Baaghi TV

Tag: جرمنی

  • جرمنی میں ڈے کیئر سینٹر سے آئے ہوئے بچوں پر چاقو سے حملہ

    جرمنی میں ڈے کیئر سینٹر سے آئے ہوئے بچوں پر چاقو سے حملہ

    جرمنی میں چاقو بردار شخص نے ڈے کیئر سینٹر سے آئے ہوئے بچوں پر چاقو سے حملہ کردیا جس کے نتیجے میں 2 افراد ہلاک اور 2 زخمی ہوگئے۔

    باغی ٹی وی : عالمی میڈیاکے مطابق جرمنی کے شہر اسکافنبرگ کے ایک پارک میں چاقو بردار شخص نے بچوں پر حملہ کردیا، حملے میں 2 سالہ بچہ ہلاک ہوگیا جب کہ بچوں کو بچانے کی کوشش میں ایک 41 سالہ شخص بھی ہلاک اور دو زخمی ہوگئے، حملہ آور نے پولیس کو دیکھ کر پارک سے چھلانگ لگائی اور ریل کی پٹریوں پر بھاگنے لگا جس کے باعث اسکافنبرگ میں ٹرین سروس مختصر طور پر معطل کر دی گئی۔

    بعد ازاں پولیس نے تعاقب کے بعد حملہ آور کو حراست میں لے لیا جو افغان باشندہ ہے اور تارکین وطن کی حیثیت سے پناہ گزین کیمپ میں رہ رہا تھا پولیس نے ایک اور مشتبہ شخص کو بھی گرفتار کیا ہے جسے بطور گواہ پیش کیا جائے گا تاہم فوری طور پر ایسے کوئی اشارے نہیں ملے کہ وہ حملہ آور کا ساتھی تھا۔

    :پی آئی اے کے دو ملازمین موبائل فون اسمگل کرنے پر فارغ

    مقامی میڈیا نے دعویٰ کیا کہ حملہ آور افغان پناہ گزین کا نفسیاتی علاج بھی کرایا گیا تھا جرمنی کے چانسلر نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے حکام سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر وضاحت کریں کہ ملزم ابھی تک جرمنی میں کیوں اور کیسے رہ رہا تھا۔

    واضح رہے کہ ایک ماہ قبل ایک سعودی ڈاکٹر نے کرسمس مارکیٹ میں راہ گیروں کو جان بوجھ کر کچل دیا تھا جس میں 6 افراد ہلاک اور 200 زخمی ہوگئے تھے، اسی طرح جون میں اسلام مخالف ریلی میں افغان شخص نے گستاخ رسول پر چاقو سے حملہ کردیا تھا جس میں ایک پولیس اہلکار مارا گیا تھا، اگست میں مغربی شہر سولنگن میں ایک اسٹریٹ فیسٹیول میں چاقو حملے میں 3 افراد ہلاک اور 8 زخمی ہوگئے تھے اس حملے کی ذمہ داری داعش نے قبول کی تھی اور پولیس نے ایک شامی پناہ گزین کو گرفتار کیا تھا۔

    آج کے دن تک بانی پی ٹی آئی کو جیل میں رکھنے کا ہدف پورا ہوگیا،فیصل واوڈا

  • حکومتی اتحاد ٹوٹ گیا،جرمن صدر نے پارلیمنٹ تحلیل کر دی

    حکومتی اتحاد ٹوٹ گیا،جرمن صدر نے پارلیمنٹ تحلیل کر دی

    برلن: جرمنی کے صدر فرانک والٹر شٹائن مائر نے پارلیمنٹ (بنڈس ٹاگ) تحلیل کر دی ہے، جس کے بعد فروری میں انتخابات کرانے کا اعلان کر دیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی :غیر ملکی میڈیا کے مطابق جرمن صدر نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ چانسلر اولاف شولز کی حکومت کے حالیہ خاتمے کے بعد فوری انتخابات 23 فروری کو کرائے جائیں گے۔جرمنی میں 23 فروری کو انتخابات ہوں گے جس کے لیے سیاسی جماعتوں نے تاریخ پراتفاق کر لیا ہے۔

    جرمن چانسلر اولاف شولز نے پارلیمان میں اعتماد کا ووٹ کھو دیا ہے جس سے مقررہ وقت سے سات ماہ قبل از وقت انتخابات ہونے جارہے ہیں،ووٹنگ شولز کے کمزور اتحاد کے ٹوٹنے کے بعد ہوئی جس نے یورپی یونین کی سب سے بڑی معیشت میں سیاسی بحران کو جنم دیا۔

    پورن ویب سائٹس پر پابندی کی مہم چلانے والی خاتون وزیر کی شوہر کے ساتھ "تعلقات” ویڈیو لیک

    شولز نے 733 نشستوں والے ایوان زیریں میں 207 قانون سازوں کی حمایت حاصل کی، جب کہ 394 ارکان نے ان کے خلاف ووٹ دیا اور 116 غیرحاضر رہے اس سے وہ جیتنے کے لیے درکار 367 کی اکثریت سے بہت پیچھے رہ گئے۔ نئی پارلیمنٹ کے لیے انتخابات 23 فروری کو ہوں گے۔

