Baaghi TV

Tag: جنوبی پنجاب

  • سیلاب جنوبی پنجاب میں داخل

    سیلاب جنوبی پنجاب میں داخل

    سیلاب جنوبی پنجاب میں داخل ہوگیا، ملتان میں دریائے چناب کا بڑا آبی ریلا ہیڈ محمد والا سے گزر رہا ہے، پانی متعدد بستیوں میں داخل ہونے کے بعد ریسکیو ٹیموں کی جانب سے متاثرہ بستیوں سے لوگوں کو محفوط مقامات پر منتقل کیا جارہا ہے۔

    ملتان میں دریائے چناب میں پانی کی سطح بلند ہوگئی، اکبر فلڈ بند کے قریب پولیس نے بیریئر لگاکر ہیڈ محمد والا روڈ کو ٹریفک کے لیے بند کر دیا ہے، ہیڈ محمد والا پر 4 لاکھ 90 ہزار کیوسک کا ریلا پہنچ گیا، آج ملتان میں 8 لاکھ کیوسک کا سیلابی ریلا گزرے گا، پانی زیادہ ہونے کی صورت میں بند پر شگاف ڈالا جائے گا، جس کے لیے تمام تیاریاں مکمل ہیں۔

    ایڈیشنل چیف سیکریٹری پنجاب فواد ہاشم ربانی نے مظفرگڑھ کا ہنگامی دورہ کیا، اور دریائے چناب کے کنارے دوآبہ کے مقام پر ریسکیو اور ریلیف سرگرمیوں کا جائزہ لیا، انہوں نے کہا کہ جنوبی پنجاب کی انتظامیہ اور عوام کو سیلاب کے چیلنج کا سامنا ہے، ہماری اولین ترجیح انسانی جان کو محفوظ بنانا ہے، ہم نے تدبر اور بہتر حکمت عملی سے اس چیلنج سے نمٹنا ہے، عوام خوفزدہ نہ ہوں لیکن الرٹ رہیں۔

    ٹک ٹاک انفلوئنسر خاندان سمیت قتل

    بہاولنگر میں دریائے ستلج میں آنے والے بڑے سیلابی ریلے سے چاویکا بہادر کا بند ٹوٹنے سے متعدد بستیاں پانی کی لپیٹ میں آگئیں۔۔مین شاہراہ میں پانی موجود ہونے سے زمینی رابطہ منقطع ہوگیا ہےچیچہ وطنی میں سیلاب سے متعدد دیہات زیر آب آنے کے بعد لوگوں کی مویشوں کے ہمراہ محفوظ مقامات پر نقل مکانی جاری ہے،جھنگ کے موضع پکے والا میں 45 سالہ خاتون سیلابی پانی میں ڈوب کر جاں بحق ہوگئی۔

    ننکانہ صاحب میں دریائے راوی میں ہیڈبلوکی کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب ہے، سیلاب سے قریبی علاقے زیر آب آگئے ہیں، سیلاب متاثرین کا شکوہ ہے کہ انہیں ابھی تک کوئی امداد نہیں پہنچی،پنجاب میں سیلاب سے 24 لاکھ سے زائد لوگ متاثر ہوچکے ہیں، جب کہ تقریباً 10 لاکھ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جاچکا ہے، سندھ سے اگلے 48 سے 72 گھنٹے بعد 13 لاکھ کیوسک کا ریلا گزرنے کا امکان ہے۔

    سوڈان : لینڈ سلائیڈنگ سے پورا گاؤں تباہ ، صرف ایک شخص زندہ بچا

    صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کی رپورٹ کے مطابق راوی، ستلج اور چناب دریاؤں میں شدید سیلاب کے باعث 24 لاکھ سے زائد افراد اور 3 ہزار 200 دیہات متاثر ہوئے ہیں،پی ایم ڈی نے آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران تمام بڑے دریاؤں کے بالائی علاقوں میں آندھی اور کہیں کہیں بارش کی پیشگوئی کی ہےان مقامات میں اسلام آباد، پشاور، کوہاٹ، بنوں، ڈیرہ اسماعیل خان، راولپنڈی، سرگودھا، گوجرانوالہ، لاہور، ساہیوال، ملتان، ڈیرہ غازی خان اور بہاولپور ڈویژنز شامل ہیں،آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران فیصل آباد اور شمال مشرقی بلوچستان میں کہیں کہیں آندھی اور گرج چمک کے ساتھ بارش کی توقع ہے۔

    سندھ کے 3 بیراجوں پر بدستور نچلے درجے کی سیلابی صورتحال برقرار ہےسندھ حکومت کی جانب سے آج 8 لاکھ کا سیلابی ریلا آنے کی توقع کی جارہی ہے، ضلع کونسل سکھر کی جانب سے کچے میں پانی میں پھنسے کئی خاندانوں کو کشتیوں پر محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا۔

    سندھ میں کوٹری بیراج کے مقام پر دریائے سندھ کے سیلابی ریلے سے 78 دیہات زیر آب آگئے، بے گھر لوگوں نے کشتتیوں پر محفوظ مقامات پر نقل مکانی شروع کردی،ٹھٹھہ میں سیلاب سے کچے کے متعدد گاؤں زیر آب آنے سے 100 سے زائد مکانات ڈوب گئے، سیلاب سے متاثرہ افراد اپنی مدد آپ کے تحت کیمپ لگانے میں مصروف دکھائی دیے۔

    گھوٹکی میں دریائے سندھ میں پانی کی سطح میں اضافے سے کچے کے متعدد دیہات زیر آب ہیں، لوگوں کی کشتیوں پر محفوط مقامات پر نقل مکانی جاری ہے،سیہون میں بھی دریائے سندھ کے پانی نے کچے کے مختلف دیہات کو ڈبودیا ہےنوشہروفیروز میں دریائے سندھ میں مسلسل پانی کی سطح میں اضافہ ہورہا ہے، دریائے سندھ کے حفاظتی پشت ایس ایم بچاؤ بند پر پانی کا دباؤ بڑھ رہا ہے، متعدد دیہات زیر آنے کے بعد مکینوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کردیا گیا۔

    وزیرِاعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے پانی چھوڑنے کے بعد 12 سے 13 لاکھ کیوسک پانی گڈو بیراج تک پہنچے گا،5 لاکھ 50 ہزار کیوسک پانی سکھر اور کوٹری بیراج سے بغیر کسی نقصان کے گزر چکا ہے، 4 ستمر کو بڑا ریلا سندھ میں داخل ہوگا جس کی تیاریاں کر رکھی ہے، سندھ کے کسی بیراج کو سیلابی صورت حال سے کوئی خطرہ نہیں ہے۔

