Baaghi TV

Tag: توشہ خانہ

  • توشہ خانہ کیس، نیب نوٹس،عمران خان نے چیلنج کر دیا

    توشہ خانہ کیس، نیب نوٹس،عمران خان نے چیلنج کر دیا

    توشہ خانہ کیس، نیب کی نئی تحقیقات ،عمران خان نے نیب طلبی کا نوٹس چیلنج کر دیا

    عمران خان نے نیب نوٹس کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کر دی،عمران خان نے دائر درخواست میں اسلام آباد ہائیکورٹ سے درخواست پر فیصلے تک نیب نوٹس معطل کرنے کی استدعا کی ہے،عمران خان نے بیرسٹر سلمان صفدر، عثمان گل اور خالد چوہدری کے ذریعے درخواست دائر کی ہے، درخواست میں کہا گیا ہے کہ ایک ہی الزام کے کیسز میں مختلف قسم کی کاروائی نہیں ہو سکتی

    نئی انکوائری میں عمران خان اور بشریٰ بی بی پر تحائف کی غیرقانونی فروخت کا الزام ہے عمران خان اور بشریٰ بی بی کو 16 اپریل کو نیب راولپنڈی میں طلب کیا گیا تھا

    دوسری جانب بشریٰ بی بی کی درخواست آج اسلام آباد ہائیکورٹ کے ڈویژن بینچ میں سماعت کے لیے مقرر ہے جس پر چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ عامر فاروق اور جسٹس طارق محمود جہانگیری سماعت کریں گے۔بشریٰ بی بی نے بھی نیب نوٹس کو چیلنج کر رکھا ہے،

    توشہ خانہ کیس میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا معطل

    سائفر کیس، آج مایوسی ہوئی، عدالت کو کہا فیصلے کو منوائیں، وکیل عمران خان

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

    سائفر کی ماسٹر کاپی وزارت خارجہ کے پاس موجود ہے،اعظم خان کا بیان

    عمران خان اور جیل سپرنٹنڈنٹ کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ

  • توشہ خانہ کیس، عمران خان، بشریٰ کی سزا معطل

    توشہ خانہ کیس، عمران خان، بشریٰ کی سزا معطل

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے توشہ خانہ کیس میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا معطل کر دی ہے

    چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ عامرفاروق نے قرار دیا کہ سزا کے خلاف اپیل عید کے بعد مقرر کریں گے۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق کی کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کی توشہ خانہ کیس میں سزا معطلی کی درخواست پر سماعت کی، عمران خان کی طرف سے علی ظفر نے دلائل دیئے،دوران سماعت عدالت نے استفسار کیا کہ ” کیا آج اپیل سماعت کے لیے مقرر ہے؟ اپیل شروع نہیں کریں گے، اگرآپ چاہتے ہیں تو سزا معطلی پر دلائل دےدیں”.علی ظفر نے کہا کہ ہم سزا معطلی کی بجائے مرکزی اپیل پر دلائل دیں گے

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ توشہ خانہ کیس آج سن کر کل سماعت کے لیے نہیں رکھ سکتے، سائفر کیس میں ایف آئی اے کے دلائل شروع ہونے ہیں، ہمیں نہیں معلوم وہ کتنا وقت لیتے ہیں، ہم توشہ خانہ کیس کو عید کے بعد رکھ لیتے ہیں، نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ فیصلے کا جائزہ لیا ہے یہ سزا معطلی کا کیس ہے، اس پر عدالت نے کہا کہ یہ نیب کا بڑا قابل تعریف موقف ہے، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے نیب پراسیکیوٹر سے استفسارکیا کہ کیا نیب سزا معطلی پر کوئی موقف پیش کرنا چاہتا ہے؟ پراسیکیوٹر نیب امجد پرویز نے کہا کہ نیب کو سزا معطلی پر کوئی اعتراض نہیں، مرکزی اپیلیں ابھی نہیں سنی جا سکتیں،

    عدالت نے عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی توشہ خانہ کیس میں سزا معطل کردی اور دونوں کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا ہے

    سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف توشہ خانہ ریفرنس 5 ستمبر 2022 کو دائر کیا گیا تھا ،اڈیالہ جیل میں کیس کی سماعت ہوئی تھی، عدالت نے 31 جنوری 2024 کو عمران خان اور ان کی اہلیہ کو 14،14 سال قید کی سزا سنائی تھی۔

    واضح رہے کہ عمران خان نے توشہ خانہ اور سائفر کیس میں سزاؤں کے اپیلیں اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر کررکھی ہیں بیرسٹر سلمان صفدر اور بیرسٹر علی ظفر کی جانب سے دائر اپیلوں میں سزاؤں کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے، اپیلوں کے حتمی فیصلے تک عمران خان نے سزا معطل کرکے ضمانت پر رہائی کی بھی استدعا کی گئی ہے،

    قبل ازیں بشریٰ بی بی نے نیب توشہ خانہ ریفرنس میں سزا کیخلاف اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا،بشریٰ بی بی نے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر، ظہیر عباس اور عثمان گل کے ذریعے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائرکی، بشریٰ بی بی کی جانب سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی کہ احتساب عدالت کی جانب سے توشہ خانہ ریفرنس میں سنائی گئی سزا کو کالعدم قرار دیا جائے،

    توشہ خانہ تحائف کا کیس،احتساب عدالت اسلام آباد نے بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کیخلاف تحریری فیصلہ جاری کیا تھا،عدالت نے تحریری فیصلے میں کہا کہ استغاثہ اپنا کیس ثابت کرنے میں کامیاب رہی،نیب نے توشہ خانہ کیس میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف مقدمہ بغیر کسی شک کے ثابت کردیا.عمران خان اور بشری بی بی کو چودہ سال قید کا حکم دیا جاتا ہے،جیل میں گزارا ہوا وقت سزا میں شامل تصور ہوگا، تحریری فیصلہ 23 صفحات پر مشتمل ہے، فیصلے میں کہا گیا کہ عمران خان اور بشری بی بی نے وزیراعظم آفس کا غلط استعمال کرتے ہوئے 1573.72 ملین کا مالی فائدہ حاصل کیا، دونوں قومی خزانے کو نقصان پہنچانے کے مرتکب پائے گئے،فراڈ کے ذریعے پبلک پراپرٹی کو حاصل کیا گیا، سیٹ کی مالیت پرائیویٹ لگوائے تخمینہ سے کہیں زیادہ تھی ،عمران اور بشریٰ کو نیب آرڈیننس کی سیکشن 9 اے تھری، فور، سکس اور سیون کے تحت 14، 14 سال قید اور 787 ملین روپے کا الگ الگ جرمانہ عائد کیا جاتا ہے،احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے عمران خان کو 10 سال کے لیے نااہل بھی قرار دیا، عدالت نے عمران خان اور بشریٰ بی بی پرمجموعی طور پر 1 ارب 57 کروڑ 40 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا ،عدالت نے عمران خان پر 78 کروڑ 70 لاکھ روپے جبکہ بشریٰ بی بی پر بھی 78 کروڑ 70 لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کیا .

