Baaghi TV

Tag: جرمنی

  • گیرہارڈ شروڈر روسی کمپنیوں سےعلیحدگی اختیار کریں:جرمن چانسلرکا اپنی قوم کے بڑوں کوپیغام

    گیرہارڈ شروڈر روسی کمپنیوں سےعلیحدگی اختیار کریں:جرمن چانسلرکا اپنی قوم کے بڑوں کوپیغام

    برلن :گیرہارڈ شروڈر روسی کمپنیوں سےعلیحدگی اختیار کریں:جرمن چانسلرکا اپنی قوم کے بڑوں کوپیغام ،اطلاعات کے مطابق جرمن چانسلر اولاف شولس نے سابق چانسلر گیرہارڈ شروڈر سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ روسی کمپنیوں سے فوری طور پر علیحدگی اختیار کریں۔

    جرمن ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ سابق جرمن گیرہارڈ شروڈر کے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے برسوں کے گہرے تعلقات ہیں۔سابق جرمن چانسلر گیرہارڈ شروڈر روسی حکومت کی انرجی کمپنیوں کے انتظامی بورڈز میں اعلیٰ حیثیت کے حامل ہیں۔

    ستتر سالہ شروڈر روسی صدر پیوٹن اور کریملن کے کاروباری حلقے کے ساتھ دیرینہ بزنس رفاقت رکھتے ہیں۔

    وہ روس کے توانائی کے بڑے ادارے ‘روس نیٹ‘ کے سپروائزری بورڈ کے سربراہ بھی ہیں۔ اس کے علاوہ وہ کسی حد تک متنازعہ خیال کیے جانے والے قدرتی گیس کی فراہمی کے منصوبوں نارتھ سٹریم ون اور نارتھ سٹریم ٹو کے نگران بورڈز میں بھی کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔

    جرمنی میں گیرہارڈ شروڈر کے روسی صدر پیوٹن اور روسی انرجی کمپنیوں سے تعلقات پر گہری تشویش پائی جاتی ہے اور اب تنقید بھی کی جا رہی ہے۔ یوکرین پر روسی حملے کے بعد سے کسی حد تک جرمن سیاسی اور سماجی حلقے اس تعلق پر ندامت بھی محسوس کرتے ہیں۔

    جرمنی کے این ٹی وی چینل پر ایک بیان دیتے ہوئے وفاقی چانسلر اولاف شولس نے کہا کہ ان کے خیال میں اب یہ مناسب نہیں رہا کہ گیرہارڈ شروڈر ان مناصب پر فائز رہیں اور یہ صحیح ہو گا کہ وہ یہ عہدے چھوڑ دیں۔شولس نے اس امر پر زور دیا کہ ایک عام شہری کے طور پر بھی انہیں ان عہدوں سے علیحدگی اختیار کر لینا چاہیے۔

    موجودہ جرمن چانسلر کا کہنا تھا کہ گیرہارڈ شروڈر جرمنی کے سابق سربراہِ حکومت ہیں اور موجودہ حالات میں ان کے کاروباری تعلقات کی اہمیت ان کی شخصیت سے زیادہ محسوس کی جا رہی ہے۔

  • یورپ کا روس کے خلاف اتحاد:فضائی راستے بند:روسی طیارے گزریں گے توگرا دیں گے:جرمنی کا پیغام

    یورپ کا روس کے خلاف اتحاد:فضائی راستے بند:روسی طیارے گزریں گے توگرا دیں گے:جرمنی کا پیغام

    برلن :یورپ کا روس کے خلاف اتحاد:فضائی راستے بندکردیئے:روسی طیارے گزریں گے توگرا دیں گے:جرمنی کا پیغام،اطلاعات کے مطابق یوکرین میں روسی فوجی کاروائی کے درمیان جرمنی نے اعلان کیا ہے کہ وہ روسی طیاروں کے لیے اپنی فضائی حدود بند کر دے گا۔

    روس پر فضائی راستے بند کرنے میں ایسا کرنے سے جرمنی ان یورپی ممالک کی فہرست میں شامل ہو جائے گا جو پہلے ہی روسی ایئر لائنز پر پابندی لگا چکے ہیں۔

    جرمنی کی وفاقی وزارت برائے نقل و حمل اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر نے اعلان کیا کہ وزیر ٹرانسپورٹ وولکر وِسِنگ "روسی طیاروں کے لیے جرمن فضائی حدود کو روکنے کی حمایت کرتے ہیں اور اس کے لیے ہر چیز کو تیار رکھنے کا حکم دیا ہے۔”

    علاوہ ازیں جرمن ایئر لائن لوتھانسا نے روس کے لیے اپنی تمام پروازیں منسوخ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ روسی فضائی حدود سے آنے والی پروازوں کو جلد ہی روک دیا جائے گا۔

    جرمنی اب ان یورپی ممالک میں شامل ہو گیا ہے جس نے روسی طیاروں کے لیے اپنی فضائی حدود بند کر دی ہیں۔ ان میں برطانیہ، پولینڈ، بلغاریہ اور جمہوریہ چیک جیسے ممالک شامل ہیں۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ روس نے بھی ان ممالک کو اپنی فضائی حدود بند کرکے منہ توڑ جواب دیا ہے۔