  • وفاقی کابینہ کے بعد پنجاب کابینہ میں بھی توسیع متوقع

    وفاقی کابینہ کے بعد پنجاب کابینہ میں بھی توسیع متوقع

    وفاقی کابینہ کے بعد پنجاب کابینہ میں بھی 2ماہ کے دوران توسیع متوقع ہے اس سلسلےمیں نواز شریف سے اراکین اسمبلی نے ملاقات کی ہے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ پنجاب کابینہ میں 10 وزرا کااضافہ ہوگا،کابینہ میں شامل ہونے والوں میں اکثریت جنوبی پنجاب سے ہوگی،نواز شریف اور مریم نواز ڈویژنل سطح پر نام شارٹ لسٹ کریں گے۔یاد رہے گزشتہ روز وفاقی کابینہ میں بڑے پیمانے پر توسیع کی گئی، ایوان صدر میں ہونیوالی تقریب میں نئے وزرا نے حلف اٹھا لیا۔حنیف عباسی، معین وٹو اورمصطفیٰ کمال نے بطور وفاقی وزیر حلف اٹھایا، اورنگزیب کھچی اور سردار یوسف نے بھی بطور وفاقی وزیر حلف اٹھایا۔بطور وفاقی وزیر رانا مبشر، رضا حیات ہراج اور طارق فضل چودھری نے حلف اٹھایا، وفاقی وزرا میں شزا فاطمہ، جنید انور، خالد مگسی اور پیر عمران شاہ بھی شامل ہیں۔

    بیرسٹر عقیل ملک اور ارمغان سبحانی نے بطور وزیرمملکت حلف اٹھایا، ملک رشید اور کھیئل داس نے بھی بطور وزیرمملکت حلف اٹھایا۔طلال چودھری ، عبدالرحمان کانجو اوربلال کیانی نے بھی حلف اٹھایا، وزرائے مملکت میں مختار بھرت، شذرہ منصب، عون چودھری اور وجیہہ قمر بھی شامل ہیں، مشیران میں محمد علی، سید توقیر شاہ اور پرویز خٹک شامل ہیں۔کابینہ ڈویژن نے نئے وفاقی وزراء اور وزرائے مملکت کے نوٹیفکیشن جاری کر دیئے ہیں، وزیر اعظم کے تین نئے مشیروں اور چار معاونین خصوصی کے بھی نوٹیفکیشن جاری کر دیے گئے ہیں۔ہارون اختر،حذیفہ رحمان،مبارک زیب اور طلحہ بُرقی وزیراعظم کے معاون خصوصی مقرر کئے گئے ہیں۔

    چکوال کے قریب موٹروے بس کھائی میں گرنے سے 8 افراد جاں بحق

    لنڈی کوتل:آشخیل میں3 سال بعد بھی گرلز پرائمری سکول کی تعمیر مکمل نہ ہو سکی

  • ملکی سیاست میں ہلچل، آئی پی پی نے اہم فیصلہ کرلیا

    ملکی سیاست میں ہلچل، آئی پی پی نے اہم فیصلہ کرلیا

    آئی پی پی کا جنوبی پنجاب کیلئے علیحدہ تنظیمی ڈھانچہ تشکیل دینے کا فیصلہ، استحکام پاکستان پارٹی جنوبی پنجاب کے صدر و جنرل سیکرٹری کے نام فائنل کرلئے۔

    باغی ٹی وی کےمطابق جنوبی پنجاب کے لئے رفاقت گیلانی آئی پی پی کےصدر نامزد، تحسین گردیزی جنوبی پنجاب کے لئے جنرل سیکرٹری نامزد، مرکزی صدر آئی پی پی عبدالعلیم خان نے منظوری دے دی۔صدر عبدالعلیم خان سے صوبائی صدرو کے رہنماؤں نے ملاقاتیں کیں، سابق اراکین اسمبلی اور استحکام پاکستان پارٹی کے ضلعی رہنما بھی موجود تھے۔عبدالعلیم خان کی پارٹی رہنماؤں کو اپنے اضلاع میں فعال ہونے ،عوامی رابطوں کی ہدایت، بہاولپور سے ایاز محمود، قصور سے شہباز مغل اور بدوملہی سے یاسر علی ملہی نے ملاقات کی۔صدر آئی پی پی پنجاب رانا نذیر احمد خان، صدر لاہور ملک زمان نصیب بھی شریک ہوئے۔پارٹی صدر کومختلف اضلاع میں تنظیم سازی، پارٹی ،سیاسی امور پر بریفنگ دی گئے، جبکہ اہم فیصلے کئے گئے۔

    شمالی کوریا کااسٹریٹجک کروز میزائل کا تجربہ

    پاکستان میں پہلی بار شعبہ صحت میں اے آئی ٹیکنالوجی کا استعمال

    حکومت سندھ کی ترجمان کا وزیر اعلیٰ کے خلاف ہرزہ سرائی پر ردعمل

    اساتذہ کا احتجاج، سندھ میں 2 روز تدریسی عمل معطل رکھنے کا اعلان

  • پاکستان میں فن اور فنکار کی قدر نہیں، اقبال پٹھانے خان

    پاکستان میں فن اور فنکار کی قدر نہیں، اقبال پٹھانے خان

    اسلام آباد(انٹرویو:محمداویس ) معروف لوک گلوکار پٹھانے خان کے فرزند اقبال پٹھانے خان نے کہا ہے کہ پاکستان میں فن اور فنکار کی قدر نہیں میرا گلہ ہے کہ جو مقام پٹھانے خان کو ملنا چاہیے تھا نہیں دیا گیاپٹھانے خان نے لوک گلوکاری کے زریعے پاکستان کانام دنیا بھر میں روشن کیامیری عمر گزر گئی لیکن میں آج تک خاں صاحب کے سر تک نہیں پہنچ سکا پٹھانے خان کو 1979 میں صدارتی ایوارڈ سے نوازا گیا، ذوالفقار علی بھٹو نے ان سے مل کر انہیں آفر کی جو چاہتے ہیں بتائیں آپکو دیا جائیگا لیکن انہوں نے سادہ زندگی گزارنے کو ترجیح دی پٹھانے خان محبت کرنیوالےخوش بخت اور خوشحالی انسان تھے انکی معروف کافی”میڈا عشق وی تو میڈایار وی تو” جو انہوں نے گایا ویسا میں آج تک نہیں گا سکا،

    ان خیالات کا اظہار معروف لوک گلوکار اقبال پٹھانے خان نے وفاقی دارالحکومت کے سینئر صحافیوں کے دوری کوٹ ادو پریس کلب کے دوران صحافیوں کیساتھ ایک خصوصی نشست کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا اقبال پٹھانے خان نے کہا کہ خان صاحب کی نوے گھنٹے کی ریکارڈنگ محفوظ ہے اس کو کسی پلیٹ فارم پر جاری کیا جائے تاکہ ان کے مدعا اس کو دیکھ اور سن سکیں مجھے پٹھانے خان کے کلام کو گاتے ہوئے عمر گزر گئی لیکن ان جیسا نہیں گا سکا اسلام آبادنیشنل کونسل آف دی آرٹس لوک ورثہ پنجاب آرٹ کونسل سندھ آرٹ کونسل اور ملک کے مختلف علاقوں میں جاری پرفارم کرچکا ہوں

