Baaghi TV

Tag: جنرل باجوہ

  • مستقبل کی جنگوں میں چیلنجز سے نمٹنے کیلئے تیاریاں ضروری ہیں: آرمی چیف

    مستقبل کی جنگوں میں چیلنجز سے نمٹنے کیلئے تیاریاں ضروری ہیں: آرمی چیف

    ملتان:آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے مستقبل کی جنگوں میں درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ذہنی اور جسمانی تیاریاں نہایت ضروری ہیں۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ نے ملتان گیریژن کادورہ کیا، کور کمانڈر سدرن کمانڈ لیفٹیننٹ جنرل محمد چراغ حیدر نے سپہ سالار کا استقبال کیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے پیشہ ورانہ معیار کو سراہتے ہوئے کہا کہ مستقبل کی جنگوں میں درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ذہنی اور جسمانی تیاریاں نہایت ضروری ہیں ۔

    انہوں نے میدان جنگ میں درپیش چیلنجز اور خطرات سے نمٹنے کے لیے آپریشنل منصوبہ بندیوں اور حکمت عملی کی توثیق کی ۔

  • پاک فوج ملک سے دہشتگردی کے خاتمے کیلئے پرعزم ہے : آرمی چیف

    پاک فوج ملک سے دہشتگردی کے خاتمے کیلئے پرعزم ہے : آرمی چیف

    راولپنڈی:آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ پاک فوج ملک سے دہشتگردی کے خاتمے کیلئے پرعزم ہے ، شہدا کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی اور پاکستان میں مکمل امن واپس آ کر رہے گا۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ نے پشاور کور ہیڈکوارٹرکا دورہ کیا جہاں پر انہیں پاک افغان بارڈر سے متعلق ، سکیورٹی صورتحال ، ضم ہونے والے اضلاع میں ترقیاتی کاموں کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔

    اس موقع پر جنرل قمر جاوید باجوہ نے پاک آرمی کے سپاہیوں ، قبائلی عمائدین ، ایف سی ، لیوی خاصہ دار اور پولیس اہلکاروں کو خراج تحسین پیش کیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ ملک سے دہشتگردی کے خاتمے کے لئے پاک فوج پرعزم ہے ، شہدا کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق جنرل قمر جاوید باجوہ نے مزید کہا کہ قبائلی اضلاع میں سماجی و اقتصادی ترقیاتی منصوبوں کے لیے سازگار ماحول کی فراہمی میں سکیورٹی فورسز کا کردار قابل قدر ہے ، سماجی و اقتصادی منصوبے علاقے کے پائیدار استحکام اور ترقی کے لیے ناگزیر ہیں۔

  • افغانستان کو انسانی بحران سے بچانے کیلئے فوری کاوشوں کی ضرورت ہے: آرمی چیف

    افغانستان کو انسانی بحران سے بچانے کیلئے فوری کاوشوں کی ضرورت ہے: آرمی چیف

    راولپنڈی:آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ افغانستان کو انسانی بحران سے بچانے کیلئے عالمی برادری کی فوری کاوشوں کی ضرورت ہے۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق امریکی ناظم الامور اینجلا ایگلر نے جنرل ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو) کا دورہ کیا اور سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات کی۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق ملاقات میں باہمی دلچسپی، علاقائی سلامتی کی صورتحال، افغانستان اور مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق امریکی ناظم الامور نے علاقائی امن و استحکام کے لیے پاکستانی کردار، کاوشوں کو سراہا۔

    اس موقع پر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ افغانستان کو انسانی بحران سے بچانے کیلئے عالمی برادری کی فوری کاوشوں کی ضرورت ہے۔

  • قیام امن کی خاطر بے شمار قربانیاں دیں: دنیا میں‌ قیام امن کیلئے کردار ادا کرنےکو تیار ہیں، آرمی چیف

    قیام امن کی خاطر بے شمار قربانیاں دیں: دنیا میں‌ قیام امن کیلئے کردار ادا کرنےکو تیار ہیں، آرمی چیف

