Baaghi TV

Tag: جرمنی

  • جرمنی کے سبکدوش ہونے والے سفیر کی سیکرٹری خارجہ سے الوداعی ملاقات

    جرمنی کے سبکدوش ہونے والے سفیر کی سیکرٹری خارجہ سے الوداعی ملاقات

    اسلام آباد:سیکرٹری خارجہ سہیل محمود سے جرمنی کے سبکدوش ہونے والے سفیر برن ہارڈ شلاگیک نے الوداعی ملاقات کی ہے۔تفصیلات کے مطابق سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں دفتر خارجہ نے کہا کہ سیکرٹری خارجہ نے پاک جرمن تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے برن ہارڈ کے قابل قدر تعاون کو سراہا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ سیکرٹری خارجہ نے تجارت، سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں دو طرفہ تعلقات کو مذید وسعت دینے کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

    یاد رہے کہ اس سے پہلے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے جرمنی کے الوداع ہونے والے سفیر نے ملاقات کی جس میں آرمی چیف نےکہا ہے کہ پاکستان جرمنی سے اپنے تعلقات کو نہایت اہمیت دیتا ہے۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ( آئی ایس پی آر ) کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے سبکدوش ہونے والے جرمن سفیر نے الوداعی ملاقات کی جس میں خطے کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال اور دو طرفہ تعاون سے متعلق امور پر بات چیت کی گئی۔

    آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ ملاقات میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ پاکستان جرمنی سے اپنے تعلقات کو نہایت اہمیت دیتا ہے۔پاک فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے سبکدوش ہونے والے جرمن سفیر مسٹر برنارڈ سٹیفن کی خدمات کو سراہا

  • پاکستان جرمنی سے اپنے تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہےآرمی چیف

    پاکستان جرمنی سے اپنے تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہےآرمی چیف

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ پاکستان جرمنی سے اپنے تعلقات کو نہایت اہمیت دیتا ہے۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ( آئی ایس پی آر ) کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے سبکدوش ہونے والے جرمن سفیر نے الوداعی ملاقات کی جس میں خطے کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال اور دو طرفہ تعاون سے متعلق امور پر بات چیت کی گئی۔

    آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ ملاقات میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ پاکستان جرمنی سے اپنے تعلقات کو نہایت اہمیت دیتا ہے۔پاک فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے سبکدوش ہونے والے جرمن سفیر مسٹر برنارڈ سٹیفن کی خدمات کو سراہا۔

  • روس،یوکرین تنازعہ:جرمنی روسی گیس کےبغیر2ماہ سےزیادہ نہیں چل سکتا:ماہرین

    روس،یوکرین تنازعہ:جرمنی روسی گیس کےبغیر2ماہ سےزیادہ نہیں چل سکتا:ماہرین

    برلن :روس،یوکرین تنازعہ:جرمنی روسی گیس کےبغیر2ماہ سےزیادہ نہیں چل سکتا:اطلاعات کے مطابق جرمن انرجی آفیشل کلاؤس مولر، فیڈرل نیٹ ورک ایجنسی کے سربراہ نے کہا کہ جرمنی اس موسم سرما میں روسی گیس کے بغیر ڈھائی ماہ تک چل سکتا ہے اس کے بعد سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا

    جرمن انرجی آفیشل کلاؤس مولر، فیڈرل نیٹ ورک ایجنسی کے سربراہ کہتے ہیں کہ "اگر جرمنی میں ذخیرہ کرنے کی سہولیات ریاضی کے لحاظ سے 100 فیصد بھری ہوئی ہوتیں پھربھی اڑھائی ماہ ہم روسی گیس کے بغیر مکمل طور پر کام کر سکتےہیں ،اور اس کے بعد سٹوریج کے ٹینک خالی ہو جائیں گے،پھرہرطرف بحران اوراندھیرے چھاجانے کے قوی امکانات ہیں

    انہوں نے کہا کہ روس کی طرف سے سپلائی میں کمی کے دوران جرمنی کو گیس کی بچت اور نئے سپلائرز تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔
    انہوں نے کہا کہ جرمنوں کے لیے صارفین کی گیس کی قیمتیں تین گنا بڑھ سکتی ہیں۔

    یاد رہے کہ اس سے قبل جمعرات کو جرمنی نے اپنے ہنگامی گیس پلان کے دوسرے مرحلے آغاز کیا ہے ، جس سے سپلائرز کو صارفین سےزیادہ قیمتیں لینے کی اجازت ملے گی،

    مولر نے کہا کہ اگر جرمنی منصوبے کے تیسرے مرحلے میں داخل ہوتا ہے تو اس کے گیس کی صنعت کے لیے "خوفناک اور سخت” نتائج ہوں گے۔وزیر اقتصادیات رابرٹ ہیبیک نے بھی جمعے کے روز اخبار ڈیر اشپیگل کو بتایا کہ اگر ملک بھر میں قدرتی گیس کی قلت ہوتی ہے تو جرمنی پورے صنعتی شعبے کو بند کرنے پر مجبور ہو سکتا ہے۔

