Baaghi TV

Tag: تیل

  • جھل مگسی گیس منصوبے پر دوبارہ کام شروع

    جھل مگسی گیس منصوبے پر دوبارہ کام شروع

    او جی ڈی سی ایل نے جھل مگسی گیس منصوبے پر دوبارہ کام شروع کر دیا ہے۔

    باغی ٹی وی : جدید ترین گیس پراسسنگ پلانٹ جو یومیہ 13.7 ایم ایم ایس سی ایف گیس پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے کے دوبارہ کام شروع کرنےسےبڑھتی ہوئی توانائی کی ضروریات کوکچھ حد تک پوری کرنےمیں مدد ملے گی اس پلانٹ کی تنصیب آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی کے اس علاقے میں تیل اور گیس کے مزید ذخائر دریافت کرنا اور پیداوار کے عزم کی عکاس ہے۔

    تیل اور گیس کی دریافت کے علاوہ او جی ڈی سی ایل علاقے میں فلاحی کاموں پربھی توجہ دے رہا ہے،کمپنی نے جھل مگسی میں ڈ ی ایچ کیو ہسپتال کو ایمبولنس فراہم کی ہے، علاوہ ازیں کمپنی نے پینے کے صاف پانی کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے ریورس اوسموسس (آر او) پلانٹ بھی نصب کیا ہے۔

    پوپ فرانسس کی سویڈن میں قرآن پاک کی بے حرمتی کی شدید مذمت

    کمرشل آپریشنز کے علاوہ کمپنی نے تعلیم، صحت، پانی اور انفرا اسٹرکچر کے شعبوں میں سماجی فلاح وبہبود کے کاموں کے ذریعے جھل مگسی میں مقامی آبادی کے معیار زندگی کو بہتر بنانے کےاپنےعزم کو بھی اجاگر کیا صحت کی سہولیات کو بڑھانے کی کوششوں کے طور پر او جی ڈی سی ایل نے جھل مگسی میں ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال کو ایمبولنس فراہم کی ہے، اس کے علاوہ او جی ڈی سی ایل نے پینے کے صاف پانی کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے ریورس اوسموسس (آر او) پلانٹ بھی نصب کیا ہے۔

    اقامت کے بعد دعا مانگنے کا معجزہ،نابینا نوجوان کو سجدے کے دوران بینائی مل گئی

    کمپنی ملک میں توانائی کی ضروریات کو پوراکرنے اور کمیونٹی کی بہتری کے اقدامات کیلئے اپنے عزم کے ساتھ جھل مگسی کی سماجی و معاشی ترقی کیلیے فعال کردار ادا کررہا ہے، کمپنی کی کثیر جہتی سوچ جو قابل اعتماد توانائی کی فراہمی کو محفوظ بنانے اور علاقہ مکینوں کے معیار زندگی کو بڑھانے کیلیے وقف ہے، پاکستان کی انرجی سیکیورٹی اور پائیدار ترقی کے حصول میں ایک اہم سنگ میل ہے۔

    تھانہ شادمان نذر آتش کیس،اعجاز چوہدری کے جوڈیشل ریمانڈ میں توسیع

  • روس سے سستے تیل کی دوسری کھیپ پاکستان پہنچ گئی

    روس سے سستے تیل کی دوسری کھیپ پاکستان پہنچ گئی

    روس سے سستے تیل کی دوسری کھیپ پاکستان پہنچ گئی، تیل سے لدا کلائیڈنوبل نامی جہاز کراچی پورٹ پہنچ گیا۔

    باغی ٹی وی: روسی جہاز خام تیل کے ساتھ بندرگاہ پر لنگر اندازہو گیا ہے، جیسے ہی جہاز کا برتھنگ پلان فائنل ہو گا جہاز کو آئل پیئر پر لگایا جائے گا۔

    یاد رہے کہ روس سے پیور پوائنٹ نامی جہاز خام تیل کی پہلی کھیپ لے کر کراچی پہنچا تھا، یہ جہاز 45 ہزار میٹرک ٹن تیل لایا تھا اگر روس سے تیل باقاعدگی سے پاکستان آنے لگا توپھر پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی واقع ہو سکتی ہے۔

