Baaghi TV

Tag: جسٹس منصور

  • جسٹس منصور علی شاہ کا سیکرٹری جوڈیشل کمیشن کو ایک اور خط

    جسٹس منصور علی شاہ کا سیکرٹری جوڈیشل کمیشن کو ایک اور خط

    سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس منصور علی شاہ نے سیکرٹری جوڈیشل کمیشن کو ایک اور خط ارسال کر دیا، جس میں ججز کی سنیارٹی کے تعین کے معاملے پر گہرے تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق جسٹس منصور شاہ نے خط گزشتہ روز کے اجلاس سے پہلے لکھا، خط میں ججز کی سنیارٹی کے تعین کے معاملے پر گہرے تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے،خط میں ججز سنیارٹی بغیر مشاورت طے کرنے پر سوالات اٹھائے گئے، جسٹس منصور علی شاہ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ججز کی سنیارٹی جیسے اہم اور حساس معاملے پر چیف جسٹس یا دیگر متعلقہ حکام سے کوئی مشاورت نہیں کی گئی، جو آئین کے تقاضوں کے برخلاف ہے،صدر سنیارٹی طے کرنے سے پہلے چیف جسٹس سے مشاورت کے پابند تھے۔

    جسٹس منصور نے اپنے خط میں واضح کیا کہ آئین کے آرٹیکل 200 کے تحت مشاورت لازم تھی، خط میں کہا گیا کہ صدر مملکت نے جلدبازی میں خود ہی سنیارٹی طے کردی ،خط میں نشاندہی کرتے ہوئے کہا گیا کہ معاملہ پہلے ہی انٹرا کورٹ اپیل میں زیر التوا بھی ہے،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ میری رائے میں مشاورت لازم تھی۔

  • موسمیاتی تبدیلی پر قابو پانے کیلئے ایک آزاد اور مضبوط عدلیہ کی ضرورت ہے،جسٹس منصور

    موسمیاتی تبدیلی پر قابو پانے کیلئے ایک آزاد اور مضبوط عدلیہ کی ضرورت ہے،جسٹس منصور

    اسلام آباد: سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس منصور علی شاہ نے کہا ہےپاکستان دنیا کے پانچ ممالک میں شامل ہے جنہیں موسمیاتی تبدیلیوں کا سامنا ہے۔

    باغی ٹی وی : کنونشن سینٹر اسلام آباد میں ”بریتھ پاکستان“ کے عنوان سے منعقدہ عالمی موسمیاتی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ پاکستان موسمیاتی تباہی کے تناظر میں فرنٹ لائن اسٹیٹ ہے اور دنیا کے ان پانچ ممالک میں شامل ہے جو شدید موسمی حالات، گلیشیئرز کے پگھلاؤ، پانی کی قلت اور تباہ کن سیلابوں سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔

    جسٹس منصور علی شاہ نے 2022 کے تباہ کن سیلابوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس قدرتی آفت نے ملک کے ایک تہائی حصے کو ڈبو دیا تھا، جس کے نتیجے میں 3 کروڑ 30 لاکھ افراد بے گھر ہوئے اور پاکستان کو 30 ارب ڈالر کے نقصانات کا سامنا کرنا پڑا شدید گرمی کی لہر، خشک سالی اور جیکب آباد جیسےعلاقوں میں 50 ڈگری سینٹی گریڈ سے زائد درجہ حرارت بعض مقامات کو ناقابل رہائش بنا رہے ہیں موسمیاتی تبدیلی کے باعث صحت کے مسائل بڑھ رہے ہیں، جبکہ توانائی اور پانی کے وسائل پر بھی دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔

    کلائمیٹ چینج ایک بڑا چیلنج ہے، صو بو ں کو ان کا شئیر دینا چاہیے، علی امین گنڈا پور

    انہوں نے کہا کہ پاکستان ہندوکش و ہمالیہ کے گلیشئیر پر انحصار کرتا ہے یہ گلیشیئر تیزی سے پگھل رہے ہیں ملک کو پانی کے مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جس سے دریائے سندھ اور ملکی زرعی نظام کو شدید خطرات لاحق ہیں اور ملک کو فوڈ ان سیکیورٹی، خشک سالی، ہیٹ ویوو کا سامنا ہے ہمیں کلائمیٹ جسٹس پر کام کرنا ہوگا، موسمیاتی تبدیلی پر قابو پانے کے لئے ایک آزاد عدلیہ اور مضبوط عدلیہ کی ضرورت ہے، کلائمیٹ فائنانس اور کلائمیٹ سائنس کی ضرورت ہے، مقامی سطح پر موسمیاتی تبدیلی پر کام کرنے کی بھی اشد ضرورت ہے، کلائمیٹ کورٹ کی بہت ضرورت ہے۔

    چیمپیئنز ٹرافی 2025 :آسٹریلیا کے بڑے کھلاڑی ٹورنامنٹ سے باہر

    جسٹس منصور کا کہنا تھا کہ آلودگی پھیلانے والے بارڈر سے باہر بھی بیٹھے ہیں، کلائمیٹ جسٹس کو ایک وسیع تناظر میں دیکھا جانا چاہیے کلائمیٹ جسٹس میں کمیشن نئی چیز ہے، قرآن پاک میں بھی ماحولیاتی تحفظ کا درس دیا گیا ہےاسلام اصراف سے منع کرتا ہے کلائمیٹ چینج عدالت کا بھی مسئلہ ہے کلائمیٹ چینج کے معاملے میں جوڈیشری کا کام صرف سزائیں دینا نہیں ہے پاکستانی عدالتیں ماحولیاتی تحفظ کے حوالے سے حکومت کو ہدایات دیتی رہی ہیں-

    چیمپیئنز ٹرافی 2025 :آسٹریلیا کے بڑے کھلاڑی ٹورنامنٹ سے باہر

    انہوں نے کہا کہ بیرونی امداد پر انحصار کرنے کے بجائے ہمیں مقامی حل پر سرمایہ کاری کرنی چاہیے، تاکہ ماحولیاتی بحران سے نمٹنے میں زیادہ مؤثر اقدامات کیے جا سکیں ماحولیاتی احتساب کو یقینی بنانے اور خصوصی ماحولیاتی عدالتوں کا قیام وقت کی ضرورت ہے تاکہ ماحولیاتی انصاف کو یقینی بنایا جا سکے۔