    "تمام فیکٹری کی سرگرمیاں معطل کر دی جائیں گی۔ کے لیے تباہی ہوگی۔ اور ہم دو دن یا ہفتوں کے بارے میں نہیں بلکہ ایک طویل عرصے کے بارے میں بات کر رہے ہیں۔ ہم ان لوگوں کے بارے میں بات کر رہے ہیں، جو اپنی ملازمتوں سے محروم ہو جائیں گے جو پورے صنعتی کمپلیکس سے محروم ہو جائیں گے

    تاہم وزیر نے اصرار کیا کہ جرمن ان مشکلات کا مقابلہ کرنے کے لیے متحد ہیں، روس مخالف پابندیوں کی حمایت کرتے ہیں اور کسی حد تک مشکلات برداشت کرنے کے لیے تیار ہیں۔

    جرمنی روسی گیس پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے۔ اگرچہ جرمنی اور یورپی یونین کے دیگر رکن ممالک نے یوکرین پر حملے کے جواب میں روسی تیل پر پابندیاں عائد کر دی ہیں، تاہم برلن نے روسی گیس کی درآمد پر پابندی کو نافذ کرنے سے گریز کیا ہے۔

    روس کے سرکاری زیر انتظام توانائی کے بڑے ادارے Gazprom نے اس ماہ کے شروع میں کہا تھا کہ وہ Nord Stream 1 پائپ لائن کے ذریعے جرمنی کو گیس کی سپلائی مزید کم کر دے گی۔ Gazprom نے روس پر مغربی پابندیوں کے درمیان فرانس اور اٹلی کو گیس کی ترسیل بھی کم کر دی ہے۔

    انہیں حالات کے پیش نظرجرمنی نے حال ہی میں قطر کے ساتھ گیس کی شراکت داری پر دستخط کیے ہیں۔ ماحولیاتی خرابیوں کے باوجود جرمنی مزید خود کفیل بننے کے لیے کوئلے کے پلانٹ بھی لگا رہا ہے۔

  • روسی گیس تنصیبات پریوکرین کا ترکی کے ڈرون سےحملہ

    روسی گیس تنصیبات پریوکرین کا ترکی کے ڈرون سےحملہ

    کیف:ماسکو:روسی گیس تنصیبات پریوکرین کا ترکی کے ڈرون سےحملہ ،اطلاعات کے مطابق یوکرین نے بحیرہ اسود میں روسی آف شور گیس تنصیبات پر حملہ کرنے کے لیے ترکی ساختہ Bayraktar TB2 ڈرون اور اینٹی شپ میزائلوں کا استعمال کیا، روسی فوج نےکے ترجمان نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے یہ ساری صورتحال واضح کی

    روسی فوجی ترجمان کا کہنا ہے کہ غیرفوجی علاقے میں جس میں تین افراد زخمی اور سات لاپتہ ہوئے، اس کے اوائل میں اسنیک آئی لینڈ پر ناکام حملے کے باوجود کیے گئے، یہ بھی بتایا گیا کہ یوکرین کی افواج نے پیر کی صبح سویرے روس سے جزیرے پر دوبارہ قبضہ کرنے کے لیے سنگین غلطی کا ارتکاب کیا ،رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کیف نے 15 سے زیادہ UAVs، Tochka-U ٹیکٹیکل بیلسٹک میزائل، Uragan راکٹ آرٹلری، اور امریکہ کی طرف سے فراہم کردہ M777 ہووٹزرکی مدد سے یوکرین نے حملہ کیا ہے ۔ ماسکو نے کہا کہ اس دوران یوکرائنی S-300 طیارہ شکن نظام نے آپریشن کے لیے اضافی مدد فراہم کی۔

    وزارت دفاع کے مطابق، Snake Island کی حفاظت کرنے والے روسی فضائی دفاع نے 13 ڈرونز، چار میزائلوں اور 21 راکٹ آرٹلری پروجیکٹائل کو تباہ کر کے یوکرین کے منصوبوں کو ناکام بنا دیا۔ روسی فوج نے کہا کہ اس بات کی تصدیق کے بعد کہ جزیرے پر قبضہ کرنے کی کوشش ناکام ہو گئی، کیف حکومت نے بحیرہ اسود کے شمال مغربی حصے میں روسی گیس نکالنے کے بنیادی ڈھانچے پرحملہ کیا

    دو آف شور گیس مقامات پر اینٹی شپ میزائلوں اور ایک Bayraktar TB-2 ڈرون سے حملہ کیا گیا۔ ان میں سے ایک پر آگ لگ گئی۔ادھر روسی حکام نے کریمیا میں قائم سرکاری فرم کی طرف سے ملازمین کو علاقہ جلد از جلد چھوڑ دینے کی ہدایات جاری کردی گئی ہیں‌،

