب نہیں ہیں۔

    بعد ازاں ایڈیشنل سیشن جج ظفراقبال نے عمران خان کو توشہ خانہ کیس میں آج پھر طلب کرلیا۔

  • توشہ خانہ ریفرنس:عمران خان پر فرد جرم عائد نہ ہو سکی

    توشہ خانہ ریفرنس:عمران خان پر فرد جرم عائد نہ ہو سکی

    اناسلام آباد: توشہ خانہ ریفرنس میں چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان پر آج بھی فرد جرم عائد نہ ہو سکی-

    باغی ٹی وی : ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد میں توشہ خانہ ریفرنس سے متعلق عمران خان کے خلاف فوجداری کارروائی کے کیس کی سماعت ہوئی، کیس کی سماعت ایڈیشنل سیشن جج ظفر اقبال نےکی۔

    عمران خان کے وکیل گوہر علی خان اور الیکشن کمیشن کے وکیل سعد حسن عدالت میں پیش ہوئے جب کہ عمران خان آج بھی عدالت میں پیش نہ ہوئے، وکلاء کی جانب سے عمران خان کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کر دی گئی-

    الیکشن کمیشن کے وکیل سعد حسن نے اعتراض کیا، ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کل لاہور ہائیکورٹ اپنے پاؤں پرکھڑے ہوکرگئے۔

    عمران خان کے وکیل کا کہنا تھا کہ عمران خان زمان پارک سے لاہور ہائیکورٹ گئے، سکیورٹی کے باعث وقت لگا، اسلام آباد کچہری میں پیشی تھوڑی مشکل ہے، عمران خان کو ڈاکٹروں نے آرام کا مشورہ دیا ہے، ڈاکٹروں کی ہدایت اور سکیورٹی وجوہات کے باعث عمران خان نہیں آئے، ان پر انسداد دہشت گردی اور دیگر عدالتوں میں بھی کیسز ہیں، 28 فروری کو عمران خان کا ایکسرے ہو جائےگا۔

    عدالت نے کہا کہ 28 فروری کو بھی ایکسرے ہونے ہیں؟ 9 سے 21 تاریخ تک عمران خان کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواستیں آرہی ہیں، ایسے رہا تو ٹرائل لمبا ہوتا چلا جائےگا۔

    جج نے ریمارکس دیئےکہ عمران خان کی پمز سے طبی رپورٹ بنوا لیتے ہیں، عمران خان کی میڈیکو لیگل رپورٹ دکھا دیں تاکہ انجری کی نوعیت دیکھ لیں، قانون کے مطابق کیس کی کاپیاں ملزم کو دی جاتی ہیں، عمران خان کو آج بھی ذاتی حیثیت میں عدالت نے طلب کر رکھا تھا، عمران خان کو ہر تاریخ پر حاضری سے استثنیٰ دیا جارہا ہے ہم مسلسل آپ لوگوں کی مان ہی رہے ہیں، صرف کاپیاں فراہم کرکے فرد جرم عائدکرنی ہے۔

    عدالت نے الیکشن کمیشن کو عمران خان کے وکلاء کو کاپیاں فراہم کرنےکی ہدایت کردی۔

    وکیل الیکشن کمیشن نےکہا کہ عمران خان کی حاضری سے استثنیٰ پر آج اعتراض نہیں کریں گے، اگلی سماعت پر عمران خان کی حاضری یقینی بنائیں عدالت نےکہا کہ28 فروری کی تاریخ دے دیتے ہیں، عمران خان کی حاضری یقینی بنائیں۔

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نےکیس کی سماعت 28 فروری تک ملتوی کردی۔

    واضح رہےکہ الیکشن کمیشن نے توشہ خانہ ریفرنس ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کو بھجوایا تھا، ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنرکا کہنا تھا کہ ٹرائل کورٹ عمران خان پرکرپٹ پریکٹس کا ٹرائل کرے.

    توشہ خانہ ریفرنس الیکشن ایکٹ کےسیکشن 137 ،170 ،167 کے تحت بھجوایا گیا ہے، ریفرنس میں استدعا کی گئی ہےکہ عدالت شکایت منظور کرکے عمران خان کو سیکشن 167 اور 173 کے تحت سزا دے، ریفرنس میں 3 سال جیل اور جرمانےکی سزا سنائی جا سکتی ہے۔