Baaghi TV

Tag: ججز

  • سپریم کورٹ،آئندہ ہفتے کی کاز لسٹ اور ججز روسٹر جاری

    سپریم کورٹ،آئندہ ہفتے کی کاز لسٹ اور ججز روسٹر جاری

    سپریم کورٹ پرنسپل سیٹ اسلام آباد کیلئے آئندہ ہفتے کی کاز لسٹ اور ججز روسٹر جاری کر دیا گیا

    آئندہ ہفتے پرنسپل سیٹ پر پانچ بینچ مقدمات کی سماعت کریں گے بینچ ایک میں چیف جسٹس عمر عطا بندیال،جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی اور جسٹس عائشہ ملک شامل ہیں ،بینچ دو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ ،جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس حسن اظہر رضوی پر مشتمل ہوگا بینچ تین میں جسٹس سردار طارق ،جسٹس امین الدین خان اور جسٹس اطہر من اللہ شامل ہونگے ،بینچ چار جسٹس اعجاز الاحسن،جسٹس منیب اختر اور جسٹس شاہد وحید پر مشتمل ہوگا بینچ پانچ میں جسٹس منصور علی شاہ،جسٹس جمال مندوخیل اور جسٹس محمد علی مظہر شامل ہونگے

    نگران پنجاب حکومت کی جانب سے لا افسران کی برطرفی کیخلاف کیس کی سماعت پیر کو ہوگی سپریم کور ٹ میں پٹواریوں اور تحصیلداروں کے کردار سے متعلق از خود نوٹس سماعت پیر کو ہوگی سپریم کور ٹ میں پلی بارگین کے ذریعے نیب ملزمان کی رہائی کیخلاف کیس کی سماعت بدھ کو ہوگی گن اینڈ کنٹری کلب اسلام آباد کو سرکاری زمین الاٹمنٹ کیخلاف از خود نوٹس پر سماعت جمعرات کو ہوگی سپریم کورٹ میں شوگر انکوائری کمیشن کیخلاف کیس کی سماعت جمعہ کو ہوگی

    خواجہ سرا مشکلات کا شکار،ڈی چوک میں احتجاج،پشاورمیں "ریپ” کی ناکام کوشش

    علی امین گنڈاپور اور امتیاز نامی شخص کے مابین آڈیو لیک

    عمران خان کی جاسوسی، آلات برآمد،کس کا کارنامہ؟

  • سپریم کورٹ میں جسٹس اطہر من اللہ سمیت تین ججوں کی تعیناتی کی منظوری

    سپریم کورٹ میں جسٹس اطہر من اللہ سمیت تین ججوں کی تعیناتی کی منظوری

    اسلام آباد:صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے جسٹس اطہر من اللہ سمیت سندھ اور پنجاب کی ہائی کورٹس سے 3 ججوں کی سپریم کورٹ میں تعیناتی کی منظوری دے دی۔

    ایوان صدر سے جاری اعلامیے میں کہا گیا کہ صدر مملکت نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ، سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس سید حسن اظہر رضوی اور لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس شاہد وحید کو سپریم کورٹ کا جج تعینات کرنے کی منظوری دی ہے۔

     

    آرمی چیف کی قومی ٹیم کو نیوزی لینڈکیخلاف سیمی فائنل جیتنے پر مبارک باد

    صدر مملکت نے جسٹس عامر فاروق کو جسٹس اطہر من اللہ کی جگہ چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ تعینات کرنے کی بھی منظوری دے دی۔

    بیان میں کہا گیا کہ صدر مملکت عارف علوی نے سپریم کورٹ اور اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیف جسٹس کی تعیناتی کی منظوری آئین کے آرٹیکل 175 اے کے تحت دی۔

    اس سے قبل قومی اسمبلی کی پارلیمانی کمیٹی نے تینوں ججوں کی تعیناتی کی منظوری دی تھی۔

    امریکی وسط مدتی انتخابات؛ پاکستانی امیدوار بھی کامیاب

    قومی اسمبلی کی پارلیمانی کمیٹی نے 4 نومبر کو جسٹس اطہر من اللہ اور 7 نومبر کو دیگر دو ججوں جسٹس شاہد وحید اور جسٹس حسن اظہر رضوی کی بطور سپریم کورٹ جج کے لیے نام کی منظوری دی تھی۔

    واضح رہے کہ جوڈیشل کمیشن نے 24 اکتوبر کو ساڑھے 3 گھنٹے طویل اجلاس کے بعد متفقہ طور پر جسٹس اطہر من اللہ کی سپریم کورٹ میں تعیناتی کی منظوری دی تھی۔

