Baaghi TV

Tag: جرمنی

  • جرمن سکیورٹی فورسز نے بغاوت اورریاستی اداروں پر حملے کرنےکا منصوبہ ناکام بنادیا

    جرمن سکیورٹی فورسز نے بغاوت اورریاستی اداروں پر حملے کرنےکا منصوبہ ناکام بنادیا

    جرمنی میں حکومت کا تختہ اُلٹنے کی سازش کے شبے میں سابق فوجیوں سمیت 25 افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔

    باغی ٹی وی: برطانوی میڈیا رپورٹس کے مطابق جرمن سکیورٹی فورسز نے بغاوت اورریاستی اداروں پر حملے کرنےکا منصوبہ ناکام بنادیا اور سکیورٹی فورسز نے ملک گیرآپریشن کرکے 25 افراد کوگرفتارکرلیا۔

    البانیہ میں سابق وزیراعظم کو حکومت حامی کارکن نے گھونسا دے مارا، ویڈیو وائرل

    رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ مشتبہ افراد کو جرمنی کی 11 ریاستوں میں چھاپوں کے دوران گرفتارکیاگیا، گرفتار افراد کا تعلق انتہائی دائیں بازو اور سابق فوجی شخصیات کے گروپ سے ہے، سابق فوجیوں نے پارلیمنٹ پرحملہ کرکے اقتدارپرقبضہ کرنےکی تیاری کی تھی۔

    ایک پرانے اشرافیہ خاندان سے تعلق رکھنے والے ہینرک XIII کے نام سے ایک شخص پر الزام ہے کہ وہ ان کے منصوبوں میں مرکزی حیثیت رکھتا تھا۔

    وفاقی استغاثہ کے مطابق، وہ 11 جرمن ریاستوں سے گرفتار کیے گئے دو مبینہ سرغنہوں میں سے ایک ہے۔

    رپورٹس کا کہنا ہے کہ گرفتار 22 افراد کا تعلق جرمنی سے ہے جبکہ دیگر تین افراد میں روسی شہری بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ آسٹریا اور اٹلی میں بھی دو افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔

    رپورٹس کے مطابق 2021 میں قائم ہونے والی تنظیم کے حامی جرمنی کے آئین، ریاستی اداروں کو تسلیم نہیں کرتے اور یہ گروپ نسل پرستانہ نظریات کی حامی اور جدید جرمنی کی مخالف ہے۔

    برطانیہ میں اسٹریپ اے نامی انفیکشن پھیلنے لگا

    اس حوالے سے ترجمان جرمن حکومت کا کہنا ہے کہ انتہاپسندی کے خطرات کے حوالے سے ہمارا ملک چوکس ہے۔

    وزیر داخلہ نینسی فیزر نے جرمنوں کو یقین دلایا کہ حکام "جمہوریت کے دشمنوں کے خلاف” قانون کی پوری طاقت سے جواب دیں گے۔

    ایک اندازے کے مطابق 50 مرد اور خواتین اس گروپ کا حصہ تھے، جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہوں نے جمہوریہ کا تختہ الٹنے اور اس کی جگہ 1871 کے جرمنی کی طرز پر ایک نئی ریاست قائم کرنے کی سازش کی تھی۔

    فیڈرل پراسیکیوٹر کے دفتر کے ترجمان نے کہا کہ ہمارے پاس ابھی تک اس گروپ کا کوئی نام نہیں ہے۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ یہ بظاہر ایک تنظیم "کونسل” اور ایک فوجی بازو پر مشتمل ہے۔

    واٹس ایپ نے صارفین کیلئے نیا فیچر متعارف کرا دیا

    بدھ کی صبح کے چھاپوں کو جدید جرمن تاریخ کی سب سے بڑی انسداد انتہا پسندی کارروائیوں میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے۔ جرمنی کی 16 ریاستوں میں سے 11 میں 150 آپریشنز میں تین ہزار افسران نے حصہ لیا جن میں سے دو افراد آسٹریا اور اٹلی میں گرفتار ہوئے۔

    تقریباً نصف گرفتاریاں جنوبی ریاستوں Baden-Württemberg اور Bavaria میں ہوئیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ پانچ میں سے ایک سے زیادہ Reichsbürger صرف جنوب مغربی ریاست Baden-Württemberg میں مقیم ہیں۔

  • جرمن باشندوں کو لے جانے والا طیارہ دوران پرواز لاپتہ ہو گیا

    جرمن باشندوں کو لے جانے والا طیارہ دوران پرواز لاپتہ ہو گیا

    پانچ جرمن باشندوں کو لے جانے والا طیارہ کوسٹاریکا کے قریب لاپتہ ہو گیا۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق جمعے کے روز میکسیکو سے اڑان بھرنے والا ایک چھوٹا طیارہ لاپتہ ہوا جس میں 5 جرمن باشندے سوار تھے نجی پرواز، مبینہ طور پر جرمن فٹنس کاروباری رینر شالر کو لے کر میکسیکو سے روانہ ہوئی تھی۔