    راولپنڈی:قیام امن کی خاطر بے شمار قربانیاں دیں: دنیا میں‌ قیام امن کیلئے کردار ادا کرنےکو تیار ہیں،اطلاعات کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ پاکستان نے قیام امن کے اعلیٰ مقصد کی خاطر بے شمار قربانیاں دی ہیں۔پاکستان مستقبل میں بھی دنیا میں امن قائم کرنے کےلیے کردارادا کرنےکےلیے تیار ہے

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق کانگو کے کمانڈر نے جنرل ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو) کا دورہ کیا اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقتا کی۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق ملاقات میں باہمی دلچسپی، علاقائی سکیورٹی پر تبادلہ خیال کیا گیا جبکہ دفاع، تربیت سکیورٹی کے شعبوں میں تعاون کے فروغ پر بھی گفتگو کی گئی۔

    معزز مہمان نے پاکستان کی مسلح افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی تعریف کی، کانگو میں تعینات اقوام متحدہ کے امن مشن میں برسرپیکار پاکستانی افواج کے کردار کو سراہا اور دونوں افواج کے درمیان تعاون پر اتفاق کیا گیا۔

    اس موقع پر سپہ سالار کا کہنا تھا کہ پاکستان علاقائی امن کے حوالے سے کانگو کے کردار کو سراہتا ہے، براعظم آفریقہ میں کونگو کو ایک کلیدی ملک کی حیثیت حاصل ہے، یو این مشن کے تحت قیام امن کے لئے اپنا کردار ادا کرنے کے لئے پرعزم ہیں، پاکستان نے قیام امن کے اعلی مقصد کی خاطر بے شمار قربانیاں دی ہیں۔

  • کور کمانڈرز کانفرنس: سکیورٹی صورتحال، بارڈر مینجمنٹ کے امور پر تبادلہ خیال

    کور کمانڈرز کانفرنس: سکیورٹی صورتحال، بارڈر مینجمنٹ کے امور پر تبادلہ خیال

    راولپنڈی:کور کمانڈرز کانفرنس: سکیورٹی صورتحال، بارڈر مینجمنٹ کے امور پر تبادلہ خیال ،اطلاعات کے مطابق اج جی ایچ کیو میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی زیرِ صدارت کور کمانڈرز کانفرنس میں داخلی سکیورٹی کی صورتِ حال اور بارڈر مینجمنٹ کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی زیرِ صدارت 246ویں کور کمانڈرز کانفرنس جنرل ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو) میں منعقد ہوئی، ملکی داخلی سکیورٹی کی صورتحال اور بارڈر مینجمنٹ امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق کانفرنس کے شرکاء کو آپریشن ردالفساد کی تازہ ترین پیش رفت اور کامیابیوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے مری کے برفانی طوفان اور بلوچستان میں شدید بارشوں سے پیدا ہونے والی سیلابی صورتحال کے متاثرین کو مدد کو سراہا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق جنرل قمر جاوید باجوہ نے ان قدرتی آفات کے دوران ریلیف آپریشن میں شامل فارمیشن کی کوششوں کی تعریف کی۔

    آرمی چیف نے فارمیشنز کی آپریشنل تیاریوں پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تربیت اور جنگی تیاریاں جاری رکھنے پر زور دیا۔

  • علاقائی امن اور افغان عوام کے خوشحال مستقبل کیلئے کوشاں ہیں: آرمی چیف

    علاقائی امن اور افغان عوام کے خوشحال مستقبل کیلئے کوشاں ہیں: آرمی چیف

    راولپنڈی :علاقائی امن اور افغان عوام کے خوشحال مستقبل کیلئے کوشاں ہیں: اطلاعات کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ افغانستان میں انسانی المیے سے بچنے کیلئے ‏سنجیدہ عالمی کوششوں کی ضرورت ہے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل قمرجاویدباجوہ سے یونانی سفیر نے الوداعی ملاقات ‏کی جس میں باہمی دلچسپی، علاقائی سیکیورٹی اور افغان صورتحال پرگفتگو کی گئی۔
    ملاقات میں مختلف شعبوں میں تعاون کا فروغ بھی زیرغور آیا۔

