Baaghi TV

Tag: ججز

  • ایرانی سپریم کورٹ کے باہر فائرنگ،2 جج ہلاک،ایک زخمی

    ایرانی سپریم کورٹ کے باہر فائرنگ،2 جج ہلاک،ایک زخمی

    ایران: سپریم کورٹ کی عمارت کے باہر ججز پر فائرنگ کی گئی ہے
    فائرنگ سے سپریم کورٹ کے 2 ججز جاں بحق، ایک زخمی ہو گیا ہے، حملہ آور نے ایرانی سپریم کورٹ کے 3 ججوں کو نشانہ بنایا، ایک جج محافظ سمیت زخمی ہوا ہے، واقعہ تہران میں سپریم کورٹ کے باہر پیش آیا، حملہ آور نے فائرنگ کے بعد خود کو بھی گولی مار لی ہے،

    ایران کی سپریم کورٹ کے دو سینئر ججوں حجت الاسلام والمسلمین رزنی اور حجت الاسلام والمسلمین مغیثی کو تہران کے محل انصاف کے باہر قتل کر دیا گیا۔ فارس خبر رساں ایجنسی کے مطابق حملہ مقامی وقت کے مطابق صبح 10 بج کر 45 منٹ پر اس وقت ہوا جب ایک حملہ آور نے ججوں پر فائرنگ کردی۔حملے میں ہلاک ہونے والے دو ججوں کی شناخت علی رزنی اور محمد مغیشی کے نام سے ہوئی ہے۔واقعہ کے بعد پولیس نے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے، سپریم کورٹ کے دیگر ججز کی سیکورٹی سخت کر دی گئی ہے

    دونوں ججز ایران میں دہشت گردی اور جاسوسی کے مقدمات کے ذمہ دار تھے، اور ان کی ہلاکت نے کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔مقتول ججز علی رازینی اور محمد مغیشی تھے، جو ایران کے سخت گیر ججوں میں شمار کیے جاتے تھے۔ ان دونوں کو "پھانسی دینے والے” کے طور پر جانا جاتا تھا، کیونکہ یہ ججز مختلف دہشت گردوں اور مخالفین کو سخت سزائیں دینے کے لیے مشہور تھے۔ ان کی ہلاکت نے ملک میں سنسنی پھیلائی اور اس پر مختلف قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔

    ایران، حملے میں جاں بحق دونوں ججز”پھانسیاں دینے” کے حوالہ سے مشہور
    مقتول ججز علی رازینی اور محمد مغیشی نے ایران میں کئی سالوں تک عدلیہ میں اہم عہدوں پر خدمات انجام دیں اور ان کی شہرت اس بات کے لیے رہی کہ انھوں نے حکومت مخالف سرگرمیوں میں ملوث افراد کے خلاف سخت سزائیں سنائیں۔ ان کی عدالتوں نے متعدد افراد کو پھانسی کی سزا دی، جن میں بیشتر وہ لوگ شامل تھے جو ایران کی حکومت کے مخالف یا مختلف نظریات رکھتے تھے۔1980 کی دہائی میں ہونے والی بڑے پیمانے پر پھانسیوں کے دوران دونوں ججز کا کردار خاص طور پر مشہور ہوا، جب حکومت نے سیاسی قیدیوں کو پھانسی دی۔ ان پھانسیوں کو عالمی سطح پر انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی کے طور پر دیکھا گیا تھا۔

    ججز کی ہلاکت کی وجوہات ابھی تک واضح نہیں ہو سکیں، لیکن یہ واقعہ ایران کی عدلیہ میں ایک بڑی تبدیلی کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔ اس قتل کی تحقیقات جاری ہیں، اور ایرانی حکومت نے اس بارے میں کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا ہے۔

    حکومت پنجاب کا گاڑیوں کی رجسٹریشن پر بڑا فیصلہ

    بلوچستان اور شمالی علاقہ جات میں آندھی، شدید بارش و برفباری، سفر میں رکاوٹ کا خدشہ

  • اسلام آباد ہائیکورٹ میں دو ایڈیشنل ججز  کے ناموں کی منظوری

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں دو ایڈیشنل ججز کے ناموں کی منظوری

    چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت جوڈیشل کمیشن کا اہم اجلاس ہوا جس میں اسلام آباد اور بلوچستان ہائیکورٹس میں ایڈیشنل ججز کی تعیناتی کے بارے میں تفصیل سے غور کیا گیا۔ اجلاس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے ایڈیشنل ججز کے لیے دو ناموں کی نامزدگی کی گئی۔

    ذرائع کے مطابق جوڈیشل کمیشن نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایڈیشنل ججز کی نامزدگی کے لیے 4 ممکنہ امیدواروں میں سے دو کے ناموں کی منظوری دی۔ ان میں سے ایک نام سیشن جج اعظم خان کا ہے، جبکہ دوسرے نام سابق صدر اسلام آباد ہائیکورٹ بار، راجہ انعام امین منہاس کا ہے۔کمیشن کے اجلاس میں بلوچستان ہائیکورٹ کے لیے تین ایڈیشنل ججز کی نامزدگیوں پر بھی غور کیا گیا۔ تاہم، ان ناموں کی تفصیلات ابھی تک منظرعام پر نہیں آئیں۔

    یہ فیصلہ اسلام آباد اور بلوچستان ہائیکورٹس کی عدلیہ میں مزید بہتری لانے کے لیے کیا گیا ہے تاکہ ججز کی تعیناتی سے مقدمات کی سماعت میں تیزی لائی جا سکے اور عوام کو انصاف کی فراہمی کے عمل میں سہولت حاصل ہو سکے۔

    پاکستان کو ٹرانزٹ تجارت کا مرکز بنانے ، گارگو کی ٹریکنگ بارے جائزہ اجلاس

    القادریونیورسٹی میرے پاس آ گئی،جادو ٹونا نہیں سکھایا جائے گا، مریم نواز

  • بنگلہ دیش  کےبھارت میں ججز تربیتی پروگرام منسوخ

    بنگلہ دیش کےبھارت میں ججز تربیتی پروگرام منسوخ

    بنگلہ دیش نے بھارت میں 50 ججوں اور عدالتی افسران کے تربیتی پروگرام کو منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ اتوار کے روز بنگلہ دیش کی وزارت قانون، انصاف اور پارلیمانی امور کی جانب سے جاری کردہ ایک سرکلر میں کیا گیا۔

    اس تربیتی پروگرام میں شامل ہونے والے اہلکاروں میں اسسٹنٹ ججز، سینئر اسسٹنٹ ججز، جوائنٹ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز، ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز، ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز اور دیگر مساوی سطح کے عدالتی افسران شامل تھے۔ یہ پروگرام بھارت میں 10 سے 20 فروری تک منعقد ہونا تھا، تاہم اب اس کی منسوخی کا اعلان کر دیا گیا ہے۔وزارت قانون کے سرکلر کے مطابق، یہ فیصلہ سپریم کورٹ کی طرف سے جاری کی گئی ہدایات کی تعمیل میں کیا گیا۔ سرکلر میں کہا گیا کہ بھارت میں ججز کی تربیت کے لیے منظور شدہ اس پروگرام کو اب منسوخ کیا جا رہا ہے۔

    ڈھاکہ ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق، بنگلہ دیشی عبوری حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد سے بھارت اور بنگلہ دیش کے تعلقات مزید کشیدہ ہو چکے ہیں۔ محمد یونس کی سربراہی میں بنگلہ دیشی حکومت کی تشکیل کے بعد دونوں ملکوں کے تعلقات میں تناؤ آیا ہے، جس کے نتیجے میں اس تربیتی پروگرام کو منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
    اس فیصلے کے بعد، دونوں ممالک کے عدالتی افسران اور دیگر حکومتی اہلکاروں کے درمیان تعلقات مزید پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔ بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان سیاسی تناؤ کا یہ واقعہ دونوں ممالک کے حکومتی تعلقات اور عدالتی تعاون پر ایک نیا سوالیہ نشان بن کر ابھرا ہے۔

    اس پیش رفت کے بعد، بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان عدالتی اور قانونی تعاون میں ممکنہ تبدیلیوں کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، جس سے دونوں ملکوں کی عدالتوں میں کام کرنے والے افسران کو نئے چیلنجز کا سامنا ہو سکتا ہے۔

    آئندہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں بھی رسک برقرار رہیں گے،گورنر اسٹیٹ بینک

    ووٹ لوگ ایک امیدوار کو دیتے ہیں، بکسی سے کچھ اور نکلتا ہے،مولانا فضل الرحمان

  • جج آئین کی حفاظت، اس کا دفاع کرنے کا حلف لیتا ہے،جسٹس منصور کا ایک اور خط

    جج آئین کی حفاظت، اس کا دفاع کرنے کا حلف لیتا ہے،جسٹس منصور کا ایک اور خط

    جوڈیشل کمیشن اجلاس سے پہلے سپریم کورٹ کے جسٹس منصور علی شاہ کا ایک اور خط آ گیا

    جسٹس منصور علی شاہ نے سیکرٹری جوڈیشل کمیشن کو خط لکھ دیا،خط میں کہا گیا کہ رولز میں آئینی بنچ کیلئے ججز کی تعیناتی کا مکینزم ہونا چاہئے،آئینی بنچ میں کتنے ججز ہوں اس کا مکینزم بنانا بھی ضروری ہے،آئینی بنچ میں ججز کی شمولیت کا پیمانہ طے ہونا چاہیے، کس جج نے آئینی تشریح والے کتنے فیصلے لکھے یہ ایک پیمانہ ہو سکتا ہے،کمیشن بغیر پیمانہ طے کئے سپریم کورٹ اور سندھ ہائیکورٹ میں آئینی بنچ تشکیل دے چکا،

    جسٹس منصور نے ججز تعیناتی سے متعلق رولز پر مجموعی رائے بھی دے دی،جسٹس منصور نے جج تعیناتی میں انٹیلجنس ایجنسی سے رپورٹ لینے کی مخالفت کر دی اور کہا کہ انٹیلجنس ایجنسی کو کردار دیا گیا تو اس کا غلط استعمال ہو سکتا ہے، جوڈیشل کمیشن میں پہلے ہی اکثریت ایگزیکٹو کی ہے، چھبیسویں ترمیم سے متعلق اپنی پوزیشن واضح کرچکا ہوں،پہلے فل کورٹ بنا کر چھبیسیویں ترمیم کا جائزہ لینا چاہیے، رولزپر میری رائے اس ترمیم اور کمیشن کی آئینی حیثیت طے ہونے سے مشروط ہے، جج آئین کی حفاظت اور اس کا دفاع کرنے کا حلف لیتا ہے، ججز تعیناتی کے رولز بھی اسی حلف کے عکاس ہونے چاہییں،

    عدالتوں نے ہمیشہ موسمیاتی ایمرجنسی کے کیسز کو سنجیدہ لیا ،جسٹس منصور علی شاہ

    جسٹس جمال مندوخیل نے جسٹس منصور علی شاہ کو جوابی خط لکھ دیا

    خطاب کے دوران جسٹس منصور علی شاہ کا آئینی بینچ میں نہ ہونے کا تذکرہ

  • سپریم جوڈیشل کونسل ،ججز کیخلاف 30 شکایات خارج،5 پر جواب طلب

    سپریم جوڈیشل کونسل ،ججز کیخلاف 30 شکایات خارج،5 پر جواب طلب

    سپریم جوڈیشل کونسل نے ججز کیخلاف 30 شکایات خارج کردی،جبکہ 5 شکایات پر ججز سے جواب طلب کرلیا,سپریم کورٹ ترجمان نے جوڈیشل کونسل اجلاس کا اعلامیہ جاری کردیا