    حکام پیٹرولیم ڈویژن کے مطابق پہلے روسی خام تیل اسٹاک کی ریفائنری پی آر ایل کرے گی جس کے بعد اس کی مارکیٹ میں فراہمی کا فیصلہ ہوگا، پاکستان کو ملنے والے روسی خام تیل کی قیمت کم ہے، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے لئے زیادہ اسٹاک درکار ہے پاکستان نے ابتدائی طور صرف ایک لاکھ ٹن خام تیل منگوایا ہے جب کہ ہم اپنی ضرورت کا ایک تہائی تیل روس سے خریدنے کے خواہاں ہیں۔

    ہمارا مقصد ماسکوحکومت کا تختہ اُلٹنا نہیں تھا،مسلح باغی ویگنر گروپ کے سربراہ کا پہلا …

    واضح رہے کہ پاکستان دنیا کا پانچواں سب سے زیادہ آبادی والا ملک ہے لیکن پھر بھی ملک کو توانائی کی قلت کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جو اپنی 84 فیصد پیٹرولیم مصنوعات خلیجی ممالک سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے درآمد کرتا ہے۔

    وزیر مملکت مصدق ملک کا کہنا تھا کہ ملک کی ریفائنریز لائٹ عربین خام تیل ریفائن کرنےکے لیے ڈیزائن ہیں، عربین لائٹ خام تیل کے ساتھ 30 سے 35 فیصد تک یورول کو ملا کر استعمال کیا جا سکتا ہے، روسی خام تیل کی ریفائنری سے فرنس آئل کی پروڈکشن میں اضافہ ہوگا ہم نے جو کمرشل ڈیل کی ہے اس میں ملک کو فائدہ ہے، پاکستان کو روسی تیل خریدنے سے کوئی نقصان نہیں، روسی تیل لانے سے ٹرانسپورٹیشن کاسٹ بڑھ جائے گی، بین الاقوامی کمپنیز روسی خام تیل کی انشورنس نہیں دیتیں۔

    سعودی عرب میں فیفا ورلڈ کپ کس شہر میں ہو گا؟

    وزیر مملکت نے کہا کہ روسی خام تیل لانے پر ہماری انشورنس کاسٹ بھی بڑھی ہے، ہمارا فائدہ بہت اہم ہے، اس سے کتنا فائدہ ہوگا یہ نہیں بتا سکتا، تیل کی ادائیگی کسی بھی کرنسی میں ہو فرق نہیں پڑتا۔

    ان کا کہنا تھا کہ شروعات میں سرکاری ریفائنریزکو روسی تیل فراہم کر رہے ہیں، بعد میں نجی ریفائنریز بھی لینا چاہیں تو وہ لے سکیں گی، ریفائنری کی نئی پالیسی منظور کرلی اور اس کا 10 ارب ڈالر کا معاہدہ کرکے جائیں گے، خام تیل کو ریفائنری میں پراسیس کیا جائے گا جس کا فائدہ مقامی مارکیٹ کو ہوگا جب کہ ایک سے ڈیڑھ ماہ میں آذربائیجان سے بھی سستی گیس ملے گی۔

    امریکا اور بھارت کا پاکستان مخالف مشترکہ اعلامیہ، امریکی ڈپٹی چیف آف مشن دفتر خارجہ …

  • سعودی عرب کا تیل کی پیداوار میں کمی کا اعلان

    سعودی عرب کا تیل کی پیداوار میں کمی کا اعلان

    تیل کی قیمتوں میں اضافے کے لیے سعودی عرب نے جولائی میں تیل کی پیداوار میں کمی کا اعلان کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : سعودی عرب کے وزیر توانائی کا ویانا میں اوپیک اجلاس کے بعد کہنا تھا کہ تیل کی پیداوار میں یومیہ 10 لاکھ بیرل کمی جولائی کے لئے کی جارہی ہے لیکن اس میں توسیع بھی کی جاسکتی ہے، 2024 سے تیل کی مجموعی پیداوار میں یومیہ 14 لاکھ بیرل تک کمی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    پاکستان کے خلاف عالمی سطح پر پروپیگنڈا کی سازش بے نقاب

    سعودی عرب اوپیک کے ساتھ معاہدے کے تحت جولائی میں تیل پیداوار مزید کم کرے گا،سعودی عرب نے اوپیک معاہدے میں 2024 تک توسیع کااعلان بھی کردیا ہے، دوسری جانب روسی نائب وزیراعظم کا کہنا تھا کہ تیل پیداوار میں کٹوتی 2024 کے آخر تک جاری رہے گی۔

    سنگاپورمیں دنیا کی تقریباً دو درجن بڑی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے سینئر حکام کی میٹنگ