    اس موقع پر آرمی چیف نے کہا کہ پاکستان عالمی شراکت داروں کے ساتھ تعاون کےفروغ کیلئے ‏پرعزم ہے خطے میں امن ،مستحکم اور خوشحال افغان عوام کےلئےکوشاں ہیں۔

    یونانی سفیر نے افغانستان کی صورتحال میں پاکستان کے کردار کی تعریف کی اور بارڈر مینجمنٹ ‏سمیت علاقائی استحکام کیلئے پاکستان کی کوششوں کا بھی اعتراف کیا۔

  • آرمی چیف کا لائن آف کنٹرول کے اگلے مورچوں کا دورہ:جوانوں سےملاقات،بلند حوصلوں پرسلام عقیدت پیش

    آرمی چیف کا لائن آف کنٹرول کے اگلے مورچوں کا دورہ:جوانوں سےملاقات،بلند حوصلوں پرسلام عقیدت پیش

    راولپنڈی: آرمی چیف کا لائن آف کنٹرول کے اگلے مورچوں کا دورہ:جوانوں سے ملاقات،سلام پیش کیا ،اطلاعات کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے اگلے مورچوں کا دورہ کیا۔

     

     

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) میجر جنرل بابر افتخار کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق سپہ سالار نے ایل او سی کے اگلے مورچوں کا دورہ کیا، ایل او سی آمد پر کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل ساحر شمشاد مرزا نے استقبال کیا۔

     

    ترجمان پاک فوج کے مطابق جنرل قمر جاوید باجوہ کو ایل او سی کی صورتحال اور فارمیشن کی تیاریوں پر بریفنگ دی گئی۔ آرمی چیف نے کوٹ کٹیرہ سیکٹر میں افسروں، جوانوں سے ملاقات کی اور جنگی تیاری جوانوں کے بلند حوصلے کی تعریف کی۔

    اس موقع پر جنرل قمر جاوید باجوہ نے زور دیتے ہوئے کہا کہ لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے تمام خطرات اور ہنگامی حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے مسلسل چوکس اور تیار رہنے سے تمام خطرات سے نمٹا جا سکتا ہے۔ایل اوسی پر سکیورٹی یقینی بنانے کیلئے حکمت عملی انتہائی اہم ہے۔

  • افغانستان میں انسانی المیہ سے بچنے کیلئے ہنگامی کاوشیں ناگزیر ہیں: آرمی چیف

    افغانستان میں انسانی المیہ سے بچنے کیلئے ہنگامی کاوشیں ناگزیر ہیں: آرمی چیف

    راولپنڈی:افغانستان میں انسانی المیہ سے بچنے کیلئے ہنگامی کاوشیں ناگزیر ہیں:اطلاعات کے مطابق پاک فوج کے سربراہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نےانڈونیشین وزیرخارجہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان میں انسانی المیہ سے بچنے کے لیے ہنگامی کاوشیں ناگزیر ہیں۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ سے انڈونیشیا کی وزیرخارجہ نے ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران باہمی دلچسپی کے امور اور دفاعی تعاون کے معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا اور افغانستان سمیت خطے کی سکیورٹی صورتحال پر بات چیت کی گئی۔

    اس موقع پر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ پاکستان علاقائی اور عالمی معاملات میں انڈونیشیا کے کردار کی قدر کرتا ہے، اسلام آباد اور جکارتہ کے ساتھ تعلقات کے فروغ کا خواہاں ہے۔ افغانستان کی بحرانی کیفیت ہنگامی ادارہ جاتی میکانزم کی تشکیل کی متقاضی ہے، افغانستان میں انسانی المیہ سے بچنے کے لیے ہنگامی کاوشیں ناگزیر ہیں، افغانستان میں امن و مفاہمتی اقدامات انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔

     

     

