Baaghi TV

Tag: ججز

  • ججزکا خط،اسلام آباد ،لاہور ہائیکورٹ بار،اسلام آبا بار،بلوچستان بار کا ردعمل

    ججزکا خط،اسلام آباد ،لاہور ہائیکورٹ بار،اسلام آبا بار،بلوچستان بار کا ردعمل

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چھ ججز کے سپریم جوڈیشل کونسل کو خط کے بعد پاکستان بھر کی بار کونسل متحرک ہو گئی ہیں،اسلام آباد ہائیکورٹ بار، لاہور ہائیکورٹ بار، بلوچستان ہائیکورٹ بار، اسلام آباد بار کا مؤقف سامنے آیا ہے.

    ججز کا خط، اسلام آباد ہائیکورٹ بار کا انکوائری اور ملوث افراد کیخلاف کاروائی کا مطالبہ
    اسلام آباد ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کی کابینہ کا ہنگامی اجلاس زیر صدارت ریاست علی آزاد ایڈ و و کیٹ سپریم کورٹ آف پاکستان صدر اسلام آباد ہائیکورٹ بارایسوسی ایشن منعقد ہوا۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے 6 معز زججز صاحبان کی جانب سے چیف جسٹس آف پاکستان کو جاری کئے گئے خط میں انٹیلی جنس اداروں کی طرف سے بے جا مداخلت کی بابت مراسلہ ارسال کیا گیا ہے اس حوالے سے اسلام آباد ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کا موقف در ج ذیل ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ بارایسوسی ایشن ملک میں قانون کی حکمرانی، آئین کی بالا دستی اور آزاد اور خود مختار عدلیہ پر یقین رکھتی ہے۔ اس ضمن میں اسلام آباد ہائیکورٹ بارایسوسی ایشن قابل احترام چیف جسٹس آف پاکستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس معاملے کی شفاف انکوائری کروائی جائے اور جو لوگ اس معاملے میں ملوث میں انکے خلاف قانونی کاروائی کی جائے۔اسلام آباد ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کسی بھی ادارے کی دوسرے ادارے میں مداخلت کی بھر پور مذمت کرتی ہے،اسلام آباد با ئیکورٹ بار ایسوسی ایشن عدلیہ سے مطالبہ کرتی ہے کہ آزاد قانون اور آئین کے مطابق فیصلوں کو بے خوف وخطر یقینی بنایا جائے،اسلام آباد ہائیکورٹ بار ایسویسی ایشن ججز صاحبان کے اس اقدام کو سراہتی ہے جو انہوں نے دلیری اور بہادری کا مظاہر ہ کیا یہ کہ وہ ملک اور قومیں ترقی نہیں کرتیں جو رول آف لاء کی پاسداری نہ کرتی ہیں،یہ کہ مستقبل میں غیر قانونی اقدام کو روکنے کیلئے اسلام آباد ہائیکورٹ بارایسوسی ایشن اگر ضرورت پڑی تو عدلیہ کی آزادی کی خاطرہراول دستہ ثابت ہو گی اور ہر وہ اقدام اٹھائے گی جو آئین اور قانون کی بالادستی کیلئے ضروری ہوگا، اسلام آباد ہائیکورٹ بارایسوسی ایشن عدلیہ کی آزادی کی خاطر وکلا نمائندہ کنونش، ملک گیرو کلاء کنونشن بھوک ہڑتال اورتحریک سے بھی دریغ نہیں کرے گی۔

    اسلام آباد بار کا ججز کے سپریم جوڈیشل کونسل کو لکھے گئے خط پر گہری تشویش کا اظہار
    اسلام آباد بار ایسوسی ایشن نے بھی ججز کے خط کے بعد اعلامیہ جاری کیا ہے،اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اجلاس صدر اسلام آباد بار ایسوسی ایشن راجہ محمد شکیل عباسی کی زیر صدارت ہوا۔ اجلاس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کے سپریم جوڈیشل کونسل کو لکھے گئے خط پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔ اسلام آباد بار ایسوسی ایشن عدلیہ کی آزادی اور خود مختاری کو آئین کا بنیادی وصف سمجھتی ہے. نظام عدل و انصاف پر عوام الناس کا اعتماد عدلیہ کی آزادی اور خود مختاری سے وابستہ ہے۔ عدلیہ کی آزادی پر حرف نظام عدل و انصاف اور معاشرے کیلئے شدید نقصان دہ ہے۔ اسلام آباد بار ایسوسی ایشن آئین و قانون کی عملداری، عدلیہ کی آزادی اور خود مختاری کے اصولوں کے ساتھ کھڑی ہے،اسلام آباد بار ایسوسی ایشن مطالبہ کرتی ہے کہ ججز کے پیشہ وارانہ امور کی آزادانہ ادائیگی کو یقینی بنایا جائے۔ تاکہ آئین کے مطابق بنیادی حقوق کا تحفظ اور انصاف کی بلا تفریق فراہمی ممکن ہو سکے