  • جسٹس فائز عیسیٰ کا جوڈیشل کمیشن کو ایک اور خط، تین پرانے ناموں کی شمولیت پر اعتراض

    جسٹس فائز عیسیٰ کا جوڈیشل کمیشن کو ایک اور خط، تین پرانے ناموں کی شمولیت پر اعتراض

    اسلام آباد: جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے جوڈیشل کمیشن میں تین پرانے ناموں کو شامل کرنے پر اعتراض عائد کردیا۔ ذرائع کے مطابق جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے چیئرمین جوڈیشل کمیشن کو ایک اور خط لکھ دیا جس میں انہوں نے جوڈیشل کمیشن میں تین پرانے ناموں کو شامل کرنے پر اعتراض عائد کیا ہے۔

    خط میں سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس شفیع صدیقی کے نام دوبارہ آنے پر اعتراض اٹھایا گیا ہے، لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس شاہد وحید کے نام دوبارہ آنے پر بھی اعتراض کیا گیا ہے۔

    خط میں کہا گیا ہے کہ تین جج صاحبان کے نام پہلے بھی جوڈیشل کمیشن سے منظور نہیں ہوئے تھے۔

    یاد رہے کہ اس سے پہلے سپریم کورٹ میں ججز کی تقرری کے لیے جوڈیشل کمیشن کا اجلاس 24 اکتوبر کو طلب کرلیا گیا۔چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں ہونے والے اس اجلاس میں سپریم کورٹ میں ججز کی تعیناتی کے لیے ناموں پر غور کیا جائے گا۔

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے سپریم کورٹ کیلئے ہائیکورٹ کے 4 ججز کےنام تجویز کر دیئے۔اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ اور لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد وحید سپریم کورٹ کے جج کیلئے نامزد کردیے گئے۔

    سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس شفیع صدیقی سپریم کورٹ کیلئے نامزد، جوڈیشل کمیشن تمام نامزد گیوں کا جائزہ لیکر تعیناتی کی سفارش کا فیصلہ کرے گا۔

    تحریک انصاف نے پاکستان کے کئی شہروں میں احتجاج کا اعلان کر دیا ہ

    جھوٹ پھیلانے والا رنگے ہاتھوں پکڑا گیا ،عمران خان کی نااہلی پر بلاول کا ردعمل

    ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

  • سندھ بار کونسل کا ہائیکورٹ میں ججز کی تقرری کی سفارش پر تحفظات کا اظہار

    سندھ بار کونسل کا ہائیکورٹ میں ججز کی تقرری کی سفارش پر تحفظات کا اظہار

    کراچی: ججز کی تقرری کی سفارش پر تحفظات کا اظہار،اطلاعات کے مطابق سندھ بار کونسل نے ہائیکورٹ میں ججز کی آسامیوں پر تقرری کی سفارش پر تحفظات کا اظہار کردیا ہے۔

    ججز تقرری کے معاملے پرجسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا چیف جسٹس کو خط

    رپورٹ کے مطابق ممبر جوڈیشل کمیشن حیدر امام ایڈووکیٹ نے چیف جسٹس آف پاکستان عمر عطا بندیال کو اس حوالے سے خط بھی لکھ دیا ہے، جس میں سندھ بار کونسل نے موقف اختیار کیا ہے کہ ججز کی تقرری کی سفارشات جوڈیشل کمیشن کا اجتماعی اختیار ہے۔

    عدلیہ اورججز پرانگلیاں اٹھانا، ججز پر الزامات لگانا بند کریں،جس پراعتراض ہے اس کا…

    انہوں نے کہا کہ یہ اختیار کسی ایک فرد کو نہیں دیا جاسکتا کہ وہ اپنی پسند کے مطابق سفارشات دے، لیکن چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ نے مشاورت سے طے 2 وکلا کو سیاسی بنیادوں پر فہرست سے نکال دیا ہے۔

    صدارتی ریفرنس کی سماعت کیلیے لارجر بینچ کی تشکیل ،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا چیف جسٹس…

    حیدر امام نے خط میں چیف جسٹس سے کہا ہے کہ ججز کی تقرری کیلئے جوڈیشل کمیشن کے ہر رکن کو نام تجویز کرنے کا حق دیا جائے۔خیال رہے کہ سندھ ہائیکورٹ میں تقرری کیلئے کمیشن کا اجلاس 28 جون کو طلب کیا گیا ہے۔

