Baaghi TV

Tag: جمہوریت

  • ووٹرز کی تعداد میں اضافہ،پاکستان دنیا کی پانچویں بڑی جمہوریت بن گیا

    ووٹرز کی تعداد میں اضافہ،پاکستان دنیا کی پانچویں بڑی جمہوریت بن گیا

    آٹھ فروری کو پاکستان میں عام انتخابات ہو رہے ہیں، الیکشن کمیشن نے انتخابات کے لئے تیاریاں مکمل کرلی ہیں سیاسی جماعتوں کی جانب سے انتخابی مہم عروج پر ہے، آج انتخابی مہم کا آخری دن ہے،

    نگران وفاقی وزیر اطلاعات مرتضیٰ سولنگی کا کہنا ہے ملک میں جمہوریت کا تسلسل جاری ہے، شفاف الیکشن کے لیے بہترین انتظامات کیے گئے ہیں، پاکستان دنیا کی پانچویں بڑی جمہوریت ہے، قومی اسمبلی کی 266 نشستوں پر انتخابات ہوں گے، انتخابات میں 12 کروڑ سے زائد شہری ووٹرز حق رائے دہی استعمال کریں گے،

    پاکستان میں رجسٹر ڈ ووٹر کی تعداد میں اضافہ ہونے کے بعد پاکستان دنیا کی پانچویں بڑی جمہوریت بن گیا ہے، فافن کی جانب سے جاری رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بھارت، انڈونیشیا، امریکا اور برازیل کے بعد پاکستان دنیا کی پانچویں بڑی جمہوریت بن گیا ہے، 8 فروری کو ہونے والے انتخابات کےلیے ملک میں ریکارڈ 12 کروڑ 80 لاکھ ووٹرز رجسٹرڈ ہیں،

    پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا کہ خواتین ووٹرز کی رجسٹریشن بڑھنے کا رجحان دیکھنے میں آیا، 2018 میں ووٹرز کا صنفی فرق 11.8 فیصد تھا جو اب 7.7 فیصد ہوگیا ہے، 2018 کے بعد خواتین ووٹرز کی رجسٹریشن مردوں سے بڑھ گئی ہے، نئے رجسٹرڈ 2 کروڑ 25 لاکھ ووٹرز میں ایک کروڑ 25 لاکھ خواتین اور ایک کروڑ مرد ہیں، 2018 میں 85 اضلاع میں صنفی فرق 10 فیصد سے زیادہ تھا، اب ان اضلاع کی تعداد 85 سے کم ہو کر 24 رہ گئی ہے

    پاکستان دنیا کی پانچویں بڑی جمہوریت تو بن گیا لیکن پاکستان کی سیاسی جماعتوں میں جمہوریت نام کی کوئی چیز نہیں بلکہ ہر طرف موروثیت دکھائی دیتی ہے، پیپلز پارٹی، ن لیگ، سمیت تمام بڑی سیاسی جماعتوں میں موروثیت ہے، خاندانی پارٹیاں بن چکی ہیں، شریف خاندان، بھٹو خاندان، گیلانی خاندان ،چوھدری برادران سمیت ہر طرف موروثیت ہی موروثیت دکھتی ہے،جماعت اسلامی میں جمہوریت نظر آتی ہے ، ایم کیو ایم بھی قدرے جمہوریت کے قریب ہے.

    دوسری جانب الیکشن کمیشن آف پاکستان کی طرف سے ڈرافٹ پولنگ سکیم 2024پنجاب کے تجزیے کے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پنجاب میں پولنگ سٹیشن بناتے ہوئے قانون کو بلکل نظر انداز کیا ہے اور شہری علاقوں میں پولنگ سٹیشن 12سو ووٹرز پر بنانے کے بجائے 25سو ووٹرز پر بھی بنائے گئے ہیں اور مخصوص جگہوں پر 6سو ووٹرز پر بھی الیکشن سٹیشن بنائے گئے ہیں قانون کے مطابق 3سو ووٹرز پر ایک پولنک بوتھ لازمی بنانے کا کہا گیا ہے جبکہ الیکشن کمیشن نے 25سو ووٹرز پر بھی 4بوتھ بنائے ہیں اس طرح 6سو سے زائد ووٹرز پر ایک بوتھ بنایا گیا ہے جو کہ قانون کے بلکل خلاف ہے،سامنے آنے والے ڈیٹے کے تجزیے سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ جہاں مرد اور خواتین کے قانون کے مطابق الگ الگ پولنگ سٹیشن بنائے جاسکتے تھے وہاں بھی 25 سوووٹرز پر مشترکہ سٹیشن بنائے گئے ہیں جبکہ وہاں پر 12سو سے زیادہ مرد اور 12سو سے زیادہ خواتین ووٹرز ہیں ۔

