Baaghi TV

Tag: ججز

  • جب آپ اپنی عزت کا مطالبہ کرتے ہیں تو دوسروں کی بھی کریں،عرفان صدیقی

    جب آپ اپنی عزت کا مطالبہ کرتے ہیں تو دوسروں کی بھی کریں،عرفان صدیقی

    اسلام آباد: ن لیگ کے پارلیمانی لیڈر سینیٹر عرفان صدیقی نے اظہار خیال کیا-

    باغی ٹی وی : عرفان صدیقی نے کہا کہ ممبران پارلیمان کے ساتھ جو رویہ روا رکھا جاتا ہے وہ پارلیمنٹ کے ساتھ رکھا جاتا ہے،رؤف حسن متعلق جو خبر آئی اسکی مذمت کرتا ہوں،ان کے خاندان کا ساتھ گہرا تعلق ہے،اس طرح کے واقعات سے کسی کی آواز خاموش نہیں کرا ئی جاسکتی،عدلیہ کے کئی کردار ہیں ایک کردار گزشتہ کئی دہائیوں سے آئین کے ساتھ رہا،آئین توڑنے والوں کو ہار ڈالے گئے اور ویلکم کیا گیا،جب بھی جمہوریت کشی ہوئی تو جمہوریت کشوں کا ساتھ دیا-

    عرفان صدیقی نے کہا کہ ایک نظریہ ضرورت میں ہمیشہ جمہوریت اور آئین کا سر کچلا گیا،ایک ہوتا ہے عدالت کا فیصلہ،جس میں وکلا بحث کرتے ہیں دلائل دیتے ہیں،بیٹے پر تنخواہ نہ لینے پر وزیراعظم کو گھر بھیج دیا گیا،کون سا آئین اور ضابطہ اخلاق ہے یہ سب،میرے پیارے جج اطہر من اللہ نے ایک تقریر کی،انہوں نے کہا امام ابو حنفیہ کی اگر تمام اقوال کو اپنا لیا جائے تو عدلیہ میں اختلافات ہوں ،جب خلیفہ منصور نے امام ابو حنیفہ سے کہا کرسی عدلیہ کا تو انہوں نے کہا میں انصاف پر کبھی سمجوتہ نہیں کروں گا-

    جون کے دوسرے ہفتے سے پری مون سون شروع ہونے کی پیشگوئی

    عرفان صدیقی نے کہا کہ امام ابو حنیفہ کا قول ہے اگر جج غصے میں ہو تو فیصلہ نہیں کرنا چاہیے،کہاں آپ اور آپ کا کردار کہاں امام ابو حنیفہ،آپ اتنا زیادہ بولتے ہیں اور آپکا رویہ سب کے سامنے ہے،ایک باوردی افسر کے متعلق کہا کہ کیا وہ چاند پر رہتا ہے،جب آپ اپنی عزت کا مطالبہ کرتے ہیں تو دوسروں کی بھی کریں-

    سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا کہ میں ان کے ضابطہ اخلاق کا حوالہ دینا چاہتا ہوں،ان کا ضابطہ اخلاق کہتا ہے اللہ سے ڈرنے والا،سچا اور غصہ نہ کرنے والا، کہتے ہیں وزیر اعظم اور کابینہ کو بلاؤں گا،کل آپ کہیں گے سینیٹ میں ہمارے خلاف تقاریر ہوئیں ہیں،تمام ممبرا ن کو بلائیں میڈم چیئرپرسن کو بھی بلائیں گے،یہ سب ججز کو زیب نہیں دیتا سب کو اپنی حدود میں رہنا ہوگا-

    سینیٹ اجلاس،ایرانی صدر کی شہادت،قرارداد منظور

    سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا کہ آپ ایک چلتا چلاتا اسپتال اپنے بھائی کیلئے بند کردیں تو بھی ٹھیک،آپ ایک وزیراعظم کو اپنے بیٹے سے تنخواہ نہ لینے پر گھر بھیج دیں تو بھی ٹھیک،آپ کے ہاتھ میں ترازو ہے آپ کو اپنا رویہ دیکھنا ہوگا،واوڈا نے کوئی گالی نہیں دی آپ اپنے آپ میں برداشت لائیں،آپ کے پاس قانون کی طاقت ہے آپ کی تجاوزات کی حدیں بڑھ گئیں ہیں-

    سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا کہ آپ کی تجاوزات انتظامیہ تک پہنچ چکی ہیں، آپ نے ایک تبادلہ نہ ہونے پر پیغام دیا کہ اڈیالہ جیل میں بہت جگہ پڑی ہے،اس پر وزیراعظم نے خط لکھا جس کا آج تک جواب نہیں آیا،ہم آپ کا احترام کرتے ہیں آپ بھی اپنی قدر کریں-

    وزیراعظم ایرانی صدر کی نماز جنازہ میں شرکت کے لیے کل تہران جائیں گے

  • دوہری شہریت رکھنے والے شخص کو جج تعینات کرنے پر پابندی کا بل

    دوہری شہریت رکھنے والے شخص کو جج تعینات کرنے پر پابندی کا بل

    دوہری شہریت رکھنے والے شخص کو جج تعینات کرنے پر پابندی عائد کرنے کا بل جمع قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں جمع کروا دیا گیا،

    بل جے یو آئی ایف کے رکن نور عالم خان کی جانب سے جمع کرایا گیا ہے، بل میں کہا گیا ہے کہ دوہری شہریت رکھنے والے شخص کو سپریم کورٹ یا ہائی کورٹ کا ججز تعینات کرنے پر پابندی عائد کی جائے،بل میں آئین کے آرٹیکل 177، 193 اور 208 میں ترامیم تجویز کی گئی ہیں،بل میں کہا گیا ہے کہ کوئی بھی شخص سپریم کورٹ کا جج تعینات نہیں ہو گا اگر وہ دوہری شہریت یا کسی اور ملک کی سٹیزن شپ رکھے،کوئی شخص ہائی کورٹ کا جج نہیں ہو سکتا اگر وہ دوہری شہریت یا کسی اور ملک کی سٹیزن شپ رکھے ،عدالتوں کے افسران اور ملازمین اگر دوہری شہریت یا کسی اور ملک کی سٹیزن شپ رکھے تو وہ کسی عدالت میں افسر یا ملازم تعینات نہیں ہو سکتا،سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے ججز کے اس ملک میں دلچسپی stakes ہونے چاہئے جس میں وہ کسی اتھارٹی میں عہدہ رکھیں، جن ججز کی دوہری شہریت ہو وہ اپنے اصل ملک کے مفاد کو داو پر لگاتے ہیں ، آئین کے تحت ججز کی ریاست سے وفاداری کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے،

    اراکینِ اسمبلی کیلیے دہری شہریت پر پابندی ، ججز پر کیوں نہیں؟عباس آفریدی

    اداروں کو بدنام کرنا ملک کی خدمت نہیں،چیف جسٹس

    کیا دہری شہریت والے شخص کو پاکستان کی عدالت کا جج ہونا چاہیے؟مصطفیٰ کمال

    جسٹس بابر ستار کے پاس پاکستان کے علاوہ کسی اور ملک کی شہریت نہیں ، اسلام آباد ہائی کورٹ

  • اراکینِ اسمبلی کیلیے دہری شہریت پر پابندی ، ججز پر کیوں نہیں؟عباس آفریدی

    اراکینِ اسمبلی کیلیے دہری شہریت پر پابندی ، ججز پر کیوں نہیں؟عباس آفریدی

    مسلم لیگ ن کے رہنما ، سابق سینیٹر عباس آفریدی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ جج بھی اپنے آپ کو دُہری شہریت کے حوالے سے احتساب کے لیے پیش کریں،جب تک ہم خود درست ہوں تب تک مداخلت نہیں ہوسکتی

    سابق سینیٹر عباس آفریدی کا کہنا تھا کہ اس وقت ملک میں عدلیہ سے متعلق ایک بحران کی سی کیفیت ہے، ہمارے پاس ایک موقع ہے کہ اپنے عدالتی نظام میں بہتری لائیں،ہائیکورٹ، سپریم کورٹ میں جو کیسز چل رہے ہیں ان کی کیا نوعیت ہے؟ جب ججز کی تقرری ہوتی ہے، تو ہر جج کسی نہ کسی گروپ سے ہوتا ہے، اگر کوئی شخص جب جج کی کرسی پر بیٹھتا ہے تو اسے غیر جانبدار ہونا چاہیے ،ججز کی تقرری کے معاملہ پر شفافیت نہیں ہے، ججز کی تقرری اور بھرتیوں کے معاملہ پر نظر ثانی کرنی چاہیے، جج کو جب کرسی پر بیٹھنا چاہیے تو اسے پریشر میں نہیں آنا چاہیے، آج ہماری عدلیہ کا جو معیار ہے اس پر بھی سوالیہ نشان ہے، سپریم کورٹ سو موٹو عجیب و غریب چیزوں پر لے رہی ہے، عدلیہ پہلا قدم اٹھائے اور اپنا احتساب شروع کرے، سیاست دان دوسرے ممالک کی دہری شہریت نہیں لے سکتے تو جج کیوں لے رہے ہیں، عدلیہ اپنے آپ میں احتساب شروع کرے، پارلیمنٹ بھی عدلیہ سے متعلق قانون سازی کرکے انہیں آئین و قانون کا پابند بنائے، پارلیمنٹ میں عدلیہ کی تقرریوں پر قانون سازی ہونی چاہیے

    عباس آفریدی کا مزید کہنا تھا کہ ججوں کی تقرری میں آئین اور قانون کے ضوابط پورے نہیں ہوتے، تنظیموں سے وابستہ وکلاء ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ تک پہنچ جاتے ہیں، ہم جوڈیشری کے حساب سے 134 نمبر پر کیوں ہیں؟ ہم خود ٹھیک ہوں تو مداخلت نہیں ہو سکتی،جن کے پاس دہری شہریت ہے وہ خود اپنے آپ کو احتساب کے لیے پیش کریں، سینیٹرز اور اراکینِ اسمبلی کے لیے دہری شہریت پر پابندی ہے، ججز پر کیوں نہیں؟ ریڑھی والا ہو یا وزیرِ اعظم کسی کو انصاف نہیں مل رہا، کسی ادارے میں اہم عہدے پر پہنچنے والوں کی دہری شہریت نہیں ہونی چاہیے، ججز کو چاہیے کہ احتساب خود سے شروع کریں، پاکستان کو بحران سے نکالنے کے لیے عدلیہ کو مضبوط کریں،

