Baaghi TV

Tag: جنرل باجوہ

  • بشری بی بی کے شریعت ختم کرنے کےالزام،جنرل باجوہ کا  ردعمل

    بشری بی بی کے شریعت ختم کرنے کےالزام،جنرل باجوہ کا ردعمل

    پشاور: خیبرپختونخوا کے وزیر اطلاعات بیرسٹر محمد علی سیف نے کہا کہ سعودی عرب سے متعلق بشریٰ بی بی نے اپنا نقطہ نظر پیش کیا-

    باغی ٹی وی: خیبرپختونخوا کے وزیر اطلاعات بیرسٹر محمد علی سیف نے کہا کہ بشریٰ بی بی کے پاس پارٹی کا کوئی عہدہ نہیں ہے، بشریٰ بی بی کو اظہار رائے کی مکمل آزادی ہے، ملک میں ہر شخص کو اظہار رائے کی آزادی حاصل ہےسعودی عرب سے متعلق بشریٰ بی بی نے اپنا نقطہ نظر پیش کیا۔

    دوسری جانب وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ بشریٰ بی بی نے سعودیہ سے متعلق انتہائی گھٹیا بات کی ہے، انہیں سعودی عرب سے تحائف ملے جو فروخت کیے گئے، بشریٰ بی بی نے سیاسی بیانیہ بنانے کیلئے گھٹیا حرکت کی، یہ سیاسی بیانیے کیلئے ممالک سے تعلقات خراب کر رہے ہیں، انہوں نے پاکستان کے خلاف سوچی سمجھی سازش کی ہے۔

    سابق آرمی چیف باجوہ نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے سعودی عرب سے واپسی پر کوئی فون کالز نہیں آئیں، بشریٰ بی بی غلط کہہ رہی ہیں میرے پاس کوئی کالز نہیں آئیں۔

    علامہ طاہر اشرفی نے بشریٰ بی بی کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ بشریٰ بی بی کا دوست ملک پرالزام جھوٹ ہے، میں بانی پی ٹی آئی کے اس دورے میں موجود تھا، اس دورے میں وفد کو سعودی عرب میں بہت احترام ملا، قمر باجوہ ساتھ تھے ان کو کسی کی کال نہیں آئی، پاکستان اور سعودی عرب کسی صورت فلسطین کے مؤقف سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں تھے۔

    واضح رہے کہ بشریٰ بی بی نے ویڈیو پیغام میں کہا تھا کہ عمران خان بحیثیت وزیراعظم جب ننگے پاؤں مدینہ منورہ میں گئے تو واپس آنے کے بعد جنرل باجوہ کو کالز آنا شروع ہوگئی تھیں، جنرل باجوہ کو کہا گیا تھا کہ ہم شریعت کا نظام ختم کرنا چاہتے ہیں آپ ایسے شخص کو لے آئے ہو جو شریعت کی بات کرتا ہے۔

  • جنرل فیض حمید کا 30 سال تک قبضے کا منصوبہ،بغاوت ثابت؟

    جنرل فیض حمید کا 30 سال تک قبضے کا منصوبہ،بغاوت ثابت؟

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ پاکستان میں دو لوگوں کی چائے مشہور ہے، بچے بچے کو انکے چائے کے کپ کا پتہ ہے، ایک ابھینندن تھا اور ایک کابل ایئر پورٹ پر فیض حمید کی تصویر سامنے آئی تھی

    مبشر لقمان ڈیجیٹل میڈیا پر اپنے وی لاگ میں سینئر صحافی مبشر لقمان کا کہنا تھاکہ فیض حمید کی گرفتاری کے بعد تحریک انصاف میں استعفوں کا سیزن شروع ہو گیا ہے،نئے نئے انکشافات،کہانیاں سامنے آ رہی ہے، ابصار عالم اور فیض حمید کی مبینہ آڈیو لیک سامنے آ گئی جس میں فیض حمید اس وقت کے چیئرمین پیمرا ابصار عالم پر دباؤ ڈال رہے تھے،مجھ سے کئی لوگوں نے پوچھا کہ کونسے چینل تھے میں نے کہا کہ میں واضح تونہیں بتا سکتا لیکن اندازہ ہے کہ اس وقت آفتاب اقبال کے لئے یہ فون کال ہوئی ہوں گی کیونکہ وہ اس وقت آپ ٹی وی کا لائسنس لا رہے تھے، غالبا یہ وہی ہے، اب ثاقب نثار کا کہنا ہے کہ وطن واپس اؤں گا موجودہ حالات کا مجھے سے کوئی تعلق نہیں، انصار عباسی نے جنرل ر قمر جاوید باجوہ کے بارے میں دعویٰ کیا کہ انکے خلاف کوئی کاروائی زیر غور نہیں ہے،سابق آرمی چیف کے بارے میں ممکنہ کاروائی کے بارے سوشل میڈیا قیاس آرائیوں کو مسترد کر دیا گیا کیونکہ یہ کہا جا رہا تھا کہ مستقبل میں کوئی کاروائی ہو،یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ اضافی سیکورٹی جنرل ر قمر جاوید باجوہ کے گھر لگائی گئی تا ہم یہ جعلی پوسٹ تھی، جنرل ر قمر جاوید باجوہ بیرون ملک اور دبئی ہیں جو چند دن میں واپس آئیں گے،سوشل میڈیا پر جعلی پوسٹ ریتائرڈ جعلی افسران نے شیئر کی جو بیرون ملک مقیم ہے اور پروپیگنڈے کے لئے مشہور ہے اسکو سزا بھی سنائی جا چکی ہے،

