Baaghi TV

Tag: جانسن اینڈ جانسن

  • جانسن اینڈ جانسن کے پاؤڈر سے کینسر: کمپنی کی متاثرین کو 5.5 ارب ڈالرز ہرجانہ دینے کی پیشکش

    جانسن اینڈ جانسن کے پاؤڈر سے کینسر: کمپنی کی متاثرین کو 5.5 ارب ڈالرز ہرجانہ دینے کی پیشکش

    مشہور کمپنی ’جانسن اینڈ جانسن‘ نے امریکا میں اپنے بے بی پاؤڈر اور دیگر ٹیلکم پاؤڈر مصنوعات کے خلاف دائر ہزاروں مقدمات نمٹانے کے لیے 5 ارب 50 کروڑ ڈالر تک کی ادائیگی کی پیشکش کی ہے۔

    برطانوی خبر رساں ایجنسی ’رائٹرز‘ کے مطابق، اربوں ڈالرز کی یہ پیشکش کئی برسوں سے جاری قانونی تنازع ختم کرنے کی کوشش ہے، جس کی وجہ سے نیو جرسی میں قائم اس بڑی کمپنی کو مسلسل قانونی چیلنجز کا سامنا رہا ہےجانسن اینڈ جانسن نے ایک بار پھر ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی ٹیلکم پر مبنی مصنوعات کینسر کا سبب نہیں بنتیں کمپنی کا کہنا ہے کہ اس نے اپنے مشہور بے بی پاؤڈر کی تیاری کا فارمولا بھی تبدیل کر دیا ہے۔

    کمپنی کے نائب صدر برائے قانونی امور ایرک ہاس نے کہا ہے کہ ان کے خلاف لگائے گئے الزامات بے بنیاد ہیں ایرک کے مطابق کمپنی کا مؤقف ہے کہ اس کے خلاف پیش کیے گئے دعوؤں میں وزن نہیں، تاہم وہ اس معاملے کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنے کی غرض سے تصفیہ پر آمادہ ہوئی ہے۔

    کمپنی کے مطابق مجوزہ معاہدہ تقریباً 69 ہزار مقدمات پر لاگو ہوگا، جو ٹیلکم پاؤڈر سے متعلق باقی رہ جانے والے زیادہ تر دعوؤں کا احاطہ کرتے ہیں جانسن اینڈ جانسن نے بتایا کہ وہ آئندہ سال 3 ارب ڈالر تک ادا کرے گی، جبکہ اس کے بعد 2028 سے پہلے کسی اضافی ادائیگی کی ضرورت نہیں ہوگی۔

    کمپنی نے واضح کیا ہے کہ یہ معاہدہ اسی وقت حتمی ہوگا جب ریاستی اور وفاقی عدالتوں میں اووری کے کینسر سے متعلق مقدمات کے کم از کم 95 فیصد دعویداروں کی نمائندگی کرنے والی قانونی فرمز اس کی منظوری دیں گی۔

    ایرک ہاس نے اپنے بیان میں کہا کہ کمپنی کو یقین ہے کہ اگر مقدمات کی کارروائی جاری رہتی تو وہ کامیاب ہو جاتی، کیونکہ اب تک عدالتوں میں زیر سماعت زیادہ تر مقدمات میں کمپنی کے حق میں فیصلے آئے ہیں، اس معاہدے سے کمپنی اس تنازع کو پیچھے چھوڑ کر اپنی بنیادی ذمہ داری، یعنی جان بچانے والی ادویات اور طبی آلات کی تیاری پر پوری توجہ دے سکے گی۔

    کمپنی کی سابق شاخ ’کینویو‘ اب شمالی امریکا سے باہر جانسن بے بی پاؤڈر سے متعلق قانونی ذمہ داری کی مالک ہے کینویو کے پاس بینڈ ایڈ، لسٹرین اور کیلپول جیسے معروف برانڈز بھی موجود ہیں یہ کمپنی 2022 میں جانسن اینڈ جانسن سے الگ کی گئی تھی۔

    جانسن اینڈ جانسن کے خلاف ٹیلکم پر مبنی بے بی پاؤڈر سے متعلق مقدمات کا سلسلہ 2009 میں شروع ہوا تھا رواں سال جولائی میں ایک امریکی وفاقی عدالت نے کمپنی کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے اس بات پر سوال اٹھایا تھا کہ آیا انفرادی مدعی یہ ثابت کر سکتے ہیں کہ ان کے اووری کے کینسر کی براہ راست وجہ ٹیلکم ہی تھا۔

    ٹیلکم ایک قدرتی معدنی مادہ ہے جو میگنیشیم، سلیکان، آکسیجن اور ہائیڈروجن پر مشتمل ہوتا ہے اس کی نرم اور ملائم ساخت کی وجہ سے اسے برسوں تک بے بی پاؤڈر اور دیگر کاسمیٹک مصنوعات میں استعمال کیا جاتا رہا ہے۔