    اعلامیہ میں کہا گیا کہ سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاسسسپریم کورٹ اسلام آباد میں ہوا۔ اجلاس کی صدارت چیف جسٹس آف پاکستان، جناب جسٹس یحییٰ آفریدی نے کی، جو سپریم جوڈیشل کونسل کے چیئرمین بھی ہیں۔ اس اجلاس میں سپریم کورٹ کے دیگر معزز ججز جناب جسٹس منصور علی شاہ، جناب جسٹس منیب اختر، جناب جسٹس عامر فاروق (چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ) اور جناب جسٹس محمد ہاشم کاکڑ (چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ) نے بھی شرکت کی۔اجلاس میں دستور کے آرٹیکل 209(8) اور 2005 کے سپریم جوڈیشل کونسل کے طریقہ کار کی بنیاد پر ججوں کے ضابطہ اخلاق میں ترمیم کی بابت ایجنڈے پر غور کیا گیا۔ اس حوالے سے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی، جس کی سربراہی جناب جسٹس منیب اختر کریں گے، تاکہ ضابطہ اخلاق اور انکوائری کے طریقہ کار میں مناسب ترامیم کی تجویز پیش کی جا سکے۔

    کونسل نے دستور کے آرٹیکل 209 کے تحت مختلف افراد کی جانب سے دائر کردہ 35 شکایات کا جائزہ لیا۔ ان شکایات میں سے 30 شکایات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، جبکہ 5 شکایات پر جواب طلب کر لیا گیا ہے

    سپریم کورٹ ، فوجی عدالتوں کو 85 ملزمان کے فیصلے سنانے کی اجازت

    سپریم کورٹ، 9 اور 10 مئی کی ایف آئی آرز کی تفصیلات طلب

    سپریم کورٹ،پریکٹس پروسیجر آرڈیننس کے خلاف درخواستیں خارج

  • اسلام آباد، لاہور ہائیکورٹ میں ججز کی تعیناتی، اجلاس طلب، نام تجویز

    اسلام آباد، لاہور ہائیکورٹ میں ججز کی تعیناتی، اجلاس طلب، نام تجویز

    اسلام آباد: چیف جسٹس یحییٰ خان آفریدی نے اسلام آباد اور لاہور ہائی کورٹ میں ایڈیشنل ججوں کی تقرری کے معاملے پر جوڈیشل کمیشن کا اجلاس طلب کر لیا۔

    باغی ٹی وی : جوڈیشل کمیشن کا اجلاس 21 دسمبر کو طلب کیا گیا ہے جس میں اسلام آباد اور لاہور ہائیکورٹ میں ججوں کی تعیناتی کے لیے ناموں پر غور کیا جائے گا،اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایڈیشنل ججوں کی تقرری کے لیے چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے ڈسٹرکٹ سیشن جج اعظم خان اور ڈسٹرکٹ سیشن جج شاہ رخ ارجمند کے نام کے تجویز کردیئے گئے ہیں۔
    judges
    جوڈیشل کمیشن کے رکن بیرسٹر گوہر خان کی جانب سے ایڈووکیٹ کاشف علی ملک اور رکن جوڈیشل کمیشن اسلام آباد ذوالفقار علی عباسی کی جانب سے سید قمر حسین سبزواری کی تجویز دی گئی ہے۔

    سپریم کورٹ کے سینیئر ترین جج جسٹس منصور علی شاہ کی جانب سے سلطان مظہر شیر خان، ممبر جوڈیشل کمیشن روشن خورشید بھروچہ کی جانب سے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ سیشن جج ہمایوں دلاور کے نام کی تجویز دی گئی ہے۔

    فاروق ایچ نائیک نے قمر حسین سبزواری، عمر اسلم خان، دانیال اعجاز، کاشف علی کے نام تجویز کردیئے گئے ہیں۔

    دوسری جانب لاہور ہائیکورٹ کے لیے چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ عالیہ نیلم نے 21 نام تجویز کیے ہیں جن میں محمد صدیق اعوان،چوہدری اقبال احمد خان ،محمد آصف سعید رانا کے نام بطور جج تجویز کیے ہیں۔
    judges
    ان کے علاوہ محمد اجمل زاہد ،عبدالباسط خان بلوچ،حسن نواز مخدوم ،عامر عجم ملک اور شیریں عمران کے نام بھی بطور جج لاہور ہائیکورٹ تجویز کیے گئے ہیں۔

    چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ عالیہ نیلم نے ملک وقاص حیدر اعوان، ایڈووکیٹ اسد محمود عباسی، محمد امجد پرویز ، شہزاد محمود بٹ ،احسن رضا کاظمی ،خالد بن عزیز، محمد جواد ظفر اور خالداسحاق کے نام بھی بطور جج لاہور ہائیکورٹ تجویز کیے ہیں۔