    ایک سوال کے جواب میں عباس آفریدی کا کہنا تھا کہ صحافیوں کو زیادہ معلومات ہوتی ہیں، جو جج اس سے پہلے وکیل تھے، انکے پاس کونسے زیادہ کیسز آتے تھے،جج کی ایک سوچ ہوتی ہے اور وہ پاکستان کی ہوتی ہے، اسکا رنگ نسل سے تعلق نہیں انصاف سے تعلق ہوتا ہے،جج کی کرسی پر بیٹھ کر وہ انصاف کرتا ہے، گھبراتا نہیں ہے،ججز فیصلے کرتے ہیں، خط نہیں لکھتے، انہوں نے خود کو سیاسی بنالیا،ایک دہشتگرد نے ملک کو نقصان دیا ہوا ہے، اگر عدالتیں ڈر جائیں گی تو اُسے سزا کون دے گا،

    اداروں کو بدنام کرنا ملک کی خدمت نہیں،چیف جسٹس

    بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    ایبٹ آباد میں "ہم جنس پرستی کلب” کے قیام کے لیے درخواست

    ہنی ٹریپ،لڑکی نے دوستوں کی مدد سے نوجوان کیا اغوا

    بچ کر رہنا،لڑکی اور اشتہاریوں کی مدد سے پنجاب پولیس نے ہنی ٹریپ گینگ بنا لیا

    طالبات کو نقاب کی اجازت نہیں،لڑکے جینز نہیں پہن سکتے،کالج انتظامیہ کیخلاف احتجاج

    امجد بخاری کی "شادی شدہ” افراد کی صف میں شمولیت

  • بلانے کا کوئی شوق نہیں، شوق ہوتا تو پہلے روز وزیراعلیٰ کو بلا لیتا،چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ

    بلانے کا کوئی شوق نہیں، شوق ہوتا تو پہلے روز وزیراعلیٰ کو بلا لیتا،چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ

    لاہور ہائیکورٹ میں انسداد دہشتگردی عدالت راولپنڈی سے کیسز دوسری عدالت منتقل کرنے کی درخواست پر سماعت ہوئی،

    ججز تعینات کرنے والی کمیٹی کے ممبران مریم اورنگزیب، مجتبیٰ شجاع الرحمان اور دیگر عدالت پیش ہوئے، وزیرقانون پنجاب بھی چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کی عدالت میں پیش ہوئے،سرکاری وکیل نے کہاکہ حکومت نے راولپنڈی، لاہور، فیصل آباد میں ججز تقرر کیلئے رجسٹرار کو خط لکھے،اے ٹی سی گوجرانوالہ، لیبرکورٹس میں ججز تقرری کیلئے تین تین نام بھجوائے،ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے کہاکہ قانون کی منشا کے مطابق ججوں کے پینل کے نام بھجوائے۔

    مریم اورنگزیب نےعدالت کو حکومتی موقف سے آگاہ کرتے ہوئے کہاکہ ہم شفاف طریقے سے ججوں کی تقرریاں کرنا چاہتے ہیں،وزیر قانون پنجاب صہیب احمد نے کہاکہ قانون کے تحت ججوں کی تقرریاں ہوں گی،

    چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ نے ججوں کی تقرریوں کی بابت بار بار کیوں یقین دہانی کرائی؟ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے کہاکہ پراسس مکمل کرنے کے بعد رجسٹرار ہائیکورٹ کو خط لکھا گیا،چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے لئے سیاستدان انتہائی قابل احترام ہیں،یہ سسٹم تو چلتا رہے گا،مریم اورنگزیب نےکہا کہ ہم بھی آپ کو محترم سمجھتے ہیں، پنجاب حکومت نے کمیٹی بنا دی ہے، لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس شہزاد احمد نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ نے کبھی مجھ سے مشاورت کیلئے کہا، ہم نے کیس میں نوٹس کئے اور کئی بار ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو بلایا،مجھے آپ لوگوں کو بلانے کا کوئی شوق نہیں، شوق ہوتا تو پہلے روز وزیراعلیٰ کو بلا لیتا،وزیر قانون پنجاب نے کہاکہ ہم ججز کا بہت احترام کرتے ہیں۔

    چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اے ٹی سی ججز تقرری کتنے دن میں ہونی ہے، فیصلے کتنے روز میں ہونے ہیں؟وزیر قانون پنجاب نے کہاکہ 7 روز میں فیصلہ کرنا ضروری ہے،مریم اورنگزیب نے کہاکہ آپ ججز کا پینل دے دیں اس میں سے ججز کا تقرر کر دیں گے،لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ قانون میں کہاں لکھا ہے کہ چیف جسٹس حکومت کو ججوں کا پینل دے گا، آپ مجھ سے غیرقانونی مطالبہ نہ کریں

    سیکرٹری قانون نے عدالت میں ججوں کی تقرری کا طریقہ کار اور قانون پیش کیا، لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے دل میں سب کا احترام ہے، سب اداروں کا احترام ہے،ہمارے دل میں آپ کا احترام ہے آپ کریں نہ کریں،پارلیمنٹ کا سب سے زیادہ احترام ہے،وزرا کو طلب کرکے اچھا نہیں لگا، ہم بھی کیا کریں لوگ چیختے ہیں کہ فیصلے کریں،ججز تعینات ہوں گے تو فیصلے ہوں گے،تین ہفتے میں ججز کی تعیناتی کرکے رپورٹ عدالت میں پیش کریں، لاہور ہائیکورٹ نے حکومتی کمیٹی سے پیر کے روز تک پیشرفت رپورٹ بھی طلب کرلی

    لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ حکومت عملی طور پر ہمارے ساتھ تعاون کرے،ہم کسی ادارے سے لڑائی نہیں چاہتے،ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے ججوں کےتقرر پر ازسر نوغور کیلئے مہلت مانگی، عدالت نے بروقت ججوں کا تقرر نہ کرنے پر مایوسی کااظہار کیا اور ریمارکس دیئے کہ عدلیہ کو حکومتی کمیٹی سے کنسلٹنٹ کی ضرورت نہیں،وزیر قانون نے کہاکہ آپ حکومت کو دو یا تین نام دے دیں اس میں سے ایک ایک کو جج لگا دیا جائے گا،لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کس قانون کے تحت ججوں کے ناموں کا پینل آپ کو دوں،اگر قانون کے مطابق ججوں کی تقرریاں کی جاتیں تو معاملہ یہاں تک نہ آتا،آپ ججوں کی تقرریاں کریں، بے شک میرے ساتھ تعاون نہ کریں،مریم اورنگزیب نے کہاکہ ہم یہاں آپ کے احترام کیلئے کھڑے ہیں،چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ہم قانون اور آئین کی بالادستی چاہتے ہیں،عدالت نے کیس کی سماعت پیر تک ملتوی کر دی۔

    مریم نواز نے پولیس وردی پہنی،عثمان انور نے ساڑھی کیوں نہیں پہنی؟ مبشر لقمان کا تجزیہ

    اداروں کی یونیفارم پہننا خلافِ قانون،محترمہ عملی کام بھی کریں، بیرسٹر سیف

    مریم کی پولیس وردی پر تنقید کرنیوالوں نےبرقعے کی آڑ میں دھندہ چلایا ،عظمیٰ بخاری

    بچ کر رہنا،لڑکی اور اشتہاریوں کی مدد سے پنجاب پولیس نے ہنی ٹریپ گینگ بنا لیا

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    پولیس وردی پہننے پر وزیراعلیٰ پنجاب کیخلاف مقدمہ کی درخواست

    میں تین بار وزیر اعظم رہنے والے نواز شریف کی بیٹی تھی مگر مجھے بھی خود کو ثابت کرنا پڑا،مریم نواز

  • پاکستان کی کوئی پگڑی اُچھالے گا ہم اس پگڑی کا فٹ بال بنائیں گے،فیصل واوڈا

    پاکستان کی کوئی پگڑی اُچھالے گا ہم اس پگڑی کا فٹ بال بنائیں گے،فیصل واوڈا

    سینیٹر فیصل واوڈا نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ بار بار انٹیلی جنس اداروں کا نام لیا جارہا ہے،شواہد دیں ہم آپکے ساتھ کھڑے ہیں،
    اسلام آباد پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے فیصل واوڈا کا کہنا تھا کہ اداروں کی دخل اندازی کے ثبوت دیں!میرے خط کا جواب کیوں نہیں دیا؟کیا آپ انصاف کررہے ہیں؟ جج دوہری شہریت کے ساتھ کیسے بیٹھے ہوئے ہیں؟ میری ماں کے لیے سوشل میڈیا پر بیان بازی ہو رہی تھی اس وقت بھی نوٹس لیا جاتا، کل پنجاب میں بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا گیا اس پر بھی نوٹس لیا جاتا، جسٹس بابر ستار کو ایک سال بعد باتیں یاد آرہی ہیں، اب الزامات کے شواہد بھی دینا پڑیں گے، مداخلت کے شواہد لے آئیں ہم آپ کیساتھ کھڑے ہیں، بتایا جائے کس نے آپکے کام میں مداخلت کی،ججز کو شفاف اور الزامات سے دور ہونا چاہیئے، قانون بنانے والے دہری شہریت نہیں رکھ سکتے تو جج کیسے رکھ سکتے ہیں ،