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان اور خواجہ آصف جنرل باجوہ کے احتساب کے مطالبے پر متفق ہیں، یہ واضح نہیں کہ وہ خود کر رہے ہیں، حکومت یا کون کر رہا، سپیکر پنجاب اسمبلی نے خواجہ آصف کے بیان کی تردید کی ہے، یہ بھی بتایا جا رہا کہ درجنوں گرفتاریاں ہوں گی، کچھ ریٹائرڈ،کچھ سول،کچھ ورکر، یوٹیوبر، ججز کے نام بھی ہوں گے، کچھ صحافیوں نے دعویٰ کیا کہ فیض حمید نے ملک پر 30 سال تک قبضے کا منصوبہ بنا رکھا تھا، اس میں کوئی شک نہیں کہ فیض حمید کے جرائم کی تفصیل بہت لمبی ہے، ایک اشار ے پر ٹی وی کی ہیڈ لائن تبدیل،چلتے پروگرام بند ہو جاتے تھے، آج وہ خود خبر بن گئے، جو رابطے میں تھے وہ بھی زیر حراست باقی انڈر گراؤنڈ،سبق ہے ان لوگوں کے لیے جن کے پاس طاقت ہے کہ لوگوں کے ساتھ ظلم نہیں کرنا چاہئے، کل فیض حمید شکاری تھا آج شکار ہو چکا ہے

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ آرمی کورٹ میں کیس جلد نمٹا دیئے جاتے ہیں، فوج کا عدالتی نظام ہے، شعبہ ہے جو بہت متحرک ہے، جو الزام فیض حمید پر لگائے گئے انکو عمر قید کی سزا سنائی جا سکتی ہے، ریٹائرمنٹ کے بعد کی سرگرمیوں کا الزام بہت سنگین ہے اس میں سزائے موت بھی ہو سکتی ہے

    فیض نیازی گٹھ جوڑ جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ نے کیسے توڑا تھا؟ اہم انکشافات

    فیض حمید کی گرفتاری پر خلیل قمر،عمر عادل خوش،اڈیالہ جیل سے جاسوس گرفتار

    گرفتاری کا خوف،سابق چیف جسٹس ثاقب نثار بیرون ملک فرار

    فیض حمید کا نواز،شہباز کو پیغام،مزید گرفتاریاں متوقع

    فیض حمید پر ڈی ایچ اے پشاور کو 72 کروڑ کا نقصان کا الزام،تحقیقات

    قوم کا پاک فوج پر غیر متزلزل اعتماد ہمارا سب سے قیمتی اثاثہ ہے،آرمی چیف

    فیض حمید "تو توگیا”،ایک ایک پائی کا حساب دینا پڑے گا، مبشر لقمان

    فیض حمید کی گرفتاری،مبشر لقمان نے کیا کئے تھے تہلکہ خیز انکشافات

    بریکنگ،فیض حمید گرفتار،کورٹ مارشل کی کاروائی شروع

    فیض حمید ہمارا اثاثہ تھا جسے ضائع کر دیا گیا ،عمران خان

    فیض حمید کے مسئلے پر بات نہیں کرنا چاہتا یہ فوج کا اندورنی معاملہ ہے ، حافظ نعیم

    9 مئی کے واقعات کی تحقیقات صرف جنرل فیض حمید تک محدود نہیں رہیں گی. وزیر دفاع خواجہ آصف

    فیض حمید 2024 کے انتخابات میں پی ٹی آئی کی حمایت میں سرگرم تھے،سینیٹر عرفان صدیقی کا انکشاف

  • جنرل باجوہ عدالت میں بتائیں عمران خان کو کس طرح لایا گیا تھا،جاوید لطیف

    جنرل باجوہ عدالت میں بتائیں عمران خان کو کس طرح لایا گیا تھا،جاوید لطیف

    مسلم لیگ (ن) کے رہنما ،سابق وفاقی وزیر جاوید لطیف نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہےکہ یہ بڑ ا اچھا موقع ہے کہ جنرل باجوہ عدالت میں جا کر بتائیں بانی پی ٹی آئی کوکس طرح لایا گیا تھا

    جاوید لطیف کا کہنا تھا کہ آج ایک شخص جیل میں بیٹھا مطالبہ کر رہا ہے کہ سائفرکیس میں جنرل (ر) باجوہ اور امریکی نمائندے کو بلواؤں گا، میں سمجھتا ہوں یہ بڑا اچھاموقع ہےکہ جنرل باجوہ عدالت جائیں اور جنرل باجوہ عدالت میں جاکربتائیں عمران خان کوکس طرح لایا گیا تھا، وہ قوم کوبتائیں کس طرح نواز شریف کو مانیٹرنگ جج بٹھا کر سزا دلوائی گئی، جنرل باجوہ عدالت کو سچ بتائیں تاکہ بانی پی ٹی آئی کی اصلیت قوم کے سامنے لائی جاسکے،