    اقبال پٹھانے خان نے کہا کہ میرے علاوہ خاندان میں سے کوئی بھی گلوکاری کیطرف نہیں آیا حالانکہ مجھ سے اچھی آواز رکھنے والے میری فیملی میں موجود تھے اقبال پٹھانے خان نے گلہ کیا کہ پٹھانے خانایک بہت بڑا نام تھا جسے اپنے منفرد طرز گلوکاری کیوجہ سے شہرت ملی لیکن بدقسمتی سے انہیں اپنے ملک میں وہ مقام نہیں دیا گیا جو انکا حق تھا پٹھانے خان کا گایا ہوا تمام کلام محفوظ ہے اور وہ ہر پاکستانی کا سرمایہ ہے سوشل میڈیا پر پٹھانے خان کے نام سے لوگ لاکھوں کروڑوں روپے کما رہے ہیں والد کے بعد حکومت کیجانب سے اعزازیہ مقرر کیا گیا تھا جو میری والدہ اورانکی وفات کے بعدبہن کو ملتا رہا بعد میں وہ بند ہو گیا پٹھانے خان نے لوک گلوکاری کے زریعے ملک وقوم کانام دنیا بھر میں روشن کیاجومیرے لئے باعث فخر ہے

  • ضمنی انتخابات ،جنوبی پنجاب میں ایڈیشنل آئی جی کا آر پی او ملتان کے ہمراہ مختلف پولنگ اسٹیشنز کا دورہ

    ضمنی انتخابات ،جنوبی پنجاب میں ایڈیشنل آئی جی کا آر پی او ملتان کے ہمراہ مختلف پولنگ اسٹیشنز کا دورہ

    ملتان:- ضمنی انتخابات ،جنوبی پنجاب پولیس آفس میں الیکشن میں سیکیورٹی انتظامات کی مانیٹرنگ کیلئے کنٹرول روم قائم تمام حلقوں سے باقاعدہ مانیٹرنگ کی جا رہی ہے۔

    باغی ٹی وی : الیکشن کے عمل کو پر امن بنانے کے لیے تمام ممکنہ وسائل بروئے کار لائے گئے ہیں ہر حلقے سے لمحہ بہ لمحہ رپورٹ لی جا رہی ہے جنوبی پنجاب کے ضمنی الیکشن کے حلقوں میں سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات ہیں ڈسٹرکٹ پولیس افسران الیکشن کے عمل کو پر امن بنانے کے لیے خود فیلڈ میں موجود ہیں pp217 ایڈیشنل آئی جی ساؤتھ پنجاب ڈاکٹر احسان صادق نے آر پی او ملتان کے ہمراہ مختلف پولنگ اسٹیشنز کا دورہ کیا-

    اے آئی جی ڈسپلن ساؤتھ پنجاب بھی ہمراہ تھے پولنگ اسٹیشنز پر سیکیورٹی انتظامات کا معائنہ کیا گیا ایڈیشنل آئی جی ڈاکٹر احسان صادق
    نے کہا کہ pp 217 کی عوام الناس کو پر امن ماحول فراہم کرنے کے لیے تمام تر اقدامات مکمل ہیں pp217 میں شرپسند عناصر کو سر اٹھانے کا موقع نہیں دیا جائے گا پولیس غیر جانبدار رہتے ہوئے قانونی پہلوؤں پر عمل پیرا ہے سیکیورٹی انتظامات سے مطمئن ہوں pp217 میں تمام افسران الیکشن کے عمل کو پر امن بنانے کے لیے فیلڈ میں موجود ہیں ۔

    پی پی 217 میں 4 امیدوار آمنے سامنے، ن لیگ اور پی ٹی آئی کے درمیان بڑا مقابلہ متوقع ہے ن لیگ کے شیخ سلمان نعیم اور پی ٹی آئی کے زین حسین قریشی کے مابین کانٹے دار مقابلہ متوقع ہے تحریک لبیک کے زاہد حمید گجر اور جماعت اسلامی کے ساجد اسماعیل بھی میدان میں ہیں

    حلقہ میں 124 پولنگ اسٹیشن جبکہ 392 پولنگ بوتھ قائم کئے گئے ہیں مرد ووٹرز کے لئے 214 جبکہ خواتین کے لئے 178 پولنگ بوتھ بنائے گئے ہیں مردوں کے لئے 61، خواتین 55 جبکہ 8 کمائنڈ پولنگ اسٹیشن قائم ہیں ضمنی الیکشن میں دو لاکھ 16 ہزار 996 ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کرینگے مرد ووٹرز کی تعداد 115158 جبکہ خواتین ووٹرز کی تعداد 101838 ہے –

    ملتان میں پولیس کی جانب سے سیکورٹی کے سخت انتظامات، 26 پولنگ اسٹیشن حساس قرار دیئے گئے ہیں پولیس ،ایلیٹ فورس، ڈولفن فورس کے 2633 جوان سیکورٹی کے فرائض سرانجام دینگے تمام حساس پولنگ اسٹیشنز پر واک تھرو گیٹ نصب، ہر شخص کی تلاشی، سخت چیکنگ ہوگی دفعہ 144 کے تحت اسلحہ کی نمائش ، ہوائی فائرنگ، مسلح گارڈ رکھنے پر پابندی عائد ہے ڈی سی آفس میں کنٹرول روم قائم ،سی سی ٹی وی کیمروں سے تمام صورتحال مانیٹر کی جائے گی-

    واضح رہے کہ 2018 کے الیکشن میں پی پی 217 سے سلمان نعیم نے سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو شکست دی تھی ضمنی الیکشن میں شاہ محمود قریشی کے صاحبزادے زین حسین قریشی سلمان نعیم کے مقابل ہیں-

    دوسری جانب اطلاعات ہیں کہ ملتان،پی پی 217 خواتین پولنگ اسٹیشن نمبر 14 پر خواتین کو شیر پر مہر لگانے کی تلقین کی جا رہی ہے پی ٹی ائی کارکنان پولنگ اسٹیشن نمبر 14 کے باہر جمع ہیں-

    خواتین کا کہنا ہے کہ اندر بیٹھی ہوئیں پرائذڈنگ افیسر سب خواتین کو شیر پر مہر لگانے کا دباو ڈال رہی ہیں .ہمیں ازدانہ ووٹ ڈالنے دیا جائے عملہ کیوں شیر پر مہر لگانے کا دباو ڈال رہا ہے-