    دریں اثنا سپریم کورٹ کے جج جسٹس منصور علی شاہ نے لاہور ہائیکورٹ میں ججز کی تعیناتی کیلیے 11نام تجویز کیے ہیں۔

    جسٹس منصور علی شاہ نے تین ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز کے نام لاہور ہائیکورٹ کیلیے بطور جج تجویز کیے ان میں ڈسٹر کٹ اینڈ سیشن جج قیصر نذیر بٹ ، ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد اکمل خان اور ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج جزیلہ اسلم شامل ہیں۔

    جزیلہ اسلم سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے دور میں رجسٹرار سپریم کورٹ کے عہدے پر بھی تعینات رہ چکی ہیں۔

    جسٹس منصور علی شاہ نے لاہور ہائیکورٹ کیلیے بطور جج ایڈووکیٹ حیدررسول مرزا ،منور السلام ،خالد اسحاق ،رافع ذیشان ، جاوید الطاف، ایڈووکیٹ قاسم علی چوہان ، سید شہاب قطب،عاصمہ حامد،ث مینہ خالد محمود کے نام بھی بطور لاہور ہائیکورٹ جج تجویز کیے ہیں۔

    علاوہ ازیں ممبر جوڈیشل کمیشن سینیٹر علی ظفر نے لاہور ہائیکورٹ کیلیے تین نام تجویز کیے، ان میں ایڈووکیٹ محمد ثاقب جیلانی ،بیرسٹر قادر بخش اور ایڈووکیٹ ہما اعجاز زمان کے نام شامل ہیں۔

    سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے بھی لاہور ہائیکورٹ میں بطور جج تعیناتی کیلیے 8 وکلاء کے نام تجویز کیے ہیں جن میں ملک جاوید اقبال وائیں، حسیب شکور پراچہ، مجیب الرحمان کیانی، سہگل اعجاز، ثاقب جیلانی، آیان طارق بھٹہ، نوازش پیرزادہ اور صباحت رضوی شامل ہیں۔
    judges
    جبکہ لاہور ہائیکورٹ میں ایڈیشنل ججز کی تقرری کے لئے اختر حسین نے 2 وکلا کے نام تجویز کئے ہیں جن میں ملک جاوید اقبال اور سید علی عمران شامل ہیں-

    چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت جوڈیشل کمیشن کا اجلاس 21 دسمبرکو شام 4 بجے ہوگا۔

  • ججز کی تقرری پر غور کیلئے  جوڈیشل کمیشن کا اجلاس طلب

    ججز کی تقرری پر غور کیلئے جوڈیشل کمیشن کا اجلاس طلب

    اسلام آباد: چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے ججز کی تقرری پر غور کیلئے 14 دسمبر کو جوڈیشل کمیشن کا اجلاس طلب کرلیا۔

    باغی ٹی وی: لاہور ہائیکورٹ کے ججز کیلئے نامزد 7 امیدواروں کے نام سامنے آگئے ہیں، امیدواروں میں ایڈووکیٹ صدیق اعوان، ایڈووکیٹ علی مسعود حیات، ایڈووکیٹ حسن نواز مخدوم، ایڈووکیٹ عامر عجم ملک، ایڈووکیٹ ضیاء الرحمان، ایڈووکیٹ جواد ظفر اور ایڈووکیٹ ملک محمد اویس خالد شامل ہیں۔

    جوڈیشل کمیشن کا اجلاس 14 دسمبر دوپہر 12 بجے سپریم کورٹ کے کانفرنس روم میں منعقد ہوگا علاوہ ازیں، 6 دسمبر کو پشاور اور سندھ ہائی کورٹس میں ججز کی تقرری کے بارے بھی جوڈیشل کمیشن کا اجلاس شیڈول ہے، 6 دسمبر کے اجلاس میں جسٹس شاہد بلال کی آئینی بینچ میں شمولیت پر بھی غور کیا جائے گا۔