    روسی فوج نے منگل کے روز کہا کہ اس نے پیر کے آپریشن میں شامل یوکرینی فورسز کے خلاف جوابی کارروائی کی ہے۔ رپورٹ کردہ اہداف میں "یوکرینی Bayraktar TB-2 UAVs کے ساتھ ہینگر” اور کوبانسکی جزیرے پر تعینات M777 بندوقیں شامل ہیں، جو رومانیہ کی سرحد پر دریائے ڈینیوب کے ڈیلٹا میں قدرتی ریزورٹ کا حصہ ہیں۔

    یوکرین اور رومانیہ کے علاقائی پانیوں کے درمیان سرحد پر واقع سانپ جزیرہ پر روس نے یوکرین کے خلاف حملے کے پہلے دنوں میں ہی قبضہ کر لیا تھا۔ صدر ولادیمیر زیلنسکی نے دعویٰ کیا کہ جزیرے کے تمام محافظ کارروائی میں مارے گئے، لیکن یہ بیان اس وقت غلط ثابت ہوا جب روس نے اس بات کی تصدیق کی کہ یوکرین کے فوجیوں نے ہتھیار ڈالے اور انہیں قیدی بنا لیا گیا۔

    ماسکو نے مئی میں جزیرے پر حملہ کرنے کی کیف کی ایک اور ناکام کوشش کی اطلاع دی۔ روسی فوج نے اسے ایک "احمقانہ PR کارروائی” کے طور پر بیان کیا اور بتایا کہ اس آپریشن میں یوکرین کے تقریباً 50 فوجی ہلاک ہوئے۔

    روسی افواج نےیوکرین کے کئی اہم شہروں پرقبضہ کرلیا،اطلاعات کےمطابق لوہانسک کے گورنر اور یوکرین کے جنرل سٹاف نے جنگ کی تازہ ترین صورت حال پرخبرجاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ روسی افواج نے لوہانسک کے علاقے میں لائسیچانسک اور سیوروڈونٹسک کے قریب کئی چھوٹے شہروں اوربستیوں پر قبضہ کر لیا ہے۔

    لوہانسک کے گورنر سیرحی حیدائی نے یوکرین کے قومی نشریاتی ادارے کو بتایا کہ روسی افواج نے سیوروڈونٹسک کے جنوب میں توشکیوکا کی بستی پر قبضہ کر لیا ہے، ان کا کہنا تھا کہ "بدقسمتی سے، دشمن نے اس پر بھاری مقدار میں اسلحہ اور بڑے فوجی لشکرکےساتھ چڑھائی کی اور قبضہ کرلیا

    یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے بھی کہا کہ لوہانسک کے مشرقی علاقے میں فوجی صورتحال بہت مشکل تھی کیونکہ روس نے اہم علاقوں سے یوکرائنی فوجیوں کو نکالنے کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ زیلنسکی نے شام کے ایک ویڈیو خطاب میں اپنی قوم کوبتایا کہ ۔ "یہ واقعی سب سے مشکل جگہ ہے۔ روسی افواج بہت سخت دباؤ ڈال رہے ہیں،”

    یوکرین نے روس کے خلاف جرمنی کا اسلحہ استعمال کرنا شروع کردیا،اطلاعات کے مطابق یوکرین نے منگل کو کہا کہ اس نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے جدید جرمن توپخانے کے نظام کو "آخر کار” تعینات کر دیا ہے جس کا یوکرین بڑے عرصے سے مطالبہ کررہا تھا

    عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق "Panzerhaubitze 2000 آخر کار یوکرائنی توپ خانے کے 155 ملی میٹر کے ہووٹزر ہتھیاروں کا حصہ بن چکےہیں،” یوکرین کے وزیر دفاع اولیکسی ریزنکوف نے اپنے جرمن ہم منصب کرسٹین لیمبریچٹ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر لکھا کہ اب جرمنی کے اسلحے سے روسی فوج کا مقابلہ کیا جائے گا

    یاد رہےکہ اس سے پہلے جرمنی نے گزشتہ ماہ کہا تھا کہ وہ سات خود سے چلنے والے ہووٹزر یوکرین بھیجے گا، جو کیف کو روس کے حملے سےبچانے میں مدد دینے کے لیے مدد دے گا اور روسی افواج پرجوابی حملےمیں کارگرثابت ہوگا

    اس موقع پر یہ بھی یاد رہے کہ جرمن فوج کے پاس تقریباً 100 ہاوِٹزر 2000 ہیں، لیکن صرف 40 جنگی تیار ہیں۔جن پر جرمنی نے اکتفا کیا ہے دوسری طرف امریکہ، فرانس اور یوکرین کے دیگر اتحادیوں نے کیف کے لیے بھاری ہتھیاروں کی مزید سپلائی کا وعدہ کیا ہے، اور واشنگٹن کی طرف سے اس ماہ یوکرین کو اسلحے کی بڑی کھیپ ملنے والی ہے