    اتوار کے روز، روس کی فیڈرل ایجنسی برائے ہوائی نقل و حمل نے کہا کہ "لاتویا، لتھوانیا، سلووینیا اور ایسٹونیا کے ہوابازی حکام کے اس مخالفانہ فیصلے کا مطلب ہے کہ روس اپنی سرزمین پر ان ممالک کی پروازوں پر بھی پابندیاں عائد کرے گا۔”

    جرمنی نے بھی ہفتے کے روز یورپی کمیشن میں شمولیت اختیار کی، فرانس، اٹلی، برطانیہ، کینیڈا اور امریکہ اور دیگر ممالک نے روس کے خلاف پابندیوں کے نئے دور کا اعلان کیا ہے۔

    ان ممالک نے کہا کہ "منتخب روسی بینکوں کوسویفٹ میسجنگ سسٹم سے ہٹا دیا جائے گا”۔ یہ بھی بتایا گیا کہ جرمنی ٹینک شکن ہتھیار اور زمین سے فضا میں مار

  • یوکرائن بحران شدید سےشدید تر:روس کا گھیراؤ    جاری:برطانیہ نے5 روسی بینکوں پرپابندی لگادی

    یوکرائن بحران شدید سےشدید تر:روس کا گھیراؤ جاری:برطانیہ نے5 روسی بینکوں پرپابندی لگادی

    واشنگتن:لندن:برلن ::برطانوی حکومت نے روس کی پانچ بینکوں پر پابندی لگانے کا اعلان کر دیا ہے جس کا اطلاق جلد ہی کیا جائے گا۔

    برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے کہا ہے ہم ابھی بھی روس اور یوکرین کے مابین تناؤ کو سفارتی سطح پر حل کرنے کے حق میں اور اس کے لئے ہر ممکن قدم اٹھائیں گے۔

    وزیر اعظم جانسن نے کہا کہ انہوں نے یوکرین کے صدر کو یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ یوکرین کی سیاسی ، سفارتی اور اخلاقی مدد کرتا رہے گا۔

     

    روس پر پابندی کے لئے برطانیہ اپنے آئین کے نئے قوانین کا بھی استعمال کرے گا۔برطانوی وزیر اعظم نے اعلان کیا کہ ابتدائی مرحلے میں روس کی پانچ بینکوں کی برطانوی شاخوں پر پابندی لگائی جائے گی۔

    پابندی کا شکار بننے والی بینکوں میں روشیا ، آئی ایس بینک ، جنرل بینک ، پروم سیویز بینک اور بلیک سی بینک شامل ہیں۔بورس جانسن نے کہا کہ ہمیں اس بحران سے پر امن طریقے سے باہر نکلنے کے راستے تلاش کرنا ہوں گے۔

     

     

    واضح رہے کہ روس کی جانب سے گزشتہ روز یوکرین کے دو صوبوں کو خودمختیار ملک کی حیثیت سے تسلیم کرنے کے اعلان کے بعد برطانیہ اور اس کے اتحادیوں نے روس پر پابندی لگانے کا ارادہ کیا ہے۔ برطانیہ نے روس کو خبردار کیا ہے کہ روسی صدر ولادیمر پیوٹن کی جانب سے یوکرائن کے صوبوں کو آزاد ریاست تسلیم کرکے اپنی فوجیں بھیجنے کے اقدامات پر اُس کے خلاف پابندیاں عائد کر دی جائیں گی۔

     

    برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کا کہنا ہے کہ یہ پابندیاں ان معاشی مفادات کو ہدف بنائیں گی جو روسی جنگی مشینری کی مدد کر رہے ہیں۔

    دوسری جانب روس کے نائب وزیر خارجہ آندرے رودنکو نے کہا ہے کہ اگر ضرورت محسوس کی گئی تو روس باغیوں کے زیرانتظام دونوں ریاستوں میں اپنے فوجی اڈے قائم کرے گا۔

    بڑھتی کشیدگی کے نتیجے میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 97 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئی۔

    لندن اور ایشیائی اسٹاک مارکیٹس میں مندی دیکھنے میں آئی ہے اور خدشہ ہے کہ امریکا میں بھی یہ رجحان جاری رہے گا۔

    واضح رہے کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے گزشتہ روز ایک صدارتی حکم نامے کے ذریعے مشرقی یوکرائنی صوبوں ڈونیسک اور لوہانسک کو نئی آزاد ریاستیں قرار دے کر روسی افواج کو بطور امن فوج ان دونوں علاقوں کو روانہ کرنے کا حکم دیا تھا۔

    امریکا نے روسی اعلان کو مسترد کرتے ہوئے اسے ’’غیرمعقول‘‘ قرار دیا اور کہا کہ روس جارحیت کے لیے بہانے تلاش کر رہا ہے۔

    امریکا اور دیگر مغربی اتحادی ممالک نے روس پر پابندیاں عائد کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ امریکا آج روس پر نئی پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کرسکتا ہے۔

    دوسری جانب اقتصادی ماہرین کہتے ہیں کہ بڑھتی ہوئی کشیدگی اور روس پر پابندیوں کا براہ راست اثر تیل کی قیمتوں پر پڑے گا۔ روس سعودی عرب کے بعد سب سے زیادہ تیل پیدا کرنے والا ملک ہے جبکہ قدرتی گیس پیدا کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے۔

    عالمی ادارے فیڈلیٹی انٹرنیشنل کے مطابق تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی بڑھ سکتی ہے۔