    کوسٹا ریکن کے پبلک سکیورٹی کے وزیر جارج ٹوریس نے کہا کہ ایک چھوٹا طیارہ جس میں پانچ جرمن شہری سوار تھے ملک کے مشرق میں ایک ہوائی اڈے پر جاتے ہوئے لاپتہ ہو گیا تھا-

    انہوں نے کہا کہ طیارے کے حوالے سے ہمیں الرٹ موصول ہوئی کہ طیارے کا کوسٹاریکا کے قریب کنٹرول ٹاور سے رابطہ منقطع ہوگیا تھا ابتدائی طور پر اس بارے میں کوئی تفصیلات نہیں بتائی گئی تھیں کہ اس میں کون سوار تھا۔

    انتظامیہ کے مطابق طیارہ شام 6 بجے کے قریب لاپتہ ہوا تھا جس کا سراغ لگانے کے لیے فوری اقدامات شروع کردیے گئے تھے لیکن موسم کی خرابی اور رات ہونے کی وجہ سے سرچ آپریشن روک دیا گیا تھا جسے صبح ہوتے ہی دوبارہ شروع کر دیا گیا۔

    ایک بِلا بھی برطانوی وزیراعظم بننے کو تیار

    وزیر جارج ٹوریس نے کہا کہ ہمیں میکسیکو سے لیمون ہوائی اڈے پر آنے والی ایک نجی پرواز کا الرٹ ملا ہے طیارہ جرمن شہریت کے پانچ مسافروں کے ساتھ سفر کر رہا تھا اور بحیرہ کیریبین میں بارا ڈی پیرسمینا کے قریب کنٹرول ٹاور سے رابطہ منقطع ہو گیا تھا-

    انہوں نے کہا تھا کہ کیریبین میں جمعہ کی رات خراب موسم کی وجہ سے انہوں نے کارروائیوں کو معطل کر دیا اور نیشنل کوسٹ گارڈ اور ایئر سرویلنس سروس کی شرکت کے ساتھ ہفتہ کی صبح انہیں دوبارہ شروع کریں گے۔

    دنیا میں اگلی وبا گلیشیرز کے پگھلنے کی وجہ سے آسکتی ہے،تحقیق

  • روس سے قریبی تعلقات کے الزام میں جرمنی کے سائبر سیکیورٹی چیف برطرف

    روس سے قریبی تعلقات کے الزام میں جرمنی کے سائبر سیکیورٹی چیف برطرف

    جرمنی کے سائبر سیکیورٹی چیف آرنے شوئن بوہم کو روس سے قریبی تعلقات کے الزام میں عہدے سے برطرف کر دیا گیا۔اطلاعات کے مطابق غیر ملکی خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کے مطابق جرمن وزیر داخلہ کے ترجمان نے بتایا کہ وفاقی انفارمیشن سیکیورٹی ایجنسی (بی ایس آئی) کے صدر آرنے شوئن بوہم کو فوری طور پر کام کرنے سے روک دیا گیا۔

    رپورٹ میں بتایا گیا کہ متعدد میڈیا اداروں نے گزشتہ ہفتے رپورٹ کیا تھا کہ سائبر سیکیورٹی چیف نے جرمنی کی سائبر سیکیورٹی کونسل کے ذریعے روس کی سیکیورٹی سروسز سے وابستہ لوگوں کے ساتھ رابطے میں تھے۔آرنے شوئن بوہم ایسوسی ایشن کے بانی تھے، جنہیں جرمنی کی کمپنی کے رکن کے طور پر شمار کیا جاتا ہے، اس کمپنی کو کے جی بی کے سابق ملازم نے قائم کیا تھا۔

    رپورٹ میں بتایا گیا کہ ایسوسی ایشن نے ایسے کسی بھی مضحکہ خیز تعلق کو مسترد کر دیا ہے۔

    اوپیک پلس کے فیصلے، پاکستان کا سعودی عرب کے ساتھ اظہارِ یکجہتی

    جرمنی کی سائبر سیکیورٹی کونسل 2012 میں قائم کی گئی تھی، جو کمپنیوں، سیاست دانوں اور حکام کو سائبر سیکیورٹی کے معاملے پر مشورے دیتی ہے اور خود کو سیاسی طور پر غیرجانب دار قرار دیتی ہے۔آرنے شوئن بوہم کی برطرفی کو سب سے پہلے ڈیر اسپیگل نے رپورٹ کیا تھا، انہوں نے تبصرے کی درخواست پر فوری طور پر ردعمل نہیں دیا۔

    وزارت کے ترجمان کا کہنا تھا کہ اس کا پس منظر صرف الزامات نہیں ہیں، جن کا ہم جانتے ہیں کہ بڑے پیمانے پر میڈیا میں تبادلہ خیال کیا جارہا ہے، اس سے مستقل بنیادوں پر جرمنی کے سب سے اہم سائبر سیکیورٹی اتھارٹی کے صدر کی غیرجانب داری اور دفتر کے ضابطے کے حوالے سے عوام کے اعتماد کو نقصان پہنچ رہا ہے۔