  • پاکستان ایران سے بھی گیس پائپ لائن منصوبہ مکمل کرنے کا خواہشمند ہے،مصدق ملک

    پاکستان ایران سے بھی گیس پائپ لائن منصوبہ مکمل کرنے کا خواہشمند ہے،مصدق ملک

    وزیر مملکت مصدق ملک نے میڈیا سے گفتگو میں بڑے اعلان کردیئے

    وزیر مملکت مصدق ملک کا کہنا تھا کہ دس ارب ڈالر کی پیٹرولیم ریفائنری میں نئی سرمایہ کاری ہونے جارہی ہے ، ملک بھر میں پیٹرول کی ضرورت کو پورا کرنے کیلئے روس سے 20 فیصد تیل خریدا ہے پاکستان میں دنیا بھر سے آئل ریفائنری سیکٹر میں سرمایہ کاری کی جائے گی پاکستان روس کے بعد ایران سے بھی گیس پائپ لائن منصوبہ مکمل کرنے کا خواہشمند ہے ، ایران کے ساتھ گیس پائن لائن منصوبے کی تکمیل پر مشاورت جارہی ہے ایران پر عالمی پابندیاں ہیں جائزہ لے کر فیصلہ جائے گا ، پاکستان بارڈر سسٹم کے ذریعے ایران سے پہلے ہی تجارت کررہا ہے سو میگا واٹ کی بجلی بارڈر ٹریڈ کے ذریعے ایران سے خریدی جارہی ہے ملک بھر میں اب ریفائنری پالیسی کے ذریعے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری ہوگی

    وزیر مملکت مصدق ملک کا کہنا تھا کہ حکومت کاغذی باتیں نہیں عمل کرکے ثابت کررہی ہے ، سائفر لہرانے والے گڑگڑا رہے ہیں معافیاں مانگ رہے ہیں ،سائفر لہرا کر ملکی تقدس کو پامال کیا گیا ،ریاستی تنصیبات کو نقصان پہنچانا آگ لگانا کسی صورت برداشت نہیں ہے بجٹ ابھی تیار نہیں ہوا ، پیٹرولیم لیوی کا کتنا ہدف رکھا ہے نہیں بتا سکتا روس سے تیل لے کر جہاز بہت جلد پاکستان پہنچ رہا ہے

    وفاقی وزیر توانائی انجینئر خرم دستگیر خان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور روس کے تجارتی تعلقات بہتر ہو رہے ہیں حال ہی میں حالات میں بہتری آئی ہے اور دونوں دوست ممالک کے درمیان تجارت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ روس کی معیشت جی ڈی پی کے لحاظ سے پاکستان سے پانچ گنا بڑی ہے۔ روس ایک ترقی یافتہ ملک ہے جس کی فی کس جی ڈی پی 10,000 امریکی ڈالر سے زیادہ ہے جبکہ پاکستان ایک ترقی پذیر ملک ہے جس کی فی کس جی ڈی پی 1,000 امریکی ڈالر سے زیادہ نہیں ہے۔پاکستان اور روس کے درمیان ایف ٹی اے کا خیال پہلی بار 2004 میں پیش کیا گیا تھا۔ روس اس وقت ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کا حصہ نہیں تھا۔ روس نے بالآخر جون 2017 میں پاکستان کے ساتھ ایف ٹی اے میں داخل ہونے کی تجویز پیش کی۔پاکستان کی وزارت خزانہ، محصولات اور اقتصادی امور کی رپورٹ نے ممکنہ پاکستان-روس ایف ٹی اے کے لیے سفارشات تیار کیں۔ اس نے پاکستان روس فری ٹریڈ ایگریمنٹ کے امکانات کا جائزہ لیا۔روس اور پاکستان کے درمیان دو طرفہ تجارت ہمیشہ روس کے حق میں رہی ہے۔ پاکستان کی روس کو برآمدات زیادہ تر ٹیکسٹائل اور ٹیکسٹائل اشیاء کے علاوہ خوردنی پھلوں پر مشتمل ہیں۔ روس سے پاکستان کی بڑی درآمدات میں اناج، خوردنی سبزیاں، معدنی ایندھن، ربڑ کی مصنوعات، کاغذی مصنوعات، آئرن اینڈ سٹیل، فارماسیوٹیکل مصنوعات، کھاد اور نامیاتی کیمیکل شامل ہیں۔تجارتی تکمیلی اشاریہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پاکستان روسی مارکیٹ کو سپلائی کرنے کے لیے بہتر ہے جبکہ روس پاکستانی مارکیٹ کو سپلائی کرتا ہے۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستانی برآمدی صنعت کو دونوں ممالک کے درمیان ممکنہ ایف ٹی اے سے زیادہ فائدہ ہوگا۔ ہم ایک جامع آزاد تجارتی معاہدے کی تلاش کر رہے ہیں،ٹیرف کو کم کر رہے ہیں، زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری کو فروغ دے رہے ہیں، اور آنے والے وقت میں سالانہ 20 ارب تک کی باہمی تجارت کو بڑھا رہے ہیں۔یہ براہ راست شپنگ لنک پھلوں، سبزیوں اور چاول سے لے کر ٹیکسٹائل، کھیلوں کے سامان اور چمڑے تک پاکستانی مصنوعات کی ایک رینج کو سہولت فراہم کرتے ہوئے غیر استعمال شدہ تجارتی صلاحیت کو کھولنے میں مدد کرے گا۔ یہ براہ راست شپنگ سروس پاکستان اور روس کے کاروباروں کو کئی طریقوں سے مدد دے گی ،اس کے صارفین کو متعدد فوائد حاصل ہونے کی امید ہے۔ اس سے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی سرگرمیوں کو تیز کیا جائے گا۔اس کنٹینرائزڈ شپنگ سروس کا آغاز، کراچی، پاکستان، اور سینٹ پیٹرزبرگ، روسی فیڈریشن کے درمیان، کاروبار کو وسعت دینے کا ایک سنہری موقع فراہم کرتا ہے۔ یہ یقینی طور پر پاکستان اور روس کے اقتصادی تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز ہے،جو کہ کراچی کی اسٹریٹجک پوزیشن اور لاجسٹک فوائد سے فائدہ اٹھاتا ہے تاکہ ہمارے دونوں ممالک کے درمیان تجارت کی مکمل صلاحیت کو کھولا جاسکے۔ پاک شاہین گروپ کی بطور ایجنٹ مصروفیت اس منصوبے کو زیادہ ساکھ دیتی ہے شپنگ انڈسٹری میں ان کا وسیع تجربہ ان کے صارفین کے لیے مددگار ثابت ہوگا