    پشاور ہائیکورٹ میں ججز کے امیدواروں کے نام بھی سامنے آگئے ہیں، چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ کی جانب سے تجویز کردہ 9 امیدواروں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج کلیم ارشد، سیشن جج فرح جمشید، ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج انعام اللہ خان، ایڈووکیٹ جنید انور، ایڈووکیٹ سید مدثر امیر، ایڈووکیٹ اورنگزیب، ایڈووکیٹ قاضی جواد احسان اللہ، ایڈووکیٹ صلاح الدین اور ایڈووکیٹ صادق علی شامل ہیں۔

  • سپریم کورٹ ججز کی مراعات میں بڑا اضافہ

    سپریم کورٹ ججز کی مراعات میں بڑا اضافہ

    سپریم کورٹ ججز کی مراعات میں بڑا اضافہ کر دیا گیا،

    وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ کے ججز کے ہاؤس رینٹ اور جوڈیشل الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، جس کا نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔نوٹیفکیشن کے مطابق، سپریم کورٹ کے ججز کا ہاؤس رینٹ 68 ہزار روپے سے بڑھا کر 3 لاکھ 50 ہزار روپے کر دیا گیا ہے۔اسی طرح، ججز کا جوڈیشل الاؤنس 3 لاکھ 42 ہزار روپے سے بڑھا کر 10 لاکھ 90 ہزار روپے کر دیا گیا ہے۔قائم مقام صدر کی منظوری کے بعد وزارتِ قانون و انصاف کی جانب سے یہ نوٹیفکیشن جاری کیا گیا۔

    نوٹفکیشن کے مطابق سپریم کورٹ کے ججز (چھوٹی، پنشن اور مراعات) آرڈر 1997 میں مزید ترمیم کی گئی ہے، چونکہ سپریم کورٹ کے ججز ( پنشن اور مراعات) آرڈر، 1997 (پی او نمبر 2 آف 1997) میں مزید ترمیم کرنا مناسب ہے لہذا، سپریم کورٹ سے متعلق، اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کے پانچویں شیڈول کے ذریعے عطا کردہ اختیارات کو بروئے کار لاتے ہوئے، اسلامی جمہوریہ پاکستان کے صدر کو درج ذیل حکم جاری کرنے پر خوشی ہوئی ہے:

    اس حکم کو سپریم کورٹ کے ججز (، پنشن اور مراعات) کہا جائے گا ،یہ ایک ساتھ نافذ ہو جائے گا اور اسے جولائی 2024 کے پہلے دن اور اس سے نافذ سمجھا جائے گا۔ پیراگراف 20 میں ترمیم، 1997 کے P.O.No.2. سپریم کورٹ کے ججز ( پنشن اور مراعات) آرڈر، 1997 (P.O. No.2 of 1997) میں، اس کے بعد پیراگراف 20 میں مذکورہ حکم کے طور پر حوالہ دیا گیا، ذیلی پیراگراف (2) میں الفاظ "اڑسٹھ ہزار” کے لیے "تین لاکھ پچاس ہزار” کے الفاظ استعمال کیے جائیں گے۔ پیراگراف 22 کی ترمیم، 1997 کے P.O.No.2.- مذکورہ آرڈر میں، پیراگراف 22 میں، الفاظ "چار لاکھ اٹھائیس ہزار چالیس” کے لیے، الفاظ "ایک ملین ایک لاکھ اڑسٹھ ہزار ایک سو تریسٹھ” کو تبدیل کیا جائے گا۔

    بندوق کی نوک پر ڈولفن ایان سے برہنہ رقص کا واقعہ،ہیومن رائٹس کونسل کی مذمت

    گن پوائنٹ پر خواجہ سرا ڈولفن ایان سے برہنہ رقص کروا کر ویڈیو کر دی گئی وائرل

    لاہور بیورو کیخلاف بغاوت کی خبر کیسےباہر آئی؟ اکرم چوہدری سیخ پا،ذاتی کیفے میں اجلاس میں تلخی

    اکرم چوہدری کی مذہبی منافرت پھیلانے کی کوشش ،ہم نے چینل ہی چھوڑ دیا،ایگریکٹو پروڈیوسر بلال قطب