  • امریکہ نے جرمنی کوساڑھے8 ارب ڈالرزکے جنگی ہتھیارفروخت کرنے کی منظوری دے دی

    امریکہ نے جرمنی کوساڑھے8 ارب ڈالرزکے جنگی ہتھیارفروخت کرنے کی منظوری دے دی

    واشنگٹن:امریکہ نے جرمنی کوساڑھے8 ارب ڈالرزکے جنگی ہتھیارفروخت کرنے کی منظوری دے دی ،اطلاعات کے مطابق جو بائیڈن انتظامیہ نے جرمنی کو F-35 لڑاکا طیاروں، جنگی ساز و سامان اور متعلقہ آلات کی فروخت کی منظوری دے دی جس کی مالیت 8.4 بلین ڈالر کی متوقع ہے۔

    جوبائیڈن سعودی ولی عہد سے براہ راست ملاقات نہیں چاہتے: حکام کا دعویٰ‌

    امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق تقریباً تین درجن F-35 جوائنٹ اسٹرائیک فائٹر کنونشنل ٹیک آف اینڈ لینڈنگ (CTOL) طیاروں کے علاوہ ہے ، اس معاہدے میں 37 پراٹ اینڈ وٹنی F135-PW-100 انجن، سیکڑوں میزائل اور بم، سمیلیٹر اور کنٹریکٹر سپورٹ شامل ہیں۔

    ترک نیوز ایجنسی نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ کا خیال ہےکہ ، "یہ مجوزہ فروخت نیٹو کے اتحادی کی سلامتی کو بہتر بنا کر امریکہ کی خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کو سپورٹ کرے گی جو کہ یورپ میں سیاسی اور اقتصادی استحکام کے لیے ایک اہم قوت ہے۔”

     

    یہ بھی کہا گیا ہے کہ "یہ نیٹو کے نیوکلیئر شیئرنگ مشن کی حمایت میں جرمنی کے ریٹائر ہونے والے ٹورنیڈو طیاروں کے بیڑے کے لیے مناسب متبادل فراہم کر کے موجودہ اور مستقبل کے خطرات سے نمٹنے کے لیے جرمنی کی صلاحیت کو بھی بہتر بنائے گا، جو یورپ میں ڈیٹرنس کا مرکز ہے”۔

    اس حوالے سے کانگریس کو جمعرات کو ممکنہ فروخت کے بارے میں مطلع کیا گیا تھا۔

    امریکی صدرجوبائیڈن سائیکل سے گرگئے

    یاد رہے کہ امریکہ میں قانون سازوں کے لئے نوٹیفکیشن 30 دن کی قانون سازی کے جائزے کی مدت کا تعین کرتا ہے جس میں کانگریس فروخت کو نامنظور کرنے والی مشترکہ قرارداد پاس کرسکتی ہے، لیکن کانگریس کی ریسرچ سروس کے مطابق، وہ کبھی بھی کسی لین دین کو نہیں روک سکی

  • جرمنی معاشی بحرانوں میں پھنس گیا:جرمن ایئرلائن لُفتھانسا کی 1000 ہزار سے زائد پروازیں منسوخ

    جرمنی معاشی بحرانوں میں پھنس گیا:جرمن ایئرلائن لُفتھانسا کی 1000 ہزار سے زائد پروازیں منسوخ

    لفتھانسا ایئرلائن کے جرمنی میں موجود زمینی عملے نے ایک روزہ ہڑتال کا اعلان کرتے ہوئے کام روک دیا ہے جس کی وجہ سے نہ صرف ہزاروں مسافروں کو مشکلات کا سامنا ہے بلکہ لفتھانسا ایئرلائن کی ایک ہزار سے زائد پروازیں بھی منسوخ ہو گئیں۔

    اس ہڑتال کے سبب 134,000 کے قریب مسافروں کو یا تو اپنا سفری پروگرام تبدیل کرنا پڑا یا پھر بالکل ہی منسوخ۔ جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے کے مطابق 47 پروازیں تو منگل کو ہی منسوخ کر دی گئیں۔ لفتھانسا ایئرلائن کے بڑے مراکز فرینکفرٹ اور میونخ سب سے زیادہ متاثر ہیں جبکہ ڈوسلڈورف، ہیمبرگ برلن، بریمن، ہیننور، اشٹٹگارٹ اور کولون سے بھی پروازیں منسوخ کی گئی ہیں۔

    ایئرلائن نے متاثرہ مسافروں سے کہا ہے کہ وہ ایئرپورٹس پر نہ جائیں کیونکہ وہاں موجود زیادہ تر کاؤنٹرز پر عملہ موجود ہی نہیں ہے۔ لفتھانسا کے ترجمان مارٹن لوئٹکے نے اس ہڑتال پر تنقید کرتے ہوئے اسے نقصان دہ قرار دیا ہے۔ فرینکفرٹ ایئرپورٹ پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ لوگ جو سفر کرنا چاہتے ہیں جو طویل عرصہ قبل اپنی چھٹیاں ترتیب دے کر ان کا انتظار کر رہے تھے، ان کے چھٹیوں کے یہ خواب بدقسمتی سے مؤخر ہو گئے ہیں یا شاید اس ہڑتال کی وجہ سے بالکل ہی برباد ہو گئے ہیں۔ لوئٹکے کا مزید کہنا تھا کہ یہ ہڑتال قطعاً غیر ضروری ہے اور اسے مکمل طور پر بڑھایا چڑھایا گیا ہے۔