    اسرائیل کی جانب سے شام پر نیوکلئیر حملہ کرنے کا دعویٰ

    حکومتی اتحاد، جو تین سیاسی جماعتوں پر مشتمل تھا، اس وقت ہل گیا جب شولز نے نومبر میں وزیر خزانہ کرسچن لِنڈنر کو برطرف کر دیا تھا،لنڈنر کے کاروبار کے حامی فری ڈیموکریٹس نے پھر اتحادی حکومت چھوڑ دی، اور شولز کی پارلیمنٹ میں اکثریت چھین لی۔

    پی ٹی آئی کے حق میں بات کرنے کو تیار ، آپ غلطی تو مانیں،خواجہ سعد رفیق

  • جرمنی ، کرسمس بازار میں کار حملہ، 2 افراد ہلاک، 60 سے زائد زخمی

    جرمنی ، کرسمس بازار میں کار حملہ، 2 افراد ہلاک، 60 سے زائد زخمی

    جرمنی کے مشہور شہر میگ ڈیبرگ میں جمعہ کی شام ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جب ایک کار کرسمس بازار میں گھس گئی، جس کے نتیجے میں 2 افراد جان کی بازی ہار گئے اور 60 سے زائدزخمی ہو گئے۔ اس واقعہ کو حملہ سمجھا جا رہا ہے، تاہم اس کا مقصد ابھی تک واضح نہیں ہو سکا۔ پولیس نے حملہ آور کو گرفتار کر لیا ہے اور تحقیقات جاری ہیں۔

    یہ واقعہ جمعہ کی شام تقریباً سات بجے پیش آیا جب جرمن شہر میگ ڈیبرگ میں کرسمس خریداری کے لیے آئے ہوئے لوگ بازار میں موجود تھے۔ بازار میں لوگوں کی بڑی تعداد تھی اور لوگ کرسمس کی خریداری میں مصروف تھے۔ اسی دوران ایک کار تیز رفتاری سے بازار کے بیچوں بیچ گھس گئی اور لوگوں کو ٹکر مار دی۔ سوشل میڈیا پر اس واقعے کی ویڈیوز بھی سامنے آئی ہیں جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک کار تیز رفتار سے گزر رہی ہے اور اس کے بعد لوگ گر کر بھاگتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔پولیس کے مطابق اس حادثے میں 2 افراد کی موت ہو چکی ہے، جن میں ایک بالغ شخص اور ایک بچہ شامل ہیں۔ زخمیوں کی تعداد 60 سے زائد ہے، جن میں سے 15 کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ مہلوکین کی تعداد میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ زخمیوں میں کئی افراد کی حالت نازک ہے، اور اسپتالوں میں ان کا علاج جاری ہے۔

    اس واقعہ کو جرمنی میں 2016 میں برلن کے کرسمس بازار پر ہوئے حملے سے مماثلت دی جا رہی ہے۔ اس حملے میں ایک ٹرک ڈرائیور نے کرسمس بازار میں گھس کر 13 افراد کی جان لے لی تھی۔ حکام کا خیال ہے کہ یہ حملہ جان بوجھ کر کیا گیا، لیکن ابھی تک اس کا حتمی مقصد اور محرکات واضح نہیں ہو سکے ہیں۔

    حملے کے بعد پولیس نے فوری طور پر کارروائی کرتے ہوئے مشتبہ شخص کو گرفتار کر لیا۔ مشتبہ شخص 50 سالہ سعودی ڈاکٹر ہے، جو 2006 میں پہلی بار جرمنی آیا تھا۔ وہ اس وقت میگ ڈیبرگ سے تقریباً 40 کلومیٹر دور برنبرگ میں بطور ڈاکٹر کام کر رہا تھا۔ موجودہ معلومات کے مطابق، وہ اکیلا ہی حملہ آور ہے اور اس لیے شہر کے لیے مزید خطرہ نہیں ہے۔

    سعودی عرب نے اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے جرمنی کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ سعودی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ وہ جرمنی کے ساتھ کھڑے ہیں اور کسی بھی قسم کے تشدد کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ تاہم، سعودی حکام نے ابھی تک مشتبہ شخص کے حوالے سے مزید کوئی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

    پولیس نے اس واقعے کی تفتیش شروع کر دی ہے اور حملے کی نوعیت اور مقصد کا تعین کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ جرمنی میں اس قسم کے حملوں کے پیش نظر سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے، اور متعلقہ حکام اس واقعے کے مکمل پس منظر کو سمجھنے کے لیے تحقیقات کر رہے ہیں۔ پولیس نے شہریوں سے بھی درخواست کی ہے کہ وہ کسی بھی مشتبہ سرگرمی کی اطلاع دیں۔

