Baaghi TV

Tag: جماعت اسلامی

  • فارم 45 اور 47 والے پارلیمنٹ اور اسمبلیوں کے حمام میں ایک ہیں،لیاقت بلوچ

    فارم 45 اور 47 والے پارلیمنٹ اور اسمبلیوں کے حمام میں ایک ہیں،لیاقت بلوچ

    لاہور: نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ کا کہنا ہے کہ عوام کو ریلیف دلانے کے لیے پورے ملک میں دھرنے ہوں گے۔

    باغی ٹی وی :اپنے ایک بیان میں لیاقت بلوچ نے کہا کہ حکومت عوام کو ریلیف دے وگرنہ عوام اپنا حق چھین لیں گے، حکومت عوام کو ریلیف دینے کے معاہدے پر بدعہدی کر رہی ہے فارم 45 اور 47 والے پارلیمنٹ اور اسمبلیوں کے حمام میں ایک ہیں، حکومت ناکام نااہل اور اندرونی خلفشار کا شکار ہے، ہر دور کے حکمرانوں نے ملکی وسائل اور نوجوانوں کی صلاحیتوں کو ضائع کیا، پاکستان قدرتی وسائل اور نوجوانوں سے مالا مال ہے۔

    قبل ازیں امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کراچی میں پریس کانفرنس میں کہا تھا کہحکومت سے معاہدے کی پینتالیس دن کی مدت آج مکمل ہوگئی، کل منصورہ میں آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے، لوگ تیار ہورہے ہیں، احتجاج کا دائرہ وسیع ہوگا، پہلے شٹر ڈاؤن ہڑتال کی اب پہیہ جام کریں گے، حکومت کو عوام کو ریلیف دینا پڑے گا۔

    آئی ایم ایف کی شرائط کڑی تھیں،کچھ کا تعلق چین سے تھا،وزیراعظم

    انہوں نے کہا کہ ایف بی آر کو غیر ضروری طور پر زیادہ اختیارات دیئے گئے، ملک میں بجلی کا بحران ہے،جن آئی پی پیز معاہدوں کی مدت پوری ہوگئی وہ ختم کریں، گزشتہ سال کی بہ نسبت لوگوں کابل دگنے سےزیادہ آرہا، آئی پی پیز معاہدوں پر نظر ثانی کی جائے،کپیسٹی چارجز کی مد میں اربوں روپے عوام سے وصول کیے جارہے ہیں-

    ایران عالمی برادری کے ساتھ تعلقات بہتر کرنےکیلئے تیار ہے،ایرانی صدر

  • جماعت اسلامی کا 29 ستمبر کو مُلک گیر دھرنے کا اعلان

    جماعت اسلامی کا 29 ستمبر کو مُلک گیر دھرنے کا اعلان

    جماعت اسلامی نے ایک دفعہ پھر 29 ستمبر کو ملک گیر دھرنے دینے کا اعلان کر دیا

    امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ہر طرف نااہلی،کرپشن ہے اور بوجھ عوام پر ہے، پاکستانی قوم ناجائز بل ادا نہین کرے گی، چند لوگوں کی لوٹ مار کا عوام نقصان اٹھا رہی ہے، جماعت اسلامی حق دو عوام کو تحریک لے کر چل رہی ہے، آج نئے مرحلے کا اعلان کر رہے ہیں، یہ تحریک عوام کو بنیادی حقوق دلانے کی تحریک ہے، بجلی کے بلوں، گیس کی قیمتوں، پٹرول کی قیمتوں میں ریلیف دلانا ہے، یہ وہ تحریک ہے جو صرف مطالبات نہیں کر رہی ہے، بلکہ حکومت کو قابل عمل تجاویز بھی دیتی ہے، حکومت کے انتظامی اخراجات کم کئے جائیں، شرح سود کو دس فیصد کم اور پھر بتدریج ختم کیا جائے ،یہ وہ فوری اقدامات ہیں جس سے بجلی کی قیمتیں کم ہوں گی، آئی پی پیز کو ہم سالانہ اربوں ادا کر رہے ہیں، بجلی بنی نہیں پھر بھی قیمت دی جا رہی ہے، تنخواہ دار لوگوں سے ٹیکس وصول کیا جاتا ہے، بڑھا دیا جاتا ہے اور آئی پی پیز والوں کو انکم ٹیکس کی چھوٹ دی جاتی ہے، قوم یہ پیسہ ادا کر رہی ہے، آٹے، دال ،چینی پر ٹیکس لگ گئے، بجلی بلوں پر ٹیکس لگ کر آتے ہیں، ٹی وی ٹیکس، طرح طرح کے ٹیکس لگ جاتے ہیں،

    حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ یہ تحریک کسی لیڈر کے مفاد میں نہیں ہے، جماعت اسلامی کو کوئی فائدہ نہیں،ہماری ذات کو فائدہ نہیں، یہ پاکستان کے 25 کروڑ عوام کا مقدمہ ہے، صحت،تعلیم کی سہولیات نہیں مل رہیں، اس پر خاموش نہیں رہا جا سکتا، ایسی سیاست نہیں کی جا سکتی کہ بس بات چلتی رہے، عملی طور پر ہم میدان میں نکلے، احتجاجی تحریک شروع کی، اسلام آباد گئے، ایک دھرنے کو کئی دھرنوں میں تبدیل کیا، اسلام آباد دھرنے کے بعد معاہدہ ہوا جو قوم کے سامنے ہے، ایک طرف جماعت اسلامی اور دوسری طرف حکومت وقت ہے، حکومت نے 45 دن میں شرطوں کا ماننے کا کہا تھا اور کہا تھا کہ ایک ماہ میں آئی پی پیز کامسئلہ حل کر لیں گے، ہم نے حکومت کو موقع دیا اور عوامی رابطے کو جاری رکھا ہم سات آٹھ جلسے ملک میں کر چکے ہیں اور ایک تاریخی ہڑتال بھی کی، پرامن شٹر ڈاؤن ہڑتال تھی،یہ تحریک آگے جا رہی ہے، ہم نے ممبر شپ شروع کی ہوئی ہے جو جاری ہے، بہت بڑی تعداد میں عوام ممبر شپ حاصل کر رہے ہیں، ممبر شپ کو آگے مشاورت کے بعد بڑھایا جائے گا، آج ہم اعلان کرتے ہیں کہ تحریک نئے فیز میں داخل ہو رہی ہے، 29 ستمبر کو ملک بھر میں بڑے مظاہرے کریں گے، دھرنے دیئے جائیں گے، یہ دھرنے شاہراہوں پر دیے جائیں گے،ہم حکومت سے کہتے ہیں کوئی ایسی کاروائی کرنے سے گریز کرے جو جمہوری عمل کو سبوتاژ کرے، ہمارا دھرنوں، احتجاج کا اسلسلہ وسعت اختیار کرے گا، 23 اکتوبر سے 27 اکتوبر تک ہم پورے پاکستان کی عوام سے رابطہ کریں گے اور ریفرنڈم کریں گے کہ آنے والے مہینوں میں بجلی کے بلوں کی ادائیگی کرنی چاہئے یا نہیں،اس پر لوگوں کی رائے ہر جگہ سے حاصل کریں گے اور عوام کا جب رائے ملے گا تو پھرہم واضح اعلان کریں گے کہ پاکستانی قوم ناجائز بل ادانہیں کرے گی، یہ ناجائز بل ہیں، اسی دوران ہم پہیہ جام ہڑتال کا اعلان بھی کر سکتے ہیں ملین مارچز کرنے کا آپشن بھی ہے.