    اس سے قبل آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے افغانستان اور پاکستان کیلئے جرمنی کے خصوصی نمائندے جیسپر وئیک نے ملاقات کی، جس میں باہمی دلچسپی، علاقائی سیکورٹی اور افغانستان کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ افغانستان میں امدادی کاموں کے لئے تعاون اور شراکت داری کے امور بھی زیر غور آئے۔

    جرمن خصوصی نمائندے نے افغانستان کی صورتحال میں پاکستان کے کردار، بالخصوص بارڈر مینجمنٹ اور خطے میں استحکام کیلئے پاکستان کے کردار کو سراہا۔

  • امریکی سینیٹرز کی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات:پاک فوج واقعی زندہ باد:امریکی سینیٹرزمان گئے

    امریکی سینیٹرز کی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات:پاک فوج واقعی زندہ باد:امریکی سینیٹرزمان گئے

    راولپنڈی:امریکی سینیٹرز کی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات:پاک فوج واقعی زندہ باد:امریکی سینیٹرزمان گئے،اطلاعات کےمطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات کے دوران امریکی سینیٹرز نے افغان صورتحال پر پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے ہر سطح پر سفارتی تعاون کو آگے بڑھانے کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کا عہد کیا۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) میجر جنرل بابر افتخار کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے امریکی سینیٹرز پر مشتمل وفد نے ملاقات کی ہے۔ 4 رکنی وفد میں امریکی سینیٹرز انگس کنگ، رچرڈ بر، جان کارنائن اور بینجمن سیسی شامل تھے جبکہ پاکستان میں امریکی ناظم الامور انجیلا ایگلر بھی وفد کے ہمراہ تھیں۔

    یاد رہے کہ چاروں سینیٹرز کی سینیٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی کے اراکین ہیں جبکہ سینیٹر انگس کنگ سینیٹ کی آرمڈ سروسز کے رکن بھی ہیں۔

    ترجمان پاک فوج کے مطابق ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور، افغانستان کی موجودہ سکیورٹی صورتحال اور مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے آنے والے چیلنجوں کے پیش نظر جیو پولیٹیکل اور سیکیورٹی صورتحال کے بارے میں باہمی افہام و تفہیم کے لیے سینیٹرز کی کوششوں پر شکریہ ادا کیا۔

     

     

    میجر جنرل بابر افتخار کے مطابق معزز مہمانوں نے افغان صورتحال میں پاکستان کے کردار، بارڈر مینجمنٹ کے لیے خصوصی کاوشوں، علاقائی استحکام میں کردار کو سراہا اور پاکستان کے ساتھ ہر سطح پر سفارتی تعاون کو آگے بڑھانے کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کا عہد کیا۔

    ملاقات کے دوران سپہ سالار نے کہا کہ پاکستان خطے کے تمام ممالک کیساتھ نتیجہ خیز دوطرفہ روابط برقرار رکھنے اور پرامن، پائیدار تعلقات کے خواہاں ہیں۔

    جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ افغانستان میں بحران اور افغان عوام کی معاشی ترقی کے لیے مربوط کوششوں کی ضرورت ہے۔

    اس سے قبل وزیراعظم عمران خان سے امریکی سینیٹ کے 4 رکنی وفد کیساتھ ملاقات میں کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ تعلقات کو تمام شعبوں میں وسعت دینے کے لیے پرعزم ہیں۔ امریکا کو خطے میں امن و استحکام کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

    وزیر اعظم عمران خان سے امریکی سینیٹرز پر مشتمل وفد نے ملاقات کی ہے ۔ چار کنی وفد میں امریکی سینیٹرز انگس کنگ ، رچرڈ بر، جان کارنائن اور بینجمن سیسی شامل تھے ۔

    امریکی سینیٹرز کے وفد کا استقبال کیا کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان امریکا کے ساتھ پاکستان طویل تعلقات رکھتا ہے اور اقتصادی شعبہ سمیت دیگر تمام شعبوں میں پاک امریکا باہمی تعلقات میں مزید اضافہ کیلئے پرعزم ہے ۔

