Baaghi TV

Tag: توشہ خانہ

  • توشہ خانہ گھڑی کیس، نیب ٹیم کی یو اے ای میں تحقیقات، عمران خان مشکل میں

    توشہ خانہ گھڑی کیس، نیب ٹیم کی یو اے ای میں تحقیقات، عمران خان مشکل میں

    نیب ٹیم توشہ خانہ کی گھڑی کی تحقیقات کے لئے یو اے ای پہنچ گئی، نیب ٹیم نے گھڑی کے حوالہ سے بیانات ریکارڈ کر لئے، آنیوالے دنوں میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کے لئے مزید مشکلات کھڑی ہو سکتی ہے

    باخبر ذرائع کے مطابق نیب کی چار رکنی ٹیم یو اے ای گئی، رضوان خان نے نیب ٹیم کی سربراہی کی، نیب ٹیم نے یو اے ای میں عمران خان کی جانب سے توشہ خانہ سے لی جانے والی گھڑی فروخت کرنے کے حوالہ سے تحقیقات کی گئیں، نیب ٹیم نے یو اے ای میں گھڑی سے متعلقہ افراد کے بیانات ریکارڈ کئے اور معلومات لیں، باخبر ذرائع کے مطابق نیب نے توشہ خانہ کی قیمتی گھڑی جو سابق وزیراعظم عمران خان نے فروخت کی تھی، کی تحقیقات شروع کر رکھی ہیں اور عمران خان کو طلب بھی کر رکھا ہے، نیب کی ٹیم یو اے ای گئی اور تحقیقات کیں، نیب ٹیم نے توشہ خانہ کی وہ گھڑی جس کو عمران خان نے فروخت کیا اس کی یو اے ای میں ویری فکیشن کی، نیب ٹیم نے گھڑی سے متعلقہ ڈاکومنسٹس کو سیز کیا، نیب ٹیم نے یو اے ای میں گھڑی کی ویلیو ایشن کے حوالہ سے بھی تحقیقات کیں، باخبر ذرائع کے مطابق نیب ٹیم دکاندار سے بھی ملی جس نے نیب ٹیم کو یہ بتایا کہ یہ گھڑی دنیا میں ایک ہی ہے، اس جیسا کوئی دوسرا پیس کمپنی نے نہیں بنایا، یہ ایک ہی گھڑی تھی جو عمران خان کو تحفہ میں ملی اور انہوں نے آگے فروخت کری، نیب تحقیقاتی ٹیم کو کہا گیا کہ گھڑی کی ویلیوایشن کے لئے گراف کے آفس لندن رابطہ کریں، نیب ٹیم نے شفیق سے بھی تحقیقات کیں جس کی جعلی رسیدیں دکھائی گئی تھیں، آرٹ آف ٹائم والوں نے نیب ٹیم کو بیان ریکارڈ کرواتے ہوئے کہا کہ یہ رسیدیں ہماری نہیں تھیں، جعلی لگائی گئی ہیں

    تحریک انصاف کی جانب سے جس دکاندار کی رسیدیں دکھائی گئی تھیں ، شفیق نامی دکاندار میڈیا پر پہلے بھی بیان دے چکے ہیں میں نے کوئی گھڑی نہیں خریدی اور نہ مجھے اس کا علم ہے میرے خلاف پرو پیگنڈا چل رہا ہے کہ میں نےعمران خان کی گھڑی خریدی لیکن میں نے کوئی گھڑی خریدی ، نہ مجھے اسکا کوئی علم ہے نہ وہ میرا بل ہے، نہ دستخط اور نہ ہینڈ رائٹنگ ہے

    عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی دوست فرح گوگی نے گھڑی دبئی میں معروف کاروباری شخصیت عمر فاروق کو فروخت کی تھی، فرح گوگی خود دبئی گئی تھی اور گھڑی بیچی تھی، مذکورہ گھڑی کا سیٹ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے عمران خان کو تحفہ دیا تھا جو عمران خان نے توشہ خانہ سے خرید لیا، عمران خان نے جو گھڑی بیچی اس گھڑی کا سیٹ گراف نے تیار کیا یہ کمپنی گھڑیوں میں ہیرے جواہرات جڑنے کے لیے بھی مشہور ہے، عمران خان کی جانب سے فروخت کی جانے والی گھڑی ایک سپیشل ایڈیشن ہے جس کے ڈائل پر خانہ کعبہ کا ماڈل بھی بنا ہوا ہے اور اس میں ہیرے بھی جڑے ہوئے ہیں اس سیٹ پر بہت باریک بینی اور مہارت کے ساتھ 16 قیراط کے 266 ہیروں کی کندہ کاری کی گئی جبکہ گھڑی میں 18 قیراط سونا استعمال کیا گیا ہے