    جسٹس منصور نے کہا کہ کلائمیٹ جسٹس آج کل کلائمیٹ فنانس سے جڑی ہوئی ہے دو دن پہلے سپریم کورٹ نے ایک فیصلہ دیا ہے اس فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کلائمیٹ فنانسنگ بنیادی حقوق میں شامل ہے، میرے علم میں نہیں کہ تین ارب ڈالر جو سیلاب زدگان کیلئے آئے وہ متاثرین تک پہنچے یا نہیں ہمارے ملک میں کلائمیٹ چینج اتھارٹی اور کلائمیٹ چینج فنڈ نہیں ہے، ایک سائل ہمارے پاس آیا اور کہا کہ 2017ء میں قانون بنا اور قانون بننے کے باوجود تاحال نہ کلائمیٹ چینج اتھارٹی بنی اور نہ ہی فنڈ قائم ہوا۔

    کراچی:حادثات میں اضافہ، غیر قانونی اور غیر رجسٹرڈ ڈمپرز کے خلاف آپریشن کا فیصلہ

  • قانونی تشریح کا مقدمہ جسٹس منصور کے بینچ میں فکس کرنے پر جواب طلب

    قانونی تشریح کا مقدمہ جسٹس منصور کے بینچ میں فکس کرنے پر جواب طلب

    اسلام آباد: سپریم کورٹ کے رجسٹرار نے قانونی تشریح کا مقدمہ جج جسٹس منصور علی شاہ کے ریگولر بینچ میں فکس کرنے پر سپریم کورٹ فکسر برانچ کے افسران کو شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے وضاحت طلب کرلی۔

    باغی ٹی وی: ذرائع کے مطابق سپریم کورٹ کے جسٹس منصور علی شاہ کے کیس کے معاملے میں بڑی پیشرفت ہوئی ہےسپریم کور ٹ کے رجسٹرار آفس نے جسٹس منصور علی شاہ کے ریگولر بینچ میں قانونی تشریح کا مقدمہ فکس کرنے پر فکسر برانچ کے افسران کو شوکاز نو ٹس جاری کردیئے اور افسران سے شوکاز نوٹس پر 7 روز میں جواب مانگ لیا۔

    ذرائع کے مطابق شوکاز نوٹس میں لکھا گیا ہے کہ آئینی بینچ کا مقدمہ جسٹس منصور علی شاہ کے ریگولر بینچ میں کیسے لگ گیا، اس پر افسران وضاحتی جواب جمع کرائیں جسٹس منصورعلی شاہ کے بینچ نےکسٹم ڈیوٹی ایکٹ کاآرٹیکل 191A تناظر میں سننے کافیصلہ کیاتھا تاہم پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی نے کسٹم ڈیوٹی کا مقدمہ آئینی بینچ کو بھجوا دیا تھا۔

    فلسطینیوں کی بے دخلی غیر منصفا نہ قدم،مصر اس میں شریک نہیں ہوگا،مصری صدر

    کورونا وائرس، چین نے امریکی سینٹرل انٹیلیجنس کی رپورٹ مسترد کر دی

    این ایچ اے کی خالی جگہوں کے کمرشل استعمال کیلئے کمیٹی قائم

  • عدالتوں کو ہی انصاف کی فراہمی کا واحد ذمہ دار نہیں سمجھنا چاہیے،جسٹس منصور علی شاہ

    عدالتوں کو ہی انصاف کی فراہمی کا واحد ذمہ دار نہیں سمجھنا چاہیے،جسٹس منصور علی شاہ

    کراچی: سپریم کورٹ کے سینئیر جج جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ عدالتوں کو ہی انصاف کی فراہمی کا واحد ذمہ دار نہیں سمجھنا چاہیئے ، پاکستان میں انصاف کی فراہمی میں تاخٰر سے نمٹنے کیلئے ایک متبادل حل کی ضرورت ہے۔

    باغی ٹی و ی: سپریم کورٹ کے سینئیر جج جسٹس منصور علی شاہ نے کراچی میں انسٹیٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن (آئی بی اے) میں تنازعات کے متبادل حل کے موضوع پر منعقدہ سیمینار میں تنازعات کے متبادل حل کے موضوع پر منعقدہ سیمینار میں ملک میں انصاف کی فراہمی، عدالتی نظام میں تاخیر، اور تنازعات کے متبادل حل پر تفصیلی گفتگو کی۔

    انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں اس وقت 24 لاکھ کیسز زیر التوا ہیں، جن میں سے 86 فیصد کیسز ضلعی عدالتوں میں ہیں، ملک میں ایسا رجحان عام ہے کہ جب بھی کسی کو کوئی مسئلہ درپیش ہوتا ہے، وہ فوراً عدالت سے رجوع کرلیتا ہے اور اسٹے آرڈر حاصل کرلیتا ہے، جس سے عدالتی نظام پر دباؤ مزید بڑھ جاتا ہے۔

    جی ایچ کیو حملہ کیس، مشعال یوسفزئی کے عدالت داخلے پر پابندی

    جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ عوام کو آگاہی دینا ضروری ہے کہ عدالتوں کے علاوہ بھی ثالثی (Mediation) اور مصالحت کے ذریعے تنازعات حل کیے جا سکتے ہیں تنازعات کے حل کے لیے فوری طور پر عدالت آنے کے بجائے پہلے ثالثی کی کوشش کرنی چاہیے اور اگر یہ طریقہ کارگر نہ ہو، تب عدالت کا رخ کرنا چاہیے دنیا میں اوسطاً 90 ججز فی ملین افراد کے لیے موجود ہیں، جبکہ پاکستان میں یہ تعداد صرف 13 ججز فی ملین ہے اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ہمارے عدالتی نظام پر کس قدر دباؤ ہے۔

    جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ عدالتوں پر مقدمات کی بھرمار ہونے کے باعث معمولی نوعیت کے کیسز بھی تاخیر کا شکار ہو جاتے ہیں ، جس سے سائلین کو بروقت انصاف نہیں مل پاتا لاہور سمیت دیگر شہروں میں بھی فیملی اور سول سروس سے متعلق معاملات تاخیر کا شکار ہیں عدالتی نظام میں بہتری لانے کے لیے ضروری ہے کہ متبادل تنازعاتی حل کے ادارے قائم کیے جائیں تاکہ صلح اور مصا لحت کی روایت کو فروغ دیا جا سکے۔