    بہت مذاق ہوگیا ، ججز اپنے الزامات کا ثبوت دیں، نہیں تو لیں گے ،فیصل واوڈا
    فیصل واوڈا کا کہنا تھا کہ نسلہ ٹاور گرایا گیا لوگ سڑکوں پر آگئے کوئی شنوائی نہیں ہوئی،آصف زرداری کو 14 سال قید ہوئی وہ کس قانون کے تحت ہوئی ، قانون میں کہاں لکھا ہے کہ فوج سرحدوں پر جانیں دے اور انکا تمسخر اڑیا جائے، نواز شریف کو پیسے نہ لینے پر نااہل کیا گیا کوئی پوچھنے والا نہیں، 46 سال بعد آپ بتا رہے ہیں کہ بھٹو صاحب کا عدالتی قتل ہوا ، آپ کیلئے حلال ہمارے لیے حرام کیوں ہے، قوم چاہتی ہے کہ اتنے بڑے آئینی اور قانونی عہدوں پر بیٹھے ہیں تو کلیئر کریں ، بہت مذاق ہوگیا ، ججز اپنے الزامات کا ثبوت دیں، نہیں تو لیں گے ،اگر یہ فوج نہیں ہو گی تو پاکستان بھی نہیں بچے گا،اگر اداروں کی کہیں مداخلت ہے تو ثبوت دیں ہم ساتھ کھڑے ہوں گے, اب پاکستان کی کوئی پگڑی اُچھالے گا ہم اس پگڑی کا فٹ بال بنائیں گے،پیار دو گے پیار ملے گا،ہمارے اداروں کو نشانہ بنانا بندکریں،پردوں کے پیچھے بیٹھ کر بات نہ کریں کھل کر آگے آئیں، 2میڈیا ہاوسز کو بتانا چاہتا ہوں وہ دن چلے گئے، جب آپ آئین و قانون کے ٹھیکداروں کو ملا کر سیاستدان کو اُٹھاتے اور بٹھاتے تھے،کوئی پیار دے گا تو پیار دیں گے بدمعاشی کرے گا تو ڈبل بدمعاشی کریں گے، کسی کی پرائیویسی میں مداخلت کرنے کی اجازت نہیں،آپ پر بات آئی تو ایکشن لیا، کسی اور پر بات ہو تو چپ ہو جاتے ہیں،کوئی میری پگڑی اچھالے گا تو میں اس کی پگڑی کا فٹبال بنا دوں گا،میں بتاوں گا اُٹھانا اور بٹھانا کسے کہتے ہیں، کوئی یہاں پگڑیاں نہیں اچھال سکتا،

    بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    ایبٹ آباد میں "ہم جنس پرستی کلب” کے قیام کے لیے درخواست

    ہنی ٹریپ،لڑکی نے دوستوں کی مدد سے نوجوان کیا اغوا

    بچ کر رہنا،لڑکی اور اشتہاریوں کی مدد سے پنجاب پولیس نے ہنی ٹریپ گینگ بنا لیا

    طالبات کو نقاب کی اجازت نہیں،لڑکے جینز نہیں پہن سکتے،کالج انتظامیہ کیخلاف احتجاج

    امجد بخاری کی "شادی شدہ” افراد کی صف میں شمولیت

    مجھے مسلم لیگ ن کے حوالے سے نہ بلایا جائے میں صرف مسلمان ہوں،کیپٹن ر صفدر

  • ججز مداخلت از خود نوٹس، آزاد عدلیہ ہمارا فرض ہے ، حلف اٹھایا ہے،چیف جسٹس

    ججز مداخلت از خود نوٹس، آزاد عدلیہ ہمارا فرض ہے ، حلف اٹھایا ہے،چیف جسٹس

    سپریم کورٹ میں ججز اذ خود نوٹس کیس کی سماعت ہوئی،،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 6 رکنی بینچ نے سماعت کی

    اٹارنی جنرل نے جواب جمع کرانے کیلئے وقت مانگ لیا،اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہاکہ مجھے گزشتہ آرڈر کی کاپی ابھی نہیں ملی،مجھے اس کیس میں وزیراعظم سے بھی بات کرنی تھی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہاکہ آرڈر پر تین دستخط ابھی بھی نہیں ہوئے۔کمرہ عدالت میں ججزکو آرڈرکاپی دستخط کرنے کیلئے دے دی گئی،جسٹس منصور علی شاہ نے مکالمہ کرتے ہوئے کہاکہ آپ کو کتنا وقت چاہئے گا؟ اٹارنی جنرل نے کہاکہ مجھے کل تک کا وقت دے دیں ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ آج کون دلائل دینا چاہے گا،اسلام آباد ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے وکیل روسٹرم پر آ گئے اور کہا کہ ہم 45منٹ میں دلائل مکمل کر لیں گے،

    اعتزاز احسن کی جانب سے خواجہ احمد حسین سپریم کورٹ میں پیش ہوئے،لاہور ہائیکورٹ بار، بلوچستان ہائیکورٹ بار اور بلوچستان بار کے وکیل حامد خان پیش ہوئے،وکیل حامد خان نے دلائل کیلئے ایک گھنٹہ مانگ لیا،سپریم کورٹ بار کے صدر اور ایڈیشنل سیکرٹری شہباز کھوسہ کے درمیان روسٹرم پر اختلاف ہو گیا،سپریم کورٹ بار کے صدر شہزاد شوکت نے دلائل کیلئے آدھا گھنٹہ مانگ لیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہاکہ ہم پہلے وکلا تنظیموں کو سنیں گے، ایڈیشنل سیکرٹری شہبازکھوسہ نے کہاکہ ذاتی حیثیت میں الگ درخواست دائرکی ہے ،ایگزیکٹو کمیٹی کی کل رات میٹنگ ہوئی ہے ،صدر شہزادشوکت نے کہایہ معلوم نہیں کیوں اپنی تشہیر چاہتے ہیں،ایڈیشنل سیکرٹری شہباز کھوسہ نے کہاکہ میں کوئی تشہیر نہیں چاہتا،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ تعجب ہو رہا ہے کہ اتنے وکیل ہیں لیکن ایک پیج پر نہیں آسکتے، تعجب ہے کہ وکیل عدلیہ کی آزادی کے لیے بھی ایک پیج پر نہیں آ سکتے، پاکستان بار کونسل سے شروع کرتے ہیں، ہر شخص کہہ رہاہے کہ اپنی بات کرنی ہے,جسٹس اطہر من اللّٰہ نے کہا کہ میں نے یہ تجویز نہیں کیا کہ انفرادی طور پر یہ کریں، میں یہ تجویز کر رہا تھا کہ ایک باڈی کی میٹنگ کر لیتے، جمہوری ادارے پارلیمنٹ میں اپوزیشن اہم حصہ ہے۔

    دوران سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اٹارنی جنرل کو گزشتہ سماعت کا حکمنامہ پڑھنے کی ہدایت کی،اٹارنی جنرل کو جسٹس اطہر من اللہ کا اضافی نوٹ بھی پڑھنے کی ہدایت کی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہاکہ ایک جج کا اضافی نوٹ بھی شامل ہے وہ پڑھیں،اٹارنی جنرل کو پڑھنے پردشوارپرجسٹس اطہر من اللہ نے خود اپنا نوٹ پڑھ دیا،جسٹس اطہر من اللہ نے کہاکہ نوٹ میں لکھا ہے وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے وہ مطمئن کرے مداخلت نہیں،جسٹس نعیم اختر افغان نے کہایہ بات اصل آرڈر کے پیراگراف 5میں بھی ہے،جسٹس اطہر من اللہ نے کہاکہ اس پیرا گراف میں صرف تجاویز مانگنے کی بات تھی۔

    ہم نے 76 سال جھوٹ بولا، سچ کو چھپایا، لوگوں کو سچ پتہ چلنا چاہیے،جسٹس اطہرمن اللہ
    دوران سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی جج کچھ نہیں کر سکتا تو گھر بیٹھ جائے، ایسے ججز کو جج نہیں ہونا چاہیے جو مداخلت دیکھ کر کچھ نہیں کرتے، صدر سپریم کورٹ بار نے کہا کہ سپریم کورٹ کی لائیو سماعت روکی جائے، یہاں جو ہوا اس سے اچھا پیغام نہیں گیا، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ ہم نے 76 سال جھوٹ بولا، سچ کو چھپایا، لوگوں کو سچ پتہ چلنا چاہیے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پلیز پروسیڈ،

    پاکستان بار کونسل کے وکیل ریاضت علی نے دلائل کا آغاز کر دیا ، وکیل نے کہا کہ پاکستان بار کونسل اسلام آباد ہائیکورٹ کے چھ ججز کے معاملے پر جوڈیشل تحقیقات کرانا چاہتی ہے، ایک یا ایک سے زیادہ ججوں پر مشتمل جوڈیشل کمیشن بنا کر قصورواروں کو سزا دی جائے، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ 2018/19 میں ہائی کورٹس کا سب سے بڑا چیلنج سپریم کورٹ کا مسائل پر خاموشی اختیار کرنا تھا،لگتا ہے کہ پاکستان بار کونسل نے جو سفارشات مرتب کی ہیں وہ ہائیکورٹس کے جواب کی روشنی میں نہیں کیں، پاکستان بار کونسل یہ توقع کرتی ہے کہ ضلعی عدالت کا جج وہ کام کر لے جو سپریم کورٹ کا جج بھی نہیں کر سکتا؟ حقیقت بہت مختلف ہے، وکیل شہزاد شوکت وائس چیئرمین سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے کہا کہ جب آپ براہ راست نشریات میں کہتے ہیں کہ سپریم کورٹ مداخلت پر خاموش رہی تو اس سے عوام میں اچھا پیغام نہیں جاتا،سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن مداخلت پر سزاؤں کا قانون لانے کی سفارش کرتی ہے،اس معاملے سے عوام کے عدلیہ پر اعتماد کو دھچکا پہنچا ہے،

    سب سے بدترین توہینِ عدالت 3 نومبر کی تھی، لیکن کاروائی نہیں ہوئی،جسٹس اطہرمن اللہ
    احسن بھون نے کہا کہ جج کے پاس توہین عدالت سمیت دیگر آپشنز موجود ہیں کاروائی کر سکتے ہیں ،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ آپ سمجھتے ہیں جو کام سپریم کورٹ نہیں کر سکتی وہ ڈسٹرکٹ جج کرے ۔ سب سے بدترین توہینِ عدالت 3 نومبر (جب ملک میں ایمرجنسی لگائی گئی) کی تھی جس پر عوامی طاقت پر بحال ہونے والی سپریم کورٹ کے 7 رکنی بنچ نے بحالی کے بعد کوئی توہینِ عدالت کی کارروائی شروع نہیں کی اور آپ کہہ رہے ہیں کہ ہائیکورٹ اور ماتحت عدلیہ کے ججز توہینِ عدالت کی کارروائی کریں،ہائیکورٹس کے ججز نے جو کہا ہے اسکو دیکھیں وہ ججز ہیں وہ غلط نہیں کہہ سکتے۔