    جانوروں پر ریسرچ کرنیوالے بھارتی ادارے نےگائے کے پیشاب کو انسانی صحت کیلئے مضر قراردیا
    یورپی خلائی یونین کا نیا مشن مشتری اور اس کے تین بڑے چاندوں پر تحقیق کرے گا
    برطانوی وزیرداخلہ کا پاکستانیوں کو جنسی زیادتی کا مجرم کہنا حقیقت کے خلاف ہے،برٹش جج
    جماعت اسلامی سےمذاکرات،عمران خان کی ہدایات پر پی ٹی آئی کی تین رکنی کمیٹی قائم
    بھارتی مسلمان رکن اسمبلی کوبھائی سمیت پولیس حراست میں ٹی وی کیمروں کے سامنے گولیاں ماردی گئیں

  • روس سے سستے تیل کا پہلا ٹیسٹ کارگو 27 مئی کو عمان پہنچ جائے گا،مصدق ملک

    روس سے سستے تیل کا پہلا ٹیسٹ کارگو 27 مئی کو عمان پہنچ جائے گا،مصدق ملک

    روس سے سستا تیل خریدنے کا معاملہ، وزیر مملکت مصدق ملک کا کہنا ہے کہ روس سے سستے تیل کا پہلا ٹیسٹ کارگو 27 مئی کو عمان پہنچ جائے گا،

    مصدق ملک کا کہنا تھا کہ روس سے 1 لاکھ ٹن خام تیل منگوایا ہے،پاکستان کی کسی بندرگاہ پر 50 ہزار ٹن تیل سے زائد استعداد والے گارکو نہیں لائے جا سکتے،عمان سے چھوٹے جہازوں میں تیل پاکستان پہنچے گا،عمان سے پاکستان سستا تیل پہنچے پر مزید 10 سے 15 دن لگیں گے،روس سے سستے تیل کی کیمیکل خصوصیات پہلے ہی منگوا چکے ہیں،روسی خام تیل پہلے پی آر ایل ریفائنری میں جائے گا

    پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل مہنگا کیوں ہے،وزیر مملکت ڈاکٹر مصدق ملک نے وجہ بتا دی ، مصدق ملک کا کہنا ہے کہ تیار پیٹرول و ڈیزل پر 18 سے 20 ڈالر پریمیم پپٹرل و ڈیزل کے مہنگے ہونے کی بنیادی وجہ ہے،وزیر مملکت پیٹرولیم ڈاکٹر مصدق ملک نے نئی ریفائریز پالیسی پر بریفنگ دی اور کہا کہ خام تیل کے کارگو پر ایک سے ڈیڑھ ڈالر پریمیم ہے،اگر نئی ریفائنریز نہ لگیں تو نو سال بعد سالانہ بائیس ملین بیرل تیل درآمد کرنا پڑے گا،اس وقت پاکستان کی سالانہ پیٹرول و ڈیزل کی ضرورت 20 ملین ٹن ہے،2033 تک ہماری سالانہ ضرورت 33 ملین ٹن تک پہنچ جائے گی،9 ملین ٹن سالانہ پاکستان کی مقامی پیداوار ہے،اگر نئی ریفائنریاں نہ لگیں تو 2033 تک ہمارا 22 ملین ٹن تیل کا گیپ آ جائے گا،معاشی استحکام توانائی کے استحکام سے جڑا ہے،ہمیں سالانہ 7 سے 10 فیصد انرجی گروتھ کی ضرورت ہے،

    جانوروں پر ریسرچ کرنیوالے بھارتی ادارے نےگائے کے پیشاب کو انسانی صحت کیلئے مضر قراردیا
    یورپی خلائی یونین کا نیا مشن مشتری اور اس کے تین بڑے چاندوں پر تحقیق کرے گا
    برطانوی وزیرداخلہ کا پاکستانیوں کو جنسی زیادتی کا مجرم کہنا حقیقت کے خلاف ہے،برٹش جج
    جماعت اسلامی سےمذاکرات،عمران خان کی ہدایات پر پی ٹی آئی کی تین رکنی کمیٹی قائم
    بھارتی مسلمان رکن اسمبلی کوبھائی سمیت پولیس حراست میں ٹی وی کیمروں کے سامنے گولیاں ماردی گئیں

  • روس سے تیل برآمد کرنے پر پاکستانی معیشت پر اثرات

    روس سے تیل برآمد کرنے پر پاکستانی معیشت پر اثرات

    روس سے تیل برآمد کرنے پر پاکستانی معیشت پر اثرات

    پاکستان کو جلد ہی روس سے ملاوٹ شدہ تیل کی پہلی کھیپ موصول ہونے والی ہے جو اس کی توانائی کی ضروریات کو جزوی طور پر پورا کرے گی۔ کیونکہ پاکستان کے پاس خام تیل کو ملاوٹ شدہ تیل میں ریفائن کرنے کی ٹیکنالوجی کا فقدان ہے، اور روس نے تیل برآمد کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ روس نے چینی یوآن، یو اے ای درہم اور روسی روبل میں ادائیگی قبول کرنے پر رضامندی ظاہر کی جو کہ امریکی ڈالر کے معمول کے لین دین سے ہٹ کر ہے.

    تاہم واضح رہے کہ یہ درآمدگی مستقبل میں کم نرخوں پر خریداری کے لیے پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے اور عالمی تجارت کے لیے وسیع البنیاد نقطہ نظر کے دروازے کھول سکتی ہے۔ یہ پاکستان کو امریکی ڈالر کے علاوہ کرنسی استعمال کرنے کی بھی اجازت دیتا ہے جو کہ پاکستان کی نقدی کی تنگی کی صورتحال کے پیش نظر ایک راحت کی سانس ہے۔ ادائیگی کے ماڈیول سے الگ ہونے والا یہ واحد قدم پاکستان کے لیے لائف لائن ہے۔ اور پھر امریکہ کی طرف سے کوئی اعتراض کرنے کا امکان بھی نہیں ہے.

    حالانکہ بڑی حد تک اس حقیقت کی وجہ سے کہہ بہت سے ممالک نے روس پر امریکی سپانسر شدہ پابندیوں سے خود کو دور کر لیا ہےاور یہ سمجھتے ہوئے کہ مستقبل قریب میں انہیں بھی اپنی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ماسکو پر انحصار کرنا پڑے گا. اور پالیسی سازوں کو قابل تجدید توانائی کے ذرائع کی طرف منتقلی کی عجلت کو تسلیم کرنا چاہیے۔