    جرمنی کے معاشی حب فرینکفرٹ کے ایئرپورٹ سے آج بدھ کے روز 1160 پروازیں شیڈول تھیں جن میں سے 725 کو منسوخ کر دیا گیا۔ ڈی پی اے کے مطابق دیگر ایسی ایئرلائنز کی پروازیں بھی متاثر ہوئی ہیں جو زمینی خدمات کے لیے لفتھانسا کے اسٹاف سے مدد لیتی ہیں۔ خود لفتھانسا کی طرف سے فرینکفرٹ ایئرپورٹ سے ہڑتال کے سبب پنی منسوخ ہونے والی پروازوں کی تعداد 646 بتائی گئی ہے۔

  • کیف کے ساتھ مذاکرات کے دروازے اب بھی کھلے ہیں:روس کا پیغام

    کیف کے ساتھ مذاکرات کے دروازے اب بھی کھلے ہیں:روس کا پیغام

    ماسکو: روسی ایوان صدر قصر کریملن کے ترجمان دیمتری پسکوف نے کہا ہے کہ نہ روس کے صدر ولادیمیر پوتین اور نہ ہی وزیر خارجہ ، کسی نے بھی یہ نہیں کہا ہے کہ یوکرین سے مذاکرات کے دروازے بند ہوچکے ہیں۔

    انھوں نے یہ بیان ایسی حالت میں دیا ہے کہ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاؤروف نے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں روس اور یوکرین کے درمیان امن مذاکرات بے معنی ہیں ۔انھوں نے کہا کہ ماسکو اور کیف کے درمیان بیلا روس میں ہونے والے امن مذاکرات کے پہلے دور میں بھی یہ بات عیاں تھی کی یوکرین مذاکرات میں سنجیدہ نہیں ہے۔

    اس سے پہلے روس کے صدر ولادیمیر پوتین نے اپنے حالیہ دورہ تہران میں کہا ہے کہ کیف کے حکام نے دو طرفہ سمجھوتوں پر عمل درآمد سے گریز کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ مذاکرات اس وقت نتیجہ بخش ہوتے ہیں جب دونوں فریقوں میں سمجھوتوں کی پابندی کا ارادہ پایا جائے اور کیف کے حکام میں یہ ارادہ نظر نہیں آتا۔

    روسی وزیر خارجہ نے امریکا اور برطانیہ پر روس اور یورپی یونین کے درمیان ایک بڑی جنگ شروع کرانے کی کوششوں کا الزام لگایا ہے۔

    روسی وزیر خارجہ سرگئی لاؤروف نے رشا ٹوڈے اور اسپوٹنک نیوز ایجنسی سے انٹرویو میں کہا ہے کہ امریکا اور برطانیہ یوکرین جنگ کو روس اور یورپی یونین کے درمیان ایک بڑی جنگ میں تبدیل کردینا چاہتے ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ امریکی اور برطانوی حکام ، جرمنی ، پولینڈ اور بالٹک ریجن کے بعض عناصرکی حمایت کرکے پوری کوشش کررہےہیں کہ یہ جنگ روس اور یورپ کے درمیان ایک بڑی جنگ میں تبدیل ہوجائے ۔

    روس یوکرین کےمفتوحہ علاقوں کوروس کا حصہ بنانےکا فیصلہ کرچکاجونامنظورہے:امریکہ

    روسی وزیر خارجہ نے کہا کہ مغربی حکومتیں یوکرین کو امن و آشتی کے ہر تعمیری اقدام سے دور رکھتی ہیں اور یوکرین ان سے صرف اسلحے لے رہا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ یوکرین خطرناک انداز میں ان ہتھیاروں سے کام لینے پر مجبور ہے۔ روسی وزیر خارجہ نے اسی کے ساتھ یوکرین کو دور مار اسلحے دیئے جانے کی بابت مغربی حکومتوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اس سے جنگ کا دائرہ وسیع تر ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ اب ماسکو کے اہداف صرف دونباس تک محدود نہیں رہیں گے۔

    روسی وزیر خارجہ نے کہا کہ مغربی حکومتوں کی جانب سے یوکرین کو دور تک مارکرنے والے ہتھیاروں کی سپلائی کے بعد ماسکو کی حکمت عملی بدل گئی ہے ۔ انھوں نے کہا کہ روس کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لئے یوکرینی افواج کو اگلے مورچوں سے پیچھے ہٹانا ضروری ہوگیا ہے۔

    روسی حکام مغربی حکومتوں کو بارہا خبردار کرچکے ہیں کہ یوکرین کو دور مار میزائل سسٹم دیئے گئے تو روسی افواج ان اہداف کو نشانہ بنائیں گی جنہیں اب تک نظرانداز کیا گیا ہے۔