    نیب نے توشہ خانہ کیس میں عمران خان کو اور ان کی اہلیہ بشری بی بی کو 9 مارچ کو طلب کررکھا ہے، عمران خان کو نیب راولپنڈی کی جانب سے نوٹس جاری کیا گیا ہے اور انہیں ریکارڈ بھی ساتھ لانے کی ہدایت کی گئی ہے نوٹس میں کہا گیا ہے کہ عمران خان نے اپنے دور حکومت میں ملنے والے تحائف کو خلاف قانون فروخت کیا نیب نے 8 نومبر 2022 کو عمران خان کے خلاف توشہ خانہ کیس میں تحقیقات شروع کی تھیں

    GRAFF Certificate Cufflinks Certificate_Fountain Pen Set Certificate_GR46899_Diamond GIA diamond grading report_2194668569 GIA dimond grading report_2185824138 GIA dimond grading report_2197581954 KSA Spec.edition collection Set 2

  • عدالتی حکم عدولی پر کیوں نہ توہین عدالت کا شوکاز نوٹس جاری کیا جائے،عدالت برہم

    عدالتی حکم عدولی پر کیوں نہ توہین عدالت کا شوکاز نوٹس جاری کیا جائے،عدالت برہم

    توشہ خانہ سے تحائف وصول کرنیوالی شخصیات کی تفصیلات فراہمی کی درخواست پرسماعت ہوئی

    توشہ خانہ کے سربراہ کی جانب سے بیان حلفی جمع نہ کرانے پرلاہور ہائیکورٹ نے اظہار برہمی کیا، عدالت نے کہا کہ عدالتی حکم عدولی پر کیوں نہ توہین عدالت کا شوکاز نوٹس جاری کیا جائے،لاہور ہائیکورٹ نے توشہ خانہ کے سیکشن افسر کا مبہم جواب مسترد کر دیا ، لاہور ہائیکورٹ نے کہا کہ وہ افسر کہاں ہیں جسے بیان حلفی کے ساتھ طلب کیا گیا تھا،سیکشن آفیسر نے کہا کہ ہم توشہ خانہ کی معلومات ظاہرکرنے پر غور کر رہے ہیں، عدالت نے سیکشن آفیسر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ عدالت کو اس سے کوئی سروکار نہیں،توشہ خانہ کی تفصیلات بیان حلفی کےساتھ طلب کی تھیں وہ کہاں ہیں؟

    عدالت نے سرکاری وکیل کو رپورٹ کے ساتھ بیان حلفی جمع کرانے کی ہدایت کر رکھی تھی ،استدعا کی گئی کہ توشہ خانہ سے کس نے کتنے تحائف خریدے، تفصیل فراہم کی جائے،

    خیال رہے کہ 1974 میں قائم ہونے والا توشہ خانہ، کابینہ ڈویژن کے انتظامی کنٹرول کے تحت کام کرنے والا محکمہ ہے اور یہاں دیگر حکومتوں، ریاستوں کے سربراہاں اور غیرملکی شخصیات کی جانب سے جذبہ خیر سگالی کے طور پر حکمرانوں، اراکین پارلیمان، بیوروکریٹس اور حکام کو دیے جانے والے قیمتی تحائف کو رکھا جاتا ہے۔ قواعد کے تحت یہ لازمی ہے کہ توشہ خانہ میں ایک خاص قیمت کے تحفے جمع کروائے جائیں تاہم کسی بھی عہدیدار کو یہ تحائف رکھنے کی بھی اجازت ہے بشرطیکہ وہ توشہ خانہ جائزہ کمیٹی کے ذریعے لگائے گئے قیمت کے تخمینہ کا کچھ فیصد ادا کرے۔

    بزدار کے حلقے میں فی میل نرسنگ سٹاف کو افسران کی جانب سے بستر گرم کی فرمائشیں،تہلکہ خیز انکشافات

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے، ویڈیو وائرل

    بلاول نے ارجنٹینا کی جیت پر لیاری میں ہونے والے جشن کی ویڈیو شیئرکردی
    احسان فراموش نہ بنیں، پرویز الہی نے پی ٹی آئی کو کھری کھری سنا دی
    شوگر کے مریضوں کیلئے استعمال کی جانیوالی انسولین کی قلت کا انکشاف
    بے بنیاد پروپیگنڈا کیا گیا،ڈیم فنڈ اب بھی محفوظ ہے.ثاقب نثار

  • حکومت کا توشہ خانہ ریکارڈ پبلک کرنے کا فیصلہ

    حکومت کی جانب سے توشہ خانہ کا تمام ریکارڈ پبلک کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی: تفصیلات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس آج منعقد ہوا جس میں 4 نکاتی ایجنڈے پر غور کیا گیا وزیراعظم شہبازشریف کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہواجس میں ملکی سیاسی اورمعاشی صورتحال پرتفصیلی مشاورت ہوئی وزیرخزانہ اسحاق ڈارنے کابینہ کومعاشی صورتحال اوروزیرتوانائی خرم دستگیرنے بجلی بریک ڈاؤن پر بریفنگ دی-