    سب مان رہے ہیں کہ مداخلت ہورہی ہے، جسٹس اطہرمن اللہ
    جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ وفاقی حکومت کو اپنی پوزیشن واضح کرنی چاہئے، ہائیکورٹ کے ججز نے نشاندہی کی کہ مداخلت کا سلسلہ ابتک جاری ہے اور سب مان رہے ہیں کہ مداخلت ہورہی ہے، ساری ہائیکورٹس نے اپنی رپورٹس میں سیاسی مقدمات پر سنگین باتوں کو اجاگر کیا ہے اور ایک ہائیکورٹ نے تو یہ کہا کہ یہ آئین کو سبوتاژ کیا گیا ہے،جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا مداخلت تو ہورہی ہے لیکن حکومت کچھ نہیں کررہی، ہم سب کو ماننا چاہیے انڈر ٹیکنگ دیں کہ وکلا کی مداخلت بھی روکی جائے گی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا آپ چاہتے ہیں کہ تحقیقات ہو یا نہ ہو؟ مجھے بار بار کہنا پڑ رہا ہے کہ آگے بڑھتے ہیں کیونکہ دیگر افراد بھی ہیں، میں سپریم جوڈیشل کونسل کا چیئرمین ہوں لیکن میں بطور خود سپریم جوڈیشل کونسل نہیں بلکہ سپریم جوڈیشل کونسل میں دیگر ممبران بھی ہیں۔

    پاکستان میں آزادی اظہار رائے کا یہ مطلب لیا جاتا ہے کہ جس کا جو دل میں آئے بول دو، چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایک کمشنر نے جھوٹ بولا، سارے میڈیا نے چلایا، کسی نے نہیں پوچھا اس کا کوئی ثبوت ہے، دوسرے ممالک میں ایسا الزام لگے تو ہتک عزت کیس میں ان کی جیبیں خالی ہوجاتی ہیں، آزاد عدلیہ ہمارا فرض ہے ، حلف اٹھایا ہے، سوشل میڈیا پر کچھ لوگوں کا قبضہ ہے۔میں نے جج بنتے وقت حلف لیا ہوا ہے، یہ میرا فرض ہے، ہمیں تنخواہ اسی چیز کی ملتی ہے، اس میں دو رائے نہیں کہ میں آزاد بیٹھنا چاہوں یا نہیں، پریشرمیں آنا چاہوں یا نہیں، یقیناً آپ بھی اپنے دلائل یا ڈانٹ ڈپٹ کر مجھ پر پریشر ڈالیں گے، پریشر بہت سارے ہو سکتے ہیں،پاکستان میں آزادی اظہار رائے کا یہ مطلب لیا جاتا ہے کہ جس کا جو دل میں آئے بول دو،

    عدلیہ میں مداخلت کرنے والوں کے خلاف تحقیقات ہونی چاہیے، سپریم کورٹ بار
    دوران سماعت سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے بھی عدالت میں اپنی تجاویز جمع کرائیں جس میں سپریم کورٹ بار کا کہنا تھا کہ بارعدلیہ کی آزادی پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرے گی اور عدلیہ میں مداخلت کرنے والوں کے خلاف تحقیقات ہونی چاہئیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کو کسی بھی قسم کی مداخلت پر توہین عدالت کی کارروائی کرنی چاہیے تھی، ہائیکورٹ کی جانب سے توہین عدالت کی کارروائی نہ کرنا سمجھ سے بالاتر ہے۔

    توہین عدالت اور مداخلت سے زیادہ برا عمل قتل،، قتل کرنا کب سے منع ، کیا وہ رک گیا ہے؟ چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ توہین عدالت اور مداخلت سے زیادہ برا عمل قتل ہوتا ہے، قتل کرنا کب سے منع ہے، کیا وہ رک گیا ہے؟ معاشرے ہوتے ہیں، لوگ ہوتے ہیں، یہ چیزیں چلتی رہتی ہیں، آج حکم دیں کہ قتل ہونا بند کر دیا جائے، یہ رکے گا تو نہیں چلتا رہے گا، بات یہ کہ ہم اسے کیسے ڈیل کرتے ہیں، سزا و جزا کا عمل ہے جو چلتا رہے گا، ایک ڈیٹرنس تو یہ ہو سکتا ہے کہ سزائے موت دیکھ کر دوسرے کہیں قتل نہیں کرنا چاہیے، دوسرا یہ کہ کچھ نہ ہو، سزا نہ ہو تو وہ کہیں گے کہ ہم بھی کر لیتے ہیں،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ اس بات پر تو سب متفق ہیں کہ عدلیہ میں مداخلت ہو رہی ہے، حکومت اس مداخلت کو روکنے کے لیے کچھ نہیں کر رہی، سوال یہ ہے کہ اس مداخلت کو ختم کیسے کیا جائے؟ مداخلت کا معاملہ اب 6 ججز کے خط سے آگے بڑھ چکا ہے،پاکستان بار کے وکیل نے کہا کہ حکومت کچھ نہیں کر رہی، عدلیہ کو خود ایکشن لینا ہو گا،جسٹس اطہر من اللّٰہ نے کہا کہ عوام کو سچ جاننے کا پورا حق ہے، عوام کو سب جواب دہ ہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ وائس چیئرمین صاحب! ہم آپ سے بحث میں نہیں پڑنا چاہتے، آپ کو سننا چاہتے ہیں، سب لوگوں نے لمبا وقت لیا، کب تک مکمل کریں گے؟پاکستان بار کے وکیل نے کہا کہ ججوں کی حوصلہ افزائی کرنا چاہیے کہ ان کے پاس جو قانون موجود ہے اسے استعمال کریں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ 3 چیزیں کہہ رہے ہیں، ایک تو تحقیق ہو، دوسرا فوجداری قوانین کو جج استعمال کریں، تیسرا یہ کہ توہینِ عدالت کی کارروائی ہو۔

    ججز کو تنقید سے ڈرنا نہیں چاہیے چاہے جتنا ہی سخت کیوں نہ ہو، جسٹس اطہرمن اللہ
    جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ پاکستان بار کو یہ بھی تجویز دینا چاہیے تھی کہ وکلاء کی جانب سے مداخلت کو کیسے روکیں؟جسٹس اطہر من اللّٰہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ ملک کے وکلاء کی نمائندگی کر رہے ہیں، ججز کو تنقید سے ڈرنا نہیں چاہیے چاہے جتنا ہی سخت کیوں نہ ہو، چیف جسٹس کافی مشکل وقت سے بھی گزرے، 2018 سے آج تک میری دیانتداری پر سوال اٹھا، لیکن کچھ فرق پڑا؟ ججز کو تنقید سے فرق نہیں پڑنا چاہیے، عوام کا ججز پر اعتماد ہونا چاہیے، ملک میں جوڈیشل تاریخ میں سب سے بڑی توہینِ عدالت کیا تھی؟

    خطرناک بات جج کے بیڈروم سے کیمرا نکلے، کسی شخص کی نجی زندگی میں مداخلت نہیں ہونا چاہیے،احسن بھون
    احسن بھون نے کہا کہ لاہور اور پشاور ہائی کورٹ سے جو ردِ عمل آیا ہم نے وہ عدلیہ پر چھوڑا ہے، کوئی دوسری رائے نہیں کہ ڈیٹرنس ہونا چاہیے، انتہائی خطرناک بات ہے کہ جج کے بیڈروم سے کیمرا نکلے، کسی شخص کی نجی زندگی میں مداخلت نہیں ہونا چاہیے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ان سے کہا کہ یہ کیسے روکا جا سکتا ہے؟ کیا ایسے واقعات کی تفتیش ہو یا نہ ہو؟.جسٹس اطہر من اللّٰہ نے کہا کہ میں نے جو بذات خود ٹھیک سمجھا وہی کہا ہے، میری رائے ہے کہ دنیا بھر میں سماعتوں میں مداخلت ہوتی ہے، 3 نومبر کو سپریم کورٹ کے 8 ممبر بینچ نے عدلیہ بحال کی، کیسے ہائی کورٹ یا ڈسٹرکٹ کورٹ کے ججز توہینِ عدالت کی کارروائی کر سکتے ہیں؟ ابھی تک معاملہ زیرِ التواء ہے، آپ توہینِ عدالت کی درخواست لائیں، اب تو سب ریٹائرڈ ہو چکے، یہی تو المیہ ہے،احسن بھون نے کہا کہ اسی لیے کہا ہے کہ تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن بنایا جائے۔