  • توشہ خانہ کیس،عمران خان کی سزا کیخلاف اپیل پر نیب کو نوٹس جاری

    توشہ خانہ کیس،عمران خان کی سزا کیخلاف اپیل پر نیب کو نوٹس جاری

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے عمران خان کی توشہ خانہ کیس میں سزا کے خلاف اپیل پر نیب کو نوٹسز جاری کر دیئے ہیں

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن نے سماعت کی،عمران خان کے وکیل علی ظفر عدالت میں پیش ہوئے، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ ٹرائل میں عجیب و غریب باتیں ہوئی ہیں،چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ عامر فاروق نے کہا کہ جب آپ دلائل دیں تو اس وقت یہ چیزیں پوائنٹ آؤٹ کیجئے گا،عدالت نے توشہ خانہ کیس میں بشریٰ بی بی کی سزا کے خلاف اپیل پر بھی نیب کو نوٹس جاری کر دیا،عمران خان کے دونوں کیسز میں سزا معطلی کی درخواستوں پر بھی جمعرات کے لیے نوٹس کیا گیا ہے

    واضح رہے کہ عمران خان نے توشہ خانہ اور سائفر کیس میں سزاؤں کے اپیلیں اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر کررکھی ہیں بیرسٹر سلمان صفدر اور بیرسٹر علی ظفر کی جانب سے دائر اپیلوں میں سزاؤں کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے، اپیلوں کے حتمی فیصلے تک عمران خان نے سزا معطل کرکے ضمانت پر رہائی کی بھی استدعا کی گئی ہے،

    قبل ازیں بشریٰ بی بی نے نیب توشہ خانہ ریفرنس میں سزا کیخلاف اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا،بشریٰ بی بی نے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر، ظہیر عباس اور عثمان گل کے ذریعے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائرکی، بشریٰ بی بی کی جانب سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی کہ احتساب عدالت کی جانب سے توشہ خانہ ریفرنس میں سنائی گئی سزا کو کالعدم قرار دیا جائے،

    سائفر کیس کا فیصلہ 30 جنوری ، توشہ خانہ نیب کیس کا فیصلہ 31 جنوری کو سنایا گیا تھا ،3 فروری کو دوران عدت نکاح کیس کا فیصلہ سیشن عدالت نے سنایا تھا ،دو ہفتے گزرنے کے بعد بانی پی ٹی آئی کی سزا کے خلاف اپیلیں دائر کی گئی ہیں،دوران عدت نکاح کیس میں عمران خان اور ان کی اہلیہ کو عدت میں نکاح کیس میں سزا سنا دی گئی،عمران خان اور بشری بی بی کا نکاح غیر شرعی قرار دے دیا گیا،عمران خان اور بشری بی بی کو 7،7 سال قید اور 5 لاکھ جرمانہ کی سزا سنا دی گئی،

    واضح رہے کہ ‏توشہ خانہ کیس: عمران خان اور بشریٰ بی بی کو 14، 14 سال کی سزا سنا دی گئی.احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کو سزا سنائی،توشہ خانہ کیس میں عدالت نے عمران خان اور بشری بی بی کو 787 ملین جرمانہ بھی کیا،عدالت نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کو عوامی عہدے کیلئے10 سال کیلئے نااہل کردیا.عدالت نے بشری بی بی کو گرفتار کرنے کا حکم جاری کر دیا.جس وقت فیصلہ سنایا گیا بشریٰ بی بی عدالت میں موجود نہیں تھی،

    قبل ازیں سائفر کیس کی خصوصی عدالت نے کیس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو 10،10 سال قید با مشقت کی سزا سنادی،خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو سزا سنائی۔

    سائفر کیس، آج مایوسی ہوئی، عدالت کو کہا فیصلے کو منوائیں، وکیل عمران خان

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

    سائفر کی ماسٹر کاپی وزارت خارجہ کے پاس موجود ہے،اعظم خان کا بیان

    عمران خان اور جیل سپرنٹنڈنٹ کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ

  • زرداری،نواز ،گیلانی،توشہ خانہ ریفرنس کی سماعت نہ ہو سکی

    زرداری،نواز ،گیلانی،توشہ خانہ ریفرنس کی سماعت نہ ہو سکی

    احتساب عدالت اسلام آباد،آصف زرداری، نوازشریف، یوسف رضا گیلانی اور دیگر کے خلاف توشہ خانہ گاڑیوں کا ریفرنس کیس کی سماعت نہ ہو سکی

    نئے تعینات جج ناصرجاوید رانا کے تاحال چارج نہ لینے کے باعث کوئی کاروائی نہ ہو سکی،عدالت نے ملزمان کی حاضری لگانے کے بعد سماعت13 مارچ تک کیلئے ملتوی کردی،احتساب عدالت کے جج محمد بشیر اس سے قبل کیس سن رہے تھے تا ہم انہوں نے رخصت کی درخواست دی جس پر انکی جگہ جج ناصر جاوید رانا کو تعینات کر دیا گیا ہے،

    توشہ خانہ گاڑیوں کے ریفرنس پر عدالت نے چار جنوری تک نیب سے رپورٹ طلب کرلی۔

    سات منٹ پورے نہیں ہوئے اور میاں صاحب کو ریلیف مل گیا،شہلا رضا کی تنقید

    پینا فلیکس پر نواز شریف کی تصویر پھاڑنے،منہ کالا کرنے پر مقدمہ درج

    نواز شریف کے خصوصی طیارے میں جھگڑا،سامان غائب ہونے کی بھی اطلاعات

    میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے دل کے اندر کبھی کوئی انتقام کا جذبہ نہ لے کر آنا، نواز شریف

    نواز شریف ،عوامی جذبات سے کھیل گئے

    خیال رہے کہ نواز شریف، آصف زرداری اور یوسف رضا گیلانی پر الزام ہے کہ وہ مختلف ممالک کے سربراہان کی جانب سے تحفے میں ملنے والی گاڑیاں معمولی رقم ادا کرنے کے بعد توشہ خانہ سے اپنے ہمراہ لے گئے تھے.
    مارچ 2020 میں پاکستان کے قومی احتساب بیورو (نیب) نے سابق صدر آصف علی زرداری سمیت دو وزرائے اعظم نواز شریف اور یوسف رضا گیلانی کے خلاف اسلام آباد کی ایک احتساب عدالت میں ’توشہ خانے‘ سے بیرون ملک سے تحائف کی صورت ملنے والی قیمتی کاریں خریدنے کا نیا ریفرنس دائر کیا تھا.

    نیب کے مطابق ان عوامی عہدیداروں نے خلاف ضابطہ توشہ خانے سے قیمتی گاڑیاں خریدی ہیں۔ توشہ خانے میں صدور اور وزرائے اعظم کو بیرون ملک سے ملنے والے تحائف کو رکھا جاتا ہے اور کوئی بھی اسے گھر نہیں لے جا سکتا۔ نیب کے ریفرنس میں سابق صدر آصف زرداری اور سابق وزرائے اعظم نواز شریف اور یوسف رضا گیلانی پر سنہ 2004 میں سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے دور میں بنائی جانے والی پالیسی کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا گیا تھا.