    اجلاس کے دوران وفاقی کابینہ نے توشہ خانہ سے متعلق وزارتی کمیٹی کی سفارشات منظور کرتے ہوئے توشہ خانہ کا تمام ریکارڈ پبلک کرنے کی منظوری دے دی ہےتمام ریکارڈ پبلک کرنے کے فیصلے کے بعد کون سے حکمران نے کتنے تحائف لیے کتنی رقم ادا کی سب پبلک ہوگا۔

    اس حوالے سے وزیراعظم کا کہنا ہے کہ ہم عوام سے کوئی چیز نہیں چھپائیں گے ہر معاملے میں شفافیت کو یقینی بنائیں گے۔

    وزارت عظمیٰ کے امیدوار نواز شریف خود یا جسے وہ چاہیں گے وہ ہوگا،رانا ثنااللہ

    جبکہ کابینہ کو توانائی بچت پلان پر عملدرآمد پر بھی بریفنگ دی گئی ہے۔

    اس کے علاوہ وفاقی کابینہ میں بجلی بریک ڈاؤن پر بھی بات کی گئی جس دوران وزیراعظم نے بجلی کی طویل بریک ڈاؤن پر سخت برہمی کا اظہار کیا اس موقع پر وزیراعظم نے ذمہ داروں کے تعین کی ہدایت دی اور وزراء سے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بند کمروں میں بیٹھنے کے بجائے فیلڈ میں کام کریں اور جو وزیر اپنی ذمہ داری نہیں نبھا سکتا وہ عہدہ چھوڑ دے۔

    نواز شریف کے منجمد اثاثہ جات بحال کئے جائیں، عدالت میں درخواست

  • یان حلفی دیں کہ  کیسے توشہ خانہ کے تحائف خفیہ ہیں،عدالت

    یان حلفی دیں کہ کیسے توشہ خانہ کے تحائف خفیہ ہیں،عدالت

    لاہور ہائی کورٹ،توشہ خانہ سے تحائف وصول کرنیوالی شخصیات کی تفصیلات فراہم کرنے بارے درخواست پر سماعت ہوئی

    عدالت نے وفاقی حکومت کے وکیل کو توشہ خانہ کے ریکارڈ کے ساتھ بیان حلفی جمع کرانے کی ہدایت کردی، جسٹس عاصم حفیظ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ توشہ خانہ کے ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ کا بیان حلفی دیں کہ کیسے یہ تحائف خفیہ ہیں اگر عدالت مطمئن ہوئی کہ واقعی یہ تحائف خفیہ ہونے چاہیے تو عدالت سے پبلک کرنے کا حکم نہیں دے گی،

    جسٹس عاصم حفیظ نے شہری منیر احمد کی درخواست پر سماعت کی ،درخواست گزار کی جانب سے اظہر صدیق ایڈووکیٹ پیش ہوئے ، جسٹس عاصم حفیظ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ نے جواب میں لکھا ہے کہ توشہ خانہ کے تحائف منظر عام پر آنے سے میڈیا ہائپ بن جاتی ہے کیا صرف یہ وجہ ہے کہ توشہ خانہ کے تحائف خفیہ رکھا جاتے ہیں اس میں ملکی سلامتی اور بین الاقوامی تعلقات کہاں سے آگئے ،اگر ایک بی ایم ڈبلیو کی گاڑی کا تحفہ آتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ اس کے بدلے ایل این جی کا ٹھیکہ دیں تو پھر کیا ہو گا، عدالت نے کیس پر مزید سماعت 7 فروری تک ملتوی کر دی

    بلاول نے ارجنٹینا کی جیت پر لیاری میں ہونے والے جشن کی ویڈیو شیئرکردی
    احسان فراموش نہ بنیں، پرویز الہی نے پی ٹی آئی کو کھری کھری سنا دی
    شوگر کے مریضوں کیلئے استعمال کی جانیوالی انسولین کی قلت کا انکشاف
    بے بنیاد پروپیگنڈا کیا گیا،ڈیم فنڈ اب بھی محفوظ ہے.ثاقب نثار

    خیال رہے کہ 1974 میں قائم ہونے والا توشہ خانہ، کابینہ ڈویژن کے انتظامی کنٹرول کے تحت کام کرنے والا محکمہ ہے اور یہاں دیگر حکومتوں، ریاستوں کے سربراہاں اور غیرملکی شخصیات کی جانب سے جذبہ خیر سگالی کے طور پر حکمرانوں، اراکین پارلیمان، بیوروکریٹس اور حکام کو دیے جانے والے قیمتی تحائف کو رکھا جاتا ہے۔ قواعد کے تحت یہ لازمی ہے کہ توشہ خانہ میں ایک خاص قیمت کے تحفے جمع کروائے جائیں تاہم کسی بھی عہدیدار کو یہ تحائف رکھنے کی بھی اجازت ہے بشرطیکہ وہ توشہ خانہ جائزہ کمیٹی کے ذریعے لگائے گئے قیمت کے تخمینہ کا کچھ فیصد ادا کرے۔