    جاوید لطیف کا کہنا تھا کہ اسی بلڈنگ سے ماضی میں جو فیصلے آئے، انہی فیصلوں سے بربادی آئے، اب پھر انصاف کے لئے اسی بلڈنگ میں آئے، انصاف ہو گا تو پاکستان ترقی کی راہ پر چلے گا، منصفانہ انتخاب اس کا نام نہیں کہ الیکشن کے دن آزادانہ ووٹ کاسٹ کر سکیں، عوام کو آنے والی نسلوں کا فیصلہ کرنا ہے، پاکستانی قوم کی خوش قسمتی ہے کہ عمران خان جیل میں جنرل باجوہ کو بلانے کا مطالبہ کر رہا ہے

    واضح رہے کہ سابق آرمی چیف جنرل باجوہ کی جانب سے عمران خان کو سرپرائز مل سکتا ہے۔دی نیوز میں انصار عباسی کی خبر کے مطابق جنرل باجوہ کے قریبی ذرائع کیمطابق وہ سائفر کیس میں بطور گواہ پیش ہونے کیلئے تیار ہیں۔جنرل باجوہ عمران خان کو مایوس نہیں کرینگے۔

    آئے روز وزیراعظم کو اتار دیا جائےتو پھر ملک کیسے چلے گا ،نواز شریف

    قصے،کہانیاں سن رہے ہیں،یہ کردار تھا ان لوگوں کا،نواز شریف کا عمران خان پر طنز

    خاور مانیکا کے انٹرویو پر نواز شریف کا ردعمل

    سات منٹ پورے نہیں ہوئے اور میاں صاحب کو ریلیف مل گیا،شہلا رضا کی تنقید

    پینا فلیکس پر نواز شریف کی تصویر پھاڑنے،منہ کالا کرنے پر مقدمہ درج

    نواز شریف کے خصوصی طیارے میں جھگڑا،سامان غائب ہونے کی بھی اطلاعات

    اسلام آباد سے عدالتی رپورٹنگ کرنے والے صحافی ثاقب بشیر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ جنرل باجوہ اگر آپ پیش ہوں گے بیان ریکارڈ کرائیں تو بات یہی نہیں رکے گی بیان پر جرح بھی ہو گی پھر جرح بڑی ٹیکنیکل ہوتی ہے جس میں تقریبا ہر سوال کا جواب آپ کو دینا ہو گا

     

  • منی لانڈرنگ تحقیقات؛ ایف آئی اے نے سابق آرمی چیف کے سمدھی کو طلب کرلیا

    منی لانڈرنگ تحقیقات؛ ایف آئی اے نے سابق آرمی چیف کے سمدھی کو طلب کرلیا

    سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے سمدھی اور لاہور کی معروف کاروباری شخصیت صابر حمید خان عرف میاں مٹھو کو منی لانڈرنگ کے الزام میں ایف آئی اے نے طلب کرلیا ہے اور جن ان پر منی لانڈرنگ کا الزام ہے اور اس بارے میں ایف آئی اے تحقیقات کررہا ہے جس کی پوچھ گچھ کیلئے اب اب ایف آئی اے نے انہیں طلب کرلیا ہے.


    ایف آئی اے اینٹی منی لانڈرنگ سرکل نے سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے سمدھی صابر حمید خان عرف میاں مٹھو کو اکاونئنس میں مشکوک اور بڑے پیمانے پر ہونے والی ٹرانزکشن پر طلب کرلیا ہے جبکہ صابر حمید کو 23 اکتوبر کو 11بجے پیش ہونے کی ہدایت کی گئی ہے اور صابر حمید کے 19 اکاونٹس کا انکشاف ہوا جس میں سے 14 پاکستانی اور 5 فارن اکاونٹس شامل ہیں

    تاہم واضح رہے کہ صابر حمید کے 19 اکاونٹس میں 5.14 بلین کی ٹرانزیکشن کی گئی تھی۔ ایف ائی اے نے بنک اکاونٹس سمیت بیرون ملک دوروں کا ریکارڈ طلب بھی کر لیا ہے اور صابر حمید خان کو ذاتی ،اہلیہ اور بچون کے نام پر پاکستان اور پاکستان سے باہر خریدی گئی غیر ملکی کرنسی کا ریکارڈ ہمراہ لانے کی ہدایت کی ہے جبکہ مراسلہ میں پاکستان میں بیرون ملک اف شور کمپنیوں کا بھی ریکارڈ فراہم کیا جائے کا مطالبہ کیا گیا ہے.

    تاہم ذرائع کا بتانا ہے کہ اس بارے میں صابر حمید خان کہہ چکے ہیں ان کے خلاف اس کے قسم کے جھوٹے الزامات ہیں اور وہ ایسے الزام کیلئے قانونی راستہ اختیار کرتے ہوئے خود کو جواب دہ سمجھتے ہیں اور اس معاملے میں اپنا جواب دیں گے.
    پاک فوج کے شہید اہلکاروں کی نماز جنازہ ادا کردی گئی
    آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر سے سری لنکن فوجی کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل کی ملاقات
    آسٹریلیا کی پانچویں وکٹ 339 رنز پر گرگئی،جوش انگلس 13 رنز بناکر آؤٹ
    نواز شریف ،شہباز شریف کا ٹیلیفونک رابطہ،پاکستان استقبال کیلئے تیار ہے، شہباز شریف
    ہارورڈ یونیورسٹی کے طلباکا اسرائیل کیخلاف احتجاج،ڈونرز نے فنڈ بند کر دیئے
    جبکہ باغی ٹی وی کو ذرائع نے بتایا ہے کہ ی کہنا مناسب نہیں کہ وہ پیش ہونگے یا نہیں لیکن وہ قانون پر یقین رکھتے ہیں ایک سوال کے جواب میں بتایا گیا حمید خان سمجھتے ہیں ان کو جنرل باجوہ سے جھوڑنا مناسب عمل نہیں کیونکہ رشتہ داریاں ہر کسی کی ہوتی ہیں اور باجوہ کا میرے کاروبار یا معاملات سے کوئی تعلق نہیں ہے لہذا وہ یہ سمجھتے ہیں اس بارے میں جھوٹ نہ پھیلایا جائے.