    ہم کسی سے "فیض یاب” نہیں ہوئے، امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان

    امریکی ایوان نمائندگان میں قرارداد،پاکستان کے خلاف آپریشن گولڈ اسمتھ کی ایک کڑی

    آپریشن گولڈ سمتھ کی کمر ٹوٹ گئی،انتشاری ٹولہ ایڑھیاں رگڑے گا

    تحریک انصاف کی ملک دشمنی ایک بار پھر کھل کر سامنے آ گئی

    14 سال سے خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی سرکار،اربوں بجٹ وصول،کارکردگی زیرو

    عمران پر جیل میں تشدد ہوا،مجھے مرد اہلکار نے…بشریٰ بی بی نے سنگین الزام عائد کر دیا

    ہر نئے ریلیف کے بعد اک نیا کیس،عمران خان کی رہائی ناممکن

    عمران خان نے آخری کارڈ کھیل دیا،نواز شریف بھی سرگرم

    پی ٹی آئی کی ڈیجیٹل دہشت گردی کا سیاہ جال،بیرون ملک سے مالی معاونت

    اگلے دو مہینے بہت اہم،کچھ بڑا ہونیوالا؟عمران خان کی پہنچ بہت دور تک

    اڈیالہ جیل میں قید عمران خان نے بالآخر گھٹنے ٹیک دیئے

  • 45 دن کی مہلت ختم،پہلے شٹر ڈاؤن ہڑتال کی اب پہیہ جام ہڑتال کریں گے،حافظ نعیم الرحمان

    45 دن کی مہلت ختم،پہلے شٹر ڈاؤن ہڑتال کی اب پہیہ جام ہڑتال کریں گے،حافظ نعیم الرحمان

    کراچی: امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ ایف بی آر کو غیر ضروری طور پر زیادہ اختیارات دیئے گئے، ملک میں بجلی کا بحران ہے، پہلے شٹر ڈاؤن ہڑتال کی اب پہیہ جام ہڑتال کریں گے۔

    باغی ٹی وی : کراچی میں پریس کانفرنس میں امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ حکومت سے معاہدے کی پینتالیس دن کی مدت آج مکمل ہوگئی، کل منصورہ میں آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے، لوگ تیار ہورہے ہیں، احتجاج کا دائرہ وسیع ہوگا، پہلے شٹر ڈاؤن ہڑتال کی اب پہیہ جام کریں گے، حکومت کو عوام کو ریلیف دینا پڑے گا۔

    انہوں نے کہا کہ ایف بی آر کو غیر ضروری طور پر زیادہ اختیارات دیئے گئے، ملک میں بجلی کا بحران ہے،جن آئی پی پیز معاہدوں کی مدت پوری ہوگئی وہ ختم کریں، گزشتہ سال کی بہ نسبت لوگوں کابل دگنے سےزیادہ آرہا، آئی پی پیز معاہدوں پر نظر ثانی کی جائے،کپیسٹی چارجز کی مد میں اربوں روپے عوام سے وصول کیے جارہے ہیں-

    واضح رہے کہ حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان مذاکرات طے پائے تھے جس کے بعد جماعت اسلامی کے نائب امیر لیاقت بلوچ نے دھرنے کے شرکاءسے کہا تھا کہ مذاکرات کے نتیجے میں ان امور پر اتفاق ہوا ہے کہ آئی پی پیز کا مسئلہ پاکستانی کی معیشت کیلئے ایک اہم مسئلہ ہے، اس حوالے سے انہوں نے سراہا کہ آپ نے حقیقت میں پاکستان کے اہم نترین مسئلے کو اجاگر کیا ہے-

    امریکا کااسرائیل اور لبنان کے درمیان سرحدی کشیدگی میں اضافے پر تشویش کا اظہار

    انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم اور وفاقی حکومت آئی پی پیز کے معاملے پر سنجیدہ ہے۔ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ آئی پی پیز کے معاہدوں پر نظر ثانی کیلئے مکمل جانچ پڑتا کی جائے گی۔ حکومت نے اس کیلئے ایک بااختیار ٹاسک فورس قائم کردی ہے جو ایک ماہ میں اپنا کام مکمل کرے گی۔

    لیاقت بلوچ نے بتایا تھا کہ حکومت نے ٹاسک فورس کے ان ٹی او آرز پر بھی اتفاق کیا ہے کہ پبلک پرائیویٹ سیکٹر سے کسی بھی ماہر کا انتخاب کیا جائے گا، واپڈا چئیرمین اور آڈیٹر چیئرمین کو بھی شامل کیا جائے گا، ایک پرائیویٹ فرم اور چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ ہائر کرکے معاملات کو دیکھا جائے گا، ٹاسک فورس ایک ماہ میں وزیراعظم کو اپنی سفارشات پیش کرے گی حکومت سے تمام معاملات طے پا گئے ہیں، حکومت معاہدے پر عملدرآمد کو یقینی بنائے گی، معاہدے پر عطا تارڑ اور محسن نقوی نے دستخط کیے ہیں۔

    کمیونسٹ نظریے کے حامی انورا کمارا سری لنکا کے نئے صدر منتخب

    لیاقت بلوچ کا کہنا تھا کہ تنخواہ دار طبقے کا بوجھ کم کیا جائے گا، بجلی کے بل ہر صورت کم کئے جائیں گے، آئندہ ڈیڑھ ماہ میں یونٹ کی قیمت کم جائے گی، تاجروں کے خدشات دور کرنے کیلئے کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔

    اس موقع پر وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا تھاکہ ہم نےعوام کو ریلیف دینے کا وعدہ کیا ہے، ہم نے بجلی کی قیمتیں کم کرنے کا بھی وعدہ کیا ہے، آپ کو جلد بجلی کی قیمتیں کم ہوتی ہوئی نظر آئیں گی۔

    امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا تھا کہ حکومتی نمائندوں نے پوری قوم کے سامنے معاہدہ کیا ہے، ہمیں یقین ہے کہ حکومت معاہدے پر عملدرآمد کرے گی، ہم کسی بھی مطالبے سے دستبردار نہیں ہو رہے، ہم اپنے اس دھرنے میں کل ایک جلسہ عام کریں گے۔