    اکرم چوہدری نجی ٹی وی کا عثمان بزدار ثابت،دیہاڑیاں،ہراسانی کے بھی واقعات

    اکرم چوہدری کا نجی ٹی وی کے نام پر دورہ یوکے،ذاتی فائدے،ادارے کو نقصان

    سماٹی وی میں گروپ بندی،سما کے نام پر اکرم چوہدری اپنا بزنس چلانے لگے

    سما ٹی وی بحران کا شکار،نجم سیٹھی” پریشان”،اکرم چودھری کی پالیسیاں لے ڈوبیں

    انتہائی نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد ٹک ٹاکرمناہل نے مانگی معافی

  • سینیٹ قائمہ کمیٹی نے سپریم کورٹ ججز کی تعداد 25 کرنے کی دی منظوری

    سینیٹ قائمہ کمیٹی نے سپریم کورٹ ججز کی تعداد 25 کرنے کی دی منظوری

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف نے سپریم کورٹ میں ججز کی تعداد 25 کرنے کی منظوری دے دی،

    سینیٹر حامد خان و سینیٹر کامران مرتضیٰ نے ججز کی تعداد بڑھانے کی مخالفت کی،سپریم کورٹ میں ججز کی تعداد 17 سے بڑھا کر 25 کی جائے گی، 8 نئے جج آئیں گے۔ سینیٹ قائمہ کمیٹی قانون و انصاف نے منظوری دے دی۔ تحریک انصاف اور جے یو آئی نے مخالفت کی،کامران مرتضیٰ کا کہنا تھا کہ اب جج بہترین کام کررہے تعداد بڑھانے کا مقصد اپنی مرضی کے جج لانا ہے ،چیئرمین کمیٹی کا کہنا تھا کہ 25 ججز میں ایک چیف جسٹس اور 24 ججز شامل ہوں گے،چیئرمین فاروق ایچ نائیک کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی قانون و انصاف اجلاس میں اکثریتی رائے سے سپریم کورٹ کے ججز کی تعداد 25 کرنے کی منظوری دی، پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹر حامد خان نے کہا کہ ہمیں اس طرح قانون سازی پر اختلاف ہے، ججز تعیناتی کا ایسا طریقہ کار عدلیہ کی آزادی پر حملہ ہے،26ویں ترمیم سے ہم نے عدلیہ کو بہت سخت نقصان پہنچایا ہے، جب کسی ملک کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں تو ججز کی تعداد بڑھائی جاتی ہے کیوں کہ مرضی کے فیصلے نہیں آرہے ہوتے، آپ بتائیں آپ کی حکومت کیا کرنا چاہ رہی ہے،سینیٹر شہادت اعوان نے کہا کہ سپریم کورٹ ججز کی کم از کم تعداد 21 لازمی کرنی چاہیے،چیئرمین کمیٹی نے سیکریٹری قانون سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر اخبار بتا سکتا ہے کہ مقدمات کی تعداد 60 ہزار ہیں تو آپ کیوں نہیں بتا سکتے، آپ کو انفارمیشن کےلیے کتنا وقت چاہیے،سیکریٹری قانون نے کہا کہ ہمیں کم سے کم بھی تین ہفتے کا وقت دے دیں

    قبل ازیں سینیٹ میں سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ترمیمی آرڈیننس 2024 پیش کیا گیا،ایکٹ میں ترمیم کیلئے ایک شق کے تحت کمیٹی میں چیف جسٹس پاکستان کے علاوہ ایک سینئر ترین جج اور ایک چیف جسٹس کا نامزد کردہ جج شامل ہوگا۔آرٹیکل 184 کی شق 3 کے تحت معاملے پر سماعت سے قبل مفادِ عامہ کی وجوہات دینا ہوں گی،معاملہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کیاگیا،

    سما ٹی وی بحران کا شکار،نجم سیٹھی” پریشان”،اکرم چودھری کی پالیسیاں لے ڈوبیں

    انتہائی نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد ٹک ٹاکرمناہل نے مانگی معافی

    مناہل ملک کی لیک”نازیبا "ویڈیو اصلی،مفتی قوی بھی میدان میں آ گئے

    چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کا پہلا دن،سوا گھنٹے میں 24 مقدموں کی سماعت

    چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے نماز کے دوران تصویر بنانے پر ایس پی سیکیورٹی کا تبادلہ کر دیا