    ڈیٹا کے تجزیے میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ ایک ہی جگہ پر مرد اور خواتین کے مشترکہ پولنگ سٹیشن بنائے گئے ہیں جبکہ اگر خواتین اور مردوں کے الگ الگ سٹیشن بنائے جاسکتے تھے ۔ اس حوالے سے ترجمان الیکشن کمیشن سے رابطہ کیا گیا مگر انہوں نے کوئی موقف نہیں دیا

    ووٹ صرف اصل شناختی کارڈ پر ہی ڈالا جا سکے گا، الیکشن کمیشن

    نتائج کب تک آئیں گے، اس پر کوئی حتمی وقت دینا ممکن نہیں، الیکشن کمیشن حکام

    عمران خان کا مستقبل مخدوش،بلاول کی شاندار حکمت عملی،بشریٰ عمران کو سرپرائز دیگی؟ حسین حقانی

    عمران خان کو سزا پر مبشر لقمان غمگین کیوں؟

    تیزاب گردی، مبشر لقمان پھٹ پڑے،کہاسرعام لٹکایا جائے

    تحریک انصاف آگے، حمزہ شہباز خطرے میں،عمران خان کو سزا،شریعت،قانون کیا کہتا؟

    عمران ،بشریٰ بی بی غیر شرعی نکاح کیس ، عدالتی فیصلہ درست ہے، مفتی قوی

    عمران بشریٰ شادی،عمران جھوٹ پر جھوٹ بولتے رہے، سب سامنے آ گیا

    ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی، کے پی میں جرمانے، وارننگ نوٹس

  • سپریم کورٹ جمہوریت کو بچائے گی،چیئرمین تحریک انصاف

    سپریم کورٹ جمہوریت کو بچائے گی،چیئرمین تحریک انصاف

    چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر خان اڈیالہ جیل پہنچ گئے۔

    بیرسٹر گوہر خان نے اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کو کٹہرے میں کھڑا نہیں کیا جاسکتا پی ٹی آئی پر سختیاں ضرور کی جارہی ہیں۔ہماری پٹیشن میں درخواست تھی کہ ریٹرننگ افسران کو عدلیہ سے لیا جائے،سپریم کورٹ ہی بتا سکتی ہے انہیں کیوں لگا ہم جمہوریت کو ڈی ریل کرنا چاہتے ہیں، ہم تو سپریم کورٹ میں بیٹھے رہتے ہیں کہ جمہوریت کو ڈی ریل ہونے سے بچایا جائے، انشاء اللہ سپریم کورٹ جمہوریت کو بچائے گی، بوگس کیسز کے ذریعے جسمانی ریمانڈ لینے کی کوشش کی جارہی ہے، یہ سب کچھ سیاسی انتقام کیلئے کیا جارہا ہے جیل ٹرائل ہوہی نہیں سکتا، ایسے ٹرائل بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے،

  • انتخابات شفاف نہیں ہوئے تو مسائل حل نہیں ہونگے، شاہد خاقان عباسی

    انتخابات شفاف نہیں ہوئے تو مسائل حل نہیں ہونگے، شاہد خاقان عباسی

    سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ افغانستان اور انڈیا کے ساتھ ہماری تجارت نہیں ہے،

    شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ آج کے دور میں ڈپلومیسی تجارت ہے کہ آپ کیا خرید رہے ہیں اور کیا بھیج رہے ہیں ہے، ایسٹ ایشاء کے پاس کوئی ٹرک روٹ نہیں ہے اس معاملے کو دیکھنا چاہیئے، ہماری گیس، ٹرک روٹس اور سفر کے مسائل کو دیکھنا ہوگا،پاکستان اور انڈیا میں ماحولیاتی آلودگی کے مسائل ہیں،اگر ائیر کوالٹی انڈیکس کا یہ مسائل ہے تو پانی اور باقی چیزوں کا اندازہ خود لگا لیں،دونوں ممالک کو سخت مسائل درپیش ہیں لیکن ہم ایک دوسرے سے بات نہیں کرتے، ہمیں اپنے گھر کے مسائل کو حل کرنا ہوگا، غزہ میں نسل کشی ہورہی ہے لیکن سب خاموش ہیں،کیا کسی نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات ختم کئے، عوام بول رہی ہے لیکن تمام حکومتیں خاموش ہیں،

    شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ ہم نے 76 سالوں دنیا کے تمام سسٹمز کو آزمایا لیکن ہم ناکام ہوئے،اب وقت ہے کہ آئین کو آزمایا جائے اور اس پر عمل کیا جائے ، پاکستان میں اس وقت جمہوریت کی سخت ضرورت ہے،جمہوریت کے لیے شفاف انتخابات کا ہونا ضروری ہے، اگر آنے والے انتخابات شفاف نہیں ہوئے تو مسائل حل نہیں ہونگے، کامیاب معشیت کے لیے جمہوریت کا ہونا ضروری ہے،سیاست کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے،پاکستان آٹومیٹک اسلحے کے لائسنس دیتا ہے، حتی کے افعانستان اور لبنان فراہم نہیں کرتا،جب سیاسی مسائل حل ہونگے تو معیشت کے مسائل حل ہوجائے گے ، شاہد خاقان عباسی

  • نظام کی ناکامی کے ذمہ دار سیاستدان،تجزیہ ، شہزاد قریشی

    نظام کی ناکامی کے ذمہ دار سیاستدان،تجزیہ ، شہزاد قریشی

    ملک بھر میں مہنگائی اور بجلی کے بلوں میں بے دریغ اضافے پر جاری احتجاج اور مظاہروں میں عوامی نمائندوں کی عدم شرکت جمہوری سیاست کے لئے لمحہ فکریہ ہے ۔ سیاستدانوں اور عوام کے درمیان واضح ہوتا ہوا خلا کیسے پُر ہو گا؟عوامی نمائندوں کی عدم موجودگی اور بے راہنما قیادت پر مظاہرے جمہوریت نہیں جمہوریت کے دعویداروں پر سوالیہ نشان ہے ؟ عوامی احتجاج سیاستدانوں اور سیاسی جماعتوں سے سوال کرتا ہے کہ بیمار لا علاج ہیں۔ بچے تعلیم سے محروم ہیں۔ مہنگائی مسلسل بڑھ رہی ہے اور بجلی کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کے باوجود زندگی کو گھائل کرنے والے عذابوں کے خاتمے کے کوئی آثار نہیں ہیں ۔ ملکی جمہوریت اور سیاسی نظام دنیا کے کسی کونے میں ا س طرح کا نظام انسانیت کو آسودگی اور آسائش دینے سے قاصر ہے ۔ موجودہ سیاسی نظام بدعنوانی اورمنافقت اخلاقیات کا درجہ اختیار کر چکی ہیں۔ جب ہر طرف مجبوری و محکومی کا راج ہو تو سیاست بھلا کیسی ہوگی ؟ ہمارا جمہوری نظام ناکام ہو چکا ہے اور اس ناکامی کی سب سے بڑی وجہ خود سیاستدان ہی ہیں۔ سیاست روبہ زوال ہے ۔

    پی ٹی آئی کے دور حکومت میں عوام مہنگائی سے چلااٹھے تھے پھر پی ڈی ایم کی حکومت میں مہنگائی کے تابڑتوڑ حملے عوام کی روح اور جسموں پر زخم لگائے ۔ ٹاک شوز میں دولت مندوں کے پارٹیوں کے نمائندے ایک دوسرے پر الزام لگا رہے ہیں یہ محض بحث برائے بحث کے دلائل ہیں۔آج پاکستان اور عام آدمی کو جن بنیادی مسائل کا سامنا ہے اس کے ذمہ دار سیاستدان ہیں جنہوں نے ملکی وسائل سے توجہ ہٹا کر قرضوں پر ہی انحصار کیا جس کا خمیازہ آج عوام بھگت رہی ہے۔

  • حنا پرویز سے زیادتی، نگران وزیراعظم پر تنقید ، پیچھے کون؟

    حنا پرویز سے زیادتی، نگران وزیراعظم پر تنقید ، پیچھے کون؟

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشرلقمان نے اپنے یوٹیوب چینل پر ویلاگ میں کہا ہے کہ لندن میں حنا پرویز بٹ کے ساتھ جو واقعہ پیش آیا وہ بھی سو کالڈ پاکستانی تھے، عمران خان کی یہ ٹریننگ ہے کہ اس طرح کی حرکتیں کرنی ہیں، لندن میں قوانین سخت ہیں، اس میں معافی نہیں ہے، ٹویٹر پر دیکھ لیں، سوشل میڈیا دیکھیں جس طرح کی زبان یہ استعمال کرتے ہیں، کوئی بات نہیں ، عمران خان کی بہنیں جب لندن جائیں گے تو ہو سکتا ہے انکو بھی ایسا ہی رویہ برداشت کرنا پڑے، لیکن جب انکو خود پر بات آتی ہے تو اخلاقیات یاد آ جاتی ہیں، دوسروں کے لئے انکے نزدیک کوئی اخلاقیات نہیں، یہ ہمارے ملک کا المیہ ہے،مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ لندن میں اظہار رائے کی آزادی ہے، آپکو کیا پتہ کون کہاں کا رہنے والا ہے، وہاں پر وکیل کریں، عدالت جائیں،پولیس کو رپورٹ کریں ؟ لندن میں تو چوری کا پرچہ نہیں ہوتا، رپورٹ ہوتی ہے صرف، اس وقت لندن کے برے حالات ہیں،