    تنقید اور جھوٹ میں بہت فرق ہوتا ہے، چیف جسٹس
    ریاضت علی خان نے کہا کہ عدلیہ کو آزاد کرنے کے لیے ایگزیکٹیو کی ایک فورس عدلیہ کے ماتحت ہونا چاہیے، جسٹس جمال مندوخیل نے سوال کیا کہ کیا ایگزیکٹیو اب عدلیہ کے ماتحت نہیں ہے؟چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آگے بڑھیں، کیونکہ ایسے باتیں ختم نہیں ہوں گی، بیوروکریٹ کے پاس تو کوئی توہینِ عدالت کا اختیار نہیں، عدالت کے پاس تو توہینِ عدالت کا اختیار ہوتا ہے، تنقید اور جھوٹ میں بہت فرق ہوتا ہے، ایک کمشنر نے جھوٹ بولا، میڈیا نے جھوٹ چلایا، دنیا میں ایسا نہیں ہوتا،جسٹس اطہر من اللّٰہ نے ان سے پوچھا کہ آپ توقع کرتے ہیں کہ ماتحت عدلیہ کا جج وہ کام کرے جو سپریم کورٹ کے جج نہیں کر سکتے؟ 6 ججز نے ایک ایشو اٹھایا، جس کی ساری ہائی کورٹس نے توثیق کی، ساری ہائی کورٹس نے کہا کہ ہمارے ساتھ بھی یہی ہو رہا ہے، اگر کوئی نشاندہی کرے گا تو اس کے ساتھ ایسا ہو گا،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ایسی ڈیٹرنس ہونی چاہیے کہ جو ایسا کرے اس کو بھگتنا پڑے، میرے ساتھ بھی ایسا ہوا ہے،صدر سپریم کورٹ بار نے کہا کہ گزشتہ سماعت پر کہا گیا کہ جج کمپرومائز ہیں،چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سماعت سے کیا عدلیہ کا اعتماد مجروح ہوتا ہے، ایسا نہ کہیں کہ سب برابر ہے، ہر معاشرے میں اچھے اور برے لوگ ہوتے ہیں، کہیں کہ کچھ اچھے نکلے اور کچھ برے نکلے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پچھلے 50 سال میں کیا ہوا، میں آپ سے ہمدردی کر سکتا ہوں، بدل نہیں سکتا،جسٹس اطہر من اللّٰہ نے کہا کہ بتائیں کہ ایسی صورتِ حال میں کیا کیا جائے جس پر ہائی کورٹس بھی روشنی ڈال رہی ہیں؟صدر سپریم کورٹ بار نے کہا کہ اگر یہ پیغام جائے گا کہ آپ ججز ملے ہوئے ہیں تو کیا پیغام جائے گا؟چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ دلائل دیں ورنہ ہم آپس میں لگے رہیں گے، لائٹر نوٹ پر بتاؤں مجھے کسی نے کہا تھا کہ جج کو سنیں اور وکیل کو بولنے دیں،جسٹس اطہر من اللّٰہ نے کہا کہ کیسے یقین دہانی کی جائے کہ مداخلت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا؟صدر سپریم کورٹ بار نے کہا کہ سچ کہیں اور اسے نظر آنا چاہیے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سوری مجھے یہاں مداخلت کرنا پڑے گی،صدر سپریم کورٹ بار شہزاد شوکت نے کہا کہ آپ یہ کہہ کر قبول کر رہے ہیں کہ آپ ملے ہوئے تھے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ تو پھر آپ کو یہ کہنا چاہیے کہ آپ کو یہاں بیٹھنے کا کوئی حق نہیں، سوری میں بہت بلنٹ بات کر رہا ہوں کہ آپ یہ کیوں نہیں کہتے کہ آپ کو نہیں بیٹھنا چاہیے، ہائی کورٹ کے ججوں کا خط باہمی خفیہ ادارہ جاتی خط و کتابت تھی جو میڈیا میں آئی،صدر سپریم کورٹ بار شہزاد شوکت نے کہا کہ ججز کا خط لیک ہونے کی انکوائری ہونی چاہیے، خط کوئی شکایت نہیں ہے اور یہ عوام کے لیے خط و کتابت نہیں تھی، جسٹس بابر ستار نے یہ کہا ہے جو کہ خط پر دستخط کنندہ ہیں

    جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مارکیٹ میں کوئی گولی تو نہیں ملتی کہ جس سےمضبوط جج بنا جاسکے، سسٹم بنانا ہوگا،کمپرومائزڈ جج کو ایک منٹ میں سسٹم سے باہر نکال دینا چاہیے، اگر کوئی جج کھڑا ہو تو اُس کیساتھ کھڑے ہوجائیں،

    8 ججز کو پاؤڈر والے دھمکی آمیز خط،شیر افضل مروت نے الزام ن لیگ پر لگا دیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کو دھمکی آمیز خطوط بھیجنے کا مقدمہ درج

    اسلام آباد ہائیکورٹ ججز کے خط کے بعد نئی صورت حال سامنے آگئی

    عمران خان کو رہا، عوامی مینڈیٹ کی قدر کی جائے،عارف علوی کا وکلا کنونشن سے خطاب

    جماعت اسلامی نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز کے لیے بنائے گئے انکوائری کمیشن کو مسترد کر دیا۔

    ججز خط کی انکوائری، سپریم کورٹ بار کا تصدق جیلانی کو کمیشن کا سربراہ مقرر کرنے کا اقدام خوش آئند قرار

    ججز کا خط، سابق چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی انکوائری کمیشن کے سربراہ مقرر

    ہائیکورٹ کے 6 ججز نے جو بہادری دکھائی ہیں یہ قوم کے ہیرو ہیں،اسد قیصر

    لاہور ہائیکورٹ کے ججز کو بھی مشکوک خط موصول

    واضح رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے 6 ججوں نے عدالتی کیسز میں خفیہ ایجنسیوں کی مداخلت پر سپریم جوڈیشل کونسل کو خط لکھ دیا ہے جس میں عدالتی معاملات میں انتظامیہ اور خفیہ اداروں کی مداخلت پر مدد مانگی گئی ہے۔ہائی کورٹ کے ججوں کی جانب سے لکھے گئے خط کی کاپی سپریم کورٹ کے تمام ججوں کو بھی بھجوائی گئی ہے۔ خط میں عدالتی امور میں ایگزیکٹو اور ایجنسیوں کی مداخلت کا ذکر کیا گیا ہے۔ہائی کورٹ کے ججوں نے سپریم جوڈیشل کونسل کو لکھے گئے خط میں مطالبہ کیا ہے کہ عدلیہ میں خفیہ اداروں کی مداخلت اور ججز پر اثرانداز ہونے کے معاملے پر جوڈیشل کنونشن بلایا جائے۔سپریم جوڈیشل کونسل کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے 6 ججوں نے خط ارسال کیا ہے۔ خط لکھنے والوں میں جسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس طارق محمود جہانگیری، جسٹس بابر ستار، جسٹس سردار اعجاز اسحاق، جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس ثمن رفعت امتیاز شامل ہیں۔خط کے متن کے مطابق ’عدالتی امور میں مداخلت پر ایک عدلیہ کا کنونشن طلب کیا جائے جس سے دیگر عدالتوں میں ایجنسیوں کی مداخلت کے بارے میں بھی معلومات سامنے آئیں گی۔ خط میں کہا گیا ہے کہ عدلیہ کے کنونشن سے عدلیہ کی آزادی کے بارے میں مزید معاونت حاصل ہو گی۔

  • عدلیہ میں مداخلت ، کراچی بار نے تجاویز سپریم کورٹ میں جمع کرا دیں

    عدلیہ میں مداخلت ، کراچی بار نے تجاویز سپریم کورٹ میں جمع کرا دیں

    عدلیہ میں مداخلت کا کیس، کراچی بار نے تجاویز سپریم کورٹ میں جمع کرا دیں

    کراچی بار کی جانب سے تجاویز میں کہا گیا ہے کہ ججز کو پابند بنایا جائے کہ مداخلت کی ہر کوشش س 7 دن میں مجاز اتھارٹی کو آگاہ کریں، مجاز اتھارٹی کو بھی پابند کیا جائے کہ رپورٹ کرنے والے ججز کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے، عدم تحفظ کے باعث بہت سے ججز ایسے واقعات سے مجاز حکام کو آگاہ ہی نہیں کرتے،مداخلت کی کوشش ریاستی اداروں سے ہو، خود عدلیہ سے یا نجی سیکٹر سے، ہر صورت آگاہ کیا جائے،عدلیہ اور حکومت کے درمیان آگ کی دیوار ہمیشہ قائم رہنی چاہیے،قریبی رشتہ داروں کے علاوہ ججز کو سرکاری حکام اور انٹیلی جنس نمائندوں کیساتھ ملنے سے اجتناب کرنا چاہیے، اگر سرکاری کام کیلئے حساس اداروں کے افسران سے ملنا ضروری ہو تو مجاز حکام کو آگاہ کیا جائے، مداخلت سے آگاہ کرنے کو جج کا مس کنڈکٹ قرار دیا جائے،مداخلت کے حوالے سے غلط بیانی کرنے والے ججز کی خلاف کارروائی کی جائے، سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس مداخلت رپورٹ کرنے کیلئے خصوصی سیل قائم کریں، ہائی کورٹس کے چیف جسٹس صاحبان کے صوابدیدی اختیارات کا بھی جائزہ لیا جائے، بنچز کی تشکیل اور مقدمات مقرر کرنے کا اختیار صرف چیف جسٹس کے پاس ہونا درست نہیں، ہائی کورٹس میں بنچز کی تشکیل اور مقدمات مقرر کرنے کا فیصلہ ججز کی تین رکنی کمیٹی کرے،سپریم کورٹ چھ ججز کے خط کی آزادانہ انکوائری کرائے، عدالت ذمہ داران کا تعین کرکے سخت کارروائی کا حکم دے،

    8 ججز کو پاؤڈر والے دھمکی آمیز خط،شیر افضل مروت نے الزام ن لیگ پر لگا دیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کو دھمکی آمیز خطوط بھیجنے کا مقدمہ درج

    اسلام آباد ہائیکورٹ ججز کے خط کے بعد نئی صورت حال سامنے آگئی

    عمران خان کو رہا، عوامی مینڈیٹ کی قدر کی جائے،عارف علوی کا وکلا کنونشن سے خطاب

    جماعت اسلامی نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز کے لیے بنائے گئے انکوائری کمیشن کو مسترد کر دیا۔

    ججز خط کی انکوائری، سپریم کورٹ بار کا تصدق جیلانی کو کمیشن کا سربراہ مقرر کرنے کا اقدام خوش آئند قرار

    ججز کا خط، سابق چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی انکوائری کمیشن کے سربراہ مقرر

    ہائیکورٹ کے 6 ججز نے جو بہادری دکھائی ہیں یہ قوم کے ہیرو ہیں،اسد قیصر

    لاہور ہائیکورٹ کے ججز کو بھی مشکوک خط موصول

    واضح رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے 6 ججوں نے عدالتی کیسز میں خفیہ ایجنسیوں کی مداخلت پر سپریم جوڈیشل کونسل کو خط لکھ دیا ہے جس میں عدالتی معاملات میں انتظامیہ اور خفیہ اداروں کی مداخلت پر مدد مانگی گئی ہے۔ہائی کورٹ کے ججوں کی جانب سے لکھے گئے خط کی کاپی سپریم کورٹ کے تمام ججوں کو بھی بھجوائی گئی ہے۔ خط میں عدالتی امور میں ایگزیکٹو اور ایجنسیوں کی مداخلت کا ذکر کیا گیا ہے۔ہائی کورٹ کے ججوں نے سپریم جوڈیشل کونسل کو لکھے گئے خط میں مطالبہ کیا ہے کہ عدلیہ میں خفیہ اداروں کی مداخلت اور ججز پر اثرانداز ہونے کے معاملے پر جوڈیشل کنونشن بلایا جائے۔سپریم جوڈیشل کونسل کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے 6 ججوں نے خط ارسال کیا ہے۔ خط لکھنے والوں میں جسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس طارق محمود جہانگیری، جسٹس بابر ستار، جسٹس سردار اعجاز اسحاق، جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس ثمن رفعت امتیاز شامل ہیں۔خط کے متن کے مطابق ’عدالتی امور میں مداخلت پر ایک عدلیہ کا کنونشن طلب کیا جائے جس سے دیگر عدالتوں میں ایجنسیوں کی مداخلت کے بارے میں بھی معلومات سامنے آئیں گی۔ خط میں کہا گیا ہے کہ عدلیہ کے کنونشن سے عدلیہ کی آزادی کے بارے میں مزید معاونت حاصل ہو گی۔