  • عمران خان کو سزا سنانے کے بعد جج محمد بشیر کی ایک بار پھر چھٹی کی درخواست

    عمران خان کو سزا سنانے کے بعد جج محمد بشیر کی ایک بار پھر چھٹی کی درخواست

    توشہ خانہ کیس کا فیصلہ سنائے جانے کے بعد، احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے ایک بار پھر چھٹی کی درخؤاست دے دی

    جج محمد بشیر نے چھٹی کی درخواست میں کہا ہے کہ ریٹائرمنٹ تک چھٹی دی جائے، صحت صحیح نہیں اسلئے چھٹی دی جائے اور درخؤاست منظور کی جائے،جج محمد بشیر نے چند دن قبل بھی چھٹی کی درخؤاست دے دی تھی تاہم بعدمیں انہوں نے واپس لے لی تھی، احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کے توشہ خانہ کیس کی سماعت کی اور انہیں سزا سنائی، القادر ٹرسٹ کیس کی بھی وہی سماعت کر رہے ہیں، توقع ہے کہ انہیں اس کیس کا فیصلہ سنانے کے بعد ہی چھٹی ملے گی،

    جج محمد بشیر ایک اور توشہ خانہ ریفرنس کی سماعت بھی کر رہے ہیں جو سابق وزیراعظم نواز شریف اور یوسف رضا گیلانی کیخلاف اور سابق صدر آصف علی زرداری کیخلاف ہے۔ یہی جج آصف زرداری کیخلاف جعلی اکاؤنٹس کے کیس اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کیخلاف ایک نیب کیس کی سماعت بھی کر رہے ہیں۔

    20؍ جنوری کو جج بشیر نے خرابی صحت کو وجہ بتاتے ہوئے 14؍ مارچ کو اپنی ریٹائرمنٹ تک طبی چھٹی کی درخواست دی تھی جو منظور نہیں کی گئی تھی جس کے بعد جج محمد بشیر نے درخواست واپس لے لی تھی،

    جج بشیر 2012ء سے احتساب عدالت میں کام کر رہے ہیں، 2018 میں انہوں نے ایوین فیلڈ کیس میں نواز شریف، ان کی بیٹی مریم نواز اور داماد کیپٹن صفدر کو سزا سنائی تھی، اسلام آباد ہائی کورٹ نے گزشتہ سال 29 نومبر 2023 کو فیصلے کو ختم کر دیا تھا، جج محمد بشیر 11 سال سے نیب عدالت میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ ان کی مدت ملازمت میں سابق وزرائے اعظم نواز شریف نے 2018 اور عمران خان نے 2021 میں توسیع کی تھی۔ دونوں وزرائے اعظم کو اسی جج نے سزا سنائی جسے دو مرتبہ اپنے اپنے دور میں متعلقہ وزیراعظم نے عہدے میں توسیع دی،جج احتساب عدالت محمد بشیر خود 14 مارچ کو عہدے سے سبکدوش ہوجائیں گے

    واضح رہے کہ ‏توشہ خانہ کیس: عمران خان اور بشریٰ بی بی کو 14، 14 سال کی سزا سنا دی گئی.احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کو سزا سنائی،توشہ خانہ کیس میں عدالت نے عمران خان اور بشری بی بی کو 787 ملین جرمانہ بھی کیا،عدالت نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کو عوامی عہدے کیلئے10 سال کیلئے نااہل کردیا.عدالت نے بشری بی بی کو گرفتار کرنے کا حکم جاری کر دیا.جس وقت فیصلہ سنایا گیا بشریٰ بی بی عدالت میں موجود نہیں تھی،

    قبل ازیں گزشتہ روز سائفر کیس کی خصوصی عدالت نے کیس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو 10،10 سال قید با مشقت کی سزا سنادی،خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو سزا سنائی۔

    سائفر کیس، آج مایوسی ہوئی، عدالت کو کہا فیصلے کو منوائیں، وکیل عمران خان

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

    سائفر کی ماسٹر کاپی وزارت خارجہ کے پاس موجود ہے،اعظم خان کا بیان

    عمران خان اور جیل سپرنٹنڈنٹ کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ

  • توشہ خانہ کیس،عمران ،بشریٰ کو سزا، تحریری فیصلہ جاری

    توشہ خانہ کیس،عمران ،بشریٰ کو سزا، تحریری فیصلہ جاری

    توشہ خانہ تحائف کا کیس،احتساب عدالت اسلام آباد نے بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کیخلاف تحریری فیصلہ جاری کردیا
    عدالت نے تحریری فیصلے میں کہا کہ استغاثہ اپنا کیس ثابت کرنے میں کامیاب رہی،نیب نے توشہ خانہ کیس میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف مقدمہ بغیر کسی شک کے ثابت کردیا.عمران خان اور بشری بی بی کو چودہ سال قید کا حکم دیا جاتا ہے،جیل میں گزارا ہوا وقت سزا میں شامل تصور ہوگا، تحریری فیصلہ 23 صفحات پر مشتمل ہے، فیصلے میں کہا گیا کہ عمران خان اور بشری بی بی نے وزیراعظم آفس کا غلط استعمال کرتے ہوئے 1573.72 ملین کا مالی فائدہ حاصل کیا، دونوں قومی خزانے کو نقصان پہنچانے کے مرتکب پائے گئے،فراڈ کے ذریعے پبلک پراپرٹی کو حاصل کیا گیا، سیٹ کی مالیت پرائیویٹ لگوائے تخمینہ سے کہیں زیادہ تھی ،عمران اور بشریٰ کو نیب آرڈیننس کی سیکشن 9 اے تھری، فور، سکس اور سیون کے تحت 14، 14 سال قید اور 787 ملین روپے کا الگ الگ جرمانہ عائد کیا جاتا ہے

    احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے عمران خان کو 10 سال کے لیے نااہل بھی قرار دیا، عدالت نے عمران خان اور بشریٰ بی بی پرمجموعی طور پر 1 ارب 57 کروڑ 40 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا ،عدالت نے عمران خان پر 78 کروڑ 70 لاکھ روپے جبکہ بشریٰ بی بی پر بھی 78 کروڑ 70 لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کیا .

    واضح رہے کہ ‏توشہ خانہ کیس: عمران خان اور بشریٰ بی بی کو 14، 14 سال کی سزا سنا دی گئی.احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کو سزا سنائی،توشہ خانہ کیس میں عدالت نے عمران خان اور بشری بی بی کو 787 ملین جرمانہ بھی کیا،عدالت نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کو عوامی عہدے کیلئے10 سال کیلئے نااہل کردیا.عدالت نے بشری بی بی کو گرفتار کرنے کا حکم جاری کر دیا.جس وقت فیصلہ سنایا گیا بشریٰ بی بی عدالت میں موجود نہیں تھی،

    قبل ازیں گزشتہ روز سائفر کیس کی خصوصی عدالت نے کیس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو 10،10 سال قید با مشقت کی سزا سنادی،خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو سزا سنائی۔

    سائفر کیس، آج مایوسی ہوئی، عدالت کو کہا فیصلے کو منوائیں، وکیل عمران خان

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

    سائفر کی ماسٹر کاپی وزارت خارجہ کے پاس موجود ہے،اعظم خان کا بیان

    عمران خان اور جیل سپرنٹنڈنٹ کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ

    عمران خان اور بشریٰ بی بی کو سزا کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ 