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ نگران وزیراعظم آئے ہیں یہ مڈل کلاس کے آدمی ہیں اور بلوچستان کی نمائندگی کر رہے ہیں اسلئے وہاں کے سردار پریشان ہیں، کہ لوگ اب نہیں سنیں گے، یہ جن لوگوں کو سرداروں نے دبا کر رکھا ہے انکی مدد کرے گا، اختر مینگل نے جو کیا وہ میں نے سنا کہ نواز شریف کے کہنے پر ہی کیا، جمہوریت قتل کرنے کی بات ہے ، جمہوریت کا نام لیا جاتا ہے،اگر جمہوریت پسند ہوتے تو فوری الیکشن کروا دیتے، ایک دوسرے پر لوگوں کو اعتبار نہیں،یہ واحد ملک ہے جس کو نگران حکومت چاہئے،

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ پرویز الہیٰ کے بیٹے کو جب عقل آ جائے گی وہ باہر آ جائیں گے،پرویز الہیٰ بدنصیب آدمی ہے، بیٹا یورپ میں اور باپ جیل میں ہے،

    عمران خان پربجلیاں، بشری بیگم کہاں جاتی؟عمران کےاکاونٹ میں کتنا مال،مبشر لقمان کا چیلنج

    اینکر پرسن مبشر لقمان اوورسیز پاکستانیوں کی آواز بننے کے لئے میدان میں آ گئے

     شہبا ز شریف نے جب تک حکومت چلانی اب مولانا نے نخرے ہی دکھانے ہیں

    بشریٰ بی بی پھنس گئی،بلاوا آ گیا، معافی مشکل

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

  • سیاست بیزاری کا باعث، تجزیہ، شہزاد قریشی

    سیاست بیزاری کا باعث، تجزیہ، شہزاد قریشی

    سیاسی جماعتیں ان دنوں الیکشن کے بارے گفتگو کر رہی ہیں۔ اس وقت یہی دعا کی جا سکتی ہے ہمارے سیاستدان جمہوری بن جائیں۔ جمہوریت کو مستحکم کریں ۔ آئین پر عمل کریں اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانے میں اپنا کردار ادا کریں ۔ زبانی جمع خرچ سے باہر نکلیں بھڑکیں نہ ماریں ۔ آئین اور پارلیمنٹ کی بالادستی کو یقینی بنانے میں بھی کردار ادا کریں۔ حیرت ہے بعض سیاستدانوں پر آئین میں صاف لکھا ہے کہ الیکشن کب ہوں گے پھر بھی کہیں سے آواز آتی ہے کوئی حتمی نہیں الیکشن لیٹ بھی ہو سکتے ہیں ۔

    پنجاب میں آج بھی نگران حکومت ہے اور خیبر پختونخوا میں یہ نگران کب تک رہیں گے ۔ آئین میں سب کچھ لکھا ہے ۔ کیا اب وفاقی نگران حکومت جو بنے جا رہی ہے اُ س کی معیاد بھی پنجاب اور خبیر پختونخوا کی طرح بڑھائی جائے گی ؟ اگر ایسا ہے تو پھر کیسی جمہوریت اور کیسا آئین ؟ سیاسی گلیاروں میں پیپلزپارٹی جو رونق جیالے لگاتے ہیں وہ رونق پی ٹی آئی والے بھی لگانا سیکھ چکے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) ، قیلولہ میں چلی گئی سیاسی جلسوں میں رونق مریم نواز اور نواز شریف ہی لگا سکتے ہیں مگر(ن) لیگ کی قانونی ٹیم کہاں تک پہنچی ہے نواز شریف کا راستہ ہموار کرنے کے لیے اس کا جواب تو شہباز شریف ہی دے سکتے ہیں۔ اس وقت اصل مسئلہ سیاست ، جمہوریت اورمعیشت کا ہے ۔