  • کون کہتا ہے کہ امریکہ، سعودی عرب سے ہمارے تعلقات خراب تھے؟ عمران خان

    کون کہتا ہے کہ امریکہ، سعودی عرب سے ہمارے تعلقات خراب تھے؟ عمران خان

    چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے کمرہ عدالت میں غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم مذاکرات کر رہے ہیں جبکہ آئین کے مطابق مذاکرات کی ضرورت نہیں ہے،

    عمران خان کا کہنا تھا کہ 90 دن سے باہر الیکشن نہیں ہوسکتے، اسکے باہر آئین ختم ہوجاتا ہے اس پر ساری لیگل کمیونٹی متفق ہے، 90 دن کے بعد نگران حکومت کی کوئی آئینی حثیت نہیں رے گی، 90 دنوں کے بعد جو کچھ کریں گے وہ غیر آئینی ہوگا، یہ نگران حکومت وہ انتقامی کارروائی کر رہی ہے جو کبھی منتخب حکومتوں نے نہیں کی، یہ لندن ہلان کا حصہ ہے جہاں نواز شریف سے وعدہ کیا گیا تھا، یہ تحریک انصاف کو دیوار سے لگانے اور نواز شریف کے کیسز ختم کرنے کے ایجنڈے پر چل رہے ہیں، کون کہتا ہے کہ امریکہ، سعودی عرب سے ہمارے تعلقات خراب تھے،یہ جنرل باجوہ نے ہمارے خلاف کمپین چلائی، وہ ایکسٹینشن چاہتے تھے،3 ماہ میں 2 او آئی سی کی میٹنگ پاکستان میں ہوئیں یہ کبھی پاکستان میں ہوا،

    عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ بتائیں ایسا کبھی پاکستان میں کتنی دیر پہلے ہوا تھا، چائینہ، سعودیہ، ترکی اور ٹرمپ، بورس جورنس کے ساتھ ہمارے خوشگوارتعلقات تھے،ان کو کون پوچھتا ہے یہ کہتے ہیں ہمارے تعلقات ہیں،اگر اسٹیٹ بنک نے سپریم کورٹ کے کہنے پر رقم نہ دی تو اسکا مطلب ہے کہ آئین ختم ہوچکا ہے،اسکا مطلب یہاں قانون کی حکمرانی ختم ہوچکی ہے، پہلے ہی پاکستان میں انسانی بنیادی حقوق کی بری طرح پامالی کی جاری ہے، لوگوں کو پہلے اغوا جبکہ اسکے بعد چارج لگائے جاتے ہیں، جدھر دیکھیں پی ٹی آئی کا آدمی ہے، سوشل میڈیا کا ہت پکڑ لیتے ہیں، ہمارا میڈیا پر بلیک آؤٹ کیا ہوا ہے،

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

    ہوشیار،بشری بی بی،عمران خان ،شرمناک خبرآ گئی ،مونس مال لے کر فرار

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

    سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل کیس کی سماعت اگلے ہفتے تک ملتوی

  • اس وقت ملک کا سب سے بڑا مسئلہ 90 دن میں الیکشن کا ہونا ہے،عمران خان

    اس وقت ملک کا سب سے بڑا مسئلہ 90 دن میں الیکشن کا ہونا ہے،عمران خان

    چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ نہ ماننے کا مطلب ہو گا کہ ملک میں آئین اور قانون ختم ہو گیا-

    باغی ٹی وی : ایک انٹرویو میں عمران خان کا کہنا تھا کہ حکومت سے مذاکرات صرف الیکشن پر ہی ہو سکتے ہیں اور ان مذاکرات کا بھی وہ خود حصہ نہیں بنیں گے میں نے ان کے ساتھ نہیں بیٹھنا، ہماری ٹیم بیٹھے گی لیکن بات صرف الیکشن کی ہے گرینڈ نیشنل ڈائیلاگ کی بڑی بڑی باتیں چھوڑیں، پہلے تو آئیں الیکشن کے اوپر اگر آپ الیکشن ہی نہیں کروا سکتے تو کون سا ڈائیلاگ کرنا ہے کسی سے۔

    جسٹس فائز عیسی حکمنامے کے بعد از خود نوٹس کیس کی سماعت نہیں ہو سکتی. امان اللہ کنرانی

    چئیرمین تحریک انصاف نے کہا کہ اس وقت ملک کا سب سے بڑا مسئلہ 90 دن میں الیکشن کا ہونا ہے اگر انتخابات 90 دن میں نہیں ہوتے تو پھر اکتوبر میں کیوں ہوں؟ پھر کہیں گے اگلے سال بھی کیوں ہوں؟ پھر تو جو طاقت ور فیصلہ کرے گا وہی ہو گا۔