  • ’جنوبی پنجاب صوبہ بننے سے وفاق مضبوط ہوگا:شاہ محمود قریشی کا اعلان

    ’جنوبی پنجاب صوبہ بننے سے وفاق مضبوط ہوگا:شاہ محمود قریشی کا اعلان

    ملتان: وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ جنوبی پنجاب کے لوگوں کا مطالبہ صوبے کا ہے، صوبہ بننے سے وفاق مضبوط ہوگا۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اپوزیشن والوں کو ایک دوسرے پر اعتماد نہیں اور آرہے ہیں عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کرنے ،

    ذرائع کے مطابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ میڈیا نے جنوبی پنجاب صوبے کے موقف کو تقویت دی، ن لیگ اور پی پی جنوبی پنجاب صوبہ بنانےکی راہ میں رکاوٹ ہیں، بیورو کریسی نے بھی رکاوٹیں ڈالنےکی کوشش کی۔

    انہوں نے کہا کہ ماضی کی حکومتوں نے جنوبی پنجاب صوبے کے صرف وعدے کیے، جنوبی پنجاب صوبہ ہمارے منشور کا حصہ ہے۔

    وزیر خارجہ نے کہا کہ چھوٹے صوبے کے لوگوں میں ہمیشہ احساس محرومی پایا جاتا ہے، جنوبی پنجاب صوبہ بنانے کے لیے ہم نےمؤثرمہم چلائی۔

    شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہم نے پیپلزپارٹی کی طرح زبانی جمع خرچ نہیں کیا، جنوبی پنجاب میں ارکان اسمبلی کی اکثریت پی ٹی آئی کے ساتھ ہے، جنوبی پنجاب کی آبادی ساڑھے تین کروڑ سے زائد ہے، معاملہ کابینہ میں لے کر گئے۔

    انہوں نے کہا کہ صوبہ بنانے کے لیے آئینی ترمیم درکار ہے، آئینی ترمیم کیلئے دوتہائی اکثریت کی ضرورت ہوتی ہے، پہلی مرتبہ جنوبی پنجاب کیلئے الگ ترقیاتی بجٹ دیا گیا، جنوبی پنجاب کاسیکریٹریٹ خصوصی طورپرقائم کیا گیا۔

  • جنوبی پنجاب صوبہ:پی ٹی آئی کی طرف سے بل:پی پی نے اسے چال:عوام نے ناگزیرقراردیا

    جنوبی پنجاب صوبہ:پی ٹی آئی کی طرف سے بل:پی پی نے اسے چال:عوام نے ناگزیرقراردیا

    جنوبی پنجاب صوبہ:پی ٹی آئی کی طرف سے بل:حکوم مخالفین جماعتوں کا متخلف ردعمل سامنے آیا ہے، مشکلات میں گھری پی ٹی آئی کی وفاقی حکومت نے جنوبی پنجاب کے صوبے کے حوالے سے بل قومی اسمبلی میں لانے کا اعلان کیا ہے۔ اس کا اعلان وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اپنی ایک میڈیا ٹاک میں کیا۔

    اس اعلان کے بعد جنوبی پنجاب صوبہ کئی حلقوں میں زیر بحث ہے۔ کچھ ناقدین کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی جنوبی پنجاب کے لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرنا چاہ رہی ہے اور اسے ‘سیاسی چال‘ قرار دیا۔ پی ٹی آئی اس تاثر کو مسترد کرتی ہے اور کہنا ہے کہ اس نے اپنے انتخابی وعدے کو پورا کرنے کے لئے یہ اعلان کیا ہے۔

    سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے صاحبزادے موسیٰ گیلانی کہتے ہیں کہ پہلے90 دنوں میں جنوبی پنجاب صوبہ بنانے کا وعدہ اب شاہ محمود قریشی آخری90 گھنٹوں میں پورا کریں گے۔ وہ بھی اکثریت نہیں رہی۔صدقے! ان مکاریوں کا جواب ملتان کی عوام آپکی سیاست ہمیشہ کے لیے دفن کرکے دیگی

    شاہ محمود قریشی نے سابق وزیراعظم یوسف گیلانی اور دوسری سیاسی جماعتوں کو کہا کہ وہ اس بل کی حمایت کریں

    اسلام آباد میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے سابق وزیراعظم یوسف گیلانی اور دوسری سیاسی جماعتوں کو کہا کہ وہ اس بل کی حمایت کریں۔

    جنوبی پنجاب کی جانی پہچانی سیاسی شخصیت سردار ذوالفقار کھوسہ کہتے ہیں کہ پیپلز پارٹی اور نون لیگ نے صوبے بنانے کے دعوے کیے اور وہ صوبے نہیں بنا سکے، پی ٹی آئی نے بھی ساڑھے تین سال پہلے یہ وعدہ کیا تھا کہ وہ صوبہ بنائے گی لیکن وہ بھی صوبہ نہیں بنا سکی، اب پی ٹی آئی نے صوبے بنانے کے لیے بل لانے کا اعلان کیا ہے، دیرآید درست آید

    سردار ذوالفقار کھوسہ کہتے ہیں‌ کہ ” نون لیگ اور پیپلز پارٹی اس بل کی مخالفت نہیں کر پائیں گی کیونکہ آگے انتخابات بھی آرہے ہیں اور اگر وہ مخالفت کرتے ہیں تو یہ سیاسی طور پر ان کے لیے تباہ کن ہوگا۔‘‘

    پی ٹی آئی کی رہنما مسرت چیمہ کا کہنا ہے کہ ان کی پارٹی نے اس صوبے کا اعلان کر کے اپنا انتخابی وعدہ پورا کیا ہے ، ان کا کہنا تھا کہ جنوبی پنجاب کے کچھ جاگیردار اس مسئلے کو لے کر ہمارے خلاف پروپیگنڈہ کر رہے ہیں۔‘ ”ہم نے اس حوالے سے انتطامی اقدامات بھی کئے ہیں اور جنوبی پنجاب سیکریٹریٹ بنایا اور اب ہم صوبہ بھی بنائیں گے۔‘‘

    یاد رہے کہ آج وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے جنوبی پنجاب صوبے کے قیام کیلئے آئینی ترمیمی بل اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کو پیش کر دیا

    ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری بھی اس موقع پر موجود تھے ،وزیر خارجہ نے اسپیکر قومی اسمبلی کو درخواست کی ہے کہ اس بل کو سوموار کو منعقد ہونے والے قومی اسمبلی کے اجلاس کے ایجنڈے میں شامل کیا جائے اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے وزیر خارجہ کی درخواست پر اس جنوبی پنجاب آئینی ترمیمی بل کو سوموار کو منعقد ہونے والے اجلاس کے ایجنڈے میں شامل کرنے کا حکم دے دیا