    سب چاہتے ہیں کہ قابل ججز آئیں، ججز نہیں ملتے ،سیٹیں خالی رہتی ہیں،چیف جسٹس

  • جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی ریٹائرڈ ججز کو مراعات دینے کی مخالفت

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی ریٹائرڈ ججز کو مراعات دینے کی مخالفت

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریٹائرڈ ججز کو کسی بھی قسم کی مراعات دینے کی مخالفت کردی، اُن کا کہنا ہے کہ ریٹائرڈ ججز کے لیے مراعات کی منظوری کا مطلب ہے کہ ہم بطور جج یہ عہدہ ذاتی فائدے کے لیے استعمال کریں گے۔ چیف جسٹس پاکستان کو لکھے گئے خط میں ان کا کہنا تھا کہ رجسٹرار نے فل کورٹ کی منظوری کے لیے ایک سرکلر بھجوایا ہے، اس کا فائدہ ریٹائر ہونے کے بعد ہم ججز کو ہوگا۔

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے تحریر کیا کہ جج کے حلف میں شامل ہے کہ وہ ججز کے ضابطہ اخلاق پر عمل کرے گا۔انہوں نے یہ بھی تحریر کیا کہ ججز کا اپنے لیے مراعات کی منظوری دینا ججز کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ رجسٹرار اور ہم ججز کو علم ہونا چاہیے کہ ہمارے عہدے کے تقاضے کیا ہیں، ‎رجسٹرار کو یہ غلط فہمی ہے کہ وہ ہر جج کی جانب سے کچھ بھی کر سکتا ہے۔

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ریٹائرڈ جج کو کسی بھی قسم کی مراعات دینے کی تجویز سے اختلاف کرتا ہوں۔ خط میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ ‎سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریٹائرمنٹ سے کچھ ماہ قبل فل کورٹ میٹنگ بلائی جس میں ریٹائرڈ چیف جسٹس کے لیے گریڈ 16 کے سیکریٹری کی منظوری لی گئی۔انہوں نے کہا کہ ‎فل کورٹ سے 2018 میں منظوری اُس وقت لی گئی جب مجھ سمیت کئی ججز چھٹیوں پر تھے، جب فل کورٹ منٹس منظوری کے لیے مجھے بھجوائے گئے تو میں نے اعتراض لگایا اور اختلاف کیا۔

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ ‎کیا ایسی حکومت جس کے مقدمات عدلیہ کے سامنے ہوں، وہ فل کورٹ کے فیصلے کو نظر انداز کر سکتی؟جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ انصاف کی فراہمی کو متاثر کرنے والے کئی اہم معاملات 2019 سے توجہ طلب ہیں، رجسٹرار سپریم کورٹ کی ان معاملات کے بجائے نظر عوامی وسائل کی طرف ہے۔

  • اگر ججز کے خلاف منفی مہم ختم نہ ہوئی تو بار ایکشن لے گی،پاکستان  بارایسوسی ایشنز

    اگر ججز کے خلاف منفی مہم ختم نہ ہوئی تو بار ایکشن لے گی،پاکستان بارایسوسی ایشنز

    اسلام آباد: ملک بھر کی بار ایسوسی ایشنز نے عدلیہ اور ججز کے خلاف منفی پروپیگنڈا مہم کی مذمت کی ہے-

    باغی ٹی و ی : ملک بھر کی بار ایسوسی ایشنز کی جانب سے جاری کردہ مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا کہ پارلیمنٹ میں اکثریت کھو دینے والی جماعت کی ایما پر پروپیگنڈا جاری ہے جلسے اور ریلیوں میں ججز کے خلاف توہین آمیز بیانات دیئے جارہے ہیں جس کا مقصد ججز کو دباؤ میں لاکر غیرآئینی اور غیرجمہوری مقاصد حاصل کرنا ہے جبکہ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کھل پر عدلیہ پر الزامات لگارہے ہیں۔

    میری جان سے زیادہ پاکستان کی آزادی ضروری ، فوری الیکشن چاہتے ہیں ، عمران خان

    اعلامیے میں بار ایسوسی ایشنز نے رات کے وقت عدالتیں کھولنے کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ رات اوقات کار میں عدالتیں لگا پر غیرآئینی سازشوں کا راستہ روکا گیا۔

    سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سیکریٹری وسیم ممتاز ملک نے کہا کہ کسی کو بھی سیاسی فوائد کے لیے ججوں کی عزت کو پامال کرنے کا اختیار نہیں ہے، عدالتی فیصلوں سے اختلاف کیا جاسکتا ہے اور کوئی بھی ججوں کے احترام کو مجروح کرنے کے لیے آزاد نہیں ہے اگر ججز کے خلاف منفی مہم ختم نہ ہوئی تو بار ایکشن لے گی-