    دوسری جانب امریکی وزیر جنگ لائیڈ آسٹن نے کہا ہے کہ یوکرین کو روسی فوجیوں سے جنگ کے لئے مزید جدید قسم کے چار ہیمرراکٹ سسٹم دیئے جائیں گے۔ یوکرین کو مزید جدید قسم کے چار ہیمرراکٹ سسٹم ملنے کے بعد اس کو ملنے والے ہیمرراکٹ سسٹموں کی تعداد سولہ ہوجائے گی۔

    روس دنیاکوتیل بیچے:ایسا نہیں ہونے دیں‌گے:امریکہ

    یاد رہے کہ امریکی وزارت خارجہ نے حال ہی میں یوکرین کےلئے مزید چار سو ملین ڈالر کی امداد کا اعلان کیا ہے جس کے بعد امریکا سے یوکرین کو ملنے والی امداد کی سطح سات اعشاریہ تین دو ارب ڈالر ہوگئی ہے۔

    کورونا کے بعد یوکرین روس تنازعہ:جرمنی معاشی بدحالی کا شکارہوگیا

    مغرب سے یوکرین کی طرف اسلحے کی ترسیل کا سیلاب ایسی حالت میں جاری ہے کہ یوکرین کے وزیراعظم نے روس سے جنگ سے ہونے والی تباہی کے نتیجے میں تعمیر نو کے اخراجات کا تخمینہ سات سو پچارس ارب ڈالر لگایا ہے۔

  • کورونا کے بعد یوکرین روس تنازعہ:جرمنی معاشی بدحالی کا شکارہوگیا

    کورونا کے بعد یوکرین روس تنازعہ:جرمنی معاشی بدحالی کا شکارہوگیا

    برلن :کورونا کے بعد یوکرین روس تنازعہ:جرمنی معاشی بدحالی کا شکارہوگیا،اطلاعات کے مطابق جرمن میڈیا گروپ (RND) نے جمعہ کو اگلے سال کے بجٹ سے متعلق ملکی وزارت خزانہ کی دستاویزات کا حوالہ دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ 2023 میں حکومتی قرضوں کی فراہمی پر جرمنی کو اس وقت لگ بھگ دوگنا لاگت آئے گی جو اس وقت بڑھتی ہوئی افراط زر کی وجہ سے خرچ کرتا ہے۔

     

     

     

    آراین ڈی میڈیا گروپ کی طرف سے رپورٹ جاری کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پچھلی حکومتوں کی افراط زر کی پیشن گوئیوں میں غلط حساب کتاب کی وجہ سے، جرمنی کی اس کے عوامی قرضوں پر سود کی ادائیگی 16 بلین یورو ($16.09 بلین) سے بڑھ کر اگلے سال تقریباً 30 بلین یورو ہو جائے گی،

     

     

     

    نیوزآؤٹ لیٹ میں کہا گیا ہے کہ برلن نے افراط زر میں اضافے کے خطرے کو کم سمجھا اور اس کے نتیجے میں اب اسے ان بانڈز کی کے ذریعے بہت زیادہ رقم فراہم کرنے کی ضرورت کا سامنا ہے۔

     

     

    "2023 کے بجٹ کے مسودے کی دستاویزات کے مطابق، آنے والے سال میں افراط زر سے منسلک بانڈز کی ادائیگی کے لیے تقریباً 7.6 بلین یورو مختص کیے جائیں گے۔ یہ اس سال کے مقابلے میں €3 بلین یورو زیادہ ہے اور گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً 7 بلین یورو زیادہ ہے،

     

     

    رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ جن بینکوں، انشورنس کمپنیوں یا فنڈز نے جرمن حکومت کو قرضے فراہم کیے ہیں، بنیادی طور پر اس صورت حال سے فائدہ اٹھائیں گے، کیونکہ انہیں سود کی ادائیگی میں زیادہ رقم ملے گی۔ تاہم، جرمن ٹیکس دہندگان کے خوش ہونے کا امکان نہیں ہے، کیونکہ یہ ان کی رقم ہے جو سود کی ادائیگی پر خرچ کی جائے گی۔

     

     

     

    جرمن پارلیمان کے بائیں بازو کے دھڑے کے رہنما، ڈائٹمار بارٹش نے صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا، ’’قرض لیتے وقت افراطِ زر کی حد سے کم شرح پر شرط لگانا ایک غلطی تھی جو اب ٹیکس دہندگان کے لیے بہت مہنگی ہوتی جا رہی ہے۔‘‘ انہوں نے پچھلی حکومتوں کی قرضہ پالیسیوں کی تحقیقات کا بھی مطالبہ کیا۔

  • روس ، یوکرین تنازعہ:جنگ عظیم دوم کے پہلی مرتبہ جرمنی کا تجارتی خسارہ 3کھرب روپے تک پہنچ گیا

    روس ، یوکرین تنازعہ:جنگ عظیم دوم کے پہلی مرتبہ جرمنی کا تجارتی خسارہ 3کھرب روپے تک پہنچ گیا