  • جرمن چانسلر کیخلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہو گئی

    جرمن چانسلر کیخلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہو گئی

    جرمنی کے چانسلر اولف شولز ہفتوں سے جاری بحران کے بعد ایوان سے اعتماد کا ووٹ لینے میں ناکام رہے جس کے بعد یورپ کی سب سے بڑی معیشت والے ملک میں 23 فروری کو قبل از وقت انتخابات کی راہ ہموار ہوگئی۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی خبر کے مطابق اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے میں پہلے سے ہی متوقع ناکامی نے صدر فرینک والٹر اسٹین میئر کو اسمبلی کو تحلیل کرنے اور انتخابات کا باضابطہ حکم دینے کی اجازت دی۔66 سالہ اولف شولز سابق چانسلر انجیلا مرکل کی کرسچن ڈیموکریٹک یونین (سی ڈی یو) کے قدامت پسند اپوزیشن لیڈر فریڈرک مرز سے انتخابات میں بہت پیچھے رہے تھے۔اہم ووٹنگ شعلہ بیان تقاریر کے بعد ہوئی جس میں سیاسی حریفوں نے ایک دوسرے پر تنقید کی جس سے آئندہ انتخابات کی مہم میں ہونے والی گرما گرمی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔تین سال سے زائد عرصے تک اولف شولز کی سربراہی میں بننے والا 3 جماعتی حکمران اتحاد 6 نومبر کو ٹوٹ گیا جس دن ڈونلڈ ٹرمپ نے دوبارہ وائٹ ہاؤس کا انتخاب جیتا۔سیاسی ہنگامہ آرائی نے جرمنی کو شدید متاثر کیا ہے جب کہ وہ توانائی کی بھاری قیمتوں اور چین سے سخت مسابقت کی وجہ سے لڑکھڑاتی معیشت کو بحال کرنے کے لیے جدوجہد کر رہا ہے۔برلن کو بڑے جغرافیائی سیاسی چیلنجوں کا بھی سامنا ہے جب کہ یہ یوکرین کے خلاف روس کی جنگ کا مخالف ہے اور ڈونلڈ ٹرمپ کی واپسی نے نیٹو اور مستقبل کے تجارتی تعلقات کے بارے میں بے یقینی کی صورتحال میں اضافہ کردیا ہے۔یہ معاملات ایوان زیریں میں ووٹنگ سے قبل اولف شولز، اپوزیشن لیڈر مرز اور پارٹی کے دیگر رہنماؤں کے درمیان گرما گرم بحث کا مرکز تھے، ایوان میں 394 اراکین پارلیمان نے 207 کے مقابلے میں شولز کے خلاف ووٹ دیا جب کہ 116 ارکان غیر حاضر رہے۔

    مدارس بل ایکٹ ، فوری گزٹ نوٹیفکیشن جاری کیا جائے، اتحاد تنظیمات مدارس

    شام میں تمام مسلح دھڑے ختم کرنے کا اعلان

    آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران موسم سرد اور خشک رہے گا

    کالعدم تنظیم کی فنڈنگ، سہولت کاری میں ملوث ملزم گرفتار

  • آزاد شام کا جشن مہنگاپڑ گیا،جرمنی سے شامی پناہ گزینوں کو نکالنے کا مطالبہ

    آزاد شام کا جشن مہنگاپڑ گیا،جرمنی سے شامی پناہ گزینوں کو نکالنے کا مطالبہ

    جرمنی میں شامی پناہ گزینوں کی خوشیاں اس وقت زائل ہو گئیں جب اتوار کو شامی صدر بشار الاسد کی حکومت کے گرنے پر شامی پناہ گزینوں کے جشن کے بعد جرمن سیاستدانوں نے انہیں واپس اپنے وطن بھیجنے کا مطالبہ شروع کر دیا۔

    اتوار کے دن، جب جرمنی کے مختلف شہروں میں شامی پناہ گزین جشن مناتے ہوئے سڑکوں پر نکلے، تو جرمنی کی دائیں بازو کی سیاسی جماعت کی رہنما ایلس ویڈل نے اعلان کیا کہ جو لوگ "آزاد شام” کا جشن مناتے ہیں، انہیں اب یہاں رہنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔انہوں نے کہا، "ایسے افراد کو فوراً شام واپس جانا چاہیے۔”

    دوسری جانب، جرمن وزیر اور قدامت پسند سیاستدان ینس اسپان نے کہا کہ جو شامی واپس جانا چاہتے ہیں، انہیں جرمنی خصوصی پرواز فراہم کرے گا اور 1,000 یوروز (تقریباً 824 برطانوی پاؤنڈ) کا ابتدائی فنڈ بھی دیا جائے گا۔یہ خیالات صرف دائیں بازو کی جماعتوں کی طرف سے نہیں بلکہ بائیں بازو کی سیاستدانوں نے بھی اس تجویز کی حمایت کی ہے۔

    شامی پناہ گزینوں کی تعداد اور ان کے جرمنی میں قیام کی قانونی حیثیت
    2015 میں، جرمن چانسلر انگیلا مرکل نے شامی جنگ سے متاثر افراد کے لیے جرمنی کے دروازے کھول دیے تھے، جس کی وجہ سے ملک میں شامی پناہ گزینوں کی تعداد میں اضافہ ہوا۔ مرکل کے اس فیصلے کو اس وقت سراہا گیا تھا، لیکن آج یہ پناہ گزینوں کے مستقبل کے حوالے سے تنازعے کا باعث بن چکا ہے۔ جرمنی میں اس وقت تقریباً 975,000 شامی پناہ گزین موجود ہیں، جو یورپ میں کسی بھی ملک میں سب سے زیادہ ہیں۔