    آسٹریلیا نے حالات کے پیشِ نظر یوکرائن میں اپنے سفارتی عملے کو رومانیہ اور پولینڈ منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے جہاں سے اُنہیں وطن واپس بھیجا جائے گا۔

    بھارت نے بھی اپنے 20 ہزار سے زائد شہریوں کو یوکرائن سے نکالنے کے لیے آج صبح خصوصی پرواز روانہ کر دی ہے۔

  • یوکرائن تنازع، امریکی فوجی کمک کا پہلا دستہ پولینڈ پہنچ گیا:بلجیئم میں‌ ممکنہ جنگ کے خلاف مظاہرے

    یوکرائن تنازع، امریکی فوجی کمک کا پہلا دستہ پولینڈ پہنچ گیا:بلجیئم میں‌ ممکنہ جنگ کے خلاف مظاہرے

    یوکرائن تنازع کے چلتے امریکی فوجی کمک  کا پہلا دستہ پولینڈ پہنچ گیا ہے۔ امریکی صدر کا کہنا ہے کہ مزید دستے بھی جلد بھیجے جائیں گے۔

    اطلاعات کے مطابق امریکی صدر جو بائیڈن نے اسی ہفتے اعلان کیا تھا کہ وہ مغربی اتحادی ممالک کی مدد کے لیے مشرقی یورپ میں مزید امریکی فوجی روانہ کریں گے۔

    وا ضح رہے، امریکی صدر جو بائیڈن نے اسی ہفتے اعلان کیا تھا کہ وہ مشرقی یورپ کے لیے فوجی روانہ کریں گے۔ مغربی ممالک کو یقین ہے کہ روس یوکرائن پر ایک نیا حملہ کرنے والا ہے۔

    دریں اثناء پولش آرمی نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ امریکی فوجیوں پر مشتمل پہلا دستہ ہفتے کے دن وارسا پہنچ گیا ہے۔

     

    یہ امریکی فوجی مشرقی یورپ میں پہلے سے ہی تعینات مغربی عسکری دفاعی اتحاد نیٹو کے فوجیوں میں شامل ہو جائیں گے ۔ جب کہ مزید سترہ سو امریکی فوجی جلد ہی پولینڈ روانہ رہے ہیں۔

    مقامی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ان فوجیوں کی رہائش کا انتظام جاسیوانکا میں کیا گیا ہے، جہاں عارضی شیلٹر ہاؤسز بنائے گئے ہیں۔ علاقے کو رکاوٹیں لگا کر عام شہریوں کی آمدورفت کے لیے بھی بند کر دیا گیا ہے۔

    یاد رہے، پولینڈ میں پہلے سے تعینات امریکی فوجیوں کی تعداد تقریبا ساڑھے چار ہزار بنتی ہے۔ امریکی صدر جو بائیڈن کے مطابق مشرقی یورپ میں نیٹو اتحادی ممالک کی عسکری مدد کے لیے مزید تین ہزار فوجیوں پر مشتمل ایک دستہ روانہ کیا جائے گے۔

    امریکی اور اس کے مغربی اتحادی ممالک کا دعویٰ ہے کہ روس نے یوکرائن کی سرحد پر ایک لاکھ کے لگ بھگ فوجی تعینات کر رکھے ہیں او وہ یوکرائن میں فوجی کارروائی کا منصوبہ رکھتا ہے۔

    تاہم ماسکو حکومت مسلسل ان الزامات کو مسترد کر رہی ہے۔ روس کا کہنا ہے کہ وہ جنگ نہیں چاہتا لیکن اپنے مفادات پر سمجھوتا بھی نہیں کرے گا۔ روسی صدر نے اسی ہفتے کہا کہ مغربی ممالک کے اقدامات ان کو جنگ پر مجبور کررہے ہیں۔

    یوکرائنی صدر وولودومیر زیلنسکی نے حال ہی میں یہ الزام عائد کیا تھا کہ مغربی ممالک روسی حملے کے خطرے کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہے ہیں، جو غلط ہے۔ اسی طرح ترک صدر رجب طیب ایردوان نے بھی اپنے دورہ یوکرائن کے بعد اسی ہفتے کہا تھا کہ یوکرائن پر روسی حملوں کے خطرات کے امریکی تجزیوںکے باعث تناؤمیں شدت آرہی ہے۔

    ترک صدر کا مزید کہنا تھا کہ  مغربی ممالک نے یوکرائنی بحران کو زیادہ سنگین بنایا ہے جبکہ امریکی صدر جو بائیڈن اس تناظر میں مناسب ردعمل ظاہر کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

    یوکرائن بحران پر نیٹو اور روس کے درمیان کشیدگی کے خلاف یورپی جنگ مخالف اتحاد کی جانب سے بیلجیئم کے دارالحکومت برسلز میں ایک احتجاجی مظاہرہ ہوا۔

    مظاہرین نے ممکنہ یوکرائن جنگ اور نیٹو کے خلاف جبکہ ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے نعروں پر مبنی بینر اور پلے کارڈ اٹھائے ہوئے تھے۔مظاہرے کے شرکاء کا کہنا تھا کہ یوکرائن کے مسئلے پر متوقع جنگ امریکی، یورپی اور روسی سامراج کی سازش ہے۔