    اس موقع پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ جنوبی پنجاب صوبہ کا قیام پاکستان تحریک انصاف کے منشور کا حصہ ہے، وزیر اعظم عمران خان نے میلسی کے عوامی رابطہ جلسے میں جنوبی پنجاب آئینی ترمیمی بل پارلیمنٹ میں لانے کا اعلان کیا وزیر اعظم عمران خان کی ہدایت پر میں نے آئینی ترمیمی بل، وزارت قانون کی منظوری کے بعد اسپیکر قومی اسمبلی کی خدمت میں پیش کر دیا ہے، آج وزیر اعظم عمران خان اور پاکستان تحریک انصاف نے جنوبی پنجاب کی عوام سے کیا ہوا ایک اور وعدہ پورا کر دیا ہے،

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کے ساتھ جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کے لوگوں نے بڑی تعداد میں پارٹی میں شمولیت اختیار کی تھی جس کے کچھ رہنما اب بھی حکومت کا حصہ ہیں یا پی ٹی آئی کے حمایتی ہیں۔

  • قومی اسمبلی اجلاس، حکومت نے ایسا ایجنڈہ شامل کروا دیا جس پر اپوزیشن بھی ہے متفق

    قومی اسمبلی اجلاس، حکومت نے ایسا ایجنڈہ شامل کروا دیا جس پر اپوزیشن بھی ہے متفق

    قومی اسمبلی اجلاس، حکومت نے ایسا ایجنڈہ شامل کروا دیا جس پر اپوزیشن بھی ہے متفق

    وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے جنوبی پنجاب صوبے کے قیام کیلئے آئینی ترمیمی بل اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کو پیش کر دیا

    ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری بھی اس موقع پر موجود تھے ،وزیر خارجہ نے اسپیکر قومی اسمبلی کو درخواست کی ہے کہ اس بل کو سوموار کو منعقد ہونے والے قومی اسمبلی کے اجلاس کے ایجنڈے میں شامل کیا جائے اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے وزیر خارجہ کی درخواست پر اس جنوبی پنجاب آئینی ترمیمی بل کو سوموار کو منعقد ہونے والے اجلاس کے ایجنڈے میں شامل کرنے کا حکم دے دیا

    اس موقع پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ جنوبی پنجاب صوبہ کا قیام پاکستان تحریک انصاف کے منشور کا حصہ ہے، وزیر اعظم عمران خان نے میلسی کے عوامی رابطہ جلسے میں جنوبی پنجاب آئینی ترمیمی بل پارلیمنٹ میں لانے کا اعلان کیا وزیر اعظم عمران خان کی ہدایت پر میں نے آئینی ترمیمی بل، وزارت قانون کی منظوری کے بعد اسپیکر قومی اسمبلی کی خدمت میں پیش کر دیا ہے، آج وزیر اعظم عمران خان اور پاکستان تحریک انصاف نے جنوبی پنجاب کی عوام سے کیا ہوا ایک اور وعدہ پورا کر دیا ہے،

    وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا مزید کہنا تھا کہ جنوبی پنجاب صوبے کے قیام کیلئے آئینی ترمیمی بل اسپیکر کو پیش کر دیا،اسپیکر کو درخواست کی ہے کہ بل کو پیر کے ایجنڈے میں شامل کیا جائے، جنوبی پنجاب صوبہ کا قیام پاکستان تحریک انصاف کے منشور کا حصہ ہے،بابراعوان سےترمیمی بل سےمتعلق بات ہوئی،پہلے اسے ہم نے منشور کا حصہ بنایا، آگے بڑھنے کی کوشش کی،رولز آف بزنس بنائے ،ایڈیشنل چیف سیکریٹری جنوبی پنجاب تعینات کیا،رولز آف بزنس میں رکاوٹیں ڈالی گئیں ہم نے بل میں کوئی تاخیر نہیں کی،جنوبی پنجاب کے صوبے کے لیے جو ترامیم کرنے تھے وہ کرلیے ہیں ،یوسف رضا گیلانی آئیں اس صوبے کے ترمیمی بل کو ووٹ دیں میں نے بلاول کو خط لکھا اور کہا کہ جنوبی پنجاب کے حوالے سے ساتھ دیں یوسف رضاگیلانی کاجملہ یادہےکہ سیکریٹریٹ نہیں صوبہ چاہیے،یوسف رضاگیلانی مخلص ہیں توترمیمی بل کےحق میں ووٹ دیں،آج یوسف رضاگیلانی کی آزمائش ہے اپوزیشن لیڈر نے بل پڑھا ہی نہیں اور دھوکہ قرار دےدیا ،افسوس کی بات ہے،ووٹ کو عزت دینے والوں کا نیا نعرہ ہے ووٹ کو نوٹ دو،یہ لوگ قوم اور ووٹروں کے ساتھ دھوکہ کررہے ہیں میں نے ترمیمی بل مطالعے کے بعد قومی اسمبلی میں جمع کروایا ہے پیر کو جنوبی پنجاب کو علیحدہ صوبہ بنانے کا بل پیش ہوگا،و

    واضح رہے کہ سپکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے قومی اسمبلی کا اجلاس پیر کی شام چار بجے تک ملتوی کیا ہے، اپوزیشن کی جانب سے وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کروائی گئی ہے، اپوزیشن کے اراکین اجلاس میں شریک ہوئے ،اجلاس میں فاتحہ خوانی کے بعد سپیکر نے اجلاس ملتوی کر دیا، اب وزیر خارجہ نے جنوبی پنجاب صوبہ کے لئے آئینی ترمیمی بل کو پیر کے روز اجلاس کے ایجنڈے میں شامل کرنے کا مطالبہ کیا جس کو سپیکر نے مان لیا، جنوبی پنجاب صوبے کے حوالہ سے تمام اپوزیشن جماعتیں بھی ایک ہیں اور چاہتی ہیں کہ جنوبی پنجاب صوبہ بنے

    کرونا میں مرد کو ہمبستری سے روکنا گناہ یا ثواب

    لاہور میں زیادتی کیسز میں مسلسل اضافہ،نوکری کی بہانے خاتون کے ساتھ ہوٹل میں زیادتی

    ماں بیٹی سے زیادتی کیس میں اہم پیشرفت سامنے آ گئی

    لاہور میں رواں برس جنسی زیادتی کے 369 کیسز، کسی ایک ملزم کو بھی سزا نہ مل سکی

    لاہور میں حوا کی دو اور بیٹیاں لٹ گئیں،اغوا کے بعد جنسی زیادتی

    شوہر نے بھائی اور بھانجے کے ساتھ ملکر بیوی کے ساتھ ایسا کام کیا کہ سب گرفتار ہو گئے