    انہوں نے توقع ظاہر کی کہ امریکی قانون سازوں کے وفد کے دورہ سے باہمی اعتماد کے استحکام میں مدد حاصل ہوگی اور سے عوامی رابطوں میں بھی بہتری آئے گی۔عمران خان نے عزم کا اعادہ کیا کہ دونوں ممالک کی گہری اور مضبوط شراکتداری باہمی، خطے کے امن ، سلامتی اور استحکام کے مفاد میں ہے۔

    افغانستان کی حالیہ صورتحال کے تناظر میں وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور امریکا کو امن ، سلامتی اور معاشی ترقی کے مشترکہ مقاصد کے حصول کیلئے باہمی رابطوں میں اضافہ ضروری ہے ۔

     

     

    انہوں نے افغان عوام کی فوری مدد کی ضرورت پر خصوصی زور دیتے ہوئے کہا کہ اس حوالہ سے ہر طرح کے ممکنہ اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ کسی انسانی اور معاشی بحران سے بچا جا سکے۔

    وزیر اعظم نے قریبی اشتراک کار کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں دہشتگردی سمیت سکیورٹی کے خدشات کے حوالہ سے قریبی تعاون ضروری ہے ۔ غیر قانونی بھارتی مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف وریوں کے حوالہ سے انہوں نے آرایس ایس کی انتہا پسندانہ اور انسانی حقوق کی مانع سوچ پرمبنی بی جے پی کے اقدامات سے خطے کے امن اور ستحکام کو سنگین خدشات درپیش ہیں۔انہوں نے پاکستان اور امریکا کے باہمی تعلقات میں استحکام اور وسعت کے حوالہ سے اپنے عزم کا اعادہ بھی کیا۔

    پاکستان کی آبادی اور جیو سٹرٹیجیک جغرافیہ کے تناظر میں امریکی سینیٹرز نے کہا کہ امریکا اورپاکستان کو تجارت ، سرمایہ کاری اور معاشی تعاون کے فروغ کیلئے کاوشوں کو وسعت دینی چاہئے۔

  • پاک فوج کے سربراہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا چونڈہ کا دورہ، وکٹری شیلڈ مشقوں کا جائزہ

    پاک فوج کے سربراہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا چونڈہ کا دورہ، وکٹری شیلڈ مشقوں کا جائزہ

    سیالکوٹ:پاک فوج کے سربراہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا چونڈہ کا دورہ، وکٹری شیلڈ مشقوں کا جائزہ ،اطلاعات کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے سیالکوٹ کے علاقے چونڈہ دورے کے دوران وکٹری شیلڈ مشقوں کا جائزہ لیا۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) میجر جنرل بابر افتخار کی طرف سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر جاری کردہ بیان کے مطابق سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ نے سیالکوٹ میں چونڈہ کےقریب چنوکی سیکٹر کا دورہ کیا۔ کورکمانڈر گوجرانوالا لیفٹیننٹ جنرل محمد عامر نے استقبال کیا۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق آر می چیف نے گوجرانوالا کور کی وکٹری شیلڈ مشقوں کاجائزہ لیا اور انہیں مشقوں کے مقاصد اور حکمت عملی پر بریفنگ دی گئی۔ترجمان پاک فوج کے مطابق آرمی چیف کو مشقوں سے متعلق پلاننگ اور آپریشنل تیاریوں پر بریفنگ دی گئی۔

     

     

    آئی ایس پی آر کے مطابق مشقوں کا مقصد آپریشنل تیاریوں میں اضافہ کرناہے۔ جنرل قمر جاوید باجوہ نے جوانوں کی تربیت اور پروفیشنل مہارت پر اطمینان کا اظہار کیا۔

    جوانوں سے خطاب کرتے ہوئے جنرل قمر جاوید باجوہ نے میدان میں حقیقت پسندانہ اور سخت تربیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی مشقیں فوجیوں کے اعتماد کو بڑھانے، ہم آہنگی اور ان کی جنگی صلاحیت کو بہتر بنانے میں مدد کرتی ہیں۔