    احتجاج میں شریک ایک شخص نے کہا کہ یہ جنگ عالمی سرمایہ دارانہ نظام کے عوام دشمن معاشی مفادات کو بے نقاب کر رہی ہے۔ اُنہوں نے الزام عائد کیا کہ دراصل یہ اسلحے کی فروخت کے لیے کی جانے والی جنگ ہے۔

    مظاہرے میں شامل ایک خاتون نے کہا کہ اربوں ڈالرز جنگ کی بجائے اسکولوں، ہسپتالوں اور ویکسینیشن کی تحقیق پر خرچ کرنے چاہئیں اور یوکرائن تنازع بات چیت سے حل کیا جانا چاہیے۔

    روس کی تقریباً ایک لاکھ فوج بھاری فوجی ساز و سامان کے ساتھ یوکرائن کی مشرقی سرحد کے گرد جمع ہے۔ یوکرائن کے مشرقی سرحدی علاقوں میں روسی بولنے والوں کی اکثریت آباد ہے اور وہاں یوکرائن حکومت کے خلاف 2014ء سے شورش جاری ہے۔

    دوسری جانب امریکا اور برطانیہ نے مشرقی یورپ میں نیٹو افواج کو متحرک کرنا شروع کر دیا ہے اور اسٹونیا میں آرٹلری اور جدید جنگی طیارے پہنچا دیے ہیں تاکہ روس کے خلاف کسی ردعمل کے لیے تیار رہا جائے۔

    اِسی تناظر میں مظاہرین کو خدشہ ہے کہ یورپ میں ایک بڑی جنگ کا آغاز ہوسکتا ہے۔

    یورپی جنگ مخالف محاذ کے مظاہرے میں شامل دوسری جنگ عظیم سے متاثرہ ایک شخص کا کہنا تھا کہ مظاہرے میں شرکت کا مقصد یورپی رہنماؤں کو یہ باور کرانا ہے کہ جنگ تباہی اور بربادی کے سوا کچھ نہیں لاتی۔

    مظاہرے میں بچوں سمیت شریک ایک خاندان کا کہنا تھا یورپ دو بڑی جنگوں کا خمیازہ بھگت چکا ہے اور اب مزید کسی جنگ کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

  • اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کی پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے خلاف ایک اورسازش کا انکشاف

    اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کی پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے خلاف ایک اورسازش کا انکشاف

    لاہور(….9251+) :اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کی پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے خلاف ایک اورسازش کا 43 سال بعد انکشاف ،تفصیلات کے مطابق معروف اسرائیلی اخباریروشلم پوسٹ نے خفیہ اداروں کی طرف سے ملنے والے حقائق کومنظرعام پرلاتے ہوئے بڑے بڑے سنگین انکشافات کیئے ہیں‌

    اس حوالے سے یروشلم پوسٹ نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موساد نے 1980 کی دہائی میں پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے خلاف سازش کرتے ہوئے پاکستان کوجوہری ٹیکنالوجی کی فراہمی روکنے کے لیے جرمنی اور سوئٹزرلینڈ کو دھمکیاں دی تھیں‌ جنہوں نے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے نئے جوہری ہتھیاروں کے پروگرام میں مدد کے لیے بھرپور طریقے سے کام کیا۔

    معروف سوئس روزنامہ Neue Zürcher Zeitung (NZZ) نے انکشاف کیا ہے کہ جرمنی اور سوئٹزرلینڈ میں‌ باقاعدہ ان کمپنیوں پرحملےکروائے گئے، ان حملوں کے دومقاصد تھے ایک تو یہ ثآبت کرنا تھا کہ ان حملوں کے پیچھے پاکستان کی حامی قوتوں کا ہاتھ ہوسکتا ہے دوسرا جو اسرائیلی موساد ایجنسی ایک متبادل تاثرپیدا کررہی تھی تو اس کا مطلب یہ تھا کہ پاکستان کو ایٹمی ٹیکنالوجی کی فراہمی کی صورت میں جرمنی اور سوئٹزرلینڈ کوسخت نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا

    معروف سوئس روزنامہ Neue Zürcher Zeitung (NZZ) نےتقریبا 43 سال بعد سال 2022 کے پہلے ہفتے میں اس سازش پرسے پردہ ہٹاتے ہوئے خطرناک حقائق پیش کئے ہیں‌۔ اخبار کے مطابق، "اس بات کے مضبوط شواہد ہیں‌ کہ جرمنی اور سوئٹزرلینڈ کوملنے والی دھمکیوں‌ کے پیچھے موساد کا ہاتھ ہو سکتا ہے۔

    معروف سوئس روزنامہ Neue Zürcher Zeitung (NZZ) نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل نے ان ملکوں کوخبردار کیا تھا کہ اگرجوہری ٹیکنالوجی فراہم کی گئی تو پاکستان بلاشبہ عالم اسلام کی پہلی اسلامی ایٹمی ریاست بن جائے گا جو اسلام کے مقابل دیگرمذاہب کے ماننے والوں کے لیے انتہائی خطرے سے کم نہیں‌

    اخبار نے رپورٹ کیا کہ پاکستان اور اسلامی جمہوریہ ایران نے 1980 کی دہائی میں جوہری ہتھیاروں کے آلات کی تعمیر پر مل کر کام کیا۔ NZZ کے مطابق ایران کے جوہری پروگرام میں مدد کرنے میں جرمنی اور سوئٹزرلینڈ کی کمپنیوں کا گہرا کردار ہے اور یہ تعلق ایران سے آگے بڑھتے ہوئے پاکستان تک جاپہنچتا ہے