    ان مسائل سے نکلنے کے لئے نواز شریف کا پاکستان میں ہونا ضروری ہے۔الیکشن جمہوریت کا حسن ہوتے ہیں ۔(ن) لیگ کا الیکشن مریم نواز اور بالخصوص نواز شریف کے بغیر ادھورا ہو گا ۔ کہا جاتا ہے کہ پیپلزپارٹی ریڈ لائن سے گرین لائن تک پہنچ چکی ہے ۔ آصف علی زرداری کی خواہش ہے کہ آئندہ ملک کے وزیراعظم بلاول بھٹو بنیں اس سلسلے میں وہ اپنے تیر نشآن کو لے کر بلوچستان سے لے کر پنجاب اور خیبر پختونخوا تک چلا رہے ہیں۔ نئی سیاسی جماعت بھی پیپلزپارٹی کے لئے غنیمت ثابت ہو ۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    خطرناک اشتہاری ملزم کو دبئی سے گرفتار کرلیا گیا
    چیئرمین تحریک انصاف سے 13 مقدمات میں 5 رکنی تحقیقاتی ٹیم کی تفتیش
    آئی ایم ایف کی عمران خان سے ملاقات سیاسی عمل کا حصہ ہے،مریم اورنگزیب
    افغانستان کر کٹ ٹیم نے تین میچز کی سیریز اپنے نام کر لی
    یونان کشتی حادثہ؛ جاں بحق 15 مزید پاکستانیوں کی شناخت
    بے اولادی کے طعنے پر 3 پڑوسیوں کو قتل کرنے والا ملزم گرفتار
    محمد رضوان کو سری لنکا کیخلاف ٹیسٹ سیریز میں کھلانے پر غور
    آصف علی زرداری سیاسی چال چلتے ضرور ہیں مگر وہ قدم پھونک پھونک کر رکھ رہے ہیں۔ ویسے بھی نظریات وغیرہ دفن ہو چکے ہیں۔ آئین پر عمل بھی ایک خوا ب لگتا ہے۔ عوام کی اکثریت رو رہی ہے اور سیاسی تماشے بھی دیکھ رہی ہے۔ سیاست اور سیاستدان عام انسانوں کے لئے بیزاری بنتے جا رہے ہیں۔

  • اسکاٹ لینڈ میں شہنشاہیت کے خلاف مظاہرے، جمہوریت کا پول کھل گیا

    اسکاٹ لینڈ میں شہنشاہیت کے خلاف مظاہرے، جمہوریت کا پول کھل گیا

    اسکاٹ لینڈ:غیر ملکی ذرائع کے مطابق برطانوی شہنشاہیت مخالف سوشل ورکر ایڈن برگ چرچ کے سامنے جمع ہوئے جہاں پر ملکہ الیزابتھ کے جنازے کو رکھا گیا ہے۔ مظاہرے میں شامل بعض لوگوں نے اپنے حقِ اعتراض اور اپنے ساتھیوں کی گرفتاری کے خلاف خالی سفید بینر اور سفید خالی پوسٹر اٹھا رکھے تھے جو شاہی حکومت کے خلاف نعرے لگاتے گرفتار کئے گئے تھے۔

    رپورٹ کے مطابق اتوار کے روز برطانیہ کی پولیس نے ایک 22 سالہ خاتون کو اس شک کی بناء پر گرفتار کر لیا تھا کہ اس نے چارلس دوم کے بادشاہ بننے کی تقریب میں امن و امان کو خراب کرنے کی کوشش کی تھی۔ اسی طرح آکسفورڈ میں ایک شخص کو گرفتار کیا تھا جس نے نعرہ لگایا تھا کہ اسے کس نے منتخب کیا ہے۔ رائل میل میں 22 سالہ جوان کو بھی گرفتار کیا گیا جس پر شاہی جلوس میں گڑبڑ کا الزام لگایا گیا۔

    برطانوی پارلیمنٹ کے اراکین نے ان گرفتاریوں پر تشویش کا اظہار کیا اور ان گرفتاریوں کو آزادی اظہار رائے کے حق کی خلاف ورزی قرار دیا، جس کا برطانیہ میں مبینہ جمہوریت کی بنیاد پر بڑے زور و شور سے دعویٰ کیا جاتا ہے۔

    ادھرملکہ برطانیہ کا جسد خاکی بکنگھم پیلس میں موجود ہے اور لاکھوں افراد ان کا آخری دیدار کرنے کے لیے لندن پہنچ رہے ہیں۔

    برطانوی عوام ملکہ ایلزیبتھ کو جوق در جوق خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے لندن کا رخ کررہے ہیں۔ بدھ کی دوپہر ملکہ کا تابوت بکنگھم پیلس سے ویسٹ منسٹر ایبے لےجایا جائے گا۔ اس موقع پرلندن کی سیکورٹی انتہائی سخت کرتے ہوئے مختلف مقامات پر فوج بھی تعینات کردی گئی ہے۔