    لڑکیوں سے بڑھتے ہوئے زیادتی کے واقعات کی پنجاب اسمبلی میں بھی گونج

    لاہور میں خواتین سے زیادتی کے بڑھتے واقعات،ملزمہ کیا کرتی؟ تہلکہ خیز انکشاف

    نو سالہ بچی سے زیادتی کی کوشش کرنیوالا سگا پھوپھا گرفتار

    خواتین کو دست درازی سے بچانے کیلئے سی سی پی او لاہور میدان میں آ گئے

    خواتین کی تصاویر اور ویڈیوز بنانے والے اوباش ملزمان گرفتار

    یہ ہے پنجاب،ایک روز میں ایک شہر میں جنسی زیادتی کے چھ کیسزسامنے آ گئے

    پنجاب میں خواتین پر تشدد کے بڑھتے واقعات،وزیر قانون نے بڑا حکم دے دیا

  • بلاول بچہ،جلد سمجھ جائیگا، قریشی،ساتھ ہی بلاول سے مدد بھی مانگ لی

    بلاول بچہ،جلد سمجھ جائیگا، قریشی،ساتھ ہی بلاول سے مدد بھی مانگ لی

    بلاول بچہ،جلد سمجھ جائیگا، قریشی،ساتھ ہی بلاول سے مدد بھی مانگ لی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ بلاول بھٹو کی ناسمجھی اور تھوڑا بچپن ہے

    شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ بلاول کے استاد نالائق ہیں ، لکھی ہوئی پرچیاں دی جاتی ہیں بلاول بھٹو کو ادراک نہیں کہ وہ کہہ کیا رہے ہیں اور حقیقت کیا ہے ،بلاول بچہ ہے وہ لکھی ہوئی پرچیاں پڑھ دیتا ہے بلاول جلد سمجھ جائیں گے کہ تنقید سے جنوبی پنجاب صوبہ نہیں بنےگا،جنوبی پنجاب صوبہ آئینی ترمیم سے بنے گا،کیا بلاول آئینی ترمیم سے متعلق تعاون کرنے کے لیے تیارہیں ؟ اگرجنوبی پنجاب کو عملی جامہ پہنانا چاہتے ہیں تو آئیے مل کر آئینی ترمیم کریں بل پیش کررہے ہیں اگر نیت صاف ہےتو ووٹ دیجئے اور جنوبی پنجاب کو حق دلائیے، میں نے 19 جنوری کو خط لکھا آپ نے جواب دینے کی زحمت گوارہ نہیں کی بلاول بھٹو اور شہبازشریف کو آج دوبارہ خط لکھا ہے یو این ڈی پی کی رپورٹ نے میرے موقف کی تصدیق کردی

     

    شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ جنوبی پنجاب سب سے زیادہ پسماندہ ریجن ہے شہبازشریف سے درخواست ہے جنوبی پنجاب کے معاملے پر سنجیدگی سے غور کریں ،جنوبی پنجاب کے حقائق کو سامنے رکھ کر آگے بڑھنا ہوگا، بلاول بھٹو اور شہبازشریف کوجنوبی پنجاب کی تشکیل اور تخلیق میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیے

    قبل ازیں وزیر خارجہ شاہ محمود سے سعودی عرب کیلئے پاکستان کے نامزد سفیر امیر خرم راٹھور کی ملاقات ہوئی،وزیر خارجہ نے سعودی عرب میں بطور سفیر نامزدگی پر امیر خرم راٹھور کو مبارکباد دی ،وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دو طرفہ گہرے برادرانہ تعلقات ہیں،دونوں ممالک نے ہر آڑے وقت میں ایک دوسرے کا ساتھ دیا ہےہماری حکومت اقتصادی ترجیحات پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے،پاکستان کے معاشی استحکام کیلئے اپنا کردار ادا کرنا ہو گا،بیرون ملک مقیم پاکستانی اولین ترجیح ہے،

    حالیہ عرصہ کے دوران بلال اکبر وہ دوسرے سفیر ہیں جنہیں عہدے کی مدت مکمل ہونے سے قبل ہی واپس بلایا جا رہا ہے اُن سے قبل راجہ علی اعجاز کو ان کی ریٹائرمنٹ سے چند ہفتے قبل ہی معطل کرکے قلیل مدتی نوٹس پر واپس طلب کرلیا گیا تھا وزیراعظم عمران خان نے راجہ علی اعجاز سے ملاقات میں ناراضی کا اظہار کیا تھا اور اس بات کا ذکر روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس کے ایک ایونٹ میں کیا تھا ڈپلومیٹک، کمیونٹی ویلفیئر اور قونصلر ونگ کے 6 دیگر افسران کو بھی واپس بلایا جا چکا ہے حکومت کا کہنا تھا کہ انہیں واپس بلانے کا فیصلہ پاکستانی کمیونٹی کی سفارتی عملے کیخلاف بڑھتی شکایتوں کی وجہ سے کیا گیا تھا۔

    قریشی نے سعودی عرب کو دھمکی دے کر احسان فراموشی کا مظاہرہ کیا،وزارت چھوڑ کرگدی نشینی کا کام کریں، ساجد میر

    وزیر خارجہ کا سعودی عرب بارے بیان،شہباز شریف نے بڑا مطالبہ کر دیا

    برف پگھلنے لگی، سعودی سفیر کی وزیر خارجہ سے ملاقات، سعودی اہم شخصیت کا دورہ پاکستان متوقع

    سعودی عرب بمقابلہ پاکستان، اصل کہانی سامنے آ گئی، اہم انکشافات مبشر لقمان کی زبانی

    سعودی عرب کا بین الاقوامی مسافر پروازوں کا آپریشن معطل،پی آئی اے نے بھی اعلان کر دیا

    سعودی عرب کا بڑا وفد کب آ رہا ہے پاکستان؟ وزیر خارجہ کا بڑا اعلان

    وفاقی وزیر دفاع پرویز خٹک سے سعودی سفیر کی ملاقات،کیا ہوئی بات؟

    سعودی سفیر اچانک وزیر خارجہ کو ملنے پہنچ گئے

    آرمی چیف کا سعودی نائب وزیر دفاع کی وفات پر اظہار افسوس

    محمد بن سلمان کو بڑا جھٹکا،سعودی عرب دنیا میں تنہا، سعودی معیشت ڈوبنے لگی، اہم انکشافات مبشر لقمان کی زبانی

    اگلے 2 ماہ میں محمد بن سلمان تخت یا تختہ، اقتدار کا کھیل آخری مراحل میں،تہلکہ خیز انکشافات مبشر لقمان کی زبانی

    حالات گرم،فیصلہ کا وقت آ گیا،سعودی عرب اسرائیل کے ہاتھ کیسے مضبوط کر رہا ہے؟ اہم انکشافات مبشر لقمان کی زبانی