  • عدلیہ کو اپنی مرضی کے راستے پر دھکیلنا بھی مداخلت ہے،چیف جسٹس

    عدلیہ کو اپنی مرضی کے راستے پر دھکیلنا بھی مداخلت ہے،چیف جسٹس

    سپریم کورٹ: ججز کے خط پر ازخود نوٹس کی سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی

    سماعت کے اغاز ہر وکلا کی جانب سے گفتگو پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ برہم ہو گئے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اگر کوئی گفتگو کرتا نظر آیا تو اسے کمرہ عدالت سے باہر نکال دیا جائے گا،میں آپکو 184(3) کے استعمال کے حوالے سے بتانا چاہتا ہوں، کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ تمام دستیاب ججز پر مشتمل فل کورٹ تشکیل دیا جائے ،فل کورٹ بناتے ہوئے انتخاب نہیں کیا گیا، جسٹس یحییٰ آفریدی کو صرف بینچ سے علیحدہ نہیں کیا، جسٹس یحییٰ خان آفریدی نے علیحدہ ہوتے وقت کچھ آبزرویشنز بھی دی ہیں ،دو ججز کے عدم دستیابی کے باعث فل کورٹ تشکیل نہیں ہوسکتی،سابقہ چیف پر اعتراضات کئے گئے تو وہ کمیشن سے علیحدہ ہوگئے،ہر کوئی اپنی خواہش عدلیہ ہر مسلط کرنا چاہتا ہے، یہ بھی دباؤ کی ایک قسم ہے، میں سپریم کورٹ کی تاریخ کا ذمہ دار نہیں، جب سے چیف جسٹس بنا ہو ں تب سے ذمہ داری ہے، عدالتی مداخلت اندر، باہر ، انٹیلیجنس ایجنسیز سمیت سوشل میڈیا اور فیملی سے بھی ہوسکتی ہے،میں اس عدالت کی تاریخ کا ذمہ دار نہیں ہوں، اپنے دور کا ذمہ دار ہوں،پارلیمان نے پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ بنایا کیوں کہ ہم ناکام ہوئے، ہم عدلیہ کی آزادی کا تحفظ کریں گے جیسے بھی ہو، ماضی کی غلطیاں سامنے آنے پر ہم نے اپنی تصحیح کی،تبدیلی راتوں رات نہیں آتی ،ہمیں اپنی مرضی کے راستے پر چلانے کیلئے مت دباؤ دیں ، عدلیہ کو اپنی مرضی کے راستے پر دھکیلنا بھی مداخلت ہے، بہت سے لوگ مقدمہ میں فریق بننا چاہتے، مثبت بات کو بغیر فریق بنائے بھی سنیں گے، کیا تجاویز اٹارنی جنرل آپکے پاس ہیں،ہائیکورٹ کی تجاویز سے شروع کرتے ہیں، آپ نے اسلام آباد ہائیکورٹ کی سفارشات دیکھی ہیں؟اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ ہ میں نے ہائیکورٹ کی سفارشات ابھی نہیں دیکھیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے استفسار کیا کہ اب اس معاملے کو کیسے آگے چلائیں؟

    صرف تجاویز نہیں ،چارج شیٹ ہے،ہائیکورٹ جج کا پرسنل ڈیٹا سوشل میڈیا پر ڈالا گیا ،جسٹس اطہرمن اللہ
    جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ صرف تجاویز نہیں ،چارج شیٹ ہے، ریاست کا ججز کے خلاف ہونا ہائیکورٹ خط میں بتایا گیا ہے،ہائیکورٹ جج کا پرسنل ڈیٹا سوشل میڈیا پر ڈالا گیا ،اندرونی مسائل کا ہم نے حل تلاش کرنا ہے، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ اس کیس میں ہمارے پاس یہ موقع ہے کہ معاملے کو حل کریں،ہمیں مداخلت کے سامنے ایک فائر وال کھڑا کرنی ہو گی، ہمیں بیٹھ کر اس مسئلے کو حل کرنا ہو گا، ہمیں طے کرنا ہو گا کہ اگر کوئی مداخلت کرتا ہے تو اس کے خلاف کیسے ایکشن لینا چاہئے،

    ہائیکورٹ کے کام میں مداخلت نہیں کرنی، ماضی میں مداخلت کے نتائج اچھے نہیں نکلے،چیف جسٹس
    بعد ازاں اٹارنی جنرل نے عدالت میں ہائیکورٹ کی سفارشات پڑھ کر سنائی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے ہائیکورٹ کے کام میں مداخلت نہیں کرنی، ماضی میں ہائیکورٹس کے کام میں مداخلت کے نتائج اچھے نہیں نکلے،جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتےہوئے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کہہ رہے ہیں کہ مداخلت تسلسل کے ساتھ ہوتی ہے، کیا اسلام آباد ہائیکورٹ کی تجاویز متفقہ ہیں؟اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ جی ہاں بظاہر متفقہ نظر آ رہی ہیں،جسٹس اطہر من اللہ نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کیا کہ اس کا مطلب ہے کہ کسی جج نے اختلاف نہیں کیا۔

    آج سنہری موقع ہے عدلیہ پر دباؤ اور مداخلت کو ہمیشہ کیلئے ختم کیا جائے،جسٹس منصور علی شاہ
    جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ دو بینچ کے ممبران کو ٹارگٹ کیا گیا،ہم نے نوٹس لیا ہمارے ساتھ کیا ہو رہا ہے، فیصلہ ایک نہیں دس دے دیں کیا ہو گا ،جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بچے ،فیملی ممبران کا ڈیٹا حکومتی اداروں سے چرایا گیا، ججز کو صرف کہہ دیں تمہارا بچہ فلاں جگہ پڑھتا ہے،میں نے 2018 میں بطور چیف جسٹس 4 سال کام کیا اس دوران مداخلت نہیں ہوئی،ایسا لگتا ہے کہ لوگ مداخلت کی کوشش کرتے ہیں کہیں ان کو فائدہ ہوتا ہے کہیں نہیں ہوتا،ایسا کلچر چل رہا ہے،جسٹس بابر ستار کے ساتھ جو ہوا ہے سامنے ہے،بیوی بچوں تک کا ڈیٹا پبلک ہو جائے تو ذمہ داری ریاست کی ہوتی ہے، 76 سال سے اسٹیبلشمنٹ اور جوڈیشری میں پارٹنرشپ چل رہی ہے، جسٹس بابر ستار کے ساتھ جو ہوا ہے سامنے ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ مہربانی کریں 76 سال میں مجھے شامل نہ کریں، کوئی مداخلت ہوئی ہے تو ظاہر کریں، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ آج اس ایشو کو حل نہ کیا تو بہت نقصان ہوگا ،اس کمرے میں نہ بیٹھو ادھر بیٹھو ، فون ادھر رکھ دو کس طرح کا کلچر ہے یہ، آج سنہری موقع ہے عدلیہ پر دباؤ اور مداخلت کو ہمیشہ کیلئے ختم کیا جائے،ہائیکورٹ خود کارروائی کر سکتی تھی مگر نہیں کی، سپریم کورٹ اس معاملے پرطریقہ کار واضح کرتی ہے توعدلیہ مضبوط ہوگی۔یہ کس قسم کی ریاست ہے کہ ہر وقت اس چیز کا ڈر لگا رہتا ہے کہ کوئی ہمیں دیکھ رہا ہے، کوئی ہمیں سن رہا ہے، کوئی ہماری ریکارڈنگ کر رہا ہے، کیمرے ہماری ویڈیو بنا رہے ہیں،کیا ریاست اس طرح چلائی جاتی ہے؟چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مخصوص نتائج کے حصول کیلئے یہاں مخصوص اقدامات اٹھائے جاتے رہے میں نے پہلے دن کہا تھا کہ کوئی مداخلت نہیں کروں گامیں جب سے چیف جسٹس پاکستان بنا کوئی شکایت نہیں آئی. اگر میرے کام میں مداخلت ہو اور وہ نہ روک سکوں تو میں گھر چلا جاؤں،ہم تو چاہتے ہیں پارلیمنٹ کو مضبوط بنائیں، اگر پارلیمنٹ مضبوط نہیں ہوگی تو دوسری قوتیں مضبوط ہونگی۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدلیہ کو سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کیا جاتا رہا،وکلا اور سیاست دان عدلیہ میں مداخلت کرتے رہے،چیف جسٹس کےچیمبر میں ملاقاتیں ہوتی تھیں،جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگرعدلیہ کے اندر سے مداخلت ہے تو عدلیہ کی کمزوری ہے،مداخلت اب بھی جاری ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ 2018 میں جو ہمارے خلاف مہم چلائی گئی اس پر کچھ نہیں کہا کیونکہ ہم نے حلف لیا ہے،مکران کا سول جج بھی اتنا ہی طاقت ور ہے جتنا چیف جسٹس پاکستان ہے،میں نے عدلیہ کے آزادی کے لیے اندرونی مداخلت سے جنگ لڑی ہے، عدلیہ کی آزادی کو اندرونی مداخلت سے خطرہ ہے، فیض آباد دھرنا کیس پر عملدرآمد رکوانے کے لیے متعدد پٹیشنرز سامنے آئے، اس فیصلے پر عملدرآمد نہیں کیا، تحریک انصاف نے بھی کیا، ضیا الحق کے صاحبزادے نے بھی پٹیشن دائر کی اور متعدد پٹیشنر سامنے آئے،5 سال تک نظرثانی اپیلیں سماعت کے لیے مقرر نہیں ہوئیں، کیا اس کی کوئی وضاحت دی جاسکتی ہے؟سوشل میڈیا پر جو کچھ ہوا اسی وجہ سے سابق چیف جسٹس نے کمیشن کی سربراہی سے انکار کیا. مداخلت ایجنسیوں کے علاوہ خود عدلیہ کے اندر سے، ججز کی فیملیز سے، ساتھ کام کرنے والوں سے، سوشل میڈیا سے بھی ہوسکتی ہے.اگر ہم مانیٹرنگ جج لگائیں گے تو وہ بھی عدلیہ کی مداخلت ہے، اگر جے آئی ٹی میں انٹیلیجنس ایجنسیز کے بندے شامل کریں گے تو وہ بھی مداخلت ہے.