     بنی گالہ میں سارے سودے ہوتے تھے کہا گیا میرا تحفہ میری مرضی

  • بشریٰ بی بی تحائف بلیک میں فروخت کراتی تھیں،عطا تارڑ

    بشریٰ بی بی تحائف بلیک میں فروخت کراتی تھیں،عطا تارڑ

    مسلم لیگ ن کے رہنما عطا تارڑ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں ایک اہم دن ہے, احتساب کے حوالے سے، مدینہ کی ریاست کا نام لے کر کرپشن کی گئی،

    عطا اللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ بیرون ملک سے آنے والے تحائف بلیک مارکیٹ میں فروخت کیے،اونے پونے سرکاری کاغذات میں بیچ کر کہیں اور سے اربوں روپے وصول کیے جاتے،تحائف کی قیمت کم لگوائی گئی، ایک گھڑی بازار سے خریدی نہیں جا سکتی، وہ نایاب چیز جو مارکیٹ میں دستیاب نہیں، 90 کڑور سے ایک ارب تک اس کی قیمت لگتی،لوکل سطح پر 10 کڑور تک قیمت لگوائی, 50 فیصد توشہ خانہ میں جمع کروایا، بلیک مارکیٹ سے 80 کروڑکا منافع کھا لیا،آج 14، 14 سال کی سزا سنائی گئی ہے، گراف کا سیٹ جو 3 ارب روپے کا تخمینہ لگایا گیا ہے جس پر آج کا فیصلہ آیا، بنتا تو یہ تھا کہ تمام تحائف توشہ خانہ میں جمع کروائے جاتے، لیکن آپ نے چوری کی انتہا کر دی، اسلام آباد میں گھڑیوں کی دکان سے جعلی رسید بنوائی، کئی سو تحائف وصول ہوئے اور بشری مانیکا لالچ کے ساتھ وصول کرتی تھیں،

    عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ عمران خان نے وزیراعظم کے عہدے کو بے توقیر کیا، شہباز شریف نے راہداریوں میں تحفے لیبلز کے ساتھ سجا کر رکھ دیئے تا کہ لوگ دیکھ سکیں کہ فلاں ملک کے سربراہ نے کیا چیز دی ہے،جو تحائف دوست ممالک کیجانب سے ملیں وہ فروخت کرنے کیلئے نہیں ہوتے،خود کو مسٹر کلین کہنے والے کرپشن کرتے رہے، ملک میں ریاست مدینہ کے نام پر بدعنوانی کی گئی، بشریٰ بی بی تحائف بلیک میں فروخت کراتی تھیں، 15 سے 20 ارب روپے کے تحائف بیچے گئے، بشریٰ بی بی لالچ کے ساتھ تحفے کو دبوچ لیتی تھیں کہ اسے کوئی اور نہ دیکھ لے،بشری مانیکا گھر میں ملازم کو بول رہی تھی کہ کس نے تصویریں کھینچنی ہیں،اٹھہتر کروڑ روپے کا جرمانہ عمران خان اور اٹھہتر کروڑ روپے بشری مانیکا کو جرمانہ ہوا ہے

    چور کو چوری کی سزا تو ہونی ہے،میرا تحفہ میری مرضی نہیں، یہ ریاست کا تحفہ تھا، طلال چودھری
    ن لیگی رہنما طلال چودھری کا کہنا تھا کہ ریاست مدینہ کا نام لیا گیا اور پھر چوریاں کی گئیں، بنی گالہ میں سارے سودے ہوتے تھے کہا گیا میرا تحفہ میری مرضی، یہ میرا تحفہ نہیں ریاست کا تحفہ تھا اور ریاست کی مرضی تھی ،سزا سے بچنے کےلئے حیلے بہانے کئے گئے، آخر میں چور کو چوری کی سزا تو ہوتی ہے،یہ اوپن اینڈ شٹ کیس ہے، وکلا اس کیس میں بہانےکر رہے ہیں الیکشن میں نہ ان کے پاس نشان، نہ امیدوار، ان سے کیا خطرہ ہو سکتا ہے، یہ میرٹ پر فیصلہ ہوا ہے.

    چور چور کا شور کر کے خود چوری کرتے رہے، آج قوم نے دیکھ لیا چور کون ہے،مریم اونگزیب
    سابق وفاقی وزیر، ن لیگی رہنماء مریم اورنگزیب نے ماڈل ٹاؤن سیکرٹریٹ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ فیصلے آ رہے ہیں آپ نے دیکھا ہوگا، پچھلے 5 سال جب ہم اپوزیشن میں تھے, بتا رہے،انہوں نے الیکشن چوری کیے, پھر کرپشن کی، لیکن اس وقت طاقت عمران خان کے پاس تھی، نواز شریف, مریم نواز اور دیگر کو جیلوں میں بند کر دیا گیا،چور چور چور کا اتنا شور مچایا کہ کچھ اور دکھائی نہ دے،ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ میں دیکھا جا سکتا، نواز شریف کے دور میں کم اور عمران خان کے دور میں ریکارڈ کرپشن ہوئی،آج ثابت ہو گیا چور کون ہے،نواز شریف کا دور پاکستان کا تاریخی دور تھا،بانی پی ٹی آئی نے سیاست کو داغدار کیا ،یہ خود انٹرنیشنل سند یافتہ چور نکلے،عوام کو آج پتہ چل گیا ہوگا کہ اصل چور کون تھے،عمران خان نے پاک چین کو ریڈور بند کرکے گوگی پنکی کو ریڈور پر کام جاری رکھا اور ایک منظم کرپشن گینگ بنا کر قومی خزانے کو لوٹا، انہوں نے پنجاب میں ایک غلام بٹھایا ہوا تھا،سابق چیئرمین پی ٹی آئی سمجھتے تھےطاقت سے لوگوں کا منہ بند کرلیں گے،جنہوں نے چوری نہیں کی ہوتی وہ اپنی تین نسلوں کا جواب دیتےہیں،ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ سب کے سامنے عیاں ہے

    واضح رہے کہ ‏توشہ خانہ کیس: عمران خان اور بشریٰ بی بی کو 14، 14 سال کی سزا سنا دی گئی.احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کو سزا سنائی،توشہ خانہ کیس میں عدالت نے عمران خان اور بشری بی بی کو 787 ملین جرمانہ بھی کیا،عدالت نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کو عوامی عہدے کیلئے10 سال کیلئے نااہل کردیا.عدالت نے بشری بی بی کو گرفتار کرنے کا حکم جاری کر دیا.جس وقت فیصلہ سنایا گیا بشریٰ بی بی عدالت میں موجود نہیں تھی،

    قبل ازیں گزشتہ روز سائفر کیس کی خصوصی عدالت نے کیس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو 10،10 سال قید با مشقت کی سزا سنادی،خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو سزا سنائی۔

    سائفر کیس، آج مایوسی ہوئی، عدالت کو کہا فیصلے کو منوائیں، وکیل عمران خان

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

    سائفر کی ماسٹر کاپی وزارت خارجہ کے پاس موجود ہے،اعظم خان کا بیان

    عمران خان اور جیل سپرنٹنڈنٹ کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ

    عمران خان اور بشریٰ بی بی کو سزا کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ 

  • توشہ خانہ کیس، عمران خان اور بشریٰ بی بی کو 14، 14 سال قید بامشقت کی سزا

    توشہ خانہ کیس، عمران خان اور بشریٰ بی بی کو 14، 14 سال قید بامشقت کی سزا

    ‏توشہ خانہ کیس: عمران خان اور بشریٰ بی بی کو 14، 14 سال کی سزا سنا دی گئی.

    احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کو سزا سنائی،توشہ خانہ کیس میں عدالت نے عمران خان اور بشری بی بی کو 787 ملین جرمانہ بھی کیا،عدالت نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کو عوامی عہدے کیلئے10 سال کیلئے نااہل کردیا.عدالت نے بشری بی بی کو گرفتار کرنے کا حکم جاری کر دیا.جس وقت فیصلہ سنایا گیا بشریٰ بی بی عدالت میں موجود نہیں تھی،

    بانی پی ٹی آئی عمران خان کو عدالت پیش کیا گیا ،بشری بی بی عدالت پیش نہ ہوئیں، عدالت نے بانی پی ٹی آئی کی حاضری لگائی ، عدالت نے استفسار کیا کہ آپ کا342 کا بیان کہاں ہے،عمران خان نے کہا کہ میرا بیان میرے کمرے میں ہے، مجھے تو صرف حاضری کیلئے بلایاگیاتھا،آپ فوری طور اپنا بیان جمع کرادیں اور عدالتی وقت خراب نہ کریں، عمران خان نے کہا کہ آپ کو کیا جلدی ہے، کل بھی جلدی میں سزا سنادی گئی، وکلاء ابھی آئے نہیں، وکلاء آئیں گے تو ان کو دکھا کر جمع کراؤں گا، میں صرف حاضری کیلئے آیا ہوں، عمران خان کمرہ عدالت سے واپس چلے گئے

    جج نے کہا کہ جائیں فوری اپنا بیان لائیں،عمران خان نے کہا کہ لیکن بیان میں کچھ چیزوں کو ردوبدل کرنا ہے،جج نے کہا کہ آپ بیان لے آئیں کمپیوٹر پر ٹائپ کریں، بعد میں ردوبدل بھی کرلیں گے،جج نے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ کو بانی پی ٹی آئی کے ساتھ جانے کی ہدایت کی،عمران خان گئے تو واپس نہیں آئے، ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ نے عدالت میں کہا وہ نہیں آرہے،جج نے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ سے سوال کیا کیوں نہیں آرہے، ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ نےجج کو جواب دیا کہ وہ کہہ رہے ہیں میرے وکلاء جب تک نہیں آتے میں عدالت نہیں آوں گا،

    جج نے عدالتی اہلکار کو ہدایت کہ وہ کیس ٹائیٹل کی آواز لگائے،عدالتی اہلکار برآمدہ میں گیا اور آواز لگائی سرکاری بنام عمران خان، بشری بی بی،پکار کے باوجود بانی پی ٹی آئی عدالت نہیں آئے،عدالت نے فیصلہ سنا دیا

    توشہ خانہ، سائفر کیس میں سزائیں، تحریری فیصلوں کی کاپی فراہمی کے لئے درخواست
    توشہ خانہ اور سائفر کیس میں بانی پی ٹی آئی کے خلاف سزاؤں کا معاملہ ،عمران خان کے وکلاء نے تحریری فیصلوں کی کاپیوں کی فراہمی کے لیے درخواست جمع کروا دی گئی، درخواست بانی پی ٹی آئی کے وکیل خالد یوسف چوہدری ایڈوکیٹ نے جمع کروائی ،درخواست سائفر کورٹ اور احتساب عدالت کی نقل برانچ میں جمع کروائی گئی ، درخواست میں کہا گیا کہ حکم سزا، 342 کے بیانات، ارڈر کاپی، شہادتوں کی کاپیاں فراہم کی جائیں،درخواستیں بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کی جانب سے جمع کروائی گئیں ،

    توشہ خانہ کیس، سپریم کورٹ میں عمران خان کی اپیل پر اعتراض عائد

     کاغذات میں ظاہر نہ کرنیوالے سیاستدانوں کیخلاف درخواست پر عدالت نے فیصلہ سنا دیا

    سابق چیئرمین اور وزیراعظم کے خلاف توشہ خانہ ریفرنس کے نکات سامنے آگئے۔

    عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف توشہ خانہ ریفرنس دائر

    توشہ خانہ کیس کا تنازع اس وقت سامنے آیا تھا جب ایک صحافی کی جانب سے معلومات کے حصول کے قانون (رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ) کے تحت پوچھے گئے سوال پر عمران خان نے بحیثیت وزیراعظم یہ بتانے سے انکار کر دیا تھا کہ انہیں عہدے پر رہتے ہوئے کتنے تحائف ملے تھے۔ حکومت کی جانب سے یہ کہتے ہوئے جواب دینے سے انکار کیا گیا تھا کہ جواب دینے کی صورت میں دیگر ممالک کے ساتھ تعلقات متاثر ہوں گے۔

    عمران خان کی سائیکل کہاں ہے؟ میں نے ساڑھی توشہ خانہ سے نہیں لی،حاجرہ خان

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

    ہوشیار،بشری بی بی،عمران خان ،شرمناک خبرآ گئی ،مونس مال لے کر فرار

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

    عمران خان، تمہارے لئے میں اکیلا ہی کافی ہوں، مبشر لقمان

    ریحام خان جب تک عمران خان کی بیوی تھی تو قوم کی ماں تھیں

    جن لوگوں کو میری کتاب سے تکلیف ہے وہ مزید برداشت کیلیے تیار رہیں ۔ریحام خان

    اور بشریٰ بی بی نے اڈیالہ جیل پہنچ کر گرفتاری دے دی
    توشہ خانہ کیس کا فیصلہ،بشری بی بی اسلام آباد ہائیکورٹ کے باہر سے ہی واپس روانہ ہو گئیں،بشری بی بی نے اسلام آباد ہائیکورٹ غیر شرعی نکاح کیس میں پیش ہونا تھا،بشری بی بی کو فیصلے سے متعلق آگاہ کیا گیا،بشری بی بی اسلام آباد ہائیکورٹ کے باہر سے ہی واپس روانہ ہو گئیں، بعد ازاں بشری بی بی گرفتاری دینے اڈیالہ جیل پہنچ گئیں ،راولپنڈی پولیس کی اضافی نفری اڈیالہ جیل کے باہر تعینات کردی گئی،پولیس کے تازہ دم دستے جیل کے باہر تعینات ہیں، بشریٰ بی بی نے اڈیالہ جیل پہنچ کر گرفتاری دے دی،بشریٰ بی بی کی گاڑی خالی زمان پارک روانہ کردی گئی،نیب ٹیم نے اڈیالہ جیل میں بشریٰ بی بی کو گرفتار کیا،احتساب عدالت کا فیصلہ آنے کے بعد نیب کی جانب سے بشریٰ بی بی کی گرفتاری کے لئیے ٹیم تشکیل دی گئی تھی،بشری بی بی کے اڈیالہ جیل پہنچتے ہی نیب کی ٹیم نے گرفتاری ڈالی،