    اتوار کو شام میں ایک نیا موڑ آیا جب اسلام پسند گروپ "حیات تحریر الشام” نے دمشق پر قبضہ کر لیا، اور اس کے اگلے ہی دن شامی صدر بشار الاسد روس کی جانب فرار ہو گئے۔ اس تبدیلی کے بعد جرمنی اور دیگر یورپی ممالک نے شامی پناہ گزینوں کی پناہ گزینی کی درخواستوں پر فیصلہ روک دیا، اور اس صورتحال کے واضح ہونے تک ان کی درخواستوں پر مزید فیصلے نہیں کیے جائیں گے۔جرمنی کے وزیر داخلہ نینسی فیزر نے کہا کہ یہ فیصلہ صحیح ہے، تاہم انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اس اتار چڑھاؤ کی حالت میں شامی پناہ گزینوں کی واپسی کے بارے میں قیاس آرائی کرنا "غیر سنجیدہ” ہوگا۔

    شامی پناہ گزینوں کے لیے ان تجویزوں نے تشویش پیدا کر دی ہے۔ انیس مدامانی، جو 2015 میں جرمنی آئے تھے اور اب برلن میں مقیم ہیں، نے کہا، "میں اس خیال کو انتہائی برا سمجھتا ہوں۔ شام میں ابھی بھی حالات اتنے خطرناک ہیں جتنے پہلے تھے۔ برلن اب میرا دوسرا گھر بن چکا ہے، اور میں یہاں رہنا چاہوں گا۔”شامی پناہ گزینوں کی واپسی یا ان کے قیام کا معاملہ اب جرمنی میں ایک سنگین سیاسی مسئلہ بن چکا ہے۔ اس پر مختلف جماعتوں کی طرف سے شدید ردعمل آ رہا ہے، اور ملک میں اگلے سال ہونے والے انتخابات کے پیش نظر یہ مسئلہ ایک بڑا انتخابی موضوع بن سکتا ہے۔

    شامی پناہ گزینوں کی جرمنی میں موجودگی اور ان کے مستقبل کے بارے میں مختلف سیاسی رہنماؤں کی جانب سے متضاد بیانات آ رہے ہیں۔ جرمنی کے کئی سیاستدان، خواہ وہ دائیں بازو سے ہوں یا بائیں بازو سے، یہ سمجھتے ہیں کہ اب شام میں حالات بدل چکے ہیں، اور شامی پناہ گزینوں کا جرمنی میں قیام غیر قانونی ہے۔ لیکن شامی پناہ گزینوں کے لیے ان تجاویز کو قبول کرنا آسان نہیں ہے، اور یہ معاملہ مستقبل میں مزید پیچیدہ ہو سکتا ہے۔

    شام،بدنام زمانہ جیل میں شہریوں کی اپنے پیاروں کی تلاش جاری

    بشارالاسد کی بدنام زمانہ جیل،انسانی مذبح خانہ سے مزید قیدیوں کی تلاش

    تصاویر:بشارالاسد کے محل میں توڑ پھوڑ،سیلفیاں

    اسرائیلی بکتر بند گاڑیاں شام کے بفر زون میں دیکھی گئیں

    ماسکو میں شام کے سفارتخانے پر باغیوں کا پرچم لہرایا گیا

    شام کی جیلوں سے آزاد ہونے والے قیدیوں کی خوفناک داستانیں

    بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد دمشق میں جشن

    اللہ اکبر، آخرکار آزادی آ گئی ہے،شامی شہری پرجوش

    روس کا شام میں فوجی اڈوں اور سفارتی اداروں کی حفاظت کی ضمانت کا دعویٰ

    امریکہ کے شام میں بی 52،ایف 15 طیاروں سے داعش کے ٹھکانوں پر حملے

  • جرمن ہیلی کاپٹر پر روسی جہاز کی فائرنگ

    جرمن ہیلی کاپٹر پر روسی جہاز کی فائرنگ

    برلن: ایک جرمن ہیلی کاپٹر پر ایک روسی جہاز کی جانب سے فائرنگ کی گئی ہے-

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق بالٹک سمندر میں یہ واقعہ روس اور مغرب کے درمیان بڑھتے ہوئے تنازعات کے پس منظر میں پیش آیا ہے جرمن پریس ایجنسی کے مطابق بنڈس ویر کا ہیلی کاپٹر ایک جاسوسی مشن پر تھا جب روسی جہاز کے عملے نے مبینہ طور پر سگنل گولہ بارود کا استعمال کرتے ہوئے فائرنگ کی۔

    یہ واقعہ جرمن وزیر خارجہ انالینا بیربوک کی جانب سے نیٹو کے ایک اجلاس میں ذکر کیا گیا تھا، تاہم اس وقت اس کی مزید تفصیلات نہیں دی گئیں، بتایا جا رہا ہےکہ یہ گولہ بارود صرف ہنگامی صورت حال میں استعمال کیا جاتا ہے بالٹک سمندر اکثر ان جہازوں کے ذریعے استعمال کیا جاتا ہے جو یوکرین پر روسی حملے کے بعد عائد پابندیوں سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں مذکورہ جہاز ایک قسم کا ٹینکر بتایا جا رہا ہے۔