    چاہے کوئی بھی ریٹائرڈ چیف جسٹس ہو یا موجودہ چیف جسٹس کوئی قانون سے بالاتر نہیں ،جسٹس اطہرمن اللہ
    جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سچ سب کو پتا ہے، بولتا کوئی نہیں ہے، جو سچ بولتا ہے اس کے ساتھ بھی وہی ہوتا ہے، جو چھ ججز کیساتھ ہو رہا ہے، انٹیلی جنس ادارے وزیراعظم کے ماتحت ہوتے ہیں،انٹیلی جنس ادارے کچھ کرتے ہیں تو اسکے ذمہ دار وزیراعظم اور انکی کابینہ ہے، آئین دیکھ لیں کچھ بھی آزادانہ نہیں ہوتا، ہمیں اپنی آرمڈ فورسز کا امیج بھی برقرار رکھنا ہے، یہ ہماری ہی مسلح افواج ہے جو ملک کے محافظ ہیں، یہ ہمارے سولجرز ہیں جو ملک کا دفاع کرتے ہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ دباو ہر جگہ ہوتا ہے کیا بیوروکریسی میں فونز نہیں آتے ، کوئی مان لیتا ہے اور کوئی کام کر دیتا ہے جو نہیں مانتا اس کو او ایس ڈی کر دیا جاتا ہے۔ وہ اس دباو میں پر تو کچھ کر ہی نہیں سکتا، دباو تو ہر جگہ ہوتا ہے، بیوروکریسی کے پاس تو کوئی اختیار ہی نہیں ہمارے پاس تو اختیارات ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ اختیارات کیوں استعمال نہیں کرتا،جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے دروازے خود کھولے ہیں اس لیے دباو آرہا ہے، یہ دروازے بند ہونے چاہیے بدقسمتی سے ہم نے خود دروازے کھولے ہیں، جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جس نے دروازے کھولے ہیں ان کے خلادف مس کنڈیکٹ کی کارروائی کریں نا، ہر بندہ اتنا تگڑا نہیں ہوتا کہ وہ کھڑا ہو جائے یہ سسٹم مضبوط ہونا چاہیے، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ ہمیں سب سے پہلے سپریم کورٹ کا دروازہ بند کرنا ہوگا، اس کے بعد دوسرے لوگوں کو ہمت ملے گی، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ اگر کوئی جج کھڑا ہوتا ہے وہ اس کے خلاف ریفرنس دائر ہوجاتا ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریفرنس کس کے پاس آتا ہے کسی ایجنسی کے پاس تو نہیں آتا نا ، اٹھا کر پھینک دے اس ریفرنس کو باہر پھینک دیں جرمانے عائد کر دیں، ہم نے ایسا کیا ہے؟ جسٹس اطہرمن اللہ نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اتنا بڑا فیصلہ ہے جسٹس شوکت صدیقی کا آپ نے کیا کیا ہے؟ کس کا احتساب کیا ہے؟ کیا کوئی کارروائی ہوئی ہے؟ صرف فیصلے دینے سے کچھ نہیں ہوگا، اٹارنی جنرل نے کہا کہ مائی لارڈ اس میں سابق چیف جسٹسز ملوث ہیں،جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ چاہے کوئی بھی ریٹائرڈ چیف جسٹس ہو یا موجودہ چیف جسٹس کوئی قانون سے بالاتر نہیں ، جب تک کسی کے خلاف کارروائی نہیں ہوگی یہ سلسلہ نہیں رکے گا۔ ہم سب ہائیکورٹس میں رہ چکے ہیں ہمیں فئیر ہونا چاہیے، ہائیکورٹ کے ججز کی شکایات پر پاورفل جواب نہیں ملتا، احکامات سے انحراف کا کلچر معمول بننے سے ججز کی بولنے میں حوصلہ شکنی ہوتی ہے،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا کہ اب آپ جسٹس یحیی آفریدی کا نوٹ پڑھیں،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ پڑھنے سے پہلے آپ دیکھیں آپ خود مان چکے 2017 میں آپ کیخلاف پولیٹیکل انجینئرنگ تھی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سیاست کو چھوڑ دیا جائے ، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ یہ سیاست نہیں حقیقت ہے،کبھی بھی سول بالادستی نہیں رہی، جب ریاست خود جارحیت پر اتر آئے کوئی شہری اس سے لڑ نہیں سکتا، ادارہ جاتی رد عمل ہی اس کا حل ہے، ‏ہم سچ بولیں گے، کیونکہ سچ بولنا ہماری ذمہ داری ہے، بدقسمتی سے سچ کیوں نہیں بولتا اور کوئی بول دیتا ہے تو اس کے ساتھ وہ ہوتا ہے جو اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کے ساتھ ہورہا ہے اور پورے ملک کی عدالتیں اب اس کی تصدیق کر رہی ہیں،

    کوئی مداخلت برداشت کر جاتا ہے، ختم کرنے کیلئے کچھ نہیں کرتا تو ایسے جج کو اپنی کرسی پر بیٹھنا ہی نہیں چاہیے،جسٹس مسرت ہلالی
    سپریم کورٹ نے اسلام آباد ہائیکورٹ کی بھجوائی گئی تجاویز پبلک کرنے کا حکم دے دیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہر چیز ہی میڈیا پر چل رہی ہے تو ہم بھی پبلک کر دیتے ہیں،جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ شکایات کرنے والوں کو چھوڑیں، ازخود نوٹس لینے پر سپریم کورٹ کیساتھ کیا کچھ ہوا یہ دیکھیں،کیا عدلیہ کی آزادی ایسے ہو سکتی ہے، جسٹس مسرت ہلالی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی مداخلت برداشت کر جاتا ہے اور اُسے ختم کرنے کیلئے کچھ نہیں کرتا تو ایسے جج کو اپنی کرسی پر بیٹھنا ہی نہیں چاہیے،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ہائیکورٹس کے ججز نے لکھا ہے، کیوں نہ اس پر تینوں حساس ادارے اپنا جواب تحریری طور پر جمع کرائیں،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ ان کو چاہئے کہ اس پر ایک بیان حلفی جمع کرائیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ میرے خیال میں اس معاملے پر قانون سازی ہونی چاہئے ،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ایجنسیوں کو بیانات حلفی دینے دیں کہ ان کی طرف سے مداخلت نہیں ہوتی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی مجھ سے پوچھے گا تو میں تو کہوں گا کہ مداخلت ہوئی لیکن ہمیں مستقبل کا دیکھنا ہے،

    پوری قوم ہماری طرف دیکھ رہی ہے ،اگر ہم متحد ہونگے تو مضبوط ہونگے ،چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان بار کونسل اور دیگر بار کونسلز اپنی تحریری معروضات جمع کروا دیں ،ہم اس کیس کو زیادہ لمبا نہیں لے کر جا سکتے،لوگوں کے دیگر کیسز بھی لگے ہوئے ہیں ،ہدف ایک ہے سب کا اس طرف پہنچنا کیسے ہے آپ معاونت کر دیں،پوری قوم ہماری طرف دیکھ رہی ہے اگر ہم متحد ہونگے تو مضبوط ہونگے ، نمائندہ اسلام آباد بار ایسوسی ایشن نے کہا کہ اداراتی ریسپانس کے دو طریقے ان میں فل کورٹ بھی شامل ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اب کوئی دو ججز نہیں آئے تو کیا کریں انکا ؟ پھر ملتوی کرنا پڑ جاتا کیس،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ججز خط پر از خود نوٹس کیس کی سماعت 7 مئی تک ملتوی کر دیتے ہیں،جن لوگوں نے درخواستیں دائر کر رکھی ہیں سب فریقین کو سننا مشکل ہوجائے گا،تمام فریقین تحریری معروضات دے دیں،فریقین چھ مئی تک جوابات جمع کرا دیں،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے آج کی سماعت کا حکمنامہ لکھوادیا،حکمنامے میں کہا کہ 5 ہائیکورٹس نے اپنی تجاویز جمع کرائیں،اٹارنی جنرل نے دوران سماعت تجاویز پڑھ کر سنائیں، پاکستان بار کونسل نے اپنی تجاویز بھی جمع کرائیں، مناسب ہو گابار ایسوشی ایشنز اور بار کونسلز متفقہ طور پر کوئی جواب جمع کرائیں، جن نکات پر اتفاق نہ ہوان کو الگ دائر کیا جاسکتا ہے، بتایا گیا ہے کہ اس معاملے پر سپریم کورٹ بار کا اجلاس نہیں ہوا،بتایا گیا سپریم کورٹ بارایسوسی ایشن آئندہ سماعت سے قبل تجاویز جمع کرا دے گی، حکومت اور انٹیلیجنس ایجنسیز، اٹارنی جنرل کے ذریعے اپنے اوپر لگے الزامات کا جواب دیں اور اگر کوئی تجاویز ہیں تو وہ بھی دیں.