    اخبار نے سوئس مؤرخ ایڈریان ہانی کا حوالہ دیا جس نے کہا کہ ممکنہ طور پر موساد سوئس اور جرمن کمپنیوں کے بم حملوں میں ملوث تھی، تاہم، یہ ثابت کرنے کے لیے کوئی "سگریٹ نوشی بندوق” نہیں تھی کہ موساد نے یہ حملے کیے ہیں۔شاید یہی وجہ ہے کہ جنوبی ایشیا میں جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کی تنظیم، جو پہلے سے نامعلوم ادارہ ہے، نے سوئٹزرلینڈ اور جرمنی میں ہونے والے دھماکوں کا کریڈٹ لینے کا دعویٰ کیا ہے۔

    NZZ آنجہانی پاکستانی ایٹمی سائنسدان، عبدالقدیر خان کے کردار پر رپورٹ کیا ہے، جو پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں کے پروگرام کے بانی تھے، جنہوں نے 1980 کی دہائی کے دوران جوہری ہتھیاروں کے آلات کے لیے مغربی اداروں اور کمپنیوں سے ٹیکنالوجی اور بلیو پرنٹس حاصل کرنے کے لیے یورپ کا رخ کیا۔ اخبار نے لکھا ہے کہ خان نے 1987 میں ایران کی جوہری توانائی کی تنظیم کے ایک وفد سے زیورخ کے ہوٹل میں ملاقات کی تھی۔ ایرانی وفد کی قیادت ایران کے نیوکلیئر انرجی کمیشن کے سربراہ انجینئر مسعود نرغی کر رہے تھے۔

    معروف سوئس روزنامہ Neue Zürcher Zeitung (NZZ) نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ اس دوران دو جرمن انجینئرز، گوتھارڈ لیرچ اور ہینز میبس،انجینئر مسعود نرغی کے ساتھ، جنہوں نے امریکہ میں پی ایچ ڈی کی تھی، سوئٹزرلینڈ میں خان کے گروپ سے ملے۔ جبکہ اس سلسلے میں مزید ملاقاتیں متحدہ عرب امارات میں دبئی میں ہوئیں۔

    پاکستان کی جانب سے اپنے جوہری ہتھیاروں کے پروگرام کو تیز کرنے کی کوششوں کے ساتھ، امریکی حکومت نے کامیابی کے بغیر، جرمن اور سوئس حکومتوں کو اپنے ممالک میں ان کمپنیوں کے خلاف کریک ڈاؤن کرنے کی کوشش کی جو پاکستان کی مدد کر رہی تھیں۔ موساد کے مشتبہ ایجنٹوں نے مبینہ طور پر سوئٹزرلینڈ اور جرمنی میں پاکستان کی مدد کرنے والی کمپنیوں اور انجینئرز کے خلاف کارروائی کی۔

    معروف سوئس روزنامہ Neue Zürcher Zeitung (NZZ) نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ پاکستان کے ساتھ مضبوط روابط کا انتقام لینے کے لیے اسرائیلی خفیہ ایجسی موساد نے اس وقت کے برلن میں نامعلوم مجرموں نے ان میں سے تین کمپنیوں پر دھماکہ خیز حملے کیے: 20 فروری 1981 کو کورا انجینئرنگ چور کے ایک سرکردہ ملازم کا گھر؛ 18 مئی 1981 کو مارکڈورف میں Wälischmiller کمپنی کی فیکٹری کی عمارت پر؛ اور آخر کار، 6 نومبر 1981 کو، ایرلانجن میں ہینز میبس کے انجینئرنگ آفس میں۔ تینوں حملوں کے نتیجے میں صرف املاک کو نقصان پہنچا، صرف میبس کا کتا مارا گیا۔

    معروف سوئس روزنامہ Neue Zürcher Zeitung (NZZ) نے یہ بھی دعویٰ‌ کیا ہے کہ اس دوران ” دھماکہ خیز مواد کے حملوں کے ساتھ کئی فون کالز بھی ہوئیں جن میں اجنبیوں نے دیگر ڈیلیوری کمپنیوں کو انگریزی یا ٹوٹے ہوئے جرمن میں دھمکیاں دیں۔ بعض اوقات فون کرنے والا دھمکیوں کو ٹیپ کرنے کا حکم دیتا۔ ‘وہ حملہ جو ہم نے Wälischmiller کمپنی کے خلاف کیا تھا وہ آپ پر بھی ہو سکتا ہے’ – اس طرح Leybold-Heraeus انتظامیہ کے دفتر کو ڈرایا گیا۔ اس وقت کے VAT کے مالک Siegfried Schertler اور اس کے ہیڈ سیلز مین Tinner کو کئی بار بلایا گیا۔ Schertler نے سوئس وفاقی پولیس کو بھی اطلاع دی کہ اسرائیلی خفیہ سروس نے ان سے رابطہ کیا ہے۔ یہ تحقیقاتی فائلوں سے اس بات کی تصدیق بھی ہوتی ہے،