  • فوکس واگن شدید بحران سے دوچار،متعدد پلانٹس کو بند کرنے کا اعلان،ورکرز کی ہڑتال

    فوکس واگن شدید بحران سے دوچار،متعدد پلانٹس کو بند کرنے کا اعلان،ورکرز کی ہڑتال

    جرمنی کی میٹل ورکرز کی صنعت کی یونین ’’ای جی میٹال‘‘ نے جرمن کارساز کمپنی فوکس واگن کی جرمن فیکٹریوں کے ہزاروں ملازمین، ملازمتوں میں کمی کے منصوبے کے خلاف پیر دو دسمبر کو ہڑتال کی-

    باغی ٹی وی: ووکس ویگن کے ہزار وں کارکنوں نے بڑھتے ہوئے صنعتی تنازعہ میں پیر کو ہڑتال کر دی، یونینوں نے خبردار کیا کہ بحران سے متاثرہ جرمن آٹو کمپنی بڑے پیمانے پر چھانٹی اور فیکٹریاں بند کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

    یونین ذرائع نے بتایا کہ صبح کی شفٹوں میں کام کرنے والے مزدوروں نے دو گھنٹے تک ہڑتال کی، جب کہ شام کی شفٹ میں کام کرنے والوں نے کار ساز کے مطالبات، جس میں اجرت میں 10 فیصد کٹوتی بھی شامل ہے، پر احتجاج کرتے ہوئے جلد کام چھوڑنے کا ارادہ کیا، وولفسبرگ میں ووکس ویگن کے مرکزی پلانٹ میں، جس میں 70,000 افراد کام کرتے ہیں، دو گھنٹے کی ہڑتال کا مطلب ہے کہ کئی سو کاریں نہیں بن سکتیں-

    جرمنی کا دیو پیکر کارساز ادارہ فوکس واگن شدید بحران سے دوچار ہے رواں سال ستمبر میں ہونے والے اس اعلان کے بعد کہ جرمنی میں اس کے متعدد پلانٹس کو بند کر دیا جائے گا، ٹریڈ یونینوں اور فوکس واگن کمپنی کے سرمایہ کاروں کے مابین سخت مذاکرات کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔ جرمنی کے اندر فوکس واگن کے پلانٹس کو بند کرنے کے منصوبے سے براہ راست ایک لاکھ بیس ہزار ملازمین متاثر ہو سکتی ہیں۔

    یہ پہلی بار ہے کہ کمپنی نے اپنی 87 سالہ تاریخ میں جرمنی میں فیکٹریاں بند کرنے کی دھمکی دی ہے کیونکہ یورپی مینوفیکچررز غیر ملکی مسابقت، اعلی پیداواری لاگت اور براعظم میں الیکٹرک گاڑیوں کی سست رفتاری سے لڑ رہے ہیں۔

    یورپ میں وی ڈبلیو کاروں کی فروخت میں کمی آئی ہے کیونکہ ڈیمانڈ اسٹالز اور صارفین پیٹرول موٹرز میں دلچسپی لے رہے ہیں،عالمی سطح پر، سال کے پہلے تین مہینوں میں فروخت میں تین فیصد کی کمی واقع ہوئی کیونکہ پٹرول موٹروں کی فروخت میں چار فیصد اضافہ ہوا۔

    Stellantis – جو Vauxhall کا مالک ہے نے اس ہفتے کے شروع میں مینڈیٹ کو مورد الزام ٹھہرایا جب اس نے لوٹن میں اپنی وین فیکٹری کو بند کرنے کے منصوبوں کا اعلان کیا، جس سے 1,100 ملازمتیں خطرے میں پڑ گئیں۔ چیف ایگزیکٹیو کارلوس ٹاویرس نے اتوار کے روز اچانک استعفیٰ دے دیا جب گروپ اس سال اپنی قیمت کا تقریباً 40 فیصد کھو دیا-

    فورڈ کے یوکے بازو کے باس نے گزشتہ ماہ کے آخر میں خبردار کیا تھا کہ برقی کاروں کی مانگ میں زبردست کمی کی وجہ سے برطانیہ کی کار انڈسٹری بحران کا شکار ہےفورڈ یو کے کی چیئرمین اور مینیجنگ ڈائریکٹر لیزا برینکن نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ دلچسپی کو بڑھانے کے لیے فوری طور پر ‘مراعات’ متعارف کروائیں۔

    یورپ کی سب سے بڑی کار ساز کمپنی کے بحران نے جرمنی کو اقتصادی غیر یقینی صورتحال اور ملکی سیاسی ہلچل کے ساتھ ساتھ خطے کے کار ساز اداروں کے درمیان وسیع تر انتشار کے وقت متاثر کیا ہے۔

    جرمن زبان میں ”فوکس واگن‘‘ سے مراد عوامی گاڑی ہے، اس موٹر کار کا معیار اور اس کی پائیداری کی ضمانت یہ تھی کہ جرمنی کے علاوہ دیگر ممالک میں بھی یہ بہت زیادہ استعمال ہونے والی گاڑی سمجھی جاتی رہی ہے، اب اس کار ساز ادارے کو سب سے بڑی زک جو پہنچی ہے اُس کا تعلق جرمنی کے اندر اس پر آنے والی بلند پیداواری لاگت ہے، دوسری جانب الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال میں تیز رفتار اضافہ اور کلیدی مارکیٹ چین کے ساتھ سخت مقابلہ فوکس واگن کو پہنچنے والے سخت نقصانات کی اہم ترین وجوہات ہیں۔