    امریکی فوجیوں کو سزائے موت:روس اور امریکہ میں دشنی انتہاکوپہچ گئی

    یہ تو درست ہےکہ روس کے خلاف لڑنے کے لیے مغرب نے کریملن کی افواج سے لڑنے میں مدد کے لیے یوکرین میں ہتھیار بھیجے ہیں، لیکن کیف کو شکایت ہے کہ اسے اس کی ضرورت کا صرف ایک حصہ ہی ملا ہے جبکہ یوکرین کا کہنا ہےکہ اسے جدید اوربھاری ہتھیاروں کی فی الفورضرورت ہے

    جرمنی یوکرین کو اس قسم کے ہتھیاروں کا نظام فراہم کر رہا ہے جس کی اسے درحقیقت روس سے لڑنے کی ضرورت ہے، لہٰذا اس کے برعکس دعووں پر یقین نہیں کیا جانا چاہیے، چانسلر اولاف شولز نے منگل کو مکمل طور پر شائع ہونے والے اخبار Munchner Merkur کے ساتھ ایک انٹرویو میں جرمنی کی حمایت کا یقین دلایا

    اس دوران جب ان سے یوکرائنی حکام کی شکایات کے بارے میں پوچھا گیا کہ جرمنی نے کیف کو ہتھیاروں کی ترسیل کے اپنے وعدوں پر عمل نہیں کیا ہے، تو شولز نے کہا کہ "یہاں جو کچھ کہا جا رہا ہےوہ بالکل درست نہیں ہے۔”لٰہذا ہمیں مورود الزام ٹھہرانا درست نہیں

    انہوں نے کہا کہ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ جنگی ہتھیار کار ڈیلر کی دکان پر گاڑیوں کی طرح دستیاب ہیں، وہ غلط ہیں، انہوں نے مزید کہا، "میں جانتا ہوں کہ مجھے تنقید برداشت کرنی پڑتی ہے۔ لیکن میں اس موقع پراحتیاط کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑ سکتا

    یوکرینی بچوں کی مدد کیلئے روسی صحافی نے اپنا نوبل انعام نیلام کر دیا

    جرمن چانسلر نے اصرار کیا کہ ان کا ملک یوکرین کو اس قسم کے ہتھیار بھیج رہا ہے جس کی اسے درحقیقت ضرورت ہے، جیسے کہ فضائی دفاعی نظام اور ہووٹزرکی کھیپ پہنچ چکی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پالیسی اس بات پر مبنی ہے جو وہ یوکرین کی حکومت سے براہ راست سنتے ہیں۔

    انہوں نے اصرار کیا کہ اگر جرمن ہتھیاروں کو یوکرین میں اتنی تیزی سے نہیں اتارا جاتا جیسا کہ کچھ لوگ چاہتے ہیں، تو اس کی وجہ یہ ہے کہ یوکرین کے فوجیوں کو انہیں مؤثر طریقے سے استعمال کرنے کے لیے تربیت دینے کی ضرورت ہے۔جرمن چانسلر نے کہا کہ انہیں مناسب گولہ بارود کی بھی ضرورت ہے، جس کی فراہمی بھی ضروری ہے۔

    روس کی طرف سے اناج کی یوکرین سے برآمدات کا راستہ روکنا ایک حقیقی جنگی جرم:یورپی

    روس کے نائب وزیر خارجہ آندرے روڈینکو نے بھی منگل کے روز ماسکو میں یورپی یونین کے سفیر مارکس ایڈیرر کو خبردار کیا کہ کیف کو بلاک کی جانب سے جاری ہتھیاروں کی سپلائی ناقابل قبول ہے۔

  • امریکہ جرمنی میں قربتیں بڑھنے لگیں

    امریکہ جرمنی میں قربتیں بڑھنے لگیں

    برلن :روس یوکرین جنگ، امریکہ جرمنی میں قربتیں بڑھنے لگیں،اطلاعات ہیں کہ روس کو تنہا کرنے کےلیےامریکہ نے اپنی لابنگ جاری رکھی ہے اورنئی کامیابی کا دعویٰ کیا ہے ، اس حوالے سے امریکی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہےکہ روس یوکرین جنگ کےباعث مغربی اتحادی ممالک متحد ہوگئے ہیں جبکہ امریکا اور جرمنی میں قربتیں بڑھ رہی ہیں۔

     

    یوکرین تنازع: امریکا،برطانیہ کے بعد جرمنی ،آسٹریلیا اور جاپان کا روس پر پابندیوں…

    امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ ان حالات میں جاب یوکرین میں روسی جارحیت کی وجہ سے مغربی اتحادیوں میں ایک نئی صف آرائی دیکھی جا رہی ہے۔ اس جنگ نے جہاں متعدد مغربی ممالک کو متحد کیا ہے وہیں روس کے خطرے نے امریکا اور جرمنی کے مابین تعلقات میں موجود سرد مہری کو بھی کسی حد تک ختم کیا ہے۔لیکن بعض ماہرین کا خیال ہے کہ جرمنی اس نئے اتحاد کو جنگ عظیم اول اور دوم سے بھی ملا کرپڑھ رہا ہے ، اس میں جرمنی کے اصل باشندوں کے خیالات کچھ اور ہیں