    صدر ابراہیم رئیسی کا ہیلی کاپٹر پیجر پھٹنے سے کریش ہوا،ایرانی رکن پارلیمنٹ …

  • پارلیمان میں بولیاں لگ رہی ہیں، امیر جماعت اسلامی

    پارلیمان میں بولیاں لگ رہی ہیں، امیر جماعت اسلامی

    امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان کے 25کروڑ عوام پارلیمان میں ہونے والے اس کھیل کی مذمت کرتے ہیں، بولیاں لگ رہی ہیں،خریدوفروحت کا عمل ایک بار پھر جاری ہے۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق حافظ نعیم الرحمن کا کہنا تھا کہ برسوں سے چند چہرے ہی خریدو فروحت کا جمعہ بازار لگاتے ہیں، کبھی ترمیم،کبھی جنرل باجوہ کی ایکسٹینشن اور آج چیف جسٹس کی توسیع پر بولیاں جاری ہیں۔ ایکسٹینشن دلانے کی تدبیروں کیلئے لگی منڈی میں دیکھتے ہیں کون اپنی قیمت لگواتا ہے؟۔نعیم الرحمن کا کہنا تھا کہ ایک طرف کہتے ہیں جمہوریت اور پارلیمنٹ آگے ہونی چاہئے لیکن خود پارلیمان کی حیثیت خراب کرتے ہیں، یہی لوگ پارلیمان کی تقدس کو پامال کرتے ہیں، پارلیمان میں موجود لوگوں کی اکثریت عوام کی رائے سے منتخب ہی نہیں ہوئی، یہ ہمیشہ اسٹیبشلمنٹ کے آلہ کار بن کر اقتدار میں آتے ہیں۔

    سینیٹ سے تمام پارلیمانی لیڈرز کمیٹی میں شامل

  • جماعت اسلامی سب کے درمیان پُل بننے کو تیار

    جماعت اسلامی سب کے درمیان پُل بننے کو تیار

    امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ امن کے لیے سیاسی پارٹیوں کو اختلافات بھلا کر بیٹھنا ہو گا، ایسا نہ ہوا تو مزید انتشار پھیلے گا اور جماعت اسلامی امن کی خاطر سب کے درمیان پُل بننے کو تیار ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق پشاور میں ممبرشپ کیمپ کے افتتاح کے موقع پر کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ جماعت اسلامی واحد سیاسی جماعت ہے جو عوام کے حقوق کے لیے میدان عمل میں ہے، ہم پوری قوم کو متحد کرنا چاہتے ہیں اور ہم نے ملک بھر میں ممبرشپ مہم شروع کی ہے۔حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ 77 برسوں سے ملک پر ایک خاص طبقہ مسلط ہے اور ان کی حکمرانی میں پاکستان ترقی کی بجائے تنزلی کی جانب گیا، یہی لوگ بدامنی کے ذمہ دار ہیں، یہ عوام کو آپس میں لڑاتے ہیں اور بیرونی قوتوں کے آلہ کار بن کر ملک کو عدم استحکام سے دوچار کرتے ہیں، انھوں نے ہی پاکستان کو غیر ملکی ایجنسیوں کی آماجگاہ بنایا، عوام کو اس طبقہ سے جان چھڑانے کے لیے متحد ہونا ہو گا۔انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت خیبر پختونخوا شدید بدامنی کی زد میں ہے، بلوچستان کے حالات بھی خراب ہیں، پنجاب کے عوام بھی پریشان ہیں، جنوبی پنجاب میں کچے تو سندھ میں کچے اور پکے کے ڈاکوؤں کا راج ہے لیکن ان مسائل کا حل جدوجہد ہے۔

    وفاقی حکومت سندھ میں اہم شاہراہوں کی تعمیر کرئے گی

    ان کا کہنا تھا کہ ہماری ممبرشپ مہم جاری ہے، اس کے بعد عوامی کمیٹیاں بنائیں گے اور حق دو تحریک کے دوسرے فیز کا آغاز ہو گا، جماعت اسلامی نے عوام کو سستی بجلی کی فراہمی، ناجائز ٹیکسز کے خاتمہ، آئی پی پیز کے معاہدوں سے جان چھڑانے، حکمرانوں کی مراعات کے خاتمے اور جاگیرداروں پر ٹیکسز کے نفاذ کے لیے دھرنا دیا اور حکومت سے معاہدہ کیا۔امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومت کو اب اس معاہدے پر عمل درآمد کرنا ہو گا، معاہدے کی دوچار شقوں پر عمل درآمد سے کام نہیں چلے گا، حکمران اپنی فری بجلی، پٹرول اور سرکاری بڑی گاڑیوں کا استعمال بند کریں، عوام اب آئی پی پیز کے دھندے کو قبول کرنے کو تیار نہیں، پورے ملک میں یکساں ٹیرف نافذ کیا جائے اور بجلی کی اصل لاگت کا تعین کر کے عوام کو ریلیف دیا جائے۔انہوں نے کہا کہ امن کے لیے سیاسی پارٹیوں کو اختلافات بھلا کر بیٹھنا ہو گا، ایسا نہ ہوا تو مزید انتشار پھیلے گا اور جماعت اسلامی امن کی خاطر سب کے درمیان پُل بننے کو تیار ہے۔

    بنگلہ دیش میں بانی پاکستان کی برسی کی پہلی بار تقریب

    انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں فوج اور پولیس کے درمیان اختلافات پیدا نہیں ہونے چاہئیں، سول حکومت اور پولیس داخلی سیکیورٹی کی ذمہ داری لیتی ہے تو یہ اچھی بات ہے، فوج ان سے تعاون کرے۔ان کا کہنا تھا کہ انٹرنل سیکیورٹی کے لیے 2010 میں آصف زرداری نے سب سے پہلے فوج کو دعوت دی اور اس کے بعد عمران خان نے بھی اسی بل پر دستخط کیے تھے۔حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ تمام اسٹیک ہولڈرز حالات کا ادراک کریں، لوگوں کو امن، روزگار، صحت اور اپنے بچوں کے لیے تعلیم چاہیے اور ملک کی بہتری اسی صورت ممکن ہے جب تمام ادارے اپنی آئینی پوزیشن پر واپس چلے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ جو جتنی اہم پوزیشن پر فائز ہے اس کی اتنی ہی بڑی ذمہ داری ہے، ذمہ داران خود آئین و قانون کا احترام نہیں کریں گے تو عوام سے کیسے توقع کر سکتے ہیں؟۔