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز نے تجاویز دیں کہ شکایات خفیہ رکھی جائیں،عدلیہ اور حکومتی شاخوں سے بات چیت کرکے طریقہ کار طے کرنے کا سنہری موقع ہے، ججز کو ایجنسیوں یا انکے نمایندگان سے ملاقاتیں نہیں کرنی چاہیے، ججز کو سوشل میڈیا جیسے کہ وٹس ایپ، انسٹاگرام اور فیس بک سے دور رہنا چاہیے، عدالتی احاطے میں ایجنسیوں کے نمائندگان کا داخلہ بند ہونا چاہیئے،

    8 ججز کو پاؤڈر والے دھمکی آمیز خط،شیر افضل مروت نے الزام ن لیگ پر لگا دیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کو دھمکی آمیز خطوط بھیجنے کا مقدمہ درج

    اسلام آباد ہائیکورٹ ججز کے خط کے بعد نئی صورت حال سامنے آگئی

    عمران خان کو رہا، عوامی مینڈیٹ کی قدر کی جائے،عارف علوی کا وکلا کنونشن سے خطاب

    جماعت اسلامی نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز کے لیے بنائے گئے انکوائری کمیشن کو مسترد کر دیا۔

    ججز خط کی انکوائری، سپریم کورٹ بار کا تصدق جیلانی کو کمیشن کا سربراہ مقرر کرنے کا اقدام خوش آئند قرار

    ججز کا خط، سابق چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی انکوائری کمیشن کے سربراہ مقرر

    ہائیکورٹ کے 6 ججز نے جو بہادری دکھائی ہیں یہ قوم کے ہیرو ہیں،اسد قیصر

    لاہور ہائیکورٹ کے ججز کو بھی مشکوک خط موصول

    واضح رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے 6 ججوں نے عدالتی کیسز میں خفیہ ایجنسیوں کی مداخلت پر سپریم جوڈیشل کونسل کو خط لکھ دیا ہے جس میں عدالتی معاملات میں انتظامیہ اور خفیہ اداروں کی مداخلت پر مدد مانگی گئی ہے۔ہائی کورٹ کے ججوں کی جانب سے لکھے گئے خط کی کاپی سپریم کورٹ کے تمام ججوں کو بھی بھجوائی گئی ہے۔ خط میں عدالتی امور میں ایگزیکٹو اور ایجنسیوں کی مداخلت کا ذکر کیا گیا ہے۔ہائی کورٹ کے ججوں نے سپریم جوڈیشل کونسل کو لکھے گئے خط میں مطالبہ کیا ہے کہ عدلیہ میں خفیہ اداروں کی مداخلت اور ججز پر اثرانداز ہونے کے معاملے پر جوڈیشل کنونشن بلایا جائے۔سپریم جوڈیشل کونسل کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے 6 ججوں نے خط ارسال کیا ہے۔ خط لکھنے والوں میں جسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس طارق محمود جہانگیری، جسٹس بابر ستار، جسٹس سردار اعجاز اسحاق، جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس ثمن رفعت امتیاز شامل ہیں۔خط کے متن کے مطابق ’عدالتی امور میں مداخلت پر ایک عدلیہ کا کنونشن طلب کیا جائے جس سے دیگر عدالتوں میں ایجنسیوں کی مداخلت کے بارے میں بھی معلومات سامنے آئیں گی۔ خط میں کہا گیا ہے کہ عدلیہ کے کنونشن سے عدلیہ کی آزادی کے بارے میں مزید معاونت حاصل ہو گی۔

  • عدلیہ میں مبینہ مداخلت کیخلاف سپریم کورٹ میں ایک اور درخواست دائر

    عدلیہ میں مبینہ مداخلت کیخلاف سپریم کورٹ میں ایک اور درخواست دائر

    عدلیہ میں مبینہ مداخلت،سپریم کورٹ میں ایک اور درخواست دائر کر دی گئی

    سپریم کورٹ میں عدلیہ میں مبینہ مداخلت بارے درخواست بلوچستان بارکونسل اوربلوچستان ہائیکورٹ بارنے دائر کی ہے، بلوچستان کی وکلا تنظیموں نے الگ الگ درخواست دائر کی اور سپریم کورٹ سے استدعا کی کہ سپریم کورٹ اس حوالہ سے فل کورٹ تشکیل دے اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کیلئےگائیڈلائنز دی جائیں، وفاقی حکومت کا قائم کردہ کمیشن کالعدم قراردیا جائے اور عدلیہ کے امور میں مداخلت کرنے والوں کو قرار واقعی سزا دی جائے۔

    قبل ازیں اسلام آباد ہائیکورٹ بار نے ججز کے خط کی تحقیقات کیلئے آئینی درخواست سپریم کورٹ میں دائر کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ عدالت عظمیٰ ہائیکورٹ ججز کے خط کی روشنی میں شفاف تحقیقات کرائے۔

    سیاسی اثرات رکھنے والے کیسز میں مداخلت کو جھٹلایا نہیں جا سکتا،جسٹس اطہرمن اللہ

    8 ججز کو پاؤڈر والے دھمکی آمیز خط،شیر افضل مروت نے الزام ن لیگ پر لگا دیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کو دھمکی آمیز خطوط بھیجنے کا مقدمہ درج

    اسلام آباد ہائیکورٹ ججز کے خط کے بعد نئی صورت حال سامنے آگئی

    عمران خان کو رہا، عوامی مینڈیٹ کی قدر کی جائے،عارف علوی کا وکلا کنونشن سے خطاب

    جماعت اسلامی نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز کے لیے بنائے گئے انکوائری کمیشن کو مسترد کر دیا۔

    ججز خط کی انکوائری، سپریم کورٹ بار کا تصدق جیلانی کو کمیشن کا سربراہ مقرر کرنے کا اقدام خوش آئند قرار

    ججز کا خط، سابق چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی انکوائری کمیشن کے سربراہ مقرر

    ہائیکورٹ کے 6 ججز نے جو بہادری دکھائی ہیں یہ قوم کے ہیرو ہیں،اسد قیصر

    لاہور ہائیکورٹ کے ججز کو بھی مشکوک خط موصول

    قبل ازیں سپریم کورٹ نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے 6 ججز کے خط پر سوموٹو کیس کی پہلی سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کیا ہے،سپریم کورٹ کی جانب سے جاری حکم نامے میں جسٹس اطہر من اللہ کا اختلافی نوٹ بھی سامنے آیا ہے، جسٹس اطہر من اللہ نے اپنے اختلافی نوٹ میں حکم نامے کے 12 پیرا گراف سے عدم اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ پیراگراف ایک سے 12 تک سے اتفاق کیلئے خود کو قائل نہیں کر سکا، وزیر اعظم کو طلب کیا جا سکتا ہے یا نہیں اس سوال پر فل کورٹ نے ابھی غور کرنا ہے،حکومت کے کمیشن بنانے سے عدلیہ کی آزادی متاثر ہوتی ہے یا نہیں ابھی طے ہونا ہے، جو سوال عدالت کے سامنے ہیں ان پر ابھی رائے دینا مناسب نہیں، ہائیکورٹ ججز کا خط دکھاتا ہے وہ ہر متعلقہ فورم پر معاملہ اٹھاتے رہے، معاملے کی سنجیدگی کے باوجود ادارے نے رسپانس نہیں دیا، ہائیکورٹ ججز نے وہی کیا جو ہر جج حلف کے مطابق کرنے کا پابند ہے، ہائیکورٹ کے 6 ججز پر شک کی کوئی وجہ موجود نہیں

    اختلافی نوٹ میں جسٹس اطہر من اللہ کا مزید کہنا تھاکہ ہائیکورٹ ججز نے آئین کی پاسداری کا حلف اٹھایا ہے، سیاسی اثرات رکھنے والے کیسز میں مداخلت کو جھٹلایا نہیں جا سکتا، ذوالفقار علی بھٹو ریفرنس میں عدالت خود یہ مان چکی، مداخلت کس حد تک ہے یہ دکھانے کیلئے اصغر خان کیس کافی ہے

    ججز خط،از خود نوٹس، جسٹس یحییٰ آفریدی بینچ سے الگ،کہا آرٹیکل 184/3ہائی کورٹس کی آزادی پر استعمال نہیں ہونا چاہیے
    دوسری جانب اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کے خط کے معاملے پر ازخود نوٹس کی سماعت کرنے والے سپریم کورٹ کے بینچ سے جسٹس یحییٰ آفریدی نے خود کو علیحدہ کر لیا،جس کے بعد کیس کی سماعت کرنے والا بینچ ٹوٹ گیا، اب دوبارہ سماعت ہو گی تونیا بینچ تشکیل دیا جائے گا،جسٹس یحییٰ آفریدی نے خود کو ازخود نوٹس کی سماعت کرنے والے بینچ سے علیحدہ کرنے کے ساتھ اضافی نوٹ بھی لکھا، جسٹس یحییٰ آفریدی نے اضافی نوٹ میں کہا کہ ہائی کورٹس آئین کے تحت آزاد عدالتیں ہیں، آرٹیکل 184/3ہائی کورٹس کی آزادی پر استعمال نہیں ہونا چاہیے، از خود نوٹس اچھی نیت سے لیا گیا لیکن از خود نوٹس سے ہائی کورٹس اور ان کے چیف جسٹسز کی آزادی کو نقصان پہنچ سکتا ہے،6 ججز کے خط میں اٹھائے گئے معاملات سپریم جوڈیشل کونسل کے ضابطہ اخلاق میں دیکھے جانے چاہئیں، میں خود کو از خود نوٹس کے بینچ سے الگ کرتا ہوں

  • پشاورہائیکورٹ کےمزید 3 ایڈیشنل ججزکی تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری

    پشاورہائیکورٹ کےمزید 3 ایڈیشنل ججزکی تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری

    پشاور: وزارت قانون و انصاف نے پشاورہائیکورٹ کےمزید 3 ایڈیشنل ججزکی تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔

    باغی ٹی وی : پشاور ہائیکورٹ کے لیے نوٹی فکیشین میں جسٹس فضل سبحان اور جسٹس شاہدخان ایڈیشنل ججز تعینات کیا گیا ہے، جسٹس ڈاکٹر خورشید اقبال ایڈیشنل ججز کو بھی تعینات کیا گیا ہے، تینوں ججزکی تعیناتی صدرمملکت کی منظوری کےبعد کردی گئی، پشاور اور بلوچستان ہائیکورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس کانوٹیفکیشن جاری، وزارت قانون انصاف کی جانب سے صدر کی منظوری کے بعد جاری کیا گیا ہے،بلوچستان کے جسٹس ہاشم خان کاکڑ کومستقل چیف جسٹس بنایا دیا گیا ہے۔