    Schertler نے کہا کہ جرمنی میں اسرائیلی سفارت خانے کے ایک ملازم، جس کا نام ڈیوڈ تھا، نے VAT ایگزیکٹو سے رابطہ کیا۔ کمپنی کے سربراہ نے کہا کہ ڈیوڈ نے ان پر زور دیا کہ وہ جوہری ہتھیاروں کے حوالے سے "یہ کاروبار” بند کر دیں اور ٹیکسٹائل کے کاروبار میں جائیں۔

    سوئس اور جرمن کمپنیوں نے خان جوہری ہتھیاروں کے نیٹ ورک کے ساتھ اپنے کاروبار سے نمایاں منافع حاصل کیا۔ NZZ نے رپورٹ کیا کہ "ان میں سے بہت سے سپلائرز، خاص طور پر جرمنی اور سوئٹزرلینڈ سے، جلد ہی پاکستان کے ساتھ کروڑوں مالیت کے کاروبار میں داخل ہو گئے:

    معروف سوئس روزنامہ Neue Zürcher Zeitung (NZZ) نے یہ بھی دعویٰ‌ کیا ہے کہ اسرائیل کو اس بات کا خوف تھا کہ پاکستان اگرجوہری قوت بن گیا تو اس سے عرب دنیا اوردیگراسلامی ملکوں کو حوصلہ ملے گا اور پھراس کا دباو بلا شبہ اسرائیل اور دیگراسرائیل کے حمایت یافتہ ممالک پرپڑے گا

    معروف سوئس روزنامہ Neue Zürcher Zeitung (NZZ) کا کہنا ہے کہ پاکستان کی خفیہ ایجنسی نے اسرائیل ،امریکہ ، بھارت ، برطانیہ سمیت درجنوں اتحادی ممالک کی خفیہ ایجنسیوں ان کی حکومتوں اور دیگراداروں کو بڑی آسانی سے شکست دے کرپاکستان کوپہلی اسلامی ایٹمی ریاست بنانے میں مرکزی کردار ادا کیا

    معروف سوئس روزنامہ Neue Zürcher Zeitung (NZZ) لکھتا ہے کہ پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی ہی پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی بانی ہے جس نے مختلف اوقات میں اسرائیل ، امریکہ ، برطانییہ ،بھارت اور دیگردرجنوں اتحادی ملکوں کے سارے منصوبوں کوخاک میں ملایا ، اخبار کا یہ بھی کہنا ہے کہ آئی ایس آئی نے اس مقصد کے لیے ڈاکٹرعبدالقدیر خان کے ساتھ ساتھ دیگر بھی کئی خفیہ کردار متحرک کررکھے تھے جن کو آج تک موساد، را ، سی آئی اے ، برطانوی ، فرانسیسی اور دیگرملکوں کی خفیہ ایجنسیاں محسوس اور ڈی ٹیکٹ نہ کرسکیں‌ اور یہی پاکستان کی کامیابی کا سب سے بڑا راز

    معروف سوئس روزنامہ Neue Zürcher Zeitung (NZZ) نے لکھا ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج ہی پاکستان کے ایٹمی اثآثوں کی نگہبان اورمحافظ ہیں،امریکہ اور دیگر اتحادی ممالک پاکستان کی سیاسی حکومتوں کے ذریعے مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کی لیکن جب مسلّح افواج کو اس بات کی خبرملتی کہ سیاسی حکومتوں کے سربراہ امریکہ کوخوش کرنے کے لیے امریکہ اور اتحادیوں کے لیے سہولت کاربن رہے ہیں تو پھرملکی سلامتی اورپہلی ایٹمی اسلامی ریاست کی جوہری قوت کو بچانے کے لیے مجبورا حکومتوں کو ختم کردیا جاتا تھا

  • پاکستان عالمی اورعلاقائی معاملات میں جرمنی کو قدرکی نگاہ سے دیکھتا ہے:آرمی چیف

    پاکستان عالمی اورعلاقائی معاملات میں جرمنی کو قدرکی نگاہ سے دیکھتا ہے:آرمی چیف

    راولپنڈی:پاکستان عالمی اورعلاقائی معاملات میں جرمنی کو قدرکی نگاہ سے دیکھتا ہے،اطلاعات کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ پاکستان عالمی اورعلاقائی معاملات میں جرمنی کے کردار کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ آئی ایس پی آر کے ترجمان کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے جرمنی کے خصوصی نمائندے برائے پاکستان افغانستان کی ملاقات۔ ملاقات کے دوران باہمی دلچسپی کے اموراور علاقائی سلامتی کے امور پر بات چیت ہوئی۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے افغانستان میں امن اور مفاہمت کے اقدامات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان جرمنی کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کو بڑھانے کا خواہاں ہے۔ افغانستان میں انسانی المیے کو روکنے کیلئے امداد پہنچانے کے لئے فوری طور پر ادارہ جاتی طریقہ کار وضع کرنے کی فوری ضرورت ہے۔

    آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ ملاقات میں افغانستان کی موجودہ صورتحال بالخصوص انسانی امداد میں تعاون، شراکت داری پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ جرمن نمائندے نے افغان صورتحال میں پاکستان کے کردار، علاقائی استحکام کے لیے خصوصی کوششوں کو سراہتے ہوئے پاکستان کے ساتھ ہر سطح پر سفارتی تعاون میں مزید بہتری کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کا عہد کیا۔