    عدلیہ کے کام میں مداخلت قانون کی حکمرانی ،عدلیہ کی آزادی کے لیے سنگین خطرہ ہے،لاہور ہائیکورٹ بار
    لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کا اسلام آباد ہائیکورٹ کے چھ ججز کا سپریم جوڈیشل کونسل کو خط لکھے جانے پر اعلامیہ سامنے آیا ہے، لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے ہمیشہ آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی، عدلیہ کی آزادی، جمہوری نظام اور سویلین کی بالادستی کے لیے آواز اٹھائی ہے۔پاکستان کو ایک انتہائی سنگین صورتحال کا سامنا ہے جس میں ان مقاصد کو شدید خطرات لاحق ہیں ، اسلام آباد ہائی کورٹ کے چھ معزز ججوں کے سپریم جوڈیشل کونسل کو لکھے گئے خط سے واضح ہو گیا ہے، انٹیلی جنس ایجنسیوں کی عدلیہ اور عدالتی انتظامیہ کے کام میں مداخلت قانون کی حکمرانی اور عدلیہ کی آزادی کے لیے سنگین خطرہ ہے، ہم اسلام آباد کے چھ ججز کو سلام پیش کرتے ہیں جنہوں نے ایجنسیز کی جانب سے عدلیہ میں مداخلت کیے جانے کے سچ کو بےنقاب کیا،ہم چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کے اس اقدام کو قابل تعریف نہیں سمجھتے جنہوں نے اپنے ججز کی حفاظت کے لیے کسی قسم کے عملی اقدامات بروئے کار نہیں لائے۔ ہم حساس اداروں کی جانب سے عدلیہ کے فیصلوں میں مداخلت اور اثر انداز ہونے کی پرزور مزمت کرتے ہیں، ہم حساس اداروں کے اپنی مرضی کے فیصلے لکھوانے کے عدلیہ پر دباؤ کی سخت مزمت کرتے ہیں۔ ہم فی الفور ان حساس اداروں کی شخصیات کیخلاف کارروائی کا مطالبہ کرتے ہیں جنہوں نے آئین اور قانون کو پامال کیا۔پاکستان بار کونسل اور پنجاب بار کونسل ے بعض منتخب اراکین کے ساتھ لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اور دیگر منتخب عہدیداروں نے اس وقت اور پاکستان میں ہر جگہ عدلیہ کی آزادی کے دفاع میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججوں کے ساتھ کھڑے ہونے کا فیصلہ کیا ہے، ہم سپریم جوڈیشل کونسل سے ان ججوں کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ کرتے ہیں جو ایسی خفیہ ایجنسیوں کے ساتھ تعاون کرتے ہیں اور اس طرح ملک میں انصاف کی انتظامیہ کو تباہ کر رہے ہیں۔ ہم چیف جسٹس سے توقع کرتے ہیں کہ وہ اعلیٰ عدالتوں کے ساتھ ساتھ ماتحت عدالتوں کے ججوں کے تحفظ کے لیے کام کریں گے تاکہ عدلیہ کی آزادی کو یقینی بنایا جا سکے اور ایسے حالات اور ماحول پیدا کیا جا سکے جس میں جج بغیر کسی خوف اور حمایت کے انصاف فراہم کر سکیں۔لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن لاہور میں وکلاء کا قومی کنونشن منعقد کرے گی،ہم عدلیہ کی آزادی، آزادانہ اور منصفانہ آئینی انتظام اور قانون کی حکمرانی کی حمایت کرتے ہیں.

    ججز کا خط، چیف جسٹس آف پاکستان فوری طور پر سوموٹو نوٹس لیں،بلوچستان بار کونسل
    بلوچستان بار کونسل نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے چھ ججز کے خط میں اداروں کی جانب سے عدالتوں میں مبینہ مداخلت کے معاملات پر چیف جسٹس آف پاکستان سے سومو ٹو لینے کا مطالبہ کیا ہے،بلوچستان بار کونسل نے اپنے ایک بیان میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے چھ جججز کی جانب سے لکھے گئے خط میں اداروں کی جانب سے عدالتوں میں مبینہ مداخلت کی معاملات پر تحفظات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد کے حجزکا خط تشویش ناک عمل ہے جو کہ آزاد عدلیہ پر ایک قدغن ہے، اس سے قبل بھی اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس شوکت صدیقی نے خفیہ اداروں کی جانب سے مداخلت پر تشویش کا اظہار کیا تھا اس وقت کے سپریم جوڈیشل کونسل نے خفیہ اداروں کی جانب سے مداخلت پر تشویش کا اظہار کیا تھا، اس وقت کے سپریم جوڈیشل کونسل نے خفیہ اداروں کے مداخلت پر تحقیقات کے بجائے معزز جج کو نوکری سے برخاست کیا اور سپریم کورٹ نے سپریم جوڈیشل کونسل کے فیصلے کو مسترد کر کے معزز جج کو بحال کیا ، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چھ ججز کا حالیہ خط اور اداروں کی جانب سے عدالتی امور میں مداخلت قابل مذمت ہے جو کہ کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں بیان میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ کہ چیف جسٹس آف پاکستان اس کا فوری طور پر سوموٹو نوٹس لیں بیان میں پاکستان بار کونسل سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ فوری طور پر ملک گیر وکلاء نمائندگان کا نفرنس ،اجلاس طلب کرکے آئندہ کا لائحہ عمل طے کریں.