  • ہمیں اعلانات نہیں عملی اقدامات چاہیے، امیر جماعت اسلامی

    ہمیں اعلانات نہیں عملی اقدامات چاہیے، امیر جماعت اسلامی

    امیرجماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ حکومت کے ساتھ معاہدے کو ایک ماہ ہوچکا ہے، وزیر داخلہ نے منصورہ آکر پیش رفت سے آگاہ کرنے کا اعلان کیا ہے،ہمیں اعلانات نہیں عملی اقدامات اورعوامی مسائل کا حل چاہیے.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ادارہ نورحق کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ ہم مشاورت کررہے ہیں پہلے ہم نے ملک گیر شٹر ڈاؤن ہڑ تال کی تھی، اب ہڑتال ایک نہیں بلکہ کئی ہڑتالیں ہوسکتی ہیں اورلانگ مارچ وپہیہ جام ہڑتال کے آپشنز بھی موجود ہیں،آئی پی پیز سے ہونے والے مذاکرات اور عوام دشمن و ظالمانہ معاہدوں کی تفصیلات عوام کے سامنے لائی جائیں،شہر کراچی کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے،پورا شہر کچرا زدہ بنا ہوا ہے،سڑکیں ٹوٹی پھوٹی ہیں،پیپلز پارٹی نے تمام اختیارات اپنے پاس مرتکز کئے ہوئے ہیں، بلدیاتی الیکشن میں جماعت اسلامی سب سے بڑی جماعت بن کر سامنے آئی تھی، لیکن پیپلز پارٹی نے الیکشن کمیشن کی ملی بھگت سے الیکشن پر قبضہ کرکے اپنا میئر بنالیا۔2015میں آخری مرتبہ پنجاب میں بلدیاتی الیکشن بھی کورٹ کے کہنے پر ہوئے تھے،کے پی،اسلام آباد، سندھ میں بھی کورٹ کے کہنے پر ہوئے تھے، ابھی اسلام آباد میں بھی حکومت نے ایکٹ کا بہانہ بناکر بلدیاتی الیکشن آگے بڑھادیے،جماعت اسلامی بلدیاتی حکومتوں کو بااختیار اور بلدیاتی انتخابات یقینی بنانے کے لیے پورے پاکستان کی بنیاد پر عدالتوں سے رجوع کرے گی۔ جماعت اسلامی کی ممبر سازی مہم جاری ہے،ہم مزدوروں،نوجوانوں، کسانوں کے پاس جارہے ہیں،جماعت اسلامی کو عوام کی جانب سے زبردست پذیرائی مل رہی ہے، عوامی رائے سے یہ بات سامنے آرہی ہے کہ جماعت اسلامی کے علاوہ کوئی جماعت ایسی نہیں ہے جو عوامی ایشوز پر آواز بلند کرتی ہو، پاکستان کے مرد وخواتین بالخصوص نوجوان جماعت اسلامی کی ممبر سازی مہم کا حصہ بنیں۔

    حافظ نعیم الرحمن نے کہاکہ کشکول لے کر گھومنے والے حکمرانوں میں صلاحیت نہیں کہ وہ دنیا کے سامنے عزت ووقار کے ساتھ پاکستانیوں کا مقدمہ پیش کرسکیں، پاکستان بے شمار وسائل سے مالا مال ہے، لیکن 77سال سے قابض جاگیر داروں، وڈیروں، ڈکٹیٹروں نے پاکستان کو دلدل میں پھنسادیا ہے۔جماعت اسلامی کی حق دو عوام کو تحریک جاری رہے گی۔انہوں نے کہاکہ کے فور منصوبہ کو طویل عرصہ گزر گیا ہے کئی وفاقی حکومتیں آئیں اورچلی گئیں،کے فور منصوبہ کسی نے مکمل نہیں کیا، ٹینکرز مافیا اپنی جگہ موجود ہیں،جو پانی میسر ہے اس کی تقسیم کا نظام درست نہیں ہے، بارشوں کے بعد حب ڈیم اوور فلو ہوچکاہے، جو سو ملین گیلن پانی کراچی کو ملتا تھا وہ اب اڑتیس چالیس ملین گیلن بھی نہیں مل پارہا، آبادیوں کی آبادیاں پانی سے محروم ہیں، اس کی ذمہ داری پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم پر عائد ہوتی ہے، یہ دونوں ہر حکومت کا حصہ ہوتے ہیں۔جماعت اسلامی کی بھرپور احتجاجی تحریک کے بعد یونیورسٹی روڈتعمیر ہوئی تھی جسے ریڈ لائن منصوبے کے نام پر توڑ پھوڑ دیاگیا ہے اور مسلسل تاخیر کے بعداب اس پروجیکٹ کی لاگت بڑھتے بڑھتے ڈبل ہوچکی ہے۔ انہوں نے کہاکہ 66ارب روپے سے کلک کے نام سے پروجیکٹ چل رہے ہیں،جن میں کھلی کرپشن ہورہی ہے اور ساٹھ سے 70فیصد رقم کرپشن کی نظر ہوجاتی ہے، تین چار ارب روپے سے جو استر کاری کا کام ہوا تھا وہ بارش کے ساتھ ہی بہہ گیا، گرومندر سے مزارقائد جانے والی سڑک کانام ”ایک دن کی سڑک“رکھا جارہا ہے، کیونکہ وہ ایک دن میں بہہ گئی، کوئی بھی کراچی کو اون کرنے کے لیے تیار نہیں ہے، مسترد شدہ پارٹیوں کو کراچی پر مسلط کردیا گیا، ساڑھے پانچ ہزار پولنگ اسٹیشنزمیں سے ایک بھی ایم کیوایم نہیں جیتی لیکن اسے 15قومی اسمبلی کی سیٹیں دے دی گئیں، پیپلز پارٹی اختیارات نچلی سطح پر منتقل کرنے کے لیے تیار نہیں،تمام اداروں پر قبضہ کیا ہوا ہے، اگر بلدیاتی اداروں کو نام نہاد کچھ چیزیں منتقل کی بھی ہیں تو اپنا قبضہ سسٹم ٹاؤنز اور بلدیاتی حکومت کے اوپر مسلط کیا ہوا ہے، یوسیز اور ٹاؤنز کے پاس کچھ اختیارات نہیں،پیپلز پارٹی اپنی کراچی دشمن پالیسی جاری رکھے ہوئی ہے، جماعت اسلامی نے کراچی کے مسائل کو اجاگر کیا ہے اوراحتجاج بھی کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ صنعتیں تباہ حال ہیں، صنعتکار کہتے ہیں کہ اتنی مہنگی بجلی کے ساتھ صنعتیں نہیں چل سکتی، کاٹیج انڈسٹری تباہ حال ہے، تاجر الگ پریشان ہیں، رہائشی علاقوں میں جو لوگ رہتے ہیں ان کے بس میں نہیں کہ بجلی کے بھاری بھاری بلز اداکرسکیں، جماعت اسلامی کے دھرنے کے باعث جب پریشر بنا تو نواز شریف نے اپنی بیٹی کو ساتھ بٹھاکر پنجاب میں دو مہینے کے لیے بجلی کے بل میں کمی کا اعلان کیا عوام کو یہ خیرات نہیں چاہیے،بلکہ پورے ملک میں بجلی کے ٹیرف میں کمی چاہیے،آئی پی پیز کو ہزاروں ارب روپے کپیسٹی پیمنٹ کے نام پر دیئے گئے،اس کا حساب کون دے گا؟ن لیگ، پیپلز پارٹی، ق لیگ اور پی ٹی آئی سب نے ان آئی پی پیز کو فیور دیا، کیونکہ آئی پی پیز مالکان کے اہم نام ان پارٹیوں میں شامل ہوتے تھے یا ان کے اسپانسر تھے، جس کے نتیجے میں ان آئی پی پیز کے خلاف کوئی کاروائی نہیں ہوسکی،اب نکلنے کا راستہ یہی ہے کہ ان کو لگا م دی جائے، جو عوام دشمن اور ظالمانہ معاہدے کئے گئے تھے،ان کے معاہدے کرنے والوں اور کروانے والوں کو سب کو بے نقاب کیا جائے، کسی آئی پی پیز میں ہمت نہیں ہے کہ وہ انٹرنیشنل کورٹ میں جاسکے کیونکہ یہ بے تحاشہ لوٹ مار کرچکی ہیں، اگر لوکل آئی پی پیز کے ساتھ چیزوں کو ایڈریس کرلیا جائے تو ہم چائنہ کے ساتھ بات کرسکتے ہیں ان کو قائل کرسکتے ہے، کیونکہ چائنہ پاکستان کا اسٹریٹیجک پارٹنر ہے وہ ضرور تعاون کرے گا۔