    جرمنی کی آٹو موٹیو انڈسٹری واحد صنعت نہیں ہے جو توانائی کی قیمتوں میں مسلسل اضافے اور زیادہ اجرتوں جیسے بنیادی مسائل کا شکار ہے، فوکس واگن کو گھر میں اعلیٰ پیداواری لاگت، الیکٹرک گاڑیوں میں ہنگامہ خیز تبدیلی اور کلیدی مارکیٹ چین میں سخت مقابلے کی وجہ سے سخت نقصان پہنچا ہے چین کا عالمی معیشت میں بدلتا ہوا کردار اور ایک حریف، ایک سخت مدمقابل ہونا جرمن معیشت کے لیے بڑے چیلنجز کا سبب بنا ہے۔

    جرمنی کے معروف کار مینوفیکچررز کی گاڑیوں کی فروخت کے اعداد و شمار سے یہ صورتحال واضح ہو جاتی ہے۔ محض سال رواں کی پہلی ششماہی کے اعداد و شمار پر ایک نظر ڈالیں تو پتا چلتا ہے کہ فوکس واگن کی فروخت میں 14 فیصد، بی ایم ڈبلیو کی فروخت میں 15 فیصد اور مرسیڈیز بینز کی فروخت میں 16 فیصد کی کمی آئی ہے۔

    گزشتہ ماہ یونین اور فوکس واگن کی ورکس کونسل نے کئی تجاویز پیش کیں تھیں جن میں کہا گیا تھا کہ موٹر سازی کی فیکٹریوں یا سائٹس کی بندش کے بغیر لیبر کاسٹ یا مزدوری کے اخراجات میں 1.5 بلین یورو (1.6 بلین ڈالر) کی بچت ممکن ہے، ان میں انتظامیہ اور عملے کے لیے بونس ختم کرنے کی تجاویز شامل تھیں۔

    یونین نے یہ بھی کہا تھا کہ وہ کچھ فیکٹریوں میں کام کے گھنٹے کم کرنے کے بدلے تنخواہ میں اضافے کا مطالبہ بھی ختم کر سکتی ہےتاہم فوکس واگن نے کہا کہ ان تجاویز سے قلیل المدتی بنیادوں پرمدد مل سکتی ہے،مگر یہ معاشی مسائل کا طویل المدتی حل نہیں ہو سکتا ہے اور نہ ہی کمپنی کو اس سے ریلیف ملے گا۔

    فوکس واگن کے اس رویے کو جرمنی کی میٹل ورکرز کی صنعت کی یونین ”ای جی میٹال‘‘ نے ”افسوسناک‘‘ قرار دیتے ہوئے اس پر ”ملازمین کے نمائندوں کی تعمیری تجاویز کو نظر انداز کرنے‘‘ کا الزام لگایا۔

    واضح رہے کہ جرمنی میں آٹوموٹیو سیکٹر ہی یورپ کی اقتصادی شہ رگ سمجھے جانے والے اس ملک کی معیشت کا ایک اہم ستون سمجھا جاتا ہے پچھلے سال جرمنی نے 273 بلین یورو مالیت کی کاریں برآمد کیں جرمنی کی برآمدات میں موٹر گاڑیوں کا حصہ 17 فیصد سے زیادہ ہے، اس کے بعد مشینری، کیمیکل، الیکٹرانکس، دوا سازی، دھاتیں اور دیگر مصنوعات ہیں، اس کے علاوہ جرمن گاڑیوں کی فیکٹریا ں اندرون ملک کئی شہروں اور دیہات میں واقع ہیں اور ان علاقوں میں رہنے والوں کے لیے روزگار کا بڑا ذریعہ ہیں۔

  • جرمنی میں  قبل از وقت انتخابات متوقع

    جرمنی میں قبل از وقت انتخابات متوقع

    برلن: جرمنی میں قبل از وقت انتخابات متوقع، جرمن چانسلر اولاف شولز نے اپنے وزیر خزانہ کرسچن لنڈنر کو برطرف کر دیا ہے اور قبل از انتخابات کا عندیہ دیا ہے۔

    باغی ٹی وی : امریکا میں ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی کے چند گھنٹوں بعد یورپ کی سب سے بڑ ی معیشت میں سیاسی افراتفری پھیل گئی ہے،فری ڈیموکریٹس (ایف ڈی پی) پارٹی کے وزیر خزانہ کرسچن لنڈنر کو برطرف کرنے کے بعد توقع ہے کہ شولز اپنی سوشل ڈیموکریٹس اور گرینز کے ساتھ اقلیتی حکومت کی سربراہی کریں گے۔

    چانسلر اولاف شولز نے بدھ کے روز اعلان کیا کہ انہوں نے وزیر خزانہ کرسچن لِنڈنر کو برطرف کر دیا ہے، جس سے کئی مہینوں کی سیاسی کشمکش کے بعد جرمنی کے حکمران اتحاد کا خاتمہ ہو گیا ہے اور مارچ میں قبل از وقت انتخابات کا امکان بڑھ گیا ہے۔