    پی ڈی ایم کی جانب سے سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ پر عدم اطمینان کے اظہار پر ردعمل دیتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ نہ ماننے کا مطلب ہو گا کہ ملک میں آئین اور قانون ختم ہو گیا-

    انٹرویو میں عمران خان نے کہا کہ سابق آرمی چیف جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ کو توسیع نہ دے کر نوازشریف نے اچھا کام کیا تاہم ساتھ ہی عمران خان نے ساتھ ہی قمر جاوید باجوہ کو تاحیات ایکسٹینشن کی آفر دینے کی تردید کر دی۔

    عمران خان نے کہا کہ ہمیں پتا چلاتھا کہ شہبازشریف نے قمر جاوید باجوہ کو توسیع کی پیشکش کر دی ہے تو میں نے کہا اگر وہ توسیع دے رہے ہیں تو ہم بھی آپ کو دے دیتے ہیں، جنرل باجوہ کو توسیع نہ دے کر نوازشریف نے اچھا کام کیا، ہر انسان غلطیاں کرتا ہے مجھ سے بھی غلطیاں ہوئیں یہ جھوٹ ہے کہ ہم نے جنرل باجوہ کو تاحیات توسیع کی پیشکش کی –

    جسٹس فائز عیسی حکمنامے کے بعد از خود نوٹس کیس کی سماعت نہیں ہو سکتی. …

    انہوں نے بتایا کہ اقتدار کے بعد میری ان سے دو میٹنگ ہوئیں جس کا مقصد الیکشن کرانا تھا، میں نے ان کو کہا کہ ملک نیچے جا رہا ہے سوائے الیکشن کے کوئی راستہ نہیں، جب انہوں نے ہمارے اتحادیوں کو لوٹے بنا کر دوسری طرف بھیجا تو میں نے الیکشن کا اعلان کر دیا سوموٹو ایکشن لیا گیا، 12 بجے عدالتیں کھلیں، ہمارے الیکشن کے اعلان کو رد کر دیا گیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ شروع میں جنرل باجوہ اور ہم خارجہ پالیسی سمیت دیگر ایشوز پر ایک صفحے پر تھے، آخری 6 ماہ میں چینج آیا، خارجہ پالیسی میں بھی ایک دم تبدیل ہوگئے، ہم چاہتے تھے کہ یوکرین جنگ میں ہم نیوٹرل رہیں، ایک دم ان کو یہ ہوا کہ ہمیں روس کی مذمت کرنی چاہیے یہ ساری گیم اپنی توسیع کیلئے ہوئی تھی، شہباز شریف سے انڈراسٹیڈنگ ہوئی تھی کہ قمر جاوید باجوہ کو توسیع مل جائے گی۔

    ملک کے مختلف علاقوں میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ مزید بارشوں کی …

    عمران خان نے کہا کہ توسیع کے بعد جنرل باجوہ نے این آرو کی بات کی، پہلے کبھی نہیں کی ضمنی انتخابات میں عوام نے پی ڈی ایم اور اسٹیبلشمنٹ کو شکست دی، واضح ہوگیا کہ 2018 کے الیکشن میں ہمیں عوام نے جتوایا تھاہمارے ورکرز پر ظلم اس لیے کیا جا رہا ہے کہ کسی طرح ان چوروں کو قبول کر لیں۔

  • کوئی انٹرویو نہیں دیا، جنرل (ر) باجوہ کی مبشر لقمان سے بات چیت میں تردید

    کوئی انٹرویو نہیں دیا، جنرل (ر) باجوہ کی مبشر لقمان سے بات چیت میں تردید

    سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے انٹرویو کی باز گشت چل رہی ہے ۔ انٹرویو کا دوسرا حصہ شائع ہونے کے بعد جنرل ر قمر جاوید باجوہ نے اس انٹرویو کی تردید کی ہے۔ سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے اس حوالہ سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کی ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ سابق آرمی چیف جنرل ر قمر جاوید باجوہ سے میری بات ہوئی انہوں نے حالیہ انٹرویوز کی تردید کی اور کہا کہ میں نے کوئی انٹرویو نہیں دیا ۔جو انٹرویوز میرے نام سے چل رہے ہین انکے خلاف قانونی چارہ جوئی کروں گا۔ مبشر لقمان کہتے ہیں کہ جنرل ر باجوہ کی بات درست ہے انہوں نے کسی کو کوئی انٹرویو نہیں دیا ۔مبشرلقمان کہتے ہیں کہ سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے مجھے بتایا کہ 29 نومبر 2024 تک انہیں کسی قسم کا انٹرویو یا بیان دینے کی اجازت نہیں ہے

    قبل ازیں معروف اینکر پرسن کامران شاہد نے اپنے ٹوئیٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ "سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے مجھے بتایا کہ "میں نے کسی کو کوئی انٹرویو نہیں دیا ہے کیونکہ مجھے 29 نومبر 2024 تک قانون کے مطابق کسی قسم کا بیان یا انٹرویو دینے کی اجازت نہیں ہے.


    کامران شاہد نے مزید کہا کہ ابھی میری سابق آرمی چیف سے بات ہوئی ہے جس میں انہوں نے کسی قسم کے انٹرویو کی تردید کی ہے جبکہ جنرل باجوہ نے یہ بھی کہا کہ ان سے منسوب انٹرویو کا دعویٰ کیا جارہا ہے لہذا وہ اب اس پر قانونی کاوائی کریں گے.