    ملک بھر میں انسداد اسمگلنگ آپریشنز جاری، کروڑوں روپے مالیت کی منشیات برآمد

    جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ اگر ہر شخص عدالت سے اسٹے آرڈر لے گا تو ملک کی معیشت کیسے چلے گی؟ ان کے مطابق، حکم امتناع اور ضمانتوں پر انحصار کر کے قومیں ترقی نہیں کرتیں، بلکہ انہیں دیرپا اور مؤثر انصاف کی فراہمی کے لیے منظم عدالتی نظام تشکیل دینا ہوتا ہے،عدالتوں میں وکلاء کی ہڑتالیں اور تاخیری حربے انصاف میں تاخیر کا سبب بنتے ہیں۔

    جسٹس منصور علی شاہ نے زور دیا کہ عدالتوں کو ہی انصاف کی فراہمی کا واحد ذمہ دار نہیں سمجھنا چاہیے انصاف کی بروقت اور مؤثر فرا ہمی کے لیے ضروری ہےکہ میڈیئشن، آربٹریشن اور دیگر متبادل طریقے اپنائےجائیں، تاکہ عدالتوں پر بوجھ کم ہو اور عوام کو جلد انصاف مل سکے، ثالثی اور مصالحتی نظام کو فروغ دینے سے عدالتی نظام میں بہتری آئے گی اور عوام کو غیر ضروری قانونی پیچیدگیوں سے نجات ملے گی۔

    مفت بجلی کا فی سرکاری ملازم کا خرچہ 6 ہزار روپے ہے،وزیر توانائی

    تقریب سے لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس جواد حسن نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہے جہاں تنازعات کے متبادل حل کا باضابطہ قانون موجود ہے پاکستان دنیا کے تین ممالک میں شامل ہے جہاں ثالثی کے حوالے سے عدالتی احکامات جاری کیے جا چکے ہیں، جو کہ تنازعات کے جلد اور مؤثر حل کے لیے اہم پیشرفت ہے دنیا بھر میں ثالثی عموماً رضاکارانہ بنیادو ں پر کی جاتی ہے، اور پاکستان میں بھی اس رجحان کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔

    جسٹس جواد حسن نے کہا کہ جسٹس منصور علی شاہ نے تنازعات کے متبادل حل پر اپنی تفصیلی تحقیق اور عدالتی فیصلوں پر روشنی ڈالی ہے ثالثی کو فروغ دے کر عدالتوں پر مقدمات کا بوجھ کم کیا جا سکتا ہے اور سائلین کو جلد اور مؤثر انصاف فراہم کیا جا سکتا ہے آئین کے مطابق سپریم کورٹ کے احکامات ملک کی تمام ماتحت عدالتوں پر لاگو ہوتے ہیں، لہٰذا ثالثی کے عمل کو مزید مؤثر بنانے کے لیے تمام عدالتی سطحوں پر اس کے فروغ کی ضرورت ہے۔

    امریکا کے جدید ترین فائٹر جیٹ ایف 35 کو خوفناک حادثہ،پائلٹ محفوظ

    جسٹس جواد حسن نے زور دیا کہ پاکستانی عدالتوں کو چاہیے کہ وہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کو غیر ضروری قانونی کارروائیوں سے بچاتے ہوئے ثالثی کے عمل کے ذریعے ان کا اعتماد بحال کریں اس طریقے سے کاروباری برادری اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے لیے ایک محفوظ اور سازگار ماحول فراہم کیا جا سکتا ہے۔

    سیمینار کے دوران ماہرین قانون نے اس بات پر اتفاق کیا کہ تنازعات کے متبادل حل کے طریقے جیسے کہ ثالثی، مصالحت اور آربٹریشن (Arbitration) کو زیادہ فعال بنانے کی ضرورت ہے، تاکہ عدالتی نظام پر بڑھتے ہوئے بوجھ کو کم کیا جا سکے اور عوام کو فوری انصاف کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔

    سیکیورٹی فورسز نے قلعہ عبداللہ میں چوکی پر حملے کی کوشش ناکام بنادی، پانچوں دہشتگرد ہلاک

  • ججز کمیٹی جوڈیشل آرڈر کو نظر انداز کریں تو معاملہ فل کورٹ میں جا سکتا ،جسٹس منصور علی شاہ

    ججز کمیٹی جوڈیشل آرڈر کو نظر انداز کریں تو معاملہ فل کورٹ میں جا سکتا ،جسٹس منصور علی شاہ

    سپریم کورٹ میں بینچز کے اختیارات کے کیس سماعت کے لیے مقرر نہ کرنے پر توہینِ عدالت کے کیس میں ایڈیشنل رجسٹرار سپریم کورٹ نذر عباس نے شوکاز نوٹس کا جواب عدالت میں جمع کروا دیا۔

    بینچز کے اختیارات کا کیس سماعت کے لیے مقرر نہ کرنے پر توہینِ عدالت کیس کی سماعت جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس عقیل عباسی پر مشتمل بینچ نے کی، ایڈیشنل رجسٹرار نذر عباس نے عدالت سے شوکاز نوٹس واپس لینے کی استدعا کر دی،ایڈیشنل رجسٹرار نذر عباس نے کہا ہے کہ عدالتی حکم کی نافرمانی نہیں کی، عدالتی حکم پر بینچ بنانے کے معاملے پر نوٹ بنا کر پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی کو بھجوا دیا تھا،عدالت نے کہا کہ ہمارے سامنے بنیادی سوال یہ ہے کہ جوڈیشل آرڈر کی موجودگی میں ججز کمیٹی کیس واپس لے سکتی تھی؟عدالتی معاون وکیل حامد خان نے کہا کہ کچھ ججز کو کم اختیارات ملنا اور کچھ کو زیادہ، ایسا نہیں ہو سکتا۔

    جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ یہ سوال الگ ہے، اگر ہم آرٹیکل 191 اے کی تشریح کا کیس سنتے تو یہ سوال اٹھایا جا سکتا تھا، ہمارے سامنے کیس ججز کمیٹی کے واپس لینے سے متعلق ہے، چیف جسٹس پاکستان اور جسٹس امین الدین خان ججز کمیٹی کا حصہ ہیں، بادی النظر میں دو رکنی ججز کمیٹی نے جوڈیشل آرڈر کو نظر انداز کیا، اگر ججز کمیٹی جوڈیشل آرڈر کو نظر انداز کریں تو معاملہ فل کورٹ میں جا سکتا ہے، اس سوال پر معاونت دیں،جسٹس عقیل عباسی نے کہا کہ بظاہر لگتا ہے اس معاملے پر کنفیوژن تو ہے، جسٹس عقیل عباسی نے حامد خان سے سوال کیا کہ آپ آرٹیکل 191 اے کو کیسے دیکھتے ہیں؟ ماضی میں بینچز ایسے بنے جیسے معاملات پر رولز بنانا سپریم کورٹ کا اختیار تھا، اب سپریم کورٹ کے کچھ اختیارات ختم کر دیے گئے ہیں، 26ویں آئینی ترمیم کا سوال آجائے گا،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ کیا کسی ملک میں بینچز عدلیہ کے بجائے ایگزیکٹو بناتا ہے؟ کوئی ایک مثال ہو؟وکیل حامد خان نے کہا کہ بینچز عدلیہ کے بجائے ایگزیکٹو بنائے ایسا کہیں نہیں ہوتا۔جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ 191 اے کے تحت آئینی بینچ جوڈیشل کمیشن بنائے گا۔جسٹس عقیل عباسی نے کہا کہ 191 اے کو سامنے رکھیں تو کیا یہ اوور لیپنگ نہیں ہے؟

    وکیل حامد خان نے کہا کہ پارلیمنٹ سپریم کورٹ کے اختیارات کو کمزور نہیں کر سکتی۔جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ اگر کمیٹی جوڈیشل آرڈر فالو نہیں کرتی تو پھر کیا ہو گا؟ عدالتی معاون وکیل حامد خان نے کہا کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی کے پاس آئینی بینچ کے کیسز مقرر کرنے کا اختیار ہے۔جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ راجہ عامر کیس میں بھی فل کورٹ بنا تھا۔حامد خان نے کہا کہ پارلیمنٹ قانون سازی سے سپریم کورٹ کے علاوہ ہر عدالت کے دائرہ اختیار کا فیصلہ کر سکتی ہے، پارلیمنٹ سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار کو کم نہیں کر سکتی۔جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ آرٹیکل 2 اے کے تحت پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی کیس واپس لے سکتی ہے یا نہیں؟ کیا پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی جوڈیشل آرڈر کو نظر انداز کر سکتی ہے؟ وکیل حامد خان نے کہا کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی کے جوڈیشل آرڈر کو نظر انداز کرنے والی صورتِ حال نہیں ہونی چاہیے،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ سپریم کورٹ رولز 1980ء کے تحت فل کورٹ چیف جسٹس بنائیں گے یا پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی؟ کیا جوڈیشل آرڈر سے فل کورٹ کی تشکیل کے لیے معاملہ ججز کمیٹی کو بھجوایا جاسکتا ہے؟،وکیل حامد خان نے کہا کہ پارلیمنٹ عدلیہ کے اختیارات بڑھا سکتی ہے، کم نہیں کر سکتی، آرٹیکل 191 اے میں آئینی بینچز کا ذکر ہے، سپریم کورٹ میں ایک آئینی بینچ کا ذکر نہیں، کم از کم 5 ججز پر مشتمل ایک آئینی بینچ ہو سکتا ہے، اس صورتِ حال میں 3 آئینی بینچز بن سکتے ہیں، جو سینئر ہو گا وہی بینچ کا سربراہ ہو گا، آرٹیکل 191 اے ججز کمیٹی کے سیکشن 2 اے سے ہم آہنگ نہیں اس لیے خلاف آئین ہے۔

    فیصلہ تو آئینی بینچ کرتا ہے ہم تو یہاں گپ شپ کے لئے بیٹھے ہیں ہم کونسا آئینی بنچ ہیں۔جسٹس منصور علی شاہ
    سپریم کورٹ میں جسٹس منصور علی شاہ اور احسن بھون کے درمیان دلچسپ مکالمہ ہوا،جسٹس منصورعلی شاہ نے کہا میں شکر گزار ہوں آپ ایک دن کے نوٹس پر تشریف لائے،احسن بھون بولے جناب کا حکم تھا،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ آپ کا شکریہ آپ تو ہمارا حکم مانتے ہیں ،جس پر عدالت میں قہقے لگ گئے،احسن بھون نے کہا کہ ماضی کے تجربات کو مدنظر رکھتے ہوئے مجھے امید ہے آپ کوئی آئین کے منافی فیصلہ نہیں کریں گے، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ فیصلہ تو آئینی بینچ کرتا ہے ہم تو یہاں گپ شپ کے لئے بیٹھے ہیں ہم کونسا آئینی بنچ ہیں۔ عدالت میں دوبارہ قہقے لگ گئے،

    عدالتی معاونین شاہد جمیل،ایڈووکیٹ حامد خان اور منیر اے ملک نے فل کورٹ بنانے کی حمایت کر دی،حامد خان نے کہا کہ پارلیمنٹ عدلیہ کے اختیارات بڑھا سکتی ہے، کم نہیں کر سکتی،

    جسٹس منصور علی شاہ اور احسن بھون کے درمیان دلچسپ مکالمہ ہوا، احسن بھون نے کہا کہ آپ ججز کمیٹی کا حصہ ہیں، آپ بیٹھیں یا نہ بیٹھیں یہ الگ بات ہے،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ میں تو جوڈیشل کمیشن کا بھی ممبر ہوں، احسن بھون نے کہا کہ جوڈیشل کمیشن اجلاس میں ججز بھی لگائے جا رہے ہیں، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ہم جو ججز نامزد کرتے ہیں انھیں تو ایک ہی ووٹ ملتا ہے وہ بھی ہمارا ہی ہوتا ہے،باقیوں کو گیارہ گیارہ ووٹ پڑ جاتے ہیں،