    وفاقی کابینہ کی حلف برداری کی تقریب کل ایوان صدر میں ہو گی،چئیرمین سینیٹ حلف لیں گے

    قبل ازیں سپریم کورٹ میں آئین کے آرٹیکل 63 اے کی تشریح سے متعلق صدارتی ریفرنس پر سماعت کے دوران چیف جسٹس آف پاکستان نے کہا تھا کہ 10 سے15 ہزار لوگ جمع کر کےعدالتی فیصلے پر تنقید کریں تو ہم کیوں فیصلے دیں ، ایسے فیصلوں کا احترام چاہتے ہیں، عدالت اپنا آئینی کام سر انجام دیتی ہے، قومی لیڈروں کو عدالتی فیصلوں کا دفاع کرنا چاہیے، آئینی تحفظ پر گالیاں پڑتی ہیں لیکن اپنا کام کرتے رہیں گے، عدالت کیوں آپ کے سیاسی معاملات پر پڑے؟-

    جسٹس جمال خان نے کہا تھا کہ آج کل آسان طریقہ ہے 10ہزار بندے جمع کرو کہو میں نہیں مانتا پارلیمان نے تاحیات نااہلی کا واضح نہیں لکھا،پارلیمنٹ نے یہ جان بوجھ کر نہیں لکھا یا غلطی سے نہیں لکھا گیا، پارلیمنٹ موجود ہے دوبار اس کے سامنے پیش کردیں،عدالت کے سر پر کیوں ڈالا جارہا ہے ؟-

    عمران خان کے جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کے حوالے سے بیان پرفروغ نسیم کا ردعمل ،تہلکہ خیز انکشاف

    ،مصطفیٰ رمدے نے کہا تھا کہ عدالت کے خلاف سنجیدہ قسم کی مہم چلائی جا رہی ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا تھا کہ آئین کی حفاظت کرنا ہماری زمہ داری ہے،ہم نبھائیں گے،عدالت 24 گھنٹے کام کرتی ہے کسی کو عدالتی کارروائی پر انگلی اٹھانے کی ضرورت نہیں، مصطفیٰ رمدے نے کہا تھا کہ عدالت کو مفروضوں کی بنا پر غیر ضروری طور پر سیاسی عمل میں دھکیلا گیا ، جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا تھا کہ اگر کوئی معزز رکن اپنے عمل کی وضاحت کردے تو کیا ہوگا-

    واضح رہے کہ حال ہی میں پی ٹی آئی کے کراچی میں کئے جانے والے جلسے میں سابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا تھا کہ پھر ہمارے سپیکر ڈپٹی سپیکر اسمبلی میں جا کر کہتے ہیں جب ان کو مراسلے کا پتہ چلتا ہے تو کہ ہمارا جو حلف ہے وہ پاکستان کی سلامتی کا ہے مراسلے میں واضح عدم اعتماد کا لکھا ہوا مسترد کرتا ہوں پھر سپریم کورٹ کا فیصلہ آتا ہے ہمارے ہاتھ بںدھ جاتے ہیں یہ بھی بتا دیا جاتا ہے کہ کس وقت ووٹنگ کروانی ہے رات کے بارہ بجے عدالتیں کھل گئیں پوچھنا چاہتا ہوں میرا جرم کیا تھا میں نے جماعت کا نام تحریک انصاف رکھا آج تک کبھی پاکستان کا قانون نہیں توڑا مشرف نے آزاد عدلیہ کی تحریک میں مجھے جیل میں ڈالا کبھی قوم کو شرمندہ نہیں کروایا کبھی عمران خان کا نام میچ فکسنگ میں نہیں آیا اللہ نے مدد کی شوکت خانم بنائی دو یونیورسٹیز بنائیں نمل اور القادر ۔سپریم کورٹ نے مجھے صادق و امین قرار دیا تھا عدم اعتماد کا مجھے پہلے ہی پتہ چل گیا تھا کہ تاریخ فکس ہو گئی رات کے بارہ بجے عدالتیں کھلنا ساری زندگی نہیں بھولوں گا-

    10 سے15 ہزار لوگ جمع کر کےعدالتی فیصلے پر تنقید کریں تو ہم کیوں فیصلے دیں،چیف جسٹس

