بھارت کی ریاست اتر پردیش کے ضلع باندا میں خصوصی پوکسو عدالت نے 33 کم سن بچوں سے جنسی زیادتی کے لرزہ خیز مقدمے میں میاں بیوی کو سزائے موت سنا دی۔
بھارتی میڈیا کے مطابق عدالت نے اس کیس کو ’نایاب ترین جرم‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملزمان کے جرائم کی نوعیت اس قدر سنگین اور منظم تھی کہ اصلاح کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی،اتر پردیش کے ضلع باندا کی خصوصی عدالت نے رام بھاون اور اس کی اہلیہ درگاوَتی کو بچوں کے تحفظ کے قانون (POCSO ایکٹ) کی مختلف دفعات کے تحت مجرم قرار دیتے ہوئےسزائے موت سنائی ہے دونوں پر 33 بچوں، جن میں بعض کی عمر صرف 3 سال تھی، کو جنسی تشدد کا نشانہ بنانے کا الزام ثابت ہوا ،عدالت نےریاستی حکومت کو ہدایت کی کہ ہر متاثرہ بچے کو 10 لاکھ روپے بطور معاوضہ ادا کیے جا ئیں، جبکہ ملزمان کے گھر سے برآمد ہونے والی رقم بھی متاثرین میں برابر تقسیم کی جائے۔
امریکی طیاروں نے ایران کی جانب پوزیشن سنبھال لیں
سی بی آئی نے اکتوبر 2020 میں اس کیس کا اندراج کیا تھا تحقیقات کے دوران انکشاف ہوا کہ ملزمان 2010 سے 2020 کے درمیان باندا اور چترکوٹ کے علاقوں میں سرگرم رہے رام بھاون محکمہ آبپاشی میں جونیئر انجینئر تھا اور بچوں کو آن لائن گیمز، تحائف اور رقم کا لالچ دے کر ورغلاتا تھا بعض متاثرہ بچوں کو شدید جسمانی چوٹیں آئیں اور کئی کو طویل عرصے تک اسپتال میں رہنا پڑا، جبکہ متعدد بچے ذہنی صدمے کا شکار ہیں عدالت نے قرار دیا کہ جرم کا پھیلاؤ، درندگی اور منظم طریقہ کار اسے ’ریرسٹ آف دی رئیر‘ بناتا ہے۔
پاکستان اور امریکا کا رواں برس سرمایہ کاری فورم کا اعلان
سی بی آئی حکام کا کہنا ہے کہ بچوں کے جنسی استحصال کے مقدمات کو اولین ترجیح دی جا رہی ہے اور متاثرین کے حقوق کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام جاری رکھا جائے گا۔