    خبردار ! روس جنگ کی آگ بڑھا رہا ہے ، جرمنی مسلسل چلانے لگا

    اس حوالے سے ناقدین کا کہنا ہے کہ روس کی طرف سے لاحق خطرات، مشترکہ جیو پولیٹیکل وژن اور مفادات کی وجہ سے امریکا اور یورپ کے مابین زیادہ گرمجوشی کی امید کی جا سکتی ہے۔بالخصوص جرمنی اور امریکا کے باہمی تعلقات دو دہائیوں بعد اپنی بہترین سطح پر پہنچ چکے ہیں۔مغربی اتحاد کا ایک مشترکہ مقصد روسی جارحیت کی مذمت کرنا بھی ہے۔ امریکی حکام نے جرمن چانسلر اولاف شولس کے نارتھ اسٹریم پائپ لائن منصوبے کو ختم کرنے کے اعلان پر مسرت کا اظہار کیا تھا ۔ منصوبے کے تحت جرمن حکومت روس سے گیس خریدنا چاہتی تھی۔

    بعدازاں جرمن حکومت کا کہنا ہے کہ یوکرین جنگ کے حوالے سے روس پر دباؤ بڑھانے کی خاطر گیس پائپ لائن کا یہ منصوبہ ختم کر کے ملکی ضروریات کی گیس امریکا سے منگوائی جائے گی۔

    روس ، یوکرین تنازعہ :امریکی افواج کی پیش قدمی:جرمنی اورپولینڈ میں ہزاروں فوجی

    روسی صدر پیوٹن کا کہنا ہے کہ مغربی ممالک کا اتحاد اور روس پر پابندیوں سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ اپنے آبائی شہر سینٹ پیٹرز برگ میں ایک بزنس فورم سے خطاب میں انہوں نے سرمایہ کاروں پر زور دیا کہ وہ روس میں انویسٹمنٹ کریں۔انھوں نے یوکرین پر حملے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایسے ممالک کے ساتھ اقتصادی تعاون کو وسعت دیں گے جو ان کے ساتھ تعاون کے متمنی ہیں۔

    روسی صدر نے یوکرین پر حملے کا دفاع کرنے کی کوشش کرتے ہوئے مزید کہا کہ یہ ایک مشکل فیصلہ تھا تاہم یہ ضروری تھا۔ عسکری مہم کا مقصد در حقیقت یوکرین کے ڈونباس علاقے میں روسی بولنے والی آبادی کو تحفظ فراہم کرنا تھا۔

  • مداح اداکار تنویر جمال کی صحتیابی کےلئے دعا کریں:اہل خانہ

    مداح اداکار تنویر جمال کی صحتیابی کےلئے دعا کریں:اہل خانہ

    اداکار تنویر جمال جو کینسر جیسے موذی مرض کے ساتھ لڑرہے ہیں ان کی حالت کافی سیریس بتائی جا رہی ہے ان کے اہلخانہ نے تنویر جمال کے مداحوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اداکار کی صحیتابی کے لئے دعا کریں ۔تنویز جمال کو 2016میں پتہ چلا کہ انہیں کینسر ہے انہوں نے اس مرض کی تشخیص ہوتے ہی اس کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے علاج کروایا اور صحیتاب ہو گئے ۔لیکن یہ صحیتابی بہت عرصہ نہ چل سکی اور تنویر جمال ایک مرتبہ پھر اس مرض میں مبتلا ہوگئے ہیں ان کی حالت

    تشویشناک بتائی جا رہی ہے کیونکہ ان کے اہلخانہ نے پرستاروں سے درخواست کی ہے کہ تنویز جمال کی صحتیابی کے لئے دعا کی جائے۔تنویر جمال کو جب دوسری مرتبہ کینسر کی تشخیص ہوئی تو انہیں جرمنی منتقل کر دیا گیا وہاں ان کا علاج چل رہا ہے ۔یاد رہے کہ جرمنی میں اداکار تنویر جمال کے بچے اور اہلیہ رہتی ہیں تنویر خود یہاں پاکستان میں رہتے رہے ہیں لیکن ہر چھ ماہ کے بعد وہ بیوی بچوں کے ساتھ ملنے کےلئے جرمنی جایا کرتے تھے ۔تنویر جمال نے پی ٹی وی کے بہت سارے ڈراموں میں اداکاری کی انہیں بہترین اداکاری پر پی ٹی وی کی ہی جانب سے بیسٹ ایکٹر کاایوارڈ بھی ملا۔تنویر جمال نے پرائیویٹ پروڈکشن میں سب سے پہلے ایکشن سے بھرپور میگا ڈرامہ سیریل ’گاڈ فادر‘ کو ڈائریکٹ اور پروڈیوس کرکے اپنا نام بنایا ، یہ ڈرامہ پاکستان اور جاپان میں ریکارڈ کیا گیا۔