    برلن :روس ، یوکرین تنازعہ:جنگ عظیم دوم کے پہلی مرتبہ جرمنی کا تجارتی خسارہ 3کھرب روپے تک پہنچ گیا،اطلاعات ہیں کہ روس اور یوکرین کے درمیان جنگ نے یورپ کے بڑے ملک جرمنی کومعاشی طور پر تباہ حال کردیا ہے ، جرمنی نے 30 سالوں میں اپنا پہلا ماہانہ تجارتی خسارہ مئی میں نوٹ کیا کیونکہ یوکرین میں روس کی جنگ کی وجہ سے اس کی تیل اور گیس کی درآمدات کی قیمتیں بڑھ گئیں۔

    روس کا یورپ کو گیس سپلائی کرنیوالی پائپ لائن بند کرنے کا اعلان

    یورپ کا سب سے بڑا ملک، جس کا معاشی ماڈل دوسری جنگ عظیم کے بعد سے کافی تجارتی سرپلسزبتایا گیا ہے،عالمی معاشی اداروں کے مطابق مئی میں € 1.0 بلین ($1.04 بلین) کے خسارے میں چلا گیا، کیونکہ اس کا درآمدی بل ایک سال پہلے کے مقابلے میں تقریباً 28 فیصد بڑھ گیا۔ یاہو نیوز نے یہ بھی رپورٹ کیا کہ اپریل سے درآمدات میں 2.7 فیصد اضافہ ہوا۔

    یوکرینی سرحد کے قریب روسی شہر میں متعدد دھماکے،3 افراد ہلاک، 11 رہائشی عمارتیں اور…

    اعداد و شمار جرمنی کی معاشی تباہی کا واضح اشارہ کررہےہیں ، جرمنی کو یہ دن روس اور یوکرین کے تنازعے کی وجہ سے دیکھنے پڑرہےہیں، ۔ خسارہ جون میں وسیع ہونے والا ہے، جو روسی گیس کی سپلائی میں 60 فیصد کمی کی عکاسی کرتا ہے جس نے درآمد کنندگان کو اسپاٹ مارکیٹ سے بہت زیادہ قیمتوں پر خرید کر اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنے پر مجبور کیا۔ بہت سے جرمن تجزیہ کاروں کو خدشہ ہے کہ سال کے دوسرے نصف میں روسی سپلائی مکمل طور پر بند ہو جائے گی۔

    روس کا ایک اوریوکرینی شہر کا کنٹرول حاصل کرنے کا دعویٰ

    یہ خبر ایک ایسے دن کے آغاز پر سامنے آئی ہے جب جرمن چانسلر اولاف شولز برلن میں یونین اور آجروں کے نمائندوں کے ساتھ معیشت کی حالت پر بحرانی بات چیت کرنے والے ہیں۔جرمن فیڈریشن آف ٹریڈ یونینز کی سربراہ یاسمین فہیمی نے ہفتے کے آخر میں اخبار Bild am Sonntag کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ گیس کی رکاوٹوں کی وجہ سے پوری صنعتیں ہمیشہ کے لیے منہدم ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں۔ ، اور ایلومینیم کی صنعتیں، یہ سبھی اہم آٹوموٹیو سیکٹر کے بڑے سپلائرز ہیں جن کے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بند ہونے کے خدشات بڑھ گئے ہیں‌انہوں نے مزید کہا کہ "اس طرح جرمنی میں پوری معیشت اور ملازمتوں پر بڑے پیمانے پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔”

    جنگ شروع ہونے کے بعد سے یورو ڈالر کے مقابلے میں 7.4 فیصد گر چکا ہے، جو مئی میں پانچ سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔

  • الوداع الوداع؛سداخوش رہوپاکستانیو:پاکستان میں جرمن سفیرکےآخری الفاظ

    الوداع الوداع؛سداخوش رہوپاکستانیو:پاکستان میں جرمن سفیرکےآخری الفاظ

    اسلام آباد:الوداع الوداع؛سداخوش رہوپاکستانیو:پاکستان میں جرمن سفیرکےآخری الفاظ ،یادوں کا دریچہ بن گئے ، بہت ہی پیارے اورپیاربھرے انداز سے پاکستان میں سبکدوش ہونے والے جرمن سفیر برن ہارڈ شلاگیک نے ملک کو الوداع کرتے ہوئے پاکستان کے لیے اپنے دلی جذبات کا اظہار کیا۔

    سبکدوش ہونے والے جرمن سفیر برن ہارڈ شلاگیک کہتے ہیں کہ "اگر میں کل صبح اسلام آباد اور اس کے ریڈ زون کا یہ نظارہ نہیں کروں گا تو بھی یقین دلاتا ہوں کہ … پاکستان اور اس کے لوگ میرے ذہن پر مضبوطی سے قائم رہیں گے،” انہوں نے اپنے وطن واپسی کے سفر سے قبل اپنے پیغام میں کہا۔

    جمعرات کو جرمن سفارت خانے کی جانب سے فیس بک پر پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو میں سبکدوش ہونے والے سفیر کو اپنی روانگی کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کرنے سے قبل سائیکل پر سوار ہوتے دیکھا گیا۔