    اس سے قبل منگل کی شام ملکہ برطانیہ کی میت ایڈنبرا سے لندن لائی جائے گئی جس کے بعد میت کو تابوت میں سرکاری اعزاز کے ساتھ بکنگھم پیلس لےجایا گیا۔

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کانجو اور سوات کا دورہ کیا

    وزیراعظم شہباز شریف نے چارسدہ میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا

    پاک فضائیہ کی خیبر پختونخوا، سندھ، بلوچستان اور جنوبی پنجاب کے سیلاب سے شدید متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں۔

  • جمہوریت اور نفرت — بلال شوکت آزاد

    جمہوریت اور نفرت — بلال شوکت آزاد

    کوئی مجھ سے پوچھے کہ جمہوریت کی سب سے بڑی خامی کیا ہے؟

    تو میرا جواب ہوگا۔

    نفرت,

    جی بلکل نفرت اس جمہوریت کی وہ بدترین خامی ہے جو پوری شد ومد کے ساتھ اس کا حصہ ہے۔

    وہ کیسے؟

    وہ ایسے کہ جمہوریت, آزادی رائے اور حق خود ارادیت کے سنہرے خوابوں کی آڑھ میں جو انتخاب کا حق تفویض کرتی ہے اسکی بنیاد طرفین میں نفرت کو پروران چڑھانا ہوتا ہے۔

    سادہ الفاظ میں بیان کروں تو جمہور نفرت کے بغیر انتخاب جیسا عمل تکمیل تک نہیں لیکر جاسکتے۔

    چونکہ جمہوریت ہر انسان کو یہ حق دیتی ہے کہ وہ حکمران بننے کا اہل ہے مگر جمہور کے انتخاب اور طاقت سے تو عوامی رائے تقسیم ہوجاتی ہے۔

    عوامی رائے کا منقسم ہونا, دو امیدواروں میں سے کسی ایک کا نفرت اور حقارت کے نتیجے میں رد ہونا اور دوسرے کا منتخب ہونا ہی دراصل جمہوریت ہے۔

    کیا میں غلط کہہ رہا ہوں؟

    کیا پاکستان کی بیس کروڑ عوام اس وقت اسی جمہوریت کی بدولت منتشر اور ایک دوسرے سے متنفر نہیں؟

    کیا نواز شریف کے ووٹر اور سپورٹر عمران خان اور دیگر متضاد جمہوری لیڈروں, انکی پارٹیوں اور انکے ووٹران و سپورٹران سے شدید متنفر نہیں؟

    کیا عمران خان کے ووٹر اور سپورٹر نواز شریف اور دیگر متضاد جمہوری لیڈروں, انکی پارٹیوں اور انکے ووٹران و سپورٹران سے شدید متنفر نہیں؟

    اسی طرح باقی سیاسی لیڈران اور اور انکے ووٹران و سپورٹران آپس میں سیاسی, جمہوری اور ذاتی بنیادوں پر متنفر نہیں؟

    جب یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہے کہ جب تک طرفین ایک دوسرے کے لیئے نفرت اور حقارت دل میں نہیں پالیں گے تب تک جیت انکا مقدر نہیں ہوگی تو پھر کیوں اس نظام کو اتنا سینوں سے لگایا جاتا ہے؟

    کوئی بھی مجھے اس کے رد میں دلیل نہیں دے سکتا؟

    خواہ کتنا ہی مہذب معاشرہ کنگھال لیں جہاں جمہوریت ہوگی وہاں نفرت کا عنصر عوامی سطح پر غالب ہوگا۔

    نواز شریف اور عمران کی جنگ جمہوری نہیں نفرتی ہے۔

    ذرداری اور نواز شریف کی جنگ جمہوری نہیں نفرتی ہے۔

    عمران اور ذرداری کی جنگ جمہوری نہیں نفرتی ہے۔

    غرض ہر سیاستدان جمہوریت کی آڑ میں نفرت کو ہی فروغ دے رہا ہے۔

    ہر مذہبی لیڈر جمہوریت کی آڑ میں نفرت کو پروان چڑھا رہا ہے۔

    ہر سیکولر سربراہ جمہوریت کی آڑ میں نفرت کو سہلا رہا ہے۔

    عوام محدود پیمانے کی یکطرفہ محبت میں مبتلا ہوکر میں, میرا اور میرے لیئے کی خاطر نفرتوں میں الجھ کر جمہوریت جمہوریت کھیل رہی ہے مگر دراصل اپنا قومی اور ملی تشخص چند لوگوں کے ذاتی مفادات کی خاطر انکے پاس ہی گروی رکھ کر نفرتوں میں ڈوبی ہوئی ہے۔