    کیس واپس ہونے لگے تو یہ عدلیہ کی آزادی کے منافی ہے،جسٹس منصور علی شاہ
    بیرسٹر صلاح الدین نے فل کورٹ بنانے کے حوالے سے عدالتی فیصلوں کا حوالہ دیا تو جسٹس منصور علی شاہ نے کہا مجھے یہ بھی بتادیں کہ ان فیصلوں پر عمل ہوا تھا؟کیا فل کورٹ بنائی گئی تھی تو صلاح الدین بولے بلکل ہوا تھا۔ جسٹس منصور علی شاہ بولے ہم فل کورٹ کا فیصلہ دے کر بیٹھ جائیں فیصلہ کہیں ادھر ادھر پڑا رہے عمل درآمد ہو نہ اس پر تو فائدہ،کمیٹی کے پاس کیس واپس لینے کا اختیار کدھر سے آگیا۔کیس ہمارے سامنے کمیٹی نے لگایا۔اس طرح سے کیس واپس ہونے لگے تو یہ عدلیہ کے آزادی کے منافی ہے،اگر ہم کوئی فیصلہ دیتے تو نظر ثانی میں بڑا بینچ بنا دیتے۔

    سپریم کورٹ، بینچز اختیارات کیس، توہین عدالت کیس کا فیصلہ محفوظ
    بینچز اختیارات کیس میں ایڈیشنل رجسٹرار سپریم کورٹ کے خلاف توہین عدالت کیس میں فیصلہ محفوظ کرلیا گیا،عدالتی معاون وکیل احسن بھون نے کہا کہ چیف جسٹس کمیٹی کے سامنے معاملہ رکھیں، پارلیمنٹ کا اختیار دو تہائی اکثریت کے ساتھ وفاق میں قانون سازی کرناہے، کمیٹی بینچ کے سامنے ٹھیک کیسز مقرر کرتی ہے، جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے چیف جسٹس پھر کیاکریں؟ یعنی آپ کہہ رہےہیں کمیٹی نےٹھیک کیا؟ مسئلہ کمیٹی کے سامنے رکھیں؟ احسن بھون نے جواب دیا فل کورٹ جوڈیشل آرڈر کےتحت نہیں ہوسکتا ورنہ فساد ہوجائےگا، یہاں ادارے کوتباہ کرنے میں لوگ لگے ہوئے ہیں، ہرکوئی اپنی پارلیمنٹ،اپنے ججز، اپنی سپریم کورٹ چاہتا ہے، اس پر جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ہم ادارے کو بچانے کے لیے ہی لگے ہوئے ہیں۔

    سماعت میں اٹارنی جنرل منصور اعوان نے کہا کہ توہین عدالت کے لیے موجودہ بینچ درست طور پر تشکیل نہیں دیا گیا، سپریم کورٹ رولز کے تحت توہین عدالت کا بینچ تشکیل دینے کے لیے چیف جسٹس فیصلہ کریں گے، اس بینچ کے پاس توہین عدالت کی سماعت کا اختیار نہیں، یہ معاملہ دیوانی یا فوجداری توہین کے دائرے میں آتا ہے، توہین عدالت کا پورا پروسیجر دیا گیا ہے جو چیف جسٹس کے اختیار میں ہے۔ بعد ازاں سپریم کورٹ نے توہین عدالت کیس میں فیصلہ محفوظ کرلیا جو بعد میں سنایا جائیگا۔

    پیسہ زندگی میں کتنی اہمیت کا حامل؟ مبشر لقمان کا یو ای ٹی میں طلبا سے خطاب

    جب سے موجودہ حکومت خیبر پختونخوا میں آئی ہے صوبہ تباہ ہو گیا ،عوام پھٹ پڑی

  • جوڈیشل آرڈر نہ مان کر    قانون سے انحراف کیا گیا،تین ججز کا خط

    جوڈیشل آرڈر نہ مان کر قانون سے انحراف کیا گیا،تین ججز کا خط

    بینچز اختیارات کیس سے متعلق سپریم کورٹ کے تین ججز نےچیف جسٹس کو خط لکھا ہے

    آئینی بینچ کے سربرا ہ جسٹس امین الدین خان کو بھی تینوں ججزنے خط لکھا ہے، خط جسٹس منصور علی شاہ ، جسٹس عائشہ ملک اور جسٹس عقیل عباسی نےلکھا،تینوں ججز کی جانب سے خط میں بینچ اختیارات سے متعلق کیس کا ذکر کیا گیا،خط میں کہا گیا کہ جسٹس عقیل عباسی کو 16 جنوری کو بینچ میں شامل کیا گیا،جسٹس عقیل عباسی سندھ ہائی کورٹ میں کیس سن چکے ہیں،خط میں 20جنوری کو کیس سماعت کیلئے مقرر نہ ہونے کی شکایت کی گئی،خط میں پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی 17 جنوری اجلاس کا ذکر کیا گیا،جسٹس منصورعلی شاہ نےکمیٹی کو آگاہ کیاا ان کا نقطہ نظر ریکارڈ پر ہے،جسٹس منصور علی شاہ نے کمیٹی اجلاس میں شرکت سے انکار کیاجسٹس منصورعلی شاہ نے کہا انہیں کمیٹی میں پیش ہونے کی ضرورت نہیں کمیٹی کو پہلے والا بینچ تشکیل دیکر 20 جنوری کو سماعت فکس کر سکتی تھی،جوڈیشل آرڈر نہ مان کر قانون سے انحراف کیا گیا،جسٹس منصور علی شاہ نے معاملے کو توہین عدالت قرار دیا،

    کمیٹی چلتے ہوئے کیسز واپس لے تو عدلیہ کی آزادی تو ختم ،جسٹس منصور علی شاہ

    جوبائیڈن کے 78 صدارتی اقدامات منسوخ،ٹرمپ نے اہم ایگریکٹو آرڈر پر کئے دستخط

  • کمیٹی چلتے ہوئے کیسز واپس لے تو عدلیہ کی آزادی تو ختم ،جسٹس منصور علی شاہ

    کمیٹی چلتے ہوئے کیسز واپس لے تو عدلیہ کی آزادی تو ختم ،جسٹس منصور علی شاہ

    سپریم کورٹ،بینچزکے اختیارات سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی،