    مدعیان کا مؤقف ہے کہ جانسن اینڈ جانسن کی بعض ٹیلکم مصنوعات میں ایسبیسٹس موجود تھا، جس کے باعث کینسر پیدا ہوا ایسبیسٹس ایک ایسا مادہ ہے جسے کینسر کا سبب بننے والا سمجھا جاتا ہے، اور چونکہ زمین میں ٹیلکم اور ایسبیسٹس کی تہیں اکثر ایک دوسرے کے قریب ہوتی ہیں، اس لیے آلودگی کے خدشات سامنے آتے رہے ہیں۔

    دوسری جانب جانسن اینڈ جانسن مسلسل ان الزامات کی تردید کرتی آئی ہے کمپنی نے اپنے تازہ بیان میں کہا ہے کہ مختلف مطالعات کے مطابق اس کا ٹیلکم محفوظ ہے، اس میں ایسبیسٹس شامل نہیں اور یہ کینسر کا باعث نہیں بنتا2022 میں جانسن اینڈ جانسن نے اعلان کیا تھا کہ وہ دنیا بھر میں ٹیلکم پر مبنی بے بی پاؤڈر کی تیاری اور فروخت بند کر دے گی، اس سے دو سال قبل کمپنی امریکا میں اس مصنوعات کی فروخت روک چکی تھی۔

    اس وقت کمپنی نے کہا تھا کہ عالمی سطح پر اپنے مصنوعات کے جائزے کے بعد اس نے تجارتی بنیادوں پر فیصلہ کیا ہے کہ اب وہ مکمل طور پر کارن اسٹارچ پر مبنی بے بی پاؤڈر فروخت کرے گی۔

  • ہزاروں خواتین کی شکایات پر برطانوی مارکیٹوں سے  بھی جانسن بے بی پاؤڈراٹھانے کا اعلان

    ہزاروں خواتین کی شکایات پر برطانوی مارکیٹوں سے بھی جانسن بے بی پاؤڈراٹھانے کا اعلان

    برطانیہ میں ہزاروں خواتین کی جانب سے قانونی شکایتوں کے بعد جانسن اینڈ جانسن کی جانب سے جانسن بے بی پاؤڈر کی برطانوی مارکیٹوں میں فروخت ختم کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی: برطانیہ کی ہزاروں خواتین کی جانب سے جانسن بے بی ٹالکم پاؤڈر کے خلاف کی گئی شکایات کے بعد ایسا فیصلہ کیا گیا ہے، خواتین کی جانب سے خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ یہ پاؤڈر کینسر کا سبب بن سکتا ہے۔

    خواتین نے اپنے شبہات کا اظہار کیا تھا کہ بے بی پاؤڈر بنانے کیلئے ٹالک (Talc) کا استعمال کیا جاتا ہے جس میں Asbestos پایہ جاتا ہے جو کہ اووریئن کینسر (Ovarian Cancer) کا سبب بنتا ہے۔

    جانسن اینڈ جانسن نے الزامات کو رد کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ سالوں کی تحقیق کے بعد یہ ثابت شدہ ہے کہ یہ پراڈکٹ استعمال کیلئے بلکل محفوظ ہے، تاہم مس انفارمیشن کی وجہ سے پراڈکٹ کی فروخت میں کمی کے باعث کمپنی کی جانب سے بے بی پاؤڈر مارکیٹوں سے ہٹانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    خواتین کی ایسی شکایات کے بعد کمپنی کی جانب سے اگلے سال تک جانسن بے بی پاؤڈرکی پراڈکٹ کی فروخت برطانیہ سمیت پوری دنیا کی مارکیٹوں سے ختم کر دی جائے جبکہ ٹالک سے بنے پاؤڈر کی جگہ کارن اسٹارچ سے بنی نئی پراڈکٹ لائے جانے کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔

    کمپنی نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا کہ نیا بھر میں پورٹ فولیو کی تشخیص کے حصے کے طور پر، ہم نے تمام کارن اسٹارچ پر مبنی بیبی پاؤڈر پورٹ فولیو میں منتقلی کا تجارتی فیصلہ کیا ہے اس نے مزید کہا کہ کارن اسٹارچ پر مبنی بیبی پاؤڈر پہلے ہی دنیا بھر کے ممالک میں فروخت کیا جا چکا ہے۔

    خیال رہے کہ جانسن اینڈ جانسن کی جانب سے امریکا اور کینیڈا کی مارکیٹوں میں جانسن بے بی پاؤڈر کی فروخت دو سال قبل ہی ختم کر دی گئی تھی، تاہم اب کمپنی کی جانب سے برطانیہ میں شکایات سامنے آنے کے بعد برطانیہ سمیت پوری دنیا میں پراڈکٹ ختم کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