    پریس کانفرنس میں امیرجماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان،نائب امیر کراچی و اپوزیشن لیڈر بلدیہ عظمیٰ کراچی سیف الدین ایڈوکیٹ، سیکرٹری کراچی توفیق الدین صدیقی،جماعت اسلامی کے رکن سندھ اسمبلی محمد فاروق،ڈپٹی سکریٹری کراچی قاضی صدر الدین، سکریٹری اطلاعات زاہد عسکری، پبلک ایڈ کمیٹی کے سکریٹری نجیب ایوبی، نائب صدر عمران شاہدودیگر بھی موجود تھے۔

  • ہم کسی سے "فیض یاب” نہیں ہوئے، امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان

    ہم کسی سے "فیض یاب” نہیں ہوئے، امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ ہم کسی سے فیض یاب نہیں ہو رہے تھے، ہمیں کسی کی کالز نہیں آتی تھیں لیکن جب باجوہ صاحب کی ایکسٹیشن ہو رہی تھی تب بہت کالز آ رہی تھیں لیکن جماعت اسلامی نے کلیئر مؤقف دیا،پاکستان کی آزادی و خود مختاری کے معاملے میں سیاسی جماعتیں ملکر گڑ بڑ کرتی ہیں لیکن جب اسٹیبلشمنٹ فیور نہ دے تو پھر انکے لئے اسٹیبلشمنٹ بری ہو جاتی ہے.جو آئین سے ماورا اقدام ہو اسکی ہم سپورٹ نہیں کر سکتے، ہم کہتے ہیں ہم جیت رہے ہیں تو جیتنے دو ہار رہے ہیں‌تو ہارنے دو.

    365 نیوز پر پروگرام کھرا سچ کے میزبان سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ ہم منصورہ میں ہیں امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان کے پاس، جب سے یہ امیر بنی ہے ہماری پہلی ملاقات ہو رہی ہے، میں نے آتے ہی گلہ کیاکہ آپ بجلی کے بل کم کروانے گئے تھے پنڈی لیکن زیادہ کروا کر آ گئے،اندر کھاتے ڈیل ماری،مبشر لقمان نے حافظ نعیم الرحمان سے سوال کیا کہ کیا ڈیل ماری، جس کے جواب میں امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ ڈیل تو یہ ہے کہ بجلی کے بل کم کرنے پڑیں گے، جب فائنل مذاکرات کر رہے تھےتو آ کر کہتے ہیں کہ ہم 77 پیسے کم کر دیئے، پچھلی ماہ فیول ایڈجسٹمنٹ زیادہ تھی اس ماہ کم ہے،ہم نے کہا کہ اس کو ہم ایڈ نہیں کریں گے، ٹیرف میں کمی کریں گے، دوماہ کے لئے انہوں نے پنجاب میں ریلیف دیا لیکن اس کو بھی ہم نے قبول نہیں کیا، آپ ہمیں خیرات کیوں دے رہے،یہ ہمارا حق ہے، آئی پی پیز کے ساتھ معاہدے ختم کریں، اپنی شاہ خرچیاں کم کریں ، جو پیسہ بچے اس سے لوگوں کو ریلیف دیں،

    حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ کسی کی ذات بارے بات نہیں کرنا چاہتا لیکن ان کے عوامل سے کیا ظاہر ہوتا ہے، گالیاں پڑ رہی ہیں پھر بھی پیچھے نہیں ہٹ رہے، ہم نے کہا کہ 1300 سی سی سے نیچے آ جائیں کیا پریشانی ہے،لیکن یہ نہیں کر رہے، ذاتی طور پر ہیلی کاپٹر جہاز میں بیٹھیں لیکن سرکار کی بڑی گاڑی ختم کر دیں، پٹرول ختم کر دیں اربوں روپے بچ جائیں گے، اگر یہ مخلص ہوتے تو پاکستان آگے جاتا، پیچھے تو نہیں ،پاکستان کے پاس کسی چیز کی کمی تو نہیں، سونا چاندی، تیل گیس، کھیت، یوتھ سب کچھ ہے پھر بھی پیچھے جا رہے ہیں تو مسئلہ تو ہے، پارٹی کا ایشو نہیں ہے، حکمران طبقے کا ایشو ہے

    مبشر لقمان نے سوال کیا کہ آپ جب امیر کراچی تھے تو مردہ گھوڑے میں جان ڈالی،مجھے اس بات کی امید نہیں تھی، کسی نے یہ سوچا کہ اس کو کراچی سے نکالو ہمارے ہاتھ سے .جس پر حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی میں ڈیموکریسی ہے کوئی کسی کو ہٹا نہیں سکتا، آپ وہاں کے لوگوں سے پوچھ سکتے ہیں، جماعت اسلامی کی طاقت بہت بڑی ہے،نئے امیر کراچی کے وہ بھی فیلڈ میں بہت بڑی تعداد میں نکل رہے ہیں،

    بنگلہ دیش کے حوالہ سے سوال پر امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ وہاں بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کی بحالی کا نوٹفکیشن دو تین دن پہلے ہوا، وہاں جماعت اسلامی پر پابندی تھی،وہاں تو ہزاروں کی تعداد میں لوگ جیل میں ہیں، مقدمے ابھی تک بنے ہوئے ہیں،انکی ڈیمانڈ ہے لیکن چار دن پہلے بحالی ہوئی ہم اس لئے حصہ نہیں‌ڈالتے کہ میڈیا پر بات ہو تو انکو نقصان ہوتا ہے،ہم ان سے جدا نہیں ہیں ہم پاکستان کی خاطر کام کرتے ہیں جس کی خاطر قربانیاں دی گئیں،50 سال بعد حق سچ سامنے آ گیا بنگالی قوم آج ان کے ساتھ کھڑی ہے جن کو غدار بنا دیا گیا تھا ، جماعت اسلامی وہاں مضبوط بنیادوں پر موجود ہے، عوام میں موجود ہے