  • جرمنی:196 پادریوں نے کم از کم 600 بچوں سے جنسی زیادتی کی: رپورٹ

    جرمنی:196 پادریوں نے کم از کم 600 بچوں سے جنسی زیادتی کی: رپورٹ

    برلن :جرمنی میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ مُوئنسٹر شہر کے کیتھولک ڈائیوسیز میں 1945 سے 2020 کے درمیان 196 پادریوں نے کم از کم 600 نوجوانوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔ فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق پیر کو شائع ہونے والی ایک تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ متاثرین کی اصل تعداد 10 گنا زیادہ ہو سکتی ہے۔ مسیحیت میں ڈائیسیز گرجاگھروں کے ایک گروپ کو کہا جاتا ہے جس کی نگرانی ایک بشپ کرتے ہیں۔

    یونیورسٹی آف مُوئنسٹر کی رپورٹ کے مطابق ڈائیوسیز کے پاس جنسی تشدد کے شکار 610 افراد کا سرکاری ریکارڈ موجود ہے۔ اس تحقیق میں شامل مؤرخ نتالی پورونک کا کہنا ہے کہ جنسی زیادتی کے شکار افراد کی تعداد زیادہ ہو سکتی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایک 196 پادریوں نے جنسی زیادتی کے کم از کم 5700 انفرادی فعل کیے۔

    مذہبی جنسی استحصال کے اسکینڈلز کو بے نقاب کرنے پر فرانسیسی پوپ صحافیوں کے مشکور

    پانچ فیصد پادری عادی مجرم پائے گئے اور انہوں نے 10 سے زیادہ افراد کے ساتھ جنسی زیادتی کی جبکہ 10 فیصد سے کم پادریوں کو قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑا۔ جنسی زیادتی کے شکار افراد میں ہر چار میں سے تین لڑکے تھے اور زیادہ تر کی عمریں 10 سے 14 برس کے درمیان تھیں۔ جنسی زیادتی کے شکار افراد ڈپریشن میں مبتلا ہوئے اور 27 کیسز ایسے تھے جس میں انہوں نے خودکشی کی کوشش کی۔

    فرانس کے مختلف گھرجا گھروں کے 3200 پادری اور ارکان بچوں سے زیادتی میں ملوث نکلے

    مُوئنسٹر کے بشپ فیلکس جین کی جانب سے اس رپورٹ پر ابھی تفصیلی تبصرہ کرنا باقی ہے۔ فیلکس جین 2009 سے مُوئنسٹر کے نگران ہیں۔ تاہم رپورٹ مرتب کرنے والوں نے ان پر الزام لگایا ہے کہ وہ جنسی زیادتی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرنے میں ناکام رہے۔ امریکی اخبار دی واشنگٹن پوسٹ کے مطابق بشپ فیلکس جین نے رپورٹ ابھی نہیں دیکھی تاہم انہوں نے ایک بیان میں جنسی زیادتی کے شکار افراد سے معافی مانگی ہے۔ محققین کا کہنا ہے کہ ان کو چرچ کی فائلوں تک بلا روک ٹوک رسائی فراہم کی گئی اور انہوں نے جنسی زیادتی کے متاثرین سے بھی بات چیت کی

  • جرمنی:2014 سےلیکرابتک 800 مساجد پرحملے ہوچکے:مگرعالمی برادری خاموش تماشائی

    جرمنی:2014 سےلیکرابتک 800 مساجد پرحملے ہوچکے:مگرعالمی برادری خاموش تماشائی

    برلن :جرمنی:2014 سے لیکرابتک 800 مساجد پرحملے ہوچکے:اس حوالے سے فیرانٹرنیشنل رائٹس گروپ نے پریشانی کا اظہارکرتے ہوئے کچھ خطرناک اعدادوشمار بھی جاری کیے ہیں تاکہ عالمی برادری کو دنیا میں بڑھتی ہوئی انتہا پسندی کا احساس بھی ہوجائے ،اس تنظیم کی طرف سے جاری کردہ اعدادوشمارکے مطابق، 2014 سے اب تک جرمنی میں 800 سے زیادہ مساجد دھمکیوں اور حملوں کا نشانہ بنی ہیں،

    سانحہ کرائسٹ چرچ ،مساجد پر حملے کی ویڈیوز کیوں شیئر کیں.عدالت نے شہری کو جیل بھیج…

    ذرائع کے مطابق فیئر انٹرنیشنل گروپ نے مساجد پر حملوں کے لیے جرمنی کے پہلے رپورٹنگ سینٹر کی بنیاد رکھی ہے، پھر اس گروپ نے 2014 سے 2022 کے درمیان حملوں، توڑ پھوڑ اور دھمکیوں کے تقریباً 840 واقعات ریکارڈ کیے ہیں۔2018 میں ہونے والے جرائم کے تفصیلی تجزیے سے یہ بات سامنے آئی کہ زیادہ تر حملوں میں مجرموں کی شناخت نہیں ہو سکی، جس سے مسلمانوں کی عبادت گاہوں کے خلاف نازیوں یا بائیں بازو کے انتہا پسندوں کے مزید حملوں کو ہوا ملی۔

