Baaghi TV

Tag: توشہ خانہ

  • 1990 سے 2001 تک کا توشہ خانہ ریکارڈ پبلک کرنے کا حکم

    1990 سے 2001 تک کا توشہ خانہ ریکارڈ پبلک کرنے کا حکم

    لاہور ہائیکورٹ نے 1990 سے 2001 تک کا توشہ خانہ ریکارڈ پبلک کرنے کا حکم دے دیا

    عدالت نے حکم دیا کہ جن دوست ممالک نے تحائف دیئے وہ بھی بتائے جائیں توشہ خانہ سے متعلق کوئی چیز چھپائی نہیں جا سکتی،2002کے بعد پبلک کیے گئے ریکارڈ کے ذرائع بھی بتائے جائیں،2002 کے بعد پبلک کیے گئے ریکارڈ کے ذرائع بتانے پروفاق نے اعتراض کیا ،وکیل نے کہا کہ ہم نے 2002 کے بعد پبلک کیے گئے ریکارڈ کے خلاف اپیل فائل کرنا ہے، جسٹس عاصم حفیظ نے وفاق کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اپیل آپ کا حق ہے ،توشہ خانہ سے معلق سارا ریکارڈ پبلک کیا جائے،بغیر ادائیگی قیمت کوئی تحفہ نہیں رکھ سکتا،لاہورہائیکورٹ کے جسٹس عاصم حفیظ نے شہری کی درخواست نمٹا دی

    لاہور ہائیکورٹ نے توشہ خانہ سے تحائف وصول کرنے والی شخصیات کا ریکارڈ پبلک کرنے کا بھی حکم دیا، جسٹس عاصم حفیظ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ توشہ خانہ سے بغیر پیسے کے تحائف لے جانے والوں نے امانت میں خیانت کی ،توشہ خانہ کا ریکارڈ جس حالت میں بھی ہے اسے پبلک کیا جائے،

    واضح رہے کہ عدالتی حکم پر وفاقی حکومت نے 2002 سے 2022 تک کا توشہ خانہ کا ریکارڈ بلک کر دیا ہے،لاہورہائیکورٹ نے حکومت کو 2002 سے قبل کا توشہ خانہ ریکارڈ پیش کرنے کا حکم دیا تھا، آج عدالت نے 2002 سے قبل کا ریکارڈ بھی پیش کرنے کا حکم دے دیا ہے،

    عمران خان کے خلاف توشہ خانہ کیس زیر سماعت ہے، عمران خان عدالتوں میں پیش نہیں ہو رہے، توشہ خانہ کیس میں عمران خان کے وارنٹ بھی جاری ہوئے تھے، پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ توشہ خانہ کا تمام ریکارڈ پبلک کیا جائے، عدالت نے بھی ایسا کرنے کا حکم دیا تھا

    عدالت نے عمران خان کو 13 مارچ کو سیشن کورٹ میں پیش ہونے کا حکم دیا

    نیب ٹیم توشہ خانہ کی گھڑی کی تحقیقات کے لئے یو اے ای پہنچ گئی، 

    قیام پاکستان سے اب تک توشہ خانہ کے تحائف کی تفصیلات کا ریکارڈ عدالت میں پیش

    بزدار کے حلقے میں فی میل نرسنگ سٹاف کو افسران کی جانب سے بستر گرم کی فرمائشیں،تہلکہ خیز انکشافات

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے

  • نیب نے عمران خان کو فارن فنڈنگ کیس میں کل طلب کر لیا

    نیب نے عمران خان کو فارن فنڈنگ کیس میں کل طلب کر لیا

    نیب ٹیم فارن فنڈنگ کیس میں نوٹس کی تعمیل کرانے زمان پارک پہنچ گئی۔

    فارن فنڈنگ کیس میں نیب نے عمران خان کو کل 21 مارچ طلب کر لیا نیب کی 2 رکنی ٹیم فارن فنڈنگ کیس میں نوٹس لے کر عمران خان کے گھر پہنچی ہے۔ فارن فنڈنگ کیس میں نیب راولپنڈی عمران خان کیخلاف تحقیقات کر رہا ہے ،نیب ٹیم کو عمران خان کے سیکورٹی سٹاف نے اندر جانے کی اجازت دے دی ۔ نیب کا نوٹس اویس نیازی نے وصول کیا۔ٹیم نوٹس نوٹس کی تعمیل کے بعد زمان پارک سے روانہ ہوگی

    عمران خان کے خلاف توشہ خانہ کیس میں بھی نیب کی تحقیقات جاری ہیں،نیب نے توشہ خانہ کیس میں عمران خان کو اور ان کی اہلیہ بشری بی بی کو 9 مارچ کو طلب کیا تھا، تا ہم وہ پیش نہ ہوئے، عمران خان کو نیب راولپنڈی کی جانب سے نوٹس جاری کیا گیا اور انہیں ریکارڈ بھی ساتھ لانے کی ہدایت کی گئی تھی نوٹس میں کہا گیا ہے کہ عمران خان نے اپنے دور حکومت میں ملنے والے تحائف کو خلاف قانون فروخت کیا

    قومی احتساب بیورو نے 8 نومبر 2022 کو چیئرمین پاکستان تحریک انصاف کے خلاف توشہ خانہ کیس کی تحقیقات شروع کی تھیں جس کے بعد کابینہ ڈویژن اور سرکاری توشہ خان سے عمران خان کے تحائف کا ریکارڈ حاصل کیا گیا۔ذرائع کے مطابق کابینہ ڈویژن، سرکاری توشہ خانہ کے افسران کا ابتدائی بیان بھی قلمبند کر لیا گیا ہے، ڈی جی نیب راولپنڈی توشہ خانہ کیس کی تحقیقات کی نگرانی کر رہے ہیں، واضح رہے سابق وزیر اعظم عمران خان پر توشہ خانہ کے تحائف لیتے ہوئے اشیاء کے کم ریٹ لگانے کا الزام ہے