    طلبی پررجسٹرار سپریم کورٹ پیش ہوئے، سپریم کورٹ نے رجسٹرار سے سوال کیا کہ عدالتی حکم کے باوجود کیس مقرر کیوں نہ ہوا؟ رجسٹرار نے جواب دیا کہ کیس آئینی بینچ کا تھا، غلطی سے ریگولر میں لگ گیا تھا، جسٹس عقیل عباسی نے کہا کہ اگر یہ غلطی تھی تو عرصے سے جاری تھی اب ادراک کیسے ہوا؟معذرت کیساتھ غلطی صرف اس بینچ میں مجھے شامل کرنا تھی، جسٹس عقیل عباسی نے رجسٹرار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ میں کیس کو ہائی کورٹ میں سن چکا تھا، پتہ نہیں مجھے بینچ میں شامل کرنا غلطی تھی کیا تھا؟ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی کا اس معاملے پر اجلاس کیسے ہوا؟ کیا کمیٹی نے خود اجلاس بلایا یا آپ نے درخواست کی؟ رجسٹرار سپریم کورٹ نے کہا کہ ہم نے کمیٹی کو نوٹ لکھا تھا،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ جب جوڈیشل آرڈر موجود تھا تو نوٹ کیوں لکھاگیا؟ہمارا آرڈر بہت واضح تھا کہ کیس کس بینچ میں لگنا ہے، عدالت نے رجسٹرار کو ہدایت کی کہ وہ نوٹ دکھائیں جو آپ نے کمیٹی کو بھیجا،رجسٹرار سپریم کور ٹ نے کمیٹی کو بھیجا گیا نوٹ عدالت میں پیش کردیا

    جہاں محسوس ہو فیصلہ حکومت کیخلاف ہو سکتا ہےتو کیس ہی بینچ سے واپس لے لیا جائے؟جسٹس منصور علی شاہ
    جسٹس منصور علی شاہ نے رجسٹرار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ نوٹ میں غلطی کا ادراک تو نہیں کیا گیا، نوٹ میں آپ لکھ رہے ہیں کہ 16 جنوری کو آرڈر جاری ہوا ،نوٹ میں آپ آرڈر کی بنیاد پر نیا بینچ بنانے کا کہہ رہے ہیں، آرڈر میں تو ہم نے بتایا تھا کہ کیس کس بینچ میں لگنا ہے؟ رجسٹرار نے کہا کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی نے کیس آئینی بنچ کی کمیٹی کو بھجوایا،آئینی بینچز کی کمیٹی نےترمیم سے متعلقہ مقدمات 27 جنوری کو مقرر کیے،ترمیم کے بعد جائزہ لیا تھا کہ کونسے مقدمات بینچ میں مقرر ہو سکتے ہیں کونسے نہیں،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ کیس شاید آپ سے غلطی سے رہ گیا لیکن بینچ میں آ گیا تو کمیٹی کا کام ختم، کمیٹی چلتے ہوئے کیسز واپس لے تو عدلیہ کی آزادی تو ختم ہو گئی،جہاں محسوس ہو فیصلہ حکومت کیخلاف ہو سکتا ہےتو کیس ہی بینچ سے واپس لے لیا جائے؟جسٹس منصور علی شاہ نے رجسٹرار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ کیس آپ سے رہ گیا اور ہمارے سامنے آ گیا، آخر اللہ تعالیٰ نے بھی کوئی منصوبہ ڈیزائن کیا ہی ہوتا ہے، جسٹس عقیل عباسی نے کہا کہ ہمارے کیس سننے سے کم از کم آئینی ترمیم کا مقدمہ تو مقرر ہوا،پہلے تو شور ڈلا ہوا تھا لیکن ترمیم کا مقدمہ مقرر نہیں ہو رہا تھا، ٹیکس کیس میں کونسا آئینی ترمیم کا جائزہ لیا جانا تھا جو یہ مقدمہ واپس لے لیا گیا، عدالت نے معاونت کیلئے اٹارنی جنرل کو فوری طور پر طلب کر لیا ،عدالت نے کہا کہ جو دستاویزات آپ پیش کر رہے ہیں یہ ایڈیشنل رجسٹرار جوڈیشل کا دفاع ہے، دفاع میں پیش کیے جانے والے موقف پر عدالت فیصلہ کرے گی کہ درست ہے یا نہیں،

    یہ تو ہم اس کیس میں بتا ئیں گے کہ کمیٹی کیسز واپس لے سکتی ہے یانہیں ،جسٹس منصور علی شاہ
    جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی کو مقدمہ واپس لینے کا اختیار کہاں سے آیا؟رجسٹرار نے کہا کہ کمیٹی کیسز مقرر کر سکتی ہے تو واپس بھی لے سکتی ہے، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ یہ تو ہم اس کیس میں بتا ئیں گے کہ کمیٹی کیسز واپس لے سکتی ہے یانہیں ، جسٹس منصور علی شاہ نے رجسٹرار سپریم کورٹ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ پشاور ہائی کورٹ میں بھی رہے، آپکو چیزوں کا علم تو ہوگا،ججز کمیٹی کا عدالتی بنچ سے کیس واپس لینے سے تو عدلیہ کی آزادی کا خاتمہ ہو جائے گا،رجسٹرار سپریم کورٹ نے کہا کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون ایکٹ آف پارلیمنٹ ہے،پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کے تحت ججز کمیٹی عدالتی بنچ سے کیس واپس لے سکتی ہے، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ اگر ایسا ہوتا رہا تو کل کوئی کیس اس وجہ سے واپس لے لیا جائے گا کہ حکومت کیخلاف فیصلہ ہونے لگا ہے، میں ایک وضاحت کرنا چاہتا ہوں، 17 جنوری کو ججز کمیٹی کے دو اجلاس ہوئے، مجھے ریگولر ججز کمیٹی اجلاس میں مدعو کیا گیا،میں نے جواب دیا جوڈیشل آرڈر دے چکا ہوں، کمیٹی میں بیٹھنا مناسب نہیں،پھر 17 جنوری کو ہی آرٹیکل 191 اے فور کے تحت آئینی بنچز ججز کمیٹی کا اجلاس ہوا،جس وقت عدالتی بنچ میں کیس تھا اس وقت دو اجلاس ایک ہی دن ہوئے،جسٹس عقیل عباسی نے کہا کہ ججزآئینی کمیٹی نے منٹس میں کہا 26ویں آئینی ترمیم کیس آٹھ ججز کے سامنے سماعت کیلئے مقرر کیا جاتا ہے، اس لیے یہ کیس آئینی بنچ میں بھیجا جاتا ہے، 26ویں آئینی ترمیم کیخلاف تو ہم کیس سن ہی نہیں رہے تھے، چلیں اچھا ہے، اس کیس کے بہانے کیسز تو لگنا شروع ہو گئے،