    خیال رہے کہ اس سے قبل شاہد میتلا نامی صحافی کا نیا دور نامی ویب سائٹ پر جنرل باجوہ سے منسوب ایک انٹرویو شائع ہوا تھا جس میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ باجوہ سے ملاقات انٹرویو میں بدل گئی تاہم یہ انٹرویو اب تبدیل ہوکر کالم کی شکل اختیار کرگیا ہے.
    مزہد یہ بھی پڑھیں؛
    بیان حلفی دیں کہ آپ نے دہشت گردی عدالت اسلام آباد میں ضمانت دائر کی تھی, عمران خان کو بیان حلفی جمع کروانے کی ہدایت
    20 رمضان سے قبل پنشن اور تنخواہ کی ادائیگی یقینی بنائی جائے، قائمہ کمیٹی
    سوال یہ ہے کہ اکتوبر میں کیسے ہوں گے الیکشن؟ عمران خان
    راہول گاندھی کو بھارتی پارلیمنٹ نے نااہل قرار دے دیا
    صدرکے ساتھ کوئی بامعنی مشاورت نہیں کی گئی، صدر کا وزیر اعظم کو خط میں شکوہ
    عمران خان کا افغان بچیوں کی تعلیم پر پابندی بارے طالبان کی مذمت کرنے سے انکار
    قومی اسمبلی؛ قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی نے ایل سیز کھولنے کی سفارش کر دی

    علاوہ ازیں اس مبینہ انٹرویو کا دوسرا حصہ پاکستان 24 نیوز نامی ویب پر شائع ہوا ہے جبکہ اس دوسرے حصہ میں شاہد میتلا نے دعویٰ کیا ہے کہ جنرل باجوہ نے انہیں ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ "عمران خان نے مجھے کہا آپ کیا کریں گے؟ تو میں نے ان کو کہا کیا آپ پلے بوائے نہیں رہے؟ آپ کی ویڈیوز بھی موجود ہیں، اگر زبان بند نہ کی تو گلہ نہ کیجئے گا ۔ اس طرح یہ ملاقات بھی تلخی پر ختم ہوگئی۔”

  • فیکٹ چیک؛ جنرل باجوہ کیساتھ تصویر میں نظر آنے والا شخص محسن نقوی نہیں بلکہ زاہد جمیل ہے

    فیکٹ چیک؛ جنرل باجوہ کیساتھ تصویر میں نظر آنے والا شخص محسن نقوی نہیں بلکہ زاہد جمیل ہے

    نامور صحافی طلعت حسین نے ایک تصویر ٹوئیٹ کی جس میں انہوں تاثر دیا کہہ جیسے نگران وزیر اعلیٰ کو بھی جنرل (ر) باجوہ نے ہی لگوایا ہو جبکہ وزیر اعلیٰ پنجاب کیلئے محسن نقوی کا نام الیکشن کمیشن کی جانب سے منتخب ہونے کے بعد انہوں تبصرہ کیا کہ؛ "کتنی فکر ہے پاکستان کی۔ جہاز میں بھی اپنے ملک کا خیال بیٹھنے نہیں دیتا۔ یہ ہوتے ہیں خیر خواہ۔ اس کو کہتے ہیں جنون۔”

    تاہم جب باغی ٹی وی کے نیوز ایڈیٹر نے اس بارے میں فیکٹ چیکنگ کی تو معلوم ہوا کہ جنرل ریٹائرڈ باجوہ کے ساتھ نظر آنے والا شخص نگران وزیر اعلیٰ محسن نقوی نہیں بلکہ ایک وکیل زاہد جمیل ہے. تاہم پندرہ گھنٹے گزرنے کے باوجود بھی سینئرصحافی طلعت حسین نے ابھی تک اپنی اس ٹوئیٹ کو حذف کیا اور نہ ہی کوئی اس پر وضاحت کی.


    خیال رہے کہ اس تصویر کو پھیلانے اور نامور صحافیوں سمیت عام عوام کی آنکھوں میں دھول جھوکنے کی شروعات تحریک انصاف نے کی تھی. تحریک انصاف کے سوشل میڈیا برگیڈ نے محسن نقوی کی مختلف پی ٹی آئی مخالف سیاستدانوں کے ساتھ والی تصاویر سوشل میڈیا پر پھیلا کر یہ تاثر دیا کہ یہ محسن نقوی تو ہماری مخالف سیاسی جماعتوں کے ساتھ ملا ہوا ہے جبکہ اس کے جواب میں پیپلزپارٹی کے رہنماء فیصل میر نے لکھا کہ؛ "آج اگر کوئی فرشتہ بھی پنجاب کا نگران وزیراعلی نامزد کیا جائے گا تو پی ٹی آئی کا جھوٹ بریگیڈ اس پر بھی حملہ آور ہو جائے گا۔ محسن نقوی صاحب کی عمران خان کے ساتھ یہ دو تصویریں کیا انہیں ن لیگ اور پیپلز پارٹی کا مخالف ثابت کرتی ہیں ؟ اتنی ساری شکستوں نے پی ٹی آئی کو پاگل کر دیا ہے ۔”


    پی ٹی آئی رہنماء شیریں مزاری نے بھی جنرل باجوہ کے ہمراہ والی تصویر میں شامل زاہد جمیل کو محسن نقوی پیش کرتے ہوئے ٹوئیٹر پر لکھا کہ: "الیکشن کمیشن اپنے متعصبانہ رویے سے کبھی مایوس نہیں ہوا۔ محسن نقوی کو نگراں وزیراعلیٰ پنجاب کے طور پر منتخب کیا گیا جبکہ دیکھ لیں جنرل ریٹائرڈ باجوہ کے ساتھ دبئی جانے والی امارات فلائٹس کی پرواز میں نظر آرہا۔” انہوں نے مزید کہا کہ فرض کریں کہ اس کے نیچے ایک سیاہ بادل کی طرف سے اٹھائے گئے اسناد نے ای سی پی کو متاثر کیا ہے!