    اس سے تو یہ ثابت ہوا کہ پلی بارگین کے بعد بھی ملزم کا اعتراف جرم تصور نہیں ہو گا،چیف جسٹس

    ، 25 کروڑ آبادی میں سے عمران خان ہی نیب ترامیم سے متاثر کیوں ہوئے؟

    ، نیب ترامیم کیس گزشتہ سال جولائی میں شروع ہوا اس کیس کو ختم ہونے میں وقت لگے گا،

  • عمران خان توشہ خانہ کیس: جوڈیشل کمپلیکس میں سماعت  کا تحریری حکم نامہ جاری

    عمران خان توشہ خانہ کیس: جوڈیشل کمپلیکس میں سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری

    اسلام آباد: توشہ خانہ فوجداری کارروائی کیس ، جوڈیشل کمپلیکس میں سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کر دیا گیا-

    باغی ٹی وی: تحریری حکم نامے میں کہا گیا کہ عدالتی آرڈر شیٹ گم ہونے کے بعد نئی آرڈر شیٹ تیار کرلی گئی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان 30 مارچ کو ذاتی حیثیت میں عدالت طلب کیاگیا ہےآئندہ سماعت پرفوجداری کارروائی کے قابل سماعت ہونےپردلائل ہوں گے ،18مارچ کی تین دفعہ کی سماعتوں کا الگ الگ حکم نامہ جاری کیا گیا ایس پی سمیع ملک ، عمران خان کے وکلا بیرسٹر گوہر ، خواجہ حارث کے بیانات حکم نامے کا حصہ ہیں-

    چیئرمین سینیٹ نےشبلی فراز کے گھر پر چھاپے کا نوٹس لے لیا

    سیشن کورٹ اسلام آباد کی جانب سے جاری کئےگئے تحریری حکمنامے کے مطابق عدالت کو بتایا گیا گم شدہ آرڈر شیٹ کمپیوٹر میں محفوظ ہے ، فائل گم ہونے کے تنازعہ کے حل کے لیے فائل دوبارہ بنائی گئی ہے ، دن ساڑھے 3 بجے عدالت کو بتایا گیا عمران خان عدالت پہنچنے والے ہیں،عدالت نے ہدایت کی کہ عمران خان چاربجےپیش ہوں عدالت کومطلع کیا گیا پتھراؤ کی وجہ سے عمران خان کاعدالت پہنچنا مشکل ہے ، عدالت کو بتایا گیا مناسب ہو گا گاڑی سے ہی عمران خان کے دستخط کروا لیے جائیں ،لوگوں کی جان ، املاک کے تحفظ ، ناخوشگوار واقعہ سے بچنے کے لیے گاڑی سے حاضری لگوانے کی ہدایت کی –

    ملک بھر میں گرج چمک کے ساتھ بارش اور بوندا باندی کا امکان

    حکمنامے میں کہا گیا کہ شبلی فراز ، بیرسٹر گوہر اور ایس پی سمیع ملک کو دستخط کرانے بھیجا ،عدالت کو بعد میں بتایا گیا آرڈر شیٹ گم ہو گئی ہے –

  • توشہ خانہ سے 300 ڈالر سے زائد مالیت کا تحفہ حاصل کرنے پر پابندی

    توشہ خانہ سے 300 ڈالر سے زائد مالیت کا تحفہ حاصل کرنے پر پابندی

    وفاقی حکومت نے توشہ خانہ سے 300 ڈالر سے زائد مالیت کا تحفہ حاصل کرنے پر پابندی عائد کردی۔

    باغی ٹی وی: حکومت نے توشہ خانہ پالیسی 2023 فوری طور پر نافذ کر دی اور تمام اداروں کو اس سلسلے میں احکامات جاری کر دیئے ہیں حکومت کی جانب سےکروڑوں روپے مالیت کی گاڑیاں، گھڑیاں، زیورات دیگر تحائف حاصل کرنے پر پابندی عائد کردی گئی۔

    توشہ خانہ سے کم قیمت پر چیزیں خریدنا شرعی طور پر ناجائز قرار

    ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر، وزیراعظم ،کابینہ ارکان ،ججز ،سول و ملٹری افسران پر 300 ڈالر سے زائد مالیت کا تحفہ حاصل کرنے پر پابندی ہوگی جبکہ صدر ، وزیراعظم ، کابینہ ارکان ، پر ملکی و غیر ملکی شخصیات سے نقدی بطور تحفہ وصول کرنے پر بھی پابندی ہے۔

    ذرائع کے مطابق ججز ،سول و ملٹری افسران پر بھی ملکی و غیر ملکی شخصیات سےکیش بطور تحفہ وصول کرنے پرپابندی ہوگی ،مجبوراً کیش تحفہ وصول کرنے پر فوری پوری رقم قومی خزانے میں جمع کروانے کی ہدایت ہوگی جبکہ تحائف کے طور پر ملنے والی گاڑیاں اور قیمتی نوادرات کوئی بھی شخصیت خریدنے کی مجاز نہیں ہوگی۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ تحائف میں ملنے والی گاڑیاں سینٹرل پول، قیمتی نوادرات سرکاری مقامات پر سجائے جائیں گے، سونے اور چاندی کے سکے اسٹیٹ بینک کے حوالے کر دیئے جائیں گے توشہ خانہ پالیسی کی خلاف ورزی پر متعلقہ شخصیت کے خلاف سخت کارروائی ہو گی۔ٕ

    بیٹے کے پاس لے جانے کے بجائے زبردستی عمران خان کے پاس لے گئے. علی بلال کے والد کا انکشاف