    نئے چیف جسٹس یحی آفریدی نے پہلا انتظامی حکم جاری کر دیا

    چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کو گارڈ آف آنر پیش،فل کورٹ اجلاس 28 اکتوبر کو طلب

  • 26 ویں ترمیم کے بعد سب جوابدہ ،کوئی بھی مقدس گائے نہیں رہا.شرجیل میمن

    26 ویں ترمیم کے بعد سب جوابدہ ،کوئی بھی مقدس گائے نہیں رہا.شرجیل میمن

    سندھ کے سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن نے پریس کانفرنس کرتےہوئے کہا ہے کہ آج کی پریس کانفرنس میں تین چار اہم اشو ہیں، ملک میں نیا نظام لاگو ہو چکا ہے، ماضی کا طریقہ کار کے تحت جج صاحبان خود جج مقرر کرتے تھے،بلاول بھٹو زرداری نے 26 ویں ترمیم کے لیے بہت محنت کی.

    شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ حقیقی معنوں میں اب ہر شخص احتساب کے زمرے میں آئے گا، پارلیمنٹ کا کردار اہم ہوگیا ہے، ماضی میں چند ججوں نے جوڈیشل ایکٹوزم کے تحت من مانیاں کیں،افتخار چوہدری ثاقب نثار جیسے ججز من پسند فیصلے کرتے رہے، چھبیسویں آئینی ترمیم سے ہم سب کے لیے اچھا ہوگا، اب انصاف کے لیے بیس پچیس سال انتظار نہیں کرنا پڑے گا، اب ججز سپریم جوڈیشل کونسل کے تحت فیصلے کر سکتے ہیں،چھبیسویں ترمیم کے تحت صوبوں کو مساوی حقوق ملیں گے ، سندھ ہائی کورٹ کے سینیئر جج احمد علی شیخ کو سپریم کورٹ میں نہیں لیا گیا، بہت سارے جونیئرز کو سپریم کورٹ میں لیا گیا تھا، تب سارے وکلاء ججز خاموش کیوں تھے، ہم تمام ججز کا احترام کرتے ہیں، انصاف سب کے لیے ہونا چاہیئے،پارلیمان آئین و قانون بناتی ہے، اس کے کردار کو برقرار رکھا گیا ہے، ہمارے پاس بین الاقوامی شہرت کے حامل ججز ہیں،بدقسمتی سے افتخار چوہدری کے بعد ماحول خراب ہوا، دنیا بھر میں کہیں بھی ججز نہ ججز کی تقرریاں کرتے ہیں، نہ ان کو ہٹاتے ہیں،پاکستان جیسے قانونی نظام والے معاشروں میں حکومتیں ہی سلیکشن یا پھر مشاورت ججز کی تقرریاں سے کرتی ہیں،یہ کوئی نئی بات نہیں حکومت نے صرف ججز کی تقرریوں میں اپنا حصہ ڈالنے والا اپنا اختیار واپس لیا ہے، برطانیہ، کینیڈا، آسٹریلیا، بھارت، امریکہ اور جنوبی افریقہ میں، ججز کی تقرریاں حکومت کی طرف سے عدلیہ کے مشورے سے کی جاتی ہے، 26 ویں ترمیم کی منظوری کے بعد سب کا احتساب ہو گا، کوئی مقدس گائے نہیں رہا،26 ویں آئینی ترمیم جو کہ ایک مشکل مرحلہ تھا حالانکہ نمبرز پورے تھے لیکن بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہم ہر جماعت کو ساتھ لے کر چلیں گے.

    اب کوئی بھی غیر رجسٹرڈ گاڑی سڑکوں پر نہیں چل سکے گی،شرجیل میمن

    شرجیل میمن نے 26ویں ترمیم کو بلاول بھٹو کا دور اندیش اقدام قرار دیا

    چاہتے ہیں کہ دعوے کم اور کام زیادہ کر کے دکھائیں،شرجیل میمن

    عمران خان اسرائیل ایجنٹ نہیں بلکہ اسرائیلی حکومت کا حصہ ہے، شرجیل میمن

    پی ٹی آئی ہمیشہ آمریت کی آلہ کار رہی ہے،شرجیل میمن