  • انجیلا میرکل کا 16 سالہ دور اقتدارختم :اولاف شولس جرمنی کے نئے چانسلر منتخب

    انجیلا میرکل کا 16 سالہ دور اقتدارختم :اولاف شولس جرمنی کے نئے چانسلر منتخب

    برلن :انجیلا میرکل کا16 سالہ دور اقتدارختم :اولاف شولس جرمنی کے نئے چانسلر منتخب،اطلاعات کے مطابق اولاف شولز جرمنی کے نئے چانسلر منتخب ہو گئے، اس کے ساتھ ہی خاتون رہنما انجیلا میرکل کا16 سالہ دور اقتدار بھی اپنے اختتام کو پہنچ گیا۔

    سوشل ڈیموکریٹ اولاف شول نے جرمنی کے نئے چانسلر کے طور پر عہدے کا حلف اٹھا لیا۔ انہوں نے سبکدوش ہونے والی انگیلا مرکل کو گلدستہ پیش کر کے انہیں رخصت کر دیا۔63 سالہ شولز مرکل کی حکومت میں بطور وائس چانسلر اور وزیر خزانہ خدمات انجام دے چکے ہیں۔

    جرمنی کی نئی مخلوط حکومت یورپی اتحاد کی حامی ہے اور ماحول دوست سرمایہ کاری میں اضافہ چاہتی ہے۔ جرمنی میں سوشل ڈیموکریٹ اولاف شولس واضح اکثریت سے نئے چانسلر منتخب ہو گئے ۔ نئے وزرا بھی جلد ہی اپنے اپنے عہدوں کا حلف اٹھا لیں گے۔

    وہ اس عہدے کے لیے واحد امیدوار تھے۔ اس کے ساتھ ہی خاتون رہنما انجیلا مرکل کا 16سالہ دور اقتدار بھی اپنے اختتام کو پہنچ گیا ہے۔

  • امریکی بھی سندھی ثقافت کے دلدادہ نکلے:سندھی کلچرل ڈے: امریکی قونصل جنرل نے کمال کردکھایا

    امریکی بھی سندھی ثقافت کے دلدادہ نکلے:سندھی کلچرل ڈے: امریکی قونصل جنرل نے کمال کردکھایا

    کراچی :امریکی بھی سندھی ثقافت کے دلدادہ نکلے:سندھی کلچرل ڈے: امریکی قونصل جنرل کی سندھی زبان میں مبارکباد ،اطلاعات کے مطابق کراچی سمیت سندھ بھر میں سندھی ثقافت کا دن بھرپور جوش و خروش سے منایا جارہا ہے، سندھی ثقافتی دن کے موقع پر جرمن قونصل جنرل بھی ثقافتی رنگوں میں رنگ گئے۔

    تفصیلات کے مطابق کراچی سمیت سندھ کے تمام ہی علاقوں میں سندھی ثقافت کا دن جوش وخروش کے ساتھ منایا جارہا ہے بچے، بوڑھے، نوجوان اور خواتین کی جانب سے اپنی ثقافت سے محبت بھرپور اظہار کیا جارہا ہے۔

     

     

    سندھی کلچر ڈے کے موقع پر صوبے کے مختلف شہروں میں سماجی و سیاسی تنظیموں اور پریس کلب کے تعاون سے راگ و رنگ کی محافل، مشاعرہ ، لوک گیتوں پر رقص کی تقاریب کا انعقاد کیا جارہا ہے۔

     

    سندھی ثقافتی دن کے موقع پر جرمن قونصل جنرل بھی ثقافتی رنگوں میں رنگ گئے،جرمن قونصل جنرل ہال گرزیگلر نے جرمن پرچم کے رنگوں پر مشتمل سندھی ٹوپی پہن کر سندھی ثقافت اور پاک جرمن دوستی زندہ باد کا پیغام دیا۔

    ادھر امریکی قونصل جنرل نے بھی سندھی زبان میں کلچرل ڈے کی مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ سندھ صوفیوں کی سرزمین ہے، جنہوں نے یہاں امن قائم کرنے میں کردار ادا کیا، سندھ کے تمام باسیوں کو کلچرل ڈے کی مبارکباد۔

     

    کراچی ،سکھر ، حیدرآباد، جیکب آباد، دادو، نواب شاہ، پڈعیدن اور خیرپور میں بھی ریلیاں نکالی جارہی ہیں جس میں نوجوان، بچے سندھی اجرک ٹوپی پہنے بھرپور انداز میں شریک ہیں۔

    واضح رہے کہ سندھی ثقافت کی ایک خوبصورت پہچان دیگر سوغاتوں کے علاوہ سندھی ٹوپی اوراجرک بھی ہے، یہاں کے رہنے والے مہمانوں کوسندھی ٹوپی اوراجرک تحفتاً دے کر اپنی محبت کا دل سے اظہار کرتے ہیں۔

  • عالمی جونیئر ہاکی کپ،جرمنی پہلے میچ میں فاتح

    عالمی جونیئر ہاکی کپ،جرمنی پہلے میچ میں فاتح

    عالمی جونیئر ہاکی کپ،جرمنی پہلے میچ میں فاتح

    انٹرنیشنل ہاکی فیڈریشن کے زیراہتمام عالمی جونیئر ہاکی کپ میں اپنے پہلے میچ میں جرمنی نے پاکستان کو 2-5 گول سے شکست دیدی۔