    گرفتاری سے قبل بشریٰ بی بی نے ٹیلی فون پر کس سے کی مشاورت
    اسلام آباد ہائی کورٹ سے واپسی پر بشری بی بی نے لیگل ٹیم سے مشاورت کی،لیگل ٹیم سے مشاورت کے بعد بشری بی بی اڈیالہ جیل کے لیے روانہ ہوئیں،بشری بی بی نے بیرسٹر گوہر علی سے بھی ٹیلیفونک رابطہ کیا،بشریٰ بی بی کا کہنا تھا کہ میں اپنے خاوند کے ساتھ کھڑی ہر جبر کا مقابلہ کروں گی اور میں خود گرفتاری دینے اڈیالہ جیل پہنچ گئی ہوں

    بشری بی بی کی توشہ خانہ ریفرنس میں گرفتاری کا معاملہ ،بشری بی بی کا اڈیالہ جیل میں طبی معائنہ مکمل کر لیا گیا، بشری بی بی کو الگ سیل میں منتقل کر دیا گیا، بشری بی بی کے سامان کی مکمل تلاشی اور فگر پرنٹس کا عمل بھی مکمل کر لیا گیا

    سابق وزیراعظم عمران خان پر الزام ہے کہ انہوں نے 2018 سے 2022 کے دوران اپنی حکومت کے دور میں بیرون ممالک سے ملنے والے قیمتی تحائف کم قیمت پر حاصل کیے اور پھر ان تحائف کو 6 لاکھ 35 ہزار ڈالر میں فروخت کیا،عمران خان کو ملنے والے تحائف میں سعودی عرب سے ملنے والی قیمتی گھڑی بھی شامل ہے جس پر خانہ کعبہ کا ماڈل بنا ہوا ہے اور اس کی عالمی مارکیٹ میں قیمت اندازے کے مطابق 60 سے 65 کروڑ روپے ہے،الیکشن کمیشن آف پاکستان نے 21 اکتوبر 2022 کو کہا کہ سابق وزیراعظم عمران خان نے آئین کے آرٹیکل 63 (1) کے تحت توشہ خانہ کے تحائف اور اثاثوں کے حوالے سے غلط بیانی کی،اس کے علاوہ الیکشن واچ ڈاگ کی جانب سے سیشن عدالت میں ایک پٹیشن بھی دائر کی گئی جس میں چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف کرمنل پروسیڈنگ شروع کرنے کی استدعا کی گئی،10 مئی 2023 کو ٹرائل کورٹ نے توشہ خانہ کیس میں غلط معلومات فراہم کرنے پر عمران خان پر فرد جرم عائد کی تاہم 4 جولائی کو اسلام آباد ہائیکورٹ نے سیشن کورٹ کا حکم کالعدم قرار دیتے ہوئے درخواست گزار کو سننے اور 7 روز میں فیصلہ کرنے کی ہدایت کی،4 اگست کو اسلام آباد ہائیکورٹ نے سیشن کورٹ کا توشہ خانہ فوجداری کیس سے متعلق فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے جج کو ہدایت کی کہ درخواست گزار کو سن کو دوبارہ کیس کا فیصلہ کیا جائے اور پھر 5 اگست کو سیشن کورٹ نے توشہ خانہ کیس میں عمران خان کو تین سال کی قید اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنا دی،

    توشہ خانہ کیس میں نیب رپورٹ میں کیا سامنے آیا تھا؟
    عمران خان کو سعودی ولی عہد سے ملنے والے تحائف سے متعلق نیب کی رپورٹ سامنے آ ئی ہے،نیب کی رپورٹ 31 دسمبر 2023 کو منظرعام پر آئی تھی جس میں تحائف کی درست قیمت جانچنے کا نظام موجود نہ ہونے کا انکشاف کیا گیا تھا، نیب رپورٹ کے مطابق 3 ارب 16 کروڑ روپے کے تحفوں کی قیمت پاکستان میں ایک کروڑ 80 لاکھ روپے لگائی گئی، نصف رقم 90 لاکھ ادا کرکے تحائف بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی نے رکھ لیے،پاکستان میں کوئی ادارہ سعودی شہزادے سے ملے گراف جیولری سیٹ کی قیمت نہ جان سکا، دبئی سے تخمینہ لگوانے پر معلوم ہوا خزانے کو 1 ارب 57 کروڑ، 37 لاکھ روپے کا نقصان پہنچا،ایف بی آر، کولیکٹوریٹ آف کسٹمز کی کمیٹی نے قیمت لگانے سے معذوری ظاہر کی، جیولری کی قیمت کیلئے انڈسڑیز اینڈ پروڈکشن ڈویژن سے بھی رابطہ کیا گیا لیکن بتایا گیا جیمز اینڈ جیولری ڈیولپمنٹ کمپنی ہی غیر فعال ہے جبکہ جیمز اینڈ جیولری ٹریڈرز ایسوسی ایشن بھی قیمت کا اندازہ نہ لگا سکی،پاکستان منرل ڈیولپمنٹ کارپوریشن نے بھی کہا قیمت نہیں بتا سکتے جبکہ برطانیہ، متحدہ عرب امارات، اٹلی اور سوئٹزر لینڈ ایم ایل اے بھیجے لیکن جواب نہ ملا، دبئی میں پاکستانی قونصلیٹ جنرل کے ذریعے نجی کمپنی سے تعلق رکھنے والے شخص کی خدمات لی گئیں، نجی کمپنی کے فرد نے بتایا تحائف کی اصل قیمت 3 ارب 16 کروڑ 55 لاکھ روپے بنتی ہے،بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی ایک ارب 57 کروڑ 37 لاکھ روپے ادا کر کے ہی تحفہ رکھ سکتے تھے، پاکستان میں سرکاری افسران کیخلاف رشوت یا مالی فوائد لےکر کم قیمت بتانے کے ثبوت نہیں ملے، مالی فوائد کے ثبوت نہ ہونے پر سرکاری افسران کو ملزم نہیں بنایا گیا،