    اس جمہوری نفرت نے خواص و عوام کو دھڑوں میں تقسیم درد تقسیم کردیا ہے۔

    یہاں تک کہ آج ایک ہی گھر کے چار افراد ہوں تو سب کی محبت الگ الگ سیاسی لیڈروں سے منسلک ہوگی اور نفرت کا تو یہ حال ہوگا کہ رشتے بھی اس میں رکاوٹ نہیں ہوتے۔

    بلا تخصیص اور بلا تفریق نفرت فی سبیل ﷲ نے اس قوم کا بیڑا غرق کرکے رکھ دیا ہے۔

    وجہ صرف یہ جمہوریت ہے۔

    جمہوریت میں انتخاب کا لولی پوپ دیا جاتا ہے جو دراصل کوٹڈ ہوتا ہے۔جیسے جیسے اسکی مٹھاس ماند پڑتی ہے ویسے ویسے نفرت کی کڑواہٹ اپنا اثر دکھانا شروع کردیتی ہے۔

    جمہوریت میں انتخاب بغیر نفرت کے ممکن نہیں اس لیئے جمہوریت کوئی اخلاقی نظام نہیں۔

    نفرت اور جمہوریت کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔

    رہ گئی بات مذہب کی تو مذہب تو جمہوریت کے ویسے ہی خلاف ہے۔

    شاید اسکی یہی وجہ ہے۔

    بہرحال اگر نفرتوں سے دل برادشتہ ہیں تو جمہوریت کا نشہ اتاریں اپنے سروں سے یا پھر اس جمہوریت کی تلاش کریں جو نفرت کی بنیادوں پر استوار نہ ہو۔

  • خدارا! اس ملک کو ایک جمہوری ریاست رہنے دیں،شاہد آفریدی

    خدارا! اس ملک کو ایک جمہوری ریاست رہنے دیں،شاہد آفریدی

    قومی ٹیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی نے بھی ملکی صورتحال پر اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : قومی کرکٹر شاہد آفریدی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری بیان میں کہا کہ طاقت کا بے دریغ استعمال، چادر چار دیواری کا تقدس پامال، لاٹھی، گولی کی یلغار، آمریت تو ہو سکتا ہے، جمہوریت ہر گز نہیں اختلاف اور احتجاج ایک بنیادی حق ہے اور یہی حق 22 کروڑ انسانوں کو ایک قوم بناتا ہے۔

    یاسین ملک پرجھوٹے الزامات کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو نہیں روک سکتے،شاہد آفریدی


    شاہد آفریدی نے اپیل کی کہ ’خدارا! اس ملک کو ایک جمہوری ریاست رہنے دیں۔

    خیال رہے کہ جناح ایونیو اسلام آباد میں کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے حکومت کو اسمبلیاں تحلیل کرنے اور انتخابات کے اعلان کیلئے 6 روز کی مہلت دے دی الیکشن کا اعلان اور اسمبلیاں تحلیل نہ کی گئیں تو وہ عوام کے ساتھ دوبارہ اسلام آباد آئیں گے۔

    یاسین ملک کو عمر قید سزا کی مذمت

    قبل ازیں سابق کرکٹرشاہد آفریدی نے کہا تھا کہ یاسین ملک پرجھوٹے الزامات کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو نہیں روک سکتے بھارت کی جانب سے مسلسل انسانی حقوق کی پامالی اور خلاف ورزیوں پراٹھنے والی آوازوں کو دبانے کی کوششیں کی جارہی ہیں یاسین ملک کیخلاف جعلی الزامات کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو نہیں روک سکیں گےاقوام متحدہ پرروز دیتا ہوں کہ وہ کشمیری رہنماؤں کیخلاف غیرمنصفانہ اورغیرقانونی سرگرمیوں کا نوٹس لے۔

    بھارت سے یاسین ملک کی زندگی کی بھیک نہیں مانگیں گے اور نہ ہی ہتھیار ڈالیں گے،مشعال ملک

  • ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس جمہوریت کے لیے تازہ ہوا کا جھونکا ہے،بلاول

    ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس جمہوریت کے لیے تازہ ہوا کا جھونکا ہے،بلاول

    ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس جمہوریت کے لیے تازہ ہوا کا جھونکا ہے،بلاول

    پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ، عدلیہ اور اسٹیبلشمنٹ کو متنازعہ سے آئینی کردار کی طرف منتقل کرنا آسان نہیں ہوگا،

    بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس جمہوریت کے لیے تازہ ہوا کا جھونکا ہے،جمہوریت، آئین اور قانون کی حکمرانی کی حمایت کرنا نہ صرف ہر ادارے بلکہ ہر پاکستانی کی ذمہ داری ہے،پاکستان کے تمام مسائل کا جواب جمہوریت، جمہوریت اور مزید جمہوریت ہے، اگر ہم اسی راستے پر چلتے رہے تو دنیا کی کوئی طاقت پاکستان کی ترقی کو نہیں روک سکتی،