    آرمی چیف کے دورہ سعودی عرب سے پہلے سعودی سفیر متحرک، اہم شخصیات سے ملاقاتیں

    سعودی عرب میں پاکستانی سفیرکو واپس بلائے جانے کا امکان

    بلال اکبرکی واپسی، سعودی عرب میں کون ہو گا نیا سفیر،طاہر اشرفی نے بتا دیا

  • مبارک ہو، نیا سیاسی منجن مل گیا،حکومت اور اپوزیشن کی دوڑیں

    مبارک ہو، نیا سیاسی منجن مل گیا،حکومت اور اپوزیشن کی دوڑیں

    مبارک ہو، نیا سیاسی منجن مل گیا،حکومت اور اپوزیشن کی دوڑیں
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ اکثر پاکستانی سیاست میں بھونچال اس لیے بھی برپا کیا جاتا ہے کہ لوگوں کی توجہ ان مسائل سے ہٹائی جا سکے جن میں وہ گھرے ہوئے ہیں۔ ۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ سوال یہ ہے کہ آج کل صبح و شام وفاقی وزراء نوازشریف کا ورد کیوں کر رہے ہیں۔۔ کبھی انہیں واپس لانے کی باتیں کی جاتی ہیں۔۔ کبھی ان کی میڈیکل رپورٹ منگوائی جاتی ہے۔ ۔ کبھی یہ کہا جاتا ہے ان کے خلاف پارٹی میں بغاوت ہو گئی ہے۔۔ کبھی حمزہ اور مریم کی لڑائی کی خبریں پھیلائی جاتی ہیں ۔ ۔ کبھی شہباز شریف کو ان کے مقابل کھڑا کیا جاتا ہے اور کبھی ڈیل کی کوششوں کا تذکرہ کر کے مظلوم بننے کی کہانی گھڑی جاتی ہے۔۔ پھر کبھی زرداری تو کبھی بلاول کی طرف توپوں کا رخ کردیا جاتا ہے ۔ ۔ اور اب حکومت نے ایک نیا ایشو پکڑا لیا جس کا نام ہے جنوبی پنجاب صوبہ ۔۔۔۔ یہ سب باتیں عوام کو سیاسی کھیل تماشوں میں الجھانے کی ایک کوشش نظر آتی ہے، تاکہ مہنگائی نے ان کا جو برا حال کر رکھا ہے اس سے ان کی توجہ ہٹائی جا سکے ۔

    مبشرلقمان کا مزید کہنا تھا کہ دیکھا جائے تو جنوبی معاملے پر بھی تیلی ہمیشہ کی طرح پی ٹی آئی نے لگائی ۔ مگر اب اپوزیشن حکومت کو اس معاملے سے بھاگنے نہیں دے رہی ۔ بلکہ یوں کہا جائے کہ ن لیگ اور پیپلزپارٹی نے پی ٹی آئی کو اس ایشو پر گھیر لیا ہے تو غلط نہ ہوگا ۔ کیونکہ جو بیانات چیزیں پیپلزپارٹی اور ن لیگ جانب سے آئی ہیں اس کے بعد پی ٹی آئی کی نیت ہو تو پھر جنوبی پنجاب صوبہ بنانے سے اسکو کوئی نہ روک سکتا ۔ مگر یاد رکھیے گا یہ نہیں بنائیں گے یہ بس اس معاملے پر بھی سیاست ہی کھیلیں گے ۔

    مبارک ہو، نیا سیاسی منجن مل گیا،حکومت اور اپوزیشن کی دوڑیں

    مبشرلقمان کا مزید کہنا تھا کہ یہاں یاد کروادوں کہ جنوبی پنجاب صوبہ پی ٹی آئی کے منشور میں شامل تھا ۔ یہ کارڈ استعمال کرتے ہوئے جنوبی پنجاب کے electablesکو گزشتہ جنرل الیکشن سے پہلے پی ٹی آئی میں شامل کروایا گیا تھا ۔ کیونکہ عمران خان دعوی تھا کہ نوے دن میں صوبہ بنوا کر دیکھاوں گا ۔ ۔ مگر عملی طور پر پی ٹی آئی نے باقی چیزوں کی طرح اس پر بھی کچھ نہ کیا بس جنوبی پنجاب سکریٹریٹ بنا کر ایک نیا ڈرامہ رچا دیا گیا۔ جس کا مقصد صوبے کے قیام کو پس پشت ڈالنا دیکھائی دیتا ہے۔ وجوہات آگے چل کر تفصیل سے بتاتا ہوں ۔ پر اب جو ایک بار پھر جنرل الیکشن سے پہلے جنوبی پنجاب صوبہ کا شور مچایا جا رہا ہے اسکی وجہ یہ ہے کہ جنوبی پنجاب میں سیاست کرنے کے لئے اب علیحدہ صوبے کی بات کرنا انتہائی ناگزیر ہو چکا ہے جو سیاسی جماعت اس مطالبے کی حمایت نہیں کرے گی وہ کم از کم جنوبی پنجاب سے کامیاب نہیں ہو سکتی۔ ۔ سینیٹ میں سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے بجا طور پر اس بات کا کریڈٹ لیا ہے کہ ان کی حکومت میں پنجاب اسمبلی سے بھی علیحدہ صوبے کی قرارداد منظور ہوئی، جو ایک آئینی تقاضا تھی اور قومی اسمبلی نیز سینٹ میں بھی یہ قرارداد پیش کی گئی۔ اگر ان کے پاس دو تہائی اکثریت ہوتی تو پیپلزپارٹی علیحدہ صوبہ بنانے میں کامیاب ہو جاتی۔ اس لیے انہوں نے وزیر اعظم عمران خان کو یاد دلایا ہے کہ انہوں نے جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے کا وعدہ کیا تھا۔ اور سو دن کے اندر اس ضمن میں عملی اقدامات کی یقین دہانی کرائی تھی۔ مگر حکومت میں آکر وہ سب کچھ بھول گئے۔۔ اس بس کے باوجود پیپلز پارٹی نے ایک بار پھر کھلا دل کرتے ہوئے کہہ دیا ہے کہ اب بھی اگر عمران خان اس حوالے سے کچھ کرنا چاہیں تو اپوزیشن ان کا ساتھ دے گی۔