    2023 کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان کی بجلی کی طلب گرمیوں میں 28,000 میگاواٹ تک پہنچ جاتی ہے جس سے سپلائی کا فرق 4,000 سے 6,000 میگاواٹ رہ جاتا ہے۔ سردیوں میں طلب اور رسد کا فرق 8,000 میگاواٹ ہوتا ہے۔ لہذا اسی لیے توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے صرف پیٹرولیم سے متعلقہ مصنوعات پر انحصار طویل مدت میں غیر پائیدار ہے۔

    مزید برآں پٹرولیم سے متعلقہ مصنوعات کی بڑھتی ہوئی قیمتیں جس کے نتیجہ میں تمام اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہو جاتا ہے، اور پھر اس مسئلے سے نمٹنے کیلئے حکومت خود کی ذمہ داری سے بچنے کیلئے خود کوہی شکست دینے والا طریقہ ہے اختیار کرتی ہے۔ لہذا پالیسی سازوں کو قابل تجدید توانائی کے ذرائع میں سرمایہ کاری کو ترجیح دینی چاہیے تاکہ تیل کی درآمدات پر ملک کا انحصار کم ہو اور پائیدار ترقی کو یقینی بنایا جا سکے۔

    ووٹ کا حق سب سے بڑا بنیادی حق ہے،اگر یہ حق نہیں دیاجاتا تو اس کامطلب آپ آئین کو نہیں مانتے ,عمران خان
    سعیدہ امتیاز کے دوست اورقانونی مشیرنے اداکارہ کی موت کی تردید کردی
    جانوروں پر ریسرچ کرنیوالے بھارتی ادارے نےگائے کے پیشاب کو انسانی صحت کیلئے مضر قراردیا
    یورپی خلائی یونین کا نیا مشن مشتری اور اس کے تین بڑے چاندوں پر تحقیق کرے گا
    برطانوی وزیرداخلہ کا پاکستانیوں کو جنسی زیادتی کا مجرم کہنا حقیقت کے خلاف ہے،برٹش جج

  • پیٹرولیم کی قیمتوں میں اضافے سےمتعلق وائرل خبروں پر وزارت خزانہ کی وضاحت

    پیٹرولیم کی قیمتوں میں اضافے سےمتعلق وائرل خبروں پر وزارت خزانہ کی وضاحت

    اسلام آباد: وزارت خزانہ نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے متعلق سوشل میڈیا پر چلنے والی خبروں کی تردید کردی۔

    باغی ٹی وی : وزارت خزانہ کی جانب سے وضاحت کی گئی ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ نہیں کیا گیا، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سےمتعلق پھیلائی جانے والی افواہیں غلط ہیں ، اس حوالے سےسوشل میڈیا پر پھیلایا جانے والا قیمتوں میں اضافہ نوٹیفیکیشن جعلی ہے-

    مارچ میں مہنگائی 3.72 فیصد بڑھی،ادارہ شماریات

    ترجمان وزارتِ خزانہ نے وضاحت کی کہ پیٹرول اور ڈیژل کی قیمت میں کسی بھی قسم کا اضافہ نہیں کیا گیا اور قیمتوں کا اعلان گزشتہ روز ہی کیا گیا۔


    واضح رہے کہ قبل ازیں سماجی رابطے کی سائٹ پر پیٹرولیم مصنوعات میں اضافے کے حوالے سے وزارت خزانہ کا ایک جعلی نوٹیفکیشن وائرل ہوا جس میں دعویٰ کیا تھا کہ حکومت نے پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 21 روپے کا اضافہ کردیا ہے۔

    رواں سال پاؤنڈ کی قدر میں اضافہ، بینک آف انگلینڈ کیجانب سے شرح سود میں …

    یاد رہے کہ گزشتہ شب آئندہ پندرہ روز کیلیےمٹی کے تیل اور لائٹ ڈیزل کی قیمت میں 10 ،10 روپے فی لٹر کمی کی گئی تھی جبکہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں برقرار رکھی گئی تھیں۔

  • سعودی عرب کا ایشیا کیلئےعرب لائٹ خام تیل کی سرکاری قیمت میں کمی کا اعلان

    سعودی عرب کا ایشیا کیلئےعرب لائٹ خام تیل کی سرکاری قیمت میں کمی کا اعلان

    ریاض‌:سعودی عرب نے ایشیا کیلئے جنوری میں عرب لائٹ خام تیل کی سرکاری قیمت میں کمی کردی۔اطلاعات کے مطابق سعودی عرب نے جنوری میں ایشیا کیلئے عرب لائٹ خام تیل کی سرکاری قیمت فروخت (او ایس پی) کو کم کردیا ہے اور وہ عمان / دبئی کی اوسط کے مقابلے میں 3.25 ڈالر فی بیرل سے زیادہ ہے۔