    شیریں مزاری کے جواب میں سینئر صحافی حامد میر نے لکھا کہ؛ "سب سے پہلے تو یہ کہ عمران خان نے ہی اس جنرل باجوہ کو بطور فوجی سربراہ 2019 میں توسیع دی تھی جس میں پیپلزپارٹی، مسلم لیگ ن اور تقریباّ سبھی جماعتیں اس معاملہ پر ایک صفحہ پر تھیں. اور دوسرا غلظ معلومات پھیلانا بند کریں کیوں باجوہ صاحب کے ساتھ تصویر میں نظر آنے والا شخص محسن نقوی نہیں بلکہ زاہد جمیل ہے. تاہم شیریں مزاری نے بجائے اپنی غلطی کو ماننے کے دوسری تصویر جس میں شہباز شریف اور خواجہ آصف نظر آرہے جو غالباّ لندن کی ہے کو شیئر کرتے ہوئے دعویٰ کردیا کہ ان کے ساتھ محسن نقوی نظر آرہا ہے.

    لہذا یہاں پر سوال یہ ہے کہ اگر محسن نقوی کی کسی سیاستدان یا جنرل وغیرہ کے ساتھ کوئی تصویر ہو بھی تو اس میں کیا قباحت ہے کیوں کہ ان کی تصاویر تو تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے ساتھ بھی ہیں اور دوسرا وہ ایک صحافی بھی تو رہے ہیں لہذا ایسے شخص جو سی این این کے ساتھ منسلک رہا ہو اور اب ایک ٹی وی چینل 24 نیوز گروپ کا مالک ہو اس کی تصویر کسی کے ساتھ ہونے میں کیسے ثابت ہوتا ہے کہ وہ دوسرے کا مخالف ہے؟

  • جنرل باجوہ کی ایکسٹینشن،سب سےبڑی غلطی۔مگرکیسے؟

    جنرل باجوہ کی ایکسٹینشن،سب سےبڑی غلطی۔مگرکیسے؟

    جنرل باجوہ کی ایکسٹینشن، سب سے بڑی غلطی۔ مگر کیسے ؟ بے وقوف حکمران کو اقتدار نہیں جیل بھیجو۔یہ ماہرانہ تجزیہ سینیئرصحافی مبشرلقمان کا ہے ، جن کا کہنا تھاکہ عمران خان کا یہ کہنا کہ جنرل باجوہ کو ایکسٹینشن دینا بڑی غلطی تھی اور یہ انہوں نے عمران ریاض خان کو ایک انٹریو دیتے ہوئے کی ، ان کا کہنا تھاکہ غلطی کا اعتراف کرنا بڑے پن کی نشانی ہے لیکن اس کے باوجود غلطیاں کرنا اورپھرقوم کومختلف مسائل سے دوچار کرنا یہ غلطی نہیں منافقانہ رویہ ہے ، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ عمران خان پہلے غلطی کرتا ہے اور پھرقوم کے سامنے اپنی غلطی کا اعتراف بھی کرتا ہے ، مبشرلقمان کا کہنا تھاکہ ان کو چاہیے تھا کہ وہ غلطی کے بعد اپنی اصلاح بھی کریں‌

    مبشرلقمان کا کہنا تھا کہ عمران خان کہتے ہیں کہ جنرل باجوہ کوایکسٹینشن دینا بڑی غلطی تھی ،قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس دائر کرنا بڑی غلطی تھی،ایم کیوایم کے وفادار کو وزیرقانون بنانا بڑی غلطی تھی، ریحام خان سے شادی کرنا بڑی غلطی تھی،راجہ سکندرسلطان کو چیف الیکشن کمیشنر بنانا بڑی غلطی تھی ، مبشرلقمان کہتے ہیں کہ عمران‌ خان بتائیں کہ انہوں نے کہاں غلطی نہیں کی،کون سا ٹھیک کام کیا ہے ،

     

    ان کا کہنا تھا کہ عمران خان ایمپائر کی انگلی پکڑ کراقتدار میں‌آئےتو یہ ٹھیک ہے، مبشرلقمان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس شخص نے وہ کچھ کردکھایا کہ اب اس کو جیل جانا چاہیے تھا ،مگر وہ پھر بھی دوسروں پر الزام دھرتاہے ، ان کا یہ بھی کہنا تھاکہ عمران خان نے کوئی ایک جرم نہین کیا بلکہ بہت سے جرائم کیے ، جن پر اس کو سخت سے سخت سزا ملنی چاہیے تھی

    ان کا یہ بھی کہنا تھاکہ عمران خان نے کس کو معاف کیا ، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ عمران خان نے کہاں‌ کہاں غلطی کی ، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ میں سناتا ہوں کہ عمران خان پہلے کیا کہتے تھے ، اب کیا کہتے ہیں‌