    ججز کمیٹی بنچ سے کیس واپس لے سکتی ہے یا نہیں،اٹارنی جنرل طلب،منیر اے ملک اور حامد خان عدالتی معاون مقرر
    جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس عقیل عباسی کے بنچ نے اٹارنی جنرل کو عدالت میں طلب کر لیا،سینئر وکیل منیر اے ملک اور حامد خان کو عدالتی معاون مقرر کر دیا گیا ،عدالت نے کہا کہ اٹارنی جنرل سمیت دیگر وکلا کو کل سنیں گے،یہ اہم معاملہ ہے کہ ججز کمیٹی بنچ سے کیس واپس لے سکتی ہے یا نہیں،

    ایڈووکیٹ صلاح الدین نے بینچ کے سامنے استدعا کی کہ کچھ ججز کے اختیارات باقی ججز سے کیوں زیادہ ہیں اس معاملے پر فل کورٹ بنایا جائے۔ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا ہم نے تو کمیٹی میں پہلے اس بات کی ریکوئسٹ کردی تھی۔ جسٹس عقیل عباسی نے سوال اٹھایاکہ کیا ہم توہین عدالت کی سماعت میں ایسا حکم جاری کر سکتے ہیں؟ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا اس سے متعلق وکلاء ہمیں آگاہ کریں۔ لاہور ہائی کورٹ کے سابق جج جسٹس شاہد جمیل کھڑے ہوئے اور کہا کہ آرٹیکل 187 کے تحت سپریم کورٹ مکمل انصاف کی فراہمی کے لئے فل کورٹ بنا سکتی ہے۔

    جوبائیڈن کے 78 صدارتی اقدامات منسوخ،ٹرمپ نے اہم ایگریکٹو آرڈر پر کئے دستخط

    پاکستان ،بھارت اور دنیا کےرہنماؤں کی ٹرمپ کو مبارکباد

  • سپریم کورٹ،کیس مقرر نہ کرنے پر جسٹس منصور علی شاہ برہم،ایڈیشنل رجسٹرار کو بلا لیا

    سپریم کورٹ،کیس مقرر نہ کرنے پر جسٹس منصور علی شاہ برہم،ایڈیشنل رجسٹرار کو بلا لیا

    سپریم کورٹ بنچز کے اختیارات کا کیس مقرر نہ ہونے پر جسٹس منصور علی شاہ نے ایڈیشنل رجسٹرار نذر عباس کو فوری طور پر طلب کر لیا۔

    مقدمہ میں فریق کے وکیل بیرسٹر صلاح الدین جسٹس منصور علی شاہ کی عدالت میں پیش ہوگئے۔بیرسٹر صلاح الدین نے عدالت میں کہا کہ کراچی سے صرف اسی کیس کیلئے آیا ہوں لیکن کاز لسٹ جاری نہیں ہوئی،عدالت نے آج کیلئے مقدمہ مقرر کرنے کا حکم دیا تھا۔جسٹس منصورعلی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں اس حوالے سے کچھ نہیں بتایا گیا۔ایڈیشنل رجسٹرار کو فوری بلائیں تاکہ پتا چلے کیس کیوں نہیں مقرر ہوا۔

    ڈپٹی رجسٹرار نے بتایا کہ ایڈیشنل رجسٹرار کی طبیعت ٹھیک نہیں وہ چھٹی پر ہیں۔جسٹس منصورعلی شاہ نے استفسار کیا کہ جو مقدمہ مقرر کرنے کا حکم دیا وہ کیوں نہیں لگا؟ ڈپٹی رجسٹرار نے بتایا کہ ججز کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ ترمیم سے متعلقہ کیس 27 جنوری کو آئینی بنچ میں لگے گا۔جسٹس منصورعلی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میں خود بھی کمیٹی کا رکن ہوں مجھے تو کچھ علم نہیں۔جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جوڈیشل آرڈر کو انتظامی کمیٹی کیسے اگنور کر کرسکتی ہے؟ جسٹس عقیل عباسی نے استفسار کیا کہ کیا عدالتی حکم کمیٹی کے سامنے رکھا گیا تھا؟ ڈپٹی رجسٹرار نے بتایا کہ عدالتی حکم کمیٹی میں پیش کیا تھا۔جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ ہماری پورے ہفتے کی کاز لسٹ کیوں تبدیل کر دی گئی؟ ہم نے ٹیکس کے مقدمات مقرر کر رکھے تھے جو تبدیل کر دیے گئے۔

    عدالت نے ججز کمیٹی کا پاس کردہ آرڈر اور میٹنگ منٹس کی تفصیلات طلب کر لیں۔ جسٹس عائشہ ملک نے ہدایت کی کہ کاز لسٹ کیوں تبدیل کی گئی اس حوالے سے کوئی تحریری ہدایت ہے تو وہ بھی پیش کریں۔

    26 نومبر توڑ پھوڑ مقدمہ،اسد قیصر کی ضمانت میں توسیع

    جنگ بندی،اسرائیل نے90 فلسطینی قیدی رہا کر دیئے

  • جسٹس منصور علی شاہ کی بطور انتظامی جج کے عہدے سے معذرت

    جسٹس منصور علی شاہ کی بطور انتظامی جج کے عہدے سے معذرت

    اسلام آباد: سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس منصور علی شاہ نے بطور انتظامی جج سپریم کورٹ اپنی ذمہ داریوں سے دستبردار ہونے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق، جسٹس منصور علی شاہ نے انتظامی فائلوں پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا ہے اور واضح طور پر کہا ہے کہ وہ اب اس عہدے پر نہیں ہیں۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ جسٹس منصور علی شاہ نے اپنے موقف میں کہا ہے کہ وہ ایڈمنسٹریٹو جج کے عہدے سے سبکدوش ہو چکے ہیں اور اس لیے ان سے متعلق تمام انتظامی امور کی دیکھ بھال کسی اور جج کو سونپی جائے۔اس معذرت کے بعد، سوالات اٹھنے لگے ہیں کہ آخر کس وجہ سے جسٹس منصور علی شاہ نے یہ قدم اٹھایا۔ بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ یہ فیصلہ ایک اہم تبدیلی کی جانب اشارہ ہو سکتا ہے اور اس کا عدالت کے اندرونی انتظامی معاملات پر اثر پڑ سکتا ہے۔