    امریکا میں تیز رفتار چوری کا عالمی ریکارڈ

    اس حوالے سے 2020 میں، جے اینڈ جے نے اعلان کیا کہ وہ شمالی امریکہ کے دو ممالک میں اپنے ٹیلک بیبی پاؤڈر کی فروخت بند کر دے گا کیونکہ قانونی چیلنجوں کے درمیان پروڈکٹ کی حفاظت کے بارے میں اسے "غلط معلومات” کہنے کی وجہ سے مانگ میں کمی آئی تھی۔

    کمپنی کو ہزاروں مقدموں کا سامنا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس کی ٹیلک مصنوعات کو ایسبیسٹوس سے آلودگی کی وجہ سے کینسر ہوا، جو کہ ایک معروف کارسنجن ہے۔

    جے اینڈ جے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ کئی دہائیوں کی سائنسی جانچ اور ریگولیٹری منظوریوں نے اس کے ٹیلک کو محفوظ اور ایسبیسٹس سے پاک ظاہر کیا ہے۔ جمعرات کو، اس نے اس بیان کو دہرایا جب اس نے پروڈکٹ کو بند کرنے کا اعلان کیا۔

    اکتوبر میں، جانسن نے ذیلی کمپنی ایل ٹی ایل مینجمنٹ کو ختم کر دیا، اسے اپنے ٹیلک دعوے تفویض کر دیے اور اسے فوری طور پر دیوالیہ کر دیا، زیر التواء مقدمات کو روک دیا۔

    مقدمہ کرنے والوں نے کہا ہے کہ جے اینڈ جے کو قانونی چارہ جوئی کے خلاف اپنا دفاع کرنا چاہئے، جبکہ کمپنی کے مدعا علیہان اور دیوالیہ ہونے والے ماتحت عمل کا کہنا ہے کہ یہ دعویداروں کو معاوضہ دینے کا ایک مساوی طریقہ ہے۔

    وکیل نے 22 سال بعد 20 روپے کی قانونی جنگ جیت لی

    مدعی فرم کیلر پوسٹ مین کے وکیل بین وائٹنگ نے کہا کہ چونکہ دیوالیہ پن میں مقدمے روک دیے گئے ہیں، اس لیے کمپنی کی فروخت کا فیصلہ ان پر فوری اثر نہیں کرے گا۔ وائٹنگ نے کہا، لیکن اگر وفاقی اپیل عدالت مقدمات کو آگے بڑھنے کی اجازت دیتی ہے، تو صارفین جانسن کے فیصلے کو ثبوت کے طور پر مصنوعات کو کھینچنے کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں اوراگر یہ معاملات دوبارہ چلتے ہیں تو یہ بہت بڑی بات ہے۔

    دیوالیہ پن کی عدالت کے ریکارڈ کے مطابق دیوالیہ پن دائر کرنے سے پہلے، کمپنی کو فیصلوں اور تصفیوں میں 3.5 بلین ڈالرز کی لاگت کا سامنا کرنا پڑا، جس میں 22 خواتین کو 2 بلین ڈالرز سے زیادہ کا فیصلہ سنایا گیا ۔

    لڑکی نے محبت ثابت کرنے کیلئےعجیب و غریب اور انتہائی قدم اٹھا لیا

    2016 میں، مسوری ریاست کی ایک جیوری نے جے اینڈ جے کو حکم دیا کہ وہ ایک خاتون کے خاندان کو 72 ملین ڈالرز ہرجانہ ادا کرے جس کی بیضہ دانی کے کینسر سے موت اس کے کمپنی کے بیبی پاؤڈر اور شاور ٹو شاور نسائی حفظان صحت کی مصنوعات کے کئی دہائیوں تک استعمال سے منسلک تھی۔

    ایک سال بعد، ایک امریکی جیوری نے جے اینڈ جے کو ایک ایسی خاتون کو 417 ملین ڈالرز ادا کرنے کا حکم دیا جس نے دعویٰ کیا تھا کہ کمپنی کی ٹالک پر مبنی مصنوعات استعمال کرنے کے بعد اسے ٹرمینل ڈمبگرنتی کینسر ہو گیا ہے۔

    2018 میں رائٹرز کی خبر رساں ایجنسی کی تحقیقات سےپتا چلا کہ جے اینڈ جےکو 1971 کے اوائل سے ہی اپنی مصنوعات میں ایسبیسٹوس کی تھوڑی مقدار کی موجودگی کا علم تھا۔

    رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کمپنی نے اپنی بیبی پاؤڈر فرنچائز پر کیے گئے مطالعے کے لیے کمیشن اور ادائیگی کی تھی اور ایک جریدے میں نتائج کو پیش کرنے والے مضمون کو دوبارہ ترتیب دینے کے لیے ایک گھوسٹ رائٹر کی خدمات حاصل کی تھیں۔

    سڑک سے رکاوٹ ہٹانے والے پاکستانی رائیڈر سے دبئی کے ولی عہد کی ملاقات

  • مشہورزمانہ دواسازکمپنی جانسن اینڈ جانسن پر13 کھرب روپے کا جرمانہ

    مشہورزمانہ دواسازکمپنی جانسن اینڈ جانسن پر13 کھرب روپے کا جرمانہ

    پینسلوانیا:کسی بھی دواساز کمپنی کو یہ اجازت نہیں‌دی جاسکتی کہ وہ انسانی جان سے کھیلے ، ایک انسان کی صحت کی بڑی قدرہے، یہ ہیں ایک امریکی عدالت کے ریمارکس جواس نے ایک صارف کی شکایت پر ایک دواساز کمپنی کے بارے میں‌کہے ہیں ، اطلاعات کےمطابق معروف کمپنی جانسن اینڈ جانسن پر امریکی عدالت نے ایک دوا کے مضر اثرات کی وجہ سے 8 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا ہے جو پاکستانی 13 کھرب روپے بنتے ہیں۔

    مقبوضہ کشمیر:بدترین لاک ڈاؤن:کرفیو کا 67 واں دن،ظلم وتشدد جاری

    امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکی ریاست پینسلوانیا کے شہر فلاڈیلفیا کی عدالت نے بچوں کی جلد کی معروف مصنوعات اور مختلف امراض میں استعمال ہونے والی ادویہ بنانے والی ملٹی نیشنل کمپنی جانسن اینڈ جانسن کو متاثرہ مریض کو 8 ارب امریکی ڈالر جرمانہ ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔

    دوسری طرف اس دوا ساز کمپنی جانسن اینڈ جانسن نےاس عدالتی فیصلے کو ’غیر حقیقی‘ قرار دیتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ عدالت نے نفسیاتی امراض میں استعمال ہونے والی دوا ’ریسپیریڈون‘ کے حوالے سے حقائق کو مدنظر نہ رکھتے ہوئے بہت زیادہ جرمانہ سنایا ہے۔جبکہ یہ مریض‌ اس سے قبل بھی کمپنی سے بڑی رقم لے چکا ہے،

    قبل ازیں امریکی عدالت میں آئٹزم کے مریض 26 سالہ نکولس مری نے مقدمہ دائر کیا تھا کہ وہ جانسن اینڈ جانسن کی دوا ’ریسپیریڈون‘ 2003 سے استعمال کر رہے ہیں جس کی وجہ سے اُن کی جسمانی ساخت میں تبدیلی رونما ہوئی اور ان کے بریسٹ بڑھ گئے، کمپنی نے اس مضر اثر سے متعلق انتباہ جاری نہیں کیا تھا۔

    ترکی کا شام میں آپریشن غلط فیصلہ ہے، ٹرمپ کو موڈ خراب ہوگیا

    یہ بات بھی دلچسپی سے خالی نہیں کہ متاثرہ مریض نکولس مری نے اس سے قبل بھی جانسن اینڈ جانسن کیخلاف 2015 میں ایک مقدمہ جیتا تھا جس میں اُن کو کمپنی کی جانب سے 6 لاکھ 80 ہزار امریکی ڈالر جرمانے کی رقم ادا کی گئی تھی۔ امریکی عدالتوں میں ’جانسن اینڈ جانسن‘ کے خلاف ہزاروں درخواستیں زیر التوا ہیں۔

    2016 میں ایک امریکی خاتون نے جانسن اینڈ جانسن کے پاؤڈر کے استعمال سے کینسر ہونے پر مقدمہ دائر کیا تھا جس پر عدالت کے حکم پر متاثرہ خاتون کو کمپنی نے 5 کروڑ ڈالر جرمانہ ادا کیا تھا۔ اسی طرح 2018 میں بھی سینٹ لوئس کی ایک عدالت نے 5 ارب ڈالر اور اوکلوہاما کی عدالت نے 57 کروڑ ڈالر سے زائد کا جرمانہ عائد کیا تھا۔

    میئر کو گاڑی میں باندھ کر شہرکا چکر لگایا گیا

    130 سال قبل یعنی 1889 بننے والی کمپنی جانسن اینڈ جانسن کی مصنوعات 200 ممالک میں فروخت ہوتی ہیں اور دنیا بھر میں کمپنی کے ملازمین کی تعداد 1 لاکھ 30 ہزار ہے جب کہ کمپنی کی سالانہ کمائی 80 ارب ڈالر سے زائد ہے۔