    اس کے علاوہ صدر ، وزیراعظم ، کابینہ ارکان، ججز ، سول و ملٹری افسران 300 ڈالر سے کم مالیت کا تحفہ مارکٹ ویلیو پر خریدنے کے مجاز ہوں گے جبکہ 300 ڈالر سے زائد مالیت کے تحائف اوپن آکشن کے ذریعے عوام بھی خریدنے کے اہل ہوں گے صدر و وزیراعظم کے سوا دیگر شخصیات پر اہل خانہ کیلئے تحائف وصول کرنے پر پابندی عائد ہوگی-

    ذرائع کے مطابق وزارت خارجہ کے افسران تحائف کابینہ ڈویژن کو فراہم کرنے کے پابند ہوں گے، تحائف کی مالیت کا تعین ایف بی آر کے ماہر افسران اور نجی فرم سے کروایا جائے گا جبکہ تحفے میں ملنے والا اسلحے کی مالیت کا تعین نجی فرم اور پی او ایف کرے گی غیر ملکی شخصیات سے گریڈ 1 سے گریڈ 4 کے ملازمین کیش بطور تحفہ حاصل کر سکیں گے ۔

    عمران خان کا اتوار کو مینار پاکستان پر جلسہ کرنے کا اعلان

    واضح رہے کہ جامعہ نعیمیہ لاہور نے توشہ خانہ قانون کو غیرشرعی قرار دیتے ہوئے اپنا فتوا جاری کردیا ہے جبکہ فتویٰ جاری کرنے والوں میں ڈاکٹر راغب نعیمی، مفتی عمران حنفی، مفتی ندیم قمر، مفتی عارف حسین شامل ہیں۔ اس فتوے میں کہا گیا ہے کہ توشہ خانہ سےکم قیمت پر اشیا خریدنا شرعی لحاظ سے جائز نہیں ہے اور حکومتی عہدے پر فائز شخص کو ملا تحفہ ملکیت میں رکھنے پر رسول اللہ ﷺ نے تنبیہ فرمائی تھی۔

    جامعہ نعیمیہ نے اپنے فتویٰ میں چیف جسٹس سے درخواست کی ہے کہ توشہ خانہ مروجہ قانون تبدیل کرنے میں کردار ادا کریں۔ تاہم خیال رہے کہ گزشتہ روز وفاقی حکومت نے توشہ خانہ کا 2002 سے 2023 کا ریکارڈ پبلک کیا ہے۔ اور توشہ خانہ سے تحائف وصول کرنے والوں میں سابق صدور، سابق وزرائے اعظم، وزرا اور سرکاری افسران کے نام شامل ہیں۔

    لندن کی جائیدادیں شہیدوں کی ملکیت ہے. خالد مقبول صدیقی

  • توشہ خانہ کے تحائف،مریم بارے ٹویٹ، فواد چودھری کی ہوئی طلبی

    توشہ خانہ کے تحائف،مریم بارے ٹویٹ، فواد چودھری کی ہوئی طلبی

    ن لیگی رہنما مریم نواز سے متعلق توشہ خانہ تحائف پر ٹویٹ کا معاملہ،ایف آئی اے نے فواد چودھری کیخلاف کارروائی کا فیصلہ کر لیا

    ایف آئی اے نے فواد چودھری کو 17 مارچ کو طلبی کا نوٹس بھجوا دیا، فواد چودھری نے گزشتہ روز مریم نواز کے حوالہ سے ٹویٹ کی تھی کہ نیب فوری طور پر مریم نواز کو توشہ خانے سے گھڑی لینے پر طلب کرے اور تحقیقات کی جائیں کہ دو کروڑ روپے کی گھڑی دس لاکھ میں ایک پرائیویٹ شہری کو کیسے دے دی گئی

    https://twitter.com/fawadchaudhry/status/1635193510096764928

    اس ٹویٹ پر مریم نواز نے ردعمل دیتے ہوئے فواد چودھری کے خلاف قانونی کاروائی کا کہا تھا، آج فواد چودھری کو ایف آئی اے کی جانب سے نوٹس جاری کیا گیا ہے جس میں انہیں طلب کیا گیا ہے. طلبی پر فواد چودھری کا کہنا ہے کہ مریم نواز کی ٹویٹر پر دھمکی ،ایف آئی اے نے میرے خلاف انکوائری کا آغاز کردیا،اس ملک میں شہری حقوق مکمل طور پر معطل ہو چکے ہیں،

    ن لیگ کے رہنما، وزیراعظم کے مشیر عطا تارڑ نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ مریم نواز شریف پر جھوٹا الزام لگایا۔ جھوٹ بولو گے تو کوئی پوچھ گچھ نہیں ہو گی؟ جھوٹ اور الزام کے علاوہ کوئی اور بات بھی آتی ہے؟ اپنی دفعہ ایک نوٹس کو آئین کی معطلی بنا دیا۔ واہ !!