    مبشرلقمان نے عمران خان کی پرانی ویڈیوز سے مختلف کلپس چلائے جن میں عمران خان جنرل باجوہ کی تعریفیں کرتے نہیں تھکتے تھے ، عمران خان کہتے ہیں‌کہ جنرل باجوہ جمہوریت کے حق میں ہیں ، پاکستان میں جمہوریت انکی وجہ سے ہے، جنرل باجوہ نے باہر کی دنیا میں پاکستان کے لیے کردار ادا کیا، جنرل باجوہ ہی تھے کہ جہنوں نے کراچی اور سندمیں سیلاب کے دوران بڑی محنت سے کام کیا، جنرل باجوہ پاک ک فوج کی عالمی سطح پر پزیرائی کرنے والے ہیں

    ساتھ ہی مبشرلقمان نے عمران ریاض خان کے ساتھ ہونے والی عمران خان کی یہ گفتگو بھی آن ایئر کردی جس میں عمران خان کہتے ہیں کہ جنرل باجوہ نے اس ملک کے ساتھ اچھا نہیں کیا، جنرل باجوہ کو ایکسٹینشن نہیں ملنے چاہیے تھی وہ ڈبل گیم کررہے تھے،

    اس گفتگو کا حوالہ دیتے ہوئے مبشرلقمان کہتے ہیں‌کہ دوسری طرف عمران خان کبھی اسمبلیاں توڑنے کی باتیں کررہے ہیں اور ان کے ایک چہتے یہ کہہ رہے ہیں کہ عمران خان نے کہہ دیا ہے کہ اگرحکومت انتخابات وقت پر نہیں کراتی تو پھروہ اسمبلیاں توڑ دیں‌گے ، اس لیے عمران خان نے ارکان اسمبلی سے کہہ دیا ہے کہ وہ اپنے اپنے حلقوں میں جائیں اور انتخابات کی تیاری کریں‌، مبشرلقمان کا کہنا تھا کہ عمران خان اب ارکان اسبملی کو بھی نقصان پہنچائے گا اس فیصلے سے

    آزاد کشمیر کے انتخابات کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ وہاں جو اکثریت تھی اب اقلیت میں تبدیل ہوگئی ہے، حتی کہ وزیراعظم آزاد کشمیر کی یونین کونسل میں پی ٹی آئی الیکشن ہارگئی ، ان کا یہ بھی کہنا تھاکہ عمران خان ایک بیرونی مہرہ ہے ، جس نے امریکہ ،بھارت اور اسرائیل سے پیسے لیکر اس ملک میں حالات خراب کیے،اعظم سواتی جس نے گالیاں دیں ، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پہلے اس سپریم کورٹ کی تعریفیں کرتا تھا جب سپریم کورٹ نے صادق امین قرار دیا ، اب کہتے ہیں کہ سپریم کورٹ سے ہمیں انصاف نہیں مل رہا ہے، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پہلے کہتے تھے کہ لانگ مارچ کریں گے اب لانگ مارچ بھی منسوخ ، کرکے دکھائیں ،راناثنااللہ لترماریں گے، اب اگرایسی حرکت کی تو وہ چھتر مارے گا ، ان کا کہنا تھا کہ وہ رانا ثنااللہ خان کو جانتا ہے وہ اس کی طبعیت ٹھیک کردیں گے ،

    مبشرلقمان کاکہنا تھاکہ عمران خان نے اس قوم کی نسل کو تباہ کردیا ہے ،یہ بھی یاد رکھیں کہ جب اس کے مزید کیسز کھل کرسامنے آئیں گے، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ جب یہ صورت حال سامنےآئے گی تو سب کہیں گے کہ یہ کیا مصیبت تھی ، اب اس مصیبت سے جان چھڑانے کا وقت آگیا ہے ، بہت جلد اللہ تعالیٰ اس سے جان چھڑا دیں‌گے

  • پاکستان کے نوجوان ہمارا اثاثہ ہیں، آرمی چیف، لاہورگیریژن کا دورہ

    پاکستان کے نوجوان ہمارا اثاثہ ہیں، آرمی چیف، لاہورگیریژن کا دورہ

    لاہور:آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ پاکستان کے نوجوان ہمارا اثاثہ ہیں۔اپنے نونہالوں سے امید واثق لگاتےہوئے یہ بات انہوں نے اپنے دورہ لاہور کے دوران کی

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ( آئی ایس پی آر ) کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق آرمی چیف نے لاہور گیریژن کا دورہ کیا اور یادگار شہداء پر پھولوں کی چادر چڑھائی اور فاتحہ خوانی کی۔

     

     

    بیان کے مطابق سپہ سالار نے لاہور گیریژن انسٹی ٹیوٹ فار اسپیشل ایجوکیشن کا افتتاح کیا اور خصوصی بچوں کے لیے مختلف سکولوں کی سہولیات کا دورہ کیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق دورے کے دوران جنرل قمر جاوید باجوہ نے سٹیٹ آف دی آرٹ ہاکی ایرینہ کا بھی افتتاح کیا اور ہاکی لیجنڈز سے بھی ملاقات کی۔

    اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف کا کہنا تھا کہ پاکستان کے نوجوان ہمارا اثاثہ ہیں۔ کھیلوں میں نمایاں مقام کا حصول سازگار ماحول کی فراہمی سے جڑا ہے۔