    عدالتی معاملات میں مداخلت، اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کا سپریم جوڈیشل کونسل کو خط

    ججز کا خط،انکوائری ہو،سپریم کورٹ میں اوپن سماعت کی جائے، بیرسٹر گوہر

  • ججز کا خط،انکوائری ہو،سپریم کورٹ میں اوپن سماعت کی جائے، بیرسٹر گوہر

    ججز کا خط،انکوائری ہو،سپریم کورٹ میں اوپن سماعت کی جائے، بیرسٹر گوہر

    اسلام آباد: چیئرمین تحریک انصاف بیرسٹر گوہر علی خان نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج آپ کے سامنے ہم سیاسی مسئلہ کی بجائے قانونی اور آئینی مسئلہ رکھیں گے،اس مسئلے کے ساتھ عوام کے بنیادی انسانی حقوق کے ساتھ جڑے ہیں،

    بیرسٹر گوہر علی خان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے 6 جج صاحبان نے سپریم جوڈیشل کونسل کو خط لکھا،جج صاحبان نے زندگی میں پہلی بار ایسا خط لکھا ہے، جج صاحبان کی برداشت ختم ہوگئی، سب جج صاحبان نے انفرادی طور پر اس خط پر دستخط کیے ،اورسپریم جوڈیشل کونسل کو بھیجا،پاکستان تحریک انصاف کا ہر ورکر اور سپورٹر معزز عدلیہ کے تحفظ کے لیے کھڑا رہے گا، ہمارے لیے ہر جج قابل احترام ہے، ججز کا آئینی ذمہ داری نبھانے دی جائے، بار کونسلز اور ایسو سی ایشنز سے درخواست کرتے ہیں کہ عدلیہ کی آزادی کے لیے جو ممکن ہوسکے وہ اقدامات لیں،جن ججز نے خط لکھے، اُن کی جان کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے، مطالبہ کرتے ہیں اس معاملے پر انکوائری کی کروائی جائے، اس کی انکوائری سپریم کورٹ میں اوپن سماعت کے ذریعے کی جائے،سپریم کورٹ سے درخواست کرتے ہیں اس معاملے پر آج ہی لارجر بینچ تشکیل دیا جائے،

    ججز کے خط کے بعد عمران خان کے مقدمات کالعدم قرار دے کر رہا کیا جائے،بیرسٹر گوہر
    بیرسٹر گوہر علی خان کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان کو ایسی سزائیں سنائی گئیں، جہاں ہمیں جرح کا حق نہیں دیا گیا، ایسے فیصلے سنائے گئے جن کا کوئی سر پیر نہیں تھا،یہ تمام فیصلے دبائو میں دیئے گئے، ججز کے خط کے بعد عمران خان کے مقدمات کالعدم قرار دیئے جائیں ۔ انہیں فوری طور پر رہا کرنے کا حکم دیا جائے، جب عمران خان کو ایک دن میں 3 سزائیں سنائی گئی ،تو ایک جج نے بتایا کہ اُن کے نہیں پتا کہ اس کے بچے کہاں ہے۔ ایک نے بتایا کہ اُن کے بیٹے کا ولیمہ کینسل کروایا گیا ہے۔اس طرح ججز سے فیصلہ کروایا گیا تھا، ہم گئے لیکن جج صاحب نے اپنا فیصلہ سنا دیا، اسی طرح کے فیصلے ہوئے، ابھی فیصلے کی کاپی نہیں ملی تھی کہ عمران خان کے گھر کے دروازے توڑ کر انکو گرفتار کر کے جیل پہنچا دیا گیا تھا.بانی پی ٹی آئی کو ایسی سزائیں سنائی گئیں جہاں ہمیں جرح کا حق نہیں دیا گیا، ججز کا خط چارج شیٹ ہے، اس پر فوری ایکشن ہونا چاہیے،خط پر کارروائی نہ ہوئی تو عوام کا عدلیہ پر اعتماد اٹھ جائے گا،عدلیہ ملک کا وہ ستون ہے جس کی طرف 25 کروڑ عوام دیکھتے ہیں،وکلاء کے بار کونسل سے التجا کرتے ہیں عدلیہ کی آزادی کے لئے اپنا کردار ادا کریں، چاہتے ہیں عدلیہ کے پیچھے پوری قوم کھڑی ہو،اس معاملے پر ہم ایوان میں قرارداد بھی لائیں گے

    ججزکا خط،واضح ہوا نشانہ صرف ایک شخصیت تھی،عمر ایوب
    تحریک انصاف کے رہنما، رکن قومی اسمبلی عمر ایوب کا کہنا تھا کہ کل چھ ججز نے جو لیٹر لکھا یہ موجودہ سسٹم کے خلاف ایک چارج شیٹ ہے،ہم اس معاملے کو قومی اسمبلی اور سینیٹ میں بھرپور طریقے سے اٹھائیں گے،اس لیٹر کے بعد تمام سسٹم ایکسپوز ہوچکا ہے، تمام ججز سے التجا ہے کہ ہر ادارے کو اپنے اختیارات تعین کروانے میں اپنا کردار ادا کریں، جج صاحبان نے پاکستان کے انتظامی امور کے خلاف ایک چارج شیٹ پیش کی،اس سے ہم سب کے سر شرم سے جھک گئے، اس سے واضح ہوا کہ نشانہ صرف ایک شخصیت تھی ،رول آف لاء ختم ہوچکی ہے، ایسے معاملات کے باعث ملک میں کوئی سرمایہ کاری نہیں آئے گا، چیف جسٹس اور سپریم جوڈیشل کونسل کے معزز جج صاحبان سے درخواست کرتے ہیں کہ وقت کا تقاضا ہے کہ آپ جلد از جلد ایکشن لیں، ہر ادارہ آئین اور قانون کے مطابق کام کرے،