    واضح رہے کہ عدالتی حکم پر وفاقی حکومت نے 2002 سے 2022 تک کا توشہ خانہ کا ریکارڈ گزشتہ روز پبلک کر دیا ہے،لاہورہائیکورٹ نے حکومت کو 2002 سے قبل کا توشہ خانہ ریکارڈ پیش کرنے کا حکم دیا تھا، آج عدالت نے 2002 سے قبل کا ریکارڈ بھی پیش کرنے کا حکم دے دیا ہے،

  • توشہ خانہ ریکارڈ، مریم نواز پرتنقید ،وزیر اعظم کی معاون خصوصی نے شیریں مزاری کوآئینہ دکھا دیا

    توشہ خانہ ریکارڈ، مریم نواز پرتنقید ،وزیر اعظم کی معاون خصوصی نے شیریں مزاری کوآئینہ دکھا دیا

    وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے امور نوجوان شیزا فاطمہ خواجہ نے پاکستان تحریک انصاف کی رہنما شیریں مزاری کو مریم نواز پر تنقید پر آڑے ہاتھوں کے لیا-

    باغی ٹی وی: ٹوئٹر پر شیریں مزاری نے مسلم لیگ (ن) کی چیف آرگنائزر مریم نواز کو توشہ خانہ سے انناس کا ڈبہ ادائیگی کئے بغیر لینے پر تنقید کا نشانہ بنایا تو رکن قومی اسمبلی شزا فاطمہ خواجہ نے بھی انہیں آئینہ دکھا دیا-

    توشہ خانہ کیس:حاضری سے استثنیٰ کی درخواست پر فیصلہ محفوظ


    مسلم لیگ (ن) کی رہنما شیزا فاطمہ خواجہ نے شیریں مزاری کے ٹوئٹ کے جواب میں ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ’میڈم کو 300 روپے کے انناس کے ڈبے سے مسئلہ ہے، جس نے کچھ ہی وقت بعد ایکسپائر ہونا تھا اور قانون کے مطابق 30 ہزار سے کم مالیت کی اشیاء رقم ادا کئے بغیر لے سکتے ہیں۔


    شیزا فاطمہ خواجہ نے لکھا کہ دوسری جانب یہ میڈم عمران خان اور ان کی اہلیہ کی جانب سے ہیرے جڑے قلم، گھڑیاں اور زیورات غلط طریقے سے خریدنے اور پھر اسے فروخت کرنے پر خاموش ہیں، یہ چور اور منافق ہیں-

    وفاقی حکومت نے توشہ خانہ کا 2002 سے 2023 کا ریکارڈ پبلک کر دیا

    واضح رہے کہ وفاقی حکومت نے توشہ خانہ کا تقریباً 21 سال کا ریکارڈ پبلک کردیا ہے۔

    جس کے مطابق سابق صدر نواز شریف ، ان کی اہلیہ بیگم نواز شریف اور صاحبزادی مریم نواز نے انناس کے ڈبے ادائیگی کئے بغیر توشہ خانہ سے لیئے، جس پر انہیں پی ٹی آئی کارکنان کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

    خوف سے گھر میں دبک جانے والے کو گیدڑ کہتے؛ مریم نواز کا عمران خان …

  • توشہ خانہ، 2002 سے پہلے کا ریکارڈ آج ہی پیش کرنے کا حکم

    توشہ خانہ، 2002 سے پہلے کا ریکارڈ آج ہی پیش کرنے کا حکم

    توشہ خانہ سے تحائف وصول کرنے والی شخصیات کی تفصیلات فراہم کرنے کی درخواست پر سماعت ہوئی

    لاہور ہائیکورٹ نے وفاقی حکومت کے وکیل کو 2002 سے پہلے کا ریکارڈ آج ہی پیش کرنے کا حکم دے دیا ،جسٹس عاصم حفیظ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 2002سے پہلے کا ریکارڈ جس شکل میں بھی ہے عدالت میں پیش کریں،جائزہ لینے کے بعد حکم جاری کریں گے ، دیکھیں گے کہ یہ تحفے کس نے دیئے؟ اس پہلو کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے کہ تحفے دیئے کیوں جاتے ہیں،کیا تحفہ اس لیے دیا جاتا ہے کہ بدلے میں کوئی فائدہ لیا جائے ،وکیل نے عدالت میں کہا کہ ایک وزیر تحفہ لے رہا تو سمجھ آتی ہے مگر جن کے پاس سرکاری عہدہ وہ تحفہ کیسے لے سکتے ہیں،عدالت نے کہا کہ ہمارے پاس یہ معاملہ نہیں ہے اس کے لیے متعلقہ فورم موجود ہے لاہور ہائیکورٹ نے کیس کی سماعت ساڑھے 11 بجے تک ملتوی کر دی

    واضح رہے کہ عدالتی حکم پر وفاقی حکومت نے 2002 سے 2022 تک کا توشہ خانہ کا ریکارڈ گزشتہ روز پبلک کر دیا ہے،لاہورہائیکورٹ نے حکومت کو 2002 سے قبل کا توشہ خانہ ریکارڈ پیش کرنے کا حکم دیا تھا، آج عدالت نے 2002 سے قبل کا ریکارڈ بھی پیش کرنے کا حکم دے دیا ہے،

    عمران خان کے خلاف توشہ خانہ کیس زیر سماعت ہے، عمران خان عدالتوں میں پیش نہیں ہو رہے، توشہ خانہ کیس میں عمران خان کے وارنٹ بھی جاری ہوئے تھے، پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ توشہ خانہ کا تمام ریکارڈ پبلک کیا جائے، عدالت نے بھی ایسا کرنے کا حکم دیا تھا

    عدالت نے عمران خان کو 13 مارچ کو سیشن کورٹ میں پیش ہونے کا حکم دیا

    نیب ٹیم توشہ خانہ کی گھڑی کی تحقیقات کے لئے یو اے ای پہنچ گئی، 

    قیام پاکستان سے اب تک توشہ خانہ کے تحائف کی تفصیلات کا ریکارڈ عدالت میں پیش

    بزدار کے حلقے میں فی میل نرسنگ سٹاف کو افسران کی جانب سے بستر گرم کی فرمائشیں،تہلکہ خیز انکشافات