    عمران خان اور پی ٹی آئی نے ملک دشمنی میں تمام حدیں پار کر دیں

    امریکی ایوان نمائندگان میں قرارداد،پاکستان کے خلاف آپریشن گولڈ اسمتھ کی ایک کڑی

    آپریشن گولڈ سمتھ کی کمر ٹوٹ گئی،انتشاری ٹولہ ایڑھیاں رگڑے گا

    تحریک انصاف کی ملک دشمنی ایک بار پھر کھل کر سامنے آ گئی

    14 سال سے خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی سرکار،اربوں بجٹ وصول،کارکردگی زیرو

    عمران پر جیل میں تشدد ہوا،مجھے مرد اہلکار نے…بشریٰ بی بی نے سنگین الزام عائد کر دیا

    ہر نئے ریلیف کے بعد اک نیا کیس،عمران خان کی رہائی ناممکن

    عمران خان نے آخری کارڈ کھیل دیا،نواز شریف بھی سرگرم

    پی ٹی آئی کی ڈیجیٹل دہشت گردی کا سیاہ جال،بیرون ملک سے مالی معاونت

    اگلے دو مہینے بہت اہم،کچھ بڑا ہونیوالا؟عمران خان کی پہنچ بہت دور تک

    اڈیالہ جیل میں قید عمران خان نے بالآخر گھٹنے ٹیک دیئے

    ایک اور سوال کے جواب میں‌حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ ہم کسی سے فیض یاب نہیں ہو رہے تھے،فیض حمید کی کال میرے مطابق تو نہیں آئیں، باجوہ کی ایکسٹیشن کے موقع پر سراج الحق اور بہت لوگوں کو کالز آ رہی تھیں، ن لیگ،پیپلز پارٹی،پی ٹی آئی سب ایک ہوگئے تھے، آج سب گالیاں دے رہے ہیں، سٹیٹ بینک پر ایک ہو گئے کہ یہ آزاد ہے، کتنی چیزیں ایسی ہیں جو پاکستان کی آزادی و خود مختاری کا معاملہ ہے یہ سب مل کر گڑبڑ کرتے ہیں، جب سیاسی جماعتوں کو فیور نہ ملے تو اسٹیبلشمنٹ بری ہو جاتی ہے، جماعت اسلامی کی بات بہت کلیئر ہے، ہم اپنی فوج،ادارے، جو ان کی آئینی ذمہ داریاں ہیں، پاکستان کا دفاع، سلامتی یہ انکا کام ہے، جماعت اسلامی کا کنسرن کشمیر ہے،ہم اس مسئلے پر بات کریں گے، افغانستان میں حالات خراب ہوں گے خطے میں تباہی ہو گی تو ہم بات کریں گے، سلامتی کے مسائل پر ہم اداروں سے بات کر سکتے ہیں کیونکہ یہ ہماری فوج ہے.لیکن آئین سے ماروا اقدام کی ہم سپورٹ نہیں کریں گے

    ایک اور سوال کے جواب میں حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ میں کسی کی سیاست پر بات کروں ،ایکسٹینشن کا وقت آئے تو آنیاں جانیاں شروع ہو جاتی ہیں، پہلے ایک صاحب کی پھر دوسرے کی لیکن اکتوبر والی پہلی مشکل ہو رہی ہے، فارم 47 والا کتنی دیر کھڑا رہے گا، ہمارا مطالبہ ہے کہ فارم 45 والوں کی حکومت ہونی چاہئے، مسائل ہوتے ہیں، بعض لوگوں کا مسئلہ یہ نہیں کہ دھاندلی ہوئی ہے، لوگوں کا مسئلہ یہ ہے کہ دھاندلی سے نواز شریف کیوں جیتا،ہم کیوں نہیں جیتے، ہم سب کا احترام کرتے ہیں،اب پھر شروع ہو جائے گا گورنر،سینیٹر،داماد، بھائی یہی سیاست ہے؟ اسی لئے قوم اعتماد نہیں کرتی،

    حافظ نعیم الرحمان کا مزید کہناتھا کہ مذہبی جماعتوں کا اتحاد بن جائے اور ایک جماعت وعدہ توڑ دے تو اتحاد پارہ پارہ، پھر ہم کہاں کھڑے ہوں گے، کیسے لوگوں کو یقین دلائیں،جماعت اسلامی اور باقی مذہبی جماعتوں میں فرق ہے، ہم مسلک کی بنیاد پر جماعت نہیں ہے، ہم دین کی بات کرتے ہیں، ہم فرقہ پرستی، لسانیت،قوم پرستی سے پاک ہیں، ہر مسلک کی عزت کرتے ہیں، اسکی اہمیت ہے لیکن اس کی بنیاد پر ہم دکانداری کے مخالف ہیں.اتحاد اسلئے ہوتے کہ فرقہ بازی کوروکا جائے لیکن اتحاد کے باوجود لوگ اپنا مسلک چھوڑنے کوتیار نہیں ہوتے،مفادات کی سیاست کرتے ہیں، جماعت اسلامی نے فیصلہ کیا کہ ہم سب کی عزت احترام کریں گے، لیکن کسی کے ساتھ اتحاد نہیں کریں گے، اسکا نقصان ہوتا ہے کیونکہ لوگوں نے دھوکے دیئے ہیں،

    اسرائیل نیازی گٹھ جوڑ بے نقاب،صیہونی لابی عمران کو بچانے کیلئے متحرک

    عمران خان بطور وزیراعظم اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے کیلئے تیار تھے،دعویٰ آ گیا

    یو اے ای اسرائیل معاہدہ،ترکی کے بعد پاکستان کا رد عمل بھی آ گیا

    فیصلہ ہو چکا،جنرل باجوہ محمد بن سلمان سے کیا بات کریں گے؟ جنرل (ر) غلام مصطفیٰ کے اہم انکشافات

    پاکستان اسرائیل کو اگر تسلیم کر بھی لے تو….جنرل (ر) غلام مصطفیٰ نے بڑا دعویٰ کر دیا

    اسرائیل، عرب امارات ڈیل ،غلط کیا ہوا، مبشر لقمان نے حقائق سے پردہ اٹھا دیا

    خطے میں قیام امن کیلئے اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے مابین ڈیل ہو گئی

    متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے مابین معاہدے پر ترکی بھی میدان میں آ گیا

    حالات گرم،فیصلہ کا وقت آ گیا،سعودی عرب اسرائیل کے ہاتھ کیسے مضبوط کر رہا ہے؟ اہم انکشافات مبشر لقمان کی زبانی