    سعودی عرب کی سرکاری تیل کمپنی آرامکو نے پیر کے روز اطلاع دی ہے کہ نئی مقرر کردہ قیمت دسمبر کی او ایس پی کے مقابلے میں 2.20 ڈالر فی بیرل کم ہے۔

    دنیا میں تیل کے سب سے بڑے برآمدکنندہ ملک نے جنوری کیلئے آئی سی ای برینٹ کے مقابلے میں شمال مغربی یورپ کیلئے اپنے عرب لائٹ کی سرکاری قیمت فروخت منفی 0.10 ڈالر فی بیرل مقرر کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق سعودی عرب نے ریاست ہائے متحدہ امریکا کیلئے اے ایس سی آئی کے مقابلے میں قیمت 6.35 ڈالر فی بیرل مقرر کی ہے۔

    ادھریورپی یونین ممالک کی جانب سے روس سے سمندری راستے تیل کی درآمد پر پابندی اور 60 ڈالر فی بیرل کی حد مقرر کرنے کے فیصلے پر آج سے عمل درآمد شروع ہو گیا ہے۔

    یورپی یونین ممالک کی جانب سے ماہ جون میں قبول کردہ، روس سے سمندری راستے سے تیل کی درآمد پر پابندی پر مشتمل چھٹاپیکیج ٹرانزٹ مدت کے خاتمے کے بعد آج سے نافذ العمل ہوا ہے۔یورپی یونین کے رکن ممالک نے تیل پر پابندی پر جامع مذاکرات کئے۔

    یورپی یونین کے ممالک اتفاق رائے تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے، تازہ ترین پیکج میں روس سے ٹینکروں کے ذریعے تیل کی خریداری اور پائپ لائنوں کو پابندیوں سے خارج کرنے کے لیے نظر ثانی کی گئی۔یورپی یونین کے ممالک نے معاہدے تک پہنچنے کے لیے روس سے تیل کی ترسیل ہونے والی ڈرزبا پائپ لائن کو پابندیوں سے مستثنیٰ قرار دے دیا۔

  • یورپی یونین کےبعد جی سیون ممالک اورآسٹریلیا کا بھی روسی تیل کی قیمتیں 60 ڈالر فی بیرل تک رکھنے پر اتفاق

    یورپی یونین کےبعد جی سیون ممالک اورآسٹریلیا کا بھی روسی تیل کی قیمتیں 60 ڈالر فی بیرل تک رکھنے پر اتفاق

    یورپی یونین کے بعد جی سیون ممالک اور آسٹریلیا نے بھی روسی تیل کی قیمتیں 60 ڈالر فی بیرل تک محدود رکھنے پر اتفاق کرلیا۔

    باغی ٹی وی : گروپ آف سیون (G7) ممالک، آسٹریلیا اور یورپی یونین نے روس کی توانائی کی فروخت کے ذریعے یوکرین کے خلاف اپنی جنگ میں مالی اعانت کی صلاحیت کو روکنے کے لیے بین الاقوامی مہم کے ایک حصے کے طور پر روسی سمندری خام تیل پر فی بیرل کی قیمت کی حد 60 ڈالر پر اتفاق کیا ہے۔

    امریکی رکن کانگریس نے پاکستان کیلئے سیلاب کی امداد بڑھانے کیلئے خط لکھ دیا

    ہولڈ آؤٹ پولینڈ کی طرف سے حمایت دینے کے بعد یورپی یونین نے جمعہ کو قیمت پر اتفاق کیا، جس سے ہفتے کے آخر میں رسمی منظوری کی راہ ہموار ہوئی۔

    جی سیون اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اس اقدام سے یوکرین پر روسی جارحیت کم کرنے میں مدد ملے گی۔

    غیر ملکی خبر ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق روس اپنی تیل آمدن کا زیادہ حصہ یوکرین جنگ میں استعمال کررہا ہے۔

    G7 اور آسٹریلیا نے ایک بیان میں کہا کہ قیمت کی حد 5 دسمبر یا اس کے بہت جلد بعد نافذ ہو جائے گی۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ پرائس کیپ کولیشن کی تاثیر کو یقینی بنانے کے لیے مزید کارروائی پر بھی غور کر سکتا ہے مزید کیا اقدامات کیے جاسکتے ہیں اس بارے میں فوری طور پر کوئی تفصیلات دستیاب نہیں ہیں۔