    2018 میں مساجد کے خلاف ریکارڈ کیے گئے 120 حملوں میں سے صرف نو واقعات میں مجرموں کی شناخت ہو سکی۔

    او آئی سی نے بھارت میں مسلمانوں پرہونے والے تشدد کی مذمت کردی

    "یہ شرح تشویش کا باعث ہے،” برینڈیلیگ کے ماہرین نے زور دیتے ہوئے کہا کہ کم از کم 20 واقعات میں، جن میں آتش زنی کے حملے شامل ہیں، مشتبہ افراد کی موت یا بہت زیادہ جسمانی نقصان پہنچانے کا ارادہ ہے،” اس نے مزید کہا۔”عام طور پر، پولیس افسران بہت تیزی سے جائے وقوعہ پر پہنچے اور فوری طور پر تحقیقات شروع کر دیں۔ اس کے باوجود، آج تک تقریباً کوئی بھی واقعہ حل نہیں ہو سکا،‘‘

    ماہرین کا یہ بھی خیال ہے کہ جو لوگ پکڑے گئے ان کو سزائیں بھی نہیں ہوئیں جس کی وجہ سے مسلمانوں پر خوف طاری ہے اورحملہ آور مزید نڈراوربے خوف ہوکرحملے کررہے ہیں‌

    بھارت : ہندوانتہا پسندوں نےمسجد کوآگ لگا کرشہید کردیا

    رپورٹ کے مطابق، بائیں بازو کے انتہا پسند اور پی کے کے  اور ایسے ہی وائی پی جے دہشت گرد گروپ کے پیروکار مساجد کو نشانہ بنانے والے متعدد حملوں کے پیچھے تھے، جب کہ ان میں سے زیادہ تر دائیں بازو کے انتہا پسندوں یا نازی گروپوں نے کیے تھے۔جرمنی جوکہ 83 ملین سے زیادہ آبادی والا ملک ہے ، یہ فرانس کے بعد مغربی یورپ میں مسلمانوں کی دوسری بڑی آبادی رکھنے والا ملک ہے

  • برلن:تیزرفتارکارہجوم پرچڑھا دی گئی،ایک ہلاک اور دیگر زخمی

    برلن:تیزرفتارکارہجوم پرچڑھا دی گئی،ایک ہلاک اور دیگر زخمی

    برلن:تیزرفتارکارہجوم پرچڑھا دی گئی، ایک ہلاک اور دیگر زخمی ،اطلاعات کے مطابق جرمنی کے چہر برلن کی ایک مصروف سڑک پر ایک کار سوار نےاپنی گاڑی ہجوم پر چڑھا دی جس کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک اور کم از کم ایک درجن زخمی ہو گئے۔

    ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ یہ واضح نہیں ہے کہ مقامی وقت کے مطابق تقریباً 10:30 بجے ہونے والا واقعہ جان بوجھ کرپیش آیا یاحادثہ ہےتاہم سیکورٹی ادارے اس بات کی حقیقت جاننےکی کوشش کررہےہیں،پولیس کے ایک ترجمان نے صحافیوں کو بتایا کہ ڈرائیور کو جائے وقوعہ سے گرفتار کر لیا گیا ہے۔

     

    جرمنی میں یوکرینی فوجیوں کی تربیت شروع:روس سخت ناراض

    یہ واقعہ مغربی برلن کے مرکز میں اس کی مصروف ترین شاپنگ اسٹریٹ میں پیش آیا۔پولیس کے ترجمان تھیو کیبلٹز نے کہا کہ ایک درجن سے زائد زخمیوں میں شدید زخمی لوگ ہیں۔سیکورٹی اداروں کی طرف سے جاری رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ گاڑی سڑک سے اچانک مڑ گئی اور ایک دکان کے سامنے سے ٹکرانے سے پہلے فرش پر چڑھ گئی۔

    میڈیا کو جاری تصاویر سے کچھ صورت حال سامنے آئی ہے جس کے مطابق جائے وقوعہ کی تصاویر یہ ظاہر کرتی ہیں کہ چاندی کا رینالٹ کلیو کاسمیٹکس کی دکان میں ڈسپلے ونڈو سے ٹکرا گیا ہے۔ سڑک کے درمیان میں ڈھکی ہوئی لاش کی تصویریں بھی ہیں۔

    برلن پولیس سروس کے مطابق 130 کے قریب رضاکار اس وقت جائے حادثہ پر موجود ہیں۔برلن کی میئر فرانزیسکا گیفی نے ٹویٹر پر لکھا ہے کہ وہ "اس واقعے سے بہت پریشان ہوئی ہیں” اور انہوں نے عوام الناس سے درخواست کی ہے کہ پولیس اس واقعہ کی تحقیقات کررہی ہے