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے

  • وفاقی حکومت نے توشہ خانہ کا 2002 سے 2023 کا ریکارڈ پبلک کر دیا

    وفاقی حکومت نے توشہ خانہ کا 2002 سے 2023 کا ریکارڈ پبلک کر دیا

    اسلام آباد:حکومت نے توشہ خانہ کا ریکارڈ پبلک کر دیا-

    باغی ٹی وی: وزیراعظم کی ہدایت پر کابینہ ڈویژن کی سرکاری ویب سائٹ پر ریکارڈ اپلوڈ کردیا وفاقی حکومت نے توشہ خانہ کا 2002ء سے 2023ء تک کا 466 صفحات پرمشتمل ریکارڈ سرکاری ویب سائٹ پر جاری کردیا تحائف وصول کرنے والوں میں سابق صدور، سابق وزراء اعظم، وفاقی وزراء اور سرکاری افسران کے نام شامل ہیں۔

    ریکارڈ کے مطابق سابق صدر مملکت پرویز مشرف، سابق وزرائے اعظم شوکت عزیز، یوسف رضا گیلانی، نوازشریف، راجہ پرویز اشرف اور عمران خان سمیت دیگر کے نام شامل ہیں جبکہ موجودہ وزیر اعظم شہباز شریف اور صدرعارف علوی کا توشہ خانہ ریکارڈ بھی اپلوڈ کیا گیا ہے۔

    وزرائے اعظم کے علاوہ وفاقی وزرا، اعلی حکام اور سرکاری ملازمین کو ملنے والے تحائف کا ریکارڈ بھی پبلک کیا گیا ہے۔ کم مالیت کے بیشترتحائف وصول کنندگان نے قانون کےمطابق بغیر ادائیگی کےہی رکھ لیے کیونکہ 2022ء میں 10 ہزار روپے سے کم مالیت کے تحائف بغیر ادائیگی کے رکھنے کا قانون تھا۔

    علاوہ ازیں 10 ہزار سے 4 لاکھ روپے تک کے تحائف پندرہ فیصد رقم کی ادائیگی کے ساتھ رکھنے کی اجازت تھی جبکہ 4 لاکھ سے زائد مالیت کے تحائف صرف صدر یا حکومتی سربراہان کو رکھنے کیا اجازت تھی۔

    رواں سال 2023 میں موجودہ حکومت نے 59 تحائف وصول کیے ہیں ریکارڈ کے مطابق گزشتہ سال 2022 میں توشہ خانہ میں 224 تحائف موصول ہوئے، 2021 میں 116 تحائف، 2018 میں 175 تحائف اور 2014 میں 91 جبکہ 2015 میں 177 تحائف حکومتی ذمہ داران نے وصول کیے۔

    جنرل (ر) پرویز مشرف

    ریکارڈ کے مطابق 2004 میں جنرل پرویز مشرف کو ملنے والے تحائف کی مالیت 65 لاکھ روپے سے زائد ظاہر کی گئی، 2005 میں جنرل پرویز مشرف کو ملنے والی گھڑی کی قیمت پانچ لاکھ روپے بتائی گئی۔ سابق صدر پرویز مشرف کو مختلف اوقات میں درجنوں قیمتی گھڑیاں اورجیولری بکس ملے جو انہوں نے قانون کے مطابق رقم ادا کر کے رکھ لیے تھے۔

    سابق صدر کی اہلیہ بیگم صہبا مشروف کو 6 اپریل 2006ء کو ساڑھے16 لاکھ روپے کے تحائف ملے۔ اگست2007 کو بیگم صہبا مشرف کو ملنےو الے تحائف کی مالیت 34 لاکھ روپے سے زائد ہے۔ 3 اپریل 2007 کوبیگم صہبا مشرف کو ملنے والے تحائف کی قیمت ایک کروڑ 48 روپے لگائی گئی جبکہ 31 جنوری 2007 کوجنرل پرویز مشرف کو 14 لاکھ روپے کے تحائف ملے۔

    شوکت عزیز

    سابق وزیر اعظم شوکت عزیز کو 2005 میں ساڑھے 8 لاکھ روپے کی ایک گھڑی ملی جو 3 لاکھ 55 ہزارمیں نیلام ہوئی جبکہ انہوں نے سینکڑوں تحائف 10 ہزار سے کم مالیت ظاہر کر کے بغیر ادائیگی رکھ لیے تھے۔

    شوکت عزیز کو 27 ستمبر 2007 کو ملنے والی گھڑی کی قیمت ساڑھے تیرہ لاکھ روپے لگائی گئی، بیس دسمبر دوہزار چھ کو شوکت عزیز کو37 لاکھ 64 ہزار روپے کے تحائف ملے جو رکھ لئے گئے جبکہ 2006ء میں انہوں نے ملنے والے کئی تحائف توشہ خانہ میں دے دیے۔ اس کے علاوہ شوکت عزیز کو 2 جون 2006ء کو ساڑھے تیرہ لاکھ روپے مالیت کی گھڑی بھی ملی جبکہ 7 جنوری 2006ء کو سابق وزیراعظم شوکت عزیز کو18 لاکھ روپے کے تحائف بھی ملے24 فروری 2010 کو شوکت ترین نے بارہ لاکھ روپے کی گھڑی توشہ خانہ میں جمع کرائی۔

    اس کے علاوہ مسلم لیگ ن کے رہنما امیر مقام کو 2005ء میں گھڑی ملی جس کی قیمت ساڑھے 5 لاکھ روپے ظاہر کی گئی تھی۔

    ظفر اللہ خان جمالی

    سابق وزیر اعظم میر ظفراللہ خان جمالی نے تحفہ میں ملنے والا خانہ کعبہ کا ماڈل وزیراعظم ہاؤس میں نصب کروایا جبکہ ظفر اللہ خان جمالی کی اہلیہ کو2003 میں ملنے والے ایک جیولری بکس کی قیمت 26 لاکھ 34 ہزار 3 سو ستاسی روپے لگائی گئی۔