    انڈیا کے شہر بھوبنیشور میں جاری عالمی جونیئر ہاکی کپ کے پہلے روز پاکستان اور جرمنی کا میچ دلچسپ رہا، دونوں ٹیموں کی جانب سے بہترین اور برق رفتار کھیل کا مظاہرہ کیا گیا۔ جرمن ٹیم نے کھیل کے ابتدائی لمحات میں ہی اپنے کھلاڑی سٹروتھ آف کی مدد سے فیلڈ گول سکور کردیا۔ جرمنی ٹیم کی جانب سے دوسرا فیلڈ گول ڈک شیئر نے ساتھی کھلاڑی کے پاس پر کیا اور جرمنی کی برتری کو مستحکم بنایا۔ پاکستان جونیئرز ہاکی ٹیم نے کم بیک کرتے ہوئے کھیل کے 18 ویں منٹ میں عبدالحنان شاہد کے ذریعہ فیلڈ گول سکور کیا اور ایک گول کے خسارہ کو کم کیا۔

    جرمنی ٹیم کے کھلاڑی سیج برگ نے کھیل کے 19ویں منٹ میں فیلڈ گول سکور کیا جبکہ شوارزہاٹ نے کھیل کے 22ویں منٹ میں پینلٹی کارنر اور ڈک شیئر نے کھیل کے 54ویں منٹ میں فیلڈ گول سکور کیا جبکہ پاکستان جونیئرز ہاکی ٹیم کے فارورڈ حماد انجم نے کھیل کے 49ویں منٹ میں فیلڈ گول سکور کیا۔پاکستان جونیئر ہاکی ٹیم 27 نومبر کو پاکستانی وقت کے مطابق 9:00 بجے دن مصر کے خلاف اپنے پول کا دوسرا میچ کھیلے گی

    قبل ازیں قومی ہاکی ٹیم جونئیر عالمی کپ میں شرکت کے لیے بھارت پہنچی تو دہلی میں بھارت میں تعینات پاکستان ہائی کمشنر آفتاب حسن نے استقبال کیا۔ جس کے بعد انہوں نے جونیئر ہاکی ورلڈ کپ میں شرکت کیلئے پاکستان مینز جونیئر ہاکی ٹیم کا ناظم الامور آفس میں خیرمقدم کیا اورٹیم کے اعزازمیں ظہرانے کا اہتمام کیا ۔ جونیئر ہاکی ورلڈ کپ 24 نومبر سے 5 دسمبر بھوبنیسور، اڑیسہ میں منعقد ہوگا۔ اس موقع پر انہوں نے ہاکی ورلڈ کپ میں پاکستان کی ٹیم کی کامیابی کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

  • جرمن شہر ہالے میں فائرنگ، دو افراد ہلاک ،حملے کو لائیودکھایا

    جرمن شہر ہالے میں فائرنگ، دو افراد ہلاک ،حملے کو لائیودکھایا

    بالے : یورپ کے دیگر ملکوں‌کی طرح جرمنی میں‌بھی شرپسندی اور فتنہ پروری بڑھنے لگی ہے ، اطلاعات کےمطابق مشرقی جرمن شہر ہالے میں ہونے والی فائرنگ میں کم از کم دو افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ فائرنگ کے مقام کے نزدیک یہودیوں کی عبادت گاہ بھی واقع ہے۔ ایک مشتبہ حملہ آور کو حراست میں لینے کا بتایا گیا ہے۔

    اب سعودی خواتین سرحدوں کی حفاظت کریں گی ، محمد بن سلمان کا انوکھا فیصلہ

    ابتدائی اندازوں کے مطابق فائرنگ کے اس واقعے میں ایک سے زائد افراد شامل ہو سکتے ہیں۔ یہ بتایا گیا ہے کہ فائرنگ کرنے والے ایک گاڑی میں سوار تھے۔ وفاقی جرمن صوبے سیکسنی انہالٹ میں ایک سڑک پر فائرنگ کا یہ واقعہ بدھ نو اکتوبر کی دوپہر پیش آیا۔ https://youtu.be/sLGBcXIPthU

    آزادی نہیں فسادی مارچ ،توڑ پھوڑ کے منصوبے ، ریاست کے خلاف شرارت ہے ، شوکت یوسفزئی

    یہ امر اہم ہے کہ یہ فائرنگ ہالے شہر کے علاقے پاؤلوس فیئرٹل میں کی گئی اور قریب ہی یہودی عبادت گاہ بھی واقع ہے۔ اس کے علاوہ فائرنگ ایسے موقع پر ہوئی ہے جب مقامی یہودی آبادی اپنا انتہائی مذہبی مقدس تہوار یوم کِپر منانے میں مصروف تھی۔ بعض متضاد رپورٹوں کے مطابق اس فائرنگ کے بعد یہودیوں کے ایک مقامی قبرستان میں دھماکے کی آواز بھی سنی گئی۔

    اقوام متحدہ بھی کنگال، پیسےمک گئے ،سیکرٹری جنرل نے پردہ چاک کردیا

    تازہ اطلاعات کے مطابق پولیس نے بتایا ہے کہ موقع سے فرار ہو جانے والے ملزمان میں سے ایک کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ جس شخص کو حراست میں لیا گیا ہے، اُس نے جنگی مشن میں شامل ہونے والے انداز کی فوجی طرز کی وردی پہن رکھی ہے۔