    بدھ کو دیر گئے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے، شولز نے لِنڈنر کے خلاف ایک طنز و مزاح کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ وہ عام بھلائی کے لیے خدمات انجام دینے کے بارے میں فکر مند نہیں ہیں اور انھیں ملک کو نقصان پہنچانے سے روکنے کے لیے فارغ کر دیا گیا ہے۔ شولز نے کہا کہ وہ 15 جنوری کو پارلیمنٹ میں عدم اعتماد کے ووٹ کا مطالبہ کریں گے، جس سے مارچ میں طے شدہ وقت سے پہلے انتخابات کا امکان بڑھ جائے گا۔

    شولزنے پریس کانفرنس میں کہا، جو بھی حکومت میں شامل ہوتا ہے اسے ذمہ داری اور قابل اعتماد طریقے سے کام کرنا چاہیے، جب چیزیں مشکل ہو جائیں تو وہ کور کے لیے بھاگ نہیں سکتےانہیں تمام شہریوں کے مفادات میں سمجھوتہ کرنے پر آمادہ ہونا چاہیے. لیکن اس وقت کرسچن لنڈنر کی توجہ بالکل ٹھیک نہیں ہے-

    ایف ڈی پی اور گرینز دونوں نے بدھ کے آخر میں اس بات کی تصدیق کی کہ لنڈنر کی علیحدگی کا مطلب برلن کے اختلافی اتحاد کا خاتمہ ہو گا، حالانکہ مؤخر الذکر نے کہا کہ وہ عہدے پر برقرار رہے گا۔

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق جنوری میں چانسلر اولاف شولز کو اعتماد کا ووٹ لینے کا کہا جائے گا، توقع ہے کہ یورپ کی سب سے بڑی معیشت میں قبل از انتخابات ہونے جا رہے ہیں۔

  • یورپی یونین اور جرمنی کا  سندھ میں موسمیاتی مزاحمت بڑھانے کیلئے اشتراک

    یورپی یونین اور جرمنی کا سندھ میں موسمیاتی مزاحمت بڑھانے کیلئے اشتراک

    یورپی یونین نے پاکستان میں اڈاپٹیو سوشل پروٹیکشن منصوبے کے مالی تعاون میں جرمنی کا ساتھ دیتے ہوئے باضابطہ شمولیت اختیار کر لی ہے۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق جی آئی زی پاکستا ن جرمن وزارت برائے اقتصادی تعاون و ترقی کی وساطت سے اس منصو بے کو سندھ میں نافذ کر رہا ہے۔ یورپی یونین اور جرمنی کیاشتراک سے سندھ حکومت کو ادارہ جاتی، مالی اور تکنیکی اقدامات میں مدد فراہم کی جائے گی جن سے قدرتی آفات اور موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کے لئے مقامی آبادی کی صلاحیتوں میں اضافہ ہو سکے گا اور ساتھ ہیخواتین کی خودمختاری پر مبنی سماجی تحفظ کے نظام کو مزید بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔جی آئی زی پاکستا ن کے اڈاپٹیو سوشل پروٹیکشن منصوبے کی افتتاحی تقریب کراچی کے ہوٹل اواری میں منعقد ہوئی جس میں اعلی حکومتی عہدیداران، بین الاقوامی اداروں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے شرکت کی تاکہ منصوبے کے مستقبل کی سمت پر اتفاق رائے پیدا کیا جا سکے۔تقریب کے دوران چیئرمین پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ ڈپارٹمنٹ سندھ حکومت، جناب نجم احمد شاہ نے سندھ حکومت کے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ہماری کوشش ہے کہ سماجی تحفظ کو مضبوط بنایا جائے تاکہ پاکستان کے کمزور طبقات کو بحرانی حالات میں بہتر تعاون فراہم کیا جا سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ منصوبہ لڑکیوں اور خواتین کو مرکزی مقام دیتا ہے، جس سے معاشرتی مساوات میں بہتری اور دیرپا ترقی کی راہیں ہموار ہوتی ہیں۔پاکستان میں یورپی یونین کے نائب سربراہ جناب فلپ گراس نے کہا کہ یورپی یونین ہمیشہ سے ایسے سماجی تحفظ کے مضبوط نظام کی حمایت کرتا آیا ہے جو فوری مسائل کو کم کرنے کے ساتھ ساتھ طویل مدتی، پائیدار ترقی کو بھی فروغ دے۔
    تقریب میں دیگر اہم اسٹیک ہولڈرز، جیسے کہ کراچی میں جرمنی کے قونصل جنرل ڈاکٹر روڈیگر لوٹس، پاکستان میں یورپی یونین کے شعبہ تعاون کے سربراہ جیرون ولیمز، سندھ سوشل پروٹیکشن اتھارٹی، پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی، فارن ایڈ پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ ڈپارٹمنٹ اور سندھ رورل سپورٹ آرگنائزیشن کے نمائندگان نے بھی شرکت کی۔ مقررین نے سماجی اور ماحولیاتی مشکلات کے خلاف مزاحمتی سماجی تحفظ کی اہمیت پر زور دیا۔ یہ منصوبہ پاکستان میں سماجی تحفظ کے نظام کو ایک نیا معیار فراہم کرتا ہے جس کا مقصد ایسے فعال نظام تیار کرنا ہے جو بروقت موسمی اور سماجی و اقتصادی مسائل کا حل پیش کر سکے اورجس سے مقامی اور قومی سطح پرسماجی ہم آہنگی اور ترقی کو فروغ دیا جا سکے۔