    ریکارڈ کے مطابق 7 اگست 2006ء کو جنرل (ر) اشفاق پرویز کیانی کو تحائف ملے جو انہوں نے 10 ہزار روپے ادا کر کے رکھ لیے جبکہ مئی 2006 میں سابق وزیرخزانہ عمر ایوب نے ساڑھے چار لاکھ روپے کی گھڑی توشہ خانہ میں دی 16 اگست 2006 کو جہانگیر ترین نے ملنے والا تحفہ توشہ خانہ میں جمع کروایا۔

    آصف علی زرداری

    ریکارڈ کے مطابق دودسمبر 2008 کو سابق صدرآصف علی زرداری نے پانچ لاکھ مالیت کی گھڑی کی ادائیگی کرکے خود رکھ لی جبکہ 26 جنوری2009 کو سابق صدرآصف علی زرداری کو دو بی ایم ڈبلیو گاڑیاں ملیں جن کی مالیت پانچ کروڑ 78 اور دو کروڑ 73 لاکھ تھی جبکہ ایک ٹویٹا لیکسز بھی ملی جس کی مالیت 5 کروڑ روپے تھی۔

    آصف زرداری نے تینوں گاڑیاں 2 کروڑ 2 لاکھ روپے سے زائد ادا کر کے خود رکھ لیں۔ 28 اکتوبر2011 کو آصف زرداری نے 16 لاکھ 15ہزار کے تحائف رکھ لیے جبکہ11 مارچ 2011 کو آصف زرداری کوملنے والے تحائف کی مالیت 10 لاکھ روپے سے زائد لگائی گئی، 13 جون 2011 کو 16 لاکھ مالیتی تحائف ادائیگی کر کے رکھ لئے۔ اس کے علاوہ15 اگست 2011 کو آصف زرداری نے 847,000 روپے کے تحائف خود رکھ لیے۔

    یوسف رضا گیلانی

    سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو ۔ 23 دسمبر2009 کو خانہ کعبہ کے دروازے کا ماڈل تحفے میں ملا جو انہوں نے 6 ہزار روپے ادا کر کے رکھ لیا جبکہ انہوں نے 21 لاکھ روپے ادائیگی کر کے جیولری باکس رکھ لیا۔

    یوسف رضاگیلانی کے بھائی، بھابھی، بیٹے، بیٹی،بھانجے،مہمانوں اور ڈاکٹرنے بھی تحفہ میں ملنے والی گھڑیاں رکھ لیں۔ 17 اکتوبر2011 کو یوسف رضاگیلانی نے انیس لاکھ روپے کے تحائف خود رکھ لئے۔

    دستاویز کے مطابق سابق سیکرٹری خزانہ سلمان صدیق کو 29 فروری 2010 میں سات لاکھ کی گھڑی ملی جو انہوں نے توشہ خانہ میں دے دی،28 دسمبر2010 کو صحافی رئوف کلاسرا نے ایک لاکھ بیس ہزار کی گھڑی توشہ خانہ میں جمع کروائی۔ 5 ستمبر2011ء کو سابق اسپیکر قومی اسمبلی فہمیدہ مرزا نے20 ہزار کا کارپٹ توشہ خانہ میں جمع کروایا اور22 دسمبر2011 کو چودہری پرویز الہی نے چار لاکھ سے زائد کے تحائف توشہ خانہ میں جمع کروائے۔

    نواز شریف

    میاں نوازشریف کو ملنے والی مرسیڈیز کار کی کل مالیت 42 لاکھ 55 ہزار 9 سو 19 روپے لگائی گئی تھی، 20 اپریل 2008 کو سابق وزیراعظم نوازشریف نے تحفہ میں ملنے والی مرسیڈیزکار6 لاکھ 36 ہزار 8 سو 88 روپے ادا کر کے رکھ لی-

    دستاویز کے مطابق نوازشریف نے43ہزار روپے کا گلاس سیٹ اور کارپٹ 6ہزارمیں رکھے، نوازشریف نے وزیراعظم ہوتے ہوئے12لاکھ کی گھڑی ،کف لنک 2 لاکھ 40 ہزار دے کر رکھے، توشہ خانہ سے نوازشریف نے 8 ہزار کا گلدان مفت میں رکھ لیا۔

    شہباز شریف

    وزیراعلیٰ پنجاب کی حیثیت سے شہباز شریف کو15 جولائی 2009ء میں جتنے بھی تحائف ملے وہ انہوں نے توشہ خانہ میں جمع کروادیے۔ 10 جون 2010 کو سابق وزیراعلیٰ شہبازشریف نے 40 ہزار کی پینٹنگز توشہ خانہ میں جمع کروائیں-

    شہباز شریف نے گائے کا ماڈل، صراحی، وال ہنگنگ، باؤل اور خنجر مفت میں رکھ لیے جبکہ گائے کا ماڈل 8ہزار، صراحی 25ہزار، وال ہنگنگ 17ہزار اور خنجر50ہزار روپے مالیت کے تھے۔

    دستاویز کے مطابق شہبازشریف نے بُک لیٹ 10ہزار، اسٹیڈیم ماڈل 15ہزار توشہ خانہ سے لے کر مفت میں رکھ لیا، شہبازشریف نے پلیٹ کے ساتھ صراحی22ہزار روپے اور آنکس پلیٹ جس کی مالیت 2200روپے تھی فری میں رکھ لی۔

    شہبازشریف نے گھوڑے کا 28ہزار روپے مالیت کا دھاتی مجسمہ فری میں رکھ لیا، شہباز شریف نے چاکلیٹ اور شہد 12ہزار، جار10ہزار روپے کا فری میں رکھ لیا، ازبک مصنوعات کی کتابیں 33ہزار، پینٹنگ28ہزارروپے کی فری میں رکھ لیں، ازبک مصنوعات کی کتابیں 33ہزار، پینٹنگ28ہزارروپے کی فری میں رکھ لیں۔