    اسرائیل کوتسلیم کرنےکی مہم میں عمران خان ٹرمپ کےساتھ تھا:فضل الرحمان

  • عالمی یوم حجاب کے موقع پر لاہور پریس کلب میں تقریب

    عالمی یوم حجاب کے موقع پر لاہور پریس کلب میں تقریب

    لاہورپریس کلب کی گورننگ باڈی نے حلقہ خواتین جماعت اسلامی کے اشتراک سے عالمی یوم حجاب کے موقع پر معز ز خواتین ممبران اور انکی فیملیزکےلئے ” تہذیب ہے حجاب ،محفوظ عورت و مستحکم معاشرہ ” کے عنوان پر ایک تقریب منعقد کی، جس میں صدر مسلم وومن یونین جماعت اسلامی پاکستان ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی ، ڈپٹی سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان ثمینہ سعید ،خواتین ممبران اور ممبران کی فیملیزکی بڑی تعداد نے شرکت کی۔پروگرام میں شرکت کرنے والی خواتین نے پروگرام کے شاندارانتظامات کو سراہا اور امید ظاہرکی کہ منتخب گورننگ باڈی ممبران کی آئندہ بھی اسی طرح خدمات جاری رکھے گی۔ اس تقریب کے حوالے سے صدرارشد انصاری نے کہاکہ منتخب گورننگ باڈی کا مقصد کلب اور ممبران کی فلاح وبہبود کے لئے ایسے پروگرامزترتیب دیناہے جس سے انھیں زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچایا جاسکے، حیا اور حجاب اسلامی تہذیب کا اہم ستون ہیں اور حجاب کا تصور ایک پوری تہذیب کی نمائندگی کرتا ہے۔

  • بنگلہ دیش ،جبری گمشدگیوں کی تحقیقات کیلیے کمیشن،جماعت اسلامی پر پابندی ختم

    بنگلہ دیش ،جبری گمشدگیوں کی تحقیقات کیلیے کمیشن،جماعت اسلامی پر پابندی ختم

    بنگلہ دیش میں حسینہ واجد کے اقتدار کے خاتمے اور ڈاکٹر محمد یونس کی سربراہی میں عبوری حکومت کے قیام کے بعد اہم پیشرفت سامنے آئی ہے، جبری گمشدگیو ں کی تحقیقات کے لئے کمیشن قائم کر دیا گیا ہے تو وہیں جماعت اسلامی سے پابندی ختم کر دی گئی ہے

    بنگلہ دیش میں جبری گمشدگیوں کی تحقیقات کے لیے ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ جج معین الاسلام چوہدری کی سربراہی میں پانچ رکنی کمیشن بنا دیا گیا،کمیشن سابق وزیراعظم حسینہ واجد کے دور میں انٹیلیجنس ایجنسیوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے لاپتا کیے گئے افراد سے متعلق تحقیقات کرے گا،کمیشن یکم جنوری 2010 سے 5 اگست 2024 کے درمیان لاپتا افراد سے متعلق تحقیقات کرے گا، انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق اس عرصے میں 7 سو سے زیادہ افراد جبری طور پر گمشدہ کیے گئے،پانچ رکنی کمیشن 45 دنوں میں اپنی رپورٹ مکمل کر کے عبوری حکومت کو پیش کرے گا،کمیشن بنگلا دیشی بارڈر فورس، ریپڈ ایکشن بٹالین اور دیگر نیم فوجی یونٹوں کی تحقیقات کرے گا۔

    دوسری جانب بنگلہ دیش کی عبوری حکومت نے جماعت اسلامی بنگلہ دیش اور اس کے طلبہ ونگ پر لگائی گئی پابندی ختم کردی ہے، اس ضمن میں حکومت کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے جماعت اسلامی اور اس کی طلبہ تنظیم چھاترو شبر کے خلاف دہشت گردی میں ملوث ہونے کے الزامات ثابت نہیں ہوسکے، جماعت اسلامی اور اس کے اسٹوڈنٹ ونگ پرپابندی کاحکم منسوخ کردیا گیا ہے، جماعت اسلامی پر سے پابندی ہٹانےکا فیصلہ فوری نافذ العمل ہوگا

    ہم چاہتے ہیں کہ نفرت کی سیاست کو دفن کر دیا جائے، اسے دوبارہ نہیں اٹھنا چاہیے،امیر جماعت اسلامی بنگلہ دیش
    جماعت اسلامی پر سے پابندی ختم ہونے کے بعد بنگلہ دیش جماعت اسلامی کے امیر ڈاکٹر شفیق الرحمان نے بدھ کے روز ڈھاکہ کے ایک ہوٹل میں میڈیا کے نمائندوں سے ملاقات کے دوران بنگلہ دیش میں نفرت اور تقسیم کی سیاست کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہوئے قوم کے درمیان اتحاد پر زور دیا۔بنگلہ دیش جماعت اسلامی کے امیر ڈاکٹر شفیق الرحمان کا کہنا تھا کہ ہم چاہتے ہیں کہ نفرت کی سیاست کو دفن کر دیا جائے، اسے دوبارہ نہیں اٹھنا چاہیے۔ ہم چاہتے ہیں کہ تقسیم کی سیاست کو دفن کر دیا جائے، انہوں نے مختلف پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے ایڈیٹرز، چیف ایگزیکٹوز، نیوز ایڈیٹرز اور چیف رپورٹرز سے خطاب کرتے ہوئے کہا۔ڈاکٹر شفیق الرحمان نے اس بات پر زور دیا کہ جماعت کسی بھی معاملے پر قوم کو تقسیم کرنے کی حمایت نہیں کرتی، ان کا کہنا تھا: ’’ہر صورت میں ہم چاہتے ہیں کہ قوم متحد ہو۔‘‘انہوں نے ملک میں ہم آہنگی اور اجتماعی ترقی کی ضرورت کو اجاگر کیا۔

    جماعت اسلامی اور اس کے طلبہ ونگ چھاترا شبیر پر یکم اگست کو لگائی گئی حالیہ پابندی کے بارے میں انہوں نے کہا کہ یہ پابندی حکومت مخالف تحریک سے توجہ ہٹانے کی دانستہ کوشش تھی۔ان میں سے کچھ چاہتے تھے کہ اگر ایسا کچھ ہوا تو جماعت اسلامی اپنی پوری طاقت کے ساتھ احتجاج کرے گی، پھر اس کے مرکز میں کچھ اور ہوگا۔ افراتفری پیدا ہو جائے گی، اس طرح کی کارروائیوں کا مقصد ایک مسئلہ کو دوسرے کے ساتھ چھپانے کے لئے ہوسکتا ہے، اس طرح اختلاف رائے کی رفتار میں خلل پڑتا ہے۔جماعت کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت "کسی کے خلاف کوئی ناراضگی نہیں رکھتی” اور "سب کو معاف کر دیا ہے۔”تاہم، انھوں نے اصرار کیا کہ جن لوگوں نے مخصوص جرائم کیے ہیں ان کا احتساب ہونا چاہیے۔بصورت دیگر، معاشرے میں کوئی اصلاح نہیں ہو گی،