    روس اورجرمنی میں اختلافات شدت اختیارکرگئے: 40جرمن سفارت کاروں کوملک چھوڑنےکاحکم

    برلن کی میئر فرانزیسکا گیفی کہتی ہیں کہ "مجھے دن کے دوران سائٹ پر صورتحال کا اندازہ ہوگا۔ میں 130 سے ​​زیادہ ایمرجنسی سروسز کا شکریہ ادا کرنا چاہوں گی کہ ان کے بروقت ردعمل اور متاثرہ افراد کی دیکھ بھال کی۔”

    اداکار جان بیرومین نے ٹویٹ کیا کہ جب یہ واقعہ پیش آیا تو وہ قریب ہی تھے اور جائے وقوعہ سے پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو میں بتایا کہ کار اسٹور کے سامنے سے ٹکرانے سے پہلے فٹ پاتھ پرچڑھی تھی۔

    اداکار کا کہنا ہے کہ پولیس کی موجودگی ناقابل یقین ہے۔ وہ علاقے کو صاف کر رہے ہیں۔” "لوگوں کو ہوائی جہاز پہنچانے کے لیے اب ہیلی کاپٹر آ رہے ہیں۔”یہ وہ علاقہ ہےجہاں 12 افراد اس وقت مارے گئے جب ایک ٹرک ڈرائیور نے جان بوجھ کر اپنی لاری کرسمس مارکیٹ میں لوگوں کے ہجوم پر چڑھا دی۔

    یورپ کا روس کے خلاف اتحاد:فضائی راستے بند:روسی طیارے گزریں گے توگرا دیں گے:جرمنی…

    یاد رہے کہ آئی ایس نے بعد میں اس حملے کی ذمہ داری قبول کی، جو کہ ایک ناکام پناہ گزین نے کیا تھا۔ حملہ آور کو بعد میں اطالوی پولیس نے گولی مار کر ہلاک کر دیا۔

  • مزدورکی کم از کم اجرت میں اضافہ، 12 یورو فی گھنٹہ کر دی گئی

    مزدورکی کم از کم اجرت میں اضافہ، 12 یورو فی گھنٹہ کر دی گئی

    برلن :جرمنی میں کم از کم اجرت میں اضافہ، 12 یورو فی گھنٹہ کر دی گئی،اطلاعات کے مطابق جرمنی میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کے پیش نظر حکومت نے کم از کم اجرت بڑھا کر بارہ یورو فی گھنٹہ کرنے کی منظوری دے دی۔ اس فیصلے سے 60 لاکھ سے زائد عوام مستفید ہوں گے۔

    اس حوالے سے جرمن چانسلر اولاف شولز نے اپنی انتخابی مہم میں بھی کم از کم اجرت بڑھانے کا وعدہ کیا تھا۔ اب پارلیمنٹ نے گزشتہ روز ایک بل کی منظوری دی ہے جس کے مطابق یکم اکتوبر سے کم از کم فی گھنٹہ تنخواہ قریب دو یورو اضافے کے ساتھ بارہ یورو ہو جائے گی۔جرمن پارلیمنٹ میں بل پر ووٹنگ سے قبل وزیر محنت ہوبیرٹوس ہائل نے کہا کہ اس فیصلے سے عوام کو 400 یورو اضافی آمدن ہوگی جس سے ماہانہ آمدن 1700 یورو ہو جائے گی۔ یہ بہت زیادہ تو نہیں ہے لیکن اس سے لوگوں کی جیبوں پر نمایاں فرق پڑے گا۔

    جرمن پارلیمنٹ میں بل کے حق میں 400 ارکان نے ووٹ دیا، 41 نے مخالفت کی جبکہ 200 نے رائے شماری میں حصہ ہی نہیں لیا۔ حصہ نہ لینے والے ارکان کا تعلق اپوزیشن جماعت سی ڈی یو سے تھا۔ سابق چانسلر مرکل کی جماعت کے ارکان کا کہنا تھا کہ وہ تنخواہ میں اضافے کے خلاف نہیں بلکہ بل پیش کرنے کے طریق کار کے خلاف ہیں۔ بائیں بازو کی سوشلسٹ جماعت دی لنکے کے ارکان نے بھی بل کی حمایت میں ووٹ دیا۔

    جرمنی میں عام طور پر کم از کم اجرت کے بارے میں تجاویز ایک کمیشن دیتا ہے جس میں آجروں اور ملازموں کے نمائندے شامل ہوتے ہیں تاہم اس مرتبہ حکومتی اتحاد نے کمیشن کو نظرانداز کرتے ہوئے خود ہی بارہ یورو اجرت مقرر کر دی۔جرمنی میں کام کرنے والے اٹھارہ سال سے زائد عمر کے زیادہ تر افراد فی گھنٹہ اجرت پر کام کرتے ہیں۔ ان میں دیگر ملکوں سے تعلق رکھنے والے سیزنل ورکرز بھی شامل ہیں۔ جرمنی کا شمار یورپی یونین کے ان رکن ممالک میں ہوتا ہے جہاں کم از کم تنخواہ کافی زیادہ ہے۔