    وزیراعظم شہبازشریف نے 4لاکھ روپے مالیت کا طلائی گلدان توشہ خانہ سے لیا، انہوں نے طلائی گلدان کیلئے ایک لاکھ 85 ہزار روپے ادائیگی کی، اس کے علاوہ انہوں نے2013 میں بطور وزیراعلیٰ 35ہزار کاڈیکوریشن پیس 5ہزار میں لیا۔

    دستاویز کے مطابق شہباز شریف نےکپ طشتری باؤل 10ہزار، قالین 30ہزارکافری میں رکھ لیاعربی کافی دان 26ہزار،عربی قہوہ دان26ہزار کا فری میں رکھ لیا، مریم نواز،کلثوم اور نوازشریف نے پائن ایپل کا باکس مفت میں رکھا۔

    شاہد خاقان عباسی

    ریکارڈ کے مطابق سال 2018 میں سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو 2 کروڑپچاس لاکھ مالیت کی رولکس گھڑی تحفے میں ملی جبکہ اپریل 2018 میں شاہد خاقان عباسی کے بیٹے عبداللہ عباسی کو 55لاکھ روپے مالیت کی گھڑی ملی۔ اسی طرح شاہد خاقان کے ایک اور بیٹے نادر عباسی کو 1 کروڑ 70 لاکھ روپے مالیت کی گھڑی تحفے میں ملی جو انہوں نے 33 لاکھ 95 ہزار روپے جمع کروا کے اپنے پاس رکھ لی۔

    ریکارڈ کے مطابق 2018 میں وزیراعظم کے سیکرٹری فواد حسن فواد کو 19 لاکھ روپے مالیت کی گھڑی ملی۔ علاوہ ازیں 2018 میں وزیراعظم کے ملٹری سیکریٹری بریگیڈئیر وسیم کو20 لاکھ روپے مالیت کی گھڑی ملی، جو انہوں نے توشہ خانہ میں 3 لاکھ 74 ہزار روپے جمع کروا کے اپنے پاس رکھ لی۔

    عمران خان

    سابق وزیر اعظم عمران خان کو سال 2018 میں قیمتی تحائف موصول ہوئے۔ توشہ خانہ ریکارڈ کے مطابق ستمبر 2018 میں عمران خان کو 10 کروڑ 9 لاکھ روپے کےقیمتی تحائف موصول ہوئے، سابق وزیر اعظم عمران خان نے ایک عدد ڈائمنڈ گولڈ گھڑی مالیت 8کروڑ 50 لاکھ تھی جو 18 قیراط سونے کی بنی تھی، کلف لنکس مالیت56 لاکھ 70 ہزار روپے، ایک عدد پین مالیت 15 لاکھ روپے، ایک عدد انگوٹھی جس کی مالیت87 لاکھ 5 ہزار ہے، یہ تمام چیزیں 2 کروڑ ایک لاکھ 78 ہزار روپے میں خریدیں۔

    اس کے علاوہ عمران خان نے عود کی لکڑی سے تیارشدہ بکس اور2 پرفیوم مالیت 5 لاکھ روپے جو بغیر ادائیگی کے حاصل کیں۔ ایک عدد رولیکس گھڑی مالیت 15 لاکھ روپے صرف2 لاکھ 94 ہزار روپے ادا کرکے حاصل کی گئی۔

    دستاویز کے مطابق سابق وزیراعظم عمران خان نے ایک رولیکس گھڑی مالیت9 لاکھ روپے ادا کیے، ایک اور لیڈیز رولیکس گھڑی مالیت 4 لاکھ، ایک آئی فون مالیت 2 لاکھ 10 ہزار روپے ادا کیے، عمران خان نے دو جینٹس سوٹس مالیت 30 ہزار،4 عدد پرفیوم مالیت 35 ہزار،30 ہزار،26ہزار،40 ہزارروپے دیے۔

    دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ ایک پرس مالیت 6 ہزار،ایک لیڈیز پرس مالیت18 ہزار، ایک عدد بال پین مالیت28 ہزار روپے ہے، عمران خان نے صرف3 لاکھ 38 ہزار 600 روپے ادا کرکے حاصل کیے۔

    ستمبر 2018 میں سابق وزیراعظم کے چیف سیکیورٹی آفیسر رانا شعیب کو 29 لاکھ روپے کی رولکس گھڑی تحفے میں ملی جبکہ 27 ستمبر 2018 کو سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو 73 لاکھ روپے مالیت کے تحائف موصول ہوئے جو انہوں نے توشہ خانہ میں رکھوا دیئے تھے۔

    صدر عارف علوی

    صدر مملکت عارف علوی کو دسمبر 2018 میں 1 کروڑ 75 لاکھ روپے کی گھڑی ، قرآن پاک اور دیگر تحائف ملے ، جس میں سے انہوں نے قرآن مجید اپنے پاس رکھا اور دیگر تحائف توشہ خانہ میں جمع کرادیے۔ اسی طرح دسمبر 2018 میں خاتون اول بیگم ثمینہ علوی کو بھی 8 لاکھ روپے مالیت کا ہار اور 51 لاکھ روپے مالیت کا بریسلٹ ملا جو انہوں نے توشہ خانہ میں جمع کروادیا۔

    وزارت خارجہ کے چیف پروٹوکول آفیسر مراد جنجوعہ کو 29 جنوری 2019 کو 20 لاکھ روپے مالیت کی گھڑی تحفے میں ملی، جو انہوں نے رقم ادائیگی کے بعد رکھ لی۔