    قبل ازیں پاکستان پیپلزپارٹی کے سینیر راہنما و سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر کا کہنا تھا کہ فوج کے ترجمان نے عمران خان کے گمراہ کن بیانیے کا پول کھول دیا ،بیرونی سازش، اڈے مانگنے کو جھوٹ اور ذہنی اختراع قرار دیا،عمران خان کارگردگی تو دکھا نہ سکے اور عوام کو ایک جھوٹے فریب میں پھنسانے میں لگ گئے۔ عمران کا امریکہ مخالف بیانیہ بھی پچاس لاکھ گھر اور ایک کڑوڑ نوکری کی طرح نکلا۔

    واضح رہے کہ ڈی جی آئی ایس پی ر نے کہا تھا کہ ی قومی سلامتی کمیٹی کے بیان میں واضح طور پر بیرونی سازش کی نفی کی گئی اس کمیٹی میں تمام سروس بھی چیف موجود تھے ، فوج کے نیوٹرل ہونے نا ہونے کے جواب میں کہا فوج طے کرچکی ہم آئینی رول میں رہیں گے فوج کے ملوث ہونے کا کوئی ثبوت ہے تو دیا جائے ہمیں سیاست میں نا گھسیٹیں،ہمارا کوئی لینا دینا نہیں ہے سیاست سے، گزشتہ دو سال میں ہم نے کسی ضمنی و بلدیاتی انتخاب میں مداخلت نہیں کی۔ 9 اپریل کی رات وزیر اعظم ہاوس آرمی چیف کے وزٹ سے متعلق بی بی سی نے واہیات سٹوری کی ہے، جسکا کسی حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ،9 اپریل کی رات آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی کی عمران خان سے کوئی ملاقات نہیں ہوئی ،امریکہ نے پاکستان سے فوجی اڈے نہیں مانگے۔ وہ وزیر اعظم عمران خان نے ایک غیر ملکی صحافی سے انٹرویو میں absoltely not اس سوال کے جواب میں کہا تھا کہ اگر امریکہ نے اڈے مانگے تو کیا وہ دیں گے؟ اور اس حوالے سے فوج کا بھی یہی موقف ہے۔ اگر اڈے مانگے جاتے تو فوج کا بھی وزیراعظم عمران خان والا ردعمل ہوتا۔آرمی چیف نے توسیع مانگی ہے نہ قبول کرینگے، آرمی چیف 29 نومبر 2022 کو ریٹائر ہورہے ہیں ،

    ‏اسرائیل کو تسلیم کرنے سے متعلق باتیں پروپیگنڈا ہے. ڈی جی آئی ایس پی آر

    یہ سوچ بھی کیسے سکتے ہیں کہ کشمیر پر کسی قسم کی کوئی ڈیل ہوئی، ڈی جی آئی ایس پی آر

    بھارت کی ایک اور جھوٹی کہانی بے نقاب، ڈی جی آئی ایس پی آر نے کی باغی ٹی وی کی خبر کی تصدیق

    بھارت ایک اور ڈرامہ رچانے میں مصروف، 26/11 طرز کے حملے کا الرٹ جاری

    کیا بھارت بھی میڈیا کواجازت دے گا؟ ڈی جی آئی ایس پی آر

    غیر ملکی سفیروں،دفاعی اتاشی کا ایل او سی کا دورہ، ڈی جی آئی ایس پی آر نے دی اہم بریفنگ

    مورال بلند،فوج اپنا کام کر رہی ہے،پاکستان نے ذمہ دار رياست ہونے کا ثبوت دیا، ڈی جی آئی ایس پی آر

    ہمارے شہدا ہمارے ہیرو ہیں،ترجمان پاک فوج کا راشد منہاس شہید کی برسی پر پیغام

    سیکیورٹی خطرات کے خلاف ہم نے مکمل تیاری کر رکھی ہے، ترجمان پاک فوج

    الیکشن پر کسی کو کوئی شک ہے تو….ترجمان پاک فوج نے اہم مشورہ دے دیا

    فوج کو سیاست میں نہ گھسیٹا جائے ، دعا ہے علی سد پارہ خیریت سے ہو،ترجمان پاک فوج

    طاقت کا استعمال صرف ریاست کی صوابدید ہے،آپریشن ردالفسار کے چار برس مکمل، ترجمان پاک فوج کی اہم بریفنگ

    عمران نیازی مسلسل جھوٹ بول بول کر قوم کو دھوکہ دیتا رہا، احسن اقبال