    پڑوسی ممالک کے کردار کو مخاطب کرتے ہوئے بنگلہ دیش جماعت اسلامی کے امیر ڈاکٹر شفیق الرحمان نے باہمی احترام پر مبنی باوقار تعلقات پر زور دیا اور کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ ہر کوئی باوقار پڑوسی کی طرح زندگی بسر کرے۔ یہ ہمارا موقف ہے، نہ صرف ہندوستان کے لیے بلکہ سب کے لیے،دوست کے طور پر ہماری مدد کریں لیکن ہمیں مجبور کرنے کی کوشش نہ کریں۔ ہمارے لوگوں کو فیصلہ لینے دیں ہم سب سے دوستی اور تعاون چاہتے ہیں۔آزادی صحافت کے حوالے سے، انہوں نے صحافیوں کے لیے آزادانہ اور منصفانہ کام کرنے کے ماحول کو یقینی بنانے کے وعدے کے لیے میڈیا کے مطالبے کو تسلیم کیا۔

    حسینہ واجد، بھارت کے لئے درد سر،پناہ دے؟ یا کہیں اور بھیجے،فیصلہ نہ ہو سکا

    بھارت حسینہ کو بنگلہ دیش کے حوالے کرے، مرزا فخر الاسلام

    حسینہ دہلی میں بیٹھ کر عوامی فتح کو ناکام بنانے کی سازش کر رہی ہے،مرزا فخرالاسلام

    حسینہ کی جماعت عوامی لیگ پر پابندی کی درخواست دائر

    مچھلی کے تاجر کے قتل پر حسینہ واجدکے خلاف مقدمہ درج

    گرفتاری کا خوف،حسینہ کی پارٹی کے رہنما”دودھ کا غسل” کر کے پارٹی چھوڑنے لگے

    بنگلہ دیش، ریلوے اسٹیشن پر لوٹ مار،تشدد،100 سے زائد زخمی

    ڈاکٹر یونس کی مودی کو فون کال، اقلیتوں کے تحفظ کی یقین دہانی

    حسینہ واجد پر قتل کا ایک اور مقدمہ درج

    حسینہ واجد کی پسندیدہ بلی 40 ہزار میں فروخت

    امریکی دباؤ اور خونریزی کے خوف نے مستعفی ہونے پر مجبور کیا ، شیخ حسینہ واجد کا انکشاف

    پاکستان دشمن حسینہ کا بیٹا بھی عمران خان کی طرح” یوٹرن” ماسٹر نکلا

    میری ماں اب بھی بنگلہ دیش کی وزیراعظم ہے،حسینہ کے بیٹے کا دعویٰ

    حسینہ کی بھارت میں 30 ہزار کی شاپنگ،پیسے ختم ہو گئے

    در بدر کے ٹھوکرے: شیخ حسینہ واجد کی سیاسی سفر کا المناک انجام

    حسینہ کی حکومت کا بد ترین خاتمہ،مودی کی سفارتی سطح پر ایک اور بڑی ناکامی

    ہم پاکستان کے ساتھ جانا پسند کریں گے۔ بنگلہ دیشی شہریوں کا اعلان

    بنگالی "حسینہ”مشکل میں،امریکی ویزہ منسوخ،سیاسی پناہ کیلیے لندن سے نہ ملا جواب

    بنگلہ دیش،طلبا کی ڈیڈ لائن ختم ہونے سے قبل ہی پارلیمنٹ تحلیل

    حسینہ واجد کی ساڑھی بیوی کو پہنا کر وزیراعظم بناؤں گا،شہری

    بنگلادیش کی سابق وزیراعظم پر سنگین الزامات: بین الاقوامی عدالت میں مقدمہ درج

  • زبردستی اسکول بند کرنیوالی جماعت اسلامی کی غنڈہ گردی قابل مذمت ہے،ترجمان سندھ حکومت

    زبردستی اسکول بند کرنیوالی جماعت اسلامی کی غنڈہ گردی قابل مذمت ہے،ترجمان سندھ حکومت

    ترجمان سندھ حکومت گھنور خان اسران نے کہا ہے کہ کراچی کے مختلف علاقوں میں زبردستی اسکولوں کو بند کرنے والی جماعت اسلامی کی غنڈہ گردی قابل مذمت ہے،

    ترجمان سندھ حکومت کا کہنا تھا کہ یہ تعلیمی اداروں پر نہیں بلکہ قوم کے مستقبل اور تعلیم کے تقدس پر براہ راست حملہ ہے، تعلیم کی یہ کھلم کھلا رکاوٹ طلباء کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے،قانون کی حکمرانی کو نقصان پہنچانے اور شہریوں میں خوف پیدا کرنے والے ہتھکنڈے برداشت نہیں کئے جائیں گے،جبر اور خوف و ہراس کا سہارا لے کر، جماعت اسلامی نے ایک بار پھر اپنے حقیقی رنگ دکھائے ہیں،قوم، تقسیم اور خوف کے سائے میں گھسیٹنے والی سازشوں کو مسترد کر چکی ہے، عوام کی فلاح و بہبود اور ترقی پر اپنے تنگ نظری پر سیاسی مفادات کو بالاتر رکھنا شرمناک ہے، قیام پاکستان سے آج تک جماعت اسلامی تاریخ کے غلط رخ پر اور تقسیم کی سیاست میں ملوث رہی ہے،جماعت اسلامی کا گزشتہ برسوں سے سیاسی طرز عمل موقع پرستی اور خلل ڈالنے پر مبنی رہا ہے، اپنے تنگ سیاسی اور نظریاتی مقاصد کو قومی مفادات پر ترجیح دینا جماعت اسلامی کی تاریخ رہی ہے، کراچی میں جماعت اسلامی کی جانب سے تعلیمی ادارے بند کروانا ان کے دیرینہ تنگ نظر سیاس ایجنڈہ کی مثال ہے، جماعت اسلامی کے حالیہ سیاسی چالبازیاں پاکستان کے بہترین مفادات کی مخالفت کی ان کی طویل تاریخ کا تسلسل ہیں،

    لاہور ایئر پورٹ،وزراء کا حکم "ہوا” میں ،امیگریشن کاؤنٹر نہ بڑھ سکے،مسافر پھٹ پڑے

    عظمیٰ بخاری کی جعلی ویڈیو بنانے والے ہر کردار کو بے نقاب کرینگے،شزہ فاطمہ

    تحریک انصا ف،یہودی صیہونی لابی کا گٹھ جوڑ،ثبوت سامنے آ گئے

    پی ٹی آئی کی ڈیجیٹل دہشت گردی کا سیاہ جال،بیرون ملک سے مالی معاونت

    جسٹس ملک شہزاد نے چیف جسٹس سے چھٹیاں مانگ لیں

    اگر کارروائی نہیں ہو رہی تو ایک شخص داد رسی کیلئے کیا کرے؟چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ

    عمران خان کیخلاف درخواست دینے پر جی ٹی وی نے رپورٹر کو معطل کردیا