    "یہ ایک بہت ہی خاص صبح ہے جیسا کہ آپ اس حقیقت سے دیکھ رہے ہیں کہ میں صبح سویرے یہاں ہوں،” انہوں نے کہا۔سبکدوش ہونے والے جرمن سفیر برن ہارڈ شلاگیک نے مزید کہا کہ اسلام آباد میں ان کا آخری دن تھا کیونکہ ان کی مدت ملازمت ختم ہو رہی ہے اور آج رات ان کا وطن واپسی کا سفر ہے۔

    "انہوں نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ "اگر یہ کہا جائے کہ ان تین سالوں میں پاکستان میں جو سب سے قیمتی چیز آئی ہے وہ کون سی ہے، میں بلا جھجک کہوں گا کہ یہ پاکستانی ہیں… وہ لوگ… جن کی سخاوت، مہمان نوازی اور مہربانی کسی سے پیچھے نہیں رہی،

    میں کہوں گا، اس نے مزید کہا، یہی وہ چیز ہے جس سے حقیقی دوستی بنتی ہے… جس سے بنی ہے۔شلاگیک نے دونوں ممالک اور اس کے عوام کے درمیان تعلقات کے تئیں اعتماد، اعتماد اور عزم پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔

    میری دعائیں‌آپ کے ساتھ ہیں کہ سدا خوش رہیں آباد رہیں شاد رہیں پاکستانیو۔۔۔۔۔

  • امریکی صدر کا روس کی شکست تک یوکرین کی مدد جاری رکھنے کا اعلان

    امریکی صدر کا روس کی شکست تک یوکرین کی مدد جاری رکھنے کا اعلان

    لندن :امریکی صدر جوبائیڈن نے جنگ میں روس کی شکست تک یوکرین کی حمایت جاری رکھنے کا اعلان کر دیا۔اسپین کے دارالحکومت میڈرڈ میں نیٹو اتحاد کے سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر جوبائیڈن نے غیر معینہ مدت تک یوکرین کی حمایت جاری رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ امریکا اس وقت تک اپنی مدد جاری رکھے گا جب تک یوکرین کو اس بات کا یقین نہ ہو جائے کہ اس نے روس کو شکست دے دی ہے۔

    جوبائیڈن نے کہا کہ ان کی انتظامیہ روس کے حملے کا مقابلہ کرنے کے لیے یوکرین کو جلد ہی مزید 800 ملین ڈالر کی سیکورٹی امداد فراہم کرے گی۔

    ان کا کہنا تھا کہ نئی امریکی امداد میں جدید فضائی دفاعی نظام، کاؤنٹر بیٹری ریڈار اور ہائی موبلٹی آرٹلری راکٹ سٹمز کے لیے اضافی گولہ بارود شامل ہوں گے۔امریکی صدر نے کہا کہ آنے والے دنوں میں ان کی انتظامیہ باضابطہ طور پر سیکورٹی امداد کی تفصیلات جاری کرے گی۔

    اجلاس میں نیٹو نے اعلان کیا ہے کہ یوکرین کی امداد جاری رکھی جائے گی اور تعاون کا سلسلہ برقررا رکھا جائے گا۔یوکرین نے شام سے سفارتی تعلقات منقطع کرنے کا اعلان کر دیا۔یہ فیصلہ یوکرین سے آزادی حاصل کرنے والی دو ریاستوں کو خودمختار تسلیم کرنے کے ردعمل میں آیا ہے۔

    یوکرین صدر ولودیمیرزیلنسکی نے اعلان کیا ہے کہ وہ عوامی جمہوریہ لوہانسک اور عوامی جمہوریہ ڈونیسک کو آزاد اور خودمختار ریاست تسلیم کرنے پر شام سے سفارتی تعلقات ختم کر رہے ہیں۔

    اس سے قبل روس نے یوکرین سے علاحدہ ہونے والی ریاستوں کو تسلیم کیا تھا جس کے بعد شام کے صدر بشارالاسد نے اعلان کیا تھا کہ وہ بھی ان ریاستوں کی خودمختاری اور اقتداراعلیٰ کو تسلیم کررہے ہیں۔

    شامی وزارت خارجہ نے عوامی جمہوریہ لوہانسک اور عوامی جمہوریہ ڈونیسک سے سفارتی تعلقات قائم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے ساتھ تعلقات مستحکم کرنے کے لیے فریم ورک پر بات چیت ہو گی۔

    ادھراطلاعات کے مطابق روس کے خلاف یوکرین کوفوجی امداد کا سلسلہ جاری وساری ہے اورتازہ امداد میں برطانیہ نے یوکرین کو 1 بلین پاؤنڈ (1.2 بلین ڈالر) مالیت کے فوجی امداد کے ایک نئے پیکج کا وعدہ کیا ہے۔