  • وفاقی کابینہ کا توشہ خانہ کا ریکارڈ پبلک کرنے کا فیصلہ

    وفاقی کابینہ کا توشہ خانہ کا ریکارڈ پبلک کرنے کا فیصلہ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت کابینہ کا اجلاس ہوا

    کابینہ اجلاس میں جاری ایجنڈے پر بات چیت کی گئی، کابینہ اجلاس کے حوالہ سے وفاقی وزیر دفاع کا کہنا ہے کہ وفاقی کابینہ نے توشہ خانہ کا ریکارڈ ریلیزکرنے کی اجازت دے دی،توشہ خانہ کاریکارڈ بہت جلد کابینہ ڈویژن کی ویب سائٹ پہ پوسٹ کر دیا جائے گا،

    واضح رہے کہ عمران خان کے خلاف توشہ خانہ کیس زیر سماعت ہے، عمران خان عدالتوں میں پیش نہیں ہو رہے، توشہ خانہ کیس میں عمران خان کے وارنٹ بھی جاری ہوئے تھے، پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ توشہ خانہ کا تمام ریکارڈ پبلک کیا جائے، عدالت نے بھی ایسا کرنے کا حکم دیا تھا جس پر آج وفاقی کابینہ نے فیصلہ کیا کہ توشہ خانہ کا تمام ریکارڈ پبلک کیا جائے گا

    لاہورہائیکورٹ نے حکومت کو 2002 سے قبل کا توشہ خانہ ریکارڈ پیش کرنے کا حکم دیا تھا،قیام پاکستان سے اب تک توشہ خانہ کی تفصیلات فراہمی کی درخواست پر سماعت لاہور ہائیکورٹ میں ہوئی۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا تھا کہ کابینہ نے 2002 سے اب تک کا توشہ خانہ کا ریکارڈ ڈی کلاسیفائیڈ کردیا ہے کہ یہ تحائف کس نے خریدے ۔ یہ سارا ریکارڈ ویب سائٹ پر ڈالا جائے گا۔وہ ریکارڈ نہیں دے رہے کہ بیرون ملک سے یہ تحائف دیے کس نے ہیں۔

     عدالت نے عمران خان کو 13 مارچ کو سیشن کورٹ میں پیش ہونے کا حکم دیا

    نیب ٹیم توشہ خانہ کی گھڑی کی تحقیقات کے لئے یو اے ای پہنچ گئی، 

    قیام پاکستان سے اب تک توشہ خانہ کے تحائف کی تفصیلات کا ریکارڈ عدالت میں پیش

    بزدار کے حلقے میں فی میل نرسنگ سٹاف کو افسران کی جانب سے بستر گرم کی فرمائشیں،تہلکہ خیز انکشافات

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے، ویڈیو وائرل

  • عمران خان توشہ خانہ کیس میں مسلسل 7 مرتبہ حاضر نہیں ہوئے،عدالت

    عمران خان توشہ خانہ کیس میں مسلسل 7 مرتبہ حاضر نہیں ہوئے،عدالت

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق توشہ خانہ کیس میں عمران خان کے 13 مارچ تک وارنٹ گرفتاری معطلی کیس کا عدالت نے تحریری فیصلہ جاری کر دیا ہے

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے تحریری فیصلہ جاری کیا ہے ،ناقابل ضمانت وارنٹ منسوخ کرنے کی درخواست پر سماعت کے بعد تحریری فیصلے میں عدالت نے عمران خان کی عدالت میں عدم پیشیوں کی تفصیلات بھی لکھیں، تحریری فیصلے کے مطابق عمران خان توشہ خانہ کیس میں مسلسل 7 مرتبہ حاضر نہیں ہوئے عمران خان مسلسل آئین کی پامالی کر رہے ہیں 15 دسمبر 2022 سے اب تک ایک بار بھی عدالت میں پیش نہیں ہوئے اگرعمران خان 13 مارچ کو بھی عدالت کے سامنے پیش نہ ہوئے تو وارنٹ گرفتاری دوبارہ بحال ہوسکتے ہیں

    گزشتہ روز اسلام آباد ہائی کورٹ نے توشہ خانہ کیس میں سیشن کورٹ کی جانب سے عمران خان کے جاری ناقابل ضمانت وارنٹ منسوخ کرنے کی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے عمران خان کے وارنٹ گرفتاری معطل کر دیے تھے عدالت نے عمران خان کو حکم دیا کہ وہ 13 مارچ کو سیشن عدالت میں پیش ہوں

    واضح رہے کہ28 فروری کو عدالت میں پیش نہ ہونے پر عدالت نے سابق وزیراعظم عمران خان کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے ،اسلام آباد پولیس وارنٹ پر عملدرآمد یقینی بنانے کے لئے زمان پارک گئی تھی مگر عمران خان کو گرفتار نہیں کر سکی تھی، عمران خان کو اسلام آباد ہائیکورٹ نے 13 مارچ تک کا ریلیف دے دیا ہے

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد توشہ خانہ کیس میں ایڈیشنل سیشن جج نے فرد جرم عائد کرنے کے لیے عمران خان کو 13 مارچ کو طلب کر لیا ہے

     عدالت نے عمران خان کو 13 مارچ کو سیشن کورٹ میں پیش ہونے کا حکم دیا

    نیب ٹیم توشہ خانہ کی گھڑی کی تحقیقات کے لئے یو اے ای پہنچ گئی، 

    قیام پاکستان سے اب تک توشہ خانہ کے تحائف کی تفصیلات کا ریکارڈ عدالت میں پیش

    بزدار کے حلقے میں فی میل نرسنگ سٹاف کو افسران کی جانب سے بستر گرم کی فرمائشیں،تہلکہ خیز انکشافات

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے، ویڈیو وائرل