    نو مئی سے نو فروری تک سارے سانحے کا جوڈیشل کمیشن بنا کر تحقیقات کی جائے،لطیف کھوسہ
    تحریک انصاف کے رہنما ، رکن قومی اسمبلی سردار لطیف کھوسہ کا کہنا تھا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے 6 ججزنے چیف جسٹس اور جوڈیشل کمیشن کو خط لکھا ہے، خط میں جوڈیشل کمیشن بنانے کا مطالبہ کیا ہے جو خط کے ساتھ لگائے گئے ثبوت دیکھنے کے قابل ہیں، وہ کہتے ہیں شوکت صدیقی کا فیصلہ آپ نے ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد کیا ہے،ہم تو حاضر سروس 6 ججز ہیں ہمیں بھی انصاف دیا جائے،یہی اثرات تمام عدالتوں‌پر ہیں، عنقریب دیکھیں گے کہ باقی ججز بھی دلیری کا مظاہرہ کریں گے اور قوم کے سامنے آئیں گے، اس طرح نظام عدالت کو چلانا ہے تو یہ آئین سے بغاوت ہے، جو بھی اس کا ذمہ دار ہے، اسکے خلاف کاروائی ہو، نو مئی سے نو فروری تک سارے سانحے کا جوڈیشل کمیشن بنا کر تحقیقات کی جائے، عمران خان کی پارٹی کو ختم کرنے کے لئے نو مئی کا بیانیہ بنایا گیا،شوکت صدیقی نے کہا کہ ان پر ایجنسسز کی مداخلت تھی،سپریم جوڈیشل کونسل نے ان کو نکال باہر کیا مگر سپریم کورٹ نے بحال کیا،سپریم کورٹ نے جوڈیشل کونسل کا فیصلہ مسترد کیا،جج محمد بشیر ایمبولینس میں تھے مگر ان کو بانی پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف سزا دینے کا کہا گیا،جج محمد بشیر بار بار چھٹی کی درخواست کرتے رہے،مگر بالآخر ان کو سزائیں دینا پڑ گئیں،سردار لطیف کھوسہ نے سپریم کورٹ سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ خدارا اب 45 سال مت لینا کہ بھٹو کا ٹرائل غیر آئینی تھا سیاسی استحکام تب ہی آسکتا ہے جب مقتدر حلقے انتقام اور نفرت کی سیاست چھوڑ دیں،اس ملک میں عمران خان کے بغیر سیاست نہیں ہوسکتی، عمران خان ایک حقیقت ہے اسے تسلیم کرنا ہوگا،تحریک انصاف کا نشان چھین لیا، صدر، پنجاب کے صدر، سینیٹر اعجاز، صنم چودھری سب پابندسلاسل ہیں، پی ٹی آئی قیادت کے اندر ہونے کے باوجود لوگوں نے بینگن ،کٹورا، چارپائی، کھڑکی کے نشان ڈھونڈے اور ووٹ دیا، پاکستانی عوام نے ضد کر لی تھی کہ ہمارا حق ہے ووٹ دینا اور عمران خان کے امیدواروں کو ووٹ دیں گے.دوسری پارٹی میں شامل ہونا ہماری مجبوری بن گئی، آج پہلا قطرہ بارش کا آیا ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کے توسط سے، باقی ججز بھی بولیں گے، عدالتی نظام کو مفلوج کیا گیا ہے، عوام اور آئین کے ساتھ بہت کھلواڑ ہو گیا، چیف جسٹس کمیشن بنائیں تا کہ ہر ایک کا دائرہ اختیار جو آئین میں متعین شدہ ہے سب اپنی حدود میں رہیں،

    عدالتی معاملات میں مداخلت، اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کا سپریم جوڈیشل کونسل کو خط

    محکمہ بہبود آبادی،عوامی آگاہی کیلئے مسلسل مصروف عمل،تحریر:صباءفاروق

     نئی مردم شماری میں بلوچستان کی آبادی کم ہونے کا معاملہ،

    بریسٹ کینسر،بڑھتی آبادی پر خصوصی توجہ کی ضرورت ہے، صدر مملکت

    پاکستان دنیا بھر میں گنجان آبادی کے اعتبار سے کونسے نمبر پر؟

    ڈیجیٹل مردم شماری ،پاکستان کی آبادی 241.49 ملین تک پہنچ گئی ،ادارہ شماریات

    عمران خان نے ووٹ مانگنے کیلئے ایک صاحب کو بھیجا تھا،مرزا مسرور کی ویڈیو پر تحریک انصاف خاموش

  • صدر مملکت  نے تین ججز کی تعیناتیوں کی منظوری دیدی

    صدر مملکت نے تین ججز کی تعیناتیوں کی منظوری دیدی

    اسلام آباد: صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے تین ججز کی تعیناتیوں کی منظوری دے دی۔

    باغی ٹی وی: ترجمان کے مطابق جسٹس ملک شہزاد احمد خان کو لاہور ہائی کورٹ کا چیف جسٹس مقرر کرنے کی صدر مملکت نے منظوری دے دی ہے، علاوہ ازیں صدر مملکت نے چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ جسٹس نعیم اختر افغان کی بطور سپریم کورٹ جج تعیناتی کی منظوری بھی دے دی، صدر مملکت نے بلوچستان ہائی کورٹ کے سینئر جج جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ کی بطور قائم مقام چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ تعیناتی کی منظوری بھی دی ہے۔

    علی امین گنڈاپور کو اشتہاری قرار دینے کا کالعدم قرار

    صوبہ سندھ اور بلوچستان میں رمضان المبارک کے لیے گیس شیڈول جاری

    اٹارنی جنرل کی عدم موجودگی ،خواتین اور اقلیتی مخصوص نشستوں پر حکم امتناع میں توسیع

  • جج کے استعفے سے کارروائی ختم نہیں ہوگی،سپریم کورٹ

    جج کے استعفے سے کارروائی ختم نہیں ہوگی،سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ نے ریٹائرڈ یامستعفی ججزکیخلاف سپریم جوڈیشل کونسل کارروائی سے متعلق کیس کا مختصر فیصلہ سنا دیا ہے

    سپریم کورٹ نے عافیہ شہربانو کیس میں انٹرا کورٹ اپیل جزوی طور پر منظور کرلی،سپریم کورٹ کی جانب سے کیس کی سماعت مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا گیا تھا، آج سپریم کورٹ نے سماعت مکمل کی تھی، بعد ازاں مختصر فیصلے میں سپریم کورٹ نے کہا کہ جج کیخلاف ایک بار کارروائی شروع ہو جائے تو جج کے استعفے سے کارروائی ختم نہیں ہوگی مستعفی جج کیخلاف کارروائی جاری رکھنا جوڈیشل کونسل کا اختیار ہوگا،وفاقی حکومت کی اپیل جزوی طور پر منظور کی جاتی ہے،

    سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت و دیگر کی اپیلیں چار ایک سے منظور کیں ، جسٹس حسن اظہر رضوی نے فیصلے سے اختلاف کیا ہے،فیصلے کی تفصیلی وجوہات بعد میں جاری کی جائیں گی۔فیصلے میں کہا گیا کہ کسی بھی جج کے خلاف جب انکوائری شروع ہو جائے تو مستعفی ، ریٹائرمنٹ لینے سے انکوئری میں فرق نہیں پڑے گا اور کیس منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا ،جسٹس ریٹائرڈ مظاہر نقوی کیخلاف شکایت پر کونسل کو اجازت مل گئی

    واضح رہے کہ مظاہر علی اکبر نقوی کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں کاروائی جاری تھی کہ انہوں نے استعفیٰ دے دیا تھا.مظاہر نقوی پر الزام ہے کہ انہوں نے بطور سپریم کورٹ جج اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے اپنی آمدن سے زیادہ مہنگی لاہور میں جائیدادیں خریدی ہیں لہذا سپریم جوڈیشل کونسل اس کو فروخت کرے اور اعلیٰ عدلیہ کے جج کے خلاف کارروائی کرے۔

    یاد رہے کہ ملک کی بار کونسلز نے سابق وزیر اعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی کی آڈیو لیک کے معاملے پر سپریم کورٹ کے جج مظاہر نقوی کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کرنے کا اعلان کیا تھا۔ جسٹس مظاہر نقوی کے خلاف بلوچستان بار کونسل سمیت دیگر نے ریفرنسز دائر کر رکھے ہیں۔

    ریفرنس میں معزز جج کے عدالتی عہدے کے ناجائز استعمال کی بابت بھی معلومات فراہم کی گئی ہیں جبکہ معزز جج کے کاروباری، بااثر شخصیات کے ساتھ تعلقات بابت بھی معلومات فراہم کی گئی ہیں۔ ریفرنس میں معزز جج کےعمران خان اور پرویز الہیٰ وغیرہ کے ساتھ بالواسطہ اور بلاواسطہ خفیہ قریبی تعلقات کی بابت بھی معلومات فراہم کی گئی ہیں۔

    جسٹس مظاہر نقوی نے سپریم جوڈیشل کونسل پر اٹھائے اعتراضات

    ہائیکورٹ نے کیس نمٹا کرتعصب کا مظاہرہ کیا،عمران خان کی سپریم کورٹ میں درخواست

    جسٹس مظاہر نقوی نے جوڈیشل کونسل کے جاری کردہ دونوں شوکاز نوٹس چیلنج کردیئے

    ،اگر کوئی جج سپریم کورٹ کی ساکھ تباہ کر کے استعفی دے جائے تو کیا اس سے خطرہ ہمیں نہیں ہوگا؟

  • جج کوئی جرم کرتا  تو استعفے سے کلین چٹ مل جائے گی؟جسٹس جمال مندوخیل

    جج کوئی جرم کرتا تو استعفے سے کلین چٹ مل جائے گی؟جسٹس جمال مندوخیل

    سپریم کورٹ میں عافیہ شہربانو کیس کے فیصلے کے خلاف اپیل پر سماعت ہوئی۔
    عدالتی معاون فیصل صدیقی نے کہا ہے کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ 21 اپریل کے بجائے 11 اکتوبر سے نافذ ہو تو یہ اپیل قابل سماعت نہیں،جسٹس امین الدین نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اپیل قابل سماعت ہونے پر نہیں، مرکزی کیس پر آپ کی معاونت درکار ہے،فیصل صدیقی نے کہا کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے تحت اپیل کے ماضی سے اطلاق کی شق کالعدم قرار دی گئی، ججز پر عام قوانین لاگو نہیں ہوتے، اگر جج پر کرپشن کے الزامات ہوں تو اس کے خلاف کارروائی ہوسکتی ہے، سپریم جوڈیشل کونسل کا دائرہ اختیار جج کی ریٹائرمنٹ کے ساتھ ہی ختم ہو جاتا ہے، بھارتی عدالت نے قراردیا کہ جج کے خلاف ایف آئی آر بھی درج ہو سکتی ہے

    جسٹس امین الدین نے استفسار کیا کہ اگر جوڈیشل کونسل کارروائی شروع کر چکی تو کیا جج کی ریٹائرمنٹ سے ختم کر دے؟جسٹس جمال مندوخیل نے سوال کیا کہ اگر میں بطور جج کوئی جرم کرتا ہوں تو میرے استعفے سے کلین چٹ مل جائے گی؟جسٹس عرفان نے استفسار کیا کہ موجودہ کیس میں جوڈیشل کونسل سابق چیف جسٹس کے خلاف کارروائی نمٹا چکی، اگر کونسل ایک بار رائے دے چکی تو کیا دوبارہ کارروائی کھولی جاسکتی ہے؟جسٹس جمال خان مندوخیل نے استفسار کیا کہ کیا چیف جسٹس سپریم جوڈیشل کونسل کو یرغمال بنا سکتا ہے؟ کیا چیف جسٹس اپنے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں خود شکایت سن سکتا ہے؟

    عدالتی معاون فیصل صدیقی نے کہا کہ ضابطے کے تحت جس جج کے خلاف شکایت ہو وہ خود کو کونسل سے الگ کر لیتا ہے، ججز کے خلاف انکوائری رولز صرف حاضر سروس جج کے خلاف ہیں،جج کا استعفیٰ بدنیتی کی بنیاد پر چیلنج کیا جاسکتا ہے، ججز کی کرپشن پر اینٹی کرپشن یا نیب جیسے اداروں کو کارروائی سے کوئی نہیں روکتا،جسٹس مندوخیل نے سوال کیا کہ کوئی ادارہ ججز کے خلاف کارروائی کرے تو کیا انصاف کی فراہمی میں ججز پر خوف کی تلوار نہیں لٹکتی رہے گی؟

    واضح رہے کہ ریٹائر جج کیخلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں کارروائی کا اختیار دینے کی طرف اہم پیشرفت سامنے آئی ہے،وفاق نے کارروائی کا اختیار ختم کرنے والے عافیہ شیربانو کیس میں اپیل دائر کر دی ہے،اٹارنی جنرل نے شوکت صدیقی کیس کے ساتھ اپیل بھی سننے کی تجویز دے دی،اٹارنی جنرل نے کہا کہ شوکت صدیقی کیس میں ان کی مراعات بحال کرنے کا آرڈر بھی ہوسکتا ہے، وسیع تناظر میں دیکھنا ہو تو معاملہ کونسل میں جا سکتا ہے ،جج کو انکوائری کے بغیر ہٹایا نہیں جا سکتا یہ بنیادی حق کا معاملہ ہے،عافیہ شیربانو کیس میں ہماری اپیل کو اس کیس سے یکجا کیا جائے،عافیہ شیربانو فیصلہ کالعدم کر کے ہی معاملہ کونسل کو واپس بھیجا جا سکتا ہے،

    این اے 130 لاہور ، نواز شریف جیل میں گرفتار یاسمین راشد سے جیت گئے

    بلاول کا "تیر” چل گیا، پیپلز پارٹی اب تک قومی کی ایک،صوبائی کی 5سیٹوں سے کامیاب

    آٹھ گھنٹے گزر گئے، الیکشن کمیشن نتائج دینے میں ناکام،آصف زرداری اسلام آباد،نواز گھر چلے گئے

    آبائی نشست سے متوقع ہار ،نواز شریف افسردہ ،ماسک پہن کر ماڈل ٹاؤن سے روانہ،تقریر بھی رہ گئی

    مخلوط حکومت کانام نہ لیں ایک پارٹی کی اکثریت ضروری ہے،نواز شریف

    انتخابات ابھی تک تو پُر امن ہیں،نگران وزیراعظم

    آر او کے دفاتر میں دھاندلی کی گئی، پولیس افسران معاون تھے،سلمان اکرم راجہ

  • سردیوں کی چھٹیوں کے دوران دستیاب ججز پر مشتمل بینچز تشکیل

    سردیوں کی چھٹیوں کے دوران دستیاب ججز پر مشتمل بینچز تشکیل

    اسلام آباد: سپریم کورٹ نے بینچز کی تشکیل کے لیے قائم 3 رکنی ججز کمیٹی کے 7 دسمبر کے اجلاس کا اعلامیہ جاری کردیا۔

    باغی ٹی وی : سپریم کورٹ کے اعلامیے کے مطابق سردیوں کی چھٹیوں کے دوران دستیاب ججز پر مشتمل بینچز تشکیل دے دئیے گئے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ چھٹیوں کے دوران کسی بینچ کا حصہ نہیں ہوں گے چھٹیوں کے دوران 18 سے 22 دسمبر تک اسلام آباد، کوئٹہ اور کراچی میں ایک ایک بینچ کام کرے گا، اسلام آباد میں جسٹس سردار طارق کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ مقدمات سنے گا، جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ بینچ کا حصہ ہوں گے چھٹیوں کے دوران 26 سے 29 دسمبر تک اسلام آباد میں کوئی بینچ دستیاب نہیں ہوگا، 26 سے 29 دسمبر تک پشاور اور کراچی رجسٹری میں ایک ایک بینچ مقدمات سنے گا۔

  • لاہورہائیکورٹ کی ججزکوبلا سود قرضےکی منظوری کیخلاف درخواست سماعت کیلئےمقرر

    لاہورہائیکورٹ کی ججزکوبلا سود قرضےکی منظوری کیخلاف درخواست سماعت کیلئےمقرر

    لاہور ہائیکورٹ میں 11 ججزکو بلا سود قرضے کی منظوری کیخلاف درخواست سماعت کے لیے مقرر کردی گئی۔

    باغی ٹی وی: جسٹس شمس محمود مرزا شہری مشکور حسین کی دائر کردہ درخواست پر کچھ دیر بعد سماعت کریں گے،شہری مشکور حسین نے درخواست میں چیف سیکرٹری ،سیکرٹری فنانس سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا-

    درخواست گزارنے موقف اختیار کیا ہے کہ ججز کو بلاسود قرضہ فراہم کرنا غیر قانونی اقدام ہے، وہ پہلے ہی بے شمار مراعات حاصل کررہے ہیں نگراں حکومت عوام کے ٹیکس کے پیسے کا بےدریغ استعمال نہیں کر سکتی،درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ عدالت نگران حکومت کی جانب سے ججز کو قرضے دینے کی منظوری کالعدم قرار دے، درخواست کے حتمی فیصلہ تک ججز کو قرضہ دینے کا اقدام معطل کیا جائے۔

    پرویزالٰہی کی درخواست ضمانت پر سماعت کل تک ملتوی

    رجسٹرار آفس نے درخواست پر اعتراض عائد کردیا جس کے مطابق درخواست گزار نے مصدقہ دستاویزات ساتھ نہیں لگائیں جسٹس شمس محمود مرزا بطور اعتراضی درخواست پر سماعت کریں گے۔

    واضح رہے کہ نگراں پنجاب حکومت نے لاہور ہائی کورٹ کے 11 ججز کو 36 کروڑ روپے سے زائد قرضوں کی منظوری دی تھی لاہور ہائی کورٹ کے 11 ججز 12 سال کی مدت میں بغیر ایک روپیہ سود ادا کیے یہ قرض واپس کریں گے۔

    سانحہ بلدیہ فیکٹری کیس:سندھ ہائیکورٹ کا ملزمان کی پھانسی کی سزا برقرار رکھنے کا حکم

  • 12 سال کیلئے 11 ججز کو قرض دینے کا عمل غیرآئینی ہے.  منیر احمد خان کاکڑ

    12 سال کیلئے 11 ججز کو قرض دینے کا عمل غیرآئینی ہے. منیر احمد خان کاکڑ

    پاکستان بار کونسل کے ممبر منیر احمد خان کاکڑ ایڈووکیٹ نے پنجاب کے نگران حکومت کی جانب سے لاہور ہائی کورٹ کے 11ججز کو37کروڑ روپے زیرو پرسنٹ انٹرسٹ پر اور 12 سال کے لیےقرض دینے کے عمل کو غیرآئینی وغیر قانونی قراردیتے ہوئے کہاہے کہ پاکستان بار کونسل ،سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن سمیت دیگر وکلاء تنظیموں کو چاہیے کہ ان ججز کے خلاف ریفرنس داخل کرے ،ٹیکس دینے والے عام لوگ15فیصد انٹرسٹ پر خودکشی پر مجبور ہوتے ہیں.

    انہوں نے کہا کہ ججز وجرنیلوں کو صفر فیصد پرقرض کس قانون کے تحت دیاگیاہے ۔ان خیالات کااظہار انہوں نے اپنے جاری کردہ بیان میں کیا۔ منیر احمد کاکڑ ایڈووکیٹ نے کہاکہ گزشتہ دنوں پنجاب کی نگران حکومت نے ہائی کورٹ کے گیارہ ججز کو 37 کڑور روپے سے زائد قرضوں کی منظوری دی گئی تھی جس کے تحت ہائی کورٹ کے ججز کو دئیے جانے والے قرضے بلاسود ہوں گے، ججز 12 سال کی مدت میں بغیر ایک روپیہ سود ادا کئے یہ قرضے واپس کریں گے، ہائی کورٹ کے 11 ججز کو 3 سال کی 36 بنیادی تنخواہوں کے برابر قرض دیا گیا جو سوا تین کروڑ روپے پر ایوریج بنتی ہے،
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    خیبر پاک افغان بارڈر پر کشیدگی تیسرے روز بھی جاری
    پاکستان کا روشن مستقبل چین کے ساتھ جڑا ہوا ہے،سینیٹر رانا محمود الحسن
    بجلی کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ

    انہوں نے کہاکہ پنجاب کے نگران حکومت کا یہ اقدام خلاف قانون ہے ،وہ ججز جو لاکھوں روپے تنخواہیں وصول کرتے ہیں انہیں صفر فیصد انٹرسٹ کے ساتھ 37کروڑ روپے کی ادائیگی کس قانون کے تحت ہورہی ہے ،پاکستان میں لاکھوں عوام جو کروڑوں روپے ٹیکس کی ادائیگی کرتے ہیں ان پر انٹرسٹ لاگو ہے لیکن یہاں انٹرسٹ کی شرح صفر ہے یہ کونساقانون ہے ،انہوں نے کہاکہ یہ معاملہ مس کنڈکٹ کاہے پاکستان بار کونسل،سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن سمیت دیگر وکلاء تنظیموں کو چاہیے کہ وہ ان ججز کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس داخل کرے کیونکہ ان کے آئندہ وقتوں میں فیصلے میرٹ کے بر خلاف ہونگے ۔انہوں نے کہاکہ اگر شرعی حوالے سے دیکھاجائے توبھی یہ معاملہ غلط ہے ،انہوں نے کہاکہ بحیثیت وکلاء نمائندہ تنظیم تمام وکلاء باڈیز کو اس پر سخت ردعمل دینے کی ضرورت ہے ۔

  • انسداد تمباکو نوشی کانفرنس، 5 ججز آذربائیجان جائیں گے

    انسداد تمباکو نوشی کانفرنس، 5 ججز آذربائیجان جائیں گے

    تمباکو نوشی روکنے کیلئے عالمی ورکشاپ 21 اگست کو آذربائیجان میں ہوگی

    لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس علی باقر نجفی ، جسٹس جواد حسن سمیت 5 ججز شرکت کرینگے ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز آج ایک بجے آذربائیجان کے لئے روانہ ہوں گے اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس میاں گل حسن آذربائیجان روانہ ہوں گے اسلام آباد ہائیکورٹ کی خاتون جج جسٹس ثمن امتیاز بھی ورکشاپ میں شرکت کرینگی آذربائیجان میں عالمی ورکشاپ 21 اور 22 اگست کو ہوگی.چیف جسٹس ہائیکورٹ کی منظوری کےبعد ججز کے بیرون ملک جانے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا

    عالمی ادارہ صحت کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ برس پوری دنیا میں تمباکو نوشی سے نو ملین اموات ہوئی ہیں، تمباکو اب بھی دنیا میں قابل تدارک بیماریوں سے اموات کی سب سے بڑی وجہ ہے، عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا کی ستر فیصد آبادی کم از کم تمباکو سے محفوظ ہے،عالمی ادارہ صحت کی سفارشات پندرہ سال قبل متعارف کرائے جانے کے بعد سے عالمی سطح پر تمباکو نوشی کی شرح میں کمی آئی لیکن صرف پچھلے سال سگریٹ نوشی سے تقریباً نو ملین افراد ہلاک ہوئے

    پاکستان میں تمباکو کے استعمال سے پھیلنے والی بیماریوں کے نتیجے میں ہرسال ایک لاکھ ستر ہزار افراد موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں جبکہ ملکی معیشت کو ہر سال 615 بلین روپے خسارے کا سامنا کرنا پڑتا ہے، تمباکو مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ نہ صرف ملکی معیشت کو سہارا دے سکتا ہے بلکہ اس سے تمباکو نوشی کے ناسور کو کم کرنے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔ پاکستان میں روزانہ 6 سے 15 سال کے 12 سو بچے تمباکو نوشی شروع کرتے ہیں اور یہ تشویشناک صورتحال تقاضا کرتی ہے کہ حکومت تمباکو نوشی کے خلاف قوانین کو مزید سخت بنائے۔

    تمباکو پر ہیلتھ لیوی ٹیکس – ایک جائزہ ،تحریر: راجہ ارشد

    ہیلتھ لیوی ،تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

    ویسے تو ہیلتھ لیوی کی منظوری 2019جون میں ہوچکی ہے

    انسداد تمباکو نوشی کے حوالہ سے کام کرنیوالی تنظیم کرومیٹک کے سی ای او شارق خان کا کہنا ہے کہ تمباکو نوشی کا بہت تیزی سے نوجوانوں میں پھیلنا تباہ کن ہے،

  • ہائی کورٹ کے چھ ججوں کو جان سے مارنے کی دھمکی

    ہائی کورٹ کے چھ ججوں کو جان سے مارنے کی دھمکی

    بنگلورو: کرناٹک ہائی کورٹ کے چھ ججوں کو جان سے مارنے کی دھمکی دی گئی ہے۔

    باغی ٹی وی : بنگلورو پولیس نے کرناٹک ہائی کورٹ کے تعلقات عامہ کے افسر (پی آر او) کے کہنے کے بعد ایک فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) درج کی ہے کہ اسے دھمکی آمیز کال اور واٹس ایپ پیغامات موصول ہوئے ہیں جس میں چھ ججوں کو قتل کرنے کی دھمکی دی گئی ہے۔

    بھارتی ایجنسی "انڈیا ٹوڈے” کے مطابق ایک نامعلوم شخص نے عدالت کے پبلک ریلیشن آفیسر (پی آر او) مرلی دھر کو بین الاقوامی نمبر سے واٹس ایپ پر کال اور میسج کرکے کرناٹک ہائی کورٹ کے چھ ججوں کو جان سے مارنے کی دھمکی دی اور 50 لاکھ روپے تاوان کا مطالبہ کیافون کرنے والے نے پاکستانی بینک اے بی ایل الائیڈ بینک لمیٹڈ کا اکاؤنٹ نمبر بھی دیا اور کہا کہ رقم جمع نہ ہونے پر دبئی گینگ ججوں کو قتل کر دے گا۔

    قصور اسپتال سے نومولود بچی کے اغوا میں 3 نرسیں ملوث نکلیں

    فون کرنے والے نے پی آر او کے ساتھ کچھ نمبر بھی شیئر کیے اور کہا کہ یہ ہندوستانی شوٹر ہمارے اپنے شوٹر ہیں۔ جن ججوں کو جان سے مارنے کی دھمکی دی گئی ہے ان کے نام جسٹس محمد نواز، ایچ ٹی نریندر پرساد، اشوک نجاگناور، کے نٹراجن اور ویرپا ہیں، جنہیں ہندی، اردو اور انگریزی میں بھیجا گیا ہے ۔

    بھارتی مزدوروں کو برطانوی دور کا ملنے والا خزانہ افسران نے چوری کر لیا

    پی آر او نے بتایا کہ 12 جولائی کو شام 7 بجے کال موصول ہوئی تھی۔ دھمکیاں بھیجنے والے نے ہندی، اردو اور انگریزی میں پیغامات بھیجے۔ پی آر او نے اس معاملے میں بنگلورو پولیس میں ایف آئی آر درج کرائی ہے کے مرلی دھر کی شکایت کے بعد بنگلورو کے سنٹرل سی ای این کرائم پولیس اسٹیشن میں تعزیرات ہند (آئی پی سی) اور انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) ایکٹ کی کئی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔

    پاکستان آئی ایم ایف کے معاہدے پر مکمل عملدرآمد کرے گا،وزیراعظم