    توشہ خانہ کی گھڑی خریدنے والے عمر فاروق ظہور نے کیا کہا تھا؟
    واضح رہے کہ عمر فاروق ظہور نے انکشاف کیا تھا کہ میں نے دبئی میں ایک لین دین کے دوران سابق وزیر اعظم عمران خان کی توشہ خانہ کی قیمتی گراف گھڑی، (وہ مشہور گھڑی جو سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے عمران خان کو تحفے میں دی تھی) فرح خان سے تقریباً 2 ملین ڈالرز میں خریدی تھی۔ میں نے یہ قیمتی گھڑی فخر کے ساتھ خریدی تھی کیوں کہ یہ دنیا کا واحد ٹکڑا ہے جس پر ہمارے مقدس خانہ کعبہ کی تصویر ہے، بطور پاکستانی یہ گھڑی میرے لیے کسی کوہ نور کے ہیرے کی طرح قیمتی اور منفرد تھی اور جب مجھے یہ پتہ چلا یہ گھڑی فروخت کیلئے دستیاب ہے تو میں کسی صورت اس موقع کو گنوانا نہیں چاہتا تھا کیوں کہ جس طرح بذریعہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز دبئی کی مارکیٹس میں اس گھڑی کی مارکیٹنگ کی گئی تھی اس کے لیے مجھے خدشہ تھا کہ یہ گھڑی غلط ہاتھوں میں بھی جا سکتی ہے، میں نے یہ گھڑی اس کے وقار اور انفرادیت کی وجہ سے خریدی، یہ ایک محدود ایڈیشن ہے اور یہ گھڑی دنیا کا واحد ٹکڑا ہے جس میں ہمارے مقدس خانہ کعبہ کی تصویر موجود ہے، میں اپنے پاس اس گھڑی کی موجودگی کے باعث خود کو دنیا کا خوش قسمت ترین آدمی سمجھتا ہوں کیوں کہ اس میں ایک روحانی عنصر ہے-انہوں نے کہا کہ میں نے گھڑی کو پوری قوم کی قیمتی ملکیت بنانے کا تصور کیا لیکن ایسا نہیں ہو سکا،جب میں نے دبئی مال میں گراف شاپ پر گھڑی دیکھی اور اس کی صداقت کا جائزہ لیا تو میں سوچ میں پڑ گیا کہ ایک پاکستانی وزیر اعظم یا پھر کوئی حکومت ایسا قیمتی تحفہ کیوں فروخت کرتا چاہتی ہے؟ ایسی گھڑی جس کی قیمت کے ساتھ انتہائی مذہبی اور جذباتی قدر بھی جڑی ہو جبکہ سابق وزیراعظم عمران خان ہمیشہ ریاست مدینہ کی بات کرتے ہیں تو وہ بالاخر اتنا قیمتی ٹکڑا کیسے چھوڑ سکتے ہیں ایک عام پاکستانی اور سعودی عرب کے لیے بطور اظہار تشکر اگر مجھے موقع ملا تو میں یہ گھڑی اس کے حقیقی مالک کو واپس کرنا چاہوں گا تاکہ یہ تنازع ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے، میں ساری عمر اس مقدس گھڑی کا مالک ہونے پر فخر محسوس کروں گا لیکن اگر اسے واپس کرنے سے یہ تنازع ختم ہو جاتا ہے اورپاک سعودیہ تعلقات میں مدد ملتی ہے تو مجھے اس میں کوئی حرج نہیں۔

  • نیب کیسز میں جیل ٹرائل کیخلاف درخواستیں مسترد، تفصیلی فیصلہ جاری

    نیب کیسز میں جیل ٹرائل کیخلاف درخواستیں مسترد، تفصیلی فیصلہ جاری

    توشہ خانہ اور القادر ٹرسٹ کیس میں جیل ٹرائل کیخلاف بانی تحریک انصاف کی درخواستیں مسترد کئے جانے کا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا گیا،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس طارق محمود جہانگیری نے 21 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کیا،فیصلے میں عدالت نے کہا کہ عدالت نے سماعت کے مقام کے تعین سے متعلق ایگزیکٹو کے اختیارات کے حوالے سے 1931کے بمبئی ہائیکورٹ کے فیصلے پر انحصار درست قرار دیا،عدالت نے فیصلے میں جیل سماعت کے دوران میڈیا اور پبلک کی موجودگی کیلئے بھی ٹرائل کورٹ کو احکامات دئیے ہیں ،اسلام آباد ہائیکورٹ نے احتساب عدالت کے جج کی تقرری پر درخواست گزار کے اعتراضات مسترد کردئیے

    فیصلے میں عدالت نے کہا کہ نیب قانون کے مطابق سیشن عدالت کے مقام کا تعین کرنا ایگزیکٹو کا اختیار ہے ، ایگزیکٹو آرڈر موجود نہ ہو تو متعلقہ عدالت کسی دوسرے مقام پر سماعت کیلئے آرڈر جاری کرسکتی ہے،ایگزیکٹو آرڈر کی موجودگی میں متعلقہ عدالت نے دئیے گئے مقام پر سماعت کرنا ہوتی ہے،سائفر کیس میں دو رکنی بنچ کے سامنے آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت زیر سماعت معاملے میں اپیل تھی،آفیشل سیکرٹ ایکٹ میں عدالت کے مقام کے تعین کے حوالے واضح قانون موجود نہیں واضح قانون موجود نہ ہونے کی وجہ سے آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے مقدمے میں سی آر پی سی کی دفعہ 352کا اطلاق ہوتا ہے، ہائیکورٹ رولز اینڈ آرڈر اور سی آر پی سی کی سیکشن 352کا اطلاق تب ہوگا جب سیشن عدالت مقام سے متعلق آرڈر پاس کرے،بظاہر جیل ٹرائل درخواست گزار کی جان کو لاحق خطرات کے پیش نظر ہے،بدنیتی پر مبنی نہیں،درخواست گزار کے وکیل کا یہ اعتراض درست ہے کہ ریفرنس دائر کرنے سے پہلے ہی جیل سماعت کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا، نیب پراسکیوٹر کی جانب سے بتایا گیا کہ جیل سماعت کے نوٹیفکیشن کے وقت ضمانت اور ریمانڈ کی کارروائی چل رہی تھی،ایگزیکٹو آرڈر یا ٹرائل کورٹ کے کسی حکم کی بنیاد پر کارروائی کو کالعدم قرار نہیں دیا جاسکتا،سی آر پی سی کی سیکشن 537 میں واضح ہے کہ کونسی کارروائی کالعدم قرار دی جاسکتی ہے اور کونسی نہیں ،سی آر پی سی میں واضح ہے کہ ایسی غلطی جس سے انصاف کی فراہمی میں ناکامی ہو تو اس کا ازالہ ضروری ہے،

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    شوکت ترین ، تیمور جھگڑا ،محسن لغاری کی پاکستان کے خلاف سازش بے نقاب،آڈیو سامنے آ گئی

    عمران خان معافی مانگنے جج زیبا چودھری کی عدالت پہنچ گئے

    قبل ازیں بانی تحریک انصاف کیخلاف توشہ خانہ اور القادر ٹرسٹ کیس میں جیل ٹرائل اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا،بانی تحریک انصاف عمران خان نے جیل ٹرائل کے نوٹیفکیشن کیخلاف درخواست دائر کی ، درخواست میں کہا گیا کہ القادر ٹرسٹ کیس میں چودہ نومبر کو جیل ٹرائل کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا،توشہ خانہ کیس میں 28نومبر کو جیل ٹرائل کا نوٹیفکیشن جاری ہوا،جیل ٹرائل کے نوٹیفکیشن غیر قانونی ،بدنیتی پر مبنی ہیں ، جیل ٹرائل کے نوٹیفکیشنز کو کالعدم قرار دیا جائے ،اس درخواست کے زیر التوا رہنے تک ٹرائل کورٹ کی کارروائی کو روکا جائے، دونوں درخواستوں میں چیئرمین نیب اور دیگر کو فریق بنایا گیا ہے.