    کینیڈین ہائی کمشنر کی وزیراعلیٰ سندھ سے ملاقات، مختلف امور پر تبادلہ خیال

    اسسٹنٹ کمشنر ناظم آباد ہاظم بنگوار کو عہدے سے کیوں ہٹایا ،وجہ سامنے آگئی

    کراچی پولیس آفس میں آئیڈیاز2024 کی سیکیورٹی کے حوالے سے اجلاس کا انعقاد

  • ننکانہ صاحب میں پی ٹی آئی کا احتجاج :جرمن وفد نے دورہ گوردوارہ ملتوی کردیا

    ننکانہ صاحب میں پی ٹی آئی کا احتجاج :جرمن وفد نے دورہ گوردوارہ ملتوی کردیا

    ننکانہ صاحب میں پی ٹی آئی کا احتجاج کے پیش نظر جرمن وفد نے دورہ گوردوارہ ملتوی کردیا۔

    باغی ٹی وی : جرمن وفد نے گوردوارہ جنم استھان کا دورہ کرنا تھاجرمن وفد نےشاہ کوٹ میں پاک جرمن دوستانہ ہاکی میچ میں شریک ہونا تھا جرمن وفد موٹر وے بند ہونے کی وجہ سے واپس چلا گیا،وفد کے نہ آنے کی وجہ سے پاک جرمن دوستانہ ہاکی میچ بھی ملتوی کر دیا گیا۔

    واضح رہے کہ ہاکی کی بحالی کیلئے سپورٹس بورڈ پنجاب اور خواجہ جنید ہاکی اکیڈمی نے بڑا اقدام اٹھا لیا ہے فروری میں جرمنی کے ساتھ ہاکی میچز کرانے اعلان کردیاہے،ڈائریکٹرجنرل سپورٹس پنجاب پرویز اقبال سے اسلام آباد جرمن ایمبیسی کے ہیڈ آف کمیونیکیشن کلچرل افیئرز اینڈ پروٹوکول مسٹرجین گیرالڈ کروسر کی پاک جرمن ہاکی سیریز کرانے کے حوالے سے ملاقات ہوئی ہے اس موقع پرڈی جی سپورٹس پنجاب نے مسٹرجین گیرالڈ کروسرکو نیشنل ہاکی سٹیڈیم کا دورہ کروایا ہے،ڈی جی سپورٹس پنجاب پرویز اقبال اور اولمپئن خواجہ جنید نے جرمن آفیشل کو نیشنل ہاکی سٹیڈیم میں سہولیات کے بارے بریفنگ دی،جس پر جرمن آفیشل نے اطمینان کا اظہار کیا ہے۔

    اسلام آباد میں نقص امن کا خدشہ: فوج کو دئیے گئے اختیارات کا مراسلہ جاری

    ڈائریکٹرجنرل سپورٹس پنجاب پرویز اقبال نے اس موقع پر کہا ہے کہ فروری میں پاکستان اور جرمنی کی جونیئر ٹیموں کے درمیان نیشنل ہاکی سٹیڈیم میں میچز ہوں گے،ہمارا مقصد پاکستان ہاکی کی ترقی اور بحالی ہے، جرمنی کی ٹیموں کے پاکستان آنے سے ہاکی کلچرپروان چڑھے گا، جرمن ٹیموں کی پاکستان آمد سے مقامی ہاکی کوفائدہ ہوگااسلام آباد میں جرمن ایمبیسی کے ہیڈ آف کمیونیکیشن کلچرل افیئرز اینڈ پروٹوکول مسٹرجین گیرالڈ کروسر نے اس موقع پرکہا ہے کہ لاہور کاہاکی سٹیڈیم تاریخی اور شاندار ہے،پاکستان میں ہاکی کے بڑے نام موجود ہیں، فروری میں جرمن ٹیمیں پاکستان کا دورہ کریں گی۔

    شمالی وزیرستان: خوارج سے فائرنگ کے تبادلے میں لیفٹیننٹ کرنل سمیت 6 جوان شہید،6 خوارج …

    اولمپئن خواجہ جنیدنے اس موقع پرکہا ہے کہ جرمنی کی ٹیموں کا پاکستان آنا ہماری ہاکی کیلئے اہم ہے، سپورٹس بورڈ پنجاب کے تعاون سے جرمنی کے ساتھ ہاکی سیریز ہوگی۔ڈائریکٹرجنرل سپورٹس پنجاب پرویز اقبال نے اسلام آباد جرمن ایمبیسی کے ہیڈ آف کمیونیکیشن کلچرل افیئرز اینڈ پروٹوکول مسٹرجین گیرالڈ کو سپورٹس بورڈ پنجاب سوینئر پیش کیا اور گروپ فوٹوز بھی بنوائے، اس موقع پرڈائریکٹرسپورٹس یاسمین اختر، جنید چھٹہ اور یوسف انجم بھی موجود تھے۔

    اسرائیل کا حزب اللہ کے متوقع سربراہ ہاشم صفی الدین کی شہادت کا دعویٰ