    یاد رہے کہ جسٹس منصور علی شاہ کو سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سپریم کورٹ کا ایڈمنسٹریٹو جج مقرر کیا تھا۔ ایڈمنسٹریٹو جج کا عہدہ انتہائی اہمیت کا حامل ہوتا ہے کیونکہ اس کے ذریعے عدالت کی انتظامیہ، فائلوں کی نگرانی، اور دیگر انتظامی امور کا انتظام کیا جاتا ہے۔اس فیصلے کے بعد سپریم کورٹ کے داخلی معاملات پر سوالات اٹھ رہے ہیں اور توقع کی جا رہی ہے کہ اس سلسلے میں جلد ہی مزید وضاحت سامنے آئے گی۔

    تمام مذہبی برادریوں کے حقوق کے تحفظ کیلیے پرعزم ہیں، وزیراعظم

    آئیے قائداعظم کی میراث سے سبق حاصل کریں،وزیراعظم

  • جسٹس جمال مندوخیل نے جسٹس منصور علی شاہ کو جوابی خط لکھ دیا

    جسٹس جمال مندوخیل نے جسٹس منصور علی شاہ کو جوابی خط لکھ دیا

    سپریم کورٹ کے جسٹس جمال خان مندوخیل نے عدلیہ میں ججز تعیناتی کے حوالے سے رولز بنانے اور سخت میکنزم کے لیے لکھے گئے جسٹس منصور علی شاہ کے خط کا جواب دے دیا

    جسٹس جمال مندوخیل نے جسٹس منصور علی شاہ کو لکھے گئے جوابی خط میں کہا کہ آپ کی تجاویز کو پہلے بھی consider کیا کل کے خط والی بھی دیکھیں گے آئندہ بھی آپ اپنی تجاویز رولز کمیٹی کو دے سکتے ہیں 26 ویں آئینی ترمیم کے تناظر میں بھی آپ نے بات کی لیکن میں اس کا جواب اس لیے نہیں دوں گا کیوں کہ اس کے خلاف درخواستیں سپریم کورٹ میں زیر التوا ہیں آپ نے لاہور ہائیکورٹ اور اسلام آباد ہائیکورٹ کے لئے کو نام تجاویز کئے وہ رولز کے مکمل ہونے کے بعد دے سکتے ہیں میری بھی یہی رائے ہے کہ آئین کی منشا یہی ہے کہ عدلیہ آزاد اور غیر جانبدار ہونی چاہیے عدلیہ کے ممبران قابل اور دیانتدار ہونے چاہییں اسی مقصد کے لئے رولز بنا رہے ہیں ”

    پاکستان کی عدلیہ میں اصلاحات کا عمل جاری ہے، جس کے تحت ججوں کی تقرری کے لیے نئے قواعد تیار کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس حوالے سے سپریم کورٹ آف پاکستان کے سینئر جج، جسٹس سید منصور علی شاہ کو جسٹس جمال خان مندوخیل نے جوابی خط لکھا جس میں نئے قواعد کی تیاری کے عمل اور اس میں ہونے والی پیشرفت پر تفصیل سے بات کی گئی ہے۔ خط میں کہا گیا کہ آئین میں 26 ویں ترمیم کے بعد جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کا دوبارہ قیام عمل میں آیا ہے، جس میں سپریم کورٹ کے جج سمیت دیگر اہم شخصیات شامل ہیں۔خط میں بتایا گیا کہ جے سی پی نے 6 دسمبر 2024 کو ہونے والے اپنے اجلاس میں آئین کے آرٹیکل 175اے کی شق 4 کے تحت ججوں کی تقرری کے معیار اور طریقہ کار کے لیے قواعد تیار کرنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے۔ کمیٹی کا مقصد ججوں کی تقرری کے عمل میں شفافیت اور معیار کو بہتر بنانا ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ جو ججز منتخب ہوں، وہ قابل، ایماندار اور غیر جانبدار ہوں۔کمیٹی کے اجلاس میں 2010 کے جے سی پی کے قواعد کو مدنظر رکھتے ہوئے نئے قواعد کی تیاری پر غور کیا گیا۔ اس میں سپریم کورٹ کے جج، اٹارنی جنرل آف پاکستان، سینیٹر فاروق حمید نائیک اور دیگر اہم شخصیات شامل تھیں۔ کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ عدالت کی آزادی اور عدلیہ کی غیر جانبداری آئین کے بنیادی اصول ہیں، اور ان کے مطابق ہی نئے قواعد کو مرتب کیا جائے گا۔

    خط میں یہ بھی ذکر کیا گیا کہ جسٹس منصور علی شاہ نے لاہور اور اسلام آباد ہائی کورٹ میں ججز کی ترقی کے لیے اپنے امیدواروں کے نام تجویز کیے تھے، جنہیں نئے قواعد کی منظوری کے بعد پیش کیا جا سکتا ہے۔ کمیٹی کی اگلی میٹنگ 16 دسمبر 2024 کو ہونے والی ہے جس میں مزید تجاویز پر غور کیا جائے گا۔ خط میں یہ بات بھی کی گئی کہ 26ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے جسٹس منصور علی شاہ کے خط میں اٹھائے گئے سوالات پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا کیونکہ یہ معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے۔ تاہم، عدلیہ کی آزادی اور شفافیت کو مقدم رکھنے کا عہد کیا گیا ہے۔خط کے آخر میں کہا گیا کہ عدلیہ پاکستان کے عوام کا ادارہ ہے اور جے سی پی کے تمام ارکان کو نئے قواعد کی تیاری کے عمل میں مکمل شفافیت کو یقینی بنانا چاہیے۔ کمیٹی کی طرف سے تیار کردہ ڈرافٹ قواعد کو جے سی پی کی اگلی میٹنگ میں پیش کیا جائے گا، جس کے بعد ان پر حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔

    دہلی میں فضائی آلودگی،بچے بیمار،شہری دہلی چھوڑنے لگے

    اسرائیل نے شام کے بلندترین پہاڑوں پر قبضہ کیوں کیا

    سول نافرمانی تحریک مؤخر کریں، محمود اچکزئی کی پی ٹی آئی سے اپیل