    مبشرلقمان کا مزید کہنا تھا کہ پھر اس سلسلہ میں مسلم لیگ ن کے سینیٹر رانا محمود الحسن نے سینیٹ میں بل پیش کرتے ہوئے کہا کہ جنوبی پنجاب صوبے کا وعدہ سب نے کیا ہے، اسے پورا کیا جائے۔ رانا محمود الحسن کے بقول جتنا پانی اسلام آباد کے پھولوں کو ملتا ہے، اگر اتنا پانی جنوبی پنجاب کو مل جائے تو ہمارے مسائل حل ہو جائیں گے۔ پنجاب اور بلوچستان صوبہ بن سکتا ہے تو سرائیکستان کیوں نہیں بن سکتا۔ یہ ہمارا حق ہے۔ سینیٹ کے قائد حزبِ اختلاف سید یوسف رضا گیلانی نے اس بل کو ایک اہم ایشو قرار دیا ۔ ۔ اس بل پر وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے بھی سینیٹ میں اظہار خیال کیا اور کہا کہ جنوبی پنجاب کا بل ہماری خواہشات کے عین مطابق ہے۔ ہم نے جنوبی پنجاب کے لوگوں سے وعدہ کیا ہے کہ صوبے کی تشکیل کے لیے ہمیں دوتہائی اکثریت چاہیے ، اس بل پر مل کر آگے بڑھیں اور اپوزیشن اس پر ہمارا ساتھ دے کیونکہ ہمارے پاس دوتہائی اکثریت نہیں ہے۔ ہمیں پنجاب اسمبلی سے بھی رائے لینا ہو گی، سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ ہم سیکرٹریٹ نہیں مانگ رہے صوبہ بن جائے گا تو دارالحکومت ہم خود بنائیں گے۔ ۔ شاہ محمود قریشی ہر بار ملتان آکر یہ دعویٰ ضرور کرتے ہیں کہ تحریک انصاف نے جنوبی پنجاب کو علیحدہ سکریٹریٹ دیا ہے اور علیحدہ صوبہ بھی وہی بنائے گی۔ پر مجھے نہیں لگتا کہ شاہ محمود قریشی کبھی عمران خان کو یہ کہنے کی جرأت نہیں کریں گے کہ آپ نے جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے کی بات کی تھی۔ اگر یہ وعدہ پورا نہ ہوا تو آئندہ انتخابات میں جنوبی پنجاب کی حد تک تحریک انصاف کا جیتنا نا ممکن ہو جائے گا۔ ابھی تو پی ٹی آئی صرف اسی بات پر خوش ہے کہ جنوبی پنجاب کو علیحدہ سیکرٹریٹ مل گیا ہے اور افسروں کی فوج تعینات کر دی گئی ہے۔

    مبشرلقمان کا مزید کہنا تھا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ سینٹ میں خطاب کے ذریعے یوسف رضا گیلانی نے اپنے علاقے کی اس بار بھرپور نمائندگی کی ہے اس سے سرائیکی علاقے کی قوم پرست جماعتیں بھی ان کی پشت پر آکھڑی ہوئی ہیں کیونکہ وہ بھی علیحدہ سکریٹریٹ کے فیصلے کو مسترد کر چکی ہیں اور خود مختار صوبہ چاہتی ہیں۔۔ کیونکہ اس بار بھی خدشہ یہ ہی ہے کہ پی ٹی آئی علیحدہ صوبے کے مطالبے کو صرف ایک سیاسی نعرہ کے طور پر زندہ رکھنا چاہتی ہے ۔ تحریک انصاف کی حکمتِ عملی غالباً یہ ہے انتخابی مہم میں اس وعدے کے ساتھ جایا جائے کہ علیحدہ سکریٹریٹ بھی ہم نے بنایا اور اب علیحدہ صوبہ بھی ہم ہی بنائیں گے۔ جبکہ سچ یہ ہے کہ صوبے کی بجائے سکریٹریٹ بنا کر تحریک انصاف نے خود مختار صوبے کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ کھڑی کر دی ہے۔ یہ تاثر دیا گیا ہے کہ یہ مسئلہ صرف انتظامی نوعیت کا تھا، جسے خود مختار سکریٹریٹ بنا کر حل کر دیا گیا ہے۔ جبکہ یہ مسئلہ انتظامی نہیں بلکہ ثقافتی، سیاسی اور تاریخی نوعیت کا ہے۔ یوں جب تک علیحدہ صوبہ نہیں بنتا، دکھاوے کے اقدامات سے بات نہیں بنے گی۔ جنوبی پنجاب کے لئے علیحدہ اسمبلی، علیحدہ بجٹ، علیحدہ ہائیکورٹ اور سینٹ میں علیحدہ نمائندگی ہی مسئلے کا حل ہے۔ یہ سب کچھ علیحدہ سیکرٹریٹ بنانے سے نہیں مل سکتا۔۔ کیونکہ جب صوبے کا وزیر اعلیٰ ایک، اسمبلی ایک، چیف سکریٹری اور آئی جی ایک، نیز ہائیکورٹ بھی ایک ہے تو جنوبی پنجاب کے چھ کروڑ سے زائد عوام کو نمائندگی کا حق کیسے مل سکتا ہے۔

    مبشرلقمان کا مزید کہنا تھا کہ حقیقت یہ ہے کہ ملک کی کسی بھی سیاسی جماعت نے صوبہ جنوبی پنجاب پر آج تک سنجیدہ سیاست نہیں کی اور نہ ہی اس معاملہ میں کبھی آئینی تقاضے کے تحت عملی اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔ محض جنوبی پنجاب کی پسماندگی اور محرومیوں کا رونا رو کر ہر جماعت ایک دوسرے پر سیاسی پوائنٹ سکورنگ کی کوشش کرتی رہی ہے جبکہ اس سیاست نے سندھ اور سرحد میں بھی نئے صوبے کی سیاست کو ہوا دی ہے ۔ سندھ میں ایم کیو ایم کی جانب سے کراچی کو صوبہ جناح پور بنانے کے لیے آواز اٹھائی گئی جس کی پیپلز پارٹی کی جانب سے سخت مخالفت ہوئی اور سندھی قوم پرستوں نے اعلان کر دیا کہ سندھ میں سے نیا صوبہ ہماری لاشوں کو اٹھا کر ہی نکالا جا سکتا۔ علاقائی بنیادوں پر ہونے والی اسی سیاست نے صوبہ سرحد میں بھی سیاسی طوفان اٹھایا جہاں صوبہ ہزارہ کی تحریک شروع ہوئی اور اسے اے این پی کی جانب سے سخت مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔

    مبشرلقمان کا مزید کہنا تھا کہ بدقسمتی سے اس وقت ہماری سیاست تعمیری سے زیادہ مفاداتی سیاست بن گئی ہے۔ ۔ ہمارا اس سے بڑا المیہ اور کیا ہو سکتا ہے کہ جنوبی پنجاب یا کسی دوسرے صوبے پر سیاست کرنے والوں کو جب آئینی ترمیم کے لیے متعلقہ صوبائی اسمبلی اور قومی اسمبلی میں دوتہائی اکثریت حاصل ہوتی ہے تو وہ نئے صوبے کا نام لینا بھی بھول جاتے ہیں مگر اس ایشو پر سیاسی پوائنٹ سکورنگ میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے۔ ۔ پھر اگر پی ٹی آئی اور عمران خان جنوبی پنجاب کے لیے مخلص ہوتے تو یہ کارنامہ بھی بالکل ویسے ہی سرانجام دے دیا جاتا جیسے منی بجٹ اور دیگر معاملوں میں حکومت نے اپنی استادی دیکھائی ہے ۔ ۔ ویسے پی ٹی آئی نے جو جنوبی پنجاب کے لیے الگ سیکرٹریٹ تشکیل دے کر حل نکالا ہے یہ محض سیاسی سٹنٹ ہی ثابت ہوا ہے کیونکہ نیا سیکرٹریٹ جنوبی پنجاب کے لوگوں کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کرنے میں قطعاً معاون نہیں بن سکا۔