    قیمت کی حد، ایک G7 خیال، کا مقصد 5 دسمبر سے روسی خام تیل پر یورپی یونین کی پابندی کے نفاذ کے بعد تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافے کو روکتے ہوئے تیل کی فروخت سے روس کی آمدنی کو کم کرنا ہے۔

    پولینڈ نے $60 کی مجوزہ سطح کی مزاحمت کی تھی اور اس نے یورپی یونین کے مذاکرات میں روس کو ہونے والی آمدنی کو کم کرنے اور جنگ کی مالی اعانت کرنے کی ماسکو کی صلاحیت کو محدود کرنے کے لیے حد تک کم کرنے پر زور دیا تھا۔

    پولینڈ کے یورپی یونین کے سفیر اندرزیج ساڈوس نے صحافیوں کو بتایا کہ ان کے ملک نے یورپی یونین کے معاہدے کی حمایت کی ہے، جس میں تیل کی قیمت کی حد کو مارکیٹ ریٹ سے کم از کم 5 فیصد کم رکھنے کا طریقہ کار شامل ہے۔

    امریکی حکام نے کہا کہ یہ معاہدہ بے مثال تھا اور اس نے یوکرین کے خلاف روس کی جنگ کی مخالفت کرنے والے اتحاد کے عزم کا اظہار کیا۔


    جمعہ کو بات چیت کے بعد، یورپی یونین کی صدارت، جو اس وقت جمہوریہ چیک کے پاس ہے، نے ٹویٹ کیا کہ "سفیروں نے روسی سمندری تیل کی قیمت کی حد پر ابھی ایک معاہدہ کیا ہے-

    امریکا نےپاکستان سمیت 12 ممالک کو مذہبی آزادی کی خلاف ورزی کرنیوالےممالک کی فہرست میں شامل کرلیا

  • اوپیک پلس کے فیصلے، پاکستان کا سعودی عرب کے ساتھ اظہارِ یکجہتی

    اوپیک پلس کے فیصلے، پاکستان کا سعودی عرب کے ساتھ اظہارِ یکجہتی

    اسلام آباد:پاکستان نے تیل پیدا کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک پلس کے فیصلے کے تناظر میں سعودی عرب کے خلاف بیانات پر مملکت کی قیادت کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا ہے۔

    اوپیک پلس فیصلے کے خلاف آنے والے بیانات پر پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ اظہاریکجہتی کا کھل کراعلان کیا ہے

    ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان سعودی عرب کی قیادت کےساتھ یکجہتی کا اظہار کرتا ہے عالمی اقتصادی استحکام کو یقینی بنانےکیلئے سعودی عرب کے خلوص اوراحساس کودرست اور سراہتے ہیں

    ’پاکستان باہمی احترام پر مبنی ایسے معاملات پر تعمیری نقطہ نظر کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔‘دفتر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم مملکت سعودی عرب کے ساتھ اپنے دیرینہ، پائیدار اور برادرانہ تعلقات کا اعادہ کرتے ہیں۔‘

    ہفتے کےدن تیل پیدا کرنے والے عرب ممالک کی تنظیم اوپیک کے سیکریٹری جنرل نے کہا تھاکہ ’تیل پیداوار میں کمی سے متعلق اوپیک پلس کا فیصلہ درست اور بروقت ہے۔‘اوپیک کے سیکریٹری جنرل علی بن سبت نے ایک بیان میں عندیہ دیا کہ ’اس فیصلے میں عالمی معیشت کے اردگرد کی غیر یقینی صورت حال، تیل منڈی میں عدم توازن خاص طور پر طلب اور رسد کے پہلووں کو مدنظر رکھا گیا ہے۔‘

    تیل پیدا کرنے والے عرب ممالک کی تنظیم اوپیک میں سعودی عرب، الجزائر، متحدہ عرب امارات، بحرین، قطر، مصر، شام، عراق، تیونس اور لیبیا شامل ہیں۔

    یاد رہے کہ اوپیک پلس نے پانچ اکتوبر کو ویانا میں اجلاس کے دوران نومبر میں تیل کی یومیہ پیداوار 20 لاکھ بیرل کم کرنے پر اتفاق کیا تھا۔اجلاس کے موقع پر سعودی عرب کے وزیر توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان کا کہنا تھا کہ ’اوپیک پلس عالمی معیشت کے استحکام کا بنیادی ستون ہے اور رہے گا۔‘