    اس امداد میں فضائی دفاعی نظام اور ڈرون شامل ہوں گے۔ نیوز آؤٹ لیٹ نے رپورٹ کیا کہ نیا پیکج روس کے خصوصی فوجی آپریشن کے آغاز سے لے کر اب تک یوکرین کو برطانیہ کی کل فوجی مدد 2.8 بلین ڈالر تک لے جائے گا۔

    یہ اس وقت سامنے آیا ہے جب کریملن نے کہا ہے کہ دشمنی کو ختم کرنے کا ایک آپشن موجود ہے، یہ کہتے ہوئے کہ آپریشن کو دن کے اختتام سے پہلے روکا جا سکتا ہے، اگر کیف اپنے نازی یونٹوں اور فوجیوں کو ہتھیار ڈالنے کا حکم دیتا ہےاور ماسکو کی شرائط کو قبول کرتا ہے۔

    ادھر اس سے پہلے آج نیٹو کو ماسکو اور بیجنگ کی طرف سے سرزنش کا سامنا کرنا پڑا جب اس نے روس کو "براہ راست خطرہ” قرار دیا اور کہا کہ چین نے عالمی استحکام کے لیے "سنگین چیلنجز” پیدا کرنے کے الزامات لگائے

    روس اورچین نے نیٹو کے ان الزامات کومسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ نیٹو،امریکہ اوردیگرامریکی نوازیہ سُن لیں کہ نیٹوکی وسعت روس اورچین کے خلاف ایک سازش ہے جسے مسترد کرتے ہیں اور نیٹو کی وسعت کے خلاف مزاحمت بھی کریں گے

    یاد رہے کہ میڈرڈ میں نیٹوسربراہی اجلاس ہورہاہے جہاں اس نے ایک سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہےکہ دنیا کواس وقت سائبرحملوں کاسامنا ہے اوراس کے پیچھے روس اورچین ہیں‌

    میڈرڈ میں ہونے والے اجلاس میں نیٹو رہنماؤں نے ترکی کواعتماد میں لینےکے بعد فن لینڈ اور سویڈن کو بھی اس اتحاد میں شمولیت کی باضابطہ دعوت دی۔ اگر نورڈک ممالک کے الحاق کو 30 رکن ممالک نے منظوری دے دی تو یہ نیٹو کو روس کے ساتھ 800 میل (1,300 کلومیٹر) کی نئی سرحد دے گا۔

    نیٹوکے انہیں عزائم کو بھانپتے ہوئے روسی صدر ولادیمیر پوتن نے خبردار کیا کہ اگر نورڈک جوڑے یعنی فن لینڈ اور سویڈن نے نیٹو کے فوجیوں اور فوجی ڈھانچے کو اپنی سرزمین پر جانے کی اجازت دی تو وہ اس کا جواب دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ روس ان علاقوں میں نیٹو افواج کی موجودگی کوایک جنگی جارحیت تصور کرے گا

    نیٹو کے رہنماؤں نے جمعرات کو ہونے والے ایک حتمی سربراہی اجلاس کے لیے اپنی نگاہیں جنوب کی طرف موڑ لیں جس پر توجہ افریقہ کے ساحل کے علاقے اور مشرقِ وسطیٰ پر مرکوز تھی، جہاں سیاسی عدم استحکام — موسمیاتی تبدیلیوں اور یوکرائن میں جنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والی خوراک کی عدم تحفظ کی وجہ سے پیدا ہونے والی صورتحال ہے ، جس کی وجہ سے بڑی تعداد میں مہاجرین کو یورپ کی طرف لے جا رہی ہے۔

    نیٹو کے سیکرٹری جنرل جینز سٹولٹن برگ نے کہا کہ "یہ ہمارے مفاد میں ہے کہ ہم جنوب میں اپنے قریبی شراکت داروں کے ساتھ مل کر مشترکہ چیلنجوں کا مقابلہ کرتے رہیں۔ان کا کہناتھا کہ روس نے ہماری ساری توقعات پرپانی پھیردیا جب اس نے یوکرین پرحملہ کرکے خطے کوعدم استحکام کا شکارکردیا ہے

    اس حملے نے یورپ کے امن کو تہس نہس کر دیا، اور اس کے جواب میں نیٹو نے ممالک نے یوکرین کی مزاحمت کو مضبوط کرنے کے لیے اسے اربوں ڈالر کی فوجی اور سویلین امداد دی ہے۔

    یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی، جنہوں نے ویڈیو لنک کے ذریعے سربراہی اجلاس سے خطاب ہوئے نیٹو پر زور دیا کہ وہ جدید آرٹلری سسٹم اور دیگر ہتھیار بھیجے اور رہنماؤں کو متنبہ کیا کہ یا تو انہیں کیف کو اس کی ضرورت کے مطابق مدد فراہم کرنی ہوگی یا پھر "روس اور آپ کے درمیان تاخیر سے جنگ کا سامنا کرنا پڑے گا۔”

    یوکرین کے صدر نے کہا کہ یوکرین کوفتح کرنے کے بعد روس کا اگلہ ٹارگٹ مالڈووا؟ یا بالٹک؟ یا پولینڈ ہوگا اورکسی کو بھول میں رہنے کی بھی ضرورت نہیں