    اڈیالہ جیل میں قیدیوں کی ساتھی قیدی کے ساتھ بدفعلی،جان بھی لے لی

    دوسری شادی کیوں کی؟ پہلی بیوی نے خود کشی کر لی

    منشیات فروش خاتون پولیس کے ساتھ کیسے چھپن چھپاؤ کر رہی؟

    نو سالہ بچے سے زیادتی کرنیوالا پولیس اہلکار،خاتون سے زیادتی کرنیوالا گرفتار

    مساج سنٹر کی آڑ میں فحاشی کا اڈہ،پولیس ان ایکشن، 6 لڑکیاں اور 7لڑکے رنگے ہاتھوں گرفتار

    واضح رہے کہ عمران خان اڈیالہ جیل میں ہیں، عمران خان پر مقدمات کی سماعت جیل میں ہی ہو رہی، عمران خان کو کسی عدالت پیش نہیں کیا جا رہا ہے، سائفر کیس کی سماعت بھی جیل میں ہو ئی، گزشتہ روز سائفر کیس میں عمران خان کو عدالت نے دس برس قید کی سزا سنائی. توہین الیکشن کمیشن کیس کی سماعت بھی جیل میں ہوئی، دوران عدت نکاح کیس کی سماعت بھی جیل میں ہو رہی ہے، توشہ خانہ و القادر ٹرسٹ کیس کی سماعت بھی جیل میں ہو رہی ہے، عمران خان نے سائفر کیس کی سماعت کو چیلنج کیا تھا تا ہم عدالت نے اوپن ٹرائل کا حکم دیا ،سماعت جیل میں ہی ہو گی، اسی طرح عمران خان نے باقی مقدمات کے جیل ٹرائل کو بھی چیلنج کیا لیکن عمران خان کو ریلیف نہ مل سکا.

  • نیب مقدمات میں جیل ٹرائل کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ

    نیب مقدمات میں جیل ٹرائل کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے توشہ خانہ اور 190 ملین پاؤنڈ کیس میں عمران خان کے جیل ٹرائل کے خلاف درخواستوں پر دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کر لیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس طارق جہانگیری پر مشتمل بینچ نے سماعت کی ،اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان اور نیب کی پراسیکیوشن ٹیم عدالت میں پیش ہوئی،اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے کہا کہ سوشل میڈیا کے اسکرین شاٹس موجود ہیں کہ میڈیا کو رسائی دی جا رہی ہے،عمران خان کے وکیل شعیب شاہین نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ جلد بازی دیکھیں کہ ریفرنس دائر نہیں ہوا اور ٹرائل کا نوٹیفکیشن جاری ہو گیا، وفاقی حکومت نے نوٹیفکیشن 28 نومبر کو جاری کیا جبکہ ریفرنس 20 دسمبر کو دائر ہوا، دوسرا نوٹیفکیشن 14 نومبر کو جاری ہوا جبکہ ریفرنس 4 دسمبر کو دائر ہوا،جسٹس طارق جہانگیری نے استفسار کیا کہ نوٹیفکیشن سے ریفرنس دائر ہونے تک کوئی کارروائی نہیں ہوئی؟

    پراسیکیوٹر نیب نے جواب دیا کہ عمران خان کو 13 نومبر کو 190 ملین پاؤنڈ کے نیب کے کیس میں گرفتار کیا گیا،وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ نوٹیفکیشن اور سمری کا عمل دیکھیں تو غیر ضروری جلد بازی واضح ہے، نیب کی درخواست پر ایک ہی دن میں سمری تیار ہوئی اور کابینہ سے منظور بھی ہو گئی، ملک میں باقی سارے کام بھی اتنی تیزی سے ہوتے تو کئی مسائل حل ہو جاتے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ "میں بھی بالکل یہی بات کہنے لگا تھا”.

    اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے عدالت میں کہا کہ اڈیالہ جیل میں نیب مقدمات کا ٹرائل اوپن کورٹ میں ہو رہا ہے،وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ ٹرائل اتنا اوپن ہے کہ ہمارے ایک ساتھی وکیل کو اندر جانے کی اجازت نہیں دی جاتی، سائفر کیس میں متعلقہ جج نے حکومت کو جیل ٹرائل کے لیے خط بھی لکھا تھا، ہائی کورٹ نے اس کے باوجود ٹرائل کالعدم قرا ردیا کیونکہ جوڈیشل آرڈر موجود نہیں تھا، اس کیس میں تو متعلقہ جج کی طرف سے کوئی خط بھی نہیں ہے، جیل میں عدالت لگانا الگ بات ہے ٹرائل کرنا الگ معاملہ ہے، جیل ٹرائل کے لیے متعلقہ جج کا جوڈیشل آرڈر ہونا لازم ہے، عدالت نے احتساب عدالت کے جج، نیب اور وفاقی حکومت کا کنڈکٹ بھی دیکھنا ہے، احتساب عدالت کے جج تمام کیسز چھوڑ کر 2 کیسز کے لیے روزانہ اڈیالہ جیل جاتے ہیں،

    واضح رہے کہ بانی تحریک انصاف کیخلاف توشہ خانہ اور القادر ٹرسٹ کیس میں جیل ٹرائل اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا،بانی تحریک انصاف عمران خان نے جیل ٹرائل کے نوٹیفکیشن کیخلاف درخواست دائر کی ، درخواست میں کہا گیا کہ القادر ٹرسٹ کیس میں چودہ نومبر کو جیل ٹرائل کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا،توشہ خانہ کیس میں 28نومبر کو جیل ٹرائل کا نوٹیفکیشن جاری ہوا،جیل ٹرائل کے نوٹیفکیشن غیر قانونی ،بدنیتی پر مبنی ہیں ، جیل ٹرائل کے نوٹیفکیشنز کو کالعدم قرار دیا جائے ،اس درخواست کے زیر التوا رہنے تک ٹرائل کورٹ کی کارروائی کو روکا جائے، دونوں درخواستوں میں چیئرمین نیب اور دیگر کو فریق بنایا گیا ہے.

    اڈیالہ جیل میں قیدیوں کی ساتھی قیدی کے ساتھ بدفعلی،جان بھی لے لی

    دوسری شادی کیوں کی؟ پہلی بیوی نے خود کشی کر لی

    منشیات فروش خاتون پولیس کے ساتھ کیسے چھپن چھپاؤ کر رہی؟

    نو سالہ بچے سے زیادتی کرنیوالا پولیس اہلکار،خاتون سے زیادتی کرنیوالا گرفتار

    مساج سنٹر کی آڑ میں فحاشی کا اڈہ،پولیس ان ایکشن، 6 لڑکیاں اور 7لڑکے رنگے ہاتھوں گرفتار

    واضح رہے کہ عمران خان اڈیالہ جیل میں ہیں، عمران خان پر مقدمات کی سماعت جیل میں ہی ہو رہی، عمران خان کو کسی عدالت پیش نہیں کیا جا رہا ہے، سائفر کیس کی سماعت بھی جیل میں ہو رہی ہے، توہین الیکشن کمیشن کیس کی سماعت بھی جیل میں ہوئی، دوران عدت نکاح کیس کی سماعت بھی جیل میں ہو رہی ہے، توشہ خانہ و القادر ٹرسٹ کیس کی سماعت بھی جیل میں ہو رہی ہے، عمران خان نے سائفر کیس کی سماعت کو چیلنج کیا تھا تا ہم عدالت نے اوپن ٹرائل کا حکم دیا ،سماعت جیل میں ہی ہو گی، اسی طرح عمران خان نے باقی مقدمات کے جیل ٹرائل کو بھی چیلنج کیا لیکن عمران خان کو ریلیف نہ مل سکا.