  • ججوں کی ریٹائڑ منٹ کے بعد نوکریوں اور پنشن کا معاملہ

    ججوں کی ریٹائڑ منٹ کے بعد نوکریوں اور پنشن کا معاملہ

    پاکستان میں کئی برسوں سے قانون نافذ کرنے والے وکلاء اور ججز کی ریٹائڑمنٹ کے بعد کی نوکریوں کے حوالے سے کوئی مضبوط فیصلہ نہیں لیا گیا- اور موجودہ پالیسیوں میں کئی مسائل ظاہر ہوتے ہیں-

    مرحومہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما ارون جیٹلی نہ نے ایک بار اپوزیشن میں ججوں کی پنشن اور قبل از ریٹائرمنٹ سےمتعصبانہ فیصلوں سے بچنے کے لیے قابل ستائش مقدمہ پیش کیا- انھوں نے کہا کہ اس وقت سب سے اہم چیلنج جو اقتصادی لبرلائزیشن کے بعد آایا وہ یہ ہے کہ ملک کے کئی ہائی کورورٹ قانونی طور پر بہت منافع بخش بھی بن گئے ہیں- لہذا بہترین شخص جج بننے کو تیار نہیں ہیں – امید ہے کہ کسی مرحلے پر معزز وزیر قانون اپنے آپ پر اس سوال کو ضرور لاگو کریں گے کہ ایسا ادارہ جس میں با صلاحیت شخص جج بننے کے لیے تیار نہیں تو یہ ایک سنگین مسئلہ بن جائے گا- میرے خیال میں ججوں کے لئے ریٹائرمنٹ کے بعد کے مواقع پیدا کرنے میں ہم ہر قانون سازی میں بہت دور ہیں۔ آپ کی تجویز ہے کہ ریٹائرمنٹ کی عمر بڑھا دی جائے ہیں۔ براہ کرم یہ کریں ، لیکن ایک شرط کے ساتھ۔- چند قابل ذکر معزز مردوں کو چھوڑ کر ،ہر ایک ، ریٹائرمنٹ کے بعد ملازمت چاہتا ہے اور ہم ان کے لیے بڑی بہادری سے نوکریوں کی تشکیل کر رہے ہیں۔ اگر ہم اسے تخلیق نہیں کرتے ہیں تو ، وہ خود اسے تخلیق لیں گے۔

    مجھے خوشی ہے کہ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے پر نظرثانی کرتے ہوئے کہا ، "سی آئی سی کے ہر ممبر کو ریٹائرڈ جج ہونا چاہئے۔” کسی کالج کی فیس کا حساب کرنا ایک اکاؤنٹنگ کا طریقہ ہے۔ عدالتی حکم کے ذریعے سپریم کورٹ نے کہا ، "میڈیکل کالجز اور انجینئرنگ کالجوں کی فیسوں کو ریٹائرڈ ججوں کے ذریعہ لازمی طور پر مقرر کیا جانا چاہئے”۔ اور کہا ، "ہر ریاست میں ہم نے مزید ملازمتیں پیدا کیں۔” میرے خیال میں لوٹیئنس بنگلے پر قبضہ جاری رکھنے کا یہ پورا فتنہ ہے۔ اور اس لیے ، براہ کرم پولیسیوں کا جائزہ لیں ، جب تک کہ یہ قطعی ضروری نہ ہو ، ان میں سے کچھ کو بھی عدالتی سیٹ اپ میں شامل کرلیا جانا چاہیے ، ریٹائر ہونے والے ججوں کو ان کی آخری تنخواہ کے برابر پنشن ادا کریں۔ریٹائرمنٹ کے بعد ملازمت کی خواہش ریٹائرمنٹ سے پہلے کے فیصلوں پر اثر انداز ہوتی ہے – یہ عدلیہ کی آزادی کے لئے خطرہ ہے- اور ایک بار جب وہ ریٹائرمنٹ سے قبل کے فیصلوں پر اثرانداز ہوتا ہے تو ، اس کا خود ہی عدلیہ کے کام کاج پر منفی اثر پڑتا ہے-

    پاکستان کے بھی کئی معززججز اور وکلاء مثلا اعتزاز احسن، احمر بلال ، سلیمان راجہ وغیرہ پر بھی یہی قانون لاگو ہوتا ہے- پاکستان میں بھی عدلیہ کی نطر میں ریٹائڑڈ ججز اوروکلاٰءکے لیے بنائے گئے پنشن اور بعد ازریٹائڑمنٹ نوکریوں کے لیے بنائی گئیں پالیسیوں پر نظرثانی کرنے کی کوشش کرنی چاہیے-