    بزدار کے حلقے میں فی میل نرسنگ سٹاف کو افسران کی جانب سے بستر گرم کی فرمائشیں،تہلکہ خیز انکشافات

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے، ویڈیو وائرل

  • آئندہ سماعت پر کیا کوئی معجزہ ہو جائے گا؟توشہ خانہ کیس میں عدالت کے ریمارکس

    آئندہ سماعت پر کیا کوئی معجزہ ہو جائے گا؟توشہ خانہ کیس میں عدالت کے ریمارکس

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں توشہ خانہ کیس میں الیکشن کمیشن کے فیصلے کیخلاف درخواست پر سماعت ہوئی،

    معاون وکیل پی ٹی آئی نے کہا کہ بیرسٹر علی ظفر لاہور ہائیکورٹ میں مصروف ہیں،سماعت ملتوی کی جائے ،بیرسٹر علی طفر آئیں گے وہی دلائل دیں گے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ نے الیکشن کمیشن فیصلے کیخلاف لاہور ہائیکورٹ میں بھی درخواست دی ہے،ایک ہی کیس میں 2 جگہ پر درخواست نہیں دے سکتے، ایسا ہوتا ہے کہ ایک ہی نوٹس کو کئی عدالتوں میں چیلنج کر دیا جاتا ہے معاون وکیل نے کہا کہ عدالت سے استدعا ہے کہ آئندہ ہفتے کی کوئی تاریخ دے دیں۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس چیف جسٹس عامر فاروق نے معاون وکیل سے مسکراتے ہوئے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ سماعت پر کیا کوئی معجزہ ہو جائے گا،یہ اچھی چیز نہیں اگر ہم پڑھے لکھے لوگ بھی ایسا کام کریں عدالت نے پی ٹی آئی وکیل کی استدعا منظور کرتے ہوئے سماعت 25 جنوری تک ملتوی کردی ۔

    بزدار کے حلقے میں فی میل نرسنگ سٹاف کو افسران کی جانب سے بستر گرم کی فرمائشیں،تہلکہ خیز انکشافات

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے، ویڈیو وائرل

    واضح رہے کہ پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کی توشہ خانہ ریفرنس میں نااہلی الیکشن کمیشن نےعمران خان کو پارٹی چیئرمین شپ سے ہٹانے کی کارروائی شروع کر دی ہے توشہ خانہ کیس کا فیصلہ آنے کے بعد وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے عمران خان کیخلاف مقدمہ درج کروانے کا اعلان کیا تھا،وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ عمران خان کے خلاف فوجداری مقدمہ درج ہوگا یہ ایسی چوری ہے جس میں مقدمہ درج ہونے سے پہلے ہی سب کچھ ثابت ہے

  • توشہ خانہ،معلومات فراہم کرنی ہیں یا نہیں؟ حکومت سے ایک ماہ میں جواب طلب

    توشہ خانہ،معلومات فراہم کرنی ہیں یا نہیں؟ حکومت سے ایک ماہ میں جواب طلب

    اسلام آباد ہائی کورٹ ،قیام پاکستان سے لے کر اب تک وزرائے اعظم اور صدور کو ملنے والے تحائف کی تفصیلات کا معاملہ ،انفارمیشن کمیشن کے فیصلے کیمطابق معلومات فراہم کرنی ہیں یا نہیں؟ حکومت سے ایک ماہ میں جواب طلب کر لیا گیا

    تحریری حکمنامے میں عدالت نے کہا کہ کابینہ ڈویژن سے توشہ خانہ تحائف کی رپورٹ بھی ایک ماہ میں طلب کی گئی ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ نے کابینہ ڈویژن کو نوٹس جاری کر دیا ،تحریری حکمنامہ میں کہا گیا کہ کابینہ ڈویژن نے پانچ ماہ گزرنے کے باوجود توشہ خانہ تفصیلات نہیں دیں،تین صفحات پر مشتمل حکمنامہ جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے جاری کیا وکیل ابوذر سلمان نیازی نےتوشہ خانہ تحائف کی تفصیلات کے لیے اسلام اباد ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا

    درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ وزرائے اعظم اور صدور کو بیرون ملک سے ملنے والے تحائف کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔ اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ انفارمیشن کمیشن نے 29جون 2022 کو حکومت کو توشہ خانہ تفصیلات فراہمی کا حکم دیا لہذا اُس حکم پر عمل کرایا جائے۔درخواست گزار نے کہا کہ تحائف کی مارکیٹ ویلیو اور لگائی گئی قیمت کی تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔ ابوزر سلمان نیازی ایڈووکیٹ کی درخواست میں کابینہ ڈویژن ، انفارمیشن کمیشن فریق بنایا گیا ہے۔

    ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

    اکبر ایس بابر سچا اور عمران خان جھوٹا ثابت ہوگیا،چوھدری شجاعت

    عمران خان چوری کے مرتکب پارٹی سربراہی سے مستعفی ہونا چاہیے،عطا تارڑ

  • توشہ خانہ ریفرنس نیب کو واپس بھجوانے کا تحریری فیصلہ جاری

    توشہ خانہ ریفرنس نیب کو واپس بھجوانے کا تحریری فیصلہ جاری

    احتساب عدالت اسلا م آباد نے توشہ خانہ ریفرنس نیب کو واپس بھجوانے کا فیصلہ جاری کردیا

    سابق صدر آصف زرداری، نواز شریف اور یوسف رضا گیلانی کے خلاف کیسز نیب کو واپس بھجوانے کا فیصلہ جاری کیا گیا،عدالت نے فیصلے میں کہا کہ وکلا نے کہا کہ نیب آرڈیننس کے تحت 500 ملین سے کم مالیت کے مقدمات پر احتساب عدالت کا دائرہ اختیار نہیں بنتا، استغاثہ کے مطابق توشہ خانہ ریفرنس 12 کروڑ روپے کی کرپشن کا ریفرنس ہے، نیب آرڈیننس کے ترمیمی ایکٹ کے تحت سیکشن 5 او شامل کیا گیا تھا، ترمیم کے تحت 50 کروڑ روپے یا اس سے زائد کے مقدمات ہی احتساب عدالت کی دائرہ اختیار میں آتے ہیں،سیکشن 5 او کے تحت مقدمے میں احتساب عدالت کا دائرہ اختیار نہیں بنتا، توشہ خانہ ریفرنس چیئرمین نیب کو واپس بھیجا جاتا ہے، نیب ریفرنس کو متعلقہ فورم کو بھجوائے ،

    توشہ خانہ ریفرنس میں آصف زرداری ، یوسف رضا گیلانی اور نواز شریف نامزد تھے اومنی گروپ کے خواجہ برادران بھی توشہ خانہ ریفرنس میں ملزم نامزد تھے مسلسل عدم پیشی پر عدالت نے نواز شریف کو اشتہاری قرار دے رکھا تھا تحریری فیصلہ احتساب عدالت کے انچارج جج محمد بشیر نے جاری کیا

    خیال رہے کہ نواز شریف، آصف زرداری اور یوسف رضا گیلانی پر الزام ہے کہ وہ مختلف ممالک کے سربراہان کی جانب سے تحفے میں ملنے والی گاڑیاں معمولی رقم ادا کرنے کے بعد توشہ خانہ سے اپنے ہمراہ لے گئے تھے.
    مارچ 2020 میں پاکستان کے قومی احتساب بیورو (نیب) نے سابق صدر آصف علی زرداری سمیت دو وزرائے اعظم نواز شریف اور یوسف رضا گیلانی کے خلاف اسلام آباد کی ایک احتساب عدالت میں ’توشہ خانے‘ سے بیرون ملک سے تحائف کی صورت ملنے والی قیمتی کاریں خریدنے کا نیا ریفرنس دائر کیا تھا.
    مزید یہ بھی پڑھیں.
    سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی بحالی اور تعمیر نو کے لیے طویل المدتی تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا.وزیر خارجہ
    دل کے پیدائشی نقائص میں مبتلا بچوں کا اب اسٹیم سیلز سے علاج ممکن

    نیب کے مطابق ان عوامی عہدیداروں نے خلاف ضابطہ توشہ خانے سے قیمتی گاڑیاں خریدی ہیں۔ توشہ خانے میں صدور اور وزرائے اعظم کو بیرون ملک سے ملنے والے تحائف کو رکھا جاتا ہے اور کوئی بھی اسے گھر نہیں لے جا سکتا۔ نیب کے ریفرنس میں سابق صدر آصف زرداری اور سابق وزرائے اعظم نواز شریف اور یوسف رضا گیلانی پر سنہ 2004 میں سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے دور میں بنائی جانے والی پالیسی کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا گیا تھا.

    جھوٹ پھیلانے والا رنگے ہاتھوں پکڑا گیا ،عمران خان کی نااہلی پر بلاول کا ردعمل

    ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

    اکبر ایس بابر سچا اور عمران خان جھوٹا ثابت ہوگیا،چوھدری شجاعت

    عمران خان چوری کے مرتکب پارٹی سربراہی سے مستعفی ہونا چاہیے،عطا تارڑ

  • قیام پاکستان سے ابتک توشہ خانہ میں کون سےتحائف آئےبتایا جائے:درخواست سماعت کےمقرر

    قیام پاکستان سے ابتک توشہ خانہ میں کون سےتحائف آئےبتایا جائے:درخواست سماعت کےمقرر

    اسلام آباد ہائی کورٹ میں قیام پاکستان سے اب تک سربراہان مملکت کو بیرون ملک سے ملنے والے تحائف کی تفصیلات فراہم کرنے کی درخواست کو فوری سماعت کیلیے مقرر کرلیا گیا۔ذرائع کے مطابق توشہ خانہ تھائف کی تفصیلات کی فراہمی سے متعلق درخواست پر پیر 26 دسمبر کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب سماعت کریں گے۔

    مستحق فنکاروں کیلیے امداد 25 ہزار:چوہدری پرویز الٰٰٰٰٰٰٰٰٰٰٰٰٰٰٰٰٰہی نے اعلان…

    درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ وزرائے اعظم اور صدور کو بیرون ملک سے ملنے والے تحائف کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔ اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ انفارمیشن کمیشن نے 29جون 2022 کو حکومت کو توشہ خانہ تفصیلات فراہمی کا حکم دیا لہذا اُس حکم پر عمل کرایا جائے۔

    بلوچستان:دہشت گردوں کے خلاف آپریشن: بارودی سرنگ کا دھماکا، کیپٹن سمیت 5 جوان شہید

    درخواست گزار نے کہا کہ تحائف کی مارکیٹ ویلیو اور لگائی گئی قیمت کی تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔ ابوزر سلمان نیازی ایڈووکیٹ کی درخواست میں کابینہ ڈویژن ، انفارمیشن کمیشن فریق بنایا گیا ہے۔

    توشہ خانہ 1974ء میں تشکیل دیا گیا پاکستان کی کابینہ ڈویژن کے زیر کنٹرول ایک سرکاری ملکیت کا محکمہ ہے۔ اس کا بنیادی مقصد ان تحائف کو رکھنا ہے جو اراکین پارلیمنٹ، وزراء، خارجہ سیکرٹریوں، صدر اور وزیر اعظم وصول کرتے ہیں

    بجلی کےساتھ ساتھ گیس کی لوڈشیڈنگ بھی جاری:شارٹ فال 1200ایم ایم سی ایف ڈی سےبڑھ گیا

    کسی بھی غیر ملکی دورے کے دوران وزارتِ خارجہ کے اہلکار ان تحائف کا اندراج کرتے ہیں اور ملک واپسی پر ان کو توشہ خانہ میں جمع کروایا جاتا ہے۔یہاں جمع ہونے والے تحائف یادگار کے طور پر رکھے جاتے ہیں یا کابینہ کی منظوری سے انھیں فروحت کر دیا جاتا ہے۔

  • عمران خان کیخلاف توشہ خانہ کیس قابل سماعت ہے یا نہیں؟ فیصلہ 15 دسمبر کو

    عمران خان کیخلاف توشہ خانہ کیس قابل سماعت ہے یا نہیں؟ فیصلہ 15 دسمبر کو

    اسلام آباد سیشن کورٹ، عمران خان کیخلاف توشہ خانہ کیس کی سماعت ہوئی

    الیکشن کمیشن کے وکیل سعد حسن نے دلائل کا آغاز کر دیا ،کہا عمران خان نے کہا کہ توشہ خانہ سے ملنے والی رقم سے سڑک بنائی، 2018میں قانون بنا کہ 20 فیصد رقم توشہ خانہ میں جمع کروا کر تحفہ حاصل کیا جاسکتا ہے، تحریک انصاف کی حکومت نے 20 فیصد سے رقم 50 فیصد تک بڑھا دی،گھڑی کی قیمت ساڑھے آٹھ کروڑ روپے لگائی گئی،عمران خان بتانے میں ناکام رہے کہ گھڑی آگے کتنے میں بیچی گئی، کیس گھڑی نہیں بلکہ عمران خان کے اثاثوں کی تفصیلات سے متعلق ہے، عمران خان اور ان کی اہلیہ نے توشہ خانہ سے 58 تحائف لیے، عمران خان کی جانب سے لئے گئے تحائف کی مالیت 14 کروڑ 20 لاکھ روپے ہے،2018-19 میں عمران خان نے توشہ خانہ سے تقریباً 10کروڑ 70 لاکھ روپے کے تحائف لئے، جوتحائف یا پراپرٹی لی وہ ان کے اثاثوں میں شمار ہوگی،عمران خان کو اپنے تمام اثاثے الیکشن کمیشن کے سامنے ظاہرکرنے چاہیے تھے

    وکیل نے کہا کہ عمران خان نے توشہ خانہ سے جیولری بھی لی لیکن ظاہر نہیں کی، عمران خان نے اپنے گوشواروں میں 4 بکریوں اور 5 لاکھ روپے کا بھی ذکر کیا ہوا ہے سینیٹ،صوبائی یا قومی اسمبلی کیلئے الیکشن لڑنے والا کوئی فرد اپنے اثاثے ظاہرنہیں کرتا تویہ جرم ہے، عمران خان نے دوگنی قیمت کے تحائف توشہ خانہ سے نکلوائے جس کا اقراربھی کرچکے ہیں، عمران خان نے تمام تحائف کی ایک تہائی سے کم قیمت توشہ خانہ میں جمع کرائی،عمران خان تحائف کی قیمت پبلک نہیں کرنا چاہتے تھے،عمران خان نے توشہ خانہ سے142 ملین میں سے107 ملین روپے کے تحائف 20 فیصد قیمت پرحاصل کیے عمران خان دراصل چاہ ہی نہیں رہے تھے کہ 142 ملین روپوں کے تحائف پبلک کیے جائیں،2019/20 میں عمران خان نے ٹیکس ریٹرنزمیں 8 ملین روپے توشہ خانہ کی مد میں ظاہر کیے،عمران خان نے 2019/20 میں نہیں بتایا کہ 8 ملین روپے کن آئٹمزکی قیمت ہے اگرکوئی آئٹمز ٹرانسفر ہوئے تو اس کا بھی گوشواروں میں اظہار کرنا لازم ہے ایسا نہیں ہوسکتا کہ کوئی تحفہ یا آئٹم توشہ خانہ سے ملکیت بنایا جائے اورظاہر نہ کیا جائے عمران خان کی جانب سے 2020/21 کے گوشواروں کو الیکش کمیشن صحیح مانتا ہے 2020/21 تک توشہ خانہ کا معاملہ قومی اسمبلی اورکیس ہائیکورٹ میں آچکا تھا عمران خان کا توشہ خانہ کا طریقہ کارمنی لانڈرنگ والا ہے توشہ خانہ تحائف کی رقم کیا کسی اور نے ادا کی یا کیش میں کی گئی؟11 ملین کا جو ٹیکس بنتا تھا اس کو چھپایا گیا لیکن وہ معاملہ ٹیکس اتھارٹیزکا ہے، عمران خان کے 2017/18 اور 2020/21 کے گوشوارے درست ہیں عمران خان کے 2018/19 اور 2019/20 کے گوشوارے متنازع ہیں،2021 میں کچھ رقم کوظاہرکیا گیا جو اس سے پچھلے 2 سال میں ظاہرنہیں کیا گیا

    عمران خان کے خلاف توشہ خانہ کیس قابل سماعت ہے یا نہیں؟ فیصلہ 15 دسمبر کو سنایا جائے گا سیشن کورٹ اسلا م آباد نے فیصلہ سنانے کیلئے 15 دسمبر کی تاریخ مقرر کر دی ،جج سیشن کورٹ اسلا م آباد ظفر اقبال کا کہنا ہے کہ 15دسمبر کو 2 بجے فیصلہ سنایا جائے گا،

    دوسری جانب تحریک انصاف نے الیکشن کمیشن کو ترمیم شدہ پارٹی آئین کی کاپی جمع کرادی تحریک انصاف نے پارٹی آئین میں ترمیم کے ذریعے جماعتی ڈھانچے میں تبدیلی کی ہے ترمیم کے ذریعےپارٹی ٹکٹ جاری کرنےکیلئے باقاعدہ طریقہ کار وضع کیا گیا، الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف سے ترمیم شدہ پارٹی آئین طلب کیا تھا،

    واضح رہے کہ توشہ خانہ کیس میں الیکشن کمیشن عمران خان کو نااہل کر چکا ہے،اب نیب نے بھی تحقیقات شروع کر دی ہیں، نیب نے توشہ خانہ کے حوالہ سے سابق وزیراعظم نواز شریف، سابق صدر آصف زرداری، سید یوسف رضا گیلانی کے خلاف بھی تحقیقات کی تھیں،الیکشن کمیشن نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کو 63 ون کے تحت نااہل قراردیا تھا،الیکشن کمیشن کی جانب سے کہا گیا کہ عمران خان کی نااہلی 5 رکنی کمیشن کا متفقہ فیصلہ ہے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے غلط گوشوارے جمع کروائے

    توشہ خانہ کیس کا فیصلہ آنے کے بعد وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے عمران خان کیخلاف مقدمہ درج کروانے کا اعلان کیا تھا،وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ عمران خان کے خلاف فوجداری مقدمہ درج ہوگا یہ ایسی چوری ہے جس میں مقدمہ درج ہونے سے پہلے ہی سب کچھ ثابت ہے

    جھوٹ پھیلانے والا رنگے ہاتھوں پکڑا گیا ،عمران خان کی نااہلی پر بلاول کا ردعمل

    ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

    اکبر ایس بابر سچا اور عمران خان جھوٹا ثابت ہوگیا،چوھدری شجاعت

    عمران خان چوری کے مرتکب پارٹی سربراہی سے مستعفی ہونا چاہیے،عطا تارڑ

  • توشہ خانہ نااہلی کیس کی سماعت 12 دسمبر تک ملتوی

    توشہ خانہ نااہلی کیس کی سماعت 12 دسمبر تک ملتوی

    اسلام آباد سیشن کورٹ،عمران خان توشہ خانہ نااہلی کیس کی سماعت ہوئی

    توشہ خانہ کیس میں درخواست گزار محسن شاہنواز رانجھا عدالت میں موجود تھے ،الیکشن کمیشن کے وکیل سعد حسن بھی عدالت میں پیش ہوئے ،ڈپٹی ڈائریکٹر فنانس الیکشن کمیشن مصدق انور کا بیان قلم بند کیا گیا،نمائندہ الیکشن کمیشن نے کہا کہ عمران خان کی بینک اسٹیٹمنٹ کی نقل جمع کروانے کا کہا گیا ہے، عمران خان کی بینک اسٹیٹمنٹس کی نقول 31 صفحات پر مشتمل ہیں، بینک اسٹیٹمنٹس الیکشن کمیشن کے ریکارڈ میں جمع ہیں، عمران خان کی کاغذات نامزدگی کی نقول بھی عدالت میں جمع کروا دی گئیں عمران خان کی کاغذاتِ نامزدگی کی نقول 59 صفحات پر مشتمل ہیں، ڈپٹی ڈائریکٹر فنانس الیکشن کمیشن مصدق انور کا بیان عدالت میں قلمبند کر لیا گیا

    محسن شاہ نواز رانجھا کی جانب سے وکیل ثمن میمن عدالت میں پیش ہوئیں،وکیل محسن رانجھا نے عدالت سے استدعا کی کہ توشہ خانہ ریفرنس میں فریق بننا چاہتے ہیں، عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ شکایت کنندہ ایک ہی رہے گا بہتر ہے آپ گواہ بن جائیں، اگلی سماعت پر پراسیکیوشن کے دلائل تفصیل سے سنیں گے، ثبوت بھی دیکھیں گے، عدالت نے توشہ خانہ نااہلی کیس کی سماعت 12 دسمبر تک ملتوی کردی

    واضح رہے کہ الیکشن کمیشن نے توشہ خانہ ریفرنس ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کو بھیجوایا تھا اور ڈسٹرکٹ الیکشن کمیشنر نے شکایت میں کہا تھا کہ ٹرائل کورٹ عمران خان پر کرپٹ پریکٹس کا ٹرائل کرے، عمران خان نے اثاثوں کی جھوٹی تفصیلات جمع کرائیں۔ سیکشن 174 کے تحت جھوٹی تفصیلات جمع کرانے کی سزا بھی ہے، عدالت شکایت منظور کرکے عمران خان کو سیکشن 167 اور 173 کے تحت سزا دے۔خیال رہے کہ مذکورہ سیکشنز کے تحت تین سال جیل اور جرمانہ کی سزا سنائی جا سکتی ہے الیکشن کمیشن نے فیصلے میں عمران خان کیخلاف فوجداری کارروائی کا حکم دیا تھا اور توشہ خانہ ریفرنس الیکشن ایکٹ کے سیکشن 137 ،170 ،167 کے تحت بھجوایا گیا تھا

    واضح رہے کہ توشہ خانہ کیس میں الیکشن کمیشن عمران خان کو نااہل کر چکا ہے،اب نیب نے بھی تحقیقات شروع کر دی ہیں، نیب نے توشہ خانہ کے حوالہ سے سابق وزیراعظم نواز شریف، سابق صدر آصف زرداری، سید یوسف رضا گیلانی کے خلاف بھی تحقیقات کی تھیں،الیکشن کمیشن نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کو 63 ون کے تحت نااہل قراردیا تھا،الیکشن کمیشن کی جانب سے کہا گیا کہ عمران خان کی نااہلی 5 رکنی کمیشن کا متفقہ فیصلہ ہے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے غلط گوشوارے جمع کروائے

    توشہ خانہ کیس کا فیصلہ آنے کے بعد وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے عمران خان کیخلاف مقدمہ درج کروانے کا اعلان کیا تھا،وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ عمران خان کے خلاف فوجداری مقدمہ درج ہوگا یہ ایسی چوری ہے جس میں مقدمہ درج ہونے سے پہلے ہی سب کچھ ثابت ہے

    جھوٹ پھیلانے والا رنگے ہاتھوں پکڑا گیا ،عمران خان کی نااہلی پر بلاول کا ردعمل

    ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

    اکبر ایس بابر سچا اور عمران خان جھوٹا ثابت ہوگیا،چوھدری شجاعت

    عمران خان چوری کے مرتکب پارٹی سربراہی سے مستعفی